Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   565   الحديث
الأهمية: كنا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تسعة أو ثمانية أو سبعة، فقال: ألا تُبايعون رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ہم نو یا آٹھ یا سات لوگ آپ ﷺ کے پاس حاضر تھے چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کرتے۔

عن عوف بن مالك الأشجعي -رضي الله عنه- قال: كنا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تسعة أو ثمانية أو سبعة، فقال: «ألا تُبايعون رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟» وكنَّا حَدِيث عهد بِبَيْعة، فقلنا: قد بايَعْنَاك يا رسول الله، ثم قال: «ألا تُبايعون رسول الله» فبَسَطْنَا أيْدِينا، وقلنا: قد بَايَعْناك فَعَلَام نُبايِعُك؟ قال: «على أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئًا، والصلوات الخمس وتطيعوا الله» وأَسَر كلمة خفيفة «ولا تسألوا الناس شيئًا» فلقد رأيت بعض أولئك النَّفرَ يسقط سَوطُ أحدهم فما يسأل أحدًا يناولُه إيَّاه.

عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نو یا آٹھ یا سات لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے؟ حالاں کہ ہم نے انہیں دنوں آپ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کرتے؟ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا ہم پہلے آپ سے بیعت کر چکے ہیں اب بتائیں آپ سے کس چیز کی بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اللہ کی اطاعت کرو گے اور ایک جملہ آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ ان کا چابک (سواری سے) گر جاتا، لیکن وہ کسی سے یہ نہ کہتے کہ یہ چابک اسے تھما دو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عوف بن مالك الأشجعي -رضي الله عنه- قال: (كنا جلوساً عند رسول الله، فقال: ألا تبايعون رسول الله وكنا حديث عهد ببيعة) كانت هذه البيعة ليلة العقبة قبل بيعة الهجرة وبيعة الجهاد والصبر عليه.
فقلنا: (قد بايعناك يا رسول الله)
ثم قال: (ألا تبايعون رسول الله) زاد أبو داود في روايته بعد قولهم: قد بايعناك حتى قالها ثلاثاً.
قوله: (فبسطنا أيدينا) أي نشرناها للمبايعة.
وقلنا: (قد بايعناك يا رسول الله) يعني: أولاً (فعلام نبايعك) أي فعلى أيّ شيىء نبايعك الآن.
قال: (أن تعبدوا) أي أبايعكم على عبادة الله (وحده) أي منفرداً وهو حال من الجلالة (ولا تشركوا به شيئاً) أي من الشرك أو من المعبودات.
و (الصلوات الخمس) أي وتصلوا الصلوات كما صرح به أبو داود.
و (تطيعوا الله) أي في كل ما أمركم به أو اجتناب ما نهاكم عنه.
و (أسر كلمة خفية) إنما أسر هذه الكلمة دون ما قبلها لأن ما قبلها وصية عامة وهذه الجملة مختصة ببعضهم، والمراد بالكلمة المعنى اللغوي وهي الجملة المبيّنة بقوله: (ولا تسألوا الناس شيئاً) قال القرطبي: هذا حمل منه على مكارم الأخلاق والترفع عن تحمل منن الخلق وتعظيم الصبر على مضض الحاجات والاستغناء عن الناس وعزّة النفس.
قال عوف: (فلقد رأيت بعض أولئك النفر يسقط سوط أحدهم فما يسأل أحدًا يناوله إياه) والمراد منه: سؤال الناس أموالهم فحملوه على عمومه، وفيه التنزّه عن جميع ما يسمى سؤالاً وإن كان حقيراً. وهذا بيان لما كان عليه السلف الصالح من إتباع القول العمل، وتطبيق العلم الذي أخذوه من النبي -صلى لله عليه وسلم-، وروى الإمام أحمد عن أبي ذرّ: "لا تسألنّ أحداً شيئاً وإن سقط سوطك ولا تقبض أمانة".
593;وف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے؟ حالاں کہ ہم نے انہیں دنوں آپ ﷺ سے بیعت کی تھی“ یعنی ہم اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟ حالاں کہ حال ہی میں ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ یہ بیعت ہجرت، جہاد اور اس کی راہ میں صبر کرنے کی بیعت سے قبل ’لیلۃ العقبہ‘ کی بیعت تھی۔
ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ ہم نے آپ سے بیعت کرلی ہے؟ پھر آپ ﷺ فرمایا کہ کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟
ابوداؤد کی روایت میں ان کے اس قول کے بعد ”قد بايعناك حتى قالها ثلاثاً“ (یعنی ہم نے بیعت کر لی تین دفعہ کہا) کا اضافہ ہے۔
یعنی ہم نے بیعت کے لئے ہاتھ پھیلا دیے، ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ ہم پہلے بیعت کر چکے ہیں اب کسی چیز پر بیعت کریں، حُکم دیں۔
آپﷺ نے فرمایا (اس بات پر) کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، یعنی میں تم سے بیعت لیتا ہوں اللہ کی عبادت پر (وحده) یعنی اکیلے اللہ کی۔ یہ ترکیب میں لفظِ اللہ سے حال واقع ہے۔
اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگے یعنی شرک یا کسی معبودوں کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔
اور تم پنجوقتہ نمازیں پڑھا کرو۔(جیسا کہ ابوداؤد کی حدیث میں صراحت ہے)
اللہ تعالی کی اطاعت کرو گے یعنی ہر اس چیز میں اطاعت کرو جس کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے اور اس سے بچو جس سے منع کرتا ہے۔
اور ایک کلمہ (جملہ) آہستہ آواز میں کہا یعنی اس جملے کو آپ ﷺ نے آہستہ اس لیے کہا کہ اس سے پہلے آپ ﷺ کی عام وصیت تھی، جب کہ یہ جملہ بعض لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ کلمہ سے مُراد اس کا لغوی معنی ہے اور وہ ”لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“ کا جملہ ہے۔ امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ مکارم اخلاق، لوگوں کے احسان سے بچنے، حاجتوں کے آنے پر صبر کی برتری، لوگوں سے استغناء اور عزتِ نفس کو شامل ہے۔
عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ ان کا چابک (سواری سے) گر جاتا، لیکن وہ کسی سے یہ نہ کہتے کہ یہ چابک اسے تھما دو، مانگنے سے مُراد لوگوں سے ان کا مال مانگنا ہے۔ لیکن ان صحابہ نے اس کو عمومی سوال کرنے پر محمول کیا ہے۔ اس میں لوگوں سے ہر طرح کے سوال سے بچنا ہے اگرچہ کوئی حقیر چیز ہی کیوں نہ ہو۔
یہاں اس بات کا بیان ہے کہ سلف صالحین جس پر قائم تھے یعنی قول اور عمل کی اتباع کرنے میں اور اس علم کی عملی تطبیق کرنے میں جسے انھوں نے آپ ﷺ سے حاصل کیا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی سے کچھ نہ مانگنا اگرچہ تمہارا چابک بھی گر جائے اور بطورِ امانت بھی کوئی چیز نہ لینا“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4176

 
 
Hadith   566   الحديث
الأهمية: مثل الذي يَذْكُر رَبَّهُ والذي لا يَذْكُره مثل الحيِّ والميِّت


Tema:

اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ شخص کی سی ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مثل الذي يذكر ربه والذي لا يذكره مثل الحي والميت»
وفي رواية: «مثل البيت الذي يُذْكَرُ الله فيه، والبيت الذي لا يُذْكَرُ الله فيه، مثل الحيِّ والميِّت».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی سی ہے“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا ہے زندہ اور مردہ (ویرانہ) کی طرح ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن الذي يَذْكر الله -تعالى- قد أحيا الله قلبه بذكره وشرح له صدره، فكان كالحي بسبب ذكر الله -تعالى- والمداومة عليه، بخلاف من لا يَذْكر الله -تعالى-، فهو كالميت الذي لا وجود له. فهو حيٌّ ببدنه ميتٌ بقلبه.
وهذا مَثَل ينبغي للإنسان أن يعتبر به وأن يَعْلَم أنه كلما غَفَل عن ذكر الله عز وجل، فإنه يقسو قلبه وربما يموت قلبه والعياذ بالله.  
قال -تعالى-: (أومن كان ميتا فأحييناه وجعلنا له نورًا يمشي به في الناس كمن مثله في الظلمات ليس بخارج منها).
581;دیث کا مفہوم: وہ شخص جو اللہ تعالی کا ذکر کرتا ہے، اس کے دل کو اللہ تعالی اپنے ذکر کی بر کت سے جلا بخش دیتا ہے اور اس کے سینے کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اللہ تعالی کے ذکر اور اس کی پابندی کی وجہ سے زندہ شخص کی طرح ہو جاتا ہے، بہ خلاف اس شخص کے جو اللہ تعالی کا ذکر نہیں کرتا۔ چنانچہ ایسا شخص مردہ کی طرح ہوتا ہے، جس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ وہ جسمانی اعتبار سے تو زندہ ہوتا ہے، تاہم قلبی اعتبار سے مردہ ہوتا ہے۔
اس مثال سے انسان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اسے یہ بات بہ خوبی جان لینی چاہیے کہ وہ جب بھی اللہ عز وجل کے ذکر سے غافل ہو گا، اس کے دل میں سختی پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ اس کا دل مردہ ہی ہو جائے۔ العیاذ باللہ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا﴾ ”ایسا شخص جو پہلے مرده تھا، پھر ہم نے اس کو زنده کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وه اس کو لیے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا؟“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4177

 
 
Hadith   567   الحديث
الأهمية: فوالله للدُّنْيَا أهونُ على الله من هذا عليكم


Tema:

اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا یہ تمھارے نزدیک حقیر ہے۔

عن جابر -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مر بالسوق والناس كَنَفَتَيَهِ، فمر بِجَدْيٍ أَسَكَّ ميت، فتناوله فأخذ بأذنه، ثم قال: «أيكم يحب أن يكون هذا له بدرهم؟» فقالوا: ما نحب أنه لنا بشيء وما نصنع به؟ ثم قال: «أتحبون أنه لكم؟» قالوا: والله لو كان حيا ًكان عيباً، إنه أسك فكيف وهو ميت! فقال: «فو الله للدنيا أهون على الله من هذا عليكم».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بازار سے گزرے اور آپ ﷺ کے دائیں بائیں جانب لوگ تھے۔ آپ ﷺ کا گزر بکری کے ایک مردہ بچے پر سے ہوا، جس کے کان چھوٹے تھے۔ آپ ﷺ اس کا کان پکڑ کر پوچھنے لگے: تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض میں خریدنا پسند کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم کسی بھی شے کے بدلے میں اسے خریدنا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کریں گے بھی کیا؟۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا، تب بھی عیب دار تھا۔ یہ تو مردہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا یہ تمھارے نزدیک حقیر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا جابر -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- مرَّ في السوق بجدي أسك، والجدي من صغار الماعز، وهو أسك: أي مقطوع الأذنين، فأخذه النبي -عليه الصلاة والسلام- ورفعه وقال: هل أحد منكم يريده بدرهم؟" قالوا: يا رسول الله، ما نريده بشيء قال: هل أحد منكم يود أن يكون له؟ قالوا: لا. قال: إن الدنيا أهون عند الله -تعالى- من هذا الجدي.
أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يبين لأصحابه ولأمته من بعده أن الدنيا أهون وأحقر عند الله -تعالى- من هذا الجدي الأسك الميت، التي ترغب عنه النفوس السليمة، فهذا حال الدنيا بالنسبة للآخرة، لا قيمة لها عند الله ولا تزن جناح بعوضة، كما في حديث سهل بن سعد -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه  وسلم-: (لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة، ما سقى كافرا منها شربة ماء). رواه الترمذي.
وأراد النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يحث أصحابه وأمته من بعده على أن يجعلوا الدنيا وسيلة إلى الوصول إلى مراد الله، لا أن تكون غايتهم ومقصدهم، فإن في ذلك هلاكهم.
580;ابر رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دفعہ بازار میں ایک چھوٹے کانوں والے بکری کے بچے کے پاس سے گزرے۔ "الجدی" بکری کے چھوٹے بچے کو کہا جاتا ہے۔ یہ "أسك" تھا، یعنی اس کے کان کٹے ہوئے تھے۔ نبیﷺ نے اسے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اسے ایک درہم کے عوض میں لینا چاہتا ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کسی بھی شے کے عوض میں اسے نہیں لیں گے! آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا تم میں سے کوئی شخص چاہتا ہے کہ یہ اس کا ہو؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دنیا اس بکری کے بچےسے بھی زیادہ ہیچ ہے! نبی ﷺ چاہتے تھے کہ اپنے صحابہ اور اپنے بعد آنے والی اپنی امت کے لیے واضح کر دیں کہ اللہ کے نزدیک دنیا اس مردہ کٹے ہوئے کانوں والے بکری کے بچے سے بھی زیادہ ہیچ اور حقیر ہے، جس سے پاکیزہ نفوس کو گھن آتی ہے۔ یہ دنیا کا آخرت کے مقابلے میں حال ہے کہ یہ اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتی اور مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی، جیسا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی اہمیت رکھتی ہوتی، تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ پلاتا“۔ (ترمذی)
نبی ﷺ چاہتے تھے کہ اپنے صحابہ کو اور آپ ﷺ کے بعد آنے والی اپنی امت کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ دنیا کو اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ اپنی منزل اور مقصد؛ کیوں کہ اس میں ان کی ہلاکت ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4178

 
 
Hadith   568   الحديث
الأهمية: مُرُوا أبا بكر فَلْيُصَلِّ بالناس


Tema:

ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: لما اشتد برسول الله -صلى الله عليه وسلم- وجعه، قيل له في الصلاة، فقال: «مروا أبا بكر فليُصَلِّ بالناس» فقالت عائشة -رضي الله عنها-: إن أبا بكر رجل رقيق، إذا قرأ القرآن غلبه البكاء، فقال: «مُرُوه فليُصَلِّ».
وفي رواية عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: قلت: إن أبا بكر إذا قام مقامك لم يُسْمعِ الناس من البكاء.

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ ﷺ سے نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا (کہ اسے کون پڑھائے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابو بکر بہت رقیق القلب آدمی ہیں۔ وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں رونا آ جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“۔
عائشہ سے مروی ایک اورحدیث میں ہے کہ: میں نے کہا: ابو بكر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے ان کی آواز لوگوں کو سنائی نہیں دے گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما اشتد الوجع برسول الله -صلى الله عليه وسلم- لم يتمكن من إمامة الناس أمر من عنده أن يأمر أبا بكر -رضي الله عنه- بالإمامة، وكان كثير البكاء عند قراءة القرآن، فاعتذرت عائشة -رضي الله عنها- بذلك لكن في حديث الباب أنه لم يكن بكاؤه من قراءة القرآن مقصودها الأول، بل كان مرادها الأول خشية أن يتشاءم الناس من أبيها، فأظهرت -رضي الله عنها- خلاف ما تسره في باطنها.
ففي رواية في مسلم: "قالت: والله، ما بي إلا كراهية أن يتشاءم الناس، بأول من يقوم في مقام رسول الله -صلى الله عليه وسلم-"، قالت: فراجعته مرتين أو ثلاثا، فقال: "ليصل بالناس أبو بكر فإنكن صواحب يوسف" والمراد "بصواحب يوسف" إنهن مثل صواحب يوسف في إظهار خلاف ما في الباطن، وهذا الخطاب وإن كان بلفظ الجمع فالمراد به واحدة هي عائشة فقط كما أن المراد بصواحب يوسف: زليخا  فقط كذا قال الحافظ وهي زوجة عزيز مصر آنذاك.
ووجه المشابهة بينهما في ذلك أن زليخا استدعت النسوة وأظهرت لهن الإكرام بالضيافة ومرادها زيادة على ذلك وهو أن ينظرن إلى حسن يوسف ويعذرنها في محبته، إن عائشة أظهرت أن سبب إرادتها صرف الإمامة عن أبيها كونه لا يسمع المأمومين القراءة لبكائه ومرادها زيادة وهو أن لا يتشاءم الناس به، كما صرحت بذلك في بعض طرق الحديث فقالت: "وما حملني على مراجعته إلا أنه لم يقع في قلبي أن يحب الناس بعده رجلاً قام مقامه".
580;ب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی اور لوگوں کی امامت کرنا آپ ﷺ کے لیے ممکن نہ رہا تو آپ ﷺ کے پاس جو لوگ موجود تھے انہیں آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں کہ وہ آپ ﷺ کی جگہ پرامامت کریں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک کی تلاوت فرماتے تو بہت رویا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں عذر پیش کیا تاہم اس باب کی حدیث میں ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قرآن کریم کے پڑھنے پر رونا ان کا اصلی مقصود نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد دراصل یہ تھا کہ کہیں لوگ ان کے والد سے بد شگونی نہ لیں۔ لہذا آپ رضی اللہ عنہا نے باطن کے علاوہ بات ظاہر کی۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے بس یہ بات ناپسند تھی کہ کہیں یہ نہ ہو کہ جو شخص سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی جگہ کھڑا ہو اس سے لوگ بد شگونی لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دو یا تین بار آپ ﷺ سےاس موضوع پر بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم تو ان عورتوں کی طرح ہو جن سے یوسف علیہ السلام کو واسطہ پڑا تھا۔‘‘ مراد یہ ہے کہ تم ان عورتوں کی طرح ہو جن سے یوسف علیہ السلام کو سامنا تھا کہ جو دل میں ہے اس کے برخلاف ظاہر کر رہی ہو۔ یہ بات اگرچہ جمع کے صیغہ سے کی گئی تاہم اس سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں جیسا کہ یوسف والی عورتوں سے مراد صرف زلیخا ہے۔ حافظ ابن حجر نے ایسے ہی لکھا ہے۔ زلیخا اس وقت عزیز مصر کی بیوی تھی۔
ان دونوں کے مابین وجہ مشابہت یہ ہے کہ زلیخا نے عورتوں کو بلایا اور مہمان نوازی کی شکل میں ان کی عزت افزائی کی حالانکہ اس سے اس کی مراد کچھ اورتھی اور وہ یہ کہ وہ یوسف علیہ السلام کے حسن کو ملاحظہ کر سکیں اور یوں اسے اس کی محبت میں معذور گردانیں۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے اظہار اسی بات کا کیا کہ اپنے ابا سے امامت دور رکھنے سے ان کا منشا یہ ہے کہ مقتدی ان کے رونے کی وجہ سے ان کی آواز نہیں سن سکیں گے جب کہ ان کی مراد دراصل یہ تھی کہیں لوگ ان سے بد شگونی نہ لیں جیسا کہ انہوں نے حدیث کی بعض دوسری روایات میں اس کی صراحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ”مجھے آپ ﷺ سے بات کرنے پر جس شے نے آمادہ کیا وہ یہ تھی کہ میرا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا کہ لوگ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کا آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑا ہونا پسند کر لیں گے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4179

 
 
Hadith   569   الحديث
الأهمية: إنَّ مما أخاف عليكم من بَعْدِي ما يُفْتَحُ عليكم من زَهرة الدنيا وزِيَنتها


Tema:

مجھے اپنے بعد تمھارے سلسلے میں جس بات کا اندیشہ ہے، وہ دنیا کی آرائش و زیبائش کے دروازوں کا کھلنا ہے۔

عن أبي سعيد الخُدْرِي -رضي الله عنه- قال: جلس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على المِنْبَر، وجلسنا حوله، فقال: «إنَّ مما أخاف عليكم من بَعدي ما يُفتح عليكم من زهرة الدنيا وزِيَنتها».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ ﷺ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنے بعد تمھارے سلسلے میں جس بات کا اندیشہ ہے، وہ دنیا کی آرائش و زیبائش کے دروازوں کا کھلنا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- يخاف على أمته بعد موته مما سيفتح عليهم من زخارف الدنيا وزينتها.
وهذا من كمال رحمته وشفقته -صلى الله عليه وسلم- بأمته أن بين لهم ما يخشاه عليهم من زخرفة الدنيا وزينتها، فيضلوا طريق الهدى والفلاح والنجاة إلى أن يفجأهم الموت، فلا اعتذار بعد ذلك.
581;دیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنی امت کے سلسلے میں اس دنیوی چکاچوند اور زیب و زینت سے ڈرتے تھے، جس کے دروازے آپ ﷺ کی وفات کے بعد عن قریب ان کے لیے کھل جانے والے تھے۔
یہ آپ ﷺ کی اپنی امت کے ساتھ انتہائی درجے کہ رحمت و شفقت کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو ان کے بارے میں جس دنیوی زیب و زینت کا ڈر تھا، آپ ﷺ نے اس کی وضاحت ان کے سامنے فرما دی؛ تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ ہدایت و فلاح اور نجات کے راستے سے بھٹک جائیں اور اچانک انھیں موت آ لے اور پھر ان کے پاس اس کے بعد کوئی عذر نہ رہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4180

 
 
Hadith   570   الحديث
الأهمية: مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا في سَبِيل الله، إيمانًا بالله، وتَصْدِيقًا بِوَعْدِه، فإن شِبَعَهُ وريَّه ورَوْثَهُ وبَوْلَه في مِيْزَانه يوم القيامة


Tema:

جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کى راه میں گھوڑا پالا، تو يقيناً اس (گھوڑے) کا چارہ، اس کا پانی، اس کی لید اور اس كا پیشاب قیامت والے دن اس کے پلڑے ميں ہوں گے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا في سَبِيل الله، إيمانًا بالله، وتَصْدِيقًا بِوَعْدِه، فإن شِبَعَهُ وريَّه ورَوْثَهُ وبَوْلَه في مِيْزَانه يوم القيامة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا مانتے ہوئے اللہ کے راستے میں گھوڑا پالتا ہے، اس کا کھانا،اس کا پینا، اس کی لید اور پیشاب قیامت کے دن اس کے پلڑے میں ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن مَن أوقَف فرسًا للجهاد في سبيل الله تعال وابتغاء مرضاته لكي يُحَارب عليه الغزاة، ابتغاء وجه الله تعالى، وتصديقاً بوعده الذي وعَدَ به، حيث قال: (وما تنفقوا من شيء في سبيل الله يوف إليكم) فإن الله يُثِيْبُه عن كل ما يأكله أو يشربه أو يخرجه من بول أو روث، حتى يَضعه له في كِفَّة حسناته يوم القيامة.
وفي حديث أبي هريرة رضي الله عنه الطويل: "الخَيل ثلاثة: هي لرَجُلٍ وِزْرٌ، وهي لرَجُل سِتْر، وهي لِرَجُلٍ أجْرٌ . . ثم قال: وأما التي هي له أَجْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سبيل الله لأهل الإسلام في مَرْج، أو رَوْضَةٍ فما أكلت من ذلك المَرْجِ أو الرَّوْضَةِ من شيء إلا كُتِبَ له عَدَدَ ما أكَلَتْ حسنات وكتب له عَدَد أرْوَاثِهَا وَأبْوَالِهَا حسنات، ولا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفاً أو شَرَفَيْنِ إلا كَتَب الله له عَدَد آثَارِهَا، وَأرْوَاثِهَا حسنات، ولا مَرَّ بها صَاحِبُها على نَهْر، فشَربَت منه، ولا يُريد أن يَسْقِيهَا إلا كَتَب الله له عَدَد ما شَرَبت حسنات" متفق عليه.
581;دیث کا معنی: جس نے اللہ کے راستے میں اور اس کی رضا کے حصول کے لیے جہاد کی خاطر گھوڑا وقف کیا، تاکہ اس پر سوار ہو کر مجاہدین جہاد کر سکیں؛ اگر اس کا یہ کام سچ مچ اللہ کی رضا کے حصول اور اس کی طرف سے کیے گئے وعدے کی تصدیق کے طور پر ہے، مثلا قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ﴾ ”تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں صرف کرو گے، وه تمھیں پورا پورا دیا جائے گا“، تو اللہ تعالیٰ اس گھوڑے کے کھانے، پینے اور بول و براز تک کا اجر اسے عنایت کرے گا کہ ان تمام چیزوں کو قیامت کے دن اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھا جاۓ گا۔
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں ہے: ”گھوڑے کی تین اقسام ہیں؛ ایک مالک پر وبال ہے، دوسرا مالک کے لیے پردہ ہے، تیسرا مالک کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے...پھر فرمایا باعث ثواب وہ گھوڑا ہے، جسے آدمی نے اللہ کے راستے میں، اہل اسلام کے لیے سبزہ زار یا باغ میں وقف کر رکھا ہو۔ تو یہ گھوڑا باغ یا سبزہ زار سے جو کچھ کھاۓ گا، اس کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی لید اور پیشاب کی مقدار کے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جاۓ، تو اس کے قدموں کے نشانات اور لید کے برابر نیکیاں اللہ لکھ دیتا ہے، جب اس کا مالک اسے کسی نہر سے لے کر گزرتا ہے اور پانی پلانے کا ارادہ نہ ہونے کے باوجود وہ پانی پی لیتا ہے، تو اللہ اس کے لیے پیے گئے پانی کے قطروں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیتا ہے“۔ متفق علیہ   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4181

 
 
Hadith   571   الحديث
الأهمية: يا رسول الله، مَنْ أحقُّ بِحُسْن الصُّحبة؟ قال: أمك، ثم أمك، ثم أمك، ثم أباك، ثم أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ


Tema:

اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں کون شخص ہے جو بہترین ساتھی ہے؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں اور پھر تمہارا باپ، پھر اس سے قریب پھر اس سے قریب والا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: جاء رجل إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، مَنْ أحقُّ الناس بِحُسن صَحَابَتِي؟ قال: «أمك» قال: ثم مَنْ ؟ قال: «أمك»، قال: ثم مَنْ؟ قال: «أمك»، قال: ثم مَنْ؟ قال: «أبوك». متفق عليه. وفي رواية: يا رسول الله، مَنْ أحقُّ بحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قال: «أمك، ثم أمك، ثم أمك، ثم أباك، ثم أدْنَاك أدْنَاك».

ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ (متفق علیہ) ایک دیگر روایت میں ہے کہ (ایک آدمی نے عرض کیا) اے اللہ کے رسول ! سب سے زیادہ میرے حُسنِ سلوک کا کون حقدار ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں۔ اِس کے بعد تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث يدل على أن لكل من الأبوين حقًا في المصاحبة الحسنة؛ والعناية التامة بشؤونه (وصاحبهما في الدنيا معروفًا )، ولكن حق الأم فوق حق الأب بدرجات، إذ لم يذكر حقه إلا بعد أن أكد حق الأم تمام التأكيد، بذكرها ثلاث مرات، وإنما علت منزلتها منزلته مع أنهما شريكان في تربية الولد هذا بماله ورعايته؛ وهذه بخدمته في طعامه وشرابه، ولباسه وفراشه و ... إلخ.
لأن الأم عانت في سبيله ما لم يعانه الأب، فحملته تسعة أشهر وهنًا على وهنٍ، وضعفًا إلى ضعف؛ ووضعته كرهًا؛ يكاد يخطفها الموت من هول ما تقاسي، وكذلك أرضعته سنتين، ساهرة على راحته، عاملة لمصلحته وإن برحت بها في سبيل ذلك الآلام وبذلك نطق الوحي: (ووصينا الإنسان بوالديه إحسانا حملته أمه كرها ووضعته كرها وحمله وفصاله ثلاثون شهرا)، فتراه وصى الإنسان بالإحسان إلى والديه؛ ولم يذكر من الأسباب إلا ما تعانيه الأم إشارة إلى عظم حقها.
ومن حسن المصاحبة للأبوين الإنفاق عليهما طعامًا وشراباً، ومسكناً ولباسًا؛ وما إلى ذلك من حاجات المعيشة، إن كانا محتاجين، بل إن كانا في عيشة دنيا أو وسطى؛ وكنت في عيشة ناعمة راضية فارفعهما إلى درجتك أو زد، فإن ذلك من الإحسان في الصحبة.
واذكر ما صنع يوسف مع أبويه وقد أوتي الملك إذ رفعهما على العرش بعد أن جاء بهما من البدو. ومن حسن الصحبة بل جماع أمورها ما ذكره الله بقوله: ( وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما وقل لهما قولاً كريمًا. واخفض لهما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا )  فامنع عنهما لسان البذاءة، وجنبهما أنواع الأذى. وأَلن لهما قولك؛ واخفض لهما جناحك؛ وذلل لطاعتهما نفسك، ورطب لسانك بالدعاء لهما من خالص قلبك وقرارة نفسك وقل: (رب ارحمهما كما ربياني صغيرا)، ولا تنس زيادة العناية بالأم، عملا بإشارة الوحي؛ ومسايرة لمنطق الحديث.
740;ہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ والدین میں سے ہر ایک حُسنِ مصاحبت اور ان کے سارے کاموں کی مکمل دیکھ بھال کے حقدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ ”دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا“۔
تاہم ماں کا حق باپ پر کئی گناہ زیادہ ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے ماں کے حق کو تین مرتبہ کی تاکید کے ساتھ خوب مؤکد کرنے کے بعد باپ کا حق ذکر کیا ہے۔ ماں کا درجہ باپ سے بڑھ گیا باوجودیکہ بچے کی پرورش میں دونوں والدین شریک ہوتے ہیں۔ والد اپنے مال اور نگرانی کے ساتھ اور والدہ کھانے پینے اور پہننے اور بچھانے میں خدمت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔الخ، اس لیے کہ ماں بچے کے لیے وہ تکلیفیں برداشت کرتی ہیں جو باپ نہیں کرتا، ماں نو ماہ تک اسے پیٹ میں لے کر حمل کی حالت میں تکلیف در تکلیف اور کمزوری در کمزوری برداشت کرتی ہے، پھر اسے جننے کی تکلیف برداشت کرتی ہے، وہ تکلیف جو برداشت کرتی ہے اس سے ایسا لگتا ہے جیسے موت اس کو اچک لے۔ اسی طرح پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی ہے، اس کی راحت کے لیے راتوں کو جاگتی ہے، اس کی بہتری کے کام کرتی ہے اگرچہ خود کئی ساری تکلیفیں سہ لے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے“۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت کی ہے اور ماں کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف انہی اسباب کی طرف اشارہ فرمایا جو ماں تکلیفیں برداشت کرتی ہیں۔
والدین کے ساتھ حُسنِ مصاحبت کا مظہر یہ بھی ہے کہ ان کے کھانے پینے، رہنے سہنے، اوڑھنے بچھانے اور دیگر معاشی ضروریات کے لیے ان پر خرچ کرنا۔ اگر وہ محتاج ہیں بلکہ اگر وہ کم یا درمیانے درجے کی زندگی گزار رہے ہوں اور تم خوشحال و خوشگوار زندگی گزار رہے ہو تو انہیں اپنے درجے تک لے آنا یا اس سے بھی اچھا کرنا۔ یہ صحبت میں احسان کا تقاضا ہے۔
یاد کیجیے حکومت ملنے اور تخت نشینی کے بعد یوسف علیہ السلام نے جو کچھ اپنے والدین کے ساتھ کیا کہ انہیں دیہات سے لے آئے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بلکہ ان کے تمام امور کو شامل جامع حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں ذکر فرما دیا ہے: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ ”اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا، اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے“۔
ان سے بے ہودہ زبان کے استعمال سے بچو اور ہر طرح کی تکلیف دینے سے بچو، اپنی گفتگو کو ان کے سامنے نرم کردو، ان کے لیے اپنے بازؤوں کو پست کردو، ان کی اطاعت میں اپنے آپ کوجھکا دو، ان کے لیے دعا مانگتے رہو، اپنے دل کو ان کے ساتھ مخلص کرلو اور کہو اے اللہ ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح سے کہ انہوں نے بچپن میں میری تربیت کی تھی اور وحی الہی میں موجود اشارے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نیز حدیث کی منطقیت کے شانہ بہ شانہ چلتے ہوئے ماں کا زیادہ خیال رکھنا نہ بھولو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4182

 
 
Hadith   572   الحديث
الأهمية: من أصابته فَاقَة فأنزلها بالناس لم تُسَدَّ فَاقَتُهُ، ومن أنْزَلها بالله، فَيُوشِكُ الله له بِرزق عاجل أو آجل


Tema:

جس کو فاقے میں مبتلا کیا گیا اور اس نے اپنی حالت لوگوں سے بیان کرنی شروع کردی تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر اسے رزق عطا فرمائے گا۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من أصابته فَاقَة فأنْزَلها بالناس لم تُسَدَّ فَاقَتُهُ، ومن أنْزَلها بالله، فَيُوشِكُ الله له بِرزق عاجل أو آجل».

عبداللہ بن مسعود - رضی اللہ عنہ - سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے فاقے لاحق ہوجائے اور وه لوگوں سے بیان کرے، تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ اسے اللہ کے حضور ظاہر کرے تو اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر اسے رزق عطا فرمائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر ابن مسعود -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "من أصابته فاقة" أي: حاجة شديدة، وأكثر استعمالها في الفقر وضيق المعيشة.
"فأنزلها بالناس" أي: عرضها عليهم، وأظهرها بطريق الشكاية لهم، وطلب إزالة فاقته منهم.
فالنتيجة: "لم تسد فاقته" أي: لم تقض حاجته، ولم تزل فاقته، وكلما تسد حاجة أصابته أخرى أشد منها
وأما "من أنزلها بالله" بأن اعتمد على مولاه فإنه "يوشك الله" أن يُعجِّل "له برزق عاجل" قريب بأن يعطيه مالا ويجعله غنيا "أو آجل" في الآخرة.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے فاقے لاحق ہوجائے“ فاقہ بمعنی سخت حاجت، اس کا اکثر استعمال فقر اور تنگدستی میں ہوتا ہے۔
” اور وه لوگوں سے بیان کرے“ یعنی اس نے لوگوں کے سامنے اپنے فاقے کو بیان کیا اور ان سے از راہ شکوہ بیان کر کے ان سے اس فاقے کو دور کرنے کی مدد مانگی۔
ایسا کرنے سے ”ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا“ یعنی اس کی حاجت ختم نہیں ہوگی اور نہ اس کا فاقہ دور ہوگا، جب کبھی اسی کی کوئی حاجت پوری ہوگی تو دوسری حاجت پیش آئے گی جو اس سے بھی سخت ہوگی۔
”جس نے اسے اللہ کے حضور ظاہر کیا“ یعنی اپنے مولیٰ پر اعتماد کیا۔
اللہ تعالی جلد اسے عنقریب مال عطا کرے گا اور اسے بے نیاز کر دے گا۔
”یا بدیر“ یعنی آخرت میں اسے رزق (ثواب کی شکل میں) دیے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4183

 
 
Hadith   573   الحديث
الأهمية: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرا، أو وضَع له، أظَلَّهُ الله يوم القيامة تحت ظِل عَرشه يوم لا ظِلَّ إلا ظِلُّه


Tema:

جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض کو کم کردیا اسے روزِ قیامت اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دیں گے جس دن سوائے اس کے سائے کے کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرا، أو وضع له، أظَلَّهُ الله يوم القيامة تحت ظِل عرشه يوم لا ظِلَّ إلا ظِلُّه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض کو کم کردیا اسے روزِ قیامت اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن سوائے اس کے سائے کے کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر أبو هريرة أن النبي عليه الصلاة والسلام قال:
(من أنظر معسراً) أي أمهل مديوناً فقيراً، فالإنظار التأخير المرتقب نجازه.
قوله: (أو وضع عنه) أي حط عنه من دينه، وفي رواية أبي نعيم (أو وهب له).   فالجزاء: (أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه) أظله في ظل عرشه حقيقة أو أدخله الجنة؛ فوقاه الله من حر يوم القيامة.
وهذا الجزاء يحصل: (يوم لا ظل إلا ظله) أي ظل الله، وإنما استحق المُنظِر ذلك لأنه آثر المديون على نفسه وأراحه فأراحه الله والجزاء من جنس العمل.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی“ یعنی کسی غریب مقروض کو مہلت دی۔ ’إنظار‘ کا معنی ہے ایسی مہلت جس میں کسی چیز کے پورے کیے جانے کا انتظار کیا جائے۔
”یا اس کے قرض کو کم کردیا“ یعنی اس کا کچھ قرض معاف کر دیا۔ ابونعیم سے مروی حدیث میں ہے ”أَوْ وَهَبَ لَهُ“ یعنی اس قرض (کی قیمت) کو اُسے ہبہ کے طور پر دے دیا کے الفاظ ہیں۔
اس شخص کی جزاء یہ ہوگی کہ ”اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا“ یعنی اللہ حقیقی طور پر اسے اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دے گا اور سے جنت میں داخل کرے گا۔ اللہ قیامت کے دن کی گرمی کی شدت سے اسے محفوظ رکھے گا۔
یہ بدلہ اس دن ملے گا جس دن سوائے اس کے سائے کے کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔ مہلت دینے والا اس جزا کا مستحق اس لیے ہوا کیوں کہ اس نے مقروض کو خود اپنے اوپر ترجیح دے کر اسے راحت دی چنانچہ اللہ تعالی بھی اسے راحت دے گا کیوں کہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوا کرتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4186

 
 
Hadith   574   الحديث
الأهمية: من أنْفَق زوْجَيْن في سَبيل الله نُودِي من أبْوَاب الجنَّة، يا عبد الله هذا خَيْرٌ، فمن كان من أهل الصلاة دُعِي من باب الصلاة، ومن كان من أهل الجِهاد دُعِي من باب الجِهاد


Tema:

جو اللہ کے راستے میں دوہری چیز خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں پر سے پکار پکار کر کہا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے۔ پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا

عن أبي هريرة - رضي الله عنه- مرفوعاً: «من أنْفَق زوْجَيْن في سَبيل الله نُودِي من أبْوَاب الجنَّة، يا عبد الله هذا خَيْرٌ، فمن كان من أهل الصلاة دُعِي من باب الصلاة، ومن كان من أهل الجِهاد دُعِي من باب الجِهاد، ومن كان من أهل الصيام دُعِي من باب الرَّيَّانِ، ومن كان من أهل الصَّدَقة دُعِي من باب الصَّدَقة» قال أبو بكر -رضي الله عنه-: بأبي أنت وأمي يا رسول الله! ما على من دُعِي من تلك الأبواب من ضَرورة، فهل يُدْعَى أحَدٌ من تلك الأبواب كلِّها؟ فقال: «نعم، وأرْجُو أن تكون منهم».

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو اللہ کے راستے میں دوہری چیز خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں پر سے پکار پکار کر کہا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے۔ پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہوگا اسے باب ریان سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ دینے والا ہوگا اسے صدقے کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! جو لوگ ان دروازوں (میں سے کسی ایک دروازہ ) سے بلائے جائیں گے ان کے لیے کوئی خسارہ کی بات تو نہیں ہے (یعنی وہ جنت میں تو داخل ہوجائیں گے)، لیکن آپ یہ بتائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من تصدق بشيئين من أي شيء مثل المأكولات أو الملبوسات أو المركوبات أو النقود، ابتغاء رضوان الله نادته الملائكة من أبواب الجنَّة مُرَحِّبة بقدومه إليها، وهي تقول: لقد قدمت خيرا ًكثيراً تثاب عليه اليوم ثَوابا ًكبيراً.
فالمكثرون من الصلاة ينادون من باب الصلاة، ويدخلون منه، والمكثرون من الصدقة ينادون من باب الصدقة، ويدخلون منه، والمكثرون من الصوم تستقبلهم الملائكة عند باب الرَّيَّان داعية لهم بالدخول منه، ومعنى الرَّيان: الذي يَروي من العطش؛ لأن الصائمين يمتنعون عن الماء فيصابون بالعطش ولاسيما في أيام الصيف الطويلة الحارة، فيجازون على عطشهم بالري الدائم في الجنة التي يدخلون إليها من ذلك الباب.
فلما سمع أبو بكر -رضي الله عنه- هذا الحديث، قال: يا رسول الله: "بأبي أنت وأمي" من دخل من هذه الأبواب لا نقص عليه ولا خسارة، ثم قال: "فهل يُدْعى أحدٌ من تلك الأبواب كلها"، فقال -صلى الله عليه وسلم-: "نعم وأرجو أن تكون منهم".
580;س نے اللہ کی خوشنودی کے لئے کسی بھی شے کو بطور صدقہ دوہرا خرچ کیا چاہے وہ کھانے کی شے ہو، لباس ہو، یا سواری یا پھر رقوم ہوں تو فرشتے اسے جنت میں خوش آمدید کہتے ہوئے اس کے دروازوں پر سے اسے پکار پکار کر کہیں گے: "تم نے بہت نیکیاں آگے بھیجیں جن پر تمہیں آج بہت زیادہ ثواب ملے گا"۔ چنانچہ جو لوگ کثرت سے نمازیں پڑھتے تھے انہیں نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا اور وہ اس سے داخل ہوں گے۔ جو کثرت سے صدقہ دیتے تھے انہیں صدقے کے دروازے سے پکارا جائے گا اور وہ اس سے داخل ہوں گے اور جو کثرت سے روزے رکھتے تھے ان کا فرشتے باب ریان پر استقبال کریں گے اور انہیں اس میں سے داخل ہونے کی دعوت دیں گے۔ الریان کا معنی ہے جو پیاس بجھا کر سیر کر دے۔ چونکہ روزہ دار پانی کے استعمال سے رکے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے انہیں پیاس لگتی ہے خاص طور پر گرمی کے طویل اور گرم دنوں میں چنانچہ اس پیاس کو برداشت کرنے کے بدلے میں جنت میں ان کو ہمیشہ کے لئے سیر کر دیا جائے گا جس میں وہ اس دروازے سے داخل ہوں گے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب اس حدیث کو سنا تو کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں، جو ان دروازوں میں سے داخل ہوا اسے نہ کوئی نقصان ہوا اور نہ خسارہ۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں پر سے بلایا جائے گا؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہی کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو گے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4187

 
 
Hadith   575   الحديث
الأهمية: مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً في سَبِيل الله كُتب له سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ


Tema:

جو شخص اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے، اس کے لیے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔

عن أبي يحيى خُرَيْم بن فَاتِك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً في سَبِيل الله كُتب له سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ».

ابو یحی خریم ابن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا اس کے لئے سات سو گنا ثواب لکھا جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من أنْفَقَ نفقة قليلة أو كثيرة في سبيل الله -تعالى-، سواء كان في الجهاد في سبيل الله -تعالى- أو في غيره من وجوه البِّر والطاعات، ضاعف الله له الأجر يوم القيامة إلى سبعمائة ضِعف.
580;س نے تھوڑا یا زیادہ جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا، چاہے وہ جہاد میں ہو یا کسی اور کار خیر اور نیکی کے کام میں، اسے اللہ تعالی روز قیامت اس کا اجر سات سو گناہ کر کے دیں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4188

 
 
Hadith   576   الحديث
الأهمية: من تَكَفَّلَ لي أن لا يسأل الناس شيئًا، وأَتَكَفَّلُ له بالجنة؟


Tema:

کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟۔

عن ثوبان -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من تَكَفَّلَ لي أن لا يسأل الناس شيئًا، وأَتَكَفَّلُ له بالجنة؟» فقلت: أنا، فكان لا يَسأل أحدًا شيئًا.

ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہي کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟“، ثوبان نے کہا کہ میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن من التزم للنبي -صلى الله عليه وسلم- ترك سؤال الناس أموالهم أو الاستعانة بهم في قضاء شؤونه مما قل أو كثر، ضمن له -عليه الصلاة والسلام- الجنة؛ ذلك لأن ترك سؤال المخلوقين فيه توكل على الله ودليل على قوة الرَّجاء والثقة بالله -تعالى-، فكان جزاؤه أن يدخله الله -تعالى- الجنة.
  بعد أن سمع ثوبان -رضي الله عنه- هذا الحديث، التزم للنبي -صلى الله عليه وسلم- أن لا يسأل الناس شيئا، حتى جاء عنه -رضي الله عنه- كما في رواية ابن ماجه: "أنه كان يقع سَوْطُه وهو راكب فلا يقول لأحدٍ ناولنيه حتى ينزل فيأخذه".
وفاء بالعهد الذي قطعه على نفسه مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
581;دیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے نبی ﷺ کے لیے لوگوں سے ان کے اموال مانگنا اور اپنے معاملات کے نپٹانے میں ان سے مدد مانگنا چھوڑ دے خواہ یہ مانگنا تھوڑی چیز کا ہو یا زیادہ کا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے اسے جنت کی ضمانت دی ہے۔ اس لیے کہ مخلوق سے نہ مانگنے میں اللہ کی ذات پر توکل ہوگا اور یہ اللہ کی ذات پر اعتماد اور اللہ سے قوی امید وابستہ رکھنے کی علامت ہے۔ چنانچہ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔
ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو آپ ﷺ سے سننے کے بعد نبی ﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ لوگوں سے کچھ بھی نہیں مانگیں گے، چنانچہ ابنِ ماجہ کی روایت میں ان کے بارے میں منقول ہے کہ یہ سوار ہوتے ان کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتے کہ مجھے میرا کوڑا دیدو، بلکہ خود اتر کر لے لیتے۔ یہ اس عہد کی پاسداری ہے جو انہوں نے آپ ﷺ سے کر کے اسے اپنے اوپر لازم کیا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4189

 
 
Hadith   577   الحديث
الأهمية: من خَرج في طلب العلم فهو في سَبِيلِ الله حتى يرجع


Tema:

جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔

عن أنس -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من خَرج في طلب العلم فهو في سَبِيلِ الله حتى يرجع».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن مَنْ خَرج من بيته أو بلده؛ بَحثا عن العلم الشرعي، فهو في حكم من خرج للجهاد في سبيل الله -تعالى-، حتى يعود إلى أهله؛ لأنه كالمجاهد في إحياء الدِّين وإذلال الشيطان وإتعاب النَفْس.
581;دیث کا مفہوم: جو شخص اپنےگھر یا اپنے شہر سے شرعی علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ کیونکہ ایسا شخص دین کے احیاء، شیطان کو نیچا دکھانے اور اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کرنے میں ایسے ہی ہے جیسے جہاد کرنے والا ہوتا ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4191

 
 
Hadith   578   الحديث
الأهمية: من رآني في المنام فَسَيَرَانِي في اليقظة -أو كأنما رآني في الْيَقَظَةِ- لا يَتَمَثَّلُ الشيطان بي


Tema:

جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من رآني في المنام فَسَيَرَانِي في اليَقظة -أو كأنما رآني في الْيَقَظَةِ- لا يَتَمَثَّلُ الشيطان بي».

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اختلف العلماء في بيان معنى هذا الحديث، على عدة اتجاهات:
الأول: أن المراد به: أهل عصره، ومعناه أن من رآه في النوم ولم يكن هاجر يوفقه الله تعالى للهجرة ورؤيته -صلى الله عليه وسلم- في اليقظة عيانًا.
والثاني: أن الذي يظهر له في المنام هو النبي -صلى الله عليه وسلم- حقيقة، أي في عالم الروح، وأن رؤياه صادقة، بشرط أن يكون بصفته المعروفة -صلى الله عليه وسلم-.
والثالث: أنه يرى تصديق تلك الرؤيا في اليقظة في الدار الآخرة؛ رؤية خاصة في القرب منه وحصول شفاعته ونحو ذلك.
قوله: "أو فكأنما رآني في اليقظة" هذه رواية مسلم فقد رواها على الشك: هل قال -صلى الله عليه وسلم-: "فسيراني في اليقظة" أو قال: "فكأنما رآني في اليقظة".
ومعناه: أن من رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- في المنام على صفته التي هو عليها فكأنما رآه في حال اليقظة، فهو كقوله -صلى الله عليه وسلم-، كما  في الصحيحين: "من رآني في المنام، فقد رآني" وفي رواية في الصحيحين أيضًا: "من رآني في المنام فقد رأى الحق".
قوله: "لا يتمثل الشيطان بي"، وفي لفظ آخر: "من رآني في النوم فقد رآني، إنه لا ينبغي للشيطان أن يتمثل في صورتي".
والمعنى: أن الشيطان لا يمكنه أن يتمثل بالنبي -صلى الله عليه وسلم- على هيئته الحقيقية، وإلا فقد يأتي الشيطان ويقول: إنه رسول الله ويكون على هيئة ليست هي هيئته -صلى الله عليه وسلم-، فهذا ليس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فإذا رأى الإنسان شخصا ووقع في نفسه أنه النبي -صلى الله عليه وسلم- فليبحث عن أوصاف هذا الذي رآه، هل تطابق أوصاف النبي -عليه الصلاة والسلام- أو لا ؟
فإن طابقت: فقد رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- وإن لم تطابق فليس هو النبي -صلى الله عليه وسلم- وإنما هذه أوهام من الشيطان أوقع في نفس النائم أن هذا هو الرسول -صلى الله عليه وسلم- وليس هو الرسول، وقد روى أحمد والترمذي في الشمائل: عن يزيد الفارسي قال: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في النوم، فقلت لابن عباس: إني رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في النوم، قال ابن عباس: فإن رسول الله كان يقول: "إن الشيطان لا يسِتطيع أن يتشبَّه بي، فمن رآني في النوم فقد رآني"، فهل تستطيع أن تنعت هذا الرجل الذي رأيتَ؟  قلت: نعم، فلما وصفه، قال: ابن عباس: لو رأيتَه في اليقظة ما استطعتَ أن تنعتَه فوق هذا" والمعنى: أنك لو رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- في حال اليقظة لا يمكن أن تصفه بأكثر مما وصفت،
وهذا معنى أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- حقا.
575;س حدیث کے مفہوم میں مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے علماء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
پہلا: اس سے مُراد آپ ﷺ کے زمانے کے لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اور اس نے ہجرت نہیں کی، اللہ تعالیٰ اسے ہجرت اور حقیقت میں آپ ﷺ کو دیکھنے کی توفیق دے گا۔
دوسرا: جس نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا تو اس نے حقیقت میں آپ ہی کو عالمِ ارواح میں دیکھا، لہٰذا اس کا خواب سچا ہے بشرطیکہ اُس نے آپﷺ کو اپنی مشہور ومعروف صفات کے ساتھ دیکھا ہو۔
تیسرا: آپ ﷺ کو خواب میں دیکھنا اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ آپ کو آخرت میں بیداری کی حالت میں دیکھے گا اور یہ آپ ﷺ سے قُرب اور آپ کی شفاعت کے حصول سے متعلق خاص رؤیت ہوگی۔
حدیث کی عبارت ”أَوْ فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ“ یہ مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں، راوی نے شک کی بنیاد پر اسے نقل کیا ہے یعنی راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے ”فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ “ کے الفاظ ادا کیے یا ”فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ“ فرمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے آپ ﷺ کو اپنی اصلی حالت میں خواب میں دیکھا تو گویا اس نے آپ کو بیداری میں دیکھ لیا۔ اس کا مفہوم آپ ﷺ کی دوسری حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو صحیحین میں وارد ہوئی ہے ”مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي“ جس نے خواب میں مجھے دیکھا سو وہ مجھے حقیقت میں دیکھ چکا۔ صحیحین میں دوسری جگہ مروی ہے ”مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ“ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے یقیناً سچا خواب دیکھا۔
حدیث کے الفاظ ”لا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي“ یہی مفہوم دوسرے الفاظ کے ساتھ اس طرح آیا ہے ”مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي“ یعنی جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان آپ ﷺ کی اصلی صورت نہیں اپنا سکتا۔ ورنہ شیطان آتا اور کہتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں حالانکہ وہ آپ ﷺ کی صورت نہیں۔ اس لئے وہ اللہ کا رسول نہیں۔ لہٰذا جب انسان کسی شخص کو دیکھے اور اس کے دل میں یہ بات آئے کہ وہ آپ ﷺ ہیں تو اسے چاہیئے اس کے اوصاف دیکھے کہ اس کے اوصاف آپ ﷺ کے اوصاف کے مطابق ہیں یا نہیں؟
اگر مطابق ہوں تو اس نے آپ ﷺ کو دیکھا اور اگر نہ ہوں تو وہ آپ ﷺ نہیں ہے۔ بلکہ یہ شیطان کی طرف سے وہم ہے جو سوئے ہوئے شخص کے دل میں وہ ڈالتا ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہے، حالانکہ وہ اللہ کے رسول نہیں۔ شمائل میں امام احمد اور ترمذی کے حوالے سے یزید فارسی سے منقول ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے خواب میں آپ ﷺ کو دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا، پس جو مجھے خواب میں دیکھ لے اس نے مجھے دیکھ لیا۔ کیا آپ اس شخص کی صفات بیان کرسکتے ہیں جسے آپ نے خواب میں دیکھا۔ میں نے کہا جی ہاں۔ جب انہوں نے اوصاف بیان کیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تم بیداری میں آپ کی زیارت کرتے تو اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے۔ یعنی اگر آپ نبی ﷺ کو بیداری کی حالت میں دیکھ لیتے تو آپ ﷺ کے اوصاف اس سے زیادہ بیان نہ کرسکتے۔ یعنی انھوں نے یقیناً آپ ﷺ کو دیکھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4192

 
 
Hadith   579   الحديث
الأهمية: مَنْ رَضِيَ بالله رَبَّاً، وبالإسلام دِيْنَا، وبمحمد رسولا، وجَبَتْ له الجنة


Tema:

جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی

عن أبي سعيد الْخُدْرِي -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ رَضِيَ بالله رَبًّا، وبالإسلام دِيْنًا، وبمحمد رسولًا، وجَبَتْ له الجنة»، فَعَجِبَ لها أبو سعيد، فقال: أَعِدْهَا عَلَيَّ يا رسول الله، فَأَعَادَهَا عليه، ثم قال: «وأُخْرَى يَرْفَعُ الله بها العَبْد مائة دَرَجَة في الجنة، ما بين كل دَرَجَتَينِ كما بين السماء والأرض» قال: وما هي يا رسول الله؟ قال: «الجهاد في سَبِيل الله، الجهاد في سَبِيل الله».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ اس پر ابو سعید نے متعجب ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بات کو دوبارہ کہیئے۔ آپ ﷺ نے اسے ان کے سامنے دوبارہ بیان کیا۔ پھر فرمایا: ایک اور (عمل) ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اوہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن مَنْ آمن بالله ربَّا وبالإسلام دِيناً وبمحمد -صلى الله عليه وسلم- رسولاً وجبت له الجنة.
وفي رواية عند أحمد: "يا أبا سعيد ثلاثة من قالهن: دخل الجنة" قلت: ما هن يا رسول الله؟ قال: "من رضي بالله رباًّ، وبالإسلام ديناً، وبمحمد رسولاً".  
فلما سمع أبو سعيد الخدري -رضي الله عنه- هذه المقولة من النبي -صلى الله عليه وسلم- تَعَجَّب لها وطلب من النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يعيدها عليه مرة أخرى، فأعَادها عليه، -عليه الصلاة والسلام-، ثم قال له: "وأُخْرَى" أي: من أعمال البِرِّ والطاعات " يَرْفَعُ الله بها العَبْد مائة دَرَجَة في الجنة، ما بَيْن كل دَرَجَتَينِ كما بَيْن السماء والأرض".
فالنبي -صلى الله عليه وسلم- أخبره أن هناك عملاً يرفع الله به صاحبه في الجنة مائة درجة، ولم يخبره بذلك ابتداء؛ ليتشوق لها أبوسعيد -رضي الله عنه- لأجل أن يسأل عنها، فإذا علمها بعد الإبهام كانت أوقع في نفسه، فقال: وما هي يا رسول الله؟  قال -صلى الله عليه وسلم-: " الجهاد في سَبِيل الله، الجهاد في سَبِيل الله".
فالمجاهد مع كونه من أهل الجنة، إلا أن منزلته أرفع من غيره ممن آمن بالله ربَّا وبالإسلام دِيناً وبمحمد -صلى الله عليه وسلم- رسولاً ولم يجاهد في سبيل الله تعالى، وهذا من فضل الله -تعالى- وكرمه للمجاهدين في سبيله، فلما جادوا بأنفسهم في سبيل الله -تعالى- أكرمهم الله تعالى وأنزلهم في الجنة أفضل المنازل وأعلى الدرجات، والجزاء من جنس العمل.
581;دیث کا مفہوم: جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر ایمان لے آیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ: "اے ابو سعید! تین باتیں ایسی ہیں جو ان کا قائل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ تین باتیں کون سی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا"۔ جب ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے یہ بات سنی تو انہیں اس پر تعجب ہوا اور انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ وہ ان پر اس بات کا اعادہ کریں۔ آپ ﷺ نے اس بات کا اعادہ کیا، پھر ان سے فرمایا: " ایک اور ہے۔" یعنی نیکی و فرماں برداری کے کاموں میں سے ایک اور ہے۔ "جس کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے۔‘‘ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ایک عمل ایسا ہے جس کے کرنے والے کے اللہ تعالی جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ شروع میں آپ ﷺ نے انہیں اس عمل کے بارے میں نہیں بتایا۔ تاکہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کو اس کے جاننے کا اشتیاق ہو اور وہ خود اسے پوچھیں۔ جب ابہام کے بعد انہیں اس کا پتہ چلے گا تو یہ ان کے لئے زیادہ پر اثر ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔‘‘ مجاہد اگرچہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، تاہم اس کا مقام ان دیگر لوگوں سے بلند تر ہوتا ہے جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر ایمان لائے لیکن انہوں نے اللہ تعالی کے راستے میں جہاد نہیں کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کے لئے فضیلت و اکرام ہے۔ چونکہ انہوں نے اللہ کے راستے میں اپنی جانیں قربان کر دیں، اس لئے اللہ تعالی انہیں جنت میں سب سے افضل اور بلند ترین درجات سے سرفراز فرمایا۔ اور بدلہ ویسے ہی ملتا ہے جیسا عمل ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4193

 
 
Hadith   580   الحديث
الأهمية: من رَمَى بسهم في سَبِيلِ الله فهو له عِدْلُ مُحَرَّرَةٍ


Tema:

جس نے اللہ کے راستے یعنی جہاد میں تیر چلایا تو اس کا یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔

عن عمرو بن عَبَسَة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «من رمى بسهم في سبيل الله فهو له عِدْلُ مُحَرَّرَةٍ».

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ںے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن مَنْ رَمَى بسهم في وجوه أعداء الله -تعالى-، فإن له أجر مَنْ أعتق رقبة في سبيل الله -تعالى-، سواء أصاب به عدوًا أو لم يُصب، كما هي رواية النسائي: "ومَن رَمَى بسهم في سبيل الله تعالى بَلَغَ العدو أو لم يَبْلُغ".
أما إذا أصاب به عدوا كان له به درجة في الجنة، كما هي رواية أبي داود: "من بلغ بسهم في سبيل الله -عز وجل- فله درجة.
 "وفي رواية أحمد: "في الجنة".
581;دیث کا مفہوم: جس نے اللہ کے دشمنوں کے چہروں میں ایک تیر مارا اسے اس شخص کے مساوی اجر ملتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں کوئی غلام آزاد کر دیا ہو چاہے یہ تیر دشمن کو لگے یا نہ لگے جیسا کہ سنن نسائی کی روایت میں وضاحت ہے کہ ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر مارا اور وہ دشمن تک پہنچا یا نہ پہنچا“۔ اگر یہ دشمن کو لگ جائے تو اس کے بدلے میں اسے جنت میں ایک درجہ ملتا ہے جیسا کہ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ ”جس کا اللہ کے راستے میں مارا ہوا تیر نشانے پر لگ گیا اس کے لیے ایک درجہ ہے‘‘۔
اور احمد کی روایت میں ہے کہ "جنت میں (ایک درجہ ہے)“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4194

 
 
Hadith   581   الحديث
الأهمية: من سَرَّهُ أَن يُنَجِّيَه الله من كَرْبِ يوم القيامة، فَلْيُنَفِّسْ عن مُعْسِر أو يَضَعْ عنه


Tema:

جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگی سے نجات دلائے، تو اسے چاہیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔

عن أبي قتادة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «من سَرَّهُ أَن يُنَجِّيَه الله من كَرْبِ يوم القيامة، فَلْيُنَفِّسْ عن مُعْسِر أو يَضَعْ عنه».

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگی سے نجات دلائے، تو اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔
معنى الحديث : "من سَرَّهُ"

أي: أفرحه وأعجبه.
"أَن يُنَجِّيَه الله من كَرْبِ يوم القيامة"
أي يخلِّصُه من شَدائد ومِحَن يوم القيامة.
"فَلْيُنَفِّسْ عن مُعْسِر"
أي يؤخر مطالبته بالدَّين عند حلول أجله ويفسح له في الأجل إلى أن يَجد ما يقضي به الدَّيْن.
"أو يَضَعْ عنه"
أي: يسامحه بالدَّين الذي عليه، كله أو بعضه، قال -تعالى-: (وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ).

581;دیث کا مفہوم: ”من سَرَّهُ“ یعنی جسے یہ بات خوش لگے اور جسے یہ پسند ہو۔
”أَن يُنَجِّيَه الله من كَرْبِ يوم القيامة“ یعنی اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کے مصائب اور آزمائشوں سے نجات دے۔
”فَلْيُنَفِّسْ عن مُعْسِر“ یعنی قرض کی ادائیگی کے مقررہ وقت کے آنے پر اس کے مطالبے کو موخّر کر دے اور ادائیگی کی مدت میں کشائش دے دے، یہاں تک کہ قرض کے ادائیگی کے لیے اس کے پاس مال آجائے۔
”أو يَضَعْ عنه“ یعنی اس پر واجب الادا سارا یا کچھ قرض معاف کر دے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ ”اور اگر وہ تنگ دست ہے تو آسودہ حالی تک مہلت دینی چاہیے اور بخش دو، تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4195

 
 
Hadith   582   الحديث
الأهمية: من صَام رمضان إيِمَانًا واحْتِسَابًا، غُفِر له ما تَقدَّم من ذَنْبِه


Tema:

جو شخص ایمان اور ثواب کی امید سے رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من صَام رمضان إيِمَانًا واحْتِسَابًا، غُفِر له ما تَقدَّم من ذَنْبِه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ایمان اور ثواب کی امید سے رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن من صام شهر رمضان إيمانا بالله مصدقا بوعده محتسبا ثوابه قاصدا به وجه الله -تعالى-، لا رياء ولا سُمعة، غُفِر له ما تقدم من ذنبه.
581;دیث کا مفہوم: جو شخص اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے، اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اور اس سے ثواب کی نیت اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے رمضان کے مہینے کے روزے رکھتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی ریاکاری اور حصول شہرت کا شائبہ نہیں ہوتا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4196

 
 
Hadith   583   الحديث
الأهمية: مَنْ صام يومًا في سَبِيل الله جَعل الله بينه وبَيْن النِّار خَنْدَقًا كما بين السماء والأرض


Tema:

جو شخص اللہ کے راستے ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کی آگ کے درميان آسمان اور زمين کے درمیانی فاصلے کے بقدر خندق بنا ديتا ہے۔

عن أبي أمامة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «مَنْ صام يومًا في سَبِيل الله جَعل الله بينه وبَيْن النِّار خَنْدَقًا كما بين السماء والأرض».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کی آگ کے درميان آسمان اور زمين کے درمیانی فاصلے کے بقدر خندق بنا ديتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من صام يومًا في سبيل الله، يُريد بذلك ثواب الله -تعالى- "جَعل الله بينه وبَيْن النِّار خَنْدَقًا" أي حجابًا شديدًا ومانعًا بعيدًا بمسافة مَدِيدَة، قَدْرُها: "كما بَيْنَ السماء والأرض" أي مسافة خمسمائة سنة، كما في حديث العباس بن عبد المطلب -رضي الله عنه-، قال: "كنا عند النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: " أتدرون كم بين السماء والأرض"؟ قلنا: الله أعلم ورسوله، قال: "بينهما مسيرة خمسمائة سنة".
580;س نے اللہ کی راہ میں حصولِ ثواب کی نیت کے ساتھ ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے مابین خندق بنا دیتا ہے۔یعنی سخت قسم کا پردہ کر دیتے ہیں اور بہت لمبی آڑ بنا دیتا ہے جس کی مقدار اتنی ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے یعنی پانچ سو سال کی مسافت جیسا کہ عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ ﷺ نے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے مابین کتنی مسافت ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کے مابین پانچ سو سال کی مسافت ہے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4197

 
 
Hadith   584   الحديث
الأهمية: من صلى البَرْدَيْنِ دخل الجنة


Tema:

جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر وعصر) ادا کیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔

عن أبي موسى الأشعري - رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من صلى البَرْدَيْنِ دخل الجنة».

Esin Hadith Text Urdu
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر وعصر) ادا کیں وہ جنت میں داخل ہوگا“۔
معنى هذا الحديث: أن المحافظة على هاتين الصلاتين من أسباب دخول الجنة.
والمراد بهما: صلاة الفجر والعصر، ويدل على ذلك قوله -صلى الله عليه وسلم- في حديث جرير: "صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها" زاد في رواية لمسلم يعني: " العصر والفجر " ثم قرأ جرير: (وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها).

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وسميتا: "بردين"؛ لأنهما تصليان في بردي النهار وهما طرفاه حين يطيب الهواء وتذهب شدة الحر.
وقد جاءت أحاديث كثيرة تدل على فضل هاتين الصلاتين، من ذلك ما رواه عمارة بن رُؤيبة عن أبيه عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (لا يلج النار رجلٌ صلى قبل طلوع الشمس وقبل أن تغرب) رواه مسلم (634).
ووجه تخصيصها بالذكر أن وقت الصبح يكون عند النوم ولذته، ووقت العصر يكون عند الاشتغال بتتمات أعمال النهار وتجارته، ففي صلاته لهما مع ذلك دليل على خلوص النفس من الكسل ومحبتها للعبادة، ويلزم من ذلك إتيانه بجميع الصلوات الأخر، وأنه إذا حافظ عليهما كان أشد محافظة على غيرهما، فالاقتصار عليهما لما ذكر لا لإفادة أن من اقتصر عليهما؛ بأن أتى بهما دون باقي الخمس يحصل له ذلك؛ لأنه خلاف النصوص.
وقوله -عليه الصلاة والسلام-: (من صلى البردين) المراد صلاهما على الوجه الذي أمر به، ذلك بأن يأتي بهما في الوقت، وإذا كان من أصحاب الجماعة كالرجال فليأت بهما مع الجماعة؛ لأن الجماعة واجبة، ولا يحل لرجل أن يدع صلاة الجماعة في المسجد وهو قادر عليها.
575;س حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کی پابندی کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔
مذکورہ نمازوں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں۔ اس پر جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث دلالت کرتی ہے جس کے الفاظ ہیں ”صَلاَۃٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا“ یعنی طلوعِ شمس اور غروبِ شمس سے پہلے والی نمازیں۔ مسلم کی روایت میں یعنی ”العصر والفجر“ کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ نے ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا﴾ ” اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے“ تلاوت فرمائی۔
ان دونوں نمازوں کو ”بَرْدَين“ کہا گیا ہے، اس لیے کہ یہ دونوں نمازیں دن کے ٹھنڈے وقت میں پڑھی جاتی ہیں یعنی دن کے اطراف میں جب خوشگوار ہوا چلتی ہے اور گرمی کی شدت ختم ہو جاتی ہے۔
ان دونوں نمازوں کی فضیلت پر بہت ساری احادیث آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت عمارة بن رُؤيبہ کی ہے وہ اپنے والد سے اور ان کے والد نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے نمازیں پڑھتا ہے وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا“۔ (مسلم: 634)
ان دونوں نمازوں کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صبح کا وقت میٹھی نیند کا وقت ہوتا ہے اور عصر کا وقت دن بھر کے کاموں اور اپنی تجارت کو نمٹانے کا وقت ہوتا ہے۔ تو ان اوقات میں نمازیں پڑھنا اس بات کی علامت ہے کہ نمازی کا نفس سستی سے پاک ہے اور اسے عبادت وبندگی سے محبت ہے۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دوسری تمام نمازیں بھی پڑھتا ہے۔ یعنی جب وہ شخص ان دونوں نمازوں کا پابند پابند ہوگا تو دوسری نمازوں کا بدرجۂ اولی پابند ہوگا۔ لہٰذا صرف ان دو نمازوں کو ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص صرف یہ دو نمازیں پڑھتا ہے اور باقی نہیں پڑھتا۔ اس لیے کہ یہ نصوص کے خلاف ہے۔
آپ ﷺ کا یہ کہنا ”مَنْ صَلّى البَرْدَيْنِ“ سے مراد یہ ہے کہ جس نے یہ نمازیں اسی صفت پر پڑھی جس کا حکم دیا گیا ہے بایں طور کہ انہیں اپنے وقت میں پڑھے۔ اور اگر اس پر باجماعت نماز پڑھنا فرض ہے یعنی وہ مرد حضرات ہیں، تو وہ جماعت سے پڑھیں۔ اس لیے کہ جماعت واجب ہے۔ کسی شخص کے لیے کہ یہ جائز نہیں کہ وہ مسجد میں جماعت کی نماز پر قادر ہوتے ہوئے اسے چھوڑے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4198

 
 
Hadith   585   الحديث
الأهمية: مَنْ عُلِّمَ الرَّمْيَ، ثم تَرَكَه، فليس مِنَّا، أو فقد عَصَى


Tema:

جسے نشانہ بازی سکھائی گئی اور بعدازاں اس نے اسے چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں، یا اس نے نافرمانی کی۔

عن عقبة بن عامر-رضي الله عنه- مرفوعاً: «مَنْ عُلِّمَ الرَّمْيَ، ثم تَرَكَه، فليس مِنَّا، أو فقد عَصَى».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے نشانہ بازی سکھائی گئی اور بعدازاں اس نے اسے چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں، یا اس نے نافرمانی کی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن من تَعَلَّم الرَّمي بالسهام ومثله الرمي بآلات الجهاد الحديثة، ثم تركه وأهمله، "فليس منِّا"، أي ليس من أهل هديْنَا وسُنتنا.
"أو قد عصى" وهذا شك من الراوي، هل قال -صلى الله عليه وسلم-: "فليس منِّا أو فقد عصى".
581;دیث کا مفہوم: جس نے تیراندازی یا پھر جدید آلات جنگ کے ذریعے سے نشانہ بازی سیکھی اور پھر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اس سلسلے میں لاپرواہی برتی تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یعنی وہ ہمارے طرزِعمل اور ہمارے طریقے پر قائم نہیں ہے۔”یا اس نے نافرمانی کی“۔ راوی کو اس میں شک ہے کہ آپ ﷺ نے ”وہ ہم میں سے نہیں ہے“ کہا تھا یا پھر ”اس نے نافرمانی کی“ کہا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4199

 
 
Hadith   586   الحديث
الأهمية: مَنْ قاتل في سَبِيل الله من رَجُل مُسْلم فُوَاقَ نَاقَة، وجَبَتْ له الجنة، ومن جُرح جُرْحًا في سَبِيل الله أو نُكِبَ نَكْبَةً فإنها تَجِيء يوم القيامة كَأَغزَرِ ما كانت: لونُها الزَّعْفَرَانُ، وريُحها كالمِسك


Tema:

جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی۔

عن معاذ -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ قاتل في سَبِيل الله من رَجُل مُسْلم فُوَاقَ نَاقَة، وجَبَتْ له الجنة، ومن جُرح جُرْحًا في سَبِيل الله أو نُكِبَ نَكْبَةً فإنها تَجِيء يوم القيامة كَأَغزَرِ ما كانت: لونُها الزَّعْفَرَانُ، وريُحها كالمِسك».

معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ما من مسلم يقاتل في سبيل الله ولو بمقدار يسير، كمقدار ما بَيْن الحلْبَتَين، والمقصود بذلك أن تُحلب الناقة ثم تُترك ليَرضع الفَصِيل، ثم يرجع إلى الضَرع فيحلبه مرة ثانية؛ إلا وجبت له الجنة، ومن أُصيب في سبيل الله تعالى، كما لو سقط من على فرسه فجُرح أو ضربة سيف أو غير ذلك ولو كانت إصابته يسيرة، جاء يوم القيامة وجرحه يتصبب منه الدم بَغَزارة، إلا أن لونه لون الزَعْفَران وتفوح منه أطيب الروائح التي هي رائحة المسك.
580;و کوئی مسلمان اللہ کے راستہ میں تھوڑی دیر کے لیے بھی جہاد کرے گا، مثلاً اتنی دیر جہاد کیا جتنا کسی اونٹنی کو دوبارہ دوہنے کا وقفہ ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اونٹنی کو دوہا جاتا ہے پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ بچے کو دددھ پلائے، پھر دودھ چھاتی میں لوٹ آئے اس کے بعد دوبارہ اسے دوہا جائے، تو اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔ اور جس کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگ جائے، مثلاً وہ گھوڑے کے اوپر سے گر کر زخمی ہو جائے یا تلوار وغیرہ کی ضرب لگ جائے، اگرچہ زخم ہلکا ہی کیوں نہ ہو، تو وہ قیامت کے صن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے کثرت کے ساتھ خون نکلے گا، مگر اس کا رنگ زعفرانی ہوگا اور اس کی خوشبو سب سے بہتر خوشبو یعنی مشک کی خوشبو کی مانند ہوگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4200

 
 
Hadith   587   الحديث
الأهمية: من قال: سُبحان الله وبِحَمْدِه، غُرِسَتْ له نَخْلة في الجنة


Tema:

جو شخص ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا۔

عن جابر -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «من قال: سُبحان الله وبِحَمْدِه، غُرِسَتْ له نَخْلة في الجنة».

جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا النبي -صلى الله عليه وسلم-: أن من سَبَّحَ الله فقال: سبحان الله وبحمده. غُرست له نخلة في الجنة عن كل تسبيحة قالها.
606;بی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہوئے ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہتا ہے اس کے لیے ہر دفعہ کہی گئی تسبیح کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک پودا لگا دیا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4201

 
 
Hadith   588   الحديث
الأهمية: من قام ليلة القَدْر إيِمَانا واحْتِسَابًا غُفِر له ما تَقدم من ذَنْبِه


Tema:

جس نے شبِ قدر میں حالتِ ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من قام ليلة القَدْر إيمَانا واحْتِسَابًا غُفِر له ما تَقدم من ذَنْبِه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے شبِ قدر میں حالتِ ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث وارد في فضل قيام ليلة القدر والحث على ذلك ،فمن وافق قيامه ليلة القدر، مؤمنا بها وبما جاء في فضلها راجيًا بعمله ثواب الله  تعالى، لا يقصد من ذلك رياء ولا سُمعة، ولا غير ذلك مما يخالف الإخلاص والاحتساب، فإنه يُغفر له جميع صغائر ذُنوبه، أما الكبائر فلا بد من إحداث توبة صادقة، إن كانت في حق الله تعالى، أما إن كانت متعلقة بحق آدمي، فالواجب أن يتوب إلى الله تعالى وأن يَبْرأ من حق صاحبها.
740;ہ حدیث شبِ قدر میں قیام کی فضیلت سے متعلق ہے اور اس میں قیام اللیل کی ترغیب دی گئی ہے۔ جو شخص شبِ قدر میں قیام کرتا ہے بایں حال کہ وہ اس رات پر اور اس کی فضلیت کے بارے میں جو کچھ آیا ہے اس پر ایمان رکھتا ہو اور اپنے عمل پر اللہ سے ثواب کا امید وار ہو اور اس سے اس کا مقصود نہ تو ریاکاری ہو اور نہ نیک نامی کا حصول اور نہ ہی کوئی اور ایسی بات جو اخلاص و نیت ثواب کے منافی ہوتی ہے تو اس کے تمام صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ تاہم کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے سچی توبہ ضروری ہے جب کہ ان کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہو اور اگر وہ حقوق العباد سے متعلق ہوں تو اس صورت میں واجب ہے کہ وہ اللہ تعالی سے توبہ بھی کرے اور حق دار کے حق سے بھی سبکدوش ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4202

 
 
Hadith   589   الحديث
الأهمية: من يُرِدِ الله به خيرا يُصِبْ مِنه


Tema:

اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو مصيبت سے دوچار کر دیتا ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من يُرِدِ الله به خيرا يُصِبْ مِنه».

ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو مصيبت سے دوچار کر دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا أراد الله بعباده خيرًا ابتلاهم في أنفسهم وأموالهم وأولادهم؛ ليكون ذلك سببًا في تكفير ذنوبهم ورفعة في درجاتهم، وإذا تأمل العاقل عواقب البلاء وجد أن ذلك خيرٌ في الدنيا وفي الآخرة، وإنما الخيرية في الدنيا؛ لما فيه من اللجوء إلى الله تعالى بالدعاء والتضرع وإظهار الحاجة، وأما مآلًا فلما فيه من تكفير السيئات ورفع الدرجات. 
قال تعالى: (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ)، ولكن هذا الحديث المطلق مقيد بالأحاديث الأخرى التي تدل على أن المراد: من يرد الله به خيراً فيصبر ويحتسب، فيصيب الله منه حتى يبلوه، أما إذا لم يصبر فإنه قد يصاب الإنسان ببلايا كثيرة وليس فيه خير، ولم يرد الله به خيراً، فالكفار يصابون بمصائب كثيرة، ومع هذا يبقون على كفرهم حتى يموتوا عليه، وهؤلاء بلا شك لم يرد بهم خيرًا.
580;ب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں ان کی جان، مال اور اولاد کے تئیں آزمائش سے دوچار کرتا ہے۔ تاکہ یہ ان کے گناہوں کا کفارہ اور ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ جب ايک عقلمند شخص آزمائش اور مصيبت کے انجام پر غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ يہ اس کے لیے دنيا وآخرت ميں خير وبھلائی کا باعث ہے۔ دنیا میں بہتری کا پہلو اس طرح ہے كہ وه اس حالت میں دعا، عاجزی اور اپنی حاجت کے اظہار کے ذريعہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور آخرت میں خیر کا پہلو اس طرح ہے کہ یہ گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾ ”اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجیے“۔
يہ مطلق حديث ان دوسری احادیث سے مقید ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس حديث کا مطلب يہ ہے کہ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے‘ پس وہ صبر کرتا ہے اور اللہ سے ثواب کی اميد رکھتا ہے، تو اللہ اسے مصيبت سے دوچار کر دیتا ہے تاکہ اسے آزمائے۔ ليكن اگر وہ صبر نہ کرے، تو انسان کبھی کبھار بہت ساری مصیبتوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور ان میں خیر نہیں ہوتا ہے اور اللہ اس کے ساتھ بھلائی کا اراده نہیں فرماتا ہے۔ چنانچہ کفار ڈھیروں مصائب میں مبتلا کئے جاتے ہیں، اس کے باوجود وہ اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں، بلا شبہ ان لوگوں کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا اراده نہیں کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4204

 
 
Hadith   590   الحديث
الأهمية: مرَّ علينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ونحن نُعالج خُصًّا لنا


Tema:

اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم اپنی جھونپڑی کی مرمت کر رہے تھے

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- قال: مرَّ علينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ونحن نُعالج خُصًّا لنا، فقال: «ما هذا؟» فقلنا: قد وَهَى، فنحن نُصلحه، فقال: «ما أرى الأمر إلا أَعْجَل من ذلك».

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم اپنی جھونپڑی کی مرمت کررہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'یہ کیا ہے؟' ہم نے کہا کہ یہ (گھر) کمزور ہو گیا تھا، ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث : أن النبي صلى الله عليه وسلم مر بعمرو بن العاص وهو يصلح ما قد فسد من بيته أو يعمل فيه لتقويته.
وفي رواية لأبي داود : "وأنا أطين حائطاً لي" فقال: "ما أرى الأمر إلا أَعجل من ذلك" يعني: أن الأجل أقرب من أن تصلح بيتك خشية أن ينهدم قبل أن تموت وربما تموت قبل أن ينهدم، فإصلاح عملك أولى من إصلاح بيتك.
والظاهر أن عمارته لم تكن ضرورية، بل كانت ناشئة عن أمل في تقويمه، أو صادرة عن ميل إلى زينته، فبين له أن الاشتغال بأمر الآخرة أولى من الاشتغال بما لا ينفع في الآخرة.
581;دیث کا مطلب یہ ہے کہ: پیغمبر ﷺ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرےجبکہ وہ اپنے گھر کا وہ حصہ ٹھیک کررہے تھے جو خراب ہوگیا تھا یا وہ اسے مضبوط کررہےتھے۔
ابو داؤد کی ایک روایت میں ”وأنا أطين حائطا لي“ کے الفاظ ہیں یعنی میں گھر کی ایک دیوار لیپ رہا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں معاملہ اس سے بھی جلدی دیکھ رہا ہوں۔
یعنی تم اپنی موت کے آنے سےپہلے گھر کے گرنے کے خوف سے اس کے مرمت میں مصروف ہو۔لیکن موت اس سے بھی زیادہ قریب ہے، ہوسکتا ہے گھر کے گرنے سے پہلے ہی تمہاری موت آجائے۔ اس لئے تمہارا اپنے عمل کی اصلاح کرنا اپنے گھر کو درست کرنےسے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گھر کی تعمیر کا کام ضروری نہیں تھا، بلکہ وہ گھر کو اور مضبوط کرنے کی امید یا اس کی زینت کی خاطر تھا۔ اس لئے آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اُخروی امور میں مصروف ہونا ایسے کام میں مصروف ہونے سے بہتر ہے جو آخرت میں نفع بخش نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4205

 
 
Hadith   591   الحديث
الأهمية: المسلمُ إذا سُئِلَ في القَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إلا اللهُ، وأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فذلك قولُهُ تعالى: يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ


Tema:

مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ کا یہی مطلب ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن البراء بن عازب -رضي الله عنه- مرفوعاً: «المسلمُ إذا سُئِلَ في القَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إلا اللهُ، وأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فذلك قولُهُ تعالى: (يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ) [إبراهيم: 27]».

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ﴾ (ابراھیم: 27) یعنی ”اللہ ایمان والوں کی اس پکی بات (کی برکت) سے مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) “ کا یہی مطلب ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يُسأل المؤمن في القبر، يسأله الملكان الموكلان بذلك وهما منكر ونكير، كما جاء تسميتهما في سنن الترمذي، فيشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله. قال النبي -صلى الله عليه وسلم- هذا هو القول الثابت الذي قال الله فيه: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27].
605;ومن بندے سے قبر میں سوال کیا جائے گا۔ دو فرشتے جو اس پر وکیل ہوں گے، انہیں منکر نکیر کہا جاتا ہے جیسا کہ ترمذی میں ان کے نام مذکور ہیں۔ تو مومن شخص گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا یہی وہ ’قولِ ثابت‘ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: 27] ”اللہ ایمان والوں کی اس پکی بات (کی برکت) سے مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی)‘‘۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4206

 
 
Hadith   592   الحديث
الأهمية: أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ


Tema:

اگر اس نے بسم اللہ پڑھی ہوتی تو وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- كان رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْكُلُ طَعَامًا في سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایسے میں ایک اعرابی آیا جس نے دو ہی لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے بسم اللہ پڑھی ہوتی تو وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يأكل مع ستة من أصحابه، فجاء أعرابي فدخل معهم فأكل الباقي بلقمتين، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: أما إنه لو سمى لكفاكم، لكنه لم يُسَمِّ فأكل الباقي كله بلقمتين، ولم يكفه، وهذا يدل على أن الإنسان إذا لم يُسَمِّ نُزِعَت البركة من طعامه.
606;بی ﷺ اپنے چھے صحابہ کرام کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آ کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس نے دو ہی لقموں میں کھانا ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا لیکن اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اور باقی کھانا سارے کا سارا دو لقموں میں کھا گیا اور وہ اس کے لیے کافی نہ ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان جب بسم اللہ نہیں پڑھتا تو اس کے کھانے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4209

 
 
Hadith   593   الحديث
الأهمية: أُمِرْتُ أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله، ويُقيموا الصلاة، ويُؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءَهم وأموالَهم إلا بحق الإسلام وحسابُهم على الله -تعالى-


Tema:

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دیں (یعنی اسلام لے آئیں) اور یہاں تک کہ وہ نماز قائم کرنے لگیں اور زکوۃ دینا شروع کردیں۔ جو لوگ یہ کرلیں گے وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہو گا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔

عن عمر بن الخطاب وابنه عبد الله وأبي هريرة -رضي الله عنهم- مرفوعاً: «أُمِرْتُ أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله، ويُقيموا الصلاة، ويُؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءَهم وأموالَهم إلا بحق الإسلام وحسابُهم على الله -تعالى-».

عمر بن خطاب اور ان کے بیٹے عبد اللہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دیں (یعنی اسلام لے آئیں) اور یہاں تک کہ وہ نماز قائم کرنے لگیں اور زکوۃ دینا شروع کردیں۔ جو لوگ یہ کرلیں گے وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہوگا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله -تعالى- أمر بمقاتلة المشركين حتى يشهدوا بأن لا معبود بحق إلا الله وحده لا شريك له، ويشهدوا لمحمد -صلى الله عليه وسلم- بالرسالة، والعمل بمقتضى هذه الشهادة من المحافظة على الصلوات الخمس، والزكاة عند وجوبها، فإذا قاموا بهذه الأركان مع ما أوجب الله عليهم، فقد منعوا وحفظوا دماءهم من القتل، وأموالهم لعصمتها بالإسلام، إلا بحق الإسلام بأن يصدر من أحد ما تحكم شريعة الإسلام بمؤاخذته من قصاص أو حدٍّ أو غير ذلك، ومن فعل ما أُمر به فهو المؤمن، ومن فعله تقية وخوفا على ماله ودمه فهو المنافق، والله يعلم ما يسره فيحاسبه عليه.
575;للہ تعالی نے مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور اس بات کی بھی گواہی دے دیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس گواہی کی بدولت جو عمل واجب ہوتا ہے اسے بجا لائیں یعنی پانچ نمازوں کی پابندی کریں اور زکوۃ واجب ہونے پر اسے ادا کریں۔ جب وہ ان فرائض کو ان دیگر اشیاء کے ساتھ انجام دینے لگیں گے جو اللہ تعالی نے ان پر واجب کی ہیں تو اس صورت میں وہ اپنی جانوں کو قتل ہونے سے اور اپنے اموال کو (ضائع ہونے سے) بچا لیں گے کیونکہ اسلام لانے کی وجہ سے یہ معصوم ہو جائیں گے۔ ماسوا اس صورت میں جب کوئی اسلام کا حق پیدا ہو جائے بایں طور کہ کسی شخص سے ایسا عمل سرزد ہو جائے جس پر ازروئے شریعت اس کا مواخذہ ضروری ہو یعنی اس پر قصاص یا حد وغیرہ آئے۔ جس نے اس حکم کو پورا کیا جس کا اسے حکم دیا گیا تو وہ مومن ہے اور جس نے محض تقیہ کرتے ہوئے اوراپنے مال و جان کے ڈر سے ایسا کیا (یہ گواہی دی) تو وہ منافق ہے۔ اللہ تعالی اس کے باطن کے حال کو جانتا ہے اور وہی اس پر ان سے حساب لے گا۔   --  [صحیح]+ +[اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4211

 
 
Hadith   594   الحديث
الأهمية: فَاجْتَمِعُوا على طَعَامِكُمْ، واذْكُرُوا اسمَ اللهِ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ


Tema:

اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اور اللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی۔

عن وَحْشِيِّ بنِ حَرْبٍ -رضي الله عنه-: أَنَّ أصحابَ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- قالوا: يا رسولَ اللهِ، إِنَّا نَأْكُلُ ولا نَشْبَعُ؟ قال: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ» قالوا: نعم، قال:«فَاجْتَمِعُوا على طَعَامِكُمْ،واذْكُرُوا اسمَ اللهِ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ».

وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اوراللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال الصحابة للنبي -صلى الله عليه وسلم-: إنهم يأكلون ولا يشبعون، فأخبرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- أن لذلك أسبابا منها: التفرق على الطعام؛ فإن ذلك من أسباب نزع البركة؛ لأن التفرق يستلزم أن كل واحد يجعل له إناء خاص فيتفرق الطعام وتنزع بركته، ومنها أيضا: عدم التسمية على الطعام؛ فإن الإنسان إذا لم يسم الله على الطعام أكل الشيطان معه ونزعت البركة من طعامه.
589;حابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ وہ کھاتے تو ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس کے کچھ اسباب یہ ہیں: الگ الگ ہو کر کھانا کھانا۔ کیونکہ یہ برکت اٹھ جانے کا ایک سبب ہے اس لیے کہ الگ الگ کھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا خاص برتن ہو۔ اس سے کھانا بٹ جائے گا اور برکت اٹھ جائے گی۔ اس کی ایک اور وجہ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا بھی ہے۔ انسان جب کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اس کے ساتھ کھاتا ہے اور اس کے کھانے سے برکت کھینچ لی جاتی ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4212

 
 
Hadith   595   الحديث
الأهمية: إن الله تَجَاوزَ لِي عن أمتي الخطأَ والنِّسْيانَ وما اسْتُكْرِهُوا عليه


Tema:

بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سےغلطی، بھول چوک اور جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، معاف کر دیا ہے۔

عن عبد الله ابن عباس -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «إن الله تَجَاوزَ لِي عن أمتي الخطأَ والنِّسْيانَ وما اسْتُكْرِهُوا عليه».

عبد الله ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی نے میرے لیے میری امت سے غلطی، بھول چوک اور جس کام کے کرنے پرانھیں مجبور کردیا جائے، اسے معاف کردیا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من رحمة الله -تعالى- بهذه الأمة أن عفا عن إثم الخطأ -وهو ما لم يتعمدوه من المعاصي- والنسيان للواجبات أو فعل المحرمات، لكن إذا تذكر الواجب لاحقًا أتى به، وكذلك ما استكرهوا عليه وأرغموا على فعله من المعاصي والجنايات، فقال -تعالى-: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ}.
575;س امت پر اللہ تعالی کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے اسے غلطی کے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو انہوں نے جان بوجھ کر نہ کیے ہوں۔ اسی طرح بھول چوک سے چھوٹ جانے والے واجبات یا حرام کاموں کے ارتکاب کو بھی معاف کر دیاہے۔ تاہم جب بعد میں واجب یاد آ جائے تو وہ اسے ادا کر لے گا۔ اسی طرح جن گناہوں اور جرائم کے ارتکاب پر انہیں مجبور کر دیا جائے وہ بھی انہیں معاف ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾ (الحج: 78) ”اور ہم نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی“۔   --  [یہ حدیث اپنی دیگر اسانید اور شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے۔]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4216

 
 
Hadith   596   الحديث
الأهمية: إن الله -عز وجل- تَابَعَ الوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ أَكْثَرَ مَا كَانَ الوَحْيَ


Tema:

اللہ عزّ و جلّ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ پر پہ در پہ وحی نازل فرماتا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات اس وقت ہوئی جب کثرت کے ساتھ وحی نازل ہو رہی تھی۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: إن الله -عز وجل- تابع الوحي على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قبل وفاته حتَّى تُوُفِّيَ أكثر ما كان الوحي.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ عز و جل رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ پر پہ در پہ وحی نازل فرماتا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات اس وقت ہوئی جب کثرت کے ساتھ وحی نازل ہو رہی تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أكثر الله -عز وجل- من إنزال الوحي على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قبل وفاته؛ حتى تكمل الشريعة؛ حتى توفي الرسول -صلى الله عليه وسلم- في وقت كثرة نزوله.
575;للہ عز و جل نے رسول اللہ ﷺ پر آپ ﷺ کی وفات سے پہلے کثرت کے ساتھ وحی نازل کی تاکہ شریعت مکمل ہوجائے یہاں تک کہ جب کثرت کے ساتھ وحی کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4217

 
 
Hadith   597   الحديث
الأهمية: لا تُقَارِنُوا، فإنَّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- نهى عن القِرَانِ، ثم يقولُ: إلا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرجلُ أَخَاهُ


Tema:

دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا : سوائے اس صورت کے، جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔

عن جَبَلَةَ بنِ سُحَيْمٍ، قال: أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مع ابنِ الزبيرِ؛ فَرُزِقْنَا تمرًا، وكان عبدُ اللهِ بنُ عمرَ -رضي الله عنهما- يَمُرُّ بنا ونحن نَأْكُلُ، فيقول: لا تُقَارِنُوا، فإنَّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- نهى عن القِرَانِ، ثم يقولُ: إلا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرجلُ أَخَاهُ.

جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ: دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا :سوائے اس صورت کے، کہ جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن جبلة بن سحيم قال: أصابنا عام قحط مع ابن الزبير -رضي الله عنهما-، فأعطانا تمرا، فكان ابن عمر -رضي الله عنهما- يمر بنا ونحن نأكل، فيخبرنا أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى أن يقرن الرجل بين التمرتين ونحوهما مما يؤكل أفرادا، إذا كان مع جماعة إلا بإذن أصحابه.
فالشيء الذي جرت العادة أن يؤكل واحدة واحدة، كالتمر إذا كان معك جماعة فلا تأكل تمرتين في لقمة واحدة؛ لأن هذا يضر بإخوانك الذين معك، فلا تأكل أكثر منهم إلا إذا استأذنت، وقلت: تأذنون لي أن آكل تمرتين في آن واحد، فإن أذنوا لك فلا بأس.
ملحوظة: في صحيح البخاري: فرزقنا بأربع فتحات، والفاعل ابن الزبير، والمعنى أعطانا، وفي رواية البيهقي: فرزقنا بضم الراء بالبناء للمجهول، ويحتمل الرازق الله -تعالى-.
580;بلہ بن سحیم نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ نبی ﷺ دو کھجوروں اور ان کے مثل جن چیزوں کو ایک ایک کرکے کھایا جاتا ہے ایک ساتھ ملا کر لوگوں کے ساتھ کھانے سے منع فرمایا ہے، اِلاّ یہ کہ اس کے ساتھی اس کی اجازت دیں تو کھایا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو عادتاً ایک ایک کھائی جاتی ہو جیسے کھجور، تو زیادہ لوگوں میں ایک لقمے میں دو دو کھجوریں نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ یہ دوسرے بھائیوں کو تکلیف دینے کا باعث ہوگا۔ لہذا ان سے زیادہ نہ کھاؤ، اِلاّ یہ کہ ان سے اجازت لے لو۔ ان سے کہو کہ کیا تم مجھے ایک ساتھ دو کھجوریں کھانے کی اجازت دیتے ہو؟ اگر وہ اس کی اجازت دے دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں‘‘۔
نوٹ: صحیح بخاری میں ہے: ”فَرَزَقَنَا“ چاروں پر فتحہ کے ساتھ ہے اور فاعل ابن زبیر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں دیں۔ اور بیہقی کی ایک روایت میں ہے: ”فَرُزْقْنا“ راء کے پیش کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے، اس میں احتمال یہ ہے کہ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4219

 
 
Hadith   598   الحديث
الأهمية: إِنَّ أَهْوَن أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ لَرَجُلٌ يُوضَعُ في أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغه، ما يَرَى أَنَ أَحَدًا أَشَدَّ مِنْهُ عَذَابًا، وَإنَّهُ لَأَهْوَنهُم عَذَابًا


Tema:

قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا جس کے قدموں کے نیچے دو انگارے رکھے ہوں، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا ہے حالانکہ اسے ان سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا۔

عن النعمان بن بشير -رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إن أَهْوَنَ أهل النار عذابا يوم القيامة لرجل يوضع في أَخْمَصِ  قدميه جمرتان يغلي منهما دماغه ما يرى أن أحدا أشد منه عذابا وإنه لَأَهْوَنُهُم عذابا».

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا جس کے قدموں کے نیچے دو انگارے رکھے ہوں، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا ہے حالانکہ اسے ان سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن أهون أهل النار عذابًا يوم القيامة، مَن يوضع في قدميه جمرتان من نار يغلي منهما دماغه، وهو يرى أنه أشد الناس عذابًا، وهو أخفهم؛ لأنه لو رأى غيره؛ لهان عليه الأمر، وتسلى به، ولكنه يرى أنه أشد الناس عذابًا، فحينئذ يتضجر ويزداد بلاء.
606;بی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ روزِ قیامت سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا جس کے قدموں تلے دو آگ کے انگارے رکھے ہوں گے جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ سب سے سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ اس کا عذاب سب سے ہلکا ہو گا۔ کیونکہ اگر وہ دوسروں کو دیکھتا تو اپنے عذاب کو کم سمجھتا اور اس سے اسے کچھ تسلی ہوتی تاہم اسے یہی دکھائی دے گا کہ لوگوں میں سب سے سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے۔ اس پر وہ آہ و زاری کرے گا اور اس کی تکلیف میں اور اضافہ ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4220

 
 
Hadith   599   الحديث
الأهمية: أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ بِلَبَنٍ قد شِيبَ بماءٍ، وعن يمينهِ أَعْرَابِيٌّ، وعن يَسَارِه أبو بكرٍ -رضي الله عنه- فَشَرِبَ، ثم أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، وقال: الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ


Tema:

رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ بِلَبَنٍ قد شِيبَ بماءٍ، وعن يمينهِ أَعْرَابِيٌّ، وعن يَسَارِه أبو بكرٍ -رضي الله عنه- فَشَرِبَ، ثم أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، وقال: «الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ».

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أُتِي النبي -صلى الله عليه وسلم- بلبن قد خُلِطَ بالماء، وعلى يمينه رجل من الأعراب وعلى يساره أبو بكر، فشرب النبي -صلى الله عليه وسلم- ثم أعطى الأعرابي، فأخذ الإناء وشرب، وأبو بكر أفضل من الأعرابي؛ لكن فضَّله النبي -صلى الله عليه وسلم- عليه لأنه عن يمينه، وقال: الأيمن فالأيمن، أي: قدموا وأعطوا الأيمن فالأيمن.
606;بی ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک اعرابی آدمی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی ﷺ نے دودھ خود نوش کرنے کے بعد اعرابی کو دے دیا۔ اس نے برتن اٹھایا اور اسے پی لیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اعرابی سے افضل تھے، لیکن نبی ﷺ نے اعرابی کو ترجیح دی کیوںکہ وہ آپ ﷺ کی دائیں جانب تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”االْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ“ یعنی دائیں طرف والے کو مقدم رکھو اور اسے دو اور پھر اس کے بعد جو اس کے دائیں جانب ہو، اسے دو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4221

 
 
Hadith   600   الحديث
الأهمية: أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ يومَ فَتْحِ مَكَّةَ وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئےتو آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔

عن جابرٍ -رضي الله عنه-: أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ يومَ فَتْحِ مَكَّةَ وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.
عن أبي سعيدٍ عمرو بنِ حُرَيْثٍ -رضي الله عنه- قال: كَأَنِّي أَنْظُرُ إلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ.
في رواية: أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَ النَّاسَ، وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئےتو آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ پہن رکھا تھا۔
ابو سعید عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا ہے جس کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین لٹک رہے ہیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في حديث جابر أخبر -رضي الله عنه- أن النبي -عليه الصلاة والسلام- دخل عام الفتح وعليه: (عمامة سوداء) ففيه جواز لباس الثياب السود، وفي الرواية الأخرى: خطب الناس وعليه عمامة سوداء فيه جواز لباس الأسود، وإن كان الأبيض أفضل منه كما ثبت في الحديث الصحيح: "خير ثيابكم البياض"، وإنما لبس العمامة السوداء في هذا الحديث بيانا للجواز.   وأما قول عمرو بن حريث في الحديث الآخر: (كأني أنظر إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعليه عمامة سوداء قد أرخى طرفيها بين كتفيه)، فهو يدل على جواز كون العمامة سوداء ومدلاة بين الكتفين.
580;ابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ اس میں سیاہ رنگ کے لباس کے پہننے کا جواز ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ لوگوں سے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ اس میں اس بات کا جواز ہے کہ سیاہ لباس پہنا جا سکتا ہے اگرچہ سفید لباس افضل ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ: ”تمہارا سب سے بہتر لباس سفید ہے“۔ آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ جس کا بیان اس حدیث میں ہے اس لئے پہنا تاکہ اس سے جواز کا علم ہو سکے۔
جب کہ عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ میں گویا رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ پہن رکھا ہے جس کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین لٹک رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمامہ کا سیاہ ہونا اور اس کا شانوں کے مابین لٹکانا جائز ہے۔   --  [صحیح]+ +[اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4222

 
 
Hadith   601   الحديث
الأهمية: نِعْمَ الرَّجُلُ عبد الله، لو كان يُصلِّي من الليل


Tema:

عبد الله بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔ کاش وہ رات میں نماز بھی پڑھا کرتا۔

وعن سالم بن عبد الله بن عمر بن الخطاب -رضي الله عنهم- عن أبيه: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: « نِعْمَ الرَّجُلُ عبد الله، لو كان يُصلِّي من الليل» قال سالم: فكان عبد الله بعد ذلك لا يَنامُ من الليل إلا قليلًا.

سالم بن عبد اللہ بن عمربن خطاب رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عبد الله بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔ کاش وہ رات میں نماز بھی پڑھا کرتا“۔ سالم کہتے ہیں کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن عبد الله بن عمر رجل صالح وحضه على القيام بالليل، فكان -رضي الله عنه- لا ينام في الليل إلا قليلا.
606;بی ﷺ نے بتایا کہ عبد اللہ بن عمر ایک نیک آدمی ہیں اور آپ ﷺ نے انہیں تہجد کی نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔ چنانچہ (اس کے بعد سے) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4223

 
 
Hadith   602   الحديث
الأهمية: هذا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عليك السَّلام


Tema:

(اے عائشہ!) یہ جبریل ہیں، تمھیں سلام کہہ رہے ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «هذا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عليك السَّلام» قالت: قلت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته. 
وهكذا وقع في بعض روايات الصحيحين: «وبركاته» وفي بعضها بحذفها، وزيادة الثقة مقبولة.

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھ سےفرمایا : ”(اے عائشہ!) یہ جبریل ہیں، تمھیں سلام کہہ رہے ہیں“۔ میں نے کہا: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته۔
بخاری ومسلم کی بعض روایات میں اسی طرح ”و بركاته“ کے الفاظ کے ساتھ روایت آئی ہے، جب کہ بعض روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ (اور قاعدہ یہ ہے کہ) ثقہ راوی کی زیادتی قابل قبول ہوتی ہے۔

تخبرنا عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال لها: "يا عائشة هذا جبريل يقرأ عليك السلام" وفي رواية "يقرئك السلام" أي: يهديك السلام، ويحييك بتحية الإسلام.
فقالت: "وعليه السلام ورحمة الله وبركاته".
ثم إنه من السنة: إذا نُقل السلام من شخص إلى شخص أن يَرُّد عليه بقوله: "وعليه السلام ورحمة الله وبركاته"؛ لظاهر حديث عائشة -رضي الله عنها-.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وإن قال: "عليك وعليه السلام أو عليه وعليك السلام ورحمة الله وبركاته" فحسن؛ لأن هذا الذي نقل السلام محسن فتكافئه بالدعاء له.
ولكن هل يجب عليك أن تنقل الوصية إذا قال: سلِّم لي على فلان أو لا يجب؟
فصَّل العلماء ذلك فقالوا: إن التزمت له بذلك وجب عليك؛ لأن الله -تعالى- يقول: (إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها)،[ النساء : 58] وأنت الآن تحملت هذا أما إذا قال: سلم لي على فلان وسكت أو قلت له مثلاً إذا تذكرت أو ما أشبه ذلك فهذا لا يلزم إلا إذا ذكرت، وقد التزمت له أن تسلم عليه إذ ذكرت، لكن الأحسن ألا يكلف الإنسان أحدًا بهذا؛ لأنه ربما يشق عليه ولكن يقول: سلم لي على من سأل عني، هذا طيب، أما أن يحمله فإن هذا لا ينفع؛ لأنه قد يستحي منك فيقول نعم أنقل سلامك ثم ينسى أو تطول المدة أو ما أشبه ذلك.
575;م المومنين عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیں بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے (ایک دفعہ) ان سے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں، جو تمھیں سلام کہہ رہے ہیں“۔
ایک اور روایت میں”يُقرِئُكَ السَّلامَ“ کے الفاظ ہیں۔ یعنی تجھے ہدیہ سلام پیش کر رہے اور تمہیں اسلامی سلام کر رہے ہیں۔
ام المومنين عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: "وعليه السلام ورحمة الله وبركاته“ (ان پر بھی سلام)۔
پھر یہ سنت ہے کہ جب کسی شخص کی طرف سے کسی اور شخص کو سلام پہنچایا جائے، تو اسے چاہیے کہ یوں جواب دے: ”وعليه السلام ورحمة الله وبركاته“ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ حدیث اسی پر دلالت کر رہی ہے۔
اگر اس نے یہ کہا کہ: ”عليك وعليه السلام“ (تم پڑ اور اس پر بھی سلامتی ہو) یا کہا کہ ”عليه وعليك السلام ورحمة الله وبركاته“ (اس پر بھی اور تم پر بھی سلامتی ہو، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں) تو یہ بہت اچھا ہے۔ کیوںکہ جس نے سلام پہنچایا، وہ احسان کرنے والا ہے۔ چنانچہ آپ اسے دعا دے کر اس کا بدلہ دیتے ہیں۔
اگر کوئی شخص آپ کو کہے کہ میرا سلام فلاں شخص کو پہنچادینا، تو آیا اس کا پہچانا واجب ہے یا نہیں؟
اس معاملے میں علماء کچھ تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے اسے پہنچانے کی ذمہ داری لی، تو پھر اس کا پہنچانا واجب ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ (النساء: 58) ”اللہ تعالیٰ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ“ اس صورت میں اسے پہنچانے کی آپ نے ذمہ داری اٹھائی ہے (اس لیے اس کا پہچانا ضروری ہے)۔ تاہم اگر اس شخص کے اس طرح کہنے پر کہ ”میرا سلام فلاں کو دینا“، آپ خاموش رہے یا پھر آپ نے اس سے کہا کہ اگر مجھے یاد رہا تو میں پہچا دوں گا یا اسی طرح کی کوئی بات کہہ دی، تو اس سلام کو پہنچانا واجب نہیں ہے، سوائے اس صورت کہ آپ کو یاد آ جائے، اور آپ نے اس سے یہ کہہ رکھا تھا کہ اگر آپ یاد آ گیا، تو آپ اس کو سلام پہنچا دیں گے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ انسان کسی کو اس کا پابند نہ کرے؛ کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ یہ اس کے لیے دشواری کا باعث ہو۔ اس کی بجائے اسے یوں کہنا چاہیے کہ: جو میرے بارے پوچھے اسے میرا سلام کہنا۔ ایسا کہنا اچھا ہے۔ تاہم کسی پر اس کی ذمہ داری ڈال دینا بہترنہیں ہے۔ کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ وہ شرم کی وجہ سے یہ کہہ دے کہ ٹھیک ہے، میں تمہارا سلام پہنچا دوں گا۔ پھر وہ بھول جائے یا لمبا عرصہ گزر جائے یا اس طرح کا کوئی اور معاملہ ہو جائے (اور یوں وہ سلام نہ پہنچا سکے)۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4224

 
 
Hadith   603   الحديث
الأهمية: أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- كان يَتَنَفَّسُ في الشَّرَابِ ثَلَاثًا


Tema:

رسول اللہ ﷺ تین سانس میں پانی پیتے تھے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- كان يَتَنَفَّسُ في الشَّرَابِ ثَلَاثًا.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین سانس میں پانی پیتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا شرب تنفس في الشراب ثلاثاً، يشرب ثم يفصل الإناء عن فمه، ثم يشرب الثانية ثم يفصل الإناء عن فمه، ثم يشرب الثالثة، ولا يتنفس في الإناء.
606;بی ﷺ جب پانی پیتے تو اس دوران تین دفعہ سانس لیا کرتے تھے بایں طور کہ پی کر برتن اپنے منہ سے الگ کرتے پھر دوبارہ پیتے، پھر برتن کو اپنے منہ سے الگ کرتے اور پھر تیسری دفعہ پیتے۔ آپ ﷺ برتن میں سانس نہیں لیتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4225

 
 
Hadith   604   الحديث
الأهمية: صَليت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ليلة، فَأَطَالَ القيام حتى هَمَمْتُ بأمر سُوء! قيل: وما هَمَمْتَ به؟ قال: هَمَمْتُ أن أجْلِس وأَدَعَهُ


Tema:

میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: صليت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ليلة، فأطال القيام حتى هَمَمْتُ بأمْرِ سُوءٍ! قيل: وما هَمَمْتَ به؟ قال: هَمَمْتُ أن أجلس وأَدَعَه.

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
صلى ابن مسعود -رضي الله عنه- مع النبي -صلى الله عليه وسلم- ذات ليلة، فقام النبي -صلى الله عليه وسلم-، قياما طويلا، وهذا هو دأبه -صلى الله عليه سلم- فشق عليه -رضي الله عنه- طول القيام، حتى هَمَّ بأمر ليس يسر المرء فعله، فسئل -رضي الله عنه-: ما هَمَمْت به؟ قال: هَمَمْتُ أن أجلس وأدعه قائما؛ مما لحقه من المشقة.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک رات تہجد کی نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے بڑا لمبا قیام کیا۔ در اصل آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی۔ البتہ آپ ﷺ کا لمبا قیام ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر گراں گزرا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ایسا کام کرنے کا ارادہ کر لیا، جو ناگوار تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺ کو قیام کی حالت میں چھوڑ دوں۔ انہیں لاحق ہونے والی مشقت کی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4226

 
 
Hadith   605   الحديث
الأهمية: أَرَأَيتَ إنْ قُتِلْتُ في سَبِيلِ اللهِ، أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟


Tema:

مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے؟

عن أبي قتادة الحارث بن رِبْعِيِّ -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أَنَّهُ قامَ فيهم، فذكرَ لهم أَنَّ الجهادَ في سبيلِ اللهِ، والإيمانَ باللهِ أفضلُ الأعمالِ، فقامَ رَجُلٌ، فقال: يا رسولَ اللهِ، أرأيتَ إن قُتِلْتُ في سبيلِ اللهِ، تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فقالَ له رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «نعم، إنْ قُتِلْتَ في سبيلِ اللهِ، وأنتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ». ثم قال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «كَيْفَ قُلْتَ؟» قال: أَرَأَيتَ إنْ قُتِلْتُ في سَبِيلِ اللهِ، أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فقالَ له رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «نعم، وأنتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، إلا الدَّيْنَ؛ فَإنَّ جِبْرِيلَ -عليه السلام- قالَ لِي ذَلِكَ».

ابو قتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے بہتر اعمال ہیں۔ (یہ سن کر ) ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ:’’ہاں، بشرطیکہ تم اللہ کی راہ میں اس حال میں مارے جاؤ کہ تم (سختیوں پر ) صبر کرنے والے ہو، ثواب کے طالب ہو، پیش قدمی کرنے والے ہو اور پیٹھ دکھا کر بھاگنے والے نہ ہو‘‘۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے کیا کہا تھا؟، اس نے عرض کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہاں ! بشرطیکہ تم صبر کرنے والے ہو ، ثواب کے طالب ہو، پیش قدمی کرنے والے ہو اور پیٹھ دکھا کر بھاگنے والے نہ ہو، سوائے قرض کے (کہ یہ معاف نہیں ہو گا)۔مجھے جبرائیل علیہ السلام نے ایسے ہی بتایا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قام النبي -صلى الله عليه وسلم- في الصحابة خطيبًا، فذكر لهم أن الجهاد لإعلاء كلمة الله والإيمانَ بالله أفضل الأعمال، فقام رجل فسأل النبي -صلى الله عليه وسلم-: أرأيت إن قتلتُ لإعلاء كلمة الله أتغفر لي ذنوبي، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: نعم، ولكن بشرط أن تكون قُتِلتَ صابرا مُتحملاً ما أصابك، مخلصا لله -تعالى-، غير فارٍّ من ساحة الجهاد، ثم استدرك النبي -صلى الله عليه وسلم- شيئاً وهو الدَّين، منبها على أن الجهاد والشهادة لا تكفر حقوق الآدميين.
606;بی ﷺ صحابہ کرام میں خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا افضل ترین اعمال ہیں۔ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرتا ہوا ماراجاؤں تو کیا اس وجہ سے میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم اس حال میں مارے جاؤ کہ تم پرجو مصائب آئیں اس پر تم صبر کرنے والے ہو، تمہارا یہ عمل خالصتا اللہ کے لیے ہو، تم میدانِ جہاد سے راہ فراراختیار نہ کرو۔ پھر نبی ﷺ نے ازراہ استدارک قرض کا ذکرکیا اورتنبیہ فرمائی کہ جہاد اور شہادت سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4227

 
 
Hadith   606   الحديث
الأهمية: إِنْ كَانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيَدَعُ العَمَلَ، وهو يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ؛ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ


Tema:

رسول اللہ ﷺ کبھی کسی عمل کو چاہتے ہوئے بھی محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔

عن أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- قالت: إِنْ كَانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيَدَعُ العَمَلَ، وهو يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ؛ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ.

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کبھی ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يترك العمل وهو يحب أن يفعله، لئلا يعمل به الناس، فيكون سببًا في فرضه عليهم، فتلحقهم بذلك مشقة عظيمة وهو -عليه الصلاة والسلام- يكره إلحاق المشقة بهم.
606;بی ﷺ کسی عمل کو چاہتے ہوئے بھی کبھی چھوڑ دیتے، اس اندیشے کے تحت کہ مبادا لوگوں کی طرف سے اس عمل کو کرنے کی وجہ سے وہ فرض نہ ہو جائے اور اس کی وجہ سے انھیں کسی بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کو مشقت میں ڈالیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4228

 
 
Hadith   607   الحديث
الأهمية: لما عُرِجَ  بي مَرَرْتُ بقوم لهم أظْفَارٌ من نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُم فقلت: مَنْ هؤُلاءِ يا جِبْرِيل؟ قال: هؤلاء الذين يَأكُلُونَ لحُوم الناس، ويَقَعُون في أعْرَاضِهم


Tema:

جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لما عُرِجَ  بي مَرَرْتُ بقوم لهم أظْفَارٌ من نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُم فقلت: مَنْ هؤُلاءِ يا جِبْرِيل؟ قال: هؤلاء الذين يَأكُلُونَ لحُوم الناس، ويَقَعُون في أعْرَاضِهم!».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى هذا الحديث: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لما صُعِد به إلى السماء في ليلة المعراج مَرَّ بقوم يَخْدِشُون أجسامهم بأظفارهم النحاسية، فتعجب من حالهم -صلى الله عليه وسلم- فسأل جبريل من هؤلاء ولماذا يفعلون بأنفسهم هذا الفعل، فأخبره جبريل؛ بأن هؤلاء من يغتابون الناس، ويقعون في أعراضهم، أي يسبونهم.
581;دیث کا مفہوم: معراج کی رات جب نبی ﷺ کو آسمان پر لے جایا گیا تو آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اپنے تانبے سے بنے ناخنوں کے ذریعہ اپنے جسموں کو نوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ کو ان کی اس حالت پر تعجب ہوا تو آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کون ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ وہ ہیں جو لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے اور ان کی عزتوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4229

 
 
Hadith   608   الحديث
الأهمية: إِنْ كان عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هذه الليلةَ في شَنَّةٍ وإِلَّا كَرَعْنَا


Tema:

اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ على رجلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، ومعه صاحبٌ له، فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «إِنْ كان عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هذه الليلةَ في شَنَّةٍ وإِلَّا كَرَعْنَا».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے پاس اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال جابر -رضي الله عنهما-: دخل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على رجل من الأنصار، يقال: إنه أبو الهيثم بن التيهان الأنصاري -رضي الله عنه-، ومعه صاحب له وهو أبو بكر -رضي الله عنه-، فسأله النبي -صلى الله عليه وسلم- إن كان عنده ماء بائت في قربة، وكان الوقت صائفا، والحكمة من ذلك أن الماء البائت يكون باردا، وإلا تناولنا الماء بالفم من غير إناء ولا كف.
580;ابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے ہاں تشریف لائے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ انصاری ابو الہیثم ابن التھیان انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کے ساتھی ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی ﷺ نے اس انصاری صحابی سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی مشکیزے میں رات سے باسى پانی ہے؟ یہ دراصل گرمی کا وقت تھا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ رات سے پڑا ہوا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نہیں ہے تو پھر ہم بنا برتن اور چُلّو کے، منہ لگا کر ہی پانی پی لیں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4230

 
 
Hadith   609   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اشْتَرَى منه بَعِيرا، فَوَزَنَ له فَأرْجَح


Tema:

نبی ﷺ نے ان سے ایک اونٹ خریدا اور ان کے لیے (بطورِ قیمت) جب (چاندی کو) وزن کیا تو کچھ بڑھا کر وزن کیا۔

عن جابر -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اشْتَرَى منه بَعِيراً، فَوَزَنَ له فَأرْجَح.

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایک اونٹ خریدا اور ان کے لیے (بطور قیمت) جب (چاندی کو) وزن کیا تو کچھ بڑھا کر وزن کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا  الحديث له قصة، وهي هنا مختصرة، "أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اشْتَرَى منه بَعِيراً" أي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- اشترى من جابر -رضي الله عنه- بعيراً.
"فَوَزَنَ له" أي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- وَزَن له ثَمن البعير، وهذا من باب التجوز، وإلا فإن حقيقة الوزَّان في هذا الحديث: بلال -رضي الله عنه- بأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- كما هو في أصل الحديث: "فأمر بلالا أن يَزِن لي أوقية، فوزن لي بلال، فأرجح في الميزان" أي: زاد في الوَزْن أكثر مما يستحقه جابر -رضي الله عنه- من ثَمن البعير، وكانوا فيما سبق يتعاملون بالنقود وزناً لا عدداً وإن كانوا يتعاملون أيضا بها عدداً لكن الكثير وزناً.
575;س حدیث کے پس منظر میں ایک پورا قصہ ہے جو یہاں مختصرا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے ایک اونٹ خریدا یعنی نبی ﷺ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اونٹ خریدا۔
”فَوَزَنَ لَه“ یعنی نبی ﷺ نے انہیں اونٹ کی قیمت وزن کر کے دی۔ ایسا مجازاً کہا گیا ہے کیونکہ اس حدیث میں درحقیقت وزن کرنے والے (خود رسول اللہ ﷺ نہیں تھے بلکہ) نبی ﷺ کے حکم سے بلال رضی اللہ عنہ تھے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مجھے ایک اوقیہ چاندی تول کر دیں۔ حضرت بلال نے میرے لیے اسے تولا اور پلڑے کو کچھ بھاری رکھا یعنی وزن اس مقدار سے زیادہ رکھا جس کے جابر رضی اللہ عنہ اونٹ کی قیمت کے طور پر مستحق تھے۔پچھلے زمانے میں لوگ تول کر رقم دیا کرتے تھے نہ کہ گن کر۔ اگرچہ بعض اوقات گن کر بھی لین دین ہوتا تاہم اکثر تول کر ہی ہوتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4231

 
 
Hadith   610   الحديث
الأهمية: أنا أحَقُّ بِذَا مِنك تَجَاوزُوا عن عَبْدِي


Tema:

میں اس (درگزر کرنے) کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں۔ (فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔

عن حذيفة -رضي الله عنه - قال: أُتَي الله تعالى بِعبْد من عِباده آتاه الله مالاً، فقال له: ماذا عَمِلْت في الدنيا؟ -قال: «ولَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا»- قال: يا رَبِّ آتَيْتَنِي مَالَك، فكُنت أُبَايعُ الناس، وكان من خُلُقِي الجَوَاز، فكُنت أَتَيَسَّرُ على المُوسِرِ، وأنْظِر المُعْسِر. فقال الله -تعالى-: «أنا أحَقُّ بِذَا مِنك تَجَاوزُوا عن عَبْدِي» فقال عُقْبَة بن عَامر، وأبو مسعود الأنصاري -رضي الله عنهما-: هكذا سَمِعْنَاه من فِيِّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبى كريم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ، جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا تھا، اللہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اللہ تعالی نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا کیا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّـهَ حَدِيثًا﴾ ”اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے“۔ اس نے جواب دیاـ: اے میرے رب! تو نے اپنے پاس سے مجھے مال دیا تھا۔ چنانچہ میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کیا کرتا تھا اور (اس میں)۔ میری عادت درگزر کرنے کی تھی۔ میں کشادہ حال پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دے دیتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس (درگزر کرنے) کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں۔ (فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے منہ سے اسی طرح سنی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر حذيفة -رضي الله عنه- أنه يُؤتى برجل من عباد الله تعالى يوم القيامة آتاه الله مالًا، فيسأله ربه عن ماله: ماذا عمل به ؟ قال: أي حذيفة -رضي الله عنه-: "ولَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا" أي: لا يستطيعون إخفاء شيء عن الله تعالى يوم القيامة، كما قال تعالى: (يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون). "قال: يا رَبِّ آتَيْتَنِي مَالَك، فكنت أُبَايعُ الناس" أي: أعَامل الناس بالبيوع والمداينة  وكان مما اتصفت به من أخلاق: الجواز، ثم فسره بقوله: "فكنت أَتَيَسَّرُ على المُوسِرِ" أي: أُسَهِّل عليه وأقبل منه ما جاء مع نقص يسير. "وأنْظِر المُعْسِر" أي: أصبر على المُعْسِر، فلا أطالبه وأفسح له في الأجل. فقال الله تعالى: "أنا أحَقُّ بِذَا مِنك" أي: فما دمت قد تجاوزت عن عبادي وتخلقت بخلقي، فنحن أحق بالتجاوز والعفو عنك. "تَجَاوزُوا عن عَبْدِي"
أي: عفا الله عنه، وغَفَر له ما كان من سيئاته، بسبب عفوه وسماحته وحسن معاملته لعباد الله تعالى، وهل جزاء الإحسان إلا الإحسان. "فقال عُقْبَة بن عَامر، وأبو مسعود الأنصاري -رضي الله عنهما-: هكذا سَمِعْنَاه من فِيِّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-." والمعنى: أنهما سمعا ما حدث به حذيفة -رضي الله عنه- من النبي -صلى الله عليه وسلم- كما حدث به حذيفة -رضي الله عنه- من غير زيادة ولا نقص.
581;ذیفہ رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہیں کہ روزِ قیامت اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو لایا جائے گا جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہوگا۔ اللہ تعالی اس سے اس کے مال کے بارے میں پوچھے گا کہ اس نے اس کا کیا کیا؟
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّـهَ حَدِيثًا﴾ یعنی لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ”جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے“
”اس شخص نے کہا: اے میرے رب! تو نے اپنے پاس سے مجھے مال دیا تھا۔ چنانچہ میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کیا کرتا تھا“ یعنی میں لوگوں سے خرید وفروخت اور قرض کے لین دین کا معاملہ کیا کرتا تھا۔ وہ شخص جن اخلاق سے متصف تھا ان ميں سے ايک درگزر کرنا تھا۔ پھر اس نے اپنی بات کی وضاحت ان لفظوں میں کی:
”میں کشادہ حال پر آسانی کرتا تھا“ یعنی میں اس پر آسانی کرتا اور وہ جو کچھ دے دیتا میں اسے کچھ کم ہونے کے باوجود بھی قبول کر لیتا۔
”اور تنگ دست کو مہلت دے دیتا تھا“ یعنی تنگ دست پر صبر کرتا بایں طور کہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اس کی مدت میں مزید اضافہ کر دیتا تھا۔
اس پر اللہ تعالی فرمائے گا: ”میں اس (درگزر کرنے) کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں“ یعنی چونکہ تو میرے بندوں سے درگزر کرتا رہا اور تو نے میری اخلاقی صفت اپنائی چنانچہ ہم تجھ سےعفو و درگزر کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔
”میرے بندے سے درگزر کردو“ یعنی اس کے اللہ تعالیٰ کے بندوں سے درگزر کرنے، ان کے ساتھ آسانی کرنے اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا اور اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور نیکی کا بدلہ تو نیکی ہی ہوتا ہے۔
”عقبہ بن عامر اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے منہ سے اسی طرح سنی ہے“ یعنی جو بات حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی بعینہ وہی بات بنا کسی کمی بیشی کے انہوں نے بھی نبی ﷺ سے سنی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4232

 
 
Hadith   611   الحديث
الأهمية: إنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الهُدَى والعِلْمَ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فكانتْ مِنها طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتْ الماءَ فَأَنْبَتَتِ الكَلَأَ والعُشْبَ الكَثِيرَ، وكَان مِنها أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الماءَ فَنَفَعَ اللهُ بها النَّاسَ، فَشَرِبوا مِنْهَا وسَقوا وزرعوا


Tema:

اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بادل کی طرح ہے جو زمین پر برسا ، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا اُس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اُگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں بھی کیں۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الهُدَى والعِلْمَ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فكانتْ مِنها طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتْ الماءَ فَأَنْبَتَتِ الكَلَأَ والعُشْبَ الكَثِيرَ، وكَان مِنها أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الماءَ فَنَفَعَ اللهُ بها النَّاسَ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وسَقَوا وَزَرَعُوا، وأَصَابَ طَائِفَةً مِنها أُخْرَى إنَّما هِي قِيعَانٌ لا تُمْسِكُ مَاءً ولا تُنْبِتُ كَلَأً، فذلك مَثَلُ مَنْ فَقُهَ في دِينِ اللهِ وَنَفَعَهُ بِما بَعَثَنِي اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وعَلَّمَ، ومَثَلُ مَنْ لم يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا ولم يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الذي أُرْسِلْتُ بِهِ».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں کیں۔ جب کہ زمین کا بعض حصہ چٹیل میدان تھا ، جس پر بارش ہوئی تو اس نے نہ پانی کو روکا اور نہ کسی قسم کی گھاس اگائی۔ پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کا فیض پہنچایا اور اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا ہے اس کا علم حاصل کیا اور وہ علم آگے پہنچایا (آنے والی نسلوں تک منتقل کیا) اور دوسری مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کی طرف سر اٹھاکر نہیں دیکھا اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے اس کو قبول نہیں کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل مطر أصاب أرضًا" فشبه -عليه الصلاة والسلام- من ينتفع بهذا العلم والهدى المشبه بالمطر بمثابة الأرض، فكانت هذه الأرض ثلاثة أقسام: أرض طيبة قبلت الماء، وأنبتت العشب الكثير والزرع، فانتفع الناس بها، وأرض لا تنبت ولكنها أمسكت الماء فانتفع الناس به فشربوا منه ورووا وزرعوا، وأرض لا تمسك الماء ولا تنبت شيئًا.
فهكذا الناس بالنسبة لما بعث الله به النبي -صلى الله عليه وسلم- من العلم والهدى، منهم من فقه في دين الله، فعَلِمَ وعَلَّمَ، وانتفع الناس بعلمه وانتفع هو بعلمه.
والقسم الثاني: قوم حملوا الهدى، ولكن لم يفقهوا في هذا الهدى شيئًا، بمعنى أنهم كانوا رواة للعلم والحديث، لكن ليس عندهم فقه.
والقسم الثالث: من لم يرفع بما جاء به النبي -صلى الله عليه وسلم- من العلم والهدى رأسًا، وأعرض عنه، ولم يبال به، فهذا لم ينتفع في نفسه بما جاء به النبي -صلى الله عليه وسلم- ولم ينفع غيره.
570;پ ﷺ نے فرمایا ” اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی“ آپ ﷺ نے علم و ہدایت کے ذریعے دوسروں کو نفع پہنچانے والوں کو زمین کی پیداوار پر ہونے والی بارش سے تشبیہ دی ہے۔
زمین کی تین قسمیں ہیں: پاک زمین جس نے پانی کو قبول کر لیا اور بہت ساری گھاس اور کھیتی اُگائی، لوگ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔
دوسری وہ زمین جو کچھ اُگاتی تو نہیں تاہم پانی جمع کر لیتی ہے، لوگ اس پانی سے نفع حاصل کرتے ہیں، اس سے پانی پیتے ہیں، آسودہ ہوتے ہیں، اور اس سے اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں۔
تیسری وہ زمین جو نہ ہی پانی کو روکتی ہے اور نہ ہی کچھ اُگاتی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی کو دیے ہوئے علم وہدایت کے اعتبار سے لوگوں کی مختلف قسمیں ہیں۔
بعض لوگ اللہ کے دین کی سمجھ رکھتے ہیں، علم حاصل کرکے دوسروں کو سکھاتے ہیں اور لوگ بھی اس کے علم سے مستفید ہوتے ہیں اور وہ خود بھی مستفید ہوتا ہے۔
دوسری قسم میں وہ لوگ جو ہدایت یافتہ ہیں، لیکن انہیں دین میں تفقّہ حاصل نہیں، بایں طور کہ وہ علم اور حدیث کو روایت کرتے ہیں، لیکن علمِ فقہ ان کے پاس نہیں۔
تیسری قسم میں وہ لوگ جو علم و ہدایت بالکل بھی حاصل نہ کریں، اس سے اعراض کر کے لاپرواہی کا مظاہرہ کریں۔ یہ لوگ نہ خود علم سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4233

 
 
Hadith   612   الحديث
الأهمية: إِنَّ نَاسًا كانوا يُؤْخَذُونَ بالوَحْيِ في عَهْدِ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- وإِنَّ الوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وإِنَّمَا نَأْخُذُكُمْ الآنَ بما ظَهَرَ لنا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وقَرَّبْنَاهُ، ولَيْسَ لَنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ، اللهُ يُحَاسِبُهُ في سَرِيرَتِهِ، ومَنْ أَظْهَرَ لنا سُوءًا لم نَأْمَنْهُ ولم نُصَدِّقْهُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب چونکہ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اس لیے ہم اب تمہارے ظاہری اعمال کے مطابق تمہارا مواخذہ کریں گے۔ جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اُسے اپنے قریب کریں گے اور اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کے باطن کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے۔

عن عبد الله بن عتبة بن مسعود، قال: سمعت عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- يقول: إن ناسا كانوا يُؤْخَذُونَ بالوحي في عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وإن الوحي قد انقطع، وإنما نأخذكم الآن بما ظهر لنا من أعمالكم، فمن أظهر لنا خيرًا أَمَّنَّاهُ وقَرَّبْنَاهُ، وليس لنا من سريرته شيء، الله يحاسبه في سريرته، ومن أظهر لنا سوءًا لم نأمنه ولم نصدقه وإن قال: إن سريرته حسنة.

عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اس لیے ہم اب تمہارےظاہری اعمال کے مطابق تمہارا مواخذہ کریں گے۔ جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور سے اپنے قریب کریں گے اور اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کے باطن کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے اگرچہ وہ یہ کہے کہ اس کا باطن تو اچھا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تحدث عمر بن الخطاب رضي الله عنه عمن أسر سريرة باطلة في وقت الوحي لا يخفى أمره على النبي صلى الله عليه وسلم بما ينزل من الوحي؛ لأن أناسًا في عهد الرسول عليه الصلاة والسلام كانوا منافقين يظهرون الخير ويبطنون الشر، ولكن الله تعالى كان يفضحهم بما ينزل من الوحي على رسوله صلى الله عليه وسلم، لكن لما انقطع الوحي صار الناس لا يعلمون من المنافق؛ لأن النفاق في القلب، فيقول رضي الله عنه: وإنما نأخذكم الآن بما ظهر لنا فمن أظهر لنا خيرًا؛ عاملناه بخيره الذي أبداه لنا وإن أسر سريرة سيئة، ومن أبدى شرًّا؛ عاملناه بشره الذي أبداه لنا، وليس لنا من نيته مسؤولية، النية موكولة إلى رب العالمين عز وجل، الذي يعلم ما توسوس به نفس الإنسان.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وحی کے نزول کا وقت تھا اس وقت اگر کوئی اپنی بد باطنی کو مخفی رکھتا تو اس کا معاملہ وحی نازل ہونے کی وجہ سے نبی ﷺ سے پوشیدہ نہیں رہتا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں منافق لوگ موجود تھے جو اظہار تو اچھائی کا کرتے لیکن ان کے باطن میں شر ہوتا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر نازل کی جانے والی وحی کے ذریعے سے ان کو رسوا کر دیتا لیکن اب چونکہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے چنانچہ اب لوگوں کو منافق کا علم نہیں ہو سکتا کیونکہ نفاق دل میں ہوتا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب ہم تمہارے اعمال کے ظاہر پر تمہارا مواخذہ کریں گے۔ چنانچہ ظاہری طور پر جس کا عمل اچھا ہو گا اس سے ہم اچھا معاملہ روا رکھیں گے اس لیے ہمارے سامنے اس نے اچھے پہلو کو ظاہر کیا ہے اگرچہ باطنی طور پر وہ برائی کو مخفی رکھے اور جس نے برائی کو ظاہر کیا اس سے ہم اس برائی کےمطابق معاملہ کریں جو اس نے ظاہر کی ہے اور اس کی نیت جاننے کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے۔ نیت کا معاملہ رب العالمین عز و جل کے سپرد ہے جو انسانی نفس کے وسوسوں سے خوب واقف ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4234

 
 
Hadith   613   الحديث
الأهمية: إنَّ هذه النارَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُم، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ


Tema:

یہ آگ تو تہماری دشمن ہے۔ چنانچہ جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- قال: احْتَرَقَ بَيْتٌ بالمَدِينَةِ عَلَى أهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- بِشَأنِهِم، قالَ: «إنَّ هذه النارَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُم، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ».

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدينہ میں رات کے وقت ایک گھر جل گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آگ تو تہماری دشمن ہے۔ چنانچہ جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
احترق بيت بالمدينة في الليل، فبلغ ذلك النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- فأخبرهم بأن هذه النار عدو لأهلها إذا لم يتحرزوا من شر لهيبها وإحراقها، ثم أمرهم -عليه الصلاة والسلام- بإطفائها قبل النوم دفعاً لشرها من الاشتعال والحريق ونحو ذلك.
605;دینہ میں رات کے وقت ایک گھر آگ لگنے کی وجہ سے جل گیا۔ نبی ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ یہ آگ تو ان لوگوں کی دشمن ہے جنہوں نے اس کو جلا رکھا ہو جب کہ وہ اس کے شعلوں کی لپٹ اور اس کی تپش سے احتیاط نہ کریں۔ پھر نبی ﷺ نے لوگوں کو سونے سے پہلے آگ کو بجھا دینے کا حکم فرمایا تاکہ اس کے بھڑک اٹھنے اور جلا دینے جیسی مضرتوں کو دور کیا جا سکے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4235

 
 
Hadith   614   الحديث
الأهمية: انْصُرْ أخاكَ ظالمًا أو مَظْلُومًا


Tema:

اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے ظالم ہو یا مظلوم۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه-مرفوعاً: «انْصُرْ أخاك ظالمًا أو مظلومًا» فقال رجل: يا رسول الله، أَنْصُرُهُ إذا كان مظلومًا، أرأيت إِنْ كان ظالمًا كيف أَنْصُرُهُ؟ قال: «تَحْجِزُهُ -أو تمْنَعُهُ- من الظلم فإنَّ ذلك نَصْرُهُ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو گا، تب تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن یہ بتائیے کہ جب وہ ظالم ہو گا، تب میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے ظلم کرنے سے روکو گے -یا فرمایا کہ تم اسے ظلم کرنے سے منع کرو گے-، یہی اس کی مدد کرنا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال النبي صلى الله عليه وسلم: انصر أخاك ولا تخذله ظالما أو مظلوما. فقال رجل: أنصره إن كان مظلوما بدفع الظلم عنه؛ فكيف أنصره إن كان ظالما بالتعدي على غيره. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: تمنعه من ظلمه لغيره؛ فإن ذلك نصره.
606;بی ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو اور اسے بےیار و مددگار نہ چھوڑو؛ چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ جب وہ مظلوم ہو گا، تب تو میں اس سے ظلم کو دور کرکے اس کی مدد کروں گا، لیکن جب وہ دوسروں پر زیادتی کرتے ہوئے خود ظالم ہو گا، تو پھر میں اس کی مدد کیسے کروں گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: تم اسے دوسروں پر ظلم کرنے سے روکو گے۔ یہی اس کی مدد کرنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4236

 
 
Hadith   615   الحديث
الأهمية: إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ مَنْ لا خَلَاقَ له


Tema:

(دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"لا تلبسوا الحرير فإن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة".
وفي رواية: «إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ مَنْ لا خَلَاقَ له».
وفي رواية للبخاري: «مَنْ لا خَلَاقَ له في الآخرةِ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم کا لباس مت پہنو، جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“
ایک روایت مین ہے: (دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ”جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الحرير لا يلبسه من الرجال إلا من لا حظ له ولا نصيب له في الآخرة، وهذا فيه وعيد شديد، لأن الحرير من لباس النساء ومن لباس أهل الجنة، ولا يلبسه في الدنيا إلا أهل الكبر والعجب والخيلاء ولهذا نهى عن لبسه عليه الصلاة والسلام، والنهي مختص بالحرير الطبيعي، لكن ينبغي للإنسان ألا يلبس حتى الحرير الصناعي لما فيه من الميوعة، وليس محرمًا، كما أفتت بإباحته اللجنة الدائمة.
606;بی ﷺ نے بتایا کہ مردوں میں سے ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس میں سخت وعید ہے کیونکہ ریشم عورتوں اور جنتیوں کا لباس ہے اور دنیا میں اسے صرف وہی لوگ پہنتے ہیں جن میں تکبر، خود پسندی اور غرور ہو۔ اسی وجہ سے اس کے پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قدرتی ریشم سے متعلق ہے تاہم انسان (مرد) کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مصنوعی ریشم بھی نہ پہنے کیونکہ اس میں نسوانیت کی جھلکہوتی ہے، البتہ یہ حرام نہیں ہے، جیسا کا دائمی کمیٹی برائے فتوی (سعودی عرب) نے مصنوعی رشیم کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4237

 
 
Hadith   616   الحديث
الأهمية: كَلَّا، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ


Tema:

ہر گز نہیں، میں نے تو اسے مال غنیمت میں سے ایک چادر یا چوغہ چرانے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- مرفوعاً: لما كان يوم خيبر أقبل نَفَرٌ من أصحاب النبي -صلى الله عليه و سلم- فقالوا: فلان شهيد وفلان شهيد. حتى مَرُّوا على رجل فقالوا: فلان شهيد. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "كلا إني رَأَيْتُهُ في النار في بُرْدَةٍ غَلَّهَا أو عباءة".

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید ہے اور فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا تو (اسے دیکھ کر) کہنے لگے کہ فلاں (بھی) شہید ہے۔ اس پر نبی ﷺ فرمایا: ”ہر گز نہیں، میں نے تو اسے مال غنیمت میں سے ایک چادر یا چوغہ چرانے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: لما كان يوم غزوة خيبر أقبل أناس من أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- على النبي -صلى الله عليه وسلم- وهم يقولون: فلان شهيد، فلان شهيد حتى مروا على رجل فقالوا: فلان شهيد، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: كلا إني رأيته في النار بسبب عباءة قد كتمها يريد أن يختص بها لنفسه، فعُذب بها في نار جهنم، وانتفت عنه هذه الصفة العظيمة وهي الشهادة في سبيل الله -عز وجل-.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ جنگ خیبر کے دن نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ وہ کہہ رہے تھے: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ ایک آدمی کی لاش پر سے ان کا گزر ہوا تو وہ کہنے لگے کہ فلاں شہید ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں، میں نے تو اسے (مال غنیمت میں سے) ایک چوغہ اپنے لئے چھپا لینے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے، جس کی وجہ سے اسے جہنم کی آگ میں عذاب دیا گیا۔ چنانچہ اس سے اللہ عز و جل کی راہ میں شہادت کی عظیم صفت ختم ہو گئی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4238

 
 
Hadith   617   الحديث
الأهمية: توفي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وما في بَيْتِي من شيء يأكُلُه ذُو كَبدٍ إلا شَطْرُ شعير في رَفٍّ لي، فأكَلتُ منه حتى طال عليَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ


Tema:

جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سے جَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی، جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نےاسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: تُوُفِّيَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وما في بيتي من شيء يَأكُلُهُ ذُو كَبدٍ إلا شَطْرُ شَعير في رَفٍّ لي، فأكَلتُ منه حتى طال عليَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سےجَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- توفي وما في بيتها إلا شطر شعير، ومعناه: شيء من شعير، كما فسره الترمذي، فظلت تأكل من الشعير الذي تركه -صلى الله عليه وسلم- زمنًا، فلما وزنته نفد، وهذا دليل على استمرار بركته -صلى الله عليه وسلم- في ذلك الطعام القليل، مع عدم الكيل الدال على التوكل، فالكيل عند المبايعة مطلوب من أجل تعلق حق المتابعين، أما الكيل عند الإنفاق فغير مستحب.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو ان کے گھر میں تھوڑے سے جَو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ”شَطْرُ شَعيرٍ“ کے معنی تھوڑے سے جَو کے ہیں، جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مدت تک اسی جو کو کھاتی رہیں جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے وزن کر لیا تو وہ ختم ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس تھوڑے سے اناج میں آپﷺ کی برکت شامل رہی، لیکن اسے وزن کیے بغیر، جو کہ توکل پر دلالت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کے وقت وزن کرنا مطلوب ہے اس لے کہ بیچنے اور خریدنے والے کے حقوق اس سے وابستہ ہیں، البتہ خرچ کرتے وقت وزن (حساب) کرنا مستحب نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4239

 
 
Hadith   618   الحديث
الأهمية: يتبع الميت ثلاثة: أهلُه ومالُه وعملُه، فيرجع اثنان ويَبقى واحد: يرجع أهلُه ومالُه، ويَبقى عمله


Tema:

میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھروالے، اس کا مال اور اس کا عمل۔ دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے؛ اس کے گھروالے اور اس کی دولت لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے۔

عن أنس -رضي الله عنه- مرفوعاً: «يَتْبَعُ الميتَ ثلاثةٌ: أهْلُه ومَالُه وعَمَلُه، فيرجع اثنان ويَبْقى واحد: يرجع أهْلُه ومَالُه، ويبقى عَمَلُه».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل۔ دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے؛اس کے گھر والے، اور اس کی دولت لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: إذا مات الإنسان تبعه المشيعون له؛ فيتبعه أهله يشيعونه إلى قبره، ويتبعه ماله: أي عبيده وخدمه المماليك له، ويتبعه عمله معه، فيرجع اثنان، ويبقى معه عمله، فإن كان خيرًا فخير وإن كان شرًّا فشر.
581;دیث کا مفہوم: جب انسان مر جاتا ہے تو اسے رخصت کرنے والے اس کے ساتھ ساتھ جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کے گھر والے اس کی قبر تک اس کے ساتھ جاتے ہیں اور اس کا مال یعنی اس کے غلام، خادم اور مملوکہ لوگ بھی اس کے ساتھ جاتے ہیں اور اس کا عمل بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ دو تو لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ ہی رہ جاتا ہے۔ اگر نیک عمل ہوا تو نیک عمل ساتھ رہتا ہے اور اگر برا عمل ہوا تو برا عمل ساتھ رہے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4240

 
 
Hadith   619   الحديث
الأهمية: يُدْنَى المؤمنُ يومَ القيامة من ربه حتى يضع كَنَفَهُ عليه، فيُقرِّرُه بذنوبِه


Tema:

میں نے دنیا میں اس گناہ کے معاملے میں تیری ستر پوشی کی اور آج میں اسے تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «يُدْنَى المؤمنُ يومَ القيامة من ربه حتى يضع كَنَفَهُ عليه، فيُقرِّرُه بذنوبِه، فيقول: أَتَعْرِفُ ذنبَ كذا؟ أَتَعْرِفُ ذنبَ كذا؟ فيقول: ربِّ أعرف، قال: فإني قد سَترتُها عليك في الدنيا، وأنا أغْفِرُها لك اليوم، فيعطى صحيفة حسناته».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کو قیامت کے دن اس کے رب کے قریب لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اپنے پہلو میں لے لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کراتے ہوئے پوچھے گا: کیا تمہیں یہ گناہ یاد ہے؟ کیا تمہیں یہ گناہ یاد ہے؟ وہ کہے گا کہ اے میرے رب! مجھے یاد ہے۔ اس پر اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں اس گناہ کے معاملے میں تیری ستر پوشی کی اور آج میں اسے تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔ پھر اسے اس کی نیکیوں کا دفتر دے دیا جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقرب الله -عز وجل- عبده المؤمن يوم القيامة، ويستره عن أهل الموقف ويقرره بذنوبه ومعاصيه سرًّا، أَتعرفُ ذنبَ كذا؟ أَتعرف ذنبَ كذا؟ فيقر بها، فيقول: فإني قد سترتها عليك في الدنيا ولم أفضحك بها بين الخلائق، وأنا كذلك أسترها عنهم اليوم، وأغفرها لك.
575;للہ عز وجل قیامت کے دن مومن بندے کو قریب کرے گا، اُسے میدانِ حشر میں موجود لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھتے ہوئے اس سے اس کے گناہوں اور معاصی کا پوشیدہ طور پر اقرار کرائے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا تو اِس گناہ کو جانتا ہے؟ کیا تو اُس گناہ کو جانتا ہے؟ وہ ان کا اقرار کر لے گا تو اس پر اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں ںے دنیا میں تمہاری ستر پوشی کی اور انسانوں کے سامنے تمہیں رسوا نہیں کیا۔ میں آج بھی ان سے تمہاری ستر پوشی کروں گا اور تمہارے ان گناہوں کو معاف کر دوں گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4242

 
 
Hadith   620   الحديث
الأهمية: يُسَلِّمُ الراكِبُ على الماشي، والماشي على القاعد، والقليلُ على الكثير


Tema:

سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: « يُسَلِّمُ الراكِبُ على الماشي، والماشي على القاعد، والقليلُ على الكثير».

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث: بيان من هو الأولى بالتسليم.
الأول: يسلِّم الراكب على الماشي؛ لأن الراكب يكون مُتَعَلِّيَا، فالبدء من جهته دليل على تواضعه لأخيه المسلم في حال رفعته، فكان ذلك أجلب لمحبته ومودته.

ثانيًا: يسلم الماشي على القاعد لتشبيهه بالداخل على أهل المنزل، وحكمة أخرى: أن القاعد قد يشق عليه مراعاة المارين مع كثرتهم: فسقطت البداءة عنه دفعا للمشقة.
ثالثًا: تسليم القليل على الكثير تعبيرا عن الاحترام والإكرام لهذه الجماعة.

رابعًا: الصغير يسلم على الكبير؛ لأن الكبير له حق على الصغير.
ولكن لو قُدِّر أن القليلين في غفلة ولم يسلموا، فليسلم الكثيرون ولو قُدِّر أن الصغير في غفلة، فليسلم الكبير ولا تترك السنة.
وهذا الذي ذكره النبي -صلى الله عليه وسلم- ليس معناه: أنه لو سلم الكبير على الصغير كان حرامًا ولكن المعنى الأولى: أن الصغير يسلم على الكبير، فإنه لولم يسلم فليسلم الكبير، حتى إذا بادرت بالسلام لما تقدم في حديث أبي أمامة: "إن أولى الناس بالله من بدأهم بالسلام". 
وهكذا لو حصل التلاقي، فإن أولاهم بالله من بدأ بالسلام، وفي الحديث الآخر: "وخيرهما الذي يبدأ بالسلام".

575;س حدیث میں اس بات كا بيان ہے کہ سلام کرنے میں پہل کس کو کرنا چاہیے۔
پہلا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، اس لیے کہ سوار اوپر اور بلند ہوتا ہے۔ لہٰذا بلندى كى حالت میں اس کی طرف سے سلام کرنے ميں پہل کرنا اپنے مسلمان بھائی کے لیے تواضع و خاکساری اختیار کرنے کی دلیل ہے۔ اور یہ دوسروں کے دلوں میں اس کی مودت ومحبت پیدا كرنے کا زیادہ باعث ہے۔
دوسرا: پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اس لیے کہ وہ گھر کے اندر موجود لوگوں کے پاس آنے والے شخص کی طرح ہے۔ اس ميں دوسری حکمت یہ ہے کہ بیٹھے ہوئے شخص کے لیے راہ گیروں کی رعایت کرنا ان کی کثرت کی وجہ سے دشوار ہو سکتا ہے۔ لہذا اس دشواری کو ختم کرنے کے لیے اس کی جانب سے سلام کرنے کی شروعات کو ساقط کرديا گیا۔
تیسرا: کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔ یہ اس جماعت (کثیر تعداد) کے لیے احترام اور اکرام کے اظہار کے طور پر ہے۔
چوتھا: چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ کیوں کہ بڑے کا چھوٹے پر حق ہوتا ہے۔
لیکن اگر بالفرض کم تعداد والے غفلت ميں ہوں اورسلام نہ کريں تو زیادہ تعداد والوں کو سلام کرنا چاہیے، اسی طرح اگر بالفرض چھوٹا غافل ہو تو بڑے کو سلام کرنا چاہیے، سنت کو ترک نہیں کيا جانا چاہیے۔
نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم نے اس حديث میں جو ذکر کیا ہے اس کا مطلب يہ نہیں ہے کہ: اگر بڑے نے چھوٹے کو سلام کرلیا تو یہ حرام ہو گیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ: بہتریہ ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے، اور اگر چھوٹا سلام نہیں کرتا ہے تو بڑے کو چاہیے کہ وہ سلام کرلے، کيونکہ اگر وہ سلام میں پہل کرے گا تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”سلام میں پہل کرنے والے لوگ اللہ سے سب سے زيادہ قريب ہوتے ہیں“ کی وجہ سے فضیلت کا مستحق ہوگا۔ اسی طرح اگر ملاقات ہو جائے تو اللہ کے نزديک بہترین شخص وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ: ”ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4243

 
 
Hadith   621   الحديث
الأهمية: لقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَظَلُّ اليومَ يَلْتَوِي ما يجدُ من الدَّقَلِ ما يَمْلأُ به بَطنه


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا كہ آپ ﷺ سارا دن بھوک سے بے قرار رہتے اور آپ ﷺ کو ردی کھجور بھی نہ ملتی کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔

عن النعمان بن بشير -رضي الله عنهما- قال: ذكر عمرُ بن الخطاب -رضي الله عنه- ما أصَاب الناس من الدنيا، فقال: لقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَظَلُّ اليومَ يَلْتَوِي ما يَجدُ من الدَّقَلِ ما يَمْلأُ به بَطنه.

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ملنے والی دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کا ذکر کیا اور پھر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا كہ آپ ﷺ سارا دن بھوک سے بے قرار رہتے اور آپ ﷺ کو ردی کھجور بھی نہ ملتی کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر عمر -رضي الله عنه- ما أصاب الناس من الدنيا لما فتح الله عليهم من الأمصار، وما جمعوا من الغنائم، فقال: لقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يلتوي من الجوع، وما يجد ما يملأ به بطنه حتى رديء التمر، لا يجد منه ما يسد به جوعه.
580;ب اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے شہروں کو فتح کردیا، لوگوں کو خوب دنیا ہاتھ آئی اور انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا اُسے ذکر کرتے ہوئے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ بھوک کی وجہ سے بے قرار رہتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ردی کھجور جیسی کوئی ایسی شے بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ ﷺ اپنا پیٹ بھر سکتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4244

 
 
Hadith   622   الحديث
الأهمية: لما نزلت آية الصدقة كنَّا نُحَامل على ظُهورنا، فجاء رَجُل فَتَصَدَّقَ بشيء كثير، فقالوا: مُراءٍ، وجاء رَجُل آخر فَتَصَدَّقَ بصاع، فقالوا: إن الله لَغَنيٌّ عن صاع هذا! فنزلت: {الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات}


Tema:

جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے تھے، چنانچہ ایک شخص آیا اور بہت ساری چیز کا صدقہ کیا۔ تو (منافق) لوگوں نے کہا: یہ ریاکار ہے۔ ایک اور شخص آیا اور اس نے ایک صاع صدقہ کیا۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کے ایک صاع سے بے نیاز ہے! چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ...﴾

عن أبي مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري -رضي الله عنه- قال: لما نزلت آية الصدقة كنَّا نُحَامِلُ على ظُهُورِنَا، فجاء رجل فتصدق بشيء كثير، فقالوا: مُراءٍ، وجاء رجل آخر فتصدق بصاع، فقالوا: إن الله لَغَنيٌّ عن صاع هذا!؛ فنزلت: (الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم).

ابو مسعود عُقبہ بن عَمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہی، وہ بیان کرتے ہیں: جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے تھے، چنانچہ ایک شخص آیا اور بہت ساری چیز کا صدقہ کیا۔ تو (منافق) لوگوں نے کہا: یہ ریاکار ہے۔ ایک اور شخص آیا اور اس نے ایک صاع صدقہ کیا۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کے ایک صاع سے بے نیاز ہے! چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ...﴾ ”جو لوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں...“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال أبو مسعود -رضي الله عنه- لما نزلت آية الصدقة: يعني الآية التي فيها الحث على الصدقة قال الحافظ: كأنه يشير إلى قوله -تعالى-: (خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا) جعل الصحابة -رضي الله عنهم- يبادرون ويسارعون في بذل الصدقات إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، كل واحد يحمل بقدرته من الصدقة إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فجاء رجل بصدقة كثيرة، وجاء رجل بصدقة قليلة، فكان المنافقون إذا جاء الرجل بالصدقة الكثيرة؛ قالوا: هذا مُراءٍ، ما قصد به وجه الله، وإذا جاء الرجل بالصدقة القليلة؛ قالوا: إن الله غني عنه، وجاء رجل بصاع، قالوا: إن الله غني عن صاعك هذا.
فأنزل الله -عز وجل-: (الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم) أي: يعيبون المتطوعين المتصدقين، والذين لا يجدون إلا جهدهم، فهم يلمزون هؤلاء وهؤلاء، (فيسخرون منهم سخر الله منهم ولهم عذاب أليم)، فهم سخروا بالمؤمنين؛ فسخر الله منهم، والعياذ بالله.
575;بو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صدقہ کی آیت نازل ہوئی یعنی وہ آیت نازل ہوئی جس میں صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ گویا ان کا اشارہ اللہ کے اس فرمان کی طرف ہے کہ: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں“۔ اس پر صحابہ کرام بڑھ چڑھ کر رسول اللہ ﷺ کو صدقات دینے لگے۔ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صدقہ لےکر آتا۔ چنانچہ کوئی آدمی زیادہ صدقہ لے کر آیا، تو کوئی آدمی تھوڑا صدقہ لے کر آیا۔ جب کوئی شخص زیادہ صدقہ لے کر آتا تو منافقین کہتے: یہ ریا کار ہے، اس سے اس کا مقصود اللہ کی رضا نہیں ہے۔ اور جب کوئی شخص تھوڑا صدقہ لے کر آتا تو کہتے: اللہ اس سے بے نیاز ہے۔ ایک آدمی ایک صاع اناج بطور صدقہ لے کر آیا تو منافقین کہنے لگے: اللہ کو تیرے اس صاع کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ...﴾ ”جو لوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں“ یعنی جو برضا ورغبت صدقہ دینے والوں کی برائیاں کرتے ہیں اور ان لوگوں کی جن کے پاس اپنی محنت مزدوری کے سوا کچھ نہیں ہوتا، پس وہ ان دونوں قسم کے لوگوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ ﴿سَخِرَ اللَّـهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ”پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے انہی کے لئے دردناک عذاب ہے“۔ انھوں نے مومنوں کا مذاق اڑایا؛ تو اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے، العیاذ باللہ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4245

 
 
Hadith   623   الحديث
الأهمية: قد كان من قَبْلَكم يُؤخذ الرَّجُل فَيُحْفَرُ له في الأرض، فيُجعل فيها، ثمَّ يُؤتى بالمنشار فيوضع على رأسه فيُجعل نِصْفَين، ويُمْشَطُ بأمْشَاطِ الحديد ما دون لحْمِه وعظمه، ما يَصُدُّه ذلك عن دِينِه


Tema:

تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں اسے ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔

عن أبي عبد الله خباب بن الأرت -رضي الله عنه- قال: شكونا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً له في ظِلِّ الكعبة، فقلنا أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لنا، ألا تدعو الله لنا؟ فقال: «قد كان من قبلكم يُؤخذ الرجل فيُحفر له في الأرض، فيُجعل فيها، ثمَّ يُؤتى بالمِنْشَارِ فيوضع على رأسه فيُجعل نصفين، ويُمشط بأمشاطِ الحديد ما دون لحمه وعظمه، ما يَصُدُّهُ ذلك عن دينه، والله لَيُتِمَّنَّ الله هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله والذئب على غَنَمِه، ولكنكم تستعجلون». وفي رواية: «هو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، وقد لقينا من المشركين شدة».

ابو عبد الله خباب بن ارت رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبے کے سایے میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے کہ ہم نے آپ ﷺ سے اپنی حالت زار بیان کی اور عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کیوں نہیں مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اسے اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کراس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اللہ اسلام کو مکمل کرے گا اور یہ صورت حال ہو گی کہ ایک سوار صنعا سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہ ہو گا اور بکریوں پر سواے بھیڑیے کے خوف کے (اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا)۔ لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ ایک چادر پرٹیک لگاے تشریف فرما تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے بہت تکلیف کا سامنا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يحكي خباب -رضي الله عنه- ما وجده المسلمون من الأذية من كفار قريش في مكة، فجاؤوا يشكون إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة، فبين النبي -عليه الصلاة والسلام- أن من كان قبلنا ابتلي في دينه أعظم مما ابتلي به هؤلاء، يُحفر له حفرة، ثم يُلقى فيها، ثم يؤتى بالمنشار على مفرق رأسه ويشق نصفين، ويمشط بأمشاط الحديد ما بين جلده وعظمه، وهذه أذية عظيمة.
ثم أقسم -صلوات الله وسلامه عليه- أن الله -سبحانه- سيتم هذا الأمر، يعني: سيتم ما جاء به الرسول -عليه الصلاة والسلام- من دعوة الإسلام، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخشى إلا الله والذئب على غنمه،
ثم أرشد -عليه الصلاة والسلام- صحبه الكرام إلى ترك العجلة؛ فقال: "ولكنكم تستعجلون" أي: فاصبروا وانتظروا الفرج من الله، فإن الله سيتم هذا الأمر، وقد صار الأمر كما أقسم النبي -عليه الصلاة والسلام-.
575;س حدیث میں خباب رضی اللہ عنہ اس اذیت کا حال بیان کر رہے ہیں، جس کاسامنا مسلمان مکہ میں کفار قریش کی طرف سے کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ کے پاس شکایت کے لیے آئے۔ آپ ﷺ اس وقت کعبہ کے سائے تلے ایک چادر پر ٹیک لگاےتشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ ہم سے پہلی امتوں کے لوگوں کی دین کے سلسلے میں جو آزمائش ہوئی وہ اس سے بڑی تھی، جو ان لوگوں پر آئی ہوئی ہے۔ (پہلے تو) ایسا ہوتا کہ کسی فرد کے لیے گڑھا کھود کر اسے اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر آری لا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیئےجاتے۔ اس کی کھال اور ہڈیوں کے مابین لوہے کی کنگھیاں پھیری جاتیں۔ یہ بہت ہی بڑی اذیت تھی۔
پھر نبی ﷺ نے قسم اٹھائی کہ اللہ سبحانہ و تعالی ضرور اس دین کے معاملے کو پورا کریں گے، یعنی رسول اللہ ﷺ جو اسلام کی دعوت لائے ہیں وہ مکمل ہو کر رہے گی۔ یہاں تک کہ (اس قدر امن و شانتی کا ماحول ہوگا) کہ سوار صنعا سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اس دوران اسے اللہ کے سوا اور اپنے جانوروں پر بھیڑیے کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوگا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو جلد بازی کو چھوڑ دینے کی تلقین فرمائی اور فرمایا: ”لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو“ یعنی صبر کرو اور اللہ کی طرف سے کشادگی آنے کا انتظار کرو۔ اللہ تعالی عنقریب اس کام کو مکمل کردیں گے۔ پھر ویسا ہی ہوا، جیسا آپ ﷺ نے قسم کھا کر کہا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4246

 
 
Hadith   624   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يَنَام أول اللَّيل، ويقوم آخره فَيُصلِّي


Tema:

رسول اللہ ﷺ رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوکرنماز پڑھتے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يَنَام أول اللَّيل، ويقوم آخره فَيُصلِّي.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوکرنماز پڑھتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تُخبر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان ينام أول الليل، وذلك بعد صلاة العشاء، ويقوم آخره، وهو: الثلث الثاني من الليل، فإذا فَرَغ من صلاته، رجع إلى فراشه ليَنَام، وذلك في السُدس الأخير من الليل؛ ليستريح بَدَنه من عَنَاء قيام الليل، وفيه من المصلحة أيضاً استقبال صلاة الصبح، وأذكار النهار بنشاط وإقبال، ولأنه أقرب إلى عدم الرياء؛ لأن من نام السدس الأخير أصبح ظاهر اللون سليم القوى، فهو أقرب إلى أن يخفي عمله الماضي عمن يراه.
ولهذا جاء أن الأذان الأول؛ ليوقظ النائم ويرجع القائم، فالقائم يرجع إلى النوم؛ ليَكتَسِب بدنه قوة ونشاطاً، وأما النائم، فيستيقظ حتى يَستعد للصلاة، وحتى يصلي وتره إذا لم يوتر أول الليل.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشا کی نماز کے بعد رات کے ابتدائی حصے میں سوتے اور آخری حصے یعنی دوسری تہائی میں قیام کرتے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے، تو اپنے بستر پر سونے کے لیے آجاتے؛ تاکہ قیام اللیل کی وجہ سے جسم کی تھکاوٹ سے بدن کو آرام مل جائے۔ یہ رات کا آخری چھٹا حصہ ہوتا۔ اس میں کار فرما مصالح میں سے ایک مصلحت یہ ہوتی کہ نماز فجر اور صبح کے اذکار کا استقبال پوری چستی اور توجہ کے ساتھ کیا جائے۔ یہ ریا و نمود کی آلائشوں سے دور رہنے کا بھی ذریعہ ہے؛ کیوں کہ جو رات کے آخری چھٹے حصے میں سو جائے گا، وہ پوری تازگی اور توانائی کے ساتھ صبح کرے گا۔ ایسے میں اس کی رات کی عبادت مخفی رہے، اس کے امکانات زیادہ رہتے ہیں۔
اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ پہلی اذان کا مقصد سونے والے کو جگانا اور قیام کرنے والے کو لوٹانا ہے۔ یعنی قیام کرنے والا نیند کی طرف لوٹ جائے؛ تاکہ اس کا جسم قوت و نشاط حاصل کرلے۔ نیز سونے والا بیدار ہو کر نماز کی تیاری کر لے۔ نیز وتر پڑھ لے، اگر شروع رات میں نہیں پڑھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4247

 
 
Hadith   625   الحديث
الأهمية: الترغيب في نعيم الجنة الدائم والترهيب من عذاب النار الأليم


Tema:

جنت کی دائمی نعمتوں کی ترغیب اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈراوا

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «يُؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة، فَيُصْبَغُ في النار صَبْغَةً، ثم يقال: يا ابن آدم، هل رأيت خيرًا قطُّ؟ هل مَرَّ بك نَعِيمٌ قطُّ؟ فيقول: لا والله يا رب، وَيُؤْتَى بأشدِّ الناس بُؤسًا في الدنيا من أهل الجَنَّة، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً في الجنَّة، فيقال له: يا ابن آدم، هل رأيت بُؤسًا قط؟ هل مَرَّ بك شِدَّةٌ قط؟ فيقول: لا والله، ما مَرَّ بي بُؤْسٌ قطٌّ، ولا رأيت شِدةً قَطُّ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ عیش وعشرت میں رہنے والے دنیا دار دوزخی کو لایا جائےگا۔ اسے آگ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت ملی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! واللہ کبھی نہیں۔ پھر دنیا میں جس نے سب سے زیادہ مصبیت زدگی میں زندگی گزاری ہو گی، اس جنتی کو لایا جائے گا اور اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اورپھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی؟ تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! واللہ کبھی نہیں، نہ مجھ پر کبھی کوئی تکلیف آئی اور نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يؤتى يوم القيامة بأنعم أهل الدنيا وهو من أهل النار، فيغمس في جهنم، فيأتيه من حرها ولهيبها وسمومها ما ينسيه ما كان فيه من نعيم في الدنيا، عند ذلك يسأل ربه وهو أعلم بحاله، هل رأيت خيرًا قط؟ هل مر بك نعيم قط؟ فيقول: لا والله يا رب.
وفي المقابل يؤتى بأشقى أهل الدنيا وأشدهم بؤسًا وفقرًا وحاجة وهو من أهل الجنة، فيغمس في الجنة غمسة، فينسى ما كان عليه من حال في الدنيا من النكد والشقاء والبؤس والفقر والشدة؛ لما يجد من لذة ومتعة لا توصف، عند ذلك يسأل ربه وهو أعلم بحاله، فيقال له: يا ابن آدم، هل رأيت بُؤسًا قط؟ هل مَرَّ بك شدة قط؟ فيقول: لا والله، ما مرَّ بي بؤس قطُّ، ولا رأيت شِدة قَطُّ.
602;یامت کے دن اہل دنیا میں سے اس شخص کو لایا جائے گا، جس نے سب سے پر تعیش زندگی گزاری ہو گی اور وہ دوزخیوں میں سے ہو گا۔ اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا۔ جب اسے جہنم کی گرمی، تپش اور زہرناکی کا سامنا ہوگا، تو دنیا کی سب عیاشیاں بھول جائے گا۔ اس پر اس کا رب اس سے پوچھے گا، حالاں کہ اسے اس کی حالت کا خوب علم ہو گا کہ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی؟ کیا کبھی کوئی نعمت تم پر آئی؟ وہ کہے گا کہ اے رب! واللہ کبھی نہیں! اس کے مقابلے میں ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ زبوں حال اور مصیبت زدہ، غربت کا مارا اور کسمپرس تھا۔ یہ شخص جنتی ہو گا اور اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا، تو دنیا میں اس نے جس پریشانی، شقاوت، تنگی اور فقر و مصیبت کا سامنا کیا ہو گا، وہ سب بھول جائے گا؛ کیوں کہ اسے اتنا مزہ اور لطف آئے گا جو بیان سے باہر ہے۔ اس پر اس کا رب اس سے پوچھے گا، حالاں کہ اسے اس کے حال کا بخوبی علم ہو گا کہ اے ابن آدم! کیا تم نے کبھی کوئی تنگی دیکھی؟ کیا کبھی تم پر کوئی مصیبت آئی؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! کبھی نہیں! مجھ پر کبھی کوئی تنگی نہیں آئی اور نہ میں نے کبھی کوئی مصیبت دیکھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4248

 
 
Hadith   626   الحديث
الأهمية: إِنِّي لَأَقُومُ إلى الصلاةِ، وأُرِيُد أَن أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّه


Tema:

میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ اسے لمبا کرنے کا ہوتا ہے کہ میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو میں اپنی نماز میں اختصار سے کام لیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں

عن أبي قتادة وأنس بن مالك -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «إني لأقوم إلى الصلاة، وأريد أن أُطَوِّلَ فيها، فأسمع بكاء الصبي فأَتَجَوَّزُ في صلاتي كراهيةَ أن أَشُقَّ على أمه».

ابو قتادہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ اسے لمبا کرنے کا ہوتا ہے کہ میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو میں اپنی نماز میں اختصار سے کام لیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- يدخل في صلاة الجماعة إمامًا وهو يريد أن يطيل فيها، فإذا سمع بكاء الطفل خفف مخافة أن يشق التطويل على أمه؛ لانشغال قلبها بطفلها.
606;بی ﷺ نے نماز باجماعت کی امامت کراتے ہوئے نماز شروع فرماتے اور آپ ﷺ چاہتے کہ اسے لمبا کریں لیکن جب آپ ﷺ بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس اندیشے کی وجہ سے اسے مختصر کر دیتے کہ لمبا کرنے کی وجہ سے اس کی ماں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے کیونکہ اس کا دل اپنے بچے کے ساتھ لگا ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4249

 
 
Hadith   627   الحديث
الأهمية: يا رسولَ اللهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فإلى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قال: إلى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا


Tema:

یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: يا رسولَ اللهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فإلى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قال: «إلى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا».

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سألت عائشة -رضي الله عنها- النبي -صلى الله عليه وسلم-: إن لي جارين وقد أمرت بإكرام الجار مطلقًا؛ ولا أقدر على الإهداء إليهما معًا، فإلى أيهما أهدي ليحصل لي الدخول في جملة القائمين بإكرام الجار؟ فقال -صلى الله عليه وسلم-: "إلى أقربهما منك بابًا".
593;ائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرے دو پڑوسی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ پڑوسی کا اکرام کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو تاہم میں ان دونوں کو ایک ساتھ ہدیہ نہیں دے سکتی۔ اب میں ان دونوں میں سے کسے ہدیہ بھیجوں تاکہ میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوجائے جو پڑوسی کا اکرام کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے جس کا دروازہ زیادہ قریب ہے اسے ہدیہ بھیجو“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4250

 
 
Hadith   628   الحديث
الأهمية: تقبيل الصبيان ورحمتهم والشفقة عليهم


Tema:

بچوں کو بوسہ دینا، ان سے رحمت وشفقت کا معاملہ کرنا

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فقالوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ فقال: «نعم» قالوا: لَكِنَّا واللهِ ما نُقَبِّلُ! فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «أَوَ أَمْلِكُ إن كانَ اللهُ نَزَعَ مِنْ قُلُوبِكُم الرَّحْمَةَ!».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگے: لیکن اللہ کی قسم! ہم تو (اپنے بچوں کو) بوسہ نہیں دیتے! اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے شفقت نکال لی ہو تو میں بھلا کیا کر سکتا ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء قوم من الأعراب إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فسألوا: هل تقبلون صبيانكم؟ قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "نعم"، والأعراب عندهم غلظة وشدة؛ فقالوا: إنا لسنا نقبل صبياننا، فقال النبي -عليه الصلاة والسلام-: "إذا نزع الله من قلوبكم الرحمة فلا أملك وضعها في قلوبكم".
705;چھ اعرابی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں ںے دریافت کیا: کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔اور اعرابی لوگ ذرا سخت اور درشت ہوتے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم تو اپنے بچوں کو نہیں چومتے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:”جب اللہ نے تمارے دلوں سے شفقت نکال دی ہے تو میں اسے تمہارے دلوں میں پیدا نہیں کر سکتا“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4251

 
 
Hadith   629   الحديث
الأهمية: أَيُّ الصَّدَقةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قال: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الفَقْرَ وتَأْمَلُ الغِنَى، ولا تُمْهِلُ حتى إذا بَلَغَتِ الحُلْقُومَ قُلْتَ لفلانٍ كَذَا ولفلانٍ كَذَا، وقد كان لفلانٍ


Tema:

کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مال دار بننے کی امید ہو اور ( اس صدقہ خیرات میں ) سستی نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آجائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا ہے حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا ہو گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، أي الصدقة أعظم أجرًا؟ قال: «أن تَصَدَّقَ وأنت صحيحٌ شَحِيحٌ، تخشى الفقر وتَأَمَلُ الغِنى، ولا تُمْهِلْ حتى إذا بلغتِ الحُلْقُومَ قلت: لفلان كذا ولفلان كذا، وقد كان لفلان».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مال دار بننے کی امید ہو اور (اس صدقہ خیرات میں ) سستی نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آجائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا ہے، حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- يسأله  أفضل الصدقة، فقال له: أن تتصدق وأنت صحيح البدن شحيح النفس، تخاف من الفقر إن طالت بك حياتك، وتطمع في الغِنى؛ ولا تؤخر الصدقة حتى إذا جاءك الموت وعلمت أنك خارج من الدنيا قلت لفلان كذا من المال صدقة أو وصية، ولفلان كذا من المال صدقة أو وصية؛ وقد كان المال لغيرك الذي يرثك.
575;یک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (افضل ترین صدقہ یہ ہے) کہ تم صحت مندی کی حالت میں تنگ دلی (بخل) کے ساتھ صدقہ کرو بایں طورکہ زندگی لمبی ہونے کی صورت میں تمہیں فقر کا اندیشہ ہو اور امیری کی تمنا بھی تمہارے دل میں ہو اور صدقہ کرنے میں تاخیر نہ کرو یہاں تک کہ جب موت آپہنچے اورتمہیں یقین ہو جائے کہ اب دنیا سے جانے کا وقت آ گیا ہے تو تم کہو کہ اتنا مال فلاں کے لیے بطور صدقہ ہے یا ازراہ وصیت اسے دے دیا جائے اور اُتنا مال فلاں کو بطور صدقہ یا ازراہ وصیت دے دیا جائے حالانکہ اب تو مال تمہارے غیر کا ہو ہی چکا جو تمہارا وارث بنے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4252

 
 
Hadith   630   الحديث
الأهمية: تُدْنَى الشمسُ يومَ القيامةِ مِنَ الخَلْقِ حتى تكونَ منهم كَمِقْدَارِ مِيلٍ


Tema:

قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔

عن المقداد بن الأسود -رضي الله عنه- مرفوعاً: «تُدْنَى الشمسُ يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار مِيل». قال سليم بن عامر الراوي عن المقداد: فوالله ما أدري ما يعني بالميل، أمسافةَ الأرض أم الميلَ الذي تكتحل به العين؟ قال: «فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق، فمنهم من يكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، ومنهم من يكون إلى حِقْوَيْهِ، ومنهم من يُلْجِمُهُ العرقُ إلجامًا». قال: وأشار رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بيده إلى فيه.
عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «يَعْرَقُ الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الأرض سبعين ذراعا، ويُلْجِمُهُمْ حتى يبلغ آذانهم».

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ( میدان حشر میں) سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کی میل سے مراد زمین کی ایک متعینہ مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے؟ فرمایا: تمام لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں شرابور ہوں گے۔ چنانچہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا، بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا، بعض لوگ وہ ہوں گے جو کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے لیے ان کا پسینہ لگام بن جائے گا۔ یہ فرما کر رسول کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يُقرِّب الله -تبارك وتعالى- الشمس يوم القيامة من المخلوقين حتى تصير المسافة كمقدار أربعة آلاف ذراع، فيكون الناس على قدر أعمالهم؛ فاختلافهم في مكان العرق بحسب اختلافهم في العمل صلاحًا وفسادًا، فمنهم من يصل العرق إلى كعبيه، ومنهم من يصل إلى ركبتيه، ومنهم من يصل إلى موضع معقد الإزار منه، ومنهم من يصل العرق إلى فيه وأذنيه فيلجمه إلجامًا، وذلك من شدة كرب يوم القيامة وأهوالها.
575;للہ تبارک و تعالی روز قیامت سورج کو انسانوں کے قریب کر دے گا، یہاں تک کہ وہ ان کے اور سورج کے مابین چار ہزار ہاتھ کا فاصلہ رہ جائے گا، لوگوں کا حشر ان کے اعمال کے حساب سے ہو گا اور وہ اپنے اچھے اور برے اعمال کے لحاظ سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کچھ ایسے ہوں گے، جن کے ٹخنوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا، کچھ ایسے ہوں گے، جن کے گھٹنوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا، کچھ کے ازار بند کی جگہ تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا اور کچھ کے منہ اور کانوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا اور ان کی لگام بن رہا ہو گا۔ ایسا قیامت کے دن کی پریشانی اور ہول ناکی کے باعث ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4289

 
 
Hadith   631   الحديث
الأهمية: بَخْ! ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ ما قُلْتَ، وإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا في الأَقْرَبِينَ


Tema:

بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كان أبو طلحة -رضي الله عنه- أكثر الأنصار بالمدينة مالا من نخل، وكان أحب أمواله إليه بَيْرَحَاء، وكانت مُسْتَقبِلَةَ المسجد وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب. قال أنس: فلما نزلت هذه الآية: {لن تنالوا البر حتى تُنِفُقوا مما تُحبون} قام أبو طلحة إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، إن الله -تعالى- أنزل عليك: {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون} وإن أحب مالي إلي بَيْرَحَاء، وإنها صدقة لله -تعالى-، أرجو بِرَّهَا وذُخْرَهَا عند الله -تعالى-، فَضَعْهَا يا رسول الله حيث أَرَاكَ الله، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «بَخٍ ذلك مال رَابِحٌ، ذلك مال رابح، وقد سمعتُ ما قلتَ، وإني أرى أن تجعلها في الأقربين»، فقال أبو طلحة: أفعل يا رسول الله، فقسمها أبو طلحة في أقاربه، وبني عمه.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ مال دار تھے۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔
یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اے اللہ کے رسول! اللہ کے حکم سے جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں بانٹ دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أبو طلحة -رضي الله عنه- أكثر الأنصار بالمدينة مزارع، وكان له بستان في قبلة المسجد فيه ماء طيب، وكان النبي -صلى الله عليه وسلم- يأتيه ويشرب منه، فلما نزل قوله -تعالى-: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) بادر -رضي الله عنه- وسابق وسارع وجاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وقال: يا رسول الله، إن الله -تعالى- أنزل قوله: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) وإن أحب أموالي إلي بيرحاء -وهذا اسم ذلك البستان- وإني جعلتها بين يديك صدقة لله ورسوله؛ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم- متعجبًا: بخ بخ ذاك مال رابح، ذاك مال رابح، أرى أن تجعلها في أقاربك. ففعل -رضي الله عنه-، وقسمها في أقاربه وبني عمه.
605;دینہ کے انصار میں سب سے زیادہ کھیت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے تھے۔ مسجد نبوی کے قبلہ والی جانب میں ان کا ایک باغ تھا جس کا پانی بہت میٹھا تھا۔ نبی ﷺ اس باغ میں تشریف لاتے اور وہاں سے پانی تناول فرمایا کرتے تھے۔
جب اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔
تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ اور اپنے اموال میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب بیرحاء کا باغ ہے۔ بیرحاء اس باغ کا نام تھا۔ میں اسے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے بطور صدقہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: بہت خوب۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ میری رائے میں تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کر دو۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور اسے اپنے قریبی رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4290

 
 
Hadith   632   الحديث
الأهمية: جَعَلَ اللهُ الرحمةَ مائة جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وأَنْزَلَ في الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الخَلَائِقُ، حتى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ


Tema:

اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے ہٹا لیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «جَعَلَ اللهُ الرحمةَ مائة جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وأَنْزَلَ في الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الخَلَائِقُ، حتى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ».

وفي رواية «إِنَّ للهِ تعالى مئةُ رحمةٍ، أَنْزَلَ منها رحمةً واحدةً بَيْنَ الجِنِّ والإنسِ والبَهَائِمِ والهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وبها يَتَرَاحَمُونَ، وبِهَا تَعْطِفُ الوَحْشُ على وَلَدِهَا، وأَخَّرَ اللهُ تعالى تِسْعًا وتِسْعِينَ رحمةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يومَ القِيَامَةِ».
وعن سلمان الفارسي -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إِنَّ للهِ تعالى مئةُ رحمةٍ فمنها رحمةٌ يَتَرَاحَمُ بها الخَلْقُ بَيْنَهُمْ، وتِسْعٌ وتِسْعُونَ لِيَومِ القِيَامَةِ».
وفي رواية: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ والأَرْضَ مئةَ رحمةٍ كُلُّ رحمةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إلى الأَرْضِ، فَجَعَلَ منها في الأَرْضِ رَحْمَةً فبها تَعْطِفُ الوَالِدَةُ على وَلَدِهَا، والوَحْشُ والطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، فإذا كانَ يومُ القيامةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِه الرحمةِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے ہٹالیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ اس نے ان میں سے ایک رحمت جنوں، انسانوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اتاری ہے۔ اسی ایک حصۂ رحمت کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر نرمی کرتے اور رحم سے پیش آتے ہیں اور اسی کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ جب کہ اللہ نے ننانوے رحمتیں پیچھے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذريعہ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پررحم کرے گا“۔
اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ انھی میں سے ایک وہ رحمت ہے جس کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے جب کہ ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، سو رحمتیں پیدا کیں۔ ہر رحمت اتنی ہے جتنی آسمان و زمین کے مابین مسافت ہے۔ پھر ان میں سے ایک رحمت کو اس نے زمین میں رکھ دیا، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر اور جنگلی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو اس (دنیوی) رحمت کے ساتھ ملا کر مکمل فرمائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جعل الله -تبارك وتعالى- الرحمة مائة جزء، فأنزل رحمة في الدنيا وأمسك تسعة وتسعين ليوم القيامة، فمن هذه الرحمة الواحدة يتراحم الخلائق جميعهم من الإنس والجن والبهائم والهوام؛ حتى إن الفرس المعروفة بالخفة والتنقل تتجنب أن يصل الضرر إلى ولدها، فترفع حافرها مخافة أن تصيبه، وبها تعطف الوحش على ولدها، وأخر الله -تبارك وتعالى- تسعة وتسعين رحمة ليرحم بها عباده يوم القيامة.
الحديث الثاني:
إن الله -تبارك وتعالى- يوم خلق السموات والأرض خلق مائة رحمة، كل رحمة تملأ ما بين السماء والأرض، فجعل في الدنيا واحدة، تعطف بها الوالدة على ولدها، ويتعاطف بها الحيوانات والطير بعضها على بعض، ثم في يوم القيامة يكملها الله رب العالمين بالتسعة والتسعين، فإذا كان ما يحصل للإنسان من عظيم نعم الله -عز وجل- عليه في هذه الدار المبنية على الأكدار بسبب رحمة واحدة، فكيف الظن بمائة رحمة في الدار الآخرة دار القرار والجزاء.
575;للہ تبارک و تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور ان میں سے ایک حصہ دنیا میں نازل کیا اور بقیہ ننانوے حصے قیامت کے دن کے لیے اپنے پاس روک رکھا۔ اسی ایک رحمت ہی کی وجہ سے تمام مخلوقات یعنی جن و انس، چوپائے اور کیڑے مکوڑے آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں یہاں تک کہ گھوڑی جو پھرتیلے پن اور ادھر ادھر منتقل ہونے میں مشہور ہے وہ بھی احتیاط کرتی ہے کہ کہیں اپنے بچے کو گزند نہ پہنچا دے چنانچہ اسے نقصان پہنچنے کے اندیشے کی وجہ سے اپنا کھر اوپر اٹھا لیتی ہے۔ اسی رحمت کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں موخر کر رکھی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے۔
دوسری حدیث:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخليق کے دن ہی سو رحمتوں کو پيدا فرمایا۔ ہر رحمت اتنی ہے کہ اس سے آسمان اور زمین کے مابین کی جگہ بھر جائے۔ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک رحمت کو دنیا میں رکھا جس کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر اور حیوانات و پرندے باہم ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ پھر روزِ قیامت اللہ رب العالمين (اس کے ساتھ) ننانوے رحمتیں ملا کر اسے پورا فرما دے گا۔ جب اس ایک رحمت کی بدولت انسان کو اس تلخیوں بھری دنیا میں اللہ عز و جل کی اتنی عظیم الشان نعمتیں ملتی رہتی ہیں تو پھر سو رحمتوں کے ساتھ آخرت کے بارے میں آپ کا گیا گمان ہے جو جائے قرار و جزا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4291

 
 
Hadith   633   الحديث
الأهمية: حُرِّمَ لِباسُ الحَرِيرِ والذَّهَبِ على ذُكُورِ أُمَّتِي، وأُحِلَّ لإِنَاثِهِمْ


Tema:

ریشم کا کپڑا اور سونا میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں

عن عليٍّ -رضي الله عنه- قال: رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أَخَذَ حَرِيرًا، فجعله في يمينه، وذَهَبًا فجعله في شماله، ثم قال: «إِنَّ هَذَيْنِ حرامٌ على ذُكُورِ أُمَّتِي».
عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه-: أَنَّ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- قال: «حُرِّمَ لِباسُ الحَرِيرِ والذَّهَبِ على ذُكُورِ أُمَّتِي، وأُحِلَّ لإِنَاثِهِمْ».

علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ریشم لے کر اپنے داہنے ہاتھ پر رکھا اور سونا لے کر اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا اور فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں“۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم کا کپڑا اور سونا میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم حريراً فجعله في يده اليمنى، وأخذ ذهباً فجعله في يده اليسرى، ثم قال: إن هذين –الحرير والذهب- حرام على ذكور أمتي؛ فلبس الحرير والذهب حرام على ذكور هذه الأمة؛ إلا فيما استثني كلباس الحرير لحكة أو جرب لا يقوم فيها غيره مقامه، وكأنف الذهب؛ أما النساء فهما حلال لهن، فلهن أن يلبسن منهما ما شئن؛ إلا إذا بلغ حد الإسراف، فإن الإسراف لا يحل؛ لقول الله تعالى: (وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ).
585;سول اللہ ﷺ نے ریشم کو اٹھا کر اپنے دائیں ہاتھ پر رکھا اور سونے کو اٹھا کر اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں یعنی ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ چنانچہ اس امت کے مردوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا حرام ہے، ماسوا ان صورتوں کے جو حرمت سے مستثنی کی گئی ہیں جیسے ایسی کھجلی یا خارش کے علاج کے طور پر ریشم کالباس پہننا جس میں کوئی اور شے بطور علاج استعمال نہ ہو سکتی ہو، یا جیسے سونے کی ناک لگوانا۔ جب کہ عورتوں کے لئے یہ دونوں حلال ہیں چنانچہ عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ ان سے بنی جو چیز چاہیں پہنیں ماسوا اس صورت کے جب ان کا استعمال اسراف کی حد کو پہنچ جائے۔ کیوں کہ اسراف جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ﴿وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ ”اسراف مت کرو۔ بے شک اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4292

 
 
Hadith   634   الحديث
الأهمية: خَرَجَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ غَدَاةٍ، وعليه مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ


Tema:

رسول الله ﷺ ایک صبح باہر نکلے، آپ ﷺ پر ایک چادر تھی جس پر سیاہ بال سے کجاوؤں کے نقش بنے ہوئے تھے۔

عن عائشةَ -رضي الله عنها- قالت: خَرَجَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ غَدَاةٍ، وعليه مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ.

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ ایک صبح باہر نکلے، آپ ﷺ پر ایک چادر تھی جس پر سیاہ بال سے کجاوؤں کے نقش بنے ہوئے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تصف أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- بعض أحوال النبي -عليه الصلاة والسلام- في لباسه، ومن ذلك أنه  خرج في ساعة من أول النهار على أصحابه، وعليه كساء فيه صورة رحال الإبل من شعر أسود، أو هو الكساء الذي فيه خطوط كالتي في الرحل.
575;ُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے لباس سے متعلق بعض احوال کو بیان کر رہی ہیں کہ آپ ﷺ دن کے ابتدائی حصے میں باہر اپنے صحابہ کے پاس تشریف لے گئے اور آپ ﷺ پر ایک چادر تھی جس میں سیاہ اون سے اونٹ کے کجاوؤں کے نقش بنے ہوئے تھے یا پھر وہ ایک ایسی چادر تھی جس میں ایسی لکیریں تھیں جیسی کجاوے میں ہوتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4293

 
 
Hadith   635   الحديث
الأهمية: إِنَّ هذا تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ له، وإِنْ شِئْتَ رَجَعَ


Tema:

یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے

عن أبي مسعود البدري -رضي الله عنه- قال: دَعَا رَجُلٌ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- لِطَعَامٍ صَنَعَهُ له خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَتَبِعَهُمْ رجلٌ، فلَمَّا بَلَغَ البابَ، قال النبيُّ -صلى الله عليه وسلم-: «إِنَّ هذا تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ له، وإِنْ شِئْتَ رَجَعَ» قال: بَلْ آذَنُ له يا رسولَ اللهِ.

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ (مدعوین میں) پانچویں تھے۔ تو ان کے ساتھ ایک آدمی اور شامل ہوگیا۔ جب آپ ﷺ (داعی کے) دروازے پر پہنچے تو اس سے فرمایا: ”یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے“۔ اس نے کہا: (نہیں) اے اللہ کے رسول! بلکہ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دعا رجلٌ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- إلى طعام فكانوا خمسة، فتبعهم رجل فكانوا ستة، فلما بلغ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- منزلَ الداعي استأذن للرجل السادس، فقال -صلى الله عليه وسلم-: إن هذا تبعنا، فإن شئت أن تأذن له، وإن شئت رجع، فأذن صاحب الدعوة للرجل إكرامًا لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- ومن معه.
575;یک شخص نے آپ ﷺ کو کھانے پر بُلایا۔ کُل مہمان پانچ تھے، ان کے ساتھ ایک چھٹا شخص بھی چلا آیا۔ آپ ﷺ جب میزبان کے گھر تشریف لائے تو چھٹے شخص کی اجازت مانگی اور فرمایا یہ شخص ہمارے پیچھے چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اس کو اجازت دیدیں، اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے۔ میزبان نے آپ ﷺ کے احترام میں اس شخص کو اجازت دیدی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4294

 
 
Hadith   636   الحديث
الأهمية: دَعُونِي ما تَرَكْتُكُم، إنما أَهْلَكَ مَنْ كانَ قَبْلَكُم كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فإذا نَهَيْتُكُم عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ


Tema:

جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے پرہیز کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تواسے طاقت بھر بجا لاؤ۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «دَعُونيِ ما تركتكم، إنما أهلك من كان قبلكم كثرة سُؤَالهم واختلافهم على أنبيائهم، فإذا نَهَيتُكم عن شيء فاجتَنِبُوه، وإذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم»

ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے پرہیز کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تواسے مقدور بھر بجا لاؤ“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان الصحابة -رضي الله عنهم- يسألون النبي -صلى الله عليه وسلم- عن أشياء قد لا تكون حراماً فتحرم من أجل مسألتهم، أو قد لا تكون واجبة، فتجب من أجل مسألتهم، فأمرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يتركوا ما تركه ما دام لم يأمرهم ولم ينههم، ثم علل ذلك بأن من قبلنا أكثروا المسائل على الأنبياء، فشُدِّدَ عليهم كما شددوا على أنفسهم، ثم خالفوا أنبياءهم.
ثم أمرنا بأن نجتنب أي شيء ينهانا عنه، وما أمرنا بفعله فإننا نأتي منه ما استطعنا، وما لا نستطيعه يسقط عنا.
589;حابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺ سے ایسی اشیاء کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے جو حرام نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ وہ ان کے پوچھنے کی وجہ سے حرام ہو جاتی یا پھر وہ واجب نہیں ہوتی تھیں لیکن ان کے پوچھنے کی وجہ سے واجب ہو جاتیں۔ تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جس بات کو آپ ﷺ چھوڑ دیں اسے وہ بھی چھوڑے رکھیں جب کہ آپ ﷺ نے انھیں اس کا نہ حکم دیا ہے اور نہ اس سے منع کیا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی علت بیان کی کہ ان سے پہلے والے لوگ اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوال کیا کرتے تھے۔ چنانچہ جیسے وہ اپنے آپ پر سختی کرتے گئے ویسے ان پر سختی ہوتی گئی اور پھر انہوں نے اپنے انبیاء کی مخالفت شروع کر دی۔ پھر نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر اس شے سے پرہیز کریں جس سے آپ ﷺ ہمیں منع فرمائیں، اور جس شے کے کرنے کا آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے اسے مقدور بھر بجا لائیں اور جس شے کی ہم میں استطاعت نہیں ہے وہ ہم سے ساقط ہو جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4295

 
 
Hadith   637   الحديث
الأهمية: رَأَيْتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- جَالِسًا مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سرین کے بل بیٹھے دونوں زانوں کھڑے کیے کھجوریں کھا رہے تھے۔

عن أنسٍ -رضي الله عنه- قال: رَأَيْتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- جَالِسًا مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سرین کے بل بیٹھے دونوں زانوں کو کھڑا کرکے کھجوریں کھا رہے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال أنس -رضي الله عنه-: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جالسًا لاصقًا أليَتَيْهِ بالأرض ناصبا ساقيه يأكل تمرًا؛ لئلا يأكل كثيرًا، فإنه في هذه الحالة لا يكون مطمئنًا في الجلوس فلن يأكل كثيرًا.
575;نس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی سرین کو زمین پر لگائے اور اپنی ٹانگوں کو کھڑا کر کے بیٹھے کھجوریں کھا رہے تھے تاکہ بہت زیادہ نہ کھا سکیں کیونکہ اس حالت میں انسان پورے اطمئنان سے نہیں بیٹھ سکتا اس لیے اس سے زیادہ نہیں کھایا جاتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4296

 
 
Hadith   638   الحديث
الأهمية: رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- وعليه ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ


Tema:

ميں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ پر دو سبز کپڑے تھے۔

عن أبي رمثة التيمي -رضي الله عنه- قال: رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- وعليه ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ.

ابو رمثہ التیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ميں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ (کے بدن مبارک) پر دو سبز کپڑے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو رمثة -رضي الله عنه- أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- وعليه لباس أخضر.
575;بو رمثہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سبز لباس پہن رکھا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4297

 
 
Hadith   639   الحديث
الأهمية: رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يأكلُ بثلاثِ أَصَابِعَ، فإذا فَرَغَ لَعِقَهَا


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا کھایا کرتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو انھیں چاٹ لیا کرتے تھے۔

عن كعب بن مالك -رضي الله عنه- قال: رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يأكلُ بثلاثِ أَصَابِعَ، فإذا فَرَغَ لَعِقَهَا.

کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا کھایا کرتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو انھیں چاٹ لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يأكل بثلاث أصابع، وهي الوسطى والمسبحة والإبهام، وهذا يدل على عدم الشَّرَه والنَّهَم في الأكل، وإذا فرغ من أكله لحس أصابعه، فالمستحب أن يكون الأكل بثلاث أصابع إلا إذا كان الطعام لا يمكن تناوله بثلاث أصابع فيأكل بما يتيسر.
606;بی ﷺ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔ یہ تین انگلیاں درمیانی انگلی، تشہد کی انگلی اور انگوٹھا ہوتا تھا۔ اس طرح سے کھانا للچائے ہوئے انداز میں نہ کھانے کی دلیل ہے۔ جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہو جاتے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ مستحب ہے کہ تین انگلیوں سے کھایا جائے سوائے اس کے کہ کھانا ایسا ہو جسے تین انگلیوں سے کھانا ممکن نہ ہو۔ اس صورت میں ویسے کھایا جائے جیسے سہولت ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4298

 
 
Hadith   640   الحديث
الأهمية: سَاقِي القَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا


Tema:

قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیے۔

عن أبي قتادة الأنصاري وابن أبي أوفى -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «سَاقِي القَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا».

ابو قتادہ انصاری اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الذي يسقي القوم ماء أو لبنا أو قهوة أو شايًا أو غير ذلك هو آخر من يشرب.
580;و شخص لوگوں کو پانی، دودھ، کافی یا چائے وغیرہ پلا رہا ہو، وہ خود سب سے آخر میں پیے گا۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4299

 
 
Hadith   641   الحديث
الأهمية: سَقَيْتُ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وهو قَائِمٌ


Tema:

میں نے نبی ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا۔ تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: سَقَيْتُ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وهو قَائِمٌ.
عن النَّزَّالِ بنِ سَبْرَةَ -رضي الله عنه- قال: أَتَى عَلِيٌّ -رضي الله عنه- بَابَ الرَّحَبَةِ، فَشَرِبَ قَائِمًا، وقال: إِنِّي رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ.
عن عمرو بن شُعّيْبٍ، عن أبيه، عن جَدِّهِ -رضي الله عنه- قال: رأيتُ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يَشْرَبُ قَائِمًا وقَاعِدًا.

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا۔ تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ باب الرَّحَبَہ پر آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے اور بیٹھ کر دونوں ہی حالتوں میں پانی پیتے دیکھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر ابن عباس -رضي الله عنهما- أنه سقى النبي -صلى الله عليه وسلم- من ماء زمزم فشرب وهو قائم، وقد شرب علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- قائمًا وقال: إن النبي -صلى الله عليه وسلم- فعل كما رأيتموني فعلت، وكذلك أخبر عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم - يشرب قائمًا وقاعدًا.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو آبِ زمزم پلایا۔ تو آپ ﷺ نے اسے کھڑے ہو کر پیا۔ اور علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی طرح عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر دونوں حالتوں میں پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4300

 
 
Hadith   642   الحديث
الأهمية: دَخَلَ عَلَيَّ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قائمًا، فقُمتُ إلى فِيها فَقَطَعْتُهُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے کھڑے کھڑے پانی پیا۔ میں اٹھی اور میں نے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔

عن أم ثابتٍ كَبْشَةَ بنتِ ثابتٍ أُخْتِ حَسَّانَ بنِ ثابتٍ -رضي الله عنهما-، قالت: دَخَلَ عَلَيَّ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قائمًا، فقُمتُ إلى فِيها فَقَطَعْتُهُ.

ام ثابت کبشہ بنت ثابت جو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما کی بہن ہیں بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے کھڑے کھڑے پانی پیا۔ میں اٹھی اور میں نے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قالت كبشة بنت ثابت رضي الله عنها: دخل عليَّ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فشرب من فم قربة معلقة قائما، وقد فعل ذلك صلى الله عليه وسلم لعدم إمكان الشرب حينئذ إلا كذلك، قالت: فقمت إلى فيها فقطعته؛ لتحفظ موضع فم رسول الله صلى الله عليه وسلم وتتبرك به، وتصونه عن الامتهان.
705;بشہ بنت ثابت رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور کھڑے کھڑے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے پانی پیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اس وقت پانی صرف اسی طرح ہی پینا ممکن تھا۔ میں نے کھڑے ہو کر مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ جس حصے کو آپ ﷺ کے دہن مبارک نے مسّ کیا تھا اسے محفوظ کر لیں اور اس سے برکت حاصل کریں اور اسے بے توقیری سے بچائیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4301

 
 
Hadith   643   الحديث
الأهمية: اتق الله حيثما كنت، وأَتْبِع السيئةَ الحسنةَ تمحها، وخالقِ الناسَ بخلقٍ حسن


Tema:

تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور گناہ کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اس کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔

عن أبي ذر و معاذ بن جبل -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «اتق الله حيثما كنت، وأَتْبِع السيئةَ الحسنةَ تمحها، وخالقِ الناسَ بخلقٍ حسنٍ».

ابو ذر اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) گناہ کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اس کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اتق الله بامتثال أوامره واجتناب نواهيه في أي مكان كنت, وبادر على فعل الحسنة بعد وقوعك في السيئة، لتكفرها وتزيل أثرها السيئ في القلب وعقابها من الصحف، وعامل الناس بمثل ما تحب أن يعاملوك به.
575;للہ تعالی کے احکام کی تعمیل کر کے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کر کے اللہ سے ڈرو چاہے تم جس جگہ پر بھی ہو اور اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو پھر فوراً کوئی نیک کام کرلیا کرو تاکہ تم اس کا تدارک کر سکو اور دل میں واقع ہونے والے اس کے برے اثرات زائل کر سکو اور نامہ اعمال میں لکھی گئی اس کی سزا کو مٹا سکو اور لوگوں سے ویسا رویہ رکھو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے رویہ روا رکھیں۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4302

 
 
Hadith   644   الحديث
الأهمية: يا رسول الله أخبرني بعمل يُدخِلُنِي الجنة ويُبَاعِدُني عن النار، قال: لقد سألت عن عظيم وإنه ليَسير على من يَسَّره الله -تعالى- عليه


Tema:

اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے۔

عن معاذ بن جبل -رضي الله عنه- قال: قلت: يا رسول الله أخبرني بعمل يُدخِلُنِي الجنة ويُبَاعِدُني عن النار، قال: لقد سألت عن عظيم وإنه ليَسير على من يَسَّره الله تعالى عليه:
تعبدُ الله لا تشركُ به شيئًا، وتُقيمُ الصلاةَ، وتُؤتي الزكاةَ، وتَصومُ رمضانَ، وتَحجُّ البيتَ.
ثم قال: ألا أدلُّك على أبواب الخير؟ الصومُ جُنة، والصدقة تُطفئ الخطيئةَ كما يطفئ الماءُ النارَ، وصلاة الرجل في جَوف الليل ثم تلا: {تتجافى جنوبهم عن المضاجع}... حتى إذا بلغ {يعملون}
ثم قال ألا أُخبرك برأس الأمر وعموده وذِروة سَنامه؟ قلت: بلى يا رسول الله.
قال رأس الأمر الإسلام، وعموده الصلاة، وذُروة سَنامه الجهاد.
ثم قال: ألا أُخبرك بمِلاك ذلك كله؟ قلت: بلى يا رسول الله.
فأخذ بلسانه وقال كُفَّ عليك هذا.
قلت: يا نبي الله، وإنا لمؤاخذون بما نتكلم به؟
فقال: ثَكِلَتْكَ أُمُّك، وهل يكُبُّ الناسَ في النارِ على وجوههم (أو قال على مَنَاخِرِهم) إلا حَصائدُ ألسنتِهِم؟.

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔
تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا۔ پھر آپ ﷺ نے آیت ”تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کی تلاوت ” يَعْمَلُونَ“ تک فرمائی“۔ (ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے)
آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول(ضرور بتائیے)
آپ ﷺ نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے، وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول!
پھر آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“،
میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں، اس پر پکڑے جائیں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھاری ماں تم پر روئے، اے معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ (یا فرمایا:اپنے نتھنوں کے بل) جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يرشدنا هذا الحديث إلى أن العمل الذي ينجى من النار ويدخل الجنة هو عبادة الله وحده دون من سواه، مع القيام بما فرض الله على العبد من صلاة وزكاة وصوم وحج، وأن الجامع لوجوه الخير صدقة التطوع والصوم والتهجد في جوف الليل، وأن رأس الأمر الإسلام، وعموده الصلاة، وأعلاه الجهاد في سبيل إعلاء كلمة الله، وأن ملاك ذلك كله بأن يمسك الإنسان عن الكلام الذي يفسد هذه الأعمال إذا عملها.
فليحذر كل مسلم إذا عمل أعمالا صالحة أن يطلق لسانه بما ينفعها أو يبطلها؛ فيكون من أصحاب النار.
740;ہ حدیث ہمیں ایک ایسے عمل کی جانب رہنمائی کرتی ہے کہ جو آتش جہنم سے نجات دلاتے ہوئے جنت میں داخلہ کا سبب بنے گا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ما سوا کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت بجالانا اور ساتھ ہی ساتھ بندہ مومن پر عائد ہونے والے فرائض، نماز، زکاۃ، روزہ اور حج کی تعمیل کرنا، اور(ان فرائض کے علاوہ) بھلائی کی دیگر تمام صورتوں کو سمیٹنے والے امور میں نفلی صدقات، نفلی روزے اور آدھی رات میں پڑھی جانے والی نماز تہجد ہیں، اور دین کی اصل و بنیاد اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے اس کی راہ میں کیا جانے والاجہاد ہے۔ ان سارے امور کو اپنے قابو میں رکھنے والا امر یہ ہے کہ انسان، ان تمام باتوں سے خود کو باز رکھے جو ان اعمال کو برباد کردیتے ہوں جو اس نےانجام دیئے ہیں۔
لہذا ہر مسلمان کو چوکنا رہنا چاہئے کہ جب اس نے کچھ اعمال صالحہ کئے ہوں تواس کی زبان سے آیا ایسی باتیں صادر ہو رہی ہیں جو ان اعمال کے لئے نفع کا باعث ہیں یا اس کو ضائع و برباد کرنے والی ہیں کہ وہ کہیں اہل جہنم میں سے ہوجائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4303

 
 
Hadith   645   الحديث
الأهمية: إذا التَقَى المسلمانِ بسَيْفَيْهِمَا فالقاتلُ والمقْتُولُ في النَّارِ


Tema:

جب دو مسلمان تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں، تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔

عن أبي بكرة نفيع بن الحارث الثقفي -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا التَقَى المسلمانِ بسَيْفَيْهِمَا فالقاتلُ والمقْتُولُ في النَّارِ». قلت: يا رسول الله، هذا القاتلُ فما بالُ المقتولِ؟ قال: «إنه كان حريصًا على قَتْلِ صَاحِبِهِ».

ابو بکرہ نفیع بن حارث ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب دو مسلمان تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں، تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔
میں نے پوچھا کہ یارسول اللہ! یہ شخص تو قاتل ہے (اس لیے جہنمی ہوا)، مقتول کا کیا قصور ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے مد مقابل کو قتل کرنا چاہتا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا التقى المسلمان بسيفيهما، قاصدًا كلٌّ منهما إتلاف صاحبه؛ فالقاتل في النار بسبب مباشرته قتل صاحبه، والمقتول في النار لحرصه على ذلك، إلم يعف الله عنهما، وإذا لم يكن الاقتتال بوجه حق، كما في قول الله تعالى: (فإن بغت إحداهما على الأخرى فقاتلوا التي تبغي حتى تفيء إلى أمر الله).
580;ب دو مسلمان تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جاتے ہیں اور ان میں سے ہرایک کی نیت اپنے مقابل کو قتل کرنا ہوتی ہے, تو اس صورت میں قاتل اپنے مد مقابل کو قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جاتا ہے اور مقتول اس وجہ سے جہنم میں جائے گا کہ وہ بھی ایسا کرنا چاہتا تھا۔ ماسوا اس کے کہ اللہ تعالی انھیں معاف فرما دے اور بشرطے کہ لڑائی ناحق ہو، جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ﴾ ”پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے، تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے، لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4304

 
 
Hadith   646   الحديث
الأهمية: ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس


Tema:

دنیا سے بے رغبت ہوجا، اللہ تم سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔

عن سهل بن سعد الساعدي -رضي الله عنه- قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وآله وسلم- فقال: يا رسول الله، دُلَّنِي على عمل إذا عملته أحبني الله وأحبني الناس؟
«فقال ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس».

سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کو میں انجام دوں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”دنیا سے بے رغبت ہوجا، اللہ تم سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء رجل إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يطلب منه أن يرشده إلى عمل إذا عمله يكون سببا لمحبة الله له ومحبة الناس، فأرشده النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى عمل جامع شامل يسبب له محبة الله ومحبة الناس.
فقال له -صلى الله عليه وسلم-: "ازهد في الدنيا".
أي: فلا تطلب منها إلا ما تحتاجه وتترك الفاضل، وما لا ينفع في الآخرة، وتتورع مما قد يكون فيه ضرر في دينك، وازهد في الدنيا التي يتعاطاها الناس، فإذا صار بينك وبين أحد منهم حق أو عقد من العقود فكن كما ورد في الحديث: "رحم الله امرءا سمحا إذا باع، سمحا إذا اشترى, سمحا إذا قضى، سمحا إذا اقتضى"؛ لتكون محبوبا عند الناس ومرحوما عند الله -تعالى-.
575;یک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ آپ ﷺ اسے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی محبت حاصل ہو سکے۔ نبی ﷺ نے اس کی ایک ایسے جامع عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جو اس کے لیے اللہ اور لوگوں کی محبت کا باعث بنے۔
نبی ﷺ نے اسے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبت ہوجا“ یعنی صرف اسی قدر دنیا کو حاصل کرو جتنی ضرورت ہو اور زائد از ضرورت اور اس چیز کو چھوڑ دو جو آخرت کے اعتبار سے فائدہ مند نہ ہو اور ایسی اشیاء سے پرہیز کرو جس میں تمہارے دین کا کوئی نقصان ہو۔ اور اس دنیا سے بھی بے پروائی کرو جس میں لوگوں کے مابین لین دین ہوتا ہے اور جب تمہارے اور کسی دوسرے کے درمیان کوئی حق ہو یا کوئی معاہدہ طے پائے تو ایسا رویہ اختیار کرو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: ”اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو جب بیچتا ہے تو کشادگی سے معاملہ کرتا ہے اور جب خریدتا ہے تو کشادگی سے معاملہ کرتا ہے اور جب ادائیگی کرتا ہے تو کشادگی سے کرتا ہے اور جب ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے تو تب بھی کشادگی اپناتا ہے“ اس رویے کو اپنانے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ تم لوگوں کے ہاں ہر دلعزیز ہو سکو اور اللہ کے ہاں تم پر رحم ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4307

 
 
Hadith   647   الحديث
الأهمية: البر حسن الخلق، والإثم ما حاك في نفسك وكرهت أن يطلع عليه الناس


Tema:

نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناپسند ہو کر لوگوں کو اس کی خبر ہو۔

عن النواس بن سمعان -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «البِرُّ حُسْنُ الخُلق، والإثم ما حَاكَ في نفسك وكرهت أن يَطَّلِعَ عليه الناس».
وعن وابصة بن معبد -رضي الله عنه- قال: «أتيت رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم- فقال:
جئتَ تسأل عن البِرِّ؟ قلت: نعم، وقال: اسْتَفْتِ قلبك، البِرُّ ما اطمأنت إليه النفسُ واطمأن إليه القلب،
والإثم ما حَاكَ في النفس وتَرَدَّدَ في الصدر -وإن أفتاك الناس وأَفْتَوْكَ-».

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں یہ ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کی خبر ہو“۔
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے دل سے پوچھو۔ نیکی ہر وہ شے ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو جائے اور گناہ ہر وہ شے ہے جو دل میں کھٹکے اور سینے میں اضطراب کا باعث ہو اگرچہ لوگ تمہیں اس کے برخلاف ہی فتوی دے رہے ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فسر الحديثُ البرَّ بأنه حسن الخلق، وهو شامل لفعل جميع ما من شأنه أن يوصف بالحسن من الأخلاق، سواء فيما بين العبد وربه، أو ما بين العبد وأخيه المسلم، أو ما بينه وبين عموم الناس مسلمهم وكافرهم.
أو هو ما اطمأنت إليه النفس كما في الحديث الثاني، والنفس تطمئن إلى الحسن من الأعمال والأقوال، سواء في الأخلاق أو في غيرها.
والإثم ما تردد في النفس، فهو كالشبهة تردَّدُ في النفس فمن الورع تركها والابتعاد عنها، حماية للنفس من الوقوع في الحرام.
فالورع ترك ذلك كله، والاتكاء على ما اطمأن إليه القلب.
وأنَّ ما حاك في صدر الإنسان، فهو إثمٌ، وإنْ أفتاه غيرُه بأنَّه ليس بإثمٍ، وهذا إنَّما يكون إذا كان صاحبُه ممَّن شرح صدره بالإيمان، وكان المفتي يُفتي له بمجرَّد ظن أو ميلٍ إلى هوى من غير دليلٍ شرعيٍّ، فأمَّا ما كان مع المفتي به دليلٌ شرعيٌّ، فالواجب على المستفتي الرُّجوعُ إليه، وإنْ لم ينشرح له صدرُه.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ نیکی حسن خلق کا نام ہے۔اس میں ہر وہ فعل شامل ہے جسے اچھی اخلاقی صفت کہا جا سکتا ہو چاہے وہ بندے اور اس کے رب کے مابین ہو یا پھر بندے اور اس کے مسلم بھائی کے مابین ہو یا پھر اس کے اور عام لوگوں کے مابین ہو چاہے وہ مسلمان ہوں یا کافر۔ یا پھر دوسری حدیث کی رو سے نیکی سے مراد ہر وہ کام ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور نفس کا اطمئنان اچھے اعمال و اقوال پر ہی ہوتا ہے چاہے وہ اخلاق میں سے ہوں یا پھر ان کے علاوہ دیگر افعال میں سے۔ اور گناہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو دل میں کھٹکے۔ جیسے کسی شبہے کا لاحق ہونا جس سے دل میں تردد ہو۔ تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور اس سے دور رہا جائے تاکہ نفس کو حرام میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے۔ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور اس چیز پر اعتماد کیا جائے جس پر دل مطمئن ہو۔اور جو چیز انسان کے دل میں کھٹکے وہ گناہ ہوتی ہے اگرچہ دیگر لوگ یہ فتوی دیں کہ یہ گناہ نہیں ہے۔ تاہم ایسا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جن کا سینہ ایمان کی بدولت کشادہ ہو چکا ہو اورمفتی ایسا ہو جو اسے مجرد ظن اور ہوائے نفس کی طرف میلان پر تکیہ کرتے ہوئے فتوی دے رہا ہو اور اس کے پاس کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ جب کہ وہ فتوی جس کے ساتھ شرعی دلیل بھی ہو تو اس کے سلسلے میں حکم یہ ہے کہ وہ اسے اختیار کرے گا اگرچہ اس کا سینہ اس کے لیے منشرح نہ بھی ہو۔
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4308

 
 
Hadith   648   الحديث
الأهمية: الدين النصيحة


Tema:

دین خیر خواہی کا نام ہے

عن أبي رقية تميم بن أوس الداري -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الدين النصيحة» قلنا: لمن؟ قال: «لله، ولكتابه، ولرسوله، ولأئمة المسلمين وعامتهم».

ابو رقیہ تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: دین خیر خواہی کا نام ہے، ہم نے پوچھا کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے امراء (حکمرانوں) اور عام لوگوں کے لیے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء الدين الحنيف بإخلاص النصيحة وبذلها، وبأن نؤمن ونعترف بوحدانية الله -عز وجل-، وننزهه عن النقائص ونصفه بصفات الكمال، وأن القرآن كلامه منزل غير مخلوق، نعمل بمحكمه ونؤمن بمتشابهه، ونصدق الرسول -صلى الله عليه وسلم- بما جاء به ونمتثل أمره ونجتنب ما نهى عنه، وننصح لأئمة المسلمين بمعاونتهم على الحق وإرشادهم إلى ما جهلوه ونذكرهم ما نسوه أو غفلوا عنه، ونرشد عامة المسلمين إلى الحق، ونكف عنهم الأذى منا ومن غيرنا على حسب الاستطاعة، ونأمرهم بالمعروف وننهاهم عن المنكر، والجامع للنصح لهم: أن نحب لهم ما يحب كل منا لنفسه.
583;ینِ حنیف خالص خیرخواہی لے کر آیا اور یہ کہ ہم اللہ کی وحدانیت کا اعتراف کرکے اس پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کو تمام عیوب سے مبرّا وپاک کرکے صفاتِ کمال سے اسے متصف کریں اور اس بات کا اقرار کریں کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس کی طرف سے اتارا گیا ہے اور مخلوق نہیں، ہم اس کی محکم آیات پر عمل کرتے ہیں اور اس کی متشابہ آیات پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے رسول جو کچھ لے کر آئے اس کی تصدیق کرکے اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور نواہی سے بچتے ہیں اور اہلِ اسلام کے ائمہ (حکمرانوں) کو حق بات کی نصیحت کرتے ہیں اور ایسی چیز کی طرف ان کی رہنمائی کرتے ہیں جس سے وہ ناآشنا ہیں اور جس چیز کو وہ بھول چکے ہیں یا جس سے وہ غافل ہیں اس کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ عام مسلمانوں کی حق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور اپنی طرف سے اور دوسرے لوگوں کی طرف سے انہیں تکلیف پہنچنے سے حسبِ استطاعت روکتے ہیں۔ انہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں، بُرائی سے روکتے ہیں۔ ان کے ساتھ مکمل خیرخواہی یہ ہے کہ ہم ان کے لیے بھی اسی چیز کو پسند کریں جو ہم میں سے ہر شخص اپنے لیے پسند کرتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4309

 
 
Hadith   649   الحديث
الأهمية: كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: لَا، فقتله


Tema:

تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟ اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا، وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا کہ نہیں! (تیری توبہ قبول نہ ہو گی) تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أن نبي الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «كان فيمن كان قبلكم رجل قتل تسعة وتسعين نفسًا، فسأل عن أعلم أهل الأرض، فَدُلَّ على راهب، فأتاه فقال: إنه قتل تسعة وتسعين نفسا فهل له من توبة؟ فقال: لا، فقتله فكمَّل به مئة، ثم سأل عن أعلم أهل الأرض، فَدُلَّ على رجل عالم، فقال: إنه قتل مائة نفس فهل له من توبة؟ فقال: نعم، ومَنْ يَحُولُ بينه وبين التوبة؟ انْطَلِقْ إلى أرض كذا وكذا فإن بها أناسا يعبدون الله -تعالى- فاعبد الله معهم، ولا ترجع إلى أرضك فإنها أرض سوء، فانطلق حتى إذا نَصَفَ الطريقَ أتاه الموت، فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، فقالت ملائكة الرحمة: جاء تائبا، مُقْبِلا بقلبه إلى الله -تعالى-، وقالت ملائكة العذاب: إنه لم يعمل خيرا قط، فأتاهم ملك في صورة آدمي فجعلوه بينهم -أي حكمًا- فقال: قِيسُوا ما بين الأرضين فإلى أَيَّتِهِمَا كان أدنى فهو له، فقاسوا فوجدوه أدنى إلى الأرض التي أراد، فقبضته ملائكة الرحمة».
وفي رواية في الصحيح: «فكان إلى القرية الصالحة أقرب بشبر فجعل من أهلها».
وفي رواية في الصحيح: «فأوحى الله -تعالى- إلى هذه أن تَبَاعَدِي، وإلى هذه أن تَقَرَّبِي، وقال: قيسوا ما بينهما، فوجدوه إلى هذه أقرب بشبر فغُفِرَ له».
وفي رواية: «فَنَأَى بصدره نحوها».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ چنانچہ اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا کہ نہیں! (اس کی توبہ قبول نہ ہو گی) تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور یوں سو (100) قتل پورے کر دیے۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ زمین میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک عالم کے بارے میں بتایا (تو وہ اس کے پاس گیا) اور پوچھا کہ اس نے سو قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ وہ بولا کہ ہاں ہے اور آخر توبہ کرنے میں کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ تو فلاں علاقے میں جا، وہاں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے علاقے میں واپس نہ جانا؛ کیوں کہ وہ بری جگہ ہے۔ چنانچہ وہ اس علاقے کی طرف چل پڑا، جب آدھا سفر طے کر لیا، تو اس کو موت آ گئی۔ اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوگیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے صدق دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا۔ جب کہ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی! آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا اور دونوں فرشتوں نے اسے حکم مان لیا۔ اس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمین ناپو، یہ جدھر سے قریب ہوگا، اسے ادھر ہی کا مان لیا جائے گا۔ سو انھوں نے زمین کو ناپا تو اسے اس زمین سے زیادہ قریب پایا، جس کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے"۔
ایک اور روایت میں ہے: ”وہ اس صالح بستی سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ اسے انہی لوگوں میں شامل کر دیا گیا“۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اس زمین کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور اس زمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ اور کہاکہ ان دونوں کے مایبن کی مسافت کو ناپو۔ جب انھوں نے ناپا تو معلوم ہوا کہ وہ اس زمین سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ اس کی مغفرت کر دی گئی۔
ايک دوسری روایت میں ہے: اس نے اپنے سینے کو کھینچ کر اس زمین کی طرف کر دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: كان في أمة من الأمم قبلنا رجل قتل تسعة وتسعين نفسًا، ثم إنه ندم وسأل عن أعلم أهل الأرض يسأله: هل له من توبة؟ فدل على رجل، فوجد عابدًا ولكنه ليس عنده علم، فلما سأله قال إنه قتل تسعة وتسعين نفسًا، فهل له من توبة؟ فاستعظم الراهب هذا الذنب وقال: ليس لك توبة! فغضب الرجل وانزعج وقتل الراهب، فأتم به مائة نفس، ثم إنه سأل عن أعلم أهل الأرض، فدل على رجل عالم فقال له: إنه قتل مائة نفس فهل له من توبة؟ قال: نعم! ومن الذي يحول بينه وبين التوبة؟ باب التوبة مفتوح، ولكن اذهب إلى القرية الفلانية؛ فإن فيها قومًا يعبدون الله، والأرض التي كان فيها كأنها -والله أعلم- دار كفر فأمره هذا العالم أن يهاجر بدينه إلى هذه القرية التي يعبد فيها الله -سبحانه وتعالى-، فخرج تائبا نادمًا مهاجرًا بدينه إلى الأرض التي فيها القوم الذين يعبدون الله عز وجل، وفي منتصف الطريق أتاه الموت، فاختصمت فيه ملائكة العذاب وملائكة الرحمة، تقول ملائكة الرحمة: إنه تاب وجاء نادمًا تائبًا، فحصل بينهما خصومة، فبعث الله إليهم ملكًا ليحكم بينهم، فقال: قيسوا ما بين الأرضين فإلى أيتها كان أقرب فهو من أهلها.
 فإن كانت أرض الكفر أقرب إليه فملائكة العذاب تقبض روحه، وإن كان إلى بلد الإيمان أقرب فملائكة الرحمة تقبض روحه.
فقاسوا ما بينهما؛ فإذا البلد التي اتجه إليها -وهي بلد الإيمان-أقرب من البلد التي هاجر منها بنحو شبر -مسافة قريبة- فقبضته ملائكة الرحمة.
606;بی ﷺ نے فرمایا کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے کسی امت میں ایک آدمی تھا، جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کر رکھا تھا۔ احساس ندامت سے مغلوب ہو کر اس نے لوگوں سے علاقے کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا، تاکہ اس سے اپنے بارے میں دریافت کر سکے کہ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس کی رہ نمائی ایک شخص کی طرف کی گئی، جو تھا تو عابد، لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا۔ جب اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ راہب کو یہ گناہ بہت بڑا لگا اور وہ کہنے لگا کہ تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ہے۔ اس پر وہ شخص غصہ میں آ گیا اور بے کلی میں اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو قتل پورے کر دیے۔ پھر دوبارہ اس نے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک عالم شخص کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے سو افراد کو قتل کیا ہے، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اکیوں نہیں! اس کے اور توبہ کے مابین کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن فلاں بستی میں جاؤ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ جس علاقے میں تھا، شاید وہ دار الکفر تھا۔ واللہ اعلم۔ اس لیے اس نے اس سے کہا کہ اپنے دین کی خاطر وہ اس بستی کی طرف ہجرت کر جائے، جس میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ وہ شخص پشیمان و تائب ہو کر اپنے دین کی خاطر اس علاقے کی طرف ہجرت کر گیا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے لوگ تھے۔ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ اس کی موت آ گئی۔ اب اس کے بارے میں عذاب اور رحمت کے فرشتوں کے مابین اختلاف ہو گیا؛ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے توبہ کر لی تھی اور وہ نادم و تائب ہو کر آ رہا تھا (لیکن عذاب کے فرشتے اسے اپنے ساتھ کے جانے پر مصر تھے)۔ اس طرح ان کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ایک فرشتہ بھیجا؛ تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے۔ اس نے کہا: دونوں جانب کی مسافت کی پیمائش کرو۔ جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہو، اسے اس کے باشندوں میں سے گردانا جائے گا۔ یعنی اگر وہ دار الکفر کے زیادہ قریب ہو، تو عذاب کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے اور اگر دار الایمان کے زیادہ قریب ہو، تو رحمت کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں کی مسافت کو ناپا، تو جس علاقے کی طرف وہ جا رہا تھا، یعنی دارالایمان کی جانب، وہ اس علاقے کی بہ نسبت ایک بالشت قریب نکلا، جہاں سے وہ ہجرت کر کے آ رہا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4310

 
 
Hadith   650   الحديث
الأهمية: الرَّضاعة تحرم ما تحرم الولادة


Tema:

رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

عن عائشة -رضي الله عنها- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الرَّضاعة تحرم ما تحرم الولادة».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المحرمات من النساء بسبب النسب كالأم والأخت يحرم مثلهن بسبب الرضاعة كالأم المرضعة والأخت من الرضاعة؛ لذا جاء في حديث آخر: (يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب)، سواء من قبل الزوجة أو من قبل الزوج، فكل ما يحرم على الإنسان من قراباته من النسب بأن يتزوجها كأخته وخالته وعمته، فحرام عليه أن يتزوج بهؤلاء إذا كانت قرابتهن بالرضاع، وكذلك الزوجة يحرم عليها أن تتزوج بولدها وأخيها وعمها وخالها، فكذلك حرام عليها أن تتزوج بهؤلاء إذا كانوا من الرضاع.
ونوع التحريم هو تحريم النكاح وانتشار الحرمة بين الرضيع والأولاد المرضعة، وتنزيلهم منزلة الأقارب في حل نظر وخلوة وسفر، لا في باقي الأحكام، كتوارث ووجوب الإنفاق ونحو ذلك، ثم التحريم المذكور بالنظر إلى المرضع فإن أقاربه أقارب للرضيع وأما أقارب الرضيع ما عدا أولاده فلا علاقة بينهم وبين المرضع، فلا يثبت لهم شيء من الأحكام.
580;س طرح نسب کی وجہ سے عورتیں حرام ہوتی ہیں، جیسے ماں اور بہن، اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتی ہیں، جیسے رضاعی ماں اور رضاعی بہن۔ اسی وجہ سے دوسری حدیث میں آیا ہے: ”رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں“۔ چاہے یہ رشتے بیوی کی طرف سے ہوں یا شوہر کی طرف سے۔ انسان پر اپنے نسبی رشتے داروں میں سے جن سے شادی کرنا حرام ہوتا ہے، جیسے اس کی بہن، خالہ اور پھوپھی، اس کے ان رضاعی رشتے داروں سے بھی شادی کرنا حرام ہو تا ہے۔ نیز جس طرح بیوی پر حرام ہے کہ وہ اپنے بیٹے، بھائی، چچا اورماموں سے شادی کرے، اسی طرح اگر یہی رشتے رضاعت کی وجہ سے ہوں تو بھی ان سے شادی کرنا حرام ہے۔ یہاں حرمت سے مراد حرمت نکاح ہے، جو دودھ پینے والے بچے اور دودھ پلانے والی عورت کے بچوں کے درمیان پیدا ہوتی ہے، بایں طور کہ اس حرمت کی وجہ سے وہ دیکھنے، خلوت اور سفر کے احکامات میں نسبی رشتہ داروں کے حکم میں ہوتے ہیں، لیکن دیگر احکامات جیسے وراثت اور وجوب نفقہ وغیرہ کے معاملے میں وہ نسبی رشتے داروں کے حکم میں نہیں ہوتے۔ واضح رہے کہ یہ حرمت دودھ پلانے والی عورت کے حق میں ثابت ہوتی ہے، بایں طور کہ اس کے رشتے دار دودھ پینے والے بچے کے رشتے دار بن جاتے ہیں، جب کہ بچے کے رشتے داروں میں سے ماسوا اس کی اپنی اولاد کے کسی کا دودھ پلانے والی عورت سے تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی ان احکامات میں سے کوئی حکم ان کے لیے ثابت ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4311

 
 
Hadith   651   الحديث
الأهمية: للَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ، سَقَطَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلاَة


Tema:

اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں گم کر بیٹھا ہو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «للَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ، سَقَطَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلاَةٍ».
وفي رواية: «لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، وقَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ! أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَح».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے وہ بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں گم کربیٹھا ہو“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”الله اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں اپنی سواری پر سفر کر رہا ہو کہ اس کی سواری اس سے گم ہو جائے اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اسی پر ہو۔ وہ اس کے ملنے سے مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے آکر اس کے سائے میں لیٹ جائے اور اسے اپنی سواری کے مل جانے کی کوئی امید نہ رہے۔ ایسے میں اچانک اس کی سواری اس کے سامنے آ کھڑی ہو۔ اور وہ اس کی نکیل پکڑ کر فرط مسرت سے یوں کہہ بیٹھے کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب! یعنی خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی سے ایسا کہہ دے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر -صلى الله عليه وسلم- أن الله أشد فرحًا برجوع عبده إليه بطاعته وامتثال أمره مخلصا من قلبه، من فرح أحدكم كان في أرض فلاة، ليس حوله أحد، لا ماء ولا طعام ولا أناس، وضاع بعيره، فجعل يطلبه فلم يجده، فذهب إلى شجرة ونام تحتها ينتظر الموت! قد أيس من بعيره، وأيس من حياته؛ لأن طعامه وشرابه على بعيره، والبعير قد ضاع، فبينما هو كذلك وجد بعيره فجأة عنده قد تعلق خطامه بالشجرة التي هو نائم تحتها، فبأي شيء يقدر هذا الفرح؟ هذا الفرح لا يمكن أن يتصوره أحد إلا من وقع في مثل هذه الحال! لأنه فرح عظيم، فرح بالحياة بعد الموت، ولهذا أخذ بالخطام، وقال: "اللهم أنت عبدي وأنا ربك"! أراد أن يثني على الله فيقول: "اللهم أنت ربي وأنا عبدك" لكن من شدة فرحه أخطأ.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی بندہ اللہ کی اطاعت اور اس کا حکم بجا لا کر اخلاصِ قلب کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آگ وگیاہ چٹیل میدان میں ہو اور اس کے ارد گرد کوئی اور شخص نہ ہو، نہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء ہوں اور نہ لوگ اور وہاں اس کا اونٹ گم ہو جائے۔ وہ اسے تلاش کرے لیکن اسے نہ ملے اور پھر ایک درخت کے نیچے جا کر سو جائے اور موت کا انتظار کرنا شروع کر دے۔ وہ اپنے اونٹ سے اور اپنی زندگی سے ناامید ہو چکا ہو کیونکہ اس کے کھانے پینے کا سامان اس کے اونٹ پر ہی لدا تھا اور وہ گم ہو چکا ہے۔ وہ اسی حال میں ہو کہ اچانک اسے اس کا اونٹ مل جائے بایں طور کہ اس کی نکیل اس درخت کے ساتھ پھنسی ہو جس کے تلے وہ سو رہا تھا۔ اس شخص کی خوشی کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا تصور صرف وہی کر سکتا جو خود کبھی اس قسم کی صورت حال سے گزرا چکا ہو۔ کیونکہ یہ بہت بڑی خوشی ہے۔ موت کے منہ میں جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی خوشی حاصل ہوئی اسی لیے اس نے نکیل پکڑ کر کہا کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں‘‘۔ وہ چاہتا تھا کہ اللہ کی تعریف بیان کرے اور یوں کہے: اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ لیکن خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی کر بیٹھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4313

 
 
Hadith   652   الحديث
الأهمية: إن الحلال بيِّن وإن الحرام بين، وبينهما أمور مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات فقد اسْتَبْرَأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام


Tema:

حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو ان میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا۔

عن النعمان بن بشير -رضي الله عنه- قال: سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إن الحلال بيِّن وإن الحرام بين، وبينهما أمور مُشْتَبِهَاتٌ لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشُّبُهات فقد اسْتَبْرَأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام، كالراعي يرعى حول الحِمى يوشك أن يَرْتَع فيه، ألا وإن لكل مَلِك حِمى، ألا وإن حِمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مُضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب».

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو ان میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا (اور اس کی مثال) اس چرواہے کی سی ہے جو چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اور قریب ہے کہ اس میں گھس جائے اور سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چرا گاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراہ گاہ وہ چیزیں ہیں جو اس کی حرام کردہ ہیں۔ (لہذا ان سے بچو) یاد رکھو انسانی جسم میں ایک ایسا ٹکڑا ہے اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح رہے گا اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہوجائے گا، سن لو! وہ دل ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
القاعدة العامة أن ما أحله الله ورسوله، وما حرمه الله ورسوله، كل منهما بَيِّن واضح، وإنما الخوف على المسلم من الأشياء المشتبهة، فمن ترك تلك الأشياء المشتبهة عليه سَلِم دينه بالبعد عن الوقوع في الحرام، وتم له كذلك صيانة عرضه من كلام الناس بما يعيبون عليه بسبب ارتكابه هذا المشتبه.
ومن لم يجتنب المشتبهات، فقد عرض نفسه إما إلى الوقوع في الحرام، أو اغتياب الناس له ونيلهم من عرضه.   وضرب الرسول -صلى الله عليه وسلم- مثلا لمن يرتكب الشبهات كراع يرعى إبله أو غنمه قرب أرض قد حماها صاحبها، فتوشك ماشية ذلك الراعي أن ترعى في هذا الحمى لقربها منه، فكذلك من يفعل ما فيه شبهة، فإنه بذلك يقترب من الحرام الواضح، فيوشك أن يقع فيه.
وأشار النبي -صلى الله عليه وسلم- إلى أن الأعمال الظاهرة تدل على الأعمال الباطنة من صلاح أو فساد، فبين أن الجسد فيه مضغة (وهي القلب) يصلح الجسد بصلاحها، ويفسد بفسادها.
740;ہ ایک عمومی قاعدہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حلال قرار دیا ہے اورجن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہے وہ سب بالکل واضح ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں جن اشیاء کا خوف ہے وہ متشابہ امور ہیں۔ پس جو ان متشابہ امور کو چھوڑ دیتا ہے اس کا دین محفوظ ہو جاتا ہے بایں طور کہ حرام میں واقع ہونے سے دور ہو جاتا ہے اور اس مشتبہ چیز کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں نے اس کی کردار کشی کرتے ہوئے اس سے متعلق جو باتیں کی تھیں اس سے بھی وہ اپنی عزت کو بچا لیتا ہے۔ جو شخص متشابہات سے پرہیز نہیں کرتا وہ یا تو اپنے آپ کو حرام میں ڈال لیتا ہے یا پھر لوگوں کو اپنی غیبت کرنے اور اپنی عزت و آبرو پر انگلی اٹھانے کا موقع دیتا ہے۔ جو شخص متشابہات کا ارتکاب کرتا ہے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو اپنے اونٹوں یا بھیڑ بکریوں کو کسی اور کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے۔ امکان ہے کہ اس چرواہے کے مویشی اس چراگاہ کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کے اندر جا کر چرنا شروع کر دیں۔ اسی طرح وہ شخص بھی ہوتا ہے جو ان اشیاء کا ارتکاب کرتا ہے جن میں شبہ ہوتا ہے۔ وہ اسی طرح سے واضح حرام کے قریب پہنچ جاتا ہے اور امکان ہوتا ہے کہ اس میں پڑ ہی جائے۔ نبی ﷺ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ پاکیزہ اعمال باطنی اعمال پر دلالت کرتے ہیں کہ آیا وہ اچھے ہیں یا برے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے جو کہ دل ہے اس کے اچھا ہونے پر جسم اچھا رہتا ہے اور اس کے بگڑنے پر جسم بھی بگڑ جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4314

 
 
Hadith   653   الحديث
الأهمية: إن اللهَ -عَزّ وَجَلَّ- يَقْبَل تَوْبَةَ العَبْدِ مَا لَم يُغَرغِر


Tema:

اللہ تعالی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک کہ اس پر غرغرہ کی کیفیت طاری نہ ہوجائے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن الله -عز وجل- يقبل تَوْبَةَ العَبْدِ ما لم يُغَرْغِرْ».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک کہ اس پر غرغرہ کی کیفیت طاری نہ ہوجائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الله -عز وجل- يقبل توبة العبد ما لم تصل الروحُ الحلقومَ، فإذا وصلت الروحُ الحلقومَ فلا توبة، ولقوله -تعالى-: {وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآن}، [النساء: 18].
575;للہ عز و جل بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتاہے، جب تک اس کی روح حلق تک نہ آ جائے۔ جب روح حلق تک آ جاتی ہے، تو اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے؛ کیوںکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآن﴾ [النساء: 18].
”ان کی توبہ نہیں، جو برائیاں کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے، تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی“۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4315

 
 
Hadith   654   الحديث
الأهمية: إن الله تعالى طيبٌ لا يقبل إلا طيبًا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال تعالى: يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحًا


Tema:

بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے اور یقیناً اللہ اپنے مومن بندوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟.

ابو ہریره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے اور یقیناً اللہ اپنے مومن بندوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیاہے جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾ (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) [المؤمنون: 51] اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ (اے ایمان والو! کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں بطورِ رزق دیا ہے۔) [البقرة: 172]۔ پھر آپ ﷺ نےایک آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے لمبے سفر کی وجہ سے اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہ ہوتے ہیں، وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب! اے میرے رب! (دعا قبول فر ما لے) جب کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا پہناوا حرام اور اس کی پرورش بھی حرام مال کے ذریعہ ہوئی ہو تو بھلا اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله -تعالى- منزه عن النقائص والعيوب، موصوف بصفات الجلال والجمال والكمال؛ فلا يتقرب إليه بنفقة أو صدقة من حرام أو ما فيه شبهة أو بالرديء من الطعام، وأن الله قد أباح للمؤمنين الأكل من الطيبات كما أباحه للمرسلين مع العمل الصالح والشكر لله على نعمه.
ثم بين الرسول -صلى الله عليه وسلم- أن الله -سبحانه- كما يحب الإنفاق من الطيب، فإنه تعالى كذلك لا يحب من الأعمال إلا طيبها، ولا تطيب الأعمال إلا بالمتابعة والإخلاص.
ثم ذكر -صلى الله عليه وسلم- تحذيرا لأمته من الحرام، فذكر -صلى الله عليه وسلم- الرجل يطيل السفر، أي: في وجوه الطاعات من حج وجهاد واكتساب معيشة، أشعث شعر الرأس مُغبرَّ اللون من طول سفره في الطاعة، يمد يديه إلى السماء بالدعاء إلى الله والتضرع إليه والتذلل بين يديه، ومع ذلك يبعد أن يستجاب له، لخبث كسبه، حيث كان مطعمه ومشربه من الحرام.
576;ے شک اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقص اور عیوب سے پاک ہے، وہ ہر قسم کی صفاتِ جلال، جمال اور کمال سے متصف ہے، لہٰذا اس کی طرف حرام یا شکوک و شبہات سے حاصل کردہ مال کوخرچ کرنے یا صدقہ دینے یا خراب قسم کے کھانے پینے کی چیزوں سے قربت نہ حاصل کی جائے، بے شک اللہ تعالٰی نے مومنین کو عملِ صالح اور اپنی نعمتوں پر شکر گزاری کے ساتھ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے جیسا کہ اپنے رسولوں کو دیا تھا پھر رسول ﷺ نے واضح کیا کہ بیشک اللہ سبحانہ وتعالٰی جس طرح پاکیزہ چیزوں کے خرچ کرنے کو پسند کرتا ہے، اسی طرح اعمال میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں پسند فرماتا ہے اور اعمال کی پاکیزگی (نبی ﷺ کی) پیروی اور اخلاص وللٰہیت سے حاصل ہو گی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی امت کو حرام سے بچنے کے متعلق آگاہ کیا، چنانچہ آپ ﷺ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، یعنی نیکیوں اور اطاعت میں جیسے حج، جہاد اور روزگار کی تلاش، بھلائی کے راستے میں لمبے سفر کی وجہ سے اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہ ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اللہ سے گریہ وزاری کرتے ہوئے اٹھاتا ہے اس کے باوجود اس کی دعا اس کی حرام کمائی کی وجہ سے قبول ہونا محال ہے کیونکہ اس کا کھانا پینا حرام تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4316

 
 
Hadith   655   الحديث
الأهمية: إنَّ الله -تعالى- يَبْسُطُ يدَه بالليلِ ليتوبَ مسيءُ النَّهارِ، ويَبْسُطُ يدَه بالنَّهارِ ليتوبَ مسيءُ الليلِ، حتى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا


Tema:

الله تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے۔ یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔

عن أبي موسى عبد الله بن قيس الأشعري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إنَّ الله -تعالى- يَبْسُطُ يدَه بالليلِ ليتوبَ مسيءُ النَّهارِ، ويَبْسُطُ يدَه بالنَّهارِ ليتوبَ مسيءُ الليلِ، حتى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا».

ابو موسی عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”الله تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے اوردن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے۔ یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الله -عز وجل- يقبل التوبة -حتى وإن تأخرت- فإذا أذنب الإنسان ذنبًا في النهار، فإن الله- تعالى- يقبل توبته ولو تاب في الليل، وكذلك إذا أذنب الإنسان ذنبًا في الليل، فإن الله- تعالى- يقبل توبته ولو تاب في النهار؛ ما لم تطلع الشمس من مغربها وهي من علامات الساعة الكبرى.
575;للہ عز و جل توبہ کو قبول کرتا ہے اگرچہ وہ تاخیر کے ساتھ کی جائے۔ جب کوئی بندہ دن میں کوئی گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے اگرچہ وہ رات کو توبہ کرے۔ اسی طرح جب کوئی انسان رات کو گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے اگرچہ وہ دن کے وقت توبہ کرے۔ ایسا تب تک ہوتا رہے گا جب تک کہ سورج پچھم سے نہیں نکل آتا، جو قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4318

 
 
Hadith   656   الحديث
الأهمية: إن الله كتب الإحسانَ على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسِنوا القِتلةَ وإذا ذبحتم فأحسِنوا الذِّبحة، وليحد أحدُكم شَفْرَتَه ولْيُرِحْ ذبيحتَهُ


Tema:

بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے۔

عن شداد بن أوس -رضي الله عنه- مرفوعًا:« إن الله كتب الإحسانَ على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسِنوا القِتلةَ وإذا ذبحتم فأحسِنوا الذِّبحة، وليحد أحدُكم شَفْرَتَه ولْيُرِحْ ذبيحتَهُ».

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص (جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المسلم مطالب بإحسان نيته وسريرته، ومطالب بإحسان طاعته وعبادته، ومطالب بإحسان عمله وصنعته، ومطالب بالإحسان إلى الناس والحيوان؛ بل وإلى الجماد أيضا.
ولا شك أن ذابح الحيوان سيؤلمه بالذبح، ولا بد من ذبحه للانتفاع به، إذا فالمقصود من ذلك هو تربية الرحمة والرأفة والشفقة والرفق في نفس المؤمن حتى لا يغفل عن تلك المعاني ولو كان ذابحا أو قاتلا بحق، وهو تنبيه على أن الإحسان إذا طلب في القتل والذبح فطلبه في غيره من الأعمال آكد وأشد، ومن الإحسان تحديد السكين وإراحة الحيوان.
605;سلمان سے یہ امر مطلوب ہے کہ وہ اپنے دل اور نیت کا صاف ہو، عبادت واطاعت میں عمدہ ہو، اپنے کام اور پیشے میں بہترین ہو، انسانوں اور حیوانوں سے بلکہ جمادات سے بھی عمدہ اور بہترین سلوک کرتا ہو۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جانور کو ذبح کرنے والا اسے ذبح کرکے اسے تکلیف دیتا ہے، لیکن اس جانور (کے گوشت وغیرہ) سے مستفید ہونے کے لیے اسے ذبح کرنا بھی ضروری ہے، یہاں رحمت وشفقت، نرمی اور مہربانی کے جذبات کو ایک مومن کے دل میں پیدا کرنا مقصود ہے کہ وہ ان جذبات سے عاری نہ ہوجائے اگرچہ وہ ذبح کر رہا ہو یا کسی کو حق کے ساتھ قتل کر رہا ہو۔ در اصل یہ تنبیہ ہے کہ جب ذبح اور قتل کے دوران احسان کے معاملہ کا مطالبہ ہو رہا ہے تو دوسرے اعمال میں یہ بدرجہ اولی مطلوب ومقصود ہے۔
چھری کو تیز کرنا اور جانور کو آرام پہنچانا بھی احسان کی ایک شکل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4319

 
 
Hadith   657   الحديث
الأهمية: إن الله كَتَبَ الحسناتِ والسيئاتِ ثم بَيَّنَ ذلك، فمَن هَمَّ بحسنةٍ فَلم يعمَلها كَتبها الله عنده حسنةً كاملةً، وإن هَمَّ بها فعمِلها كتبها اللهُ عندَه عشرَ حسناتٍ إلى سَبعِمائةِ ضِعْفٍ إلى أضعافٍ كثيرةٍ


Tema:

اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور انھیں صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ چنانچہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کر سکا، تو اس کےکھاتے میں اللہ تعالی اپنے یہاں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے یہاں دس نیکیوں سے ساتھ سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- عن رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم- فيما يرويه عن ربه -تبارك وتعالى- قال: «إن الله كَتَبَ الحسناتِ والسيئاتِ ثم بَيَّنَ ذلك، فمَن هَمَّ بحسنةٍ فَلم يعمَلها كَتبها الله عنده حسنةً كاملةً، وإن هَمَّ بها فعمِلها كتبها اللهُ عندَه عشرَ حسناتٍ إلى سَبعِمائةِ ضِعْفٍ إلى أضعافٍ كثيرةٍ، وإن هَمَّ بسيئةٍ فلم يعملها كتبها الله عنده حسنة كاملة، وإن هَمَّ بها فعمِلها كتبها اللهُ سيئةً واحدةً».
زاد مسلم: «ولا يَهْلِكُ على اللهِ إلا هَالِكٌ».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پروردگار سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور انھیں صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ چنانچہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کر سکا، تو اس کےکھاتے میں اللہ تعالی اپنے ہاں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے یہاں دس نیکیوں سے ساتھ سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور اگر اس نے کسی برائی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالی اپنے یہاں اسے ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر ارادہ کرنے کے بعد اس نے اس کا ارتکاب بھی کر لیا، تو اللہ تعالی اسے صرف ایک برائی ہی لکھتا ہے“۔
امام مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”اللہ کے یہاں وہی ہلاک ہو گا، جو (اپنی برائیوں کی بنا پر) ہلاک ہونے کا مستحق ہو گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث العظيم أن الهم بالحسنة مع الحرص على عملها يُكتب حسنة وإن لم تُعمل، وإذا عُملت الحسنة فإنها تُضاعف بعشر أمثالها إلى أضعاف كثيرة، ومن هم بالسيئة ثم تركها لله كُتبت له حسنة، ومن عمل سيئة كُتبت له سيئة واحدة، ومَن هم بالسيئة ثم تركها لم تُكتب شيئا، وكل ذلك يدل على سَعة رحمة الله عز وجل، حيث تفضل عليهم بهذا الفضل العظيم والخير الجزيل.
575;س عظیم حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نیکی کرنے کی خواہش کے ساتھ اس کا ارادہ کرنے پر ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگرچہ اسے عملی جامہ نہ پہنایا جائے اور اگر نیکی کر لی جائے، تو پھر اسے دس سے لے کر کئی گنا زیادہ تک بڑھا کر لکھاجاتا ہے۔ جو شخص برائی کا ارادہ کرنے کے بعد اللہ کی خاطر اسے چھوڑ دیتا ہے، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو برائی کا ارتکاب کر لیتا ہے، اس کے کھاتے میں ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ جو شخص برائی کا ارادہ کرنے کے بعد اسے چھوڑ دے، اس کے لیے کچھ بھی نہیں لکھا جاتا۔ یہ سب اللہ عز و جل کی رحمت کی وسعت کی دلیل ہے کہ اللہ نے لوگوں پر اپنا یہ بے پناہ فضل کیا اور انھیں خیر كثىر سے نوازا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4322

 
 
Hadith   658   الحديث
الأهمية: من صام يومًا في سبيل الله بَعَّدَ الله وجهه عن النار سبعين خريفًا


Tema:

جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔

عن أبي سعيد الخُدْرِي -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من صام يومًا في سبيل الله بَعَّدَ الله وجهه عن النَّار سَبْعِين خريفا».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن من صام يوما واحدا في سبيل الله كان جزاؤه أن يُبَعِّد الله تعالى وجهه عن النار سبعين عاماً؛ لأنه جمع بين مشقة الجهاد والمرابطة ومشقة الصيام، وإبعاده عن النار، يقتضي تقريبه من الجنة، إذ ليس هناك إلا طريق للجنة وطريق للسعير.
606;بی ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ جو شخص جہاد فی سبیل اللہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کے چہرے کو جہنم سے ستّر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے کیونکہ یہ شخص جہاد اور پہرے داری کی مشقت کے ساتھ ساتھ روزے کی مشقت بھی برداشت کرتا ہے۔ اسے جہنم سے دور کئے جانے کا تقاضا یہ ہے کہ اسے جنت سے قریب کر دیا جائے کیونکہ آخرت میں تو دو ہی راستے ہیں، ایک جنت کو جانے والا اور دوسرا جہنم کی طرف جانے والا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4436

 
 
Hadith   659   الحديث
الأهمية: لا يزال الناس بخير ما عَجَّلُوا الفطر


Tema:

لوگ تب تک بھلائی پر رہیں گےجب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔

عن سهل بن سعد الساعدي -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يزال الناس بخير ما عَجَّلُوا الفطر».

سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ تب تک بھلائی پر رہیں گےجب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث أن الناس لا يزالون بخير، ما عجلوا الفطر؛ لأنهم ـ بذلك يحافظون على السنة.
فإذا خالفوا وأخروا الفطر، فهو دليل على زوال الخير عنهم ؛ لأنهم تركوا تمسكهم بالسنة التي ترك النبي -صلى الله عليه وسلم- عليها أمته وأمرهم بالمحافظة عليها .
606;بی ﷺ اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے کیونکہ اپنے اس عمل کے ساتھ وہ سنت کی پاسداری کر رہے ہوں گے۔ جب وہ سنت کی مخالفت کرتے ہوئے دیر سے افطار کرنا شروع کر دیں گے تو یہ ان سے بھلائی کے دور ہونے کی دلیل ہو گی کیونکہ ایسا کر کے وہ اس سنت کو ترک کردینے کے مرتکب ہوں گے جس پر نبی ﷺ اپنی امت کو چھوڑ کر گئے تھے اور جس کے اپنانے کا آپ ﷺ نے حکم دیا تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4438

 
 
Hadith   660   الحديث
الأهمية: ذهب المفطرون اليوم بالأجر


Tema:

آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كنَّا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في السفر فمنَّا الصائم، وَمِنَّا المُفطر، قال: فنزلنا مَنْزِلًا فِي يوم حارٍّ، وأكثرنا ظِلًّا صاحب الْكِسَاءِ، وَمِنَّا من يَتَّقِي الشمس بيده، قال: فَسقط الصُّوَّامُ، وقام المُفْطِرُونَ فَضربوا الْأَبْنِيَةِ، وَسَقَوْا الرِّكَاب، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ذهب المُفْطِرُونَ اليوم بالأجر".

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ روزے سے نہیں تھے۔ ہم نے ایک گرم دن میں ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ اسے میسر تھا جو چادر والا تھا۔ کچھ لوگ ہم میں سے ایسے بھی تھے جو اپنے ہاتھ سے سورج کی تپش سے بچ رہے تھے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو گر گئے اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ قائم رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان الصحابة مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في أحد أسفاره، ويحتمل أنها غزوة الفتح، فكان بعضهم مفطرًا، وبعضهم صائمًا، والنبي -صلى الله عليه وسلم- يُقر كلًّا منهم على حاله.
فنزلوا في يوم حار ليستريحوا من عناء السفر وحر الهاجرة، فلما نزلوا في هذه الهاجرة، سقط الصائمون من الحر والظمأ، فلم يستطيعوا العمل، وقام المفطرون، فضربوا الأبنية، بنصب الخيام والأخبية، وسقوا الإبل، وخدموا إخوانهم الصائمين، فلما رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- فعلهم وما قاموا به من خدمة الجيش شجعهم، وبين فضلهم وزيادة أجرهم وقال: "ذهب المفطرون اليوم بالأجر".
589;حابہ کرام ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ممکن ہے کہ یہ غزوہ فتح مکہ کا ہو، ان میں سے بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا اور بعض روزہ دار تھے۔ نبی ﷺ نے ہر ایک کو اس کی حالت پر رہنے دیا۔ سخت گرمی کے دن میں انہوں نے ایک جگہ سفر کی مشقت اور دوپہر کی گرمی سے کچھ راحت پانے کے لئے پڑاؤ کیا۔ جب انہوں نے اس گرمی میں پڑاؤ کیا تو روزہ دار لوگ گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور کوئی کام نہ کر سکے،جب کہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے اٹھ کر خیمے نصب کر کے پڑاؤ کی جگہیں بنائیں،اونٹوں کو پانی پلایا اور اپنے روزہ دار بھائیوں کی خدمت کی۔ نبی ﷺ نے جب ان کے اس عمل کو اور جس طرح سے انہوں ںے اہل لشکر کی خدمت کی تھی اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی فضیلت اور اجر میں زیادتی کو بیان کیا اور فرمایا: ”آج تو جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اجر و ثواب لے گئے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4439

 
 
Hadith   661   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- دخل مكة عام الفَتح، وعلى رأسه المِغْفَرُ، فلما نَزعه جاءه رجل فقال: ابن خَطَلٍ متعَلِّقٌ بأستار الكعبة، فقال: اقْتُلُوهُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-: «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- دخل مكة عام الفَتح، وعلى رأسه المِغْفَرُ، فلما نَزعه جاءه رجل فقال: ابن خَطَلٍ متعَلِّقٌ بأستار الكعبة، فقال: اقْتُلُوهُ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کر دو.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان بين النبي -صلى الله عليه وسلم- وبين كفار قريش عهد, وكان قد أهدر دم بعض المشركين وأمر بقتلهم، وهم تسعة فقط، فلما كان فتح مكة، دخلها -صلى الله عليه وسلم- في حالة حيطة وحذر، فوضع على رأسه المِغْفَر، ووجد بعض الصحابة ابنَ خَطَل متعلقاً بأستار الكعبة، عائذاً بحرمتها من القتل؛ لمِا يعلم من سوء صنيعه، وقبح سابقته، فتحرجوا من قتله قبل مراجعة النبي -صلى الله عليه وسلم- فلما راجعوه قال: اقتلوه، فقتل بين الحجر والمقام.

EEsin Hadith Caption Urdu


نبی ﷺ اور کفار قریش کے مابین ایک معاہدہ تھا۔ آپ ﷺ نے کچھ مشرکین کے خون کو رائیگاں قرار دیا ہوا تھا اور ان کے قتل کرنے کا حکم صادر فرما رکھا تھا۔ یہ صرف نو افراد تھے۔ جب مکہ فتح ہوا اور آپ ﷺ اس میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ بہت محتاط اور چوکنے انداز میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے اپنے سر پر خود (جنگی ٹوپی) پہن رکھی تھی۔ بعض صحابہ نے دیکھا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور ان کی حرمت کے توسط سے قتل ہونے سے بچنا چاہ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے برے طرز عمل اور جو برا سلوک وہ پہلے کرتا رہا اس سے خوب واقف تھا۔ صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے پوچھ لینے سے پہلے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ جب انہوں نے نبی ﷺ سے اس بارے میں رجوع کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کردو۔ چنانچہ اسے حجرِ اسود اور مقام ابراہیم کے مابین قتل کر دیا گیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4440

 
 
Hadith   662   الحديث
الأهمية: جعل ابن مسعود -رضي الله عنه- البيت عن يساره ومنى عن يمينه، ثم قال: هذا مَقَامُ الذي أُنْزِلَتْ عليه سورة البقرة -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب رکھا اور منی کو دائیں جانب۔ پھر فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ پر سورۂ بقرۃ نازل ہوئی۔

عن عبد الرحمن بن يزيد النَّخَعِي: «أنه حج مع ابن مسعود فرآه يَرمي الجَمْرَةَ الكبرى بسبع حصَيات، فجعل البيت عن يساره، ومِنى عن يمينه، ثم قال: هذا مَقَامُ الذي أُنْزِلَتْ عليه سورة البقرة -صلى الله عليه وسلم-».

عبد الرحمن بن يزيد نخعي بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا۔ انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو جمرہ عقبہ کی سات کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ بیت اللہ ان کے بائیں جانب تھا اور منی دائیں جانب۔ انھوں نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے، جہاں آپ ﷺ پر سورۂ بقرۃ نازل ہوئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رميُ الجمار في يوم النحر وأيام التشريق عبادة جليلة، فيها معنى الخضوع لله تعالى، وامتثال أوامره والاقتداء بإبراهيم الخليل عليه الصلاة والسلام، وأول ما يبدأ به الحاج يوم النحر هو رمي الجمرة الكبرى لتكون فاتحة أعمال ذلك اليوم الجليلة، فيقف منها موقف النبي صلى الله عليه وسلم حيث الكعبة المشرفة عن يساره ومني عن يمينه واستقبلها ورماها بسبع حصيات يكبر مع كل واحدة كما وقف ابن مسعود رضي الله عنه هكذا وأخبر أن هذا هو مقام الذي أنزلت عليه سورة البقرة، صلى الله عليه وسلم.
602;ربانی کے دن اور ایام تشریق کے دوران کنکریاں مارنا ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے فروتنی کا اظہار، اس کے احکامات کی بجا آوری اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی سنت کی پیروی ہوتی ہے۔ دس ذو الحج کو حاجی جو سب سے پہلا کام کرتا ہے وہ جمرہ کبری کی رمی ہے تا کہ اس دن کے عظیم اعمال کا آغاز اس سے ہو۔ چنانچہ وہ اس جگہ کھڑا ہوتا ہے جہاں نبی ﷺ کھڑے ہوئے تھے بایں طور کہ کعبہ مکرمہ اس کے بائیں جانب ہوتا ہے اور منیٰ دائیں جانب۔ وہ جمرہ کبری کا رخ کر کے اس پر سات کنکریاں مارتا ہے اور ہرایک کے ساتھ تکبیر کہتا ہے۔ جیسا کہ بالکل اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ پر سورۃ بقرہ نازل ہوئی تھی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4448

 
 
Hadith   663   الحديث
الأهمية: لا يَصُومَنَّ أحدكم يوم الجمعة، إلا أن يَصوم يومًا قبله أو بعده


Tema:

تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن پہلے یا اس کے ایک (دن) بعد روزہ رکھتا ہو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «لا يَصُومَنَّ أحدكم يوم الجمعة، إلا أن يصومَ يومًا قبله أو بعده».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن پہلے یا اس کے ایک (دن) بعد روزہ رکھتا ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن صوم يوم الجمعة، إلا أن يُقرن به صوم يومٍ قبله أو بعده، أو يكون ضمن صوم معتاد.
606;بی کریم ﷺ نے صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اِلاّ یہ کہ اس سے پہلے (جمعرات) یا بعد (ہفتہ) میں ایک دن کا روزہ ملایا جائے یا اُس کے معمول کے ضمن میں آ جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4449

 
 
Hadith   664   الحديث
الأهمية: يا عمر، أما شَعَرْتَ أن عمَّ الرجل صِنْوُ أبيه؟


Tema:

اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: «بعث رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عمر -رضي الله عنه- على الصدقة. فقيل: منع ابن جميل وخالد بن الوليد، والعباس عم رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما يَنْقِم ابن جميل إلا أن كان فقيرا: فأغناه الله؟ وأما خالد: فإنكم تظلمون خالدا؛ فقد احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ في سبيل الله. وأما العباس: فهي عليَّ ومثلها. ثم قال: يا عمر، أما شَعَرْتَ أن عمَّ الرجل صِنْوُ أبيه؟».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ (واپسی پر) آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن جمیل انکار نہیں کرتا ہے، مگر یہ کہ پہلے وہ فقیر تھا اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنادیا۔ رہے خالد، تو (زکوۃ کا مطالبہ کرکے) تم ان پر ظلم کررہے ہو۔ انہوں نے اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے۔ اور رہی بات عباس کی تو ان کی زکوۃ اس سال اور اگلے سال کی میرے ذمہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بعث النبي -صلى الله عليه سلم- عمر بن الخطاب، لجِبَايَةِ الزكاة، فلما جاء عمر إلى العباس بن عبد المطلب يريد منه الزكاة منعها، وكذلك خالد بن الوليد وابن جميل.
فجاء عمر إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- يشتكي هؤلاء الثلاثة.
فقال صلى الله عليه وسلم: أما ابن جميل، فليس له من العذر في منعها إلا أنه كان فقيرا فأغناه الله وهذا الإغناء يقتضي أن يكون أول الناس تسليما.
وأما خالد فإنكم تظلمونه بقولكم منع الزكاة وقد احتبس أدراعه وأعتاده في سبيل الله، فكيف يقع منع الزكاة من رجل تقرب إلى الله تعالى بإنفاق ما لا يجب عليه ثم هو يمنع ما أوجبه الله عليه فإن هذا بعيد. وأما العباس، فقد تحملها صلى الله عليه وسلم عنه.
ويحتمل أن ذلك لمقامه ومنزلته. ويدل عليه قوله: "أما علمت أن عم الرجل صِنْوُ أبيه؟".
606;بی ﷺ نے عمر بن الخطاب کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبد المطلب کے پاس زکوٰۃ لینے آئے تو انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور ایسا ہی خالد بن ولید اور ابن جمیل نے کیا۔
عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان تینوں کی شکایت کی۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابن جمیل کے پاس تو نہ دینے کا کوئی عذر نہیں ماسوا اس کے کہ وہ ایک فقیر شخص تھا جسے اللہ نے امیر بنا دیا۔ اس امیری کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کرے۔
خالد کے بارے میں یہ کہہ کر کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے تم ان پر ظلم کر رہے ہو۔ اس نے تو اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے۔ لہٰذا ایک ایسا آدمی کس طرح زکوٰۃ روک سکتا ہے جو ایسی چیز خرچ کرکے اللہ کی قربت حاصل کرتاہے جو اس پر واجب نہیں ہے، پھر وہ ایسی چیز سے انکار کردے جو اللہ نے اس پر واجب کیا ہے، یہ بہت دور کی بات ہے۔ رہی بات عباس رضی اللہ عنہ کی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری لی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا ان کے مقام و منزلت کے پیش نظر کیا ہو، جیساکہ آپ ﷺ کے اس فرمان سے پتہ چلتا ہے: کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4450

 
 
Hadith   665   الحديث
الأهمية: كنا نعطيها في زمن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صاعًا من طعام، أو صاعًا من شعير، أو صاعًا من أَقِطٍ، أو صاعًا من زبيب. أي زكاة الفطر


Tema:

ہم نبی ﷺ کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع جَوْ یا ایک صاع پنير یا ایک صاع خشک انگور نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ آئے اور گیہوں کی آمدن شروع ہوئی تو انہوں نے کہا کہ: میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے۔

عن أبي سعيد الخُدْريِّ -رضي الله عنه- قال: "كنا نعطيها في زمن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صاعًا من طعام، أو صاعًا من شعير، أو صاعًا من أَقِطٍ، أو صاعًا من زبيب، فلما جاء معاوية، وجاءت السَّمْرَاءُ، قال: أرى مُدّاً من هذه يعدل مُدَّيْنِ. قال أبو سعيد: أما أنا: فلا أزال أخرجه كما كنت أخرجه على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-".

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: ہم نبی ﷺ کے زمانہ میں صدقۂ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع جو یا ایک صاع پنير یا ایک صاع خشک انگور نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ آئے اور گیہوں کی آمدن شروع ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابھی تک صدقہ فطر اسی مقدار سے نکالتا ہوں جس مقدار سے میں نبی ﷺ کے دور میں نکالا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو سعيد -رضي الله عنه- أن الناس كانوا يدفعون زكاة الفطر على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صاعًا من طعام، فلما قدم معاوية -رضي الله عنه- المدينة في خلافته، قال: أرى أن نصف صاع من القمح الشامي يعدل صاعًا من غيرها، فتكون الزكاة من سائر الأصنف صاعًا، ومن القمح الشامي نصف صاع، وهذا اجتهادٌ منه فيما لم يرد به النص، وهو هذا النوع من القمح ويسمى السمراء، والذي حمله على ذلك أنه أغلى وأجود عند الناس من التمر والشعير والأصناف الأخرى، فأخذ الناس برأيه، أما أبو سعيد -رضي الله عنه- فأنكر هذا الرأي، والتزم بالزكاة بصاع من أي طعام كان، كما كان يخرجه في زمن النبي -صلى الله عليه وسلم-، إيثارًا للاتباع، وليحصل بالصدقة الإغناء المطلوب، ومقدار الصاع بالتقدير المعاصر ثلاث كيلو جرامات مع جبر الكسر.
575;بو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صدقۂ فطر میں خوراک کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔ جب معاویہ - رضی اللہ عنہ - اپنے عہد خلافت میں مدینہ آئے تو انہوں نے کہا کہ: میری رائے کے مطابق شامی گیہوں کا ایک صاع دوسری اشیاء کے دو صاع کے برابر ہے۔ لوگوں نے اسی کے مطابق عمل شروع کر دیا جب کہ ابو سعید - رضی اللہ عنہ - کو یہ رائے پسند نہ آئی اور وہ ایک صاع ہی صدقہ فطر دیتے رہے چاہے وہ خوراک کی کسی بھی قسم میں سے ہوتا بالکل ویسے ہی جیسے وہ نبی ﷺ کے زمانہ میں نکالا کرتے تھے۔ تاکہ نبی ﷺ کی پیروی ہو اور تاکہ صدقہ سے مطلوب آسانی میسر آسکے۔ موجودہ پیمانے کے مطابق ایک صاع کم وبیش تین کلو گرام کے برابر ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4454

 
 
Hadith   666   الحديث
الأهمية: تَسَحَّرْنَا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ثم قام إلى الصلاة. قال أنس: قلت لزيد: كم كان بين الأذان وَالسَّحُورِ ؟ قال: قَدْرُ خمسين آية


Tema:

ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔ پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنے وقت کا وقفہ ہوتا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر۔

عن أنس بن مالك عن زيد بن ثابت -رضي الله عنهما- قال: «تَسَحَّرْنَا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ثم قام إلى الصلاة. قال أنس: قلت لزيد: كم كان بين الأذان وَالسَّحُورِ؟ قال: قدر خمسين آية».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سےروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنے وقت کا وقفہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر زيد بن ثابت -رضي الله عنه- أنه -صلى الله عليه وسلم- لما تسحر قام إلى صلاة الصبح، فسأل أنس زيدًا: كم كان بين الإقامة والسحور؟ قال: "قدر خمسين آية" أي مدة قراءة خمسين آية، والظاهر أن هذا التقدير يكون من الآيات الوسط التي هي بين الطويلة جدًّا كما في آخر سورة البقرة وأول سورة المائدة والقصيرة جدًّا كما في سورة الشعراء والصافات والواقعة وما أشبه ذلك.
586;ید بن ثابت رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب سحری کھا چکے تو آپ ﷺ صبح کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اقامت اور سحری کے مابین کتنے وقت کا وقفہ ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر وقت کا وقفہ۔
ظاہری معنی یہ ہے کہ اس سے مراد درمیانی آیات ہیں جو بہت زیادہ لمبی آیات جیسا کہ سورۂ بقرہ کے آخر میں اور سورہ مائدہ کے شروع میں ہیں اور بہت زیادہ چھوٹی آیات جیسا کہ سورہ شعراء، سورہ صافات اور سورۃ واقعہ جیسی سورتوں میں ہیں ــــــــ کے مابین ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4457

 
 
Hadith   667   الحديث
الأهمية: يا معشر الأنصار، ألم أجدكم ضُلاَّلاً فهداكم الله بي؟ وكنتم متفرقين فَأَلَّفَكُمُ الله بي؟ وَعَالَةً فأغناكم الله بي؟


Tema:

اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں باہم دگر جوڑ دیا؟ کیا تم محتاج نہیں تھے کہ پھر میرے ذریعہ سے اللہ نے تمہیں غنی کردیا؟

عن عبد الله بن زيد بن عاصم قال: «لما أفَاء الله على رسوله يوم حُنَيْنٍ؛ قَسَم في الناس، وفي المُؤَلَّفَةِ قلوبهم، ولم يعطِ الأنصار شيئا. فكأنهم وجدوا في أنفسهم؛ إذ لم يُصِبْهُمْ ما أصاب الناس.
فخطبهم؛ فقال: يا معشر الأنصار، ألم أجدكم ضُلاَّلاً فهداكم الله بي؟ وكنتم متفرقين فَأَلَّفَكُمُ الله بي؟ وَعَالَةً فأغناكم الله بي؟ كلما قال شيئًا؛ قالوا: اللهُ ورسولُه أمَنُّ. قال: ما يمنعكم أن تجيبوا رسول الله؟ قالوا: الله ورسوله أمَنُّ. قال: لو شِئْتُمْ لقلتم: جئتنا كذا وكذا. أَلَا تَرْضَوْنَ أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول الله إلى رحَالِكُم؟ لولا الهجرة لكنت امْرَأً من الأنصار، ولو سلك الناس واديًا أو شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وادي الأنصار وَشِعْبَهَا. الأنصار شِعَارٌ، والناس دِثَارٌ، إنكم ستلقون بعدي أَثَرَةً ، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض».

عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ ﷺ نے اسے لوگوں اور ان افراد کے مابین تقسیم کر دیا جن کی تالیف قلبی مقصود تھی اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہ دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ لوگوں کو جو مال ملا وہ انہیں نہیں ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے ذریعے تمہیں باہم دگر جوڑ دیا؟ کیا تم محتاج نہیں تھے کہ پھر میرے ذریعہ اللہ نے تمہیں غنی کردیا؟ آپ ﷺ کے ہر جملے پر انصار بس یہی کہتے جاتے تھے کہ: اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر سب سے زیادہ احسان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کون سی شے روک رہی ہے؟ صحابہ کرام نے پھر یہی جواب دیا کہ: اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر سب سےزیادہ احسان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو مجھ سے کہہ سکتےتھے کہ آپ ہمارے پاس اس اس حال میں آئے تھے (کہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ)۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ بکریاں اور اونٹ لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف اللہ کے رسول کو ساتھ لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں رہیں میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں رہوں گا۔ انصار استر کی طرح ہیں (جو جسم سے ہمیشہ لگا رہتا ہے) اور دیگر لوگ ابرہ کی طرح۔ تم لوگ (انصار) دیکھوگے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم ایسے وقت میں صبر کر نا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما فتح الله على نبيه محمد -صلى الله عليه وسلم- من الغنائم الكثيرة في موقعة حُنَيْنٍ وبعد أن ترك حصار الطائف عاد إليها أي إلى الغنائم، فأعطى النبي -صلى الله عليه وسلم- أقوامًا حديثي عهد بالإسلام ليتألفهم فأنكر ذلك بعض الأنصار أما خيارهم فإنهم يعلمون أن تصرف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تصرف بحق فلما بلغته مقالتهم حيث قال بعضهم يعطي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الغنائم لأقوام تقطر سيوفنا من دمائهم ويدعنا، فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بجمعهم له في قبة فاجتمعوا، فقال: ما مقالة بلغتني عنكم .. إلخ ما ذكر. فعاتبهم واعترف لهم بما قدموه من نصرة له وللإسلام الذي جاء به فطابت نفوسهم وعرفوا بذلك عظيم ما ذخر الله لهم من صحبة رسوله ورجوعهم به إلى رحالهم بالإضافة إلى ما ادخره الله لهم في الدار الأخرى على ما قدموه وبذلوه فأمرهم -صلى الله عليه وسلم- بالصبر على ما سيلقونه بعده من الأَثَرَةِ.
580;ب غزوہ حنین میں اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کو فتح سے نوازا اور آپ ﷺ کے ہاتھ بہت سارا مال غنيمت آيا تو طائف کا حصار ختم کرنے کے بعد آپ ﷺ اس مال غنیمت کے پاس تشریف لائے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے یہ سارا مال ان لوگوں میں بانٹ دیا جو نئے نئے اسلام لائے تھے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔ یہ بات کچھ انصاری لوگوں کو پسند نہ آئی۔ رہے سرکردہ انصاری صحابہ تو وہ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ آپﷺ نے جو اقدام کیا ہے وہ برحق ہے۔ جب آپ ﷺ تک ان کی یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو مال غنیمت دیتے جا رہے ہیں جن کا خون ہماری تلواروں سے ہنوز ٹپک رہا ہے اور ہمیں چھوڑے جا رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک خیمے میں اکٹھا کرنے کا حکم دیا ۔ جب وہ اکٹھے ہو چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مجھ تک تمہاری کیا بات پہنچی ہے ۔ ۔ اخیر تک کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی بات پر اظہارِ ناگواری کیا اور ساتھ ہی انھوں نے آپ ﷺ کی اور آپ کے لائے ہوئے اسلام کی جو نصرت و مدد کی تھی اس کو بھی تسلیم کیا۔ اس پر وہ خوش ہو گئے اور انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے جو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت کی شکل میں اور آپ ﷺ کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جانے کی شکل میں ان کے لیے رکھ چھوڑی ہے۔ نیز انھوں نے جو خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں اس پر اللہ نے آخرت میں ان کے لیے جو حصہ محفوظ کر رکھا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اس بات سےآگاہ کیا کہ آپ ﷺ کے بعد (دوسرے لوگوں کو ) ان پر ترجیح دی جائے گی، جس پر آپ ﷺ نے انہیں صبر کرنے کی تلقین کی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4458

 
 
Hadith   668   الحديث
الأهمية: من اعتكف معي فَلْيَعْتَكِفِ العَشْرَ الأَوَاخِرَ فقد أُرِيتُ هذه اللَّيْلة ثم أُنْسِيتُهَا، وقد رَأَيْتُنِي أَسْجُد فِي ماءٍ وطِينٍ من صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي العشْر الأَوَاخِر


Tema:

جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔ مجھے یہ (قدر کی) رات دکھائی گئی، لیکن پھر بھلا دی گئی۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اسی کی صبح کو میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو۔

عن أبي سعيد الخُدْري -رضي الله عنه-: «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يَعْتَكِفُ في العَشْرِ الأَوْسَطِ من رمضان. فاعتكف عامًا، حتى إذا كانت لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ -وهي اللَّيْلَةُ التي يخرج من صَبِيحَتِهَا من اعتكافه- قال: من اعتكف معي فَلْيَعْتَكِفِ العَشْرَ الأَوَاخِرَ فقد أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثم أُنْسِيتُهَا، وقد رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ من صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، والتمسوها في كل وِتْرٍ. فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تلك الليلة، وكان المسجد على عَرِيشٍ، فَوَكَفَ المسجد، فَأبْصَرَتْ عَيْنَايَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعلى جَبْهَتِهِ أَثَرُ المَاءِ وَالطِّين من صُبْحِ إحْدَى وَعشْرِيْنَ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ ﷺ نے انہی دنوں میں اعتکاف کیا اور جب اکیسویں تاریخ کی رات آئی۔یہ وہ رات ہے جس کی صبح آپ ﷺ اعتکاف سے باہر آ جاتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔ مجھے (قدر کی) یہ رات (خواب میں) دکھائی گئی، لیکن پھر بھلا دی گئی۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اسی رات کی صبح کو میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو، چنانچہ اسی رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت چوں کہ کھجور کی شاخ سے بنی تھی اس لیے ٹپکنے لگی اور خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکیسویں کی صبح کو رسول اللہ ﷺ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو سعيد الخُدْري -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يعتكف العشر الأوسط من رمضان طلبًا لليلة القدر، فاعتكف عامًا -كعادته- حتى إذا كانت ليلة إحدى وعشرين، وهي الليلة التي كان يخرج في صبيحتها من اعتكافه، عَلِم أن ليلة القدر في العشر الأواخر، فقال لأصحابه: من اعتكف معي في العشر الوسطى، فليواصل اعتكافه وليعتكف العشر الأواخر.
وأخبر بأن الله -تعالى- أراه إياها في المنام ثم أنساه إياها، لكنه رأى في المنام لها علامات في تلك السنة وهي: سجوده في صلاة الصبح على ماء وطين.
فصدق الله رؤيا نبيه -صلى الله عليه وسلم-، فمطرت السماء ليلة إحدى وعشرين وكان مسجده -صلى الله عليه وسلم- مبنيًا كهيئة العريش، عمده من جذوع النخل، وسقفه من جريدها، فَوَكَفَ المسجد من أثر المطر، فسجد -صلى الله عليه وسلم- صبيحة إحدى وعشرين، في ماء وطين.
575;بو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ لیلۃ القدر کی تلاش میں رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے اپنی عادت کے مطابق اعتکاف کیا، جب اکیسویں شب تھی، اس کی صبح آپ اعتکاف سے اٹھ جاتے تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے۔ آپ نے صحابہ سے کہا جس نے درمیانی عشرے میں میرے ساتھ اعتکاف کیا وہ اپنا اعتکاف جاری رکھے اور آخری عشرے میں بھی اعتکاف بیٹھے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں یہ رات بتائی تھی پھر بھُلا دی گئی، تاہم اس سال آپ نے خواب میں اسے دیکھا اس رات کی کچھ علامتیں تھی۔ وہ علامت یہ تھی کہ صبح کی نماز میں آپ نے سجدہ پانی اور مٹی میں فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا خواب سچ کر دکھایا، اکیسویں شب کو بارش ہوئی اور آپ ﷺ کی مسجد چھپر کی بنی ہوئی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنے کے بنے ہوئے تھے اور چھت کھجور کے چھال کی تھی، بارش کے پانی سے مسجد ٹپکنے لگی، جس کی وجہ سے اکیسویں رمضان کی صبح آپ نے سجدہ پانی اور مٹی میں کیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4459

 
 
Hadith   669   الحديث
الأهمية: إنَّ الله أذِن لرسوله ولم يأذن لكم، وإنما أذِنَ لي ساعة من نهار، وقد عادت حُرْمَتُهَا اليوم كَحُرمتها بالأمْسِ، فلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الغائب


Tema:

اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور مجھے بھی صرٖف دن کی ایک ساعت کے لیے اجازت ملی تھی۔ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح پلٹ آئی جس طرح کل اس کی حرمت تھی۔ اب جو ہاں حاضر ہے اسےچاہئے کہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے

عن أبي شُريح -خُوَيْلِدِ بن عمرو الخُزَاعي العدوي رضي الله عنه-: أنه قال لعمرو بن سعيد بن العاص -وهو يبعث الْبُعُوثَ إلى مكة- ائْذَنْ لي أيها الأمير أن أُحَدِّثَكَ قولا قام به رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الغد من يوم الفتح؛ فسمعَتْه أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قلبي، وأبصرته عيناي حين تكلم به أنه حمد الله وأثنى عليه، ثم قال: «إن مكة حَرَّمَهَا الله تعالى، ولم يُحَرِّمْهَا الناس، فلا يحل لِامْرِئٍ يؤمن بالله واليوم الآخر: أن يسفك بها دمًا، ولا يعضد بها شجرة، فإن أحد ترخص بقتال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقولوا: إنَّ الله أذِن لرسوله ولم يأذن لكم. وإنما أذِنَ لي ساعة من نهار، وقد عادت حُرْمَتُهَا اليوم كَحُرمتها بالأمْسِ، فَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الغائب».
فقيل لأبي شريح: ما قال لك؟ قال: أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح، إن الحرم لَا يُعِيذُ عاصيا،  وَلَا فَارًّا بدمٍ، ولَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.

ابوشریح خویلد بن عمرو الخزاعی العدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید بن العاص سے، جب کہ وہ مکہ میں فوجیں بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ سے وہ بات بیان کروں جس کو رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے اگلے دن (ایک خطبہ کے دوران) ارشاد فرمایا تھا، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ بات فرماتے دیکھا ہے! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرم (حرمت والا شہر) بنایا ہے لوگوں نے اسے حرم نہیں ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس بنا پر رخصت اختیار کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں قتال کیا تو اس سے کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور مجھے بھی صرٖف دن کی ایک ساعت کے لیے اجازت ملی تھی۔ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح پلٹ آئی جس طرح کل اس کی حرمت تھی۔ اب جو ہاں حاضر ہے اسےچاہئے کہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ ابوشریح سے پوچھا گیا: عمرو بن سعید نے (یہ حدیث سن کر) آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے بتایا کہ عمرو نے کہا: اے ابو شریح! میں یہ حدیث تم سے زیادہ جانتا ہوں مگر حرم کسی نافرمان کو، یا خون کر کے بھاگے ہوئے یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما أراد عمرو بن سعيد بن العاص، المعروف بالأَشْدَق، أن يجهز جيشًا إلى مكة المكرمة وهو يومئذ أمير ليزيد بن معاوية على المدينة المنورة، لقتال عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما، جاءه أبو شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بن عمرو الخُزَاعي -رضي الله عنه-، لينصحه في ذلك.
ولكون المنصوح كبيرًا في نفسه، تلطَّف أبو شُريح معه في الخطاب، حكمة منه ورشدًا، ليكون أدعى إلى قبول النصيحة وسلامة العاقبة، فاستأذنه ليلقي إليه نصيحة في شأن بعثه الذي هو ساعٍ فيه، وأخبره أنه متأكد من صحة هذا الحديث الذي سيلقيه عليه، وواثق من صدقه إذ قد سمعته أذناه ووعاه قلبه، وأبصرته عيناه حين تكلم به النبي صلى الله عليه وسلم، فأذن له عمرو بن سعيد في الكلام.
فقال أبو شريح: إن النبي صلى الله عليه وسلم صبيحة فتح مكة حمد الله وأثنى عليه ثم قال: "إن مكة حرمها الله يوم خلق السماوات والأرض" فهي عريقة بالتعظيم والتقديس، ولم يحرمها الناس كتحريم الحمى المؤقت والمراعي والمياه، وإنما الله الذي تولَّى تحريمها، ليكون أعظم وأبلغ.
فإذا كان تحريمها قديمًا ومن الله فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر - إن كان يحافظ على إيمانه - أن يسفك بها دماً، ولا يعضدها بها شجرة.
فإن أحد ترخص بقتالي يوم الفتح، فقولوا: إنك لست كهيئة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد أُذِنَ له ولم يُؤذن لك.
على أنه لم يحل القتال بها دائمًا، وإنما هي ساعة من نهار، بقدر تلك الحاجة، وقد عادت حرمتها كما كانت، فليبلغ الشاهد الغائب.
لهذا بلغتك أيها الأمير، لكوني شاهدًا هذا الكلام، صبيحة الفتح، وأنت لم تشهده.
فقال الناس لأبي شريح: بماذا أجابك عمرو ؟ فقال: أجابني بقوله : "أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح، إن الحرم لا يُعِيذُ عاصياً ولا فارًّا بِخَرْبَةٍ"
فعارض الحديث برأيه، ولم يمتنع عن إرسال البعوث لقتال ابن الزبير، بل استمر على ذلك.
593;مرو بن سعید بن العاص جو کہ اشدق کے نام سے مشہور تھا، اس وقت یزید بن معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا امیر (گورنر) مقرر تھا۔ اس نے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ پر لشکر کشی کا ارادہ کیا، تو ابو شُریح خویلد بن عمرو الخزاعی اسے اس بابت نصیحت کرنے آئے۔
چونکہ جسے نصیحت کی جارہی تھی وہ ان کے دل میں گراں قدر تھا، اس لئے ابو شریح نے حکمت اور دانائی کے پیشِ نظر اس کے ساتھ بات کرنے میں نرمی برتی۔ تاکہ نصیحت قبول کر لی جائے اور اس کا ردِّ عمل بُرا نہ ہو۔ اس لیے ابو شُریح نے اس سے اس لشکر کشی کے بارے میں نصیحت کرنے کی اجازت چاہی جس کے لیے وہ کوشاں تھا، اور اسے بتلایا کہ وہ اس کے سامنے جو حدیث پیش کرنے جا رہے ہیں وہ بالکل صحیح ہے اور انہیں اس کی سچائی پر پورا بھروسہ ہے، اس لیے کہ اسے ان کے کانوں نے سنا ہے، ان کے دل نے یاد رکھا ہے اور ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت اللہ کے رسول ﷺ یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ تو عمرو بن سعید نے انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔
ابو شُریح نے کہا کہ فتح مکہ کی صبح آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: مکہ کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے دن ہی حرام (حرمت والا) بنایا ہے۔ اس لئے اس کی تعظیم و تقدیس بہت قدیم ہے، اسے لوگوں نے حرام نہیں کیاہے جیسے وہ عارضی محفوظ علاقے، چراگاہ اور پنگھٹ کو حرام (ممنوع) قرار دیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تحریم کا ذمہ لیا ہے، تاکہ اس کی عظمت زیادہ ہو۔
لہٰذا جب اس کی حرمت قدیم اور اللہ کی طرف سے ہے، تو پھر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے، اگر اسے اپنے ایمان کی حفاظت کا خیال ہے، جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے یا اس میں کوئی درخت کاٹے۔
اگر کوئی شخص فتح مکہ کے دن میرے قتال کی وجہ سے رخصت اختیار کرے تو اس سے کہو: تم اللہ کے رسول ﷺ کی طرح نہیں ہو۔ کیونکہ آپ ﷺ کو اس کی اجازت دی گئی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
(آپ ﷺ ) کے لیے بھی اس میں قتال کرنا ہمیشہ کے لئے حلال نہیں کیا گیا، بلکہ بقدر ضرورت صرف دن کی ایک گھڑی میں آپ کو اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت پہلے ہی کی طرح پلٹ آئی۔ لہٰذا حاضر کو چاہیئے کہ وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔
لہٰذا اے امیر! میں نے تمہیں یہ پیغام پہنچادیا، کیونکہ فتح مکہ کی صبح اس حدیث کے بیان کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ وہاں موجود نہیں تھے۔
لوگوں نے ابوشُریح سے کہا کہ عمرو نے تمہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے فرمایا: اس نے مجھے اس طرح جواب دیا: اے ابو شُریح! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔
اس نے حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کے لئے لشکر کشی سے باز نہ آٰیا، بلکہ اسے جاری رکھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4491

 
 
Hadith   670   الحديث
الأهمية: لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية، وإذا اسْتُنْفِرْتُم فَانْفِرُوا


Tema:

فتح مکہ کے بعد ہجرت (مکہ سے مدینہ کے لیے) باقی نہیں رہی۔ البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اس لیے جب تمھیں جہاد کے لیے بلایا جائے، تو فوراً نکل کھڑے ہو۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوم فتح مكة: «لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية. وإذا اسْتُنْفِرْتُم فَانْفِرُوا. وقال يوم فتح مكة: «إن هذا البَلد حَرَّمَهُ الله يوم خلق الله السموات والأرض، فهو حَرَامٌ بحُرْمَةِ الله إلَى يوم القيامة، وإنه لم يحل القتال فيه لِأَحَدٍ قَبْلِي، ولم يَحِلَّ لي إلا ساعة من نهار، حرام بِحرمة الله إلى يوم القيامة، لا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إلا من عَرَّفَهَا، ولاَ يُخْتَلَى خَلاَهُ». فقال العباس: يا رسول الله، إلا الإِذْخِرَ؛ فإنه لِقَيْنِهِمْ وبيوتهم؟ فقال: «إلا الإِذْخِرَ».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا:”فتح مکہ کے بعد ہجرت (مکہ سے مدینہ کے لیے) باقی نہیں رہی۔ البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اس لیے جب تمھیں جہاد کے لیے بلایا جائے، تو فوراً نکل کھڑے ہو۔“
فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، اسی دن سے اس نے اس شہر کو حرمت والا بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ کی دی گئی حرمت کی وجہ سے وہ قیامت کے دن تک کے لیے حرمت والا ہے۔ مجھ سے پہلے اس میں کسی کے لیے قتال کرنا حلال نہیں تھا۔ میرے لیے صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا۔ اب یہ دوبارہ اللہ کی دی گئی۔ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لیے حرمت والا ہو گیا ہے۔ نہ تو اس (میں موجود کسی درخت) کا کانٹا اکھاڑا جائے گا، نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے گا اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جاۓ گا، سوائے اس شخص کے جو اعلان کرتے ہوئے (مالک تک پہنچانے کے ارادے سے) اسے اٹھائے اور نہ ہی اس کا گھاس کاٹا جائے گا۔
عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! سوائے اذخر گھاس کے۔ یہ لوگوں کی بھٹیوں اور ان کے گھروں کی ضرورت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ سوائے اذخر گھاس کے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما-، أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قام خطيبًا يوم فتح مكة، فقال: لا هجرة أي من مكة ؛ لأنها صارت بلاد إسلام، ولكن بقي الجهاد في سبيل الله، وأمر من طلب منه الخروج إلى الجهاد أن يخرج طاعة لله وطاعة لرسوله وأولي الأمر، ثم ذكر حرمة مكة، وأن ذلك منذ خلق الله السموات والأرض وأنها لم تحل لأحد قبل النبي -صلى الله عليه وسلم-  ولن تحل لأحد بعده وإنما أُحلت له ساعة من نهار، ثم عادت حرمتها ، ثم ذكر حرمة مكة وأن لا يُعضد شوك الحرم ولا يُنَفَّرُ صيده ولا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُه إلا لمن يريد تعريفها، ولا يؤخذ خلاه وهو العلف والحشيش واستثني من ذلك الإذخر لمصلحة أهل مكة، وذلك أن الحدادين يستعملونه في إيقاد النار لأعمالهم.
593;بد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لا ھجرۃ ۔ یعنی مکے سے مدینے کی طرف اب ہجرت فرض نہیں؛ کیوں کہ اب یہ اسلامی علاقہ بن چکا ہے۔ تاہم جہاد کی فرضیت ہنوز باقی ہے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ جس سے جہاد پر جانے کے لیے کہا جائے، وہ اللہ، اس کے رسول اور حکمران کی اطاعت میں جہاد کے لیے نکل کھڑا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ کی حرمت بیان کی اور فرمایا کہ جب سے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کی ہے، تب سے یہ حرمت والا ہے اور یہ کہ نبی ﷺ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ آپ ﷺ کے لیے صرف دن کے کچھ وقت کے لیے حلال ہوا تھا، بعدازاں اس کی حرمت لوٹ آئی۔ آپ ﷺ نے مکے کی حرمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ تو حرم میں موجود کوئی کانٹا اکھاڑا جائے گا، نہ اس میں موجود شکار کے جانوروں کو بھگایا جائے گا اور نہ ہی اس میں کسی گری پڑی چیز کو اٹھانا کسی کے لئے جائز ہے؛ سوائے اس شخص کے جو لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے اسے اٹھائے (تا کہ اسے اس کے مالک تک پہنچا سکے) اور نہ ہی اس میں موجود چارہ اور سبز گھاس وغیرہ کاٹی جائے۔ تاہم اہل مکہ کی مصلحت کے پیش نظر آپ ﷺ نے اس حکم سے اذخر گھاس کو مستثنی کر دیا۔ کیوں کہ لوہار اپنے کام کی خاطر آگ جلانے کے لیے اس کا استعمال کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4494

 
 
Hadith   671   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يعتكف في الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ من رمضان، حتى توفاه الله -عز وجل-، ثم اعتكف أزواجه بعده


Tema:

رسول ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔ پھر اس کے بعد آپ کے بیویوں نے بھی اعتکاف کیا۔

عن عائشة -رضي الله عنها-: «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يعتكف في الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ من رمضان، حتى توفاه الله -عز وجل-، ثم اعتكف أزواجه بعده».
وفي لفظ «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَعتكِفُ في كلِّ رمضان، فإذا صلى الغَدَاةَ جاء مكانه الذي اعْتَكَفَ فيه».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔آپ کے بعد آپ کی ازواج اعتکاف بیٹھتی تھی‘۔
ایک دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں: آپ ﷺ ہر رمضان میں اعتکاف بیٹھتے تھے، جب فجر کی نماز پڑھاتے تو اپنے اعتکاف کے حُجرے میں آ جاتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يعتكف في العشر الأواخر من رمضان، طلبًا لليلة القدر، بعد أن عَلم أنها في العشر الأواخر، وأنه لازمَ ذلك حتى توفاه الله -تعالى-.
وأشارت -رضي الله تعالى عنها- إلى أن الحكم غير منسوخ، ولا خاص بالنبي -صلى الله عليه وسلم-، فقد اعتكف أزواجه من بعده -رضي الله عنهن- .
وفي اللفظ الثاني: تبين -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا صلى صلاة الفجر دخل معتكفه؛ ليتفرغ لعبادة ربه ومناجاته، ويكون تحقيق ذلك بقطع العلائق عن الخلائق.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ نبی ﷺ لیلۃ القدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے جب سے آپ ﷺ کو اس کے آخری عشرہ میں ہونے کا پتہ چلا تھا اور موت تک اس کی پابندی فرماتے رہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اعتکاف کا حکم منسوخ نہیں اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے ساتھ خاص تھا، اس لیے کہ آپ کے بعد آپ کی ازواج رضی اللہ عنہن نے(بھی) اعتکاف کیا۔
دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ (رمضان میں) جب فجر کی نماز پڑھاتے تو اپنے اعتکاف کے حُجرے میں چلے جاتے، تاکہ اپنے رب کی عبادت اور اس کے ساتھ مناجات کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرلیں اور یہ (تفرّغ) مخلوق سے تعلقات ختم کرکے ہی حاصل ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4495

 
 
Hadith   672   الحديث
الأهمية: تَسَحَّرُوا؛ فإن في السَّحُورِ بَركة


Tema:

سحری کھایا کرو، اس لیےکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- «تَسَحَّرُوا؛ فإن في السَّحُورِ بَركة».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو، اس لیےکہ سحری میں برکت ہوتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بالتَّسَحُّرِ، الذي هو الأكل والشرب وقت السحر، استعدادًا للصيام، ويذكر الحكمة الإلهية فيه، وهى حلول البركة، والبركة تشمل منافع الدنيا والآخرة.
فمن بركة السَّحُورِ، ما يحصل به من الإعانة على طاعة الله -تعالى- في النهار.
ومن بركة السَّحُورِ أن الصائم إذا تسحر لا يمل إعادة الصيام، خلافا لمن لم يتسحر، فإنه يجد حرجا ومشقة يثقلان عليه العودة إليه.
ومن بركة السَّحُورِ، الثواب الحاصل من متابعة الرسول -عليه الصلاة والسلام-، ومخالفة أهل الكتاب.
ومن بركته إذا قام للسحور ربما صلى وربما تصدق على بعض المحاويج الذين يعلمهم، بل وربما قرأ شيئاً من القرآن.
ومن بركة السَّحُورِ، أنه عبادة، إذا نوي به الاستعانة على طاعة الله -تعالى-، والمتابعة للرسول -صلى الله عليه وسلم-، ولله في شرعه حكم وأسرار.
ومن أعظم الفوائد فيه الاستيقاظ لصلاة الفجر ولهذا أمر بتأخير السَّحُورِ حتى لا ينام بعده فتفوت عليه صلاة الفجر بخلاف من لم يتسحر، وهذا مشاهد، فإن عدد المصلين في صلاة الصبح مع الجماعة في رمضان أكثر من غيره من أجل السَّحُورِ.
570;پ ﷺ سحری کھانے کا حکم فرما رہے ہیں۔ جو کہ روزے کی تیاری کے لیے طلوعِ فجر سے پہلے کھانے پینے کو کہتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکمت بھی ذکر کر رہے ہیں،اور وہ ہے برکت کا نزول اور برکت دنیا و آخرت کے منافع پر مشتمل ہے۔
سحری کی ایک برکت یہ ہے کہ اس کے ذریعے دن میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مدد ملتی ہے۔
اسی طرح سحری کھانے کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ روزہ دار مسلسل روزہ رکھنے سے اکتاتا نہیں، بخلاف اس شخص کے جو سحری نہیں کھاتا، وہ حرج اور پریشانی محسوس کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر دوبارہ روزہ رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
سحری کی ایک برکت یہ ہے کہ اس سے آپ ﷺ کا اتباع اور اہلِ کتاب کی مخالفت کرکے ثواب حاصل ہوتا ہے۔
سحری کی برکت یہ بھی ہے کہ سحری کے لیے اٹھنے سے بسااوقات نماز بھی پڑھ لی جاتی ہے اور کبھی بعض ضرورتمندوں پر صدقہ کرنے کی بھی توفیق مل جاتی ہے،بسا اوقات قرآن کی تلاوت کا بھی موقع مل جاتا ہے۔
سحری کی برکتوں میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اُس وقت ایک عبادت بن جاتی ہے جب اس سے اللہ کی اطاعت پر مدد حاصل ہونے اور آپ ﷺ کی پیروی کرنے کی نیت کی جائے ۔ علاوہ ازیں اللہ کی شریعت میں اور بھی کئی حکمتیں اور راز ہوتے ہیں۔
سحری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فجر کی نماز کے لیے اٹھا جاتا ہے، اسی وجہ سے سحری کو مؤخر کرنے کاحکم دیا گیا ہے تاکہ اس کے بعد سویا نہ جائے کہ کہیں فجر کی نماز فوت نہ ہوجائے، بخلاف اس شخص کے جو سحری نہیں کرتا۔ اس کا مشاہدہ ہوچکا ہے کہ رمضان میں سحری کی وجہ سے فجر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد غیررمضان کی بنسبت زیادہ ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4498

 
 
Hadith   673   الحديث
الأهمية: عليكم بِرُخْصَة الله الَّذِي رَخَّصَ لكم


Tema:

اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: «كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سفر. فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قد ظُلِّلَ عليه، فقال: ما هذا؟ قالوا: صائم. قال: لَيْسَ مِنَ البِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ»، وفي لفظ لمسلم: « عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ الله الَّذِي رَخَّصَ لكم».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے،آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے کہا:روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے“۔ اور مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يُخبر جابر -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان في سفره عام الفتح في رمضان فرأى الناس متزاحمين ورجلا قد ظُلل عليه وكان مُضْطَجِعًا، كما في رواية ابن جرير، فسألهم عن أمره. قالوا: إنه صائم وبلغ به الظمأ هذا الحد.
فقال -صلى الله عليه وسلم-: إن الصيام في السفر ليس من البر، ولكن عليكم بِرُخْصَةِ الله التي رخص لكم. فهو لم يرد منكم بعبادته تعذيب أنفسكم، وهذا في حال المشقة الشديدة، وجاءت نصوص أخرى بجواز الصيام في السفر.
580;ابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رمضان کے مہینے میں آپ ﷺ سفر میں تھے، تو ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ انہوں نے ایک لیٹے ہوئے شخص پر سایہ کیا ہوا ہے (جیسا کہ ابن جریر کی روایت میں ہے)، آپﷺ نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ روزہ دار ہے اور زیادہ پیاس کی وجہ سے اس کا یہ حال ہو گیا ہے۔
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں، اللہ نے تمہیں جو رخصت دے رکھی ہے اس پر عمل کرو، وہ تمہیں اپنی عبادت کا مکلف کرکے تمہیں عذاب نہیں دینا چاہتا۔ سفر میں روزہ نہ رکھنے کا حکم شدید مشقت کی صورت میں ہے، ورنہ سفر میں روزہ رکھنے کے جواز میں دوسری روایتیں موجود ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4503

 
 
Hadith   674   الحديث
الأهمية: خَرَجْنَا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم- في شهر رمضان، في حَرٍّ شَدِيدٍ، حتى إن كان أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ على رأسهِ من شِدَّةِ الْحَرِّ، وما فِينَا صائمٌ إلا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعبد الله بن رَوَاحَةَ


Tema:

ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔

عن أَبِي الدَّرْدَاءِ -رضي الله عنه- قال: «خَرَجْنَا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في شهر رمضان، في حَرٍّ شَدِيدٍ ، حتى إن كان أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ على رأسهِ من شِدَّةِ الْحَرِّ. وما فِينَا صائمٌ إلا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- وعبد ُالله بن رَوَاحَةَ».

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو الدَّرْدَاءِ -رضي الله عنه- أنهم خرجوا في سفر في شهر رمضان، وكان ذلك في حرٍ شديد، حتى إنه من شدة الحر ليَضع الرجل يده على رأسه ليقي رأسه بيده من شدة الحر ، وما فيهم صائم إلا النبي -صلى الله عليه وسلم-، وعبد الله بن رَوَاحَةَ الأنصاري -رضي الله عنه-، فقد تحملا الشدة وصاما، مما يدل على جواز الصيام في السفر مع المشقة التي لا تصل إلى حد التَّهْلُكَةِ.
575;بو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمارہے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، یہ سخت گرمی کا زمانہ تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے کوئی شخص اپنے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تاکہ ہاتھ کے ذریعہ سر، گرمی کی شدت سے بچ جائے۔ ان میں صرف اللہ کے رسولﷺ اور عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ انھوں نے گرمی کو برداشت کرکے روزہ رکھ لیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں اگر مشقت اس حد تک نہ ہو کہ بندہ اس سے ہلاک ہو جائے تو روزہ رکھنا جائز ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4505

 
 
Hadith   675   الحديث
الأهمية: أن رجلاً سأل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الصيام في السفر فقال: إن شئتَ فصُم، وإن شئت فَأَفْطِرْ


Tema:

ایک شخص نے آپ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- : "أن حَمْزَةَ بن عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قال للنبي -صلى الله عليه وسلم-: أصوم في السفر؟ - وكان كثير الصيام- فقال: "إن شئتَ فصُم، وإن شئت فَأَفْطِرْ".

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ (اور وہ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے)، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔
أخبرت عائشة -رضي الله عنها- أن حَمْزَةَ بن عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ -رضي الله عنه- سأل النبي -صلى لله عليه وسلم- عن الصوم في السفر؟ 

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فخيره النبي -صلى الله عليه وسلم- بين الصيام والفطر، فقال: "إن شئت فصم، وإن شئت فأفطر".
ومراده بالصوم هنا: صوم الفريضة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "هي رُخْصَةٌ من الله".
وهذا يشعر ؛ بأنه سأل عن صيام الفريضة، ويدل لذلك ما أخرجه أبو داود ، قال رضي الله عنه :  يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ.." الحديث.
ويحتمل أنه سؤال عن الصوم مطلقًا الواجب والنفل؛ لقولها: (وكان كثير الصيام).
ومن هذا يتبين، أن الفطر في السفر رخصة من الله ، فمن أخذ بالرخصة أصاب ومن صام جاز له ذلك، واعتبر صيامه مؤدياً للواجب عليه.
575;م المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بتا رہی ہیں کہ حمزہ بن عمرو الاسلمیّ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے یہ پوچھا کہ کیا میں سفر میں روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔
یہاں پر روزہ سے مراد فرض روزہ ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال فرض روزوں کے بارے میں تھا۔ اس کی دلیل ابو داؤد کی روایت کردہ یہ حدیث ہے کہ۔ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں صاحبِ سواری ہوں، جسے میں استعمال میں لاتا ہوں، کبھی اس پر خود سفر کرتا ہوں،اور کبھی اسے کرایہ پر دیتا ہوں۔ اور بسا اوقت (دورانِ سفر) یہ مہینہ یعنی رمضان آجاتا ہے اور میں (روزہ رکھنے کی) طاقت رکھتا ہوں... الحدیث۔
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ سوال مطلق روزہ رکھنے کے بارے میں تھا، چاہے وہ واجب ہو یا نفل، کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے: ”اور وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے تھے“۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفر میں روزه نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ جس نے رخصت کو لے لیا، اس نے درست کیا اور جس نے روزہ رکھا اس کے لئے یہ جائز ہے۔ اور اس کے روزہ کو واجب کا ادا کرنے والا سمجھا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4507

 
 
Hadith   676   الحديث
الأهمية: لا تَقَدَّمُوا رمضان بصوم يوم، أو يومين إلا رجلاً كان يصوم صومًا فَلْيَصُمْهُ


Tema:

رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو۔ مگر جو شخص (پہلےسے) روزے رکھ رہا ہو وہ یہ روزہ رکھ لے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تَقَدَّمُوا رمضان بصوم يوم، أو يومين إلا رجلًا كان يصوم صومًا فَلْيَصُمْهُ».

ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو۔ مگر جو شخص (پہلےسے) روزے رکھ رہا ہو وہ یہ روزہ رکھ لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى عن التقدم في صيام رمضان بصوم يوم أو يومين قبله متصلا به إلا أن يكون له عادة بصوم يوم معين كيوم الاثنين مثلا، فيصادف ذلك قبل رمضان بيوم أو يومين، فلا بأس بذلك حينئذ؛ لزوال المحذور؛ وهو إدخال ما ليس من العبادة فيها.
575;س حدیث میں ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ یہ بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے رمضان کے روزے کے سلسلے میں اس سے متصل ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ اگر کسی شخص کی کسی مخصوص دن کا روزہ رکھنے کی عادت ہو جیسے مثال کے طور پر پیر کے دن کا روزہ رکھنے کی عادت ہو اور یہ روزہ رمضان سے ایک دو دن پہلے پڑ جائے، تو اس وقت اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیوں کہ قابل احتراز شے ختم ہوگئی اور وہ غیر عبادت کو عبادت میں داخل کرنا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4508

 
 
Hadith   677   الحديث
الأهمية: ليس على المُسلِم في عبدِهِ وَلاَ فَرَسهِ صَدَقَة


Tema:

مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوۃ نہیں ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «ليس على المُسلِم في عبدِهِ وَلاَ فَرَسهِ صَدَقَة».   وفي لفظ: «إلا زكاة الفِطر في الرقيق».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوۃ (فرض) نہیں ہے“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”مگر غلام میں زکوۃ فطر واجب ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مبنى الزكاة على المساواة والعدل، لذا أوجبها الله تعالى في أموال الأغنياء النامية والمعدة للنماء، كالخارج من الأرض، وعروض التجارة.
أما الأموال التي لا تنمو -وهي باقية لِلقُنية والاستعمال- فهذه ليس فيها زكاة على أصحابها؛ لاختصاص المسلم بها لنفسه.
وذلك كمركبه، من فرس، وبعير، وسيارة، وكذلك عبده المعد للخدمة، وفرشه وأوانيه المعدة للاستعمال.
لكن يستثنى من ذلك زكاة الفطر للعبد، فإنها تجب وإن لم يُعدَّ للتجارة، لأنها متعلقة بالبدن لا بالمال.
586;کوۃ کی بنیاد مساوات اور عدل پر قائم ہے اسی لیے اللہ تعالی نے مالداروں کے ان اموال میں زکوۃ کو واجب کیا جو بڑھنے والے ہوں اور جو بڑھوتری اور اضافے کے لیے تیار کیے گئے ہوں جیسے زمینی پیداوار اور سامان تجارت۔
البتہ وہ اموال جو بڑھتے نہیں ہیں - یعنی وہ اپنے لیے مخصوص اور ذاتی استعمال کے لئے ہوتے ہیں - ان میں صاحب مال پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مسلمان کی خود اپنی ذات کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔جیسے اس کی سواری مثلا گھوڑا،اونٹ اور گاڑی، اور اسی طرح خدمت کے لئے رکھا گیا غلام، اس کے استعمال میں آنے والے بستر اور برتن۔لیکن اس سے غلام کا صدقہ فطر مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ واجب ہے اگرچہ غلام تجارت کے لئے نہیں ہے، کیوں کہ صدقۂ فطر کا تعلق بدن سے ہوتا ہے نہ کہ مال سے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4519

 
 
Hadith   678   الحديث
الأهمية: فَرَضَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صَدَقَةَ الفِطر -أو قال رمضان- على الذَّكر والأنثى والحُرِّ والمملوك


Tema:

نبی ﷺ نے صدقہ فطر یا یہ کہا کہ صدقہ رمضان مرد، عورت، آزاد اور غلام پر فرض قرار دیا تھا

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «فَرَضَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صَدَقَةَ الفطر -أو قال رمضان- على الذَّكر والأنثى والحُرِّ والمملوك: صاعا من تمر، أو صاعا من شعير، قال: فَعَدَل الناس به نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، على الصغير والكبير».
 وفي لفظ: « أن تُؤدَّى قبل خروج الناس إلى الصلاة»

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے صدقہ فطر یا یہ کہا کہ صدقہ رمضان مرد، عورت، آزاد اور غلام (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض قرار دیا تھا۔ پھر لوگوں نے ہر چھوٹے بڑے کے لیے آدھا صاع گیہوں اس کے برابر قرار دے لیا۔
اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اِسے لوگوں کے نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دینا چاہیے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أوجب النبي -صلى الله عليه وسلم- صدقة الفطر على جميع المسلمين: الذين يملكون زيادة عن قوتهم في ذلك اليوم بمقدار الصاع، كبيرهم، وصغيرهم، ذكرهم وأنثاهم، حرهم وعبدهم، أن يخرجوا صاعا من تمر، أو صاعا من شعير.
ليكون دليلًا على البذل والمواساة في حق أغنياء المسلمين، ففرض زكاة الفطر وجعل هذا الفرض متجهاً على رئيس الأسرة وكافل العائلة يقوم به عمن تحت يده من النساء والأطفال والمماليك.
606;بی ﷺ نے ان تمام بڑے چھوٹے، مرد و عورت اور آزاد و غلام مسلمانوں پر جن کے پاس اس دن اپنے استعمال سے ایک صاع کی مقدار کے برابر زائد اناج ہو فرض کیا کہ وہ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو بطورِ صدقہ فطر ادا کریں۔
تاکہ یہ مال دار مسلمانوں کی طرف سے انفاق و غمخواری کی علامت ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صدقۂ فطر کو فرض قرار دیا اور اس کی ادائیگی سربراہ خاندان اور اس کے کفیل کو سونپ دی جس کی زیر نگرانی عورتیں، بچے اور غلام و باندیاں ہوں کہ وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4520

 
 
Hadith   679   الحديث
الأهمية: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مَسِيرَةَ يومٍ وليلةٍ ليس معها حُرْمَةٌ


Tema:

کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مَسِيرَةَ يومٍ وليلةٍ ليس معها حُرْمَةٌ ». 
وفي رواية: «لا تُسافر مَسِيرَةَ يومٍ إلا مع ذي مَحْرَم».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے“۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ”عورت ایک دن کا سفر نہ کرے مگر محرم کے ساتھ ہی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المرأة مظنة الشهوة والطمع، وهي لا تكاد تقي نفسها لضعفها ونقص عقلها، ومن ثَمَّ كان من الضروري، أن يخرج معها زوجها أو أحد محارمها؛ يصون عرضها ويحفظ كرامتها من أن يُعتدى عليها، ولهذا اشترطوا أن يكون المَحْرَم بالغًا عاقلًا؛ ليتحقق به المقصود.
وناشدها الشارع في إيمانها بالله واليوم الآخر، إن كانت تحافظ على هذا الإيمان، وتنفذ مقتضياته، أن لا تسافر إلا مع ذي مَحْرَم.
593;ورت شہوت اور طمع کی آماجگاہ ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور عقلی ناپختگی کی وجہ سے کم ہی اپنے آپ کو بچا پاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سفر میں اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم ہو جو اس کی عزت و شرف کی حفاظت کرے اور اسے زیادتی سے بچائے۔ اسی وجہ سے فقہاء نے شرط لگائی ہے کہ یہ محرم بالغ و عاقل ہو تا کہ اس کے ساتھ ہونے کا جو مقصد ہے وہ حاصل ہو سکے۔
اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ اور یوم آخرت کے واسطے سے یہ تلقین دی کہ اگر وہ اس ایمان کی حفاظت کرتی ہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے تو پھر اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4521

 
 
Hadith   680   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يُدْرِكُهُ الفجر وهو جُنٌبٌ من أهله، ثم يغتسل ويصوم


Tema:

فجر ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے تھے۔ پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔

عن عائشة وأم سلمة -رضي الله عنهما- «أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يُدْرِكُهُ الفجر وهو جُنٌبٌ من أهله، ثم يغتسل ويصوم ».

عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (کبھی ایسا ہوتا کہ) فجر ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے تھے۔ پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة وأم سلمة -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يجامع في الليل، وربما أدركه الفجر وهو جنب لم يغتسل، ويتم صومه ولا يقضي، وكان إخبارهما بذلك جوابا لمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ حين بعث إليهما؛ ليسألهما عن ذلك.
وهذا الحكم في رمضان وغيره.
593;ائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ رات کو جماع فرماتے اور کبھی ایسا ہوتا کہ طلوع فجر ہو جاتی اور آپ ﷺ ابھی تک جنبی ہی ہوتے اور آپ ﷺ نے غسل نہ کیا ہوتا۔ آپ ﷺ اپنا روزہ پورا کرتے اور اسے قضا نہیں کرتے تھے۔ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے یہ بات مروان بن حکم کو اس وقت بتائی تھی، جب اسے اس مسئلے کے بارے میں پوچھنے کے لیے ان کے پاس بھیجا گیا تھا۔
یہ حکم رمضان اور غیر رمضان ہر قسم کے روزے کا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4522

 
 
Hadith   681   الحديث
الأهمية: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن صوم يومين: الفطر والنحر، وعن اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وأن يَحْتَبِيَ الرَّجُل في الثوب الواحد، وعن الصلاة بعد الصبح والعصر


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے دو دن یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے، ایک کپڑے کو سارے بدن پر لپیٹنے سے، ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: «نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن صوم يومين: الفطر والنحر، وعن اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وأن يَحْتَبِيَ الرجل في الثوب الواحد، وعن الصلاة بعد الصبح والعصر».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دن یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے، ایک کپڑے کو سارے بدن پر لپیٹنے سے، ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اور صبح اور عصر (کی نماز) کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث، عن صيام يومين، وعن لبستين، وعن صلاتين.
فأما اليومان المحرم صومهما، فيوم الفطر، ويوم النحر، وحكمة تحريم الصيام فيهما أنه لا يناسب الصوم في يوم الأكل والسرور.
وأما اللبستان، فاشتمال الصَّمَّاءِ، والِاحْتِبَاء بثوب واحد، وهو أن يقعد الرجل على إليتيه وينصب ساقيه ويشدهما بيديه أو بثوب واحد، وأما اشتمال الصماء فهو أن يرتدي الرجل ثوبًا ليس له منافذ، وقد قُيد في رواية البخاري: " إذا لم يكن على فرجه منه شيء".
وأما الصلاتان، فالصلاة بعد صلاة الصبح، والصلاة بعد صلاة العصر؛ لسد الذريعة عن التشبه بالكفار الذين يسجدون للشمس عند طلوعها وعند غروبها، ولكن يجوز أن يصلي فيهما الفريضة إذا لم يصلها وكذلك ذوات الأسباب.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے دو دن روزہ رکھنے، دو طرح سے لباس پہننے اور دو قسم کی نمازوں سے منع فرمایا ہے:
دو دن جن میں روزہ رکھنا حرام ہے وہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ہیں۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت میں حکمت یہ ہے کہ کھانے پینے اور خوشی کے دن میں روزہ رکھنا مناسب نہیں۔
دو طرح سے پہناوے جو حرام ہیں وہ ’اِشتمالُ الصَمَّاء‘ اور ’احتباء‘ ہیں۔
’احتباء‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی سرین پر بیٹھے دونوں زانوں کو کھڑا کرے بایں کور کہ انھیں ہاتھ سے پکڑا رکھے یا پھر کسی کپڑے سے باندھ لے۔
’اِشتمالُ الصَمَّاء‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ہی کپڑے میں اپنے بدن پر اس طرح لپیٹ لے اور جسم کہیں سے کھلا نہ رہے، صحیح بخاری کی روایت میں یہ قید ہے: ”جب کہ اس شخص کی شرم گاہ پر کوئی شے نہ ہو“۔
دو قسم کی نمازیں جو ممنوع ہیں وہ صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد کی نمازیں ہیں، یہ ممانعت کفار کی مشابہت سے بچنے کے لئے سد ذریعہ کے طور پر ہے جو سورج کے طلوع و غروب کے اوقات میں سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔تاہم ان اوقات میں فرض نماز پڑھنا جائز ہے اگر اس نے اسے نہ پڑھا ہو، اسی طرح وہ نمازیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں جن کا کوئی سبب ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4523

 
 
Hadith   682   الحديث
الأهمية: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الْوِصَالِ. قالوا: إنك تواصل؟ قال: إني لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إني أُطْعَمُ وَأُسْقَى


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الْوِصَالِ، قالوا: إنك تواصل؟ قال: إني لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إني أُطْعَمُ وَأُسْقَى».

وفي رواية أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه-: «فَأَيُّكُمْ أراد أن يواصل فليواصل إلى السَّحَرِ». br>عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپﷺ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمھاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے“۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو سحری کے وقت تک وصال کر لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه عن الْوِصَالِ رحمة بهم وإشفاقاً عليهم، ولكن الصحابة لمحبتهم للفضل وحرصهم على ما يقرب من الله رغبوا في الْوِصَالِ تأسياً بالنبي في كونه يواصل وقالوا: إنك تواصل، فأخبرهم بأنه له مُطعِم يطعمه وساق يسقيه بما يعوضه عن الطعام والشراب، ولكن من أراد منكم الوصال، فله أن يواصل إلى السَّحَرِ.
فالشريعة الإسلامية سمحة مُيَسَّرة لا عَنَتَ فيها ولا مشقة، ولا غٌلُوُّ ولا تعمق؛ لأن في ذلك تعذيباً للنفس وإرهاقاً لها، واللَه لا يكلف نفساً إلا وسعها.
ولأن التيسير والتسهيل أبقى للعمل وأسلم من السأم والملل، وفيه العدل الذي وضعه الله في الأرض، وهو إعطاء الله ما طلبه من العبادة، وإعطاء النفس حاجتها من مقوماتها.
606;بی ﷺ نے اپنے صحابہ کو رحمت و شفقت کے بہ سبب صوم وصال سے منع فرمایا۔ تاہم صحابہ چوں کہ فضیلت پانے کی چاہت اور ہر ایسا عمل کرنے کی حرص رکھتے تھے، جو انھیں اللہ کے قریب کر دے، اس لیے ان کی خواہش تھی کہ وہ نبی ﷺ کے صوم وصال میں اقتدا کریں۔ اس لیے وہ کہنے لگے: آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے انھیں فرمایا کہ انھیں تو ایک ذات کھلاتی اور پلاتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ سحری کے وقت تک وصال کرے۔
شریعت اسلامی بہت کشادہ اور آسان ہے۔ اس میں نہ کوئی مشکل ہے، نہ مشقت اور نہ ہی غلو اور تعمق۔ کیوں کہ صوم وصال نفس کو عذاب میں مبتلا کرنے اور مشقت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
نیز یہ کہ آسانی اور سہولت کی وجہ سے عمل زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے۔ تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں اس عدل کا ذکر ہے، جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے۔ یعنی اللہ کا مطالبۂ عبادت پورا کیا جائے اور نفس کو وہ چیزیں عطا کی جائیں، جو اس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4524

 
 
Hadith   683   الحديث
الأهمية: من نَسِيَ وهو صَائِمٌ فأَكل أو شَرِب، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ الله وَسَقَاهُ


Tema:

جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فأَكل أو شَرِب، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ الله وَسَقَاهُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بُنيت الشريعة الإسلامية على اليسر والسهولة، والتكليف بقدر الطاقة، وعدم المؤاخذة بما يخرج عن الاستطاعة أو الاختيار.
ومن ذلك : أن من أكل أو شرب، أو فعل مفطراً غيرهما في نهار رمضان، أو غيره من الصيام، فَلْيُتِمَّ صَومه، فإنه صحيح؛ لأن هذا ليس باختياره، فما فعله الإنسان ناسياً من غير نية فإنه لا يقدح في صومه ولا يؤثر فيه وإنما هو من الله الذي أطعمه وسقاه.
575;سلامی شریعت کی بنیاد آسانی اور سہولت پر رکھی گئی ہے۔ حسب طاقت ہی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے اور جو شے استطاعت اور اختیار میں نہ ہو اس پر مواخذہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ جس شخص نے بھول چوک سے رمضان میں یا اس کے علاوہ کسی اور روزے میں کچھ کھا پی لیا یا ان کے علاوہ کوئی اور ایسا کام کر لیا جو روزہ ٹوٹ جانے کا سبب ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کا روزہ صحیح ہے اس لیے کہ ایسا اس کے اختیار سے نہیں ہوا۔ جو شے انسان بلا نیت بھول کر کرے وہ اس کے روزے کے لیے کچھ بھی مضر نہیں ہوتی اور اس پر کوئی اثر نہیں ڈالتی بلکہ یہ سب تو اس کے اللہ کی طرف سے ہوا ہوتا ہے جس نے اسے کھلایا اور پلایا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4525

 
 
Hadith   684   الحديث
الأهمية: أنهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن صوم يوم الجمعة؟ قال: نعم


Tema:

کیا نبی ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

عن محمد بن عباد بن جعفر قال: «سألت جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-: أَنَهَى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن صوم يوم الجمعة ؟ قال: نعم».
وفي رواية: «وَرَبِّ الْكَعْبَة».

محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ کیا نبی ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”رب کعبہ کی قسم“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما كان يوم الجمعة يوم عيد للمسلمين، نهى الشارع عن تخصيصه بصيام أو قيام، إلا أن يصوم يوماً معه قبله أو بعده أو يكون ضمن صوم معتاد، ولئلا يظن العامة أيضاً تخصيص يوم الجمعة بزيادة عبادة على غيره واجبة.
670;ونکہ یوم جمعہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے اس لئے نبی ﷺ نے اس دن کو خاص کر کے اس میں روزہ رکھنے یا قیام اللیل کرنے سے منع فرمایا۔ الا یہ کہ وہ شخص اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے یا اس کے بعد والے دن بھی روزہ رکھے، یا وہ اس کے معمول کے روزے کے ضمن میں یہ آ جائے۔ یہ ممانعت اس لئے بھی ہے تا کہ عام لوگ کہیں یہ نہ گمان کرنے لگ جائیں کہ جمعہ کے دن بطور خاص زیادہ عبادت کرنا واجب ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4526

 
 
Hadith   685   الحديث
الأهمية: هذان يومان نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن صِيَامِهِمَا: يوم فِطْرِكُمْ من صِيَامِكُمْ، واليوم الآخَرُ: تَأْكُلُونَ فيه من نُسُكِكُمْ


Tema:

یہ دو دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ ایک ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عید الفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن )۔

عن أبي عبيد، مولى ابن أزهر، قال: شهدت العيد مع عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، فقال: هذان يومان نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن صيامهما: يوم فطركم من صيامكم، واليوم الآخر تأكلون فيه من نُسُكِكُم.

ابو عبید جو ابن ازہرکے آزاد کردہ غلام ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کےساتھ نمازعید ادا کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ دو دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ ایک ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن (عید الفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جعل الله -عز وجل- للمسلمين يومين عيدين للمسلمين، وكل منهما مرتبط بشعيرة دينية، فيوم عيد الفطر مرتبط بتمام الصيام، فكان الواجب على المسلم أن يفطر هذا اليوم شكراً لله عز وجل على تمام نعمة الصوم وإظهاراً لنعمة الفطر التي أمر الله بها بعد الصوم، قال -تعالى-: (وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)، وأما اليوم الثاني فهو يوم عيد الأضحى وهو مرتبط بشعيرة الهدايا والأضاحي، فإن الناس يهدون ويضحون ويظهرون شعائر الله -تعالى- بالأكل من ذلك فوجب على المسلم إفطار هذين اليومين وحرم عليه صومهما.
575;للہ عزّ و جلّ نے مسلمانوں کے لیے دو دن بطورِ عید مقرر کیے ہیں جن میں سے ہر ایک کا کسی نہ کسی دینی شعار کے ساتھ تعلق ہے۔ عید الفطر کا تعلق روزوں کے مکمل ہونے کے ساتھ ہے۔ چنانچہ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس دن اللہ عز و جل کا روزے کی نعمت کے اتمام پر شکر بجا لاتے ہوئے اور روزوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے جس افطار ( روزہ نہ رکھنے ) کا حکم دیا اس نعمت کے اظہار کے لیے روزہ نہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ ”وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو“۔
جب کہ دوسرا دن عید الاضحی کا دن ہے جو کہ بطور ہدی و قربانی ذبح کیے جانے والے جانوروں سے متعلق ہے۔ چنانچہ اس دن لوگ بطورِ ہدی اور بطورِ قربانی جانوروں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کا گوشت کھا کر اللہ کے شعائر کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان دونوں ایام میں روزہ نہ رکھے۔ ان میں روزہ رکھنا اس کے لیے حرام ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4527

 
 
Hadith   686   الحديث
الأهمية: كيف كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يغسل رأسه وهو محرم؟


Tema:

اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔

عن عبد الله بن حنين أن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما-، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ -رضي الله عنهما- اختلفا بِالْأَبْوَاءِ:
فقال ابن عباس: يغسل الْمُحْرِمُ رأسه. 
وقال الْمِسْوَر: لا يغسل رأسه.   
قال: فأرسلني ابن عباس إلى أبي أيوب الأنصاري -رضي الله عنه- فوَجَدْتُهُ يغتسل بين الْقَرْنَيْنِ، وهو يستر بثوب، فَسَلَّمْتُ عليه، فقال: من هذا؟ فقلت: أنا عبد الله بن حُنَيْنٍ، أرسلني إليك ابن عباس، يسألك: كيف كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يغسل رأسه وهو مُحرِمٌ؟ فوضع أبو أيوب يده على الثوب، فَطَأْطَأَهُ، حتى بَدَا لي رأسه، ثم قال لإنسان يَصُبُّ عليه الماء: اصْبُبْ، فَصَبَّ على رأسه، ثم حَرَّكَ رأسه بيديه، فأقبل بهما وَأَدْبَرَ. ثم قال: هكذا رأيته -صلى الله عليه وسلم- يغتسل».
وفي رواية: «فقال المسور لابن عباس: لَا أُمَارِيكَ أبدًا».

عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا مقام ابواء میں (ایک مسئلہ پر) اختلاف ہوا۔
ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے۔
مسور رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ محرم شخص اپنا سر نہیں دھو سکتا۔
چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے یہاں (مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنوئیں کے دو لکڑیوں کے بیچ غسل کر رہے تھے اور ایک کپڑے سے انہوں نے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ کون ہو؟ میں نے عرض کی کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں، آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے، یہ دریافت کرنے کے لیے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ سر مبارک کس طرح دھوتے تھے؟ یہ سن کر انہوں نے کپڑے پر ہاتھ رکھ کراسے نیچے کیا یہاں تک کہ آپ کا سر مجھے دکھائی دینے لگا۔ جو شخص ان کے بدن پر پانی ڈال رہا تھا، اس سے انہوں نے پانی ڈالنے کے لیے کہا۔ اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھ سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح دھوتے دیکھا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ مسور رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں تم سے کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تحاور عبدالله بن عباس وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ -رضي الله عنهم- في الغُسل للمُحرم هل يغسل المحرم رأسه أم لا وموضع الشبهة فيه أنه لو حرك شعر رأسه لأمكن أن يكون متسبباً في سقوط بعض الشعر، فأرسلا عبدالله بن حنين إلى أبي أيوب -رضي الله عنه-، فوجده يغتسل، فقال له أرسلني إليك ابن عباس يسألك كيف كان رسول الله -عليه الصلاة والسلام- يغتسل، فقال للذي يصب عليه الماء: اصبُبْ. بعد أن طأطأ الثوب الذي يستره، حتى بدا رأسه، ثم حرك رأسه بيديه، فأقبل بهما وأدبر، ثم قال: هكذا رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يفعل.
فلما جاء الرسول وأخبرهما بتصويب ما رآه عبد الله بن عباس -وكانوا يطلبون الحق-، رجع الْمِسْوَرُ -رضي الله عنه-، واعترف بالفضل لصاحبه، فقال: لا أُمَارِيكَ أبداً.
593;بد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے مابین اس بات پر گفتگو چلی کہ آیا محرم شخص غسل کرتے ہوئے اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں جس بات میں اشکال تھا وہ یہ تھی کہ اگر اس نے اپنے سر کے بالوں کو حرکت دی تو ممکن ہے اس سے سر کے کچھ بال ٹوٹ جائیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن حنین ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ وہ اس وقت غسل کر رہے تھے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف بھیجا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے غسل فرمایا کرتے تھے۔؟ اس پر ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کپڑے کو کچھ نیچے کیا جو آپ کو اوٹ فراہم کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ کا سر ظاہر ہو گیا اور آپ نے اس شخص سے فرمایا جو آپ پر پانی ڈال رہا تھا کہ پانی ڈالو۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر ہلایا اور انہیں آگے اور پیچھے کی طرف لے گئے۔ اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب وہ فرستادہ شخص واپس آیا اور اس نے آکر دونوں کو بتایا کہ عبد اللہ بن عباس کی رائے درست تھی، -صحابہ حق ہی کے جویا رہتےتھے- تو اس پر مسور رضی اللہ عنہ رجوع کرتے ہوئے اور اپنے ساتھی کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اب تم سے کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4528

 
 
Hadith   687   الحديث
الأهمية: قَدِمْنَا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ونحن نقول: لَبَّيْكَ بالْحَجِّ. فأمرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَجَعَلْنَاهَا عُمرةً


Tema:

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو ہم حج کے لیے تلبیہ کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرہ بنا لیا۔

عن جابرٍ-رضي الله عنه- قال: قدِمنا مع رسولِ الله -صلى الله عليه وسلم-، ونحنُ نقولُ: لبيك بالحجِّ, فأمرَنا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- فجعلناها عُمرةً.

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو ہم حج کے لیے تلبیہ پُکار رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرہ بنا لیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جابر -رضي الله عنه- أنهم قدموا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في حجة الوداع والكثير منهم يقولون: "لَبَّيْكَ حجًّا"، أي أنهم أفردوا الحج،
فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- من لم يسق الهَدْيَ منهم أن يفسخ حجه إلى عُمرة؛ ليصيروا متمتعين بها إلى الحج، ففعلوا ذلك -رضي الله عنهم-.
580;ابر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃُ الوداع کے موقع پر آئے اور ان میں سے بہت سے لوگ ”لَبَّيْكَ حجًّا“ کہہ رہے تھے یعنی وہ حجِ افراد کے لیے تلبیہ کہہ رہے تھے۔
تاہم ان میں سے جو اپنی ہدی کے جانور کو ساتھ نہیں لائے تھے انہیں آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کر کے اسے عمرہ بنا دیں تاکہ حج کا وقت آنے تک وہ عمرہ کر سکیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں ایسے ہی کیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4529

 
 
Hadith   688   الحديث
الأهمية: من مات وعليه صِيَامٌ صَامَ عنه وَلِيُّهُ


Tema:

جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «من مات وعليه صِيَامٌ صَامَ عنه وَلِيُّهُ».

ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر ولي من مات، وفي ذمته صوم مفروض من نَذْرٍ، أو كفارة، أو قضاء رمضان، بأن يصوم عنه؛ لأنه دين عليه، وقريبه أولى الناس بقضائه عنه؛ لأنه إحسان إليه وبر وصلة، وهذا أمر استحباب لا إيجاب.
593;ائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کوئی فرض روزہ جیسے نذر، کفارے یا رمضان کی قضا کا روزہ ہو تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ کیونکہ یہ اس پر قرض ہے اور اس کی طرف سے ادائیگی کی سب سے زیادہ ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر آتی ہے۔کیونکہ یہ اس کے ساتھ حسن سلوک، نیکی اور صلہ رحمی میں آتا ہے۔ یہ حکم مستحب ہے نہ کہ واجب۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4530

 
 
Hadith   689   الحديث
الأهمية: إن أمي ماتت وعليها صوم شهر. أَفَأَقْضِيهِ عنها؟ فقال: لو كان على أمك دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عنها؟ قال: نعم. قال: فَدَيْنُ الله أَحَقُّ أن يُقْضَى


Tema:

میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: «جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، إن أمي ماتت وعليها صوم شهر. أَفَأَقْضِيهِ عنها؟ فقال: لو كان على أمك دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عنها؟ قال: نعم. قال: فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أن يُقْضَى ». >
وفي رواية: «جاءت امرأة إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، إن أمي ماتت وعليها صوم نذر. أفأصوم عنها؟ فقال: أرأيت لو كان على أمك دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ ، أكان ذلك يُؤَدِّي عنها؟ فقالت: نعم. قال: فَصُومِي عن أمك».

عبد الله بن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے“۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وقع في هذا الحديث روايتان، والظاهر من السياق، أنهما واقعتان لا واقعة واحدة.
فالأولى: - أن رجلاً جاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبره أن أمه ماتت وعليها صوم شهر فهل يقضيه عنها.
والرواية الثانية: أن امرأة جاءت إليه -صلى الله عليه وسلم- فأخبرته أن أمها ماتت وعليها صوم نَذَرَ: فهل تصوم عنها؟
فأفتاهما جميعًا بقضاء ما على والديهما من الصوم، ثم ضرب لهما مثلاً يُقرب لهما المعنى، ويزيد في التوضيح.
وهو: أنه لو كان على والديهما دَيْنٌ لآدمي، فهل يقضيانه عنهما؟ فقالا: نعم.
فأخبرهما : أن هذا الصوم دَيْنٌ لله على أبويهما، فإذا كان دَيْنُ الآدمي يُقضى، فدَيْنُ الله أحق بالقضاء.
575;س حدیث کی دو روایات ہیں اور سیاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں نہ کہ ایک ہی واقعہ:
پہلی روایت: یہ ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ کیا اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے ان کی ادائیگی کرے؟
دوسری روایت: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا وہ اس کے طرف سے روزہ رکھ سکتی ہے؟ نبی ﷺ نے دونوں کو فتویٰ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ذمہ واجب الاداء روزے رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ بات سمجھانے کے لیے اور مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دی کہ اگر ان کے والدین کے ذمے کسی آدمی کا کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرتیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ: یہ روزہ اللہ کا ان کے والدین پر قرض ہے۔ اورجب آدمی کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا قرض بدرجۂ اولیٰ ادا کرنا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4531

 
 
Hadith   690   الحديث
الأهمية: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخطب بِعَرَفَاتٍ: من لم يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، ومن لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ-للمحرم-


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: «سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخطب بِعَرَفَاتٍ: من لم يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، ومن لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ -للمحرم-».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: ”جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- خطب الناس يوم عَرَفَة بعَرَفَات، فأباح لهم لبس الخُفَين في حال عدم وجود النَّعْلين، ولم يذكر قطعهما أسفل من الكَعْبَيْن، وأباح لهم لبس السراويل لمن لم يجد إزارا ولم يشترط شقه تخفيفاً من الشارع الحكيم -سبحانه-.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے عرفہ کے دن مقام عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ دیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے لوگوں کو اجازت دی کہ جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار ہی پہن لے اور اس میں بھی آپ ﷺ نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ شارع (اللہ سبحانہ وتعالیٰ) کی پُر حکمت ذات کی طرف سے دی گئی ایک سہولت تھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4532

 
 
Hadith   691   الحديث
الأهمية: العَجْمَاءُ جُبَارٌ، والبئر جُبار، وَالمَعْدِنُ جُبَار، وفي الرِّكَازِ الْخُمْسُ


Tema:

جانور کا زخمی کر دینا رائیگاں ہے، کنویں میں گر جانا رائیگاں ہے، کان میں دب جانا رائیگاں ہے اور رکاز (زمین میں دبائے ہوئے خزانہ) میں خمس ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «العَجْمَاءُ جُبَارٌ، والبئر جُبارٌ، وَالمَعْدِنُ جُبارٌ، وفي الرِّكَازِ الْخُمْسُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کر دینا رائیگاں ہے، کنویں میں گر جانا رائیگاں ہے، کان میں دب جانا رائیگاں ہے اور رکاز (زمین میں مدفون خزانہ) میں خمس ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- عن حكم ضمان التلف أو النقص الحاصل بفعل البهيمة أو بنزول البئر أو المعدن، حيث بين -عليه الصلاة والسلام- أن ما حصل من تلف أو نقص بفعل البهيمة فلا ضمان فيه على أحد، وكذلك ما حصل من تلف أو نقص بالبئر ينزل فيه الرجل فيهلك، أو المَعْدِنُ ينزل فيه فيهلك؛ لأن البهيمة والبئر والمعدن لا يمكن إحالة الضمان عليها، ولا على مالكها إذا لم يحصل منه اعتداء أو تفريط، ثم ذكر أن من وجد كنزًا قليلًا أو كثيرًا فعليه إخراج خمسه؛ لأنه حصله بلا كُلْفَةٍ ولا تعب، والباقي له.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے منقول جانور کے فعل، یا کنویں یا کان میں اترنے کی وجہ سے پیش آنے والے تلف یا نقصان کی ضمان کا حکم بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جانور کے کسی عمل کی وجہ سے جو تلف یا نقصان ہو جائے اس میں کسی پر کوئی ضمان نہیں آتی۔ اسی طرح کسی کنویں کی وجہ سے تلف یا نقصان ہونے کی وجہ سے بھی کوئی ضمان نہیں آتی مثلا کوئی شخص کنویں یا کان میں اترے اور ہلاک ہو جائے (تو اس میں کسی پر کوئی ضمان نہیں آئے گی۔) کیونکہ جانور، کنویں اور کان پر ضمان نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ ہی ان کے مالک پر ضمان ڈالی جا سکتی ہے جب تک کہ اس کی طرف سے اس میں کوئی زیادتی یا لاپرواہی نہ ہوئی ہو۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ جس شخص کو کوئی خزانہ ملے چاہے وہ کم ہو یا زیادہ اس پر واجب ہے کہ وہ اس میں سے پانچواں حصہ (بطور صدقہ) نکالے کیونکہ اسے یہ مال بغیر کسی مشقت و تکان سے حاصل ہوا ہے۔ خمس نکالنے کے بعد باقی ماندہ اس کی ملکیت ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4533

 
 
Hadith   692   الحديث
الأهمية: إن الشَّيْطان يَجْرِي من ابن آدم مَجْرَى الدَّم، وإني خَشِيتُ أن يَقْذِفَ في قُلُوبِكُمَا شرَّا


Tema:

شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمھارے دلوں میں بھی کوئی بری بات نہ ڈال دے۔

عن صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ -رضي الله عنها- قالت: «كان النبي -صلى الله عليه وسلم- مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ ليلا، فَحَدَّثْتُهُ، ثمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ، فقام معي لِيَقْلِبَنِي -وكان مسكنها  في دار أُسَامَةَ بن زَيْدٍ-، فَمَرَّ رَجُلاَنِ من الأنصار، فلما رأيا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أسرعا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: على رِسْلِكُمَا، إنها صَفِيَّةَ بِنْتُ حُيَيٍّ، فقالا: سبحان الله يا رسول الله، فقال: إن الشَّيْطَانَ يَجْرِي من ابن آدم مَجْرَى الدَّمِ، وإني خَشِيتُ أن يَقْذِفَ في قُلُوبِكُمَا شرا -أو قال شيئا-».
وفي رواية: «أنها جاءَت تَزُورُهُ في اعْتِكَافِهِ في الْمَسْجِدِ، فِي العَشْرِ الأوَاخِرِ من رمضان، فتَحدَّثَتْ عنده ساعة، ثم قامت تَنقَلِبُ، فقام النبي -صلى الله عليه وسلم- معها يَقْلِبُهَا ، حتى إذا بَلَغَتْ باب المسجد عند باب أم سلمة...» ثم ذكره بمعناه.

صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ اعتکاف میں تھے، تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے (مسجد میں) آئی۔ میں آپ ﷺ سے باتیں کرتی رہی۔ پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی، تو آپ ﷺ بھی مجھے چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مکان ہی میں تھی۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، تو تیز چلنے لگے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھہرو۔ یہ صفیہ بنت حیی ہیں! ان دونوں صحابہ نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! ( کیا ہم آپ کے بارے میں کوئی شبہ کر سکتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمھارے دلوں میں بھی کوئی بری بات نہ ڈال دے۔ یا آپ ﷺ نے اس کی بجائے فرمایا کہ کوئی بات نہ ڈال دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں آپ ﷺ سے ملنے کے لیے آئیں۔ کچھ دیر آپ ﷺ کے پاس بیٹھی گفتگو کرتی رہیں اور پھر واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ آپ ﷺ انھیں رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہو لیے۔ یہاں تک کہ جب وہ مسجد کے دروازے پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھرکے دروازے کے پاس پہنچ گئیں، تو... (اس کے بعد مذکورہ حدیث کا ہی مضمون ہے)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- معتكفًا في العشر الأواخر من رمضان، فزارته  زوجه صَفِيَّةَ -رضي الله عنها- في إحدى الليالي فحدثته ساعة، ثم قامت لتعود إلى بيتها ، فقام معها يشيعها، ويؤنسها، فمر رجلان من الأنصار، فلما رأيا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أسرعا في مشيهما حياء من النبي ـصلى الله عليه وسلم ـ حين رأيا معه أهله، فقال لهما على رِسْلِكُمَا، أي: تأنيا في المشي، فإنما هي زوجتي صَفِيَّةَ، فقالا سُبْحَان الله، وهل يتطرق إلى الوهم ظن السوء بك، فأخبرهما: أن الشيطان حريص على إغواء بني آدم، وله قدرة عليهم عظيمة، فإنه يجري منهم مجرى الدم من لطف مداخله، وخَفِيِّ مسالكه، وخشي أن يقذف في قلوبهما شيئًا.
606;بی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہ ایک رات آپ ﷺ سے ملاقات کے لیے آئیں۔ وہ کچھ دیر آپ ﷺ سے باتیں کرتی رہیں۔ پھر اپنے گھر واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ آپ ﷺ انھیں رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہو لیے۔ اتنے میں دو انصاری آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوا۔ جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی بیوی کو دیکھا، تو آپ ﷺ سے شرم محسوس کرتے ہوئے جلدی جلدی چلنے لگے۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا: ”على رِسْلِكُمَا“ یعنی کچھ آہستہ چلو۔ یہ میری بیوی صفیہ ہے۔ ان دونوں نے جواب دیا کہ سبحان اللہ! کیا ذہن میں آپ کے خلاف کوئی بد گمانی آ سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ شیطان تو بنی آدم کو گمراہ کرنے کے درپے رہتا ہے اور ان پر اسے بہت زیادہ قدرت حاصل ہے۔ وہ انسان کے خون کے ساتھ دوڑتا ہے؛ کیوں کہ وہ بہت غیر محسوس انداز میں داخل ہوتا ہے اوراس کے راستے بہت مخفی ہیں۔ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں شیطان ان کے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4534

 
 
Hadith   693   الحديث
الأهمية: أن تَلْبِيَةَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شريك لك لَبَّيْكَ، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك


Tema:

رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ“۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-: «أن تَلْبِيَةَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: لَبَّيْكَ اللهم لَبَّيْكَ، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك».
قال: وكان عبد الله بن عمر يزيد فيها: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، والخير بيديك، وَالرَّغْبَاءُ إليك والعمل».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ“ یعنی حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرلیا کرتے تھے: ”لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ“ یعنی میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- أن كيفية تلبية النبي -صلى الله عليه وسلم- في الحج والعمرة: لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك. فهي إعلان بإجابة الله -تعالى- في دعوته عباده إلى حج بيته، إجابة بعد إجابة وإخلاص له، وإقبال عليه، واعتراف بحمده، ونعمه، وإفراد له بذلك، وبملك جميع المخلوقات لا شريك له في ذلك كله، وكان ابن عمر -رضي الله عنهما- يزيد مضمون هذه التلبية؛ تأكيدا حيث يضيف إليها تلبية مضمونها : لبيك وسعديك، والخير بيديك والرغباء إليك والعمل، فمنتهى العمل إلى الله -تعالى- قصدًا وثوابًا.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ حج اور عمرہ میں کیسے تلبیہ کہا کرتے تھے یعنی آپ ﷺ یوں کہا کرتے تھے: ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ“ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کا حج کرنے کے لیے جو منادی کی یہ اس منادی کا جواب ہے بلکہ بار بار جواب ہے اور اس کے لیے اخلاص اور اس کی طرف متوجہ ہونے کا اظہار ہے اور اس بات کا اعتراف ہے کہ صرف وہی حمد و ثنا کا مستحق ہے اور تمام نعمتوں کا اور تمام مخلوقات کا مالک ہے۔ ان سب میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس تلبیہ میں بطورِ تاکید کچھ اور اضافہ کر لیتے جو کہ یہ الفاظ تھے: ”لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ“ یعنی میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے، اورعمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4535

 
 
Hadith   694   الحديث
الأهمية: حُمِلْتُ إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وَالقَمْلُ يَتَنَاثَرُ على وجهي. فقال: ما كُنْتُ أُرَى الوَجَعَ بَلَغَ بِكَ ما أَرَى -أو ما كنت أُرَى الجَهْدَ بَلَغَ بك ما أَرى-! أَتَجِدُ شاة؟ فقلت: لا. فقال: صُمْ ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين


Tema:

مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی تکلیف میں ہو گے۔ یا (آپ نے یوں فرمایا کہ ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی جہد (مشقت) میں ہو گے۔ کیا تمھیں ایک بکری مل سکتی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔

عن عبد الله بن مَعْقِلٍ قال: «جلستُ إلى كَعْبِ بن عُجْرَةَ، فسألته عن الفدية، فقال: نزلت فِيَّ خاصة. وهي لكم عامة. حُمِلْتُ إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وَالقَمْلُ يَتَنَاثَرُ على وجهي. فقال: ما كُنْتُ أُرَى الوَجَعَ بَلَغَ بِكَ ما أَرَى -أو ما كنت أُرَى الجَهْدَ بلغ بك ما أَرى-! أَتَجِدُ شاة؟ فقلت: لا. فقال: صم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين -لكل مسكين نصف صاع-». 
وفي رواية: «فأمره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ ، أو يُهْدِي شَاةً ، أو يصوم ثلاثة أيام».

عبد الله ابن معقل روایت کرتے ہیں کہ: میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت ) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی تکلیف میں ہو گے۔ یا (آپ نے یوں فرمایا کہ ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی جہد (مشقت) میں ہو گے۔ کیا تمہیں ایک بکری مل سکتی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ چھے افراد میں ایک فرق (تین صاع) غلہ تقسیم کر دیں، یا ایک بکری کی قربانی دے دیں یا تین دن کے روزے رکھیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- كَعْب بن عُجْرَةَ -رضي الله عنه- في الحديبية وهو محرم، وإذا القمل يتناثر على وجهه من المرض، فَرَقَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- لحاله وقال: ما كنت أظن أن المشقة بلغت منك هذا المبلغ، الذي أراه. ثم سأله: أتجد شاة فقال: لا، فأنزل الله -تبارك وتعالى-: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَرِيضَاً أوْ به أذَىً مِنْ رَأسِه فَفِدْية مِنْ صِيَامٍ أوْ صَدَقَةٍ أوْ نُسُكٍ} الآية.
وعند ذلك خيَّره النبي -صلى الله  عليه وسلم- بين صيام ثلاثة أيام، أو إطعام ستة مساكين، لكل مسكين نصف صاعٍ من بُرٍّ، أو غيره، ويكون ذلك كفارة عن حلق رأسه، الذي اضطر إليه في إحرامه، من أجل ما فيه من هوام، وفي الرواية الأخرى، خيَّره بين الثلاثة.
606;بی ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ کے مقام پر حالت احرام میں دیکھا کہ بیماری کی وجہ سے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں۔ نبی ﷺ کو ان کی یہ حالت دیکھ کر ان پر بہت ترس آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: میرا نہیں خیال تھا کہ تمھیں اس حد تک مشقت ہو رہی ہو گی، جس پر میں تمھیں اب دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمھیں ایک بکری دستیاب ہو سکتی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَرِيضَاً أوْ به أذَىً مِنْ رَأسِه فَفِدْية مِنْ صِيَامٍ أوْ صَدَقَةٍ أوْ نُسُكٍ﴾ ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو، تو روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے فدیہ دے“۔
اس پر نبی ﷺ نے انھیں اختیار دیاکہ یا تو وہ تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دیں، بایں طور کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا کوئی اور غلہ دیں۔ یہ ان کے حالت احرام میں سر میں جوئیں پڑنے کی وجہ سے مجبورا اسے منڈانے کا کفارہ ہو جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں تینوں کے مابین اختیار دیا کہ وہ کسی کو بھی کر لیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4536

 
 
Hadith   695   الحديث
الأهمية: قَدِمَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، فأمرهم أن يجعلوها عمرة، فقالوا: يا رسول الله، أَيُّ الحِلِّ؟ قال: الحِلُّ كُلُّهُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھے (ذی الحجہ) کی صبح کو تشریف لائے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے (حج کو) عمرہ بنالیں۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (عمرہ کر کے ) ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: «قَدِمَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، فأمرهم أن يجعلوها عمرة، فقالوا: يا رسول الله، أَيُّ الحِلِّ؟ قال: الحِلُّ كُلُّهُ».

عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھے (ذی الحجہ) کی صبح کو تشریف لائے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے (حج کو) عمرہ بنالیں۔انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (عمرہ کر کے ) ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن عباس -رضي الله عنهما-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه قدموا مكة في حجة الوداع، صبيحة اليوم الرابع من ذي الحجة، وكان بعضهم محرماً بالحج، ومنهم القارنون بين الحج والعمرة.
فأمر من لم يَسُقِ الْهَدْيَ من هاتين الطائفتين، بأن يحلوا من حجهم، ويجعلوا إحرامهم عمرة، فكبُر عليهم ذلك، ورأوا أنه عظيم أن يتحللوا التحلل الكامل، الذي يبيح الجماع، ثم يحرمون بالحج، ولذا سألوه فقالوا: يا رسول الله: أي الحِلُّ، ما التحلل الذي نفعله؟ فقال -صلى الله عليه وسلم- الحِلُّ كلُّه، فيباح لكم ما حُرِّمَ عليكم قبل الإحرام فامتثلوا -رضي الله عنهم-.
575;بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ میں ذی الحجہ کے چوتھے دن صبح کو تشریف لائے۔ ان میں سے بعض نے صرف حج کی نیت سے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض نے حج و عمرہ دونوں کی نیت سے احرام باندھا تھا۔ آپ ﷺ ان دونوں گروہوں میں سے جو افراد اپنی ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کے احرام کو کھول دیں اور احرام کو عمرہ کے لیے باندھ لیں۔ یہ کرنا ان پر گراں گزرا اور انہیں یہ بہت بڑی بات لگی کہ مکمل طور پر حلال ہو جائیں جس سے جماع بھی جائز ہو جاتا ہے اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں۔ اسی لیے انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم کون سا تحلل کریں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پورا تحلل۔ احرام باندھنے سے پہلے پہلے تم پر جو کچھ حرام ہوا تھا وہ سب تمہارے لیے جائز ہے۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کا حکم بجا لائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4537

 
 
Hadith   696   الحديث
الأهمية: أوصاني خليلي -صلى الله عليه وسلم- بثلاث: صيام ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ من كل شهر، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وأن أُوتِرَ قبل أن أنام


Tema:

مجھے میرے دوست (ﷺ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے۔ چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور يہ کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: «أوصاني خليلي -صلى الله عليه وسلم- بثلاث: صيام ثَلاثَةِ أَيَّامٍ من كل شهر، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وأن أُوتِرَ قبل أن أنام».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:”مجھے میرے دوست (نبی کریم ﷺ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنا اور يہ کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اشتمل هذا الحديث الشريف على ثلاث وصايا نبوية كريمة:
الأولى: الحث على صيام ثلاثة أيام من كل شهر؛ لأن الحسنة بعشر أمثالها، فيصير صيام ثلاثة الأيام كصيام الشهر كله.
والأفضل أن تكون الثلاثة، الثالث عشر، والرابع عشر، والخامس عشر، كما ورد في بعض الأحاديث.
الثانية: أن يصلي الضحى، وأقلها ركعتان، لاسيما في حق من لا يصلي من الليل، كأبي هريرة الذي اشتغل بدراسة العلم أول الليل.
وأفضل وقتهما، حين تَرْمَضُ الْفِصَالُ ،كما جاء في حديث آخر.
الثالثة: أن من لا يقوم آخر الليل، فليوتر قبل أن ينام، كيلا يفوت وقته.
575;س حدیث میں تین عظیم الشان نبوی نصیحتیں ہیں:
اول: ہر مہینے کے تین روزے رکھنے کی ترغیب؛ کیوں کہ ایک نیکی پر اس طرح کی دس نیکیوں کے مساوی بدلہ ملتا ہے۔ چنانچہ تین دن کے روزے ایسے ہو جائیں گے کہ جیسے پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ افضل یہ ہے کہ یہ تین دن مہینے کے تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں دن ہوں، جیسا کہ بعض احادیث میں آیا ہے۔
دوم: چاشت کی نماز پڑھی جائے۔ اس کی کم سے کم مقدار دو رکعت ہے۔ اس کا استحباب بالکل اس شخص کے لیے ہے، جو نماز تہجد نہ پڑھتا ہو۔ مثلا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، جو رات کے ابتدائی حصے میں حصول علم میں مصروف رہتے تھے۔ اس کا افضل ترین وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچے کو دھوپ محسوس ہونا شروع ہو جائے (یعنی تیز دھوپ نکل آئے)، جیسا کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے۔
سوم: جو شخص رات کے آخری حصے میں نماز تہجد نہ پڑھتا ہو، وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے؛ تاکہ اس کا وقت نہ نکل جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4538

 
 
Hadith   697   الحديث
الأهمية: كيف كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يسيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قال: كان يَسيرُ العَنَقَ، فإذا وجد فَجْوَةً نَصَّ


Tema:

رسول الله ﷺ جب عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے، تو آپ ﷺ کس رفتار سے چل رہے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ درمیانی رفتار سے چل رہے تھے، تاہم جب کوئی کشادہ جگہ آ جاتی، تو آپ ﷺ رفتار کو تیز کر دیتے۔

عن عُرْوَةَ بن الزُّبَيْرِ قال: «سُئل أُسَامَةُ بن زَيْدٍ -وأنا جالس- كيف كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يسيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قال: كان يَسيرُ العَنَقَ، فإذا وجد فَجْوَةً نَصَّ».

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ رسول الله ﷺ جب عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے، تو آپ ﷺ کس رفتار سے چل رہے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ درمیانی رفتار سے چل رہے تھے، تاہم جب کوئی کشادہ جگہ آ جاتی، تو آپ ﷺ رفتار تیز کر دیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أُسَامَة بن زَيْدٍ -رضى الله عنهما- رَديف النبي -صلى الله عليه وسلم- من عَرَفَة إلى مُزْدَلِفَةَ.
فكان أعلم الناس بسير النبي -صلى الله عليه وسلم- فسُئل عن صفته، فقال: كان يسير العَنَق، وهو: انبسَاط السير ويسره في زحمة الناس، لئلا يؤذي به، فإذا وجد فُرْجَة ليس فيها أحد من الناس حرك دابته، فأسرع قليلاً؛ لعدم وجود الأذية في الإسراع حينئذ.
575;سامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفہ سے مزدلفہ تک کے سفر کے دوران نبی ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ کی چال کا علم سب سے زیادہ انہی کو تھا۔ ان سے آپ ﷺ کے چلنے کے انداز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ لوگوں کی بھیڑ میں آہستہ روی سے چل رہے تھے؛ تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور جہاں کشادہ جگہ آتی اور لوگ نہ ہوتے، وہاں اپنی سواری کو حرکت دیتے ہوئے کچھ تیز کر لیتے؛ کیوں کہ اس وقت تیز چلنے سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ نہ ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4539

 
 
Hadith   698   الحديث
الأهمية: تَحَرَّوْا ليلة القَدْر في الوِتْرِ من الْعَشْرِ الأوَاخِرِ


Tema:

شب قدر کو (رمضان کے) آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو

عن عائشة أم المؤمنين -رضي الله عنها- أن رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «تَحَرَّوْا ليلة القَدْر في الوِتْرِ من الْعَشْرِ الأوَاخِرِ».

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شب قدر کو (رمضان کے) آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أرشد لطلب إصابة ليلة القدر والاشتغال فيها بالعمل الصالح وقيام الليل، فتحري ليلة القدر يكون بذلك، وذلك في أوتار العشر الأواخر من رمضان.
575;م المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے شب قدر کو تلاش کرنے اور اس میں نیک اعمال اور قیام اللیل کرنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ شب قدر کو اسی طرح سے تلاش کیا جائے گا، اور یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4540

 
 
Hadith   699   الحديث
الأهمية: إن أَحَبَّ الصيام إلى الله صِيَامُ داود، وأحب الصلاة إلى الله صلاة داود، كان يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وكان يصوم يومًا ويفطر يومًا


Tema:

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلا کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور پھر اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے اور جب چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن أَحَبَّ الصيام إلى الله صِيَامُ داود، وأحب الصلاة إلى الله صلاة داود، كان يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وكان يصوم يومًا ويُفطِرُ يومًا».

عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلا کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور پھر اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے اور جب چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن عَمْرِو -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث، أن أحب الصيام والقيام إلى الله تعالى صيام وقيام نبيه داود -عليه الصلاة والسلام- ،وذلك أنه كان يصوم يوماً ويفطر يوماً؛ لما فيه تحصيل العبادة وإعطاء الجسم راحته، وكان ينام النصف الأول من الليل  ليقوم نشيطاً خفيفاً إلى العبادة، فيصلي ثُلُثَهُ ثم ينام سُدُسَهُ الأخير؛ ليكون نشيطا لعبادة أول النهار، وهذه الكيفية هي التي رغب بها النبي -صلى الله عليه وسلم-.
593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس حدیث کو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ صیام و قیام اس کے نبی داود علیہ السلام کا صیام و قیام ہے اور وہ یہ تھا کہ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔ کیونکہ اس طرح سے عبادت بھی ہو جاتی ہے اور جسم کو آرام بھی مل جاتا ہے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام رات کے ابتدائی نصف حصے میں سو جایا کرتے تھے تاکہ خوب چست اور ہلکے پھلکے ہو کر عبادت کے لئے اٹھیں۔ چنانچہ آپ رات کا ایک تہائی حصہ نماز پڑھتے اور پھر جب آخری چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جاتے تاکہ دن کے ابتدائی حصے کی عبادت کے لئے فعال ہو جائیں۔ یہی وہ عبادت کا انداز ہے جس کی نبی ﷺ نے ترغیب دی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4541

 
 
Hadith   700   الحديث
الأهمية: لا صوم فوق صوم أخي داود -شَطْرَ الدَّهَرِ-، صم يومًا وأفطر يومًا


Tema:

میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔

عن عبد الله بن عَمْرِو بن العاص -رضي الله عنهما- قال: «أُخبِر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أني أقول: والله لَأَصُومَنَّ النهار، وَلَأَقُومَنَّ الليل مَا عِشْتُ. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أنت الذي قلتَ ذلك؟ فقلتُ له: قد قُلتُه -بأبي أنت وأمي-. فقال: فإنك لا تستطيع ذلك، فصُم وأفطِر، وَقُمْ وَنَمْ ، الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وذلك مثل صيام الدَّهْرِ. قلت: فإني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأَفطر يومين. قلت: أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأفطر يوما، فذلك مثل صيام داود، وهو أفضل الصيام. فقلت: إني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: لا أفضل من ذلك»، وفي رواية: «لا صوم فوق صوم أخي داود -شَطْرَ الدَّهَرِ-، صم يوما وأفطر يوما».

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تک میری یہ بات پہنچائی گئی کہ اللہ کی قسم! میں زندگی بھر دن میں روزے رکھوں گا اور ساری رات عبادت کروں گا، لہٰذا آپ ﷺ نے کہا: تم ہی ہو وہ شخص، جس نے یہ بات کہی ہے؟، میں نے آپ ﷺ کو جواب دیتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔ رات کو قیام بھی کر اور سو بھی جا اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر؛ کیوںکہ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ :میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزے کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ میرے پاس اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، لیکن اس مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے رکھنا-سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أُخْبِرَ أن عبد الله بن عَمْرٍو -رض الله عنهما- أقسم على أن يصوم فلا يُفطر، ويقوم فلا ينام كلَ عمره، فسأله: هل قال ذلك؟ فقال: نعم. فقال: إن هذا يشق عليك ولا تحتمله، وأرشده إلى الجمع بين الراحة والعبادة فيصوم ويفطر، ويقوم وينام، ويقتصر على صوم ثلاثة أيام من كل شهر؛ ليحصل له أجر صيام الدهر. فأخبره أنه يُطيق أكثر من ذلك، وما زال يطلب الزيادة من الصيام حتى انتهى إلى أفضل الصيام، وهو صيام داود عليه السلام، وذلك أن يصوم يوماً، ويفطر يوماً. فطلب المزيد لرغبته في الخير -رضي الله عنه- فقال -صلى الله عليه وسلم-: لا صوم أفضل من ذلك.
606;بی ﷺ کو یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما نے اس بات کی قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیشہ روزے سے رہیں گے؛ کبھی بے روزہ نہ رہیں گے اور ہمیشہ قیام اللیل ہی کریں گے؛ کبھی نہیں سوئیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عمل تمھارے لیے باعث مشقت ہوجائے گا اور تم اس کو برداشت نہ کرسکو گے۔ آپ ﷺ نے انھیں آرام اور عبادت دونوں ہی کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی کہ روزہ بھی رکھیں اور نہ بھی رکھیں، قیام اللیل بھی کریں اور سوئیں بھی اور ہر ماہ تین روزے ہی رکھیں؛ تاکہ انھیں سال بھر روز رہ کھنے کا اجر وثواب حاصل ہوجائے۔
لیکن انھوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ آپ ﷺ سے مزید روزوں کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ روزہ رکھنے کے افضل ترین طریقے پر یہ بات موقوف ہوگئی۔ روزہ رکھنے کا افضل ترین طریقہ داؤد علیہ السلام کا تھا؛ کیوں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن کا روزہ چھوڑ دیتے تھے۔
تاہم خیر و بھلائی کی شدید خواہش کی بنا پر صحابی رسول ﷺ نے مزید روزوں کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4542

 
 
Hadith   701   الحديث
الأهمية: خَمسٌ من الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلْنَ في الحَرَمِ: الغُرابُ، وَالحِدَأَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالفَأْرَةُ، وَالكَلْبُ العَقُورُ


Tema:

پانچ جانور ايسے ہیں جو موذی ہیں اور ان کو حرم میں بھی مار ڈالنا چاہیے: کوّا، چیل، بچھو ،چوہا اور کاٹنے والا کتّا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «خمسٌ من الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلنَ في الحَرَمِ: الغرابُ، وَالحِدَأَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالفَأْرَةُ، وَالكَلْبُ العَقُورُ».
وفي رواية: « يقتل خَمْسٌ فَوَاسِق في الْحِلِّ  وَالْحَرَمِ ».

عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور ايسے ہیں جو موذی ہیں اور ان کو حرم میں بھی مار ڈالنا چاہیے: کوّا، چیل، بچھو ،چوہا اور کاٹنے والا کتّا“۔
اور ایک روایت میں ہے: ”پانچ موذی جانوروں کو حرم اور غیر حرم ہر جگہ مار دینا چاہیے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر بقتل خمس من الدواب كلهن يتصف بالفسق، سواء في الحِل أو الحرم، ثم بين تلك الخمس بقوله: الغُرابُ والحِدَأَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالفَأْرَةُ، والكلب العَقُورُ. 
فهذه خمسة أنواع من الحيوانات، وصفت بالفسق، وهو خروجها بطبعها عن سائر الحيوانات، بالتعدي والأذى.
ونبه بها معدودة، لاختلاف أذاها، فيلحق بها ماشاكلها في فسقها من سائر الحيوانات، فتقتل لأذيتها واعتدائها، فإن الحرم لا يجيرها والإحرام لا يعيذها.
575;س حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے پانچ قسم کے جانوروں کو مارنے کا حکم دیا، جو سب کے سب موذی ہیں؛ چاہے وہ حرم میں ہوں یا غیر حرم میں۔ پھر آپ ﷺ نے ان پانچوں کے نام بتائے کہ یہ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنےوالا کتا ہیں۔ یہ پانچ قسم کے جانور فسق کی صفت سے متصف ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے یہ باقی تمام جانوروں سے الگ ہیں؛ کیوں کہ یہ حملہ آور ہوتے ہیں اور موذی ہیں۔ آپ ﷺ نے چند کے نام گنوائے؛ کیوں کہ ان کی اذیت ناکی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ باقی تمام جانوروں میں جو بھی اذیت ناکی میں ان سے مشابہہ ہوں گے، ان کا حکم بھی یہی ہو گا، انھیں بھی ان کے موذی پن اور نقصان دہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ نہ حرم انھیں بچائے گا اور نہ احرام انھیں پناہ دے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4543

 
 
Hadith   702   الحديث
الأهمية: لا يَلبسُ القميص ولا العَمَائِمَ ولا السَّرَاوِيلاَتِ ولا البَرَانِسَ وَلاَ الخِفَافَ إلا أحَدٌ لاَ يجِدُ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أسفلَ من الكعبين


Tema:

نہ قمیص پہنے نہ عمامہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انھیں ( اس طرح ) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- «أن رجلًا قال يا رسول الله، ما يَلْبَسُ المُحْرِمُ مِنَ الثياب؟ قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: لا يلبسُ القميص، ولا العَمَائِمَ ، وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ، ولا البَرَانِسَ، ولا الخِفَافَ، إلا أحدٌ لا يجِدُ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أسفلَ من الكعبين، وَلا يَلْبَسْ من الثياب شيئا مَسَّهُ زَعْفَران أوْ وَرْسٌ»، وللبخاري: «ولا تَنْتَقِبُ المرأة، وَلا تلبس الْقُفَّازَيْنِ».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنے نہ عمامہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انھیں ( اس طرح ) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنا ہو جو زعفران یا ورْس سے رنگا ہوا ہو“۔
اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اور عورت نہ تو نقاب پہنے گی نہ ہی داستانے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قد عرف الصحابة -رضي الله عنهم- أن للإحرام هيئة تخالف هيئة الإحلال، ولذا سأل رجلٌ النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الأشياء المباحة، التي يلبسها المحرم.
ولمّا كان من اللائق أن يكون السؤال عن الأشياء التي يجتنبها، لأنها معدودة قليلة وقد أُعْطِي -صلى الله عليه وسلم- جوامع الكلم أجابه ببيان الأشياء التي يجتنبها المحرم ويبقى ما عداها على أصل الحل، وبهذا يحصل العلم الكثير.
فأخذ -صلى الله عليه وسلم- يَعُدُّ عليه ما يحرم على الرجل المحرم من اللباس، منبها بكل نوع منها على ما شابهه من أفراده، فقال:
لا يلبس القميص، وكل ما فُصِّل وَخِيطَ على قدر البدن، ولا العمائم، والبرانس، وكل ما يغطى به الرأس، ملاصقاً له، ولا السراويل، وكل ما غطي به -ولو عضواً- كالقفازين ونحوهما، مخيطاً أو مُحِيطاً، ولا الخفاف ونحوهما، مما يجعل بالرجلين ساترين للكعبين، من قطن أو صوف، أو جلد أو غير ذلك.
فمن لم يجد وقت إحرامه نعلين، فَلْيَلْبَسْ الخفين ولْيَقْطَعْهُما من أسفل الكعبيِن، ليكونا على هيئة النعلين.
ثم زاد -صلى الله عليه وسلم- فوائد لم تكن في السؤال، وإنما المقام يقتضيها، فَبيَّن ما يحرم على المحرم مطلقاً من ذكر وأنثى، فقال:
ولا يلبس شيئاً من الثياب، أو غيرها مَخِيطاً أو غير مخيط، إذا كان مُطَيَّباً بالزعفران أو الورس، منبهاً بذلك على اجتناب أنواع الطيب.
ثم بيَّن ما يجب على المرأة، من تحريم تغطية وجهها وإدخال كفيها فيما يسترهما، فقال: "ولا تنتقب المرأة، ولا تلبس القفازين".
589;حابہ کرام اس بات کو سمجھتے تھے کہ احرام کی حالت غیر احرام کے بالمقابل مختلف ہوتی ہے اسی لیے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا جو محرم کے لیے مباح ہیں اور وہ ان کو حالتِ احرام میں پہن سکتا ہے۔
اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ وہ ان اشیاء کے بارے میں سوال کرتا جن سے بچنا ضروری ہے کیوں کہ وہ تھوڑی سی چند ایک ہیں۔ لیکن چونکہ رسول اللہ ﷺ جوامع الکلم سے نوازے گیے تھے اس لیے ایسا جواب دیا کہ ان اشیاء کو بیان کر دیا جن سے محرم کا بچنا ضروری ہے باقی کو ان کی اصلی حالت حلت پر برقرار رکھتے ہوئے چھوڑ دیا۔ اور اس سے بہت زیادہ علم حاصل ہو تا ہے۔
پھر رسول ﷺ نے ان چیزوں کو شمار کرنا شرو ع کر دیا جو ایک محرم پر حالتِ احرام میں لباس کے اعتبار سے حرام ہیں۔ آپس میں انفرادی طور پر ایک دوسرے سے مشابہ تمام انواع کی تنبیہہ فرما دی۔
چنانچہ فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے اور ہر وہ چیز جس کو بدن کے مقدار کے حساب سے سلا کیا گیا ہو اور نہ ہی عمامہ پہنے، نہ برنس (وہ کپڑا جس کے ساتھ سر ڈھانپنے والا حصّہ جُڑا ہو) پہنے، اسی طرح ہر وہ چیز جو سر اور اس سے ملحقہ حصے کو ڈھانپ لے،اور نہ ہی شلوار پہنے۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو ڈھانپنے والی ہو چاہیے ایک عضو ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے دستانے وغیرہ،چاہے سلے ہوں یا بغیر سلے ہوں۔ اور نہ ہی ایسے موزے وغیرہ پہنے جائیں جو آدمی کے ٹخنوں کو ڈھانپتے ہوں چاہے وہ روئی کے ہوں یا اون کے یاچمڑے کے ہوں یا کسی اور چیز سے بنے ہوئے ہوں۔ اگر احرام کے وقت کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزے پہن لے لیکن ان کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ دے تاکہ وہ جوتے کی شکل اختیار کر جائیں۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے مزید فائدے مند چیزیں بیان کیں جو کہ سوال میں موجود نہیں تھیں لیکن مقام ان(کے بیان) کا متقاضی تھا۔ آپ ﷺ نے مزید ان چیزوں کی وضاحت کی جو محرم پرحرام ہیں چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ فرمایا: کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے چاہے وہ سلا ہو یا بغیر سلا ہو جب اس کو زعفران یا وَرَس وغیرہ سے خوشبودار کیا گیا ہو۔ یہ ہر قسم کی خوشبو سے بچنے کی تنبیہہ کی جا رہی ہے۔
پھر عورت کے لیے کیا چیز ضروری ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے لیے حرام ہے کہ وہ اپنے چہرے کو کسی چیز سے ڈھانپے اور اپنے ہاتھ کسی ایسی چیز میں داخل کرے جس سے اس کے ہاتھ چھپ جائیں۔ فرمایا: ” وَلاَ تَنْتَقِبِ المَرْأَةُ، وَلاَ تَلْبَسِ القُفَّازَيْنِ“ کہ عورت نہ تو نقاب پہنے گی اور نہ ہی دستانے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4544

 
 
Hadith   703   الحديث
الأهمية: أَرَى رُؤْيَاكُمْ قد تَوَاطَأَتْ في السبعِ الأواخر، فمن كان مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا في السبعِ الأواخر


Tema:

میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب آخری سات تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے اس (شب قدر) کی تلاش ہو وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-: أن رجالا من أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- أرُوا ليلة القدر في المنام في السبع الأواخر. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-:« أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر، فمن كان مُتحرِّيها فليتحرّها في السبع الأواخر».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے کچھ صحابہ کو خواب میں دکھائی دیا کہ شبِ قدر (رمضان کی) آخری سات تاریخوں میں ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب آخری سات تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔اس لیے جسے اس (شب قدر) کی تلاش ہو وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ليلة القدر ليلة شريفة عظيمة، فيها تضاعف الحسنات وتكفر السيئات، وتقدر الأمور.
ولما علم الصحابة -رضي الله عنهم- فضلها وكبير منزلتها، أحبوا الاطلاع على وقتها، ولكن الله -سبحانه وتعالى- بحكمته ورحمته بخلقه أخفاها عنهم ليطول تلمسهم لها في الليالي، فيكثروا من العبادة التي تعود عليهم بالنفع.
فكان الصحابة يرونها في المنام، واتفقت رؤاهم على أنها في السبع الأواخر من شهر رمضان، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع، فمن كان متحرياً فليتحرَّها في السبع الأواخر"، وفي رواية: "العشر الأواخر"، خصوصاً في أوتار تلك العشر، فإنها أرجى، فَلْيُحْرَص المسلم على رمضان، وعشره الأخير أكثر، وليلة سبع وعشرين أبلغ.
588;ب قدر عظمت، شرف ومنزلت والی رات ہے۔ اس میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور گناہ معاف ہوتے ہیں اور مختلف امور کے فیصلہ کیے جاتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب اس رات کی فضیلت اور اس کے علو مرتبت کا علم ہوا تو وہ اس کے وقت کو جاننے میں لگ گئے تاہم اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ اپنی حکمت و رحمت کی بدولت اسے ان سے مخفی رکھا تاکہ وہ راتوں میں اسے زیادہ سے زیادہ تلاش کریں اور یوں زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں جس کا نفع بالآخر انہی کو ہی ہو گا۔
صحابہ کرام کو خواب میں یہ رات دکھائی دیا کرتی تھی اور ان کے خوابوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ رمضان کے آخری سات راتوں میں ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رات آخری سات راتوں میں ہے، چنانچہ جو اسے تلاش کرنا چاہتا ہو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے“۔ خاص طور پر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں کیونکہ زیادہ امید یہی ہے کہ وہ انہی میں سے کوئی ہو گی۔ چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ رمضان مبارک (میں عبادت) کا اہتمام کرے، خصوصاً آخری عشرے میں اور ستائیسویں رات کا سب سے زیادہ اہتمام کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4545

 
 
Hadith   704   الحديث
الأهمية: إذا أقبل الليل من هَهُنا، وأدْبَر النهار من ههنا؛ فقد أفطر الصائم


Tema:

جب اِدھر (مشرق) سے رات پڑنا شروع ہو جائے اور اُدھر (مغرب) سے دن رخصت ہونا شروع ہو جائے تو اس وقت روزہ دار افطار کر لے۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا أقبل الليل من هَهُنا، وأَدْبَرَالنهار من ههنا، فقد أفطر الصائم».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اِدھر (مشرق) سے رات پڑنا شروع ہو جائے اور اُدھر (مغرب) سے دن ڈوبنے لگے تو اس وقت روزہ دار افطار کر لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وقت الصيام الشرعي من طلوع الفجر إلى غروب الشمس.
ولذا، فقد أفاد النبي -صلى الله عليه وسلم- أمته: أنه إذا أقبل الليل من قِبل المشرق، وأدبر النهار من قِبل المغرب -بغروب الشمس، كما في رواية: (إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ)- فقد دخل الصائم في وقت الإفطار الذي لا ينبغي له تأخيره عنه، بل يُعاب بذلك، امتثالاً لأمر الشارع، وتحقيقًا للطاعة، وتمييزًا لوقت العبادة عن غيره، وإعطاء للنفس حقها، من مُتَعِ الحياة المباحة.
قوله: "فقد أفطر الصائم" يحتمل معنيين:
أ- إما أنه أفطر حكماً بدخول الإفطار ولو لم يتناول مفطراً، ويكون الحث على تعجيل الفطر في بعض الأحاديث معناه الحث على فعل الإفطار حسًّا ليوافق المعنى الشرعي.
ب- وإما أن يكون المعنى : دخل في وقت الإفطار ويكون الحث على تعجيل الفطر على بابه وهذا أولى، ويؤيده رواية البخاري "فقد حلَّ الإفطار".
585;وزے کا شرعی وقت طلوعِ فجر تا غروبِ آفتاب ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اپنی امت کو آگاہ کیا کہ جب مشرق کی جانب سے رات چڑھ آئے اور مغرب کی طرف سورج غروب ہونے کے ساتھ دن رخصت ہو جائے (تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے)۔ جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’جب رات ادھر سے چڑھ آئے اور دن ادھر سے رخصت ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افطار کر لے‘‘۔یعنی ایسا ہونے پر روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے اور اس سے مزید تاخیر کرنا مناسب نہیں بلکہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ برا سمجھا جائے گا۔ ( یہ حکم اس لیے ہے) تاکہ شارع کے حکم کی تعمیل اور فرماں برداری ہو، اور معلوم ہو سکے کہ کس وقت عبادت کرنی ہے اور کس وقت نہیں اور تاکہ نفس کو زندگی کی جائز لذتوں سے لطف اندوزی کی شکل میں اس کا حق مل سکے۔
آپ ﷺ کے فرمان: ”فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ“ میں دو معانی کا احتمال ہے:
ایک: یا تو روزہ دار افطار کا وقت ہونے کے ساتھ ہی حکمی طور پر افطار کرنے والا ہو جائے گا اگرچہ وہ روزہ افطار کرنے والی کوئی شے نہ بھی کھائے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے بعض احادیث میں جو افطار جلد کرنے کا حکم آیا ہے اس سے مراد حسی طور پر افطار کرنے کی ترغیب دینا ہو گا تاکہ اس کا عمل شرعی معنی کے موافق ہو جائے۔
دوسرا: یا پھر مفہوم یہ ہو گا کہ اس پر افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اس میں جلدی افطار کرنے کی ترغیب ہے اور یہی معنی زیادہ بہتر ہے جس کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ ”فقد حلَّ الإفطار“ (تو افطار کا وقت ہو جاتا ہے)۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4546

 
 
Hadith   705   الحديث
الأهمية: ليس فيما دُون خمس أَوَاقٍ صدقة، ولا فيما دون خمس ذَوْدٍ صدقة، ولا فيما دُونَ خمسة أَوْسُقٍ صدقة


Tema:

پانچ اوقيہ سے کم (چاندی) میں زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں اور نہ ہی پانچ وسَقْ (غلہ) سے کم میں زکوۃ ہے۔

عن أبي سعيد الْخُدْرِي -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ليس فيما دون خمس أَوَاقٍ صدقة، ولا فيما دون خمس ذَوْدٍ صدقة، ولا فيما دُونَ خمسة أَوْسُقٍ صدقة».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ اوقيہ سے کم (چاندی) میں زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں اور نہ ہی پانچ وسَقْ (غلہ) سے کم میں زکوۃ ہے“۔

الزكاة، مواساة بين الأغنياء والفقراء، ولذا فإنها لا تؤخذ ممن ماله قليل لا يُعدَّ به غنيا.
فالشارع بين أدنى حد لمن تجب عليه، وأما من يملك دون الحد الأدنى، فإنه فقير لا يؤخذ منه شيء.
فصاحب الفضة، لا تجب عليه حتى يكون عنده خمس أَوَاقٍ، وكل أوقية أربعون درهما، فيكون نصابه منها مائتي درهم ، تعادل: خَمْسَمائَةٍ وتسعين جرامًا.

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وصاحب الإبل لا تجب عليه الزكاة، حتى يكون عنده خمسٌ فصاعدا، وما دون ذلك ليس فيها زكاة.
وصاحب الحبوب والثمار، لا تجب عليه، حتى يكون ما عنده خمسة أَوسُقٍ، و"الوَسْقُ" ستون صاعا، فيكون نصابه ثَلاثُمِائةِ صاعٍ.
586;کوۃ امیروں اور غریبوں کے مابین مواساۃ کا ایک ذریعہ ہے اس لیے یہ اس شخص سے وصول نہیں کیا جاتا جس کا مال کم ہو اور اس کی وجہ سے وہ امیر شمار نہ ہوتا ہو۔
نبی ﷺ نے مال کی اس کم ترین حد کو بیان کر دیا جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ جس شخص کے پاس اس کم ترین حد سے بھی کم مال ہو تو وہ فقیر گردانا جائے گا اور اس سے زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی۔ جس شخص کے پاس چاندی ہو اس پر زکوۃ تب تک واجب نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی مقدار پانچ اوقیہ نہ ہو جائے۔ ہر اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں چنانچہ اس طرح سے چاندی سے زکوۃ کا نصاب دو سو درہم ہوگا جو کہ پانچ سو نوے (590) گرام کے برابر بنتے ہیں۔
جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اس پر تب تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ وہ پانچ یا پانچ سے زیادہ نہ ہوں۔ ان سے کم پر زکوۃ نہیں ہو گی۔
جس شخص کی ملکیت میں اناج اور پھل ہوں اس پر تب تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ ان کی مقدار پانچ وَسْق نہ ہو جائے۔ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اس طرح سے اس کا نصاب تین سو صاع ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4547

 
 
Hadith   706   الحديث
الأهمية: يا رسول الله، إني كُنْتُ نَذَرْتُ في الجَاهِلِيَّةِ أن أَعْتَكِفَ لَيْلَةً في المسجد الحَرَامِ ؟ قال: فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ


Tema:

یا رسول اللہ! میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات -اور دوسری روایت کے مطابق ایک دن- مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قال: قلت: يا رسول الله، إني كنت نَذَرْتُ في الجَاهلية أن أعتكف ليلة -وفي رواية: يومًا- في المسجد الحرام ؟ قال: «فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات -اور دوسری روایت کے مطابق ایک دن- مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نذر عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- في الجاهلية أن يَعتكف ليلة في المسجد الحرام، فسأل النبي -عليه الصلاة والسلام- عن حكم نَذْرِهِ الذي حصل منه في الجاهلية فأمره -عليه الصلاة والسلام- أن يوفي بِنَذْرِهِ .
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے۔ انںھوں نے نبی ﷺ سے اس نذر کے حکم کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں مانی تھی۔ آپ ﷺ نے انھیں اپنی نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4548

 
 
Hadith   707   الحديث
الأهمية: إذا رَأَيْتمُوه فَصُومُوا، وإذا رَأَيْتُمُوه فَأفْطِروُا، فإن غُمَّ عليكم فَاقْدُرُوا له


Tema:

جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إذا رَأَيْتمُوه فَصُومُوا، وإذا رَأَيْتُمُوه فَأفْطِروُا، فإن غُمَّ عليكم فَاقْدُرُوا له».

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو، تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو، تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو، تو اس کا اندازہ لگالو“۔۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أحكام الشرع الشريف تُبْنَى على الأصل، فلا يُعْدَل عنه إلا بيقين.
ومن ذلك: أن الأصل بقاء شعبان، وأن الذمة بريئة من وجوب الصيام، ما دام أن شعبان لم تُكْمَلْ عدته ثلاثين يوما، فيعلم أنه انتهى، أو يُرَى هلال رمضان، فيُعْلَمُ أنه دخل.
ولذا فإن النبي -صلى الله عليه وسلم-، علّق صيام شهر رمضان وفطره برؤية الهلال.
فإن كان هناك مانع من غيم، أو قَتَرٍ، أو نحوهما، فيُكْمل عدة شعبان ثلاثين يوما؛ لأن الأصل بقاؤه فلا يُحْكَم بخروجه إلا بيقين، والقاعدة: "أن الأصل بقاء ما كان على ما كان".
588;ریعت کے احکام اصل پر مبنی ہیں۔ چنانچہ اصل سے اسے تب تک پھیرا نہیں کیا جائے گا، جب تک کہ یقین نہ ہو جائے۔
اس قاعدے کی تطبیق کی ایک مثال یہ ہے کہ اصل یہ ہے کہ شعبان باقی ہے اور جب تک شعبان کے تیس دن پورے نہیں ہو جاتے اور یہ معلوم نہیں ہو جاتا کہ وہ ختم ہو گیا ہے یا پھر رمضان کا چاند نظر آنے کی بنا پر یہ علم نہیں ہو جاتا کہ رمضان شروع ہو چکا ہے، تب تک آدمی کے ذمے روزے فرض نہیں ہوتے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے یا نہ رکھنے کو چاند کی رؤیت کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ اگر چاند دیکھنے میں کوئی شے رکاوٹ بن جائے جیسے بادل، غبار یا اس طرح کی کوئی اور شے، تو اس صورت میں شعبان کے تیس دن پورے کیے جائیں گے؛ کیوں کہ اصل یہی ہے کہ وہ باقی ہے۔ چنانچہ اس کے ختم ہونے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا، جب تک اس کا یقین نہ ہو جائے۔ اس سلسلے میں قاعدہ یہ ہے: ”اصل یہ ہے کہ جو شے جس حالت میں تھی، وہ اسی حالت میں باقی رہے گی“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4549

 
 
Hadith   708   الحديث
الأهمية: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ؛ ما أَهْدَيْتُ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْت


Tema:

اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی (عمرہ کے بعد) حلال ہو جاتا۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: «أَهَلَّ النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- وأصحابُه بالحج، وليس مع أحد منهم هَدْيٌ غير النبي -صلى الله عليه وسلم- وطلحة، وقدم علي -رضي الله عنه- من اليمن. فقال: أَهْلَلْتُ بما أَهَلَّ به النبي -صلى الله عليه وسلم- فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه: أن يجعلوها عمرة، فيطوفوا ثم يُقَصِّرُوا ويَحِلُّوا، إلا من كان معه الهَدْي، فقالوا: ننطلق إلى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ؟ 
فبلغ ذلك النبي - صلى الله عليه وسلم- فقال: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ؛ ما أَهْدَيْتُ ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ. 
وحاضت عائشة. فَنَسَكَتْ المنَاسِك كلها، غير أنها لم تَطُفْ بالبيت. فلما طَهُرت وطافت بالبيت قالت: يا رسول الله، تَنْطَلِقُونَ بحج وعمرة، وأنطلق بحج؟ فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر: أن يخرج معها إلى التَّنْعِيمِ ، فاعتمرت بعد الحج».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کريم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا۔ نبی ﷺ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہیں تھا۔ علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف کر کے بال کٹوا لیں اور حلال ہوجائيں سوائے ان کے جن کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اس پر لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم مِنی کی طرف اس طرح جائیں گے کہ ہمارے آلۂ تناسل سے (مَنی) ٹپک رہی ہوگی؟!
یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی (عمرہ کے بعد) حلال ہو جاتا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے تمام اعمالِ حج ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور بيت اللہ کا طواف کر لیا تو عرض کيا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج ہی کرکے واپس ہوجاؤں؟، تو آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم ديا کہ انہیں ساتھ لے کر تنعیم جائیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنے کے بعد عمرہ کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يصف جابر بن عبد الله رضيَ الله عنهما حجة النبي صلى الله عليه وسلم بأنه وأصحابه أهلُّوا بالحج، ولم يَسُق أحدٌ منهم الْهَدْيَ إلا النبي صلى الله عليه وسلم وطلحة بن عبيد الله رضيَ الله عنه، وكان علي بن أبي طالب رضيَ الله عنه في اليمن، فقدم، ومن فقهه أحرم وعلَّق إحرامه بإحرام النبي صلى الله عليه وسلم.
فلما قدموا مكة، أمرهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يفسخوا إحرامهم من الحج إلى العمرة، ويكون طوافهم وسعيهم للعمرة، ثم يقصروا ويُحِلُّوا التحلل الكامل. هذا في حق من لم يسق الهدي.
أما من ساقه - ومنهم النبي صلى الله عليه وسلم فبقوا -بعد طوافهم وسعيهم- على إحرامهم.
فقال الذين أُمِرُوا بفسخ حجهم إلى عمرة -متعجبين ومستعظمين-: كيف نتحلل ونجامع أهلنا ثم ننطلق إلى "مِنى" مُهِلين بالحج، ونحن حديثو عهد بذلك؟.
فبلغ النبيّ صلى الله عليه وسلم مقَالَتهم واستعظام ذلك في نفوسهم، فطمأن أنفسهم بما هو الحق وقال:
لو استقبلت من أمري ما استدبرت، ما سُقْتُ الهَدْىَ الذي منعني من التحلل، ولأحللت معكم. فرضيت أنفسهم واطمأنت قلوبهم.
وحاضت عائشة رضيَ الله عنها قُرْبَ دخولهم مكة، فصارت قارنة؛ لاًن حيضها منعها من الطواف بالبيت، وفعلت المناسك كلها غير الطواف والسعي.
فلما طهرت وطافت بالبيت طواف حجها، صار في نفسها شيء، إذ كان أغلب الصحابة -ومنهم أزواج النبي صلى الله عليه وسلم- قد فعلوا أعمال العمرة وحدها وأعمال الحج. وهي قد دخلت عمرتها في حجها.
فقالت: يا رسول الله، تنطلقون بحج وعمرة وأنطلق بحج؟.
فطيَّب خاطرها، وأمر أخاها عبد الرحمن أن يخرج معها إلى التنعيم، فاعتمرت بعد الحج.
580;ابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج کے بارے ميں بتلا رہے ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے حج كا احرام باندھا، تاہم نبی ﷺ اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے سوا ان میں سے کسی کے پاس بھی ہدی کا جانور نہیں تھا۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت یمن میں تھے۔ چنانچہ وہ آئے، اور ان کی فقاہت دیکھیے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اپنے احرام کو نبی ﷺ کے احرام کے ساتھ معلق کردیا۔
جب وہ لوگ مکہ آئے تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کا احرام ختم کر کے اسے عمرہ کے لئے کر دیں اور عمرہ کے لیے طواف اور سعی کریں اور پھر بال کتروا کر مکمل طور پر حلال ہوجائيں۔ یہ حکم اس شخص کے بارے میں تھا جو اپنے ساتھ ہدی نہیں لایا تھا۔
البتہ جو لوگ ہدی لے کر آئے تھے بشمول نبی ﷺ کے وہ طواف او ر سعی کرنے کے بعد اپنے احرام ہی ميں رہے۔
جن لوگوں کو حج کو عمرہ ميں تبديل کرنے کے ليے کہا گیا تھا وہ حيرت واستعجاب سے کہنے لگے: ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم حلال ہوکر اپنی بیویوں سے صحبت کریں اور پھر حج کا احرام باندھ کر منی کی طرف روانہ ہوں حالانکہ ہم نے ابھی ابھی اپنی بیویوں سے ہم بستری کی ہو؟
نبی ﷺ تک جب ان کی یہ بات پہنچی اور آپ ﷺ کو علم ہوا کہ ان پر یہ بات بڑی گراں گزر رہی ہے تو آپ ﷺ نے انہیں حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے دلاسہ دیا کہ: اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی ہے تو میں اپنے ساتھ یہ ہدی کا جانور نہ لاتا جس نے مجھے حلال ہونے سے روک دیا اور میں بھی تمہارے ساتھ حلال ہو جاتا۔ اس پر ان کے دل راضی اور مطمئن ہو گئے۔
جب وہ مکہ میں داخل ہونے والے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوگئيں۔ چنانچہ وہ حج قران کرنے والی ہو گئیں کیونکہ حیض آنے کی وجہ سے وہ بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں۔ تاہم طواف اور سعی کے علاوہ انہوں نے تمام مناسک ادا کئے۔
جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں اور اپنے حج کے لیے بیت اللہ کا طواف کیا تو ان کے دل میں گرہ پڑ گئی کہ اکثر صحابہ بشمول نبی ﷺ کی ازواج نےتو الگ سے عمرہ بھی کیا اور حج بھی، جب کہ ان کا عمرہ، حج کے اندر شامل ہو گیا۔
اس پر وہ رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگیں: آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس ہوجاؤں؟
آپ ﷺ نے ان کی دل جوئی کے لیے ان کے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم ديا کہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر جائیں (تا کہ وہ وہاں سے احرام باندھ لیں)۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کی ادائیگی کی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4550

 
 
Hadith   709   الحديث
الأهمية: إنَّ اللهَ لا يَنْظُرُ إلى أَجْسامِكُمْ، ولا إلى صُوَرِكُمْ، ولَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُمْ وأَعْمَالِكُمْ


Tema:

اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمھارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ الله لا ينْظُرُ إِلى أجْسَامِكُمْ، ولا إِلى صُوَرِكمْ، وَلَكن ينْظُرُ إلى قُلُوبِكمْ وأعمالكم».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمھارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله لا يثيبكم ولا يجازيكم على أجسامكم وصوركم ولا يحصل لكم القرب منه سبحانه بذلك، ولكن تحصل المجازاة على ما في قلوبكم من الإخلاص والصدق وعلى الأعمال الصالحة التي تقومون بها
575;للہ تعالی تمہیں تہمارے جسموں اور تمہاری صورتوں پر ثواب اور جزاء نہیں دیتے اور نہ ہی ان کی وجہ سے تمہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ جزاء تو دل میں موجود اخلاص و سچائی اور ان نیک اعمال پر ملتا ہے جنہیں تم سر انجام دیتے ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4555

 
 
Hadith   710   الحديث
الأهمية: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام


Tema:

اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول عام الفتح وهو بمكة:
«إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخِنزير والأصنام»، فقيل: يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة، فإنه يُطلى بها السفن، ويُدهن بها الجلود، ويَستصبِح بها الناس؟ قال: «لا، هو حرام» ، ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-عند ذلك: «قاتل الله اليهود، إن الله حرم عليهم الشحوم، فأَجْمَلوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح کے سال جب کہ آپ ﷺ مکہ میں تھے، فرماتے ہوئے سنا: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خریدو فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے کشتیوں پر ملا جاتا ہے، کھالوں پر لگایا جاتاہے اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ، یہودیوں کو برباد کرےکہ اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو ان لوگوں نے اسے پگھلا کر بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاءت هذه الشريعة الإسلامية السامية، بكل ما فيه صلاح للبشر، وحذّرت من كل ما فيه مضرة فأباحت الطيبات وحرمت الخبائث، ومن تلك الخبائث المحرمة هذه الأشياء الأربعة المعدودة في هذا الحديث، حيث ذكر جابر أنه سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- ينهى عن بيعها بمكة عام الفتح, فالخمر والميتة والخنزير والأصنام, لا يحل بيعها ولا أكل ثمنها, لأنها عناوين المفاسد والمضار، ثم ذكر جابر أن بعض الصحابة قالوا: يا رسول الله! أرأيت شحوم الميتة؟ فإنه يطلى بها السفن لسد المسام الخشبية فلا تغرق، ويدهن بها الجلود فتلين، ويستصبح بها الناس أي يشعلون بها سرجهم، فقال -صلى الله عليه وسلم-: (هو حرام), ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عند ذلك -منبها على أن التحيل على محارم الله، سبب لغضبه ولعنه-: لعن الله اليهود, إن الله -سبحانه- لما حرم عليهم شحوم الميتة، أذابوه، ثم باعوه, مع كونه حرم عليهم، فأكلوا ثمنه.
والضمير في قوله: "هو حرام" قيل: هو راجع إلى البيع، وقيل راجع إلى الاستعمال, وكونه راجعا إلى الانتفاع والاستعمال هو ما مالت إليه اللجنة الدائمة, وعلى هذا الرأي يحرم الانتفاع بشحوم الميتة، أو أي جزء منها، إلا ما خص بالدليل، كجلد الميتة إذا دبغ، والعلة والله أعلم من تحريم الانتفاع بشحوم الميتة فيما ذكر في الحديث نجاستها، فما حرم عينه لنجاسته حرم ثمنه والانتفاع به، وحرم تناوله من باب أولى.
575;س عظیم اسلامی شریعت میں انسانی خیر و درستگی سے متعلق تمام امور کو سمیٹ دیا گیا اور ہر اس امر پر تنبیہ کردی گئی، جس میں ضرر پنہاں ہو؛ چنانچہ تمام پاکیزہ چیزوں کو مباح کر دیاگیا اور ہر قسم کی خبیث چیزوں کو حرام قرار دے دیا گیا اور انہی حرام و گندی چیزوں میں سے چار چیزیں اس حدیث میں گنائی کی گئی ہیں۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ کو فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں ان اشیا کی خرید و فروخت سے منع فرماتے سنا۔ لہذا شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت حرام ہے اور ان کی قیمت کا کھانا بھی حرام ہے؛ کیوں کہ یہی بگاڑ و فساد اور ضرر رساں اثرات عام کرنے کے سرفہرست ذرائع ہیں! پھر جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعض صحابہ نے پوچھا کہ :اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے کشتیوں پر ملاجاتا ہے؛ تاکہ لکڑی کے چھوٹے سوراخوں کو بند کیا جائے کہ کشتیاں غرق نہ ہونی پائیں، کھالوں میں بطور تیل لگایا جاتا ہے؛ تاکہ جلد نرم و ملائم ہوجائے اور اس سے لوگ اپنے چراغ بھی روشن کرتے ہیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ سب حرام ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس موقع پرخبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی محرمات کے تئیں حیلہ سازی اختیار کرنا، اس کے غضب اور یہود پر اللہ تعالیٰ کی لعنت فرمانے کی طرح لعنت کو دعوت دینے کا ذریعہ ہے؛ کیوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جب ان پر مردار کی چربی کو حرام کیا، تو انھوں نے اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کیا اور ان کے لیے اس چیز کے حرام ہونے کے باوجود اس کی قیمت کھائی۔
آپ ﷺ کے قول”ھُوَحَرَامٌ“ کی ضمیر کا مرجع ،ایک قول کے مطابق فروخت ہے اور ایک دوسرے قول کے مطابق اس کا استعمال ہے۔ جب کہ دائمی فتوی کمیٹی (سعودی عرب) نے انتفاع و استعمال (دونوں) کو مرجع قرار دیا اور اس فتوی کے مطابق، مردار کی چربی یا اس کے کسی بھی جز سے انتفاع حرام ہے، الا یہ کہ اس عموم کو خاص کرنے والی کوئی دلیل ثابت ہو، جیسے مردار کا دباغت دیا گیا چرم۔ حدیث میں ذکر کردہ، مردار کی چربی سے استفادہ کو حرام قرار دینے کی علت، اس کی نجاست ہوسکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ چنانچہ جس چیز کی اصل نجس ہونے کی بنا پر حرام ہوگی، اس کی قیمت اور اس سے انتفاع بھی حرام ہوگی اور اس کا کھانا تو بدرجۂ اولی حرام ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4556

 
 
Hadith   711   الحديث
الأهمية: إن بالمدينة لَرِجَالًا ما سِرْتُم مَسِيرًا، ولا قَطَعْتُم وَادِيًا، إلا كانوا مَعَكُم حَبَسَهم المرض


Tema:

مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے طے کیا وہ ( ہر ایک کے اجر میں) تمہارے ساتھ تھے، انہیں مرض نے تمہارے ساتھ آنے سے روک رکھا تھا۔

عن أبي عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري -رضي الله عنهما-، قال: كنا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في غَزَاةٍ، فقال: «إن بالمدينة لَرِجَالًا ما سِرْتُم مَسِيرًا، ولا قَطَعْتُم وَادِيًا، إلا كانوا مَعَكُم حَبَسَهم المرضُ».
وفي رواية: «إلا شَرَكُوكُم في الأَجْرِ».
وعن أنس - رضي الله عنه - قال: رجعنا من غزوة تبوك مع النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «إن أقواما خلفنا بالمدينة ما سلكنا شِعْبَا، ولا واديا، إلا وهم معنا؛ حبسهم العذر».

ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے طے کیا وہ ( ہر ایک کے اجر میں) تمہارے ساتھ تھے، انہیں مرض نے تمہارے ساتھ آنے سے روک رکھا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے پیچھے مدینہ میں کچھ لوگ ہیں۔ ہم جس گھاٹی اور وادی میں بھی اترے وہ ہمارے ساتھ تھے۔ انہیں عذر نے روک لیا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر -صلى الله عليه وسلم- عن رجال ما حبسهم عن الجهاد في سبيل الله عز وجل إلا المرض ونحوه من الأعذار، فيخبر أنه ما سار الغُزاة سيرا ولا قطعوا واديا ولا شِعبا إلا وكُتِبَ لهؤلاء ثواب ذلك العمل.
606;بی ﷺ ایسے لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو کسی مرض یا اس طرح کی کسی اور مجبوری کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ میں شریک نہ ہو سکے۔ آپ ﷺ بتا رہے ہیں کہ جہاد کرنے والے جتنا بھی چلے ہیں اور انہوں نے جس وادی اور گھاٹی کو بھی عبور کیا ہے ان کے اس عمل کا ثواب ان لوگوں کے لیے بھی لکھا گیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4557

 
 
Hadith   712   الحديث
الأهمية: أوليس قد جعل الله لكم ما تَصَّدَّقُون: إن بكل تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وكل تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وكل تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وكلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً


Tema:

کیا اللہ نے تمہارے لیے ایسى چیزیں نہیں بنائیں کہ تم ان کا صدقہ کرو؟ بے شک ہرسبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر الحمد للہ کہنا صدقہ ہےاور ہر لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے

عن أبي ذر الغفاري -رضي الله عنه- أن ناسًا من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم- قالوا للنبي -صلى الله عليه وآله وسلم-: يا رسول الله، ذهب أهل الدُّثُور بالأجور: يُصلون كما نُصلِّي ويَصُومون كما نصومُ، ويَتصدقون بفُضُول أموالِهم.
قال: أوليس قد جعل الله لكم ما تَصَّدَّقُون: إن بكل تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وكل تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وكل تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وكلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وأمرٌ بمعروفٍ صَدَقَةٌ، ونَهْيٌ عن مُنكرٍ صَدَقَةٌ، وفي بُضْع أحدكم صدقة.
قالوا: يا رسول الله، أيأتي أحدنا شهوتَه ويكونُ له فيها أجر؟
قال أرأيتم لو وضعها في حرام أكان عليه وِزْرٌ؟ فكذلك إذا وضعها في الحلال كان له أجرٌ.

Esin Hadith Text Urdu
ابو ذر- رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، (اس پر مزید) وہ اپنےفاضل مالوں میں سے صدقہ وخیرات کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ نے تمہارے لیے ایسى چیزیں نہیں بنائیں کہ تم ان کا صدقہ کرو؟ بے شک ہرسبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر الحمد للہ کہنا صدقہ ہےاور ہر لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا صدقہ ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سےایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا تو اسے اجر ملے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي ذر -رضي الله عنه- أن ناسا قالوا: يا رسول الله ذهب أهل الأموال بالأجور وأخذوها عنا، فهم يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم ويتصدقوا بأموالهم الزائدة عن حاجتهم، فنحن وهم سواء في الصلاة وفي الصيام، ولكنهم يفضلوننا بالتصدق بما أعطاهم الله -تعالى- من فضل المال ولا نتصدق.
فأخبرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه إذا فاتتهم الصدقة بالمال فهناك الصدقة بالأعمال الصالحة، فللإنسان بكل تسبيحة صدقة وكل تكبيرة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة.
ثم أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم-: أن الرجل إذا أتى امرأته فإن في ذلك صدقة.
فقالوا: يا رسول الله أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر.
قال: أرأيتم لو زنى ووضع الشهوة في الحرام هل يكون عليه وزر؟ قالوا: نعم، قال فكذلك إذا وضعها في الحلال كان له أجر.
575;بوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان کررہے ہيں کہ کچھ صحابۂ کرام نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! مالدارحضرات ثواب ميں ہم سے آگے بڑھ گئے۔ چنانچہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنی حاجت سے زائد اموال سے صدقہ کرتے ہیں، پس ہم اور وه نماز اور روزہ ميں توبرابر ہيں، ليکن وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ زائد مال کے ذريعہ صدقہ كرکے ہم سے آگے بڑھ جاتے ہيں جبکہ ہم صدقہ کرنے کی استطاعت نہيں رکھتے۔
تو نبى صلی اللہ عليہ وسلم نے انھيں بتلايا کہ اگر وہ مال کا صدقہ کرنے کی طاقت نہيں رکھتے ہيں تو اعمال صالحہ کا بھی صدقہ ہوتا ہے۔ چنانچہ انسان کے ليے ہرسبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہراللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر الحمد للہ کہنا صدقہ ہےاور ہر لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، بھلائی کا حکم دينا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔
پھرنبی صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلايا کہ: آدمی جب اپنی بيوی کے پاس آتا ہے تو اس ميں بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نےکہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کيا ہم ميں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس ميں بھی اس کے ليے ثواب ہے؟
آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : "تم لوگوں کی کيا رائے ہے اگر وہ زنا کرے اور حرام طريقے سے شہوت کی تکميل کرے تو کيا اس پر گناہ ہوگا؟ صحابہ نے کہا: جى ہاں، آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح جب وہ حلال طريقے سے شہوت پوری کرے گا تو اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4558

 
 
Hadith   713   الحديث
الأهمية: إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: إذا لم تستح فاصنع ما شئت


Tema:

اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے۔

عن أبي مسعود الأنصاري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ مما أدرَكَ الناسُ من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنعْ ما شِئْتَ».

ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن مما أُثِرَ عن الأنبياء السابقين الوصية بالحياء, والحياء صفة في النفس تحمل الإنسان على فعل ما يجمل ويُزين، وترك ما يُدَنِّس ويشين، وهو من خصال الايمان فإذا لم يمنع المرءَ الحياءُ الذي هو من الإيمان من ارتكاب ما يشينه فما الذي سيمنعه؟
711;زشتہ انبیاء کرام سے حیا کی وصیت کرنا منقول ہے۔ حیا انسان کے اندر ایک ایسی صفت ہوتی ہے جو انسان کو اچھے کاموں کے کرنے اور بُرے و عیب دار کاموں سے روکتی ہے۔ یہ ایمان کی خصلتوں میں سے ہے۔ اگر کسی انسان کو عیب دار کام کرنے سے حیا جو کہ ایمان کا ایک حصہ ہے مانع نہ ہو تو پھر اور کیا چیز مانع ہو سکتی ہے؟   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4559

 
 
Hadith   714   الحديث
الأهمية: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى


Tema:

اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنما الأعمال بِالنيَّات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرتُه إلى الله ورسوله فهجرتُه إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرتُه لدنيا يصيبها أو امرأةٍ ينكِحها فهجرته إلى ما هاجر إليه».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا حديث عظيم الشأن, وقد عدّه بعض العلماء ثلث الإسلام, فالمؤمن يثاب بحسب نيته، وعلى قدر صلاحها، فمن كانت أعماله خالصة لله فهي مقبولة ولو كانت قليلة يسيرة بشرط موافقة السنة، ومن كانت أعماله رياء للناس وليست خالصة لله فهي مردودة وإن كانت عظيمة كثيرة.
وكل عمل ابتُغِي به غير وجه الله, سواء كان هذا المُبتغى امرأة أو مالأ أو جاهًا أو غير ذلك من أمور الدنيا؛ فإن هذا يكون ردًّا على صاحبه, لا يقبله الله منه, إذ إن شرطي قبول العمل الصالح: أن يكون العمل خالصًا لله, وأن يكون موافقًا لهدي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
740;ہ بہت عظیم الشان حدیث ہے۔ بعض علماء تو اسے تہائی اسلام گردانا ہے۔ مومن کو اس کی نیت اور اس کی درستگی کے مطابق ثواب دیا جاتا ہے۔ پس جس کے اعمال خالصتاً اللہ کے لیے ہوں، انہیں شرف قبولیت حاصل ہو گی اگرچہ وہ بہت تھوڑے اور ہلکے ہی کیوں نہ ہوں بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہوں۔ اور جس کے اعمال لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوں اور خالصتا اللہ کے لیے نہ ہوں تو وہ رد کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ بہت بڑے اور بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔
ہر وہ عمل جس سے اللہ کی رضا کے بجائے کچھ اور مقصود ہو چاہے یہ مقصود کوئی عورت ہو یا پھر مال و جاہ یا امورِ دنیا میں سے کچھ اور تو اسے صاحب عمل پر رد کر دیا جاتا ہے اور اس کا یہ عمل اللہ قبول نہیں فرمائے گا۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ نیک عمل کی قبولیت کی دو شرائط ہیں: ایک تو یہ کہ عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہو اور دوسرا یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے موافق ہو۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4560

 
 
Hadith   715   الحديث
الأهمية: بينما نحن جلوس عند رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم- ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديدُ بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يُرى عليه أثرُ السفر ولا يعرفه منا أحد


Tema:

ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا

عن عمر -رضي الله عنه- قال: «بينما نحن جلوسٌ عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ذات يوم إذ طَلَعَ علينا رجلٌ شديد بياض الثياب، شديد سَواد الشعر، لا يُرى عليه أثرُ السفر ولا يعرفه منَّا أحدٌ، حتى جلس إلى النَّبيِّ -صلى الله عليه وسلم-، فأسنَد ركبتيْه إلى ركبتيْه، ووضع كفَّيه على فخذيْه، وقال: يا محمد أخبرْني عن الإسلام؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: الإسلامُ أن تشهدَ أن لا إله إلا الله وأنَّ محمداً رسول الله، وتقيم الصلاة، وتُؤتيَ الزكاة، وتصومَ رمضان، وتحجَّ البيت إن استطعتَ إليه سبيلاً، قال: صدقتَ، فعَجِبْنا له يَسأله ويُصدِّقه، قال: فأخبرْني عن الإيمان؟ قال: أن تؤمنَ بالله وملائكته وكُتبه ورسُله واليوم الآخر، وتؤمن بالقدَر خيره وشرِّه، قال: صدقتَ، فأخبرْني عن الإحسان؟ قال: أن تعبدَ الله كأنَّك تراه، فإن لَم تكن تراه فإنَّه يراك، قال: فأخبرني عن الساعة؟ قال: ما المسؤول عنها بأعلمَ مِن السائل، قال: فأخبرني عن أمَاراتِها؟ قال: أنْ تلِدَ الأَمَةُ ربَّتَها، وأنْ تَرَى الحُفاةَ العُراة العَالَة رِعاءَ الشاءِ يَتَطاوَلون في البُنيان، ثمَّ انطلق فَلَبِثَ مليًّا ثم قال: يا عمر أتدري مَن السائل؟ قلتُ: الله ورسوله أعلم، قال: فإنَّه جبريلُ أتاكم يعلِّمُكم دينَكم».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھی۔ پھر کہا: اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو، وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپ سے سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہراچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے۔ وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالک کو جنے گی، تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے بڑے بڑے محل تعمیر کریں گے۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر تک ٹہرا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر ! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اوراس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہ تمھیں تمھارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خرج  جبريل -عليه السلام- على الصحابة -رضي الله عنهم- بصورة رجل لا يُعرف، وهم جلوس عند النبي -صلى الله عليه وسلم-، فجلس بين يدي النبي -صلى الله عليه وسلم- جلسة المتعلم المسترشد، فسأله عن الإسلام، فأجابه بهذه الأركان التي تتضمن الإقرار بالشهادتين، والمحافظة على الصلوات الخمس، وأداء الزكاة لمستحقيها، وصيام شهر رمضان بنية صادقة، وأداء فريضة الحج على المستطيع، فصدقه، فاستغرب الصحابة من سؤاله الدال على عدم معرفته فيما يظهر ثم تصديقه له، وسأله عن الإيمان، فأجابه بهذه الأركان الستة المتضمنة أن الله هو الخالق الرازق، المتصف بالكمال المنزه عن النقص، وأن الملائكة التي خلقها الله عباد مكرمون لا يعصون الله -تعالى- وبأمره يعملون، والإيمان بالكتب المنزلة على الرسل من عند الله -تعالى-، وبالرسل المبلغين عن الله دينه، وأن الإنسان يبعث بعد الموت ويحاسب، ثم سأله عن الإحسان فأخبره أن الإحسان أن يعبد الله كأنه يشاهده -سبحانه-، فإن لم يقم بهذه العبادة، فليعبد الله -تعالى- خوفًا منه؛ لعلمه أنه مطلع لا تخفى عليه خافية، ثم بيَّن أن علم الساعة لا يعلمه أحد من الخلق، وأن من علامات الساعة كثرة السراري وأولادها، أو كثرة عقوق الأولاد لأمهاتهم يعاملونهن معاملة الإماء، وأن رعاة الغنم والفقراء تبسط لهم الدنيا في آخر الزمان؛ فيتفاخرون في زخرفة المباني وتشييدها، وكل هذه الأسئلة والأجوبة عليها لتعليم هذا الدين الحنيف من جبريل لقول رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هذا جبريل أتاكم يعلمكم دينكم".
589;حابۂ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ جبریل علیہ السلام صحابۂ کرام کی موجودگی میں ایک غیر معروف آدمی کی شکل میں نمودار ہوئے۔ وہ نبی ﷺ کے سامنے متعلم و شاگرد کی طرح بیٹھے۔ انھوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے اس کا جواب ان ارکان کے ذریعے دیا، جو شہادتین کے اقرار، پنج وقتہ نمازوں کی حفاظت، مستحقین کے لیے ادائے زکاۃ، سچی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنے اور طاقت رکھنے والوں کے حق میں فریضۂ حج کی ادائیگی پر مشتمل ہے۔ انھوں نے اس کی تصدیق کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس پر تعجب ہوا کہ ان کا سوال کرنا عدمِ معرفت کی دلیل ہے اور پھر وہ اس کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔
اس کے بعد ایمان کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے اس کا جواب ان چھے ارکان کے ذریعے دیا، جو ان امور پر مشتمل ہے کہ اللہ ہی خالق وروزی رساں ہے، صفت کمال سے متصف اور نقص سے پاک ہے، فرشتے جنھیں اللہ نے پیدا کیا ہے، عبادت گزار بندے ہیں، اللہ کی معصیت نہیں کرتے اور اس کے حکم کی بجا آوری میں لگے رہتے ہیں، اللہ کی جانب سے رسولوں پر اتاری گئی کتابوں پر ایمان، اللہ کے دین کی نشرواشاعت کرنے والے رسولوں پر ایمان اور اس بات پر ایمان کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کا حساب و کتاب لیا جائے گا۔
پھر انھوں نے احسان کے متعلق سوال کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے، گویا وہ اسے کو دیکھ رہا ہے۔ اگر اتنا نہ ہو سکے، تو بندہ اللہ کی عبادت اس خوف سے کرے کہ اللہ اس کی تمام پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔
پھر آپ ﷺ نے قیامت کے بارے میں فرمایا کہ مخلوق میں سے کوئی اس (کے آنے کے وقت) سے واقف نہیں ہے۔ قیامت کی علامتوں کے بارے میں فرمایا کہ لونڈیوں اور ان کی اولاد کی کثرت یا اولاد کا بکثرت اپنی ماؤں کی نافرمانی کرنا ہے کہ وہ ان کے ساتھ لونڈیوں کا سا معاملہ کرنے لگیں۔ چرواہوں ومفلسوں کو آخر وقت میں دنیاوی بسط وکشادگی حاصل ہوگی اور وہ عمارتوں کی بلندی ومضبوطی پر فخر کریں گے۔ یہ تمام سوال وجواب جبریل علیہ السلام کے ذریعے دینِ حنیف کی تعلیم کے لیے تھا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل (علیہ السلام) تھے، جو تمھیں تمھارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4563

 
 
Hadith   716   الحديث
الأهمية: دَعْ ما يَرِيبك إلى ما لا يَرِيبك


Tema:

جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔

عن الحسن بن علي بن أبي طالب -رضي الله عنهما- قال: حفظت من رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم-: «دَعْ ما يَرِيبك إلى ما لا يَرِيبك».

حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں ڈالنے والی نہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
على المؤمن أن يترك ما يشك في حله خشية أن يقع في الحرام وهو لا يشعر؛ بل عليه أن ينتقل مما يشك فيه إلى ما كان حِله متيقنًا ليس فيه شبهة ليكون مطمئن القلب، ساكن النفس، راغبًا في الحلال الخالص، متباعدًا عن الحرام والشبهات وما تتردد فيه النفس.
605;ومن كو چاہیے کہ وہ ہر اس شے کو ترک کر دے جس کے حلال ہونے میں اسے شک ہو اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ انجانے میں حرام ہی میں مبتلا نہ ہو جائے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ جس بات میں اسے شک ہو اسے چھوڑ کر وہ اس بات کو اپنائے جس کے بارے میں اسے یقین ہو اور اس میں کوئی شبہہ نہ ہو تاکہ اُس دل مطمئن اور نفس پر سکون رہے اور اسے خالص حلال کی خواہش رہے اور وہ حرام اشیاء، شبہات اور ہر ان بات سے دور رہے جن میں تردد ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4564

 
 
Hadith   717   الحديث
الأهمية: كان النبي-صلى الله عليه وسلم- يأمرُنا إذا كنا سَفْرًا -أو مُسافرين- أن لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِن جَنَابَةٍ، لكن مِن غَائِطٍ وبَوْلٍ ونَوْمٍ


Tema:

جب ہم سفر پر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو نبی ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم تین دن و رات اپنے موزے نہ نکالیں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، تاہم پاخانہ پیشاب اور نیند کی وجہ سے نہ نکالیں

عن زر بن حبيش قال: أتيت صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ -رضي الله عنه- أسأله عن المسحِ على الخُفَّيْنِ، فقال: ما جاء بك يا زِرُّ؟ فقلت: ابتغاءَ العلمِ، فقال: إنَّ الملائكةَ تَضعُ أجنحتَها لطالبِ العلمِ رِضًى بما يطلب، فقلت: إنه قد حَكَّ في صدري المسحُ على الخُفَّيْنِ بعد الغَائِطِ والبَوْلِ، وكنتَ امرءًا من أصحابِ النبي -صلى الله عليه وسلم- فجئتُ أَسْأَلُكَ هل سمعتَه يذكر في ذلك شيئا؟ قال: نعم، كان يأمرُنا إذا كنا سَفْرًا -أو مُسافرين- أن لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِن جَنَابَةٍ، لكن مِن غَائِطٍ وبَوْلٍ ونَوْمٍ، فقلت: هل سمعتَه يذكُرُ في الهَوَى شيئا؟ قال: نَعم، كُنَّا مع رَسُولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- في سَفَرٍ، فبينا نحن عنده إذ ناداه أعرابي بصوت له جَهُورِيٍّ: يا محمدُ، فأجابه رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوًا مِنْ صوته: «هَاؤُمُ» فقلت له: وَيْحَكَ! اغْضُضْ من صوتك فإنك عند النبي -صلى الله عليه وسلم- وقد نُهيتَ عن هذا! فقال: واللهِ لا أَغْضُضُ، قال الأعرابي: المرءُ يُحِبُّ القومَ ولَمَّا يَلْحَقْ بهم؟ قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «المرَّءُ مع مَن أَحَبَّ يَومَ القِيامَةِ». فما زَال يحدِّثُنا حتى ذكر بَابًا من المغْرِبِ مسيرةُ عَرضِهِ أو يَسِيرُ الرَّاكِبُ في عَرْضِهِ أربعينَ أو سبعينَ عَامًا -قال سفيانُ أحدُ الرواة: قِبَلَ الشَّامِ- خَلَقَهُ اللهُ تعالى يومَ خَلقَ السَّمَاوَاتِ والأرضَ مَفْتُوحًا للتوبةِ لا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ.

زر بن حبیش کہتے ہیں: میں صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے کے لیےآیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے زر! کون سا جذبہ تمہیں لے کر یہاں آیا ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش و جستجو میں آیا ہوں، انہوں نے کہا: فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں اس علم (دین) سے خوش ہوکر جو وہ حاصل کرتا ہے، میں نے ان سے کہا: پیشاب پاخانے سے فراغت کے بعد موزوں پر مسح کرنے کی بابت میرے دل میں اشتباہ پیدا ہو گیا ہے،آپ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ہیں لہذا میں آپ سے یہ پوچھنےکے لیے آیا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سلسلے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں جب ہم سفر پر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ’’ہم سفر کے دوران تین دن و رات اپنے موزے نہ نکالیں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، تاہم پاخانہ پیشاب کر کے اور سو کر اٹھنے پر موزے نہ نکالیں (پہنے رہیں)، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کے متعلق بھی کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اس دوران کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے ایک اعرابی نے آپ کو اے محمد!کہہ کر بآواز بلند پکارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اسی کی آواز میں جواب دیا کہ ’’میں یہاں ہوں۔‘‘ میں نے اس سے کہا: افسوس ہے تجھ پر، اپنی آواز پست کر، کیوں کہ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہے، اور اس طرح اونچی آواز سے بولنا تیرے لیے ممنوع ہے۔ اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: ''الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ'' ’’آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے نہیں ملا؟‘‘ (گویا یہ اس کا سوال تھا جو اس نے کیا)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ''الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ'' آدمی قیامت کے روز ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔ پھر وہ ہم سے گفتگو فرماتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مغرب کی جانب ایک دروازے کا ذکر کیا جس کی چوڑائی چالیس یا ستر سال کی مسافت کے برابر ہے، یا یوں فرمایا کہ دروازے کی چوڑائی اتنی ہوگی کہ سوار اس میں چلے گا تو چالیس سال یا ستر سال میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچے گا۔ سفیان (حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی) کہتے ہیں: یہ دروازہ شام کی جانب پڑے گا، اللہ تعالیٰ نے اس دروازہ کو اس وقت بنایا جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اسی وقت سے یہ دروازہ توبہ کرنے والوں کے لیے کھلا ہوا ہے، یہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک کہ سورج اس (مغرب) کی طرف سے طلوع نہیں ہوگا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء زرُّ بن حبيش إلى صفوان بن عسال -رضي الله عنه- يسأله عن المسح على الخفين، فسأله عن السبب الذي جاء من أجله، فقال زر: جئتُ من أجل العلم، فأخبره صفوان أن الملائكة تكف أجنحتها عن الطيران وتلتزم السكينة توقيرا لطالب العلم ورِضًى بما يطلب.
فقال زر: إنه قد صار عندي توقف وشك في المسح على الخفين بعد البول أو الغائط هل هذا جائز أو لا؟
فبين له صفوان بن عسَّال -رضي الله عنه- أن ذلك جائز لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمرهم إذا كانوا مسافرين أن لا ينزعوا خفافهم إلا إذا كان سيغتسل من الجنابة فلا بد من نزع الخف ونحوه، ولكن عند الوضوء من غائط وبول ونوم فإنه يجوز أن يمسح.
ثم إن زر بن حبيش سأل صفوان بن عسال: هل سمع من النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول في الهوى -أي: المحبة- شيئًا؟
فقال: نعم، ثم ذكر قصة الأعرابي الذي كان جهوري الصوت فجاء ينادي: يا محمد؛ بصوت مرتفع.
فقيل له: ويحك أتنادي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بصوت مرتفع؟ والله -عز وجل- يقول: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ} (الحجرات: 2)، ولكن الأعراب لا يعرفون الآداب كثيراً؛ لأنهم بعيدون عن المدن وبعيدون عن العلم.
فأجابه النبي -صلى الله عليه وسلم- بصوت مرتفع كما سأل الأعرابي؛ لأن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أكمل الناس هديًا، يعطي كل إنسان بقدر ما يتحمله عقله، فخاطبه النبي -صلى الله عليه وسلم- بمثل ما خاطبه به، قال له الأعرابي: "المرء يحب القوم ولما يلحق بهم"، يعني: يحب القوم ولكن عمله دون عملهم؛ لا يساويهم في العمل، مع من يكون؟ أيكون معهم أو لا؟
فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "المرء مع من أحب يوم القيامة".
ثم قال: فما زال يحدثنا النبي -صلى الله عليه وسلم- حتى ذكر بابا من المغرب بين طرفيه أو يسير الراكب بينهما أربعين أو سبعين عاما قِبلَ الشام، خلقه الله -عز وجل- يوم خلق السماوات والارض مفتوحًا لقبول التوبة حتى تطلع الشمس من المغرب.
586;ِر بن حبیش، صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے آئے، انہوں نے ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو زر نے جواب دیا کہ وہ یہاں علم کی تلاش میں آئے ہیں، صفوان نے زر کو بتایا کہ فرشتے طالبِ علم کی عزت وتوقیر میں اور جس چیز کو حاصل کرنے کے لئے وہ نکلا ہے اس سے خوش ہو کر پرواز کو ترک کرکے اپنے پروں کو سمیٹ لیتے ہیں اور سکینت اختیار کرتے ہیں۔
زِر نے کہا کہ پیشاب یا پاخانے سے فراغت کے بعد موزوں پر مسح کی بابت میرے دل میں کھٹک سی ہے کہ اس پر مسح جائز ہے یا ناجائز؟
صفوان بن عسال رضي الله عنہ نے بتایا کہ یہ جائز ہے، کیوں کہ نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا تھا کہ جب وہ سفر پر ہوں تو اپنے موزے نہ نکالیں مگر جب جنابت کے لیے غسل کرنا ہو تو موزے نکالنا ضروری ہے۔ البتہ پیشاب پاخانہ اور نیند سے بیدار ہو کر وضو کرنا ہو تو موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
پھر زر بن حبيش نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے محبت کے متعلق بھی کچھ سنا ہے؟
انہوں نے کہا: ہاں اور اس دیہاتی کا قصہ بیان کیا جس کی آواز بلند تھی اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر بآواز بلند یا محمد! کہہ کر پکارا۔
اس سے کہا گیا تمہارا ناس ہو تم بلند آواز سے رسول اللہ ﷺ کو آواز دیتے ہو، جبکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ﴾ ”اے ایمان والو!نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو، اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کرو جس طرح تم میں سے بعض، بعض کے سامنے اپنی آواز بلند کرتا ہے کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اورتمہیں خبر بھی نہ ہو“۔ (الحجرات:
۲)   دیہاتی لوگ چونکہ تعلیم اور تہذیب وتمدن سے دور ہونے کی وجہ سےادب و تہذیب سے نا آشنا ہوتے ہیں۔
اسی ناطے رسول اللہ ﷺ نے اسے بلند آواز میں اسی کے انداز میں جواب دیا ،چونکہ رسول اللہ ﷺ بحیثیت رہنما کامل ترین انسان تھے، اس لئے ہر انسان کو اس کی سمجھ کے مطابق مخاطب کرتے، اس ناطے دیہاتی کو اسی کے انداز میں بلند آواز میں جواب دیا۔ دیہاتی نے کہا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتاہے حالاں کہ وہ اس سے نہیں ملا، یعنی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس کا عمل ان کے علم سے کمتر ہوتا ہے، عمل میں وہ ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، تو وہ کس کے ساتھ ہوگا؟ کیا وہ ان کے ساتھ ہوگا یا نہیں؟
نبی ﷺ نے فرمایا: آدمی قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔
پھر زِر کہتے ہیں: ہم سے صفوان نبی ﷺ کی حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مغربی سمت میں ایک ایسے دروازے کا ذکر کیا جس کی چوڑائی یا یہ کہا کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی دوری اتنی ہوگی کہ سوار اس میں چلے گا تو چالیس سال یا ستر سال تک میں پہنچے گا، کہا گیا ہے کہ یہ دروازہ شام کی جانب پڑے گا ، جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تبھی اللہ نے یہ دروازہ بھی بنایا، اور یہ دروازہ توبہ کرنے والوں کے لیے کھلا ہوا ہے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔   --  [حَسَن صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4565

 
 
Hadith   718   الحديث
الأهمية: صلاةُ الرجلِ في جماعةٍ تَزِيدُ على صلاتهِ في سُوقِهِ وبَيْتِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً


Tema:

آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز اس کی بازار یا اپنے گھر میں پڑھی گئی نماز سے بيس سے كچھ زیادہ درجے افضل ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «صلاةُ الرجلِ في جماعةٍ تَزِيدُ على صلاتهِ في سُوقِهِ وبَيْتِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وذلك أنَّ أحدَهُم إذا توضأَ فأَحْسَنَ الوُضُوءَ، ثُمَّ أتى المسجدَ لا يُرِيدُ إلا الصلاةَ، لا يَنْهَزُهُ إلا الصلاةُ لم يخطُ خطوةً إلا رُفِعَ له بها درجةٌ، وحُطَّ عنه بها خطيئةٌ حتى يدخلَ المسجدَ، فإذا دخل المسجد كان في الصلاةِ ما كانت الصلاةُ هي تَحْبِسُهُ، والملائكةُ يُصلونَ على أحدِكُم ما دَامَ في مَجْلِسِهِ الذي صَلَّى فيه، يقولون: اللهُمَّ ارْحَمْهُ، اللهُمَّ اغْفِرْ له، اللهُمَّ تُبْ عليه، ما لم يُؤْذِ فِيهِ، ما لم يُحْدِثْ فِيهِ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز اس کی بازار یا اپنے گھر میں پڑھی گئی نماز سے بيس سے كچھ زیادہ درجے افضل ہے۔ کیوں کہ جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد میں صرف نماز کے ارادے سے آتا ہے۔ نماز کے سوا اور کوئی چیز اسے مسجد لے جانے کا باعث نہیں بنتی تو جو بھی قدم وہ اٹھاتا ہے اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ نماز میں سمجھا جاتا ہے جب تک کہ نماز اس کے وہاں رکنے کا سبب ہوتی ہے۔ تم میں سے جب تک کوئی اس جگہ رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہوتی ہے اس وقت تک فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، (وہ اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں) جب تک کہ وہ (کسی کو) اس میں تکلیف نہ دے، یہاں تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا صلى الإنسان في المسجد مع الجماعة كانت هذه الصلاة أفضل من الصلاة في بيته أو في سوقه سبعاً وعشرين مرة؛ لأن الصلاة مع الجماعة قيام بما أوجب الله من صلاة الجماعة.
ثم ذكر السبب في ذلك: بأن الرجل إذا توضأ في بيته فأسبغ الوضوء، ثم خرج من بيته إلى المسجد لا يخرجه إلا الصلاة، لم يخط خطوة إلا رفع الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة، سواء أقرب مكانه من المسجد أم بعد، وهذا فضل عظيم، حتى يدخل المسجد، فإذا دخل المسجد فصلى ما كتب له، ثم جلس ينتظر الصلاة، فإنه في صلاة ما انتظر الصلاة، وهذه أيضاً نعمة عظيمة، لو بقيت منتظراً للصلاة مدة طويلة، وأنت جالس لا تصلي، بعد أن صليت تحية المسجد، وما شاء الله، فإنه يحسب لك أجر الصلاة.
والملائكة تدعوا له ما دام في مجلسه الذي صلي فيه، تقول: "اللهم صل عليه، اللهم اغفر له، اللهم ارحمه، اللهم تب عليه"، وهذا أيضًا فضل عظيم لمن حضر بهذه النية وبهذه الأفعال.
580;ب انسان مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی یہ نماز اس کے گھر میں یا بازار میں ادا کی جانے والی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہوتی ہے کیونکہ باجماعت نماز سے اللہ تعالی کے باجماعت نماز پڑھنے کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کا سبب بیان کیا کہ آدمی جب اپنے گھر میں وضو کرتا ہے اور گھر سے مسجد کی طرف جانے کے لیے نکلتا ہے اور اس نکلنے کا مقصد صرف نماز ہوتی ہے تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرماتا ہے چاہے اس کا مکان مسجد کے قریب ہو یا دور ہو۔ یہ ایک بہت بڑا فضل ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور جتنی نماز پڑھنی اس کا مقدر ہوتی ہے وہ پڑھ لیتا ہے اور پھر بیٹھ کر نماز کا انتظار شروع کر دیتا ہے تو جب تک وہ نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا تب تک وہ نماز ہی میں گردانا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر آپ تحیۃ المسجد اور جتنے (نوافل وغیرہ) اللہ تعالیٰ چاہیں پڑھ چکے ہوں اور ایک لمبی مدت کے لیے بیٹھے نماز کا انتظار کرتے رہیں حالانکہ آپ نماز نہ پڑھ رہے ہوں تو بھی آپ کے لیے نماز ہی کا اجر لکھا جائے گا۔
فرشتے ایسے شخص کے لیے دعا کرتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جہاں اس نے نماز ادا کی ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحمت کا نزول کر، اے اللہ! اسے بخش دے۔ ! اے اللہ اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔ یہ بھی اس شخص کے لیے ایک بہت بڑا فضل ہے جو اس نیت اور ان افعال کے ساتھ مسجد میں رہتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4566

 
 
Hadith   719   الحديث
الأهمية: كل سُلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس: تَعْدِلُ بين اثنين صدقةٌ، وتُعِينُ الرجلَ في دابتِه فتَحملُهُ عليها أو تَرفعُ له عليها متاعَهُ صَدَقَةٌ، والكلمةُ الطيبةُ صدقةٌ


Tema:

ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، ہر آدمی کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔ فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا، اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے، پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے، نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-  قال رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم-: «كل سُلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس: تَعْدِلُ بين اثنين صدقةٌ، وتُعِينُ الرجلَ في دابتِه فتَحملُهُ عليها أو تَرفعُ له عليها متاعَهُ صَدَقَةٌ، والكلمةُ الطيبةُ صدقةٌ، وبكل خُطْوَةٍ تمشيها إلى الصلاة صدقةٌ، وتُميط الأذَى عن الطريق صدقةٌ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، ہر آدمی کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے؛ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا، اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے، پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے، نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كلُّ يوم تطلع فيه الشمس فعلى جميع تلك السلامى -وهي ستون وثلاثمائة- صدقة في ذلك اليوم، ثم ذكر بعد ذلك أمثلة مِمَّا تحصل به الصدقة، وهي فعلية وقولية، وقاصرة ومتعدِّية، ومعنى قاصرة أي نفعها لفاعلها، ومتعدية أي نفعها يصل للآخرين.
وما ذكره النَّبيُّ -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث هو من قبيل التمثيل لا الحصر، فالعدل بين الاثنين يكون في الحكم أو الصلح بين متنازعين بالعدل، وهو قوليٌّ متعدٍّ، وإعانة الرَّجل في حمله على دابَّته أو حمل متاعه عليها هو فعليٌّ متعدٍّ، وقول الكلمة الطيِّبة يدخل تحته كلُّ كلام طيِّب من الذِّكر والدعاء والقراءة والتعليم والأمر والمعروف والنهي عن المنكر وغير ذلك، وهو قوليٌّ قاصرٌ ومتعدٍّ، وكلُّ خطوة يمشيها المسلم إلى الصلاة صدقة من المسلم على نفسه، وهو فعليٌّ قاصر، وإماطة الأذى عن الطريق من شوك أو حجر أو زجاج وغير ذلك، وهو فعليٌّ متعدٍّ.
729;ر وہ دن جس میں سورج طلوع ہو، اس میں انسان کے تمام جوڑوں پر صدقہ واجب ہوتا ہے، جن کی تعداد تین سو ساٹھ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے چند ایسی صورتیں ذکر کیں جن کے ذریعے سے صدقہ دیا جا سکتا ہے۔ یہ فعلی بھی ہیں اور قولی بھی۔ قاصر بھی ہیں اور متعدی بھی۔ قاصر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کا فائدہ صرف اس کام کے کرنے والے تک محدود ر ہے اور متعدی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کا نفع دوسروں تک پہنچے۔
نبی ﷺ نے اس حدیث میں جن صورتوں کو ذکر کیا ہے، وہ بطور حصر نہیں بلکہ بطور تمثیل ہیں۔ چنانچہ دو افراد کے درمیان انصاف، فیصلے میں بھی ہو سکتا ہے اور دو جھگڑنے والوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراکے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ قولی و متعدی صدقہ کی مثال ہے۔ آدمی کو اس کے چوپائے پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا پھر اس کا سامان اٹھا کر اس کے چوپائے پر رکھ دینا فعلی و متعدی صدقہ ہے۔ اچھی بات کہنے میں ہر اچھا کلام آ جاتا ہے، مثلا ذکر، دعا، قراءت، تعلیم دینا، امر بالمروف اور نہی عن المنکر وغیرہ۔ یہ قولی قاصر اورقولی متعدی کی مثالیں ہیں۔ نماز پڑھنے کے لیے جاتے ہوئے مسلمان کا اٹھنے والا ہر قدم اس کا خود اپنی ذات پر صدقہ ہے۔ یہ فعلی قاصر صدقہ کی مثال ہے۔ راستے سے تکلیف دہ شے کو ہٹا دینا جیسے کانٹا، پتھر یا کوئی شیشہ وغیرہ۔ یہ فعلی متعدی کی مثال ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4568

 
 
Hadith   720   الحديث
الأهمية: كُنْ في الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أو عَابِرُ سَبِيلٍ


Tema:

تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک اجنبی یا راہ گیر ہو۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: أخذ رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم- بَمنكِبي فقال: كُنْ في الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أو عَابِرُ سَبِيلٍ».
وكان ابن عمر -رضي الله تعالى عنهما- يقول: إذا أمسيتَ فلا تَنْتَظِرْ الصباحَ، وإذا أصبحتَ فلا تَنْتَظِرْ المساءَ، وخُذْ من صِحَّتِكَ لمرضِكَ، ومن حَياتِكَ لموتِكَ.

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بيان کرتے ہيں کہ رسول الله ﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا: ”تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔
ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرمايا کرتے تھے: ”جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔ اور اپنی صحت وتندرستی کے زمانے ميں بيماری کے ليے اور اپنی زندگی ميں موت کے ليے تيارى كرلو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدور على التخفف من الدنيا، وترك الانشغال بها عن الآخرة، وتقصير الأمل مما فيها، والحث على طلب الصالحات، والتحذير من تسويف التوبة، واغتنام وقت الصحة قبل نزول المرض، ووقت الفراغ قبل حدوث المشغل.
605;ذکورہ حدیث میں چند امور پر روشنی ڈالی گئی ہے جیسے دنيا کو کم جمع کرنا، آخرت سے غافل ہوکر دنيا ميں مصروف نہ ہوجانا، سامانِ دنيا کی آرزو کم کرنا، نيک اعمال کرنے کی ترغیب، توبہ کرنے ميں ٹال مٹول کرنے پر تنبیہ، صحت مندی کے وقت کو مرض لاحق ہونے سے پہلے اور فراغت کے وقت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جاننا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4704

 
 
Hadith   721   الحديث
الأهمية: لا تَحَاسَدُوا، ولا تَنَاجَشُوا ولا تَبَاغَضُوا، ولا تَدَابَرُوا، ولا يَبِعْ بَعْضُكم على بَيْعِ بعضٍ، وكُونوا عبادَ الله إخوانًا


Tema:

ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید وفروخت میں دھوکہ نہ دو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو، کسی کی بیع پر بیع مت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تَحَاسَدُوا، ولا تَنَاجَشُوا ولا تَبَاغَضُوا، ولا تَدَابَرُوا، ولا يَبِعْ بَعْضُكم على بَيْعِ بعضٍ، وكُونوا عبادَ الله إخوانًا، المسلمُ أخُو المسلمِ لا يَظْلِمُهُ ولا يَخْذُلُهُ ولا يَكذبه ولا يَحْقِرُه، التقوى ههنا -ويشير إلى صدره ثلاث مرات- بِحَسْبِ امرِئٍ من الشَّرِّ أن يَحْقِرَ أخَاه المسلمَ، كُلُّ المسلمِ على المسلمِ حرامٌ: دَمُهُ ومَالُهُ وعِرْضُهُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید وفروخت میں دھوکہ نہ دو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو، کسی کی بیع پر بیع مت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، نہ اسے بے یار ومددگار چھوڑتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری یہاں ہے اور آپ ﷺ نے اپنے سینے (دل) کی طرف تین بار اشارہ کیا (یعنی ظاہر میں اچھے عمل کرنے سے آدمی متقی نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا سینہ صاف نہ ہو) کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يرشدنا النبي الكريم -صلى الله عليه وسلم- إلى ما يجب علينا معشر المسلمين، بأن نكون متحابين متآلفين متعاملين فيما بيننا معاملة حسنة شرعية تهدينا إلى مكارم الأخلاق، وتبعدنا عن مساوئها، وتذهب عن قلوبنا البغضاء، وتجعل معاملة بعضنا لبعض معاملة سامية خالية من الحسد، والظلم، والغش وغير ذلك مما يستجلب الأذى والتفرق؛ لأن أذية المسلم لأخيه حرام سواء بمال أو بمعاملة أو بيد أو بلسان، كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه، وإنما العز والشرف بالتقوى.
575;س حدیث میں نبی کریم ﷺ ہماری ان باتوں کی طرف رہنمائی فرما رہے ہیں جو ہم مسلمانوں پر واجب ہے۔ یعنی یہ کہ ہم باہم محبت و الفت رکھیں، ایک دوسرے کے ساتھ اچھے انداز میں اور شرعی تقاضوں کے مطابق برتاؤ کریں جو ہمیں بہترین اخلاق تک لے جائے اور برے اخلاق سے ہمیں دور کر دے اور ہمارے دلوں سے باہمی بغض کا خاتمہ کر دے اور جس سے ہمارا باہمی طرز سلوک بلند ہو جائے اور حسد، ظلم اور دھوکہ اور ہر ایسے شائبہ سے پاک ہو جائے جو ایذا رسانی اور تفرقے کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ اپنے مسلمان بھائی کو اذیت پہنچانا حرام ہے، چاہے مال کے ساتھ ہو یا برتاؤ کے ساتھ ہو یا پھر ہاتھ یا زبان کے ساتھ ہو۔ ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ عزت و شرف کی بنیاد صرف اور صرف تقویٰ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4706

 
 
Hadith   722   الحديث
الأهمية: أن رجلًا قال للنبي -صلى الله عليه وآله وسلم-: أوصني، قال لا تَغْضَبْ فردَّدَ مِرارًا، قال لا تَغْضَبْ


Tema:

ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ یہی فرماتے رہے کہ غصہ نہ کیا کرو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رجلًا قال للنبي -صلى الله عليه وآله وسلم-: أوصني، قال لا تَغْضَبْ فردَّدَ مِرارًا، قال لا تَغْضَبْ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” غصہ نہ کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ نے یہی فرماتے رہے کہ غصہ نہ کیا کرو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
طلب أحد الصحابة -رضوان الله عليهم- من النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يأمره بشيء ينفعه في الدنيا والآخرة، فأمره ألا يغضب، وفي وصيته "لا تغضب" دفع لأكثر شرور الإنسان.
575;یک صحابی نے نبی ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ انہیں ایک ایسی چیز کا حکم دیں جو دنیا و آخرت میں ان کے لیے نفع بخش ہو۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا کہ ”غصہ نہ کیا کرو“۔ آپ ﷺ نے جو یہ وصیت فرمائی کہ غصہ نہ کیا کرو، اس سے انسان میں موجود اکثر برائیوں کا سدِّباب ہو جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4709

 
 
Hadith   723   الحديث
الأهمية: لا ضَرَرَ ولا ضِرَارَ


Tema:

نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه-  أن رسول الله -صلى الله وعليه وسلم- قال: «لا ضَرَرَ ولا ضِرَارَ».

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا‘‘۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يمثل قاعدة الإسلام في الشرائع وقواعد الأخلاق والتعامل بين الخلق، وهي دفع الضرر عنهم بمختلف أنواعه ومظاهره، فالضرر محرم وإزالة الضرر واجب، والضرر لا يزال بالضرر، والمضار محرمة.
740;ہ حدیث اسلامی احکام، اخلاقی قواعد اور لوگوں سے باہمی تعامل کا ایک ضابطہ فراہم کرتی ہے جو یہ ہے کہ لوگوں سے ہر قسم کے نقصان کو دور رکھا جائے۔ نقصان دینا حرام ہے اور اس کا دور کرنا واجب ہے۔ نقصان کو نقصان دے کر نہیں زائل کیا جا سکتا۔ نقصان دہ اشیاء حرام ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4711

 
 
Hadith   724   الحديث
الأهمية: لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: الثَّيِّبُ الزاني، والنفسُ بالنفس، والتاركُ لدينه المفارقُ للجماعة


Tema:

کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، مگر تین میں سے کسی ایک صورت میں (حلال ہے): یہ کہ وہ شادی شدہ زانی ہو، قتل کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے اور وہ جو اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم-: «لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: الثَّيِّبُ الزاني، والنفسُ بالنفس، والتاركُ لدينه المفارقُ للجماعة».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، مگر تین میں سے کسی ایک صورت میں (حلال ہے): یہ کہ وہ شادی شدہ زانی ہو، قتل کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے اور وہ جو اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دم المسلم حرام لا يحل إلا بإحدى الخصال الثلاث المذكورة في الحديث، من تزوج ووطئ في نكاح صحيح ثم زنى بعد ذلك، و من قتل مسلما عمدا بغير حق، والتارك للإسلام المفارق لجماعة المسلمين، وما في معناها، فلا يجوز إراقة دم المسلم بغير هذه الثلاث، وما يرجع إليها ويجري مجراها مما لم يُذكر في الحديث نصا، ومن ذلك: قتل اللوطي ومن أتى ذات محرم، فمرده إلى الخصلة الأولى، كما يرجع قتل الساحر ونحوه إلى الخصلة الثالثة، وهكذا.
605;سلمان کا خون بہانا حرام ہے۔ مسلمان کا خون بہانا صرف ان تین صورتوں میں سے کسی صورت میں جائز ہوتا ہے جو حدیث میں مذکور ہیں۔ جو شخص شادی شدہ ہو اور صحیح نکاح کے ہوتے ہوئے اس نے ہمبستری بھی کیا ہو وہ اگر اس کے بعد زنا کرتا ہے تو اسے (بذریعہ رجم) قتل کیا جائے گا۔ جس نے ناحق کسی مسلمان کو قتل کیا اور جس نے اسلام کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور اسی طرح کی کسی اور صورت میں (اس شخص کو قتل کیا جائے گا۔) ان تین صورتوں اور ان کے جیسے حکم کی حامل دیگر صورتوں کے علاوہ جن کا صراحت کے ساتھ حدیث میں ذکر نہیں ہے کسی بھی صورت میں مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے جیسے لوطی کو قتل کرنا یا اس شخص کو قتل کرنا جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے۔ ایسے شخص کو پہلی صورت کے حکم میں رکھا جائے گا اور اسی طرح جادو گر وغیرہ کو قتل کرنا تیسری صورت کے حکم میں آئے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4714

 
 
Hadith   725   الحديث
الأهمية: يا رسول الله إن شرائع الإسلام قد كثرت علينا، فبابٌ نتمسك به جامع؟
قال: لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله -عز وجل-


Tema:

یا رسول اللہ! اسلام کے احکام ہم پر بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں جسے ہم لازم پکڑیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے۔

عن عبد الله بن بسر -رضي الله عنه- قال: أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- رجل، فقال: يا رسول الله إن شرائع الإسلام قد كثرت علينا، فبابٌ نتمسك به جامع؟
قال: «لا يزال لسانك رَطْبًا من ذكر الله -عز وجل-».

عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اسلام کے احکام ہم پر بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں، جسے ہم لازم پکڑیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث أن رجلاً من الصحابة الكرام طلب من الرسول صلى الله عليه وسلم أن يدله على أمر سهل جامع شامل لخصال الخير، فأرشده الرسول صلى الله عليه وسلم إلى ذكر الله، فقال: لا يزال لسانك رطباً، أي غضًا من ذكر الله، تديم تكراره آناء الليل والنهار، فاختاره له صلى الله عليه وسلم الذكر لخفته وسهولته عليه ومضاعفة أجره ومنافعه العظيمة التي لا تُعَد.
575;س حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ انھیں کوئی ایسا آسان و جامع کام بتا دیں، جس میں بھلائی کے سارے پہلو ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ کے ذکر کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھاری زبان ہمہ وقت اللہ کے ذکر سے تر و تازہ رہے اور تم رات دن اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے لیے ذکر کو چنا؛ کیوں کہ یہ ایک ہلکا پھلکا اور آسان عمل ہے، اس میں کئی گُنا اجر اور شمار عظیم منافع ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4716

 
 
Hadith   726   الحديث
الأهمية: لا يؤمنُ أحدُكم حتى يحبَّ لأخيه ما يحبُّ لنفسِه


Tema:

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لئے کرتا ہے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يؤمنُ أحدُكم حتى يحبَّ لأخيه ما يحبُّ لنفسِه».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
على المؤمن كامل الإيمان أن يحب لأخيه المسلم ما يحب لنفسه، ومعنى هذه المحبة هي مواساته أخاه بنفسه في جميع الأمور التي فيها نفع، سواء دينية أو دنيوية، من نصح وإرشاد إلى خير وأمر بمعروف ونهي عن منكر، وغير ذلك مما يوده لنفسه، فإنه يرشد أخاه إليه، وما كان من شيء يكرهه وفيه نقص أو ضرر فإنه يبعده عنه.
705;امل ایمان رکھنے والے مؤمن کو چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ پسند کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ان تمام دینی و دنیاوی امور میں اس کے لیے خیر خواہانہ رویہ رکھے، جن میں اس کا فائدہ ہو، بایں طور کہ بھلائی کی طرف اس کی راہ نمائی کرے، اچھائی کی نصیحت کرے، برائی سے منع کرے اور ہر وہ شے اس کے لیے چاہے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے نیز اس کی طرف اس کی راہ نمائی بھی کرے اور جو شے اسے ناپسند ہو اور اس میں کوئی نقصان یا ضرر ہو،اسے اس سے دور ہٹائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4717

 
 
Hadith   727   الحديث
الأهمية: لكَ ما نويتَ يا يزيدُ، ولك ما أخذتَ يا معن


Tema:

اے یزید! تجھے وہ (اجر و ثواب) ملے گا جس کی تو نے نیت کی اور اے معن! وہ تیرا ہے جو تو نے لے لیا۔

عن معن بن يزيد بن الأخنس -رضي الله عنهم- قال: كان أبي يزيدُ أَخْرجَ دَنَانِيرَ يتصدقُ بها، فوضعها عند رجلٍ في المسجدِ، فجِئْتُ فأخذتُها فأَتَيْتُهُ بها، فقال: واللهِ، ما إيَّاكَ أردتُ، فخَاصَمْتُهُ إلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فقال: «لكَ ما نويتَ يا يزيدُ، ولك ما أخذتَ يا معنُ».

معن بن یزید بن اخنس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ میرے والد یزید نے چند دینار صدقہ کے لیے نکالے اور انہیں مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیا۔ میں آیا تو میں نے ان کو لے لیا اور انہیں لے کر اپنے والد کے پاس آیا۔ میرے والد نے کہا کہ اللہ کی قسم! میرا تجھ کو دینے کا ارادہ نہ تھا۔ چنانچہ میں یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یزید! تجھے وہ (اجر و ثواب) ملے گا جس کی تو نے نیت کی اور اے معن! وہ تیرا ہے جو تو نے لے لیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخرج يزيد بن الأخنس دراهم عند رجل في المسجد؛ ليتصدق بها على الفقراء، فجاء ابنه معن فأخذها، فقال له: ما أردتُ أن أتصدق بهذه الدراهم عليك، فذهبا ليتحاكما إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "لك يا يزيد ما نويتَ لأنك أوصلت الصدقة إلى فقير من فقراء المسلمين فوجب لك الأجر على نيتك، ولك يا معن ما أخذت" لأنك أخذته بوجه صحيح وقد كان ابنه من المستحقين لهذه الصدقة.
740;زید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کچھ درہم نکال کر مسجد میں موجود ایک شخص کے پاس رکھ دیے تاکہ وہ اسے فقرا کو بطور صدقہ دے دے۔ اتنے میں ان کا بیٹا آیا اور اس نے وہ درہم لے لیے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ یہ درہم بطور صدقہ تجھے دوں۔ اس پر وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:’’اے یزید! تجھے وہ مل جائے گا جس کی تو نے نیت کی کیونکہ تو نے صدقہ مسلمانوں کے فقرا میں سے ایک فقیر شخص تک پہنچا دیا ہے چنانچہ تمہاری نیت کے مطابق تمہارے لیے اجر واجب ہو چکا ہے اور اے معن! تو نے جو کچھ لیا ہے وہ تیرا ہے۔ کیونکہ تو نے صحیح طریقے سے اسے حاصل کیا ہے۔ یزید بن اخنس کے بیٹے اس صدقے کے مستحقین میں سے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4719

 
 
Hadith   728   الحديث
الأهمية: لو أنكم توكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير، تغدو خماصا، وتروح بطانا


Tema:

اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرتے ہوتے جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حالواپس آتے ہیں۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «لو أنكم كنتم توَكَّلُون على الله حق توَكُّلِهِ لرزقكم كما يرزق الطير، تَغْدُو خِمَاصَاً، وتَرُوحُ بِطَاناَ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يرشدنا هذا الحديث إلى أن نتوكل على الله تعالى في جميع أمورنا، وحقيقة التوكل: هي الاعتماد على الله عز وجل في استجلاب المصالح ودفع المضار في أمور الدنيا والدين؛ فإنه لا يعطي ولا يمنع ولا يضر ولا ينفع إلا هو سبحانه وتعالى، وأن على الإنسان فعل الأسباب التي تجلب له المنافع وتدفع عنه المضار مع التوكل على الله {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ}, {وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ}،فمتى فعل العبد ذلك رزقه الله كما يرزق الطير التي تخرج صباحا وهي جياع ثم تعود مساءً وهي ممتلئة البطون.
575;س حدیث میں اس بات کی طرف راہنمائی ہے کہ ہم اپنے تمام امور میں اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ توکل کی حقیقت یہ ہے کہ دینی و دنیاوی مصالح کے حصول اورنقصان دہ اشیاء کے دفعیہ میں اللہ پر بھروسہ کیا جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا نہ تو کوئی دیتا ہے اور نہ کوئی روک سکتا ہے اوراس کے سوا نہ کوئی نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع دینے کا اہل ہے۔ اور یہ کہ توکل کے ساتھ ساتھ انسان کو وہ اسباب ضروراختیار کرنا چاہئے جو منافع کے حصول اورنقصان دہ اشیاء کے دفعیہ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾ ”جو اللہ پر توکل کرتا ہے،اس کے لئے وہ کافی ہو جاتا ہے“۔ ﴿وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ﴾ ”توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہئے“۔ جب بندہ یہ کرتا ہے تو اللہ اسے ایسے رزق دیتا ہے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اورشام کو بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4721

 
 
Hadith   729   الحديث
الأهمية: لو يُعْطَى الناسُ بدَعْوَاهُم لادَّعى رجالٌ أموالَ قومٍ ودِمَاءَهُم، لكنَّ البينةَ على المدَّعِي واليَمِينَ على من أَنْكَرَ


Tema:

اگر لوگوں کے دعوؤں کی بنیاد پر ان کے حق میں فیصلہ دے دیا جائے تو پھر تو لوگ (جھوٹے) دعوے کر کے دوسرے لوگوں کے مال و جان کے درپے ہو جائیں۔ لیکن (ایسا نہیں ہے بلکہ اصول یہ ہے کہ) گواہی پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور انکار کرنے والے پر قسم کھانا ہے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لو يُعْطَى الناسُ بدَعْوَاهُم لادَّعى رجالٌ أموالَ قومٍ ودِمَاءَهُم، لكنَّ البينةَ على المدَّعِي واليَمِينَ على من أَنْكَرَ».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کے دعوؤں کی بنیاد پر ان کے حق میں فیصلہ دے دیا جائے تو پھر تو لوگ (جھوٹے) دعوے کر کے دوسرے لوگوں کے مال و جان کے درپے ہو جائیں۔ لیکن (ایسا نہیں ہے بلکہ اصول یہ ہے کہ) گواہی پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور انکار کرنے والے پر قسم کھانا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث أصل في عدم قبول الدعوى المجردة عن الأدلة والقرائن، وتحليف المنكِر؛ تحقيقا للعدل، وإقامة للحق، وصونا للنفس والمال، فكل من ادعى دعوى خالية عن برهان فهي مردودة وسواء كانت في الحقوق والمعاملات أو في مسائل الإيمان والعلم.
581;دیث ایسے دعویٰ کو قبول نہ کرنے کا ایک اصول فراہم کرتی ہے جو دلائل اور قرائن سے خالی ہو اور یہ کہ اس صورت میں انکار کرنے والے سے قسم اٹھوائی جائے گی تا کہ انصاف اور حق کا تقاضا پورا ہو اور جان و مال کا تحفظ ہو سکے۔ چنانچہ ہر وہ شخص جو گواہی سے خالی دعویٰ کرے اس کا یہ دعویٰ رد کر دیا جائے گا چاہے اس کا تعلق حقوق و معاملات کے ساتھ ہو یا پھر وہ ایمان و علم کے مسائل سے متعلق ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4722

 
 
Hadith   730   الحديث
الأهمية: ما ملأ آدميٌّ وعاءً شرًّا من بطن، بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه، فإن كان لا محالة، فثلث لطعامه، وثلث لشرابه، وثلث لنفسه


Tema:

کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی حصہ (پیٹ) کھانے کے لیے، ایک تہائی حصہ پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے مختص کر دے۔

عن المِقْدَام بن مَعْدِي كَرِبَ -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «ما مَلَأ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا من بطن، بِحَسْبِ ابن آدم أُكُلَاتٍ يُقِمْنَ صُلْبَه،ُ فإن كان لا مَحَالةَ، فَثُلُثٌ لطعامه، وثلث لشرابه، وثلث لِنَفَسِهِ».

مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی حصہ (پیٹ) کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے مختص کر دے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يرشدنا النبي الكريم -صلى الله عليه وسلم- إلى أصل من أصول الطب، وهي الوقاية التي يقي بها الإنسان صحته، وهي التقليل من الأكل، بل يأكل بقدر ما يسد رمقه ويقويه على أعماله اللازمة، وإن شر وعاء مُلئ هو البطن لما ينتج عن الشبع من الأمراض الفتاكة التي لا تحصى عاجلاً أو آجلاً باطناً أو ظاهراً، ثم إن الرسول -صلى الله عليه وسلم- قال: إذا كان الإنسان لابد له من الشبع، فليجعل الأكل بمقدار الثلث، والثلث الآخر للشرب، والثلث للنفس حتى لا يحصل عليه ضيق وضرر، وكسل عن تأدية ما أوجب الله عليه في أمر دينه أو دنياه.
606;بی کریم ﷺ ہمیں طبی اصول میں سے ایک اصول کی طرف رہنمائی فرما رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا پرہیز ہے جس سے انسان اپنی صحت کی حفاظت کر سکتا ہے اور وہ ہے کھانے میں کمی کرنا۔ بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ اتنا کھائے جس سے اس کی سانس باقی رہ سکے اور جو اسے ضروری کام نمٹانے کی قوت فراہم کرے۔ سب سے گندہ برتن جسے بھرا گیا ہو وہ پیٹ ہے کیونکہ خوب سیر ہو کر کھانے سے مہلک قسم کے امراض جنم لیتے ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے کچھ تو فوری پیدا ہوتے ہیں اورکچھ تاخیر سے اور کچھ باطنی ہوتے ہیں اور کچھ ظاہری۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر انسان کو سیر ہو کر کھانا ہی ہو تو پھر ایک پیٹ کے ایک تہائی حصے کو کھانے کے لیے اور ایک تہائی کو پینے کے لیے مخصوص کر دے اور ایک تہائی کو سانس لینے کے لیے چھوڑ دے تا کہ کوئی تنگی اور نقصان نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس پر جو دینی اور دنیاوی امور فرض کیے ہیں ان کی ادائیگی میں اُسے کوئی سستی لاحق نہ ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4723

 
 
Hadith   731   الحديث
الأهمية: مانهيتكم عنه فاجتنبوه، وما أمرتكم به فأْتُوا منه ما استطعتم، فإنما أَهلَكَ الذين من قبلكم كثرةُ مسائلهم واختلافهم على أنبيائهم


Tema:

میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «ما نهيتكم عنه فاجتنبوه، وما أمرتكم به فأْتُوا منه ما استطعتم، فإنما أَهلَكَ الذين من قبلكم كثرةُ مسائلهم واختلافهم على أنبيائهم».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
دلنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه إذا نهانا عن شيء وجب علينا اجتنابه بدون استثناء، وإذا أمرنا بشيء فعلينا أن نفعل منه ما نطيق.
ثم حذرنا حتى لا نكون كبعض الأمم السابقة حينما أكثروا من الأسئلة على أنبيائهم مع مخالفتهم لهم فعاقبهم الله بأنواع من الهلاك والدمار، فينبغي أن لا نكون مثلهم حتى لا نهلك كما هلكوا.
585;سول اللہ ﷺ نے ہماری رہنمائی کی اور فرمایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثناء اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی شے کے کرنے کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہیں کہ ہم مقدور بھر اسے سر انجام دیں۔
پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے ڈرایا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہوں نے اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوالات کیے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی مخالفت بھی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاکت و بربادی کے مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ ہم ان کی طرح نہ ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی ویسے ہی ہلاک ہو جائیں جیسے وہ ہوئے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4725

 
 
Hadith   732   الحديث
الأهمية: مَن عَمِلَ عملًا ليس عليه أمرُنا فهو رَد


Tema:

جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں، تو وہ مردود ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد " وفي رواية " مَن عَمِلَ عملًا ليس عليه أمرُنا فهو رَدٌّ".

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کی، جو اس میں سے نہ ہو، وہ مردود ہے“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں، تو وہ مردود ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كل عمل أو قول لم يوافق الشريعة في وجوهها كافة؛ بحيث لم تدل عليه أدلتها وقواعدها  فهو مردود على صاحبه غير مقبول منه.
729;ر وہ قول و عمل جو شریعت کے ساتھ ہر اعتبار سے موافقت نہ رکھتا ہو، بایں طور کہ شریعت کے دلائل اور قواعد اس پر دلالت نہ کرتے ہوں، وہ اس کے کرنے والے کے منہ پر دے مارا جائے گا اور اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4792

 
 
Hadith   733   الحديث
الأهمية: مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللهُ عَلَيْهِ


Tema:

اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرے گا جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللهُ عَلَيْهِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرے گا جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد الحديث أن الله -سبحانه وتعالى- يقبل التوبة من عبده المذنب ما لم تطلع الشمس من مغربها؛ لأنها نهاية وقت قبول التوبة وهي من علامات الساعة الكبرى.
581;دیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گنہ گار بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔ کیونکہ یہ توبہ کی قبولیت کے وقت کا اختتام ہو گا اور یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4797

 
 
Hadith   734   الحديث
الأهمية: مَن نَفَّسَ عن مؤمنٍ كُرْبَةً من كُرَبِ الدُّنيا نَفَّسَ اللهُ عنه كُرْبَةً من كُرَبِ يومِ القِيَامَة، ومن يَسَّرَ على مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عليه في الدُّنيا والآخرةِ، ومن سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ في الدُّنيا والآخرةِ


Tema:

جس نے کسی مومن کی دنیاوی مصیبت کو دور کیا، اللہ تعالی قیامت کے مصائب میں سے اس کی کسی بڑی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی ستر پوشی کرے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وآله وسلم- قال: «مَن نَفَّسَ عن مؤمنٍ كُرْبَةً من كُرَبِ الدُّنيا نَفَّسَ اللهُ عنه كُرْبَةً من كُرَبِ يومِ القِيَامَة، ومن يَسَّرَ على مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عليه في الدُّنيا والآخرةِ، ومن سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ في الدُّنيا والآخرةِ، واللهُ في عَوْنِ العَبْدِ ما كَانَ العبدُ في عَوْنِ أَخِيهِ، ومن سَلَكَ طَرِيقًا يَلتَمِسُ فِيهِ عِلمًا سَهَّلَ اللهُ له به طريقًا إلى الجنةِ، وما اجْتَمَعَ قَوْمٌ في بيتٍ من بيوتِ اللهِ يَتْلُونَ كتابَ اللهِ ويَتَدَارَسُونَهُ بينهم إلا نَزَلَتْ عليهم السَّكِينَةُ وغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وحَفَّتْهُمُ الملائِكَةُ، وذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِندَهُ، ومَن بَطَّأ به عمله لم يُسرع به نَسَبُهُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ برابر بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيدنا هذا الحديث الشريف: أن من فرج كربة عن مسلم، أو سهل أمرا متعسرا عليه، أو ستر عليه هفوة أو زلة فإن الله يجازيه من جنس أعماله التي نفع بها، وأن الله -تعالى- يعين العبد بتوفيقه في دنياه وآخرته حينما يساعد أخاه المسلم على أموره الشاقة عليه، وأن من سلك طريقا حسيا كالمشي إلى مجالس الذكر أو مجالس العلماء المحققين العاملين بعلمهم يريد التعلم، أو سلك الطريق المعنوي المؤدي إلى حصول هذا العلم كمذاكراته ومطالعته وتفكيره وتفهمه لما يُلقى عليه من العلوم النافعة وغير ذلك، فمن سلك هذا الطريق بنية صالحة صادقة وفقه الله للعلم النافع المؤدي إلى الجنة، وأن المجتمعين في بيت من بيوت الله لتلاوة القرآن العزيز ومدارسته يعطيهم الله من الطمأنينة وشمول الرحمة وحضور الملائكة والثناء عليهم من الله في الملأ الأعلى، وأن الشرف كل الشرف بالأعمال الصالحة لا بالأنساب والأحساب.
740;ہ حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان سے کسی مصیبت کو دور کرتا ہے یا پھر اس کی کسی مشکل کو آسان کرتا ہے یا پھر اس کی کسی لغزش یا غلطی کی ستر پوشی کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اس کے ان اعمال ہی کی جنس سے بدلہ دے گا جن سے اس نے دوسروں کو نفع پنہنچایا ہے اور یہ کہ جب بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی اس کے مشکل کاموں میں مدد کرتا ہے تو اللہ بھی دنیا و آخرت میں اپنی توفیق کے ذریعہ اس کی مدد کرتا ہے اور یہ کہ جو نیکی کی کسی حسی راہ پر چلتا ہے جیسے مجالسِ ذکر یا باعمل علماء و محققین کی مجلس کی طرف علم سیکھنے کے لیے جاتا ہے یا پھر معنوی طور پر ایسے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے جو اسے اس علم تک لے جاتا ہے جیسے اس کا یاد کرنا، مطالعہ کرنا، غور و فکر کرنا اور اسے جو نفع بخش علوم سکھائے جائیں ان کا سیکھنا وغیرہ، جو بھی شخص خالص نیت کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالی اسے علم نافع کے حصول کی توفیق دے دیتا ہے جو اسے جنت تک لے جاتا ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں قرآن کریم کی تلاوت اور اسے پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالی اطمئنان اور کلی رحمت سے نوازتا ہے، فرشتے ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں اور ملا اعلی میں اللہ کی طرف سے ان کی تعریف ہوتی ہے اور یہ کہ شرف کا دار و مدار صرف اور صرف نیک اعمال پر ہے نہ کہ حسب اور نسب پر۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4801

 
 
Hadith   735   الحديث
الأهمية: وَاللهِ إني لأَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إليهِ في اليومِ أَكْثَرَ من سَبْعِينَ مَرَّةً


Tema:

اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «وَاللهِ إني لأَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إليهِ في اليومِ أَكْثَرَ من سَبْعِينَ مَرَّةً».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
النبي -صلى الله عليه وسلم- الذي غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر: يقسم أنه يستغفر الله ويتوب إليه في اليوم أكثر من سبعين مرة، واستغفار النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يلزم أن يكون لذنوب ارتكبها ولكن ذلك لكمال عبوديته وتعلقه بذكره -سبحانه-، واستشعاره عظم حق الله -تعالى- وتقصير العبد مهما عمل في شكر نعمه، وهو من باب التشريع للأمة من بعده، إلى غير ذلك من الحكم.
606;بی ﷺ جن کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیے گئے ہیں، قسم کھا کر بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتے ہیں۔ نبیﷺ کے استغفار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپﷺ نے یہ استغفار ان گناہوں پر کیا ہے جو کہ آپﷺ سے سرزد ہوئے ہیں بلکہ آپﷺ کا استغفار کرنا آپﷺ کی کمالِ بندگی، اللہ سبحانہ وتعالی کے ذکر سے آپﷺ کی وابستگی، اللہ تعالی کے عظیم حق کا احساس اور بندے کا اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں شکر بجالانے سے عاجز ہونے خواہ وہ کتنا بھی عمل کرلے، آپنی امت کو استغفار کرنے کا حکم دینے وغیرہ جیسی حکمتوں پر دلالت کرتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4808

 
 
Hadith   736   الحديث
الأهمية: يا أيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إلى اللهِ واسْتَغْفِرُوهُ، فَإنِّي أَتُوبُ في اليَّومِ مائةَ مَرَّةٍ


Tema:

اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، کیونکہ میں دن میں سو دفعہ توبہ کرتا ہوں۔

عن الأغر بن يسار المزني -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يا أيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إلى اللهِ واسْتَغْفِرُوهُ، فَإنِّي أَتُوبُ في اليَّومِ مائةَ مَرَّةٍ».

اغرّ بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، کیونکہ میں دن میں سو دفعہ توبہ کرتا ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
النبي -صلى الله عليه وسلم- الذي غُفِرَ له ما تقدم من ذنبه وما تأخر: يأمر الناس بالتوبة والاستغفار، ويخبر عن نفسه -صلى الله عليه وسلم- أنه يستغفر الله ويتوب إليه في اليوم مائة مرة وهو بذلك يحث الأمة على هذا العمل الصالح، واستغفار النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يلزم أن يكون لذنوب ارتكبها ولكن ذلك لكمال عبوديته وتعلقه بذكره سبحانه، واستشعاره عظم حق الله تعالى وتقصير العبد مهما عمل في شكر نعمه، وهو من باب التشريع للأمة من بعده، إلى غير ذلك من الحكم.
606;بی ﷺ جن کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں وہ لوگوں کو توبہ اور استغفار کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور خود اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ دن میں سو مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتے ہیں۔ اس طرح سے آپ ﷺ امت کو اس نیک عمل پر ابھار رہے ہیں۔ نبیﷺ کے استغفار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپﷺ نے یہ استغفار ان گناہوں پر کیا ہے جو کہ آپﷺ سے سرزد ہوئے ہیں بلکہ آپﷺ کا استغفار کرنا آپﷺ کی کمالِ بندگی، اللہ سبحانہ وتعالی کے ذکر سے آپﷺ کی وابستگی، اللہ تعالی کے عظیم حق کا احساس اور بندے کا اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں شکر بجالانے سے عاجز ہونے خواہ وہ کتنا بھی عمل کرلے، آپنی امت کو استغفار کرنے کا حکم دینے وغیرہ جیسی حکمتوں پر دلالت کرتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4809

 
 
Hadith   737   الحديث
الأهمية: يا عبادي، إني حرَّمتُ الظلمَ على نفسي وجعلتُه بينكم محرَّمًا فلا تَظَالموا، يا عبادي، كلكم ضالٌّ إلا من هديتُه فاستهدوني أهدكم


Tema:

اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں، پس تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا

عن أبي ذر الغفاري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- فيما يرويه عن ربه: «يا عبادي، إني حرَّمتُ الظلمَ على نفسي وجعلتُه بينكم محرَّمًا فلا تَظَالموا، يا عبادي، كلكم ضالٌّ إلا من هديتُه فاستهدوني أَهْدَكِم، يا عبادي، كلكم جائِعٌ إلا من أطعمته فاستطعموني أطعمكم، يا عبادي، كلكم عارٍ إلا من كسوتُه فاسْتَكْسُوني أَكْسُكُم، يا عبادي، إنكم تُخطئون بالليل والنهار وأنا أغفر الذنوبَ جميعًا فاستغفروني أغفرْ لكم، ياعبادي، إنكم لن تَبلغوا ضَرِّي فتَضُرُّونِي ولن تَبْلُغوا نَفْعِي فتَنْفَعُوني، يا عبادي، لو أن أولَكم وآخِرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أتْقَى قلبِ رجلٍ واحد منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئًا، يا عبادي، لو أن أوَّلَكم وآخِرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أفْجَرِ قلب رجل واحد منكم ما نقص ذلك من ملكي شيئًا، يا عبادي، لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم قاموا في صَعِيدٍ واحد فسألوني فأعطيت كلَّ واحدٍ مسألتَه ما نقص ذلك مما عندي إلا كما يَنْقُصُ المِخْيَطُ إذا أُدخل البحر، يا عبادي، إنما هي أعمالكم أُحْصِيها لكم ثم أُوَفِّيكُم إياها فمن وجد خيرًا فليحمد الله ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه».

ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا:”اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں، پس تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، پس تم مجھ ہی سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سواۓ اس کے جسے میں لباس پہناؤں پس تم مجھ ہی سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں پس تم مجھ ہی سے بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے آخر کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ کرے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے آخر کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات, تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے آخر کے لوگ, اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات,ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب کردہ چیز دے دوں تو اس سے میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی سوائے ایسے جیسے ایک سوئی سمندر میں ڈبونے کے بعد (پانی میں) کمی کرتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔”

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيدنا هذا الحديث القدسي المشتمل على فوائد عظيمة في أصول الدين، وفروعه، وآدابه بأن الله سبحانه حرم الظلم على نفسه تفضلاً منه وإحساناً إلى عباده، وجعل الظلم محرمًا بين خلقه فلا يظلم أحد أحدًا، وأن الخلق كلهم ضالون عن طريق الحق إلا بهداية الله وتوفيقه، ومن سأل الله وفقه وهداه، وأن الخلق فقراء إلى الله محتاجون إليه، ومن سأل الله قضى حاجته وكفاه، وأنهم يذنبون بالليل والنهار والله تعالى يستر ويتجاوز عند سؤال العبد المغفرة، وأنهم لا يستطيعون مهما حاولوا بأقوالهم وأفعالهم أن يضروا الله بشيء أو ينفعوه، وأنهم لو كانوا على أتقى قلب رجل واحد أو على أفجر قلب رجل واحد ما زادت تقواهم في ملك الله، ولا نقص فجورهم من ملكه شيئًا؛ لأنهم ضعفاء فقراء إلى الله محتاجون إليه في كل حال وزمان ومكان، وأنهم لو قاموا في مقام واحد يسألون الله فأعطى كل واحد ما سأل ما نقص ذلك مما عند الله شيئاً؛ لأن خزائنه سبحانه ملأى لا تغيضها نفقة، سحاء الليل والنهار، وأن الله يحفظ جميع أعمال العباد ويحصيها ما كان لهم وما كان عليهم، ثم يوفيهم إياها يوم القيامة فمن وجد جزاء عمله خيرًا فليحمد الله على توفيقه لطاعته، ومن وجد جزاء عمله شيئا غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه الأمارة بالسوء التي قادته إلى الخسران.
740;ہ حدیث قدسی جو دین کے اصول و فروع اور اس کے آداب کے سلسلے میں بہت سے عظیم فوائد پر مشتمل ہے، ہمیں یہ خبر دیتی ہے کہ اللہ تعالی نے از راہِ فضل اور اپنے بندوں پر احسان کرتے ہوئے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور اپنی مخلوق کے مابین بھی ظلم کو حرام ٹھہرایا ہے۔ لھٰذا کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور یہ کہ مخلوق سب کی سب گم گشتہ راہ حق ہے بجز اس کے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت اور توفیق مل جائے۔ اور جو اللہ سے مانگتا ہے اسے اللہ تعالی ہدایت اور توفیق سے نواز دیتا ہے۔ اور یہ کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے فقیر اور اس کے محتاج ہیں۔ اور جو اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کی حاجت کو پورا کر دیتا ہے اور اسے کافی ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہ انسان شب و روز گناہ کرتے ہیں اور اللہ ان کی ستر پوشی کرتا ہے اور جب بندہ مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس سے درگزر کردیتا ہے۔ وہ اپنے قول و فعل سے جتنی بھی کوشش کر لیں، اللہ کو نہ تو کچھ نقصان دے سکتے ہیں اور نہ کوئی نفع۔ اگر وہ سب کسی انتہائی متقی شخص کے دل کی مانند ہو جائیں یا کسی انتہائی بدکار شخص کی مانند ہو جائیں تو ان کا تقوی اللہ کی بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی بدکاری اس کی بادشاہی میں کچھ کمی کر سکتی ہے۔ کیونکہ وہ کمزور، اللہ کے سامنے فقیر اور ہر حال، ہر وقت اور ہر جگہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ سب کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر اللہ سے مانگیں اور اللہ ان میں سے ہر ایک کو اس کی مراد عطا کر دے تو اس سے اللہ کے پاس موجود خزانوں میں کچھ کمی نہین آئے گی۔ کیونکہ اللہ کے خزانے تو بھرے ہوئے ہیں جن میں خرچ کرنے سے کمی واقع نہیں ہوتی۔ وہ دن رات انہیں لٹاتا ہے۔ اور یہ کہ اللہ اپنے بندوں کے تمام اچھے برے اعمال کو محفوظ اور شمار کرتا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں ان کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ جو اپنے عمل کا بدلہ اچھا پائے وہ اللہ کی طرف سے اس کی اطاعت کی توفیق ملنے پر اس کی حمد بیان کرے اور جسے اس کے عمل پر اس کے علاوہ کچھ اور جزا ملے تو وہ صرف اپنے نفس امارہ کو ہی ملامت کرے جس نے اسے گھاٹے میں ڈال دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4810

 
 
Hadith   738   الحديث
الأهمية: يا غلام، إني أعلمُك كلمات: احْفَظِ اللهَ يحفظْك، احفظ الله تَجِدْه تجَاهَك، إذا سألت فاسأل الله، وإذا اسْتَعَنْتَ فاسْتَعِن بالله


Tema:

اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں؛ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: كنت خلف النبي -صلى الله عليه وسلم- يوماً فقال يا غلام، إني أعلمك كلمات: «احْفَظِ اللهَ يحفظْك، احفظ الله تَجِدْه تُجَاهَك، إذا سألت فاسأل الله، وإذا اسْتَعَنْتَ فاسْتَعِن بالله، واعلمْ أن الأمةَ لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك، وإن اجتمعوا على أن يَضرُّوك بشيء لم يَضرُّوك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الأقلام وجفت الصحف».
وفي رواية: «احفظ الله تَجِدْه أمامك، تَعرَّفْ إلى الله في الرَّخَاء يَعرِفْكَ في الشِّدة، واعلم أنَّ ما أخطأَكَ لم يَكُنْ ليُصِيبَكَ، وما أصَابَكَ لم يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، واعلم أن النصرَ مع الصبرِ، وأن الفرجَ مع الكَرْبِ، وأن مع العُسْرِ يُسْرًا».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا: اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو، اور اس بات کو جان لوکہ اگر تمام مخلوق بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہے، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچاسکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔
ایک اور روایت میں ہے: اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ تم خوش حالی میں اللہ کو یاد رکھو، وہ سختی کے وقت تمھیں یاد رکھے گا۔ جان لو کہ جو چیز تمھیں نہیں ملی، وہ تمھیں ملنے والی نہیں تھی، اور جو تمھیں مل گئی، وہ تمھیں ملے بغیر رہنے والی نہیں تھی۔ جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہی آتی ہے اور کشادگی تنگی پر ہی آتی ہے اور یہ کہ مشکل کے ساتھ ہی آسانی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث العظيم يتوجه النبي -صلى الله عليه وسلم-  لهذا الغلام وهو ابن عباس -رضي الله عنهما- بوصايا جليلة  تتضمن أن يحفظ أوامر الله تعالى ونواهيه على كل أحيانه وفي كل أوقاته، ويصحح له النبي عقيدته في الصغر فما من خالق إلا الله، وما من قادر دون الله، وما من مدبر للأمر مع الله، ولا واسطة بين العبد وبين ربه ومولاه، فهو سبحانه المأمول عند نزول المصاب، وهو سبحانه المرجو عند حلول العقاب، وغرس النبي -عليه السلام- في نفس ابن عباس -رضي الله عنهما- الإيمان بقدر الله وقضائه فكل شيء بقدره -سبحانه- وقضائه.
575;س عظیم حدیث میں نبی ﷺ اس لڑکے یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کچھ بہت ہی اہم نصیحتیں فرما رہے ہیں, جن میں یہ تلقین ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر گھڑی اللہ کے احکامات و نواہی کی پاس داری کریں۔ نبیﷺ بچپن میں ہی ان کا عقیدہ درست فرما رہے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں، اللہ کے سوا کوئی قدرت والا نہیں۔ اللہ کے ساتھ کوئی اور نہیں، جو امور کی تدبیر کرتا ہو۔ بندے اور اس کے رب اور مولا کے مابین کوئی بھی واسطہ نہیں۔ مصیبت آنے پر اللہ ہی سے امیدیں باندھنی چاہییں۔ جب کسی تکلیف کا سامنا ہو، تو اس میں اللہ ہی سے آس لگانی چاہیے۔ نبی ﷺ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذہن میں اللہ کی قضا و قدر پر ایمان لانےکو راسخ فرمایا؛ کیو ںکہ ہر چیز اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قضا و قدر ہی سے ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4811

 
 
Hadith   739   الحديث
الأهمية: يَغزُو جَيْشٌ الكَعْبَةَ فإذا كانوا بِبَيْدَاءَ من الأرضِ يُخْسَفُ بأَوَّلِهِم وَآخِرِهِم


Tema:

قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ ایک کھلی صحرائی جگہ پر پہنچے گا تو ان کے اول و آخر (سب کو) دھنسا دیا جائے گا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يَغزُو جَيْشٌ الكَعْبَةَ فإذا كانوا بِبَيْدَاءَ من الأرضِ يُخْسَفُ بأَوَّلِهِم وَآخِرِهِم قالت: قلتُ: يا رسول الله، كيف يخسف بأولهم وآخرهم وفيهم أَسْوَاقُهُم وَمَنْ ليس منهم؟! قال: «يخسف بأولهم وآخرهم ثم يُبْعَثُونَ على نِيَّاتِهِم».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ ایک کھلی صحرائی جگہ پر پہنچے گا تو ان کے اول و آخر (سب کو) دھنسا دیا جائے گا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان کے اول و آخر (یعنی سب کو) کیسے دھنسایا جائے گا جب کہ ان میں بازاری (یعنی حکام کے علاوہ) لوگ بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے اول و آخر (سب) دھنسا دیے جائیں گے۔ پھر وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر -صلى الله عليه وسلم- عن جيش عظيم يغزو بيت الله الحرام، حتى إذا كانوا في صحراء واسعة خسف الله بهم الأرض، فسألته أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- عن الذين جاءوا للبيع والشراء، ليس لهم قصد سيء في غزو الكعبة، وفيهم أناس ليسوا منهم تبعوهم من غير أن يعلموا بخطتهم؛ فأخبرها -صلى الله عليه وسلم- أنهم سيخسف بهم لأنهم معهم وسيبعثون ويعاملون عند الحساب على نياتهم فيعامل كل بقصده من الخير والشر.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ ایک بہت بڑا لشکر بیت اللہ پر حملہ آور ہو گا۔ جب وہ ایک وسیع صحراء میں ہوں گے تو اللہ ان سب کو زمین میں دھنسا دے گا۔ آپ ﷺ سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا جو خرید و فروخت کے لئے آئے ہوں گے اور کعبہ پر حملہ آور ہونے کی ان کی کوئی بری نیت نہیں ہو گی۔ پھر ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان کے منصوبے سے آگاہ ہوئے بغیر ہی ان کے ساتھ آ گئے ہوں گے۔ نبی ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ: چونکہ وہ ان کے ساتھ ہوں گے اس لئے انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا، تاہم انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا اور حساب کے وقت اسی کے مطابق ان سے معاملہ کیا جائے گا۔ چنانچہ ہر کسی سے اس کی اچھی یا بری نیت کے لحاظ سے معاملہ کیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4812

 
 
Hadith   740   الحديث
الأهمية: عرِضَتْ عَلَيّ أعمالُ أُمتي، حَسَنُهَا وسَيِّئُهَا فَوَجَدت في مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيق، ووَجَدتُ في مَسَاوِئ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَة تَكُون في المَسْجِد لا تُدْفَن


Tema:

میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا۔

عن أبي ذر -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-:«عُرِضَتْ عَلَيَّ أعمالُ أُمتي، حَسَنُهَا وسَيِّئُهَا فَوَجَدتُ في مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، ووَجَدتُ في مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ في المَسْجِدِ لا تُدْفَنُ».

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم تھوکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عرض الله -عز وجل- أعمال الأمة على نبينا -صلى الله عليه وسلم-، فوجد من محاسنها: إزالة ما يؤذي المارة من الطريق، ووجد من سيئها أن يبصق الإنسان في المسجد ولا يزيلها بالدفن أو بغيره.
575;للہ عز و جل نے امت کے اعمال کو نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ان کے اچھے اعمال میں سے ایک اچھا عمل راہ گیروں کو تکلیف دینے والی راستے میں پڑی کسی بھی چیز کو دور کر دینا پایا اور ان کے برے اعمال میں سے ایک عمل یہ پایا کہ انسان مسجد میں تھوک دے اور پھر اسے (مٹی میں) دفن کر کے یا کسی اور طریقے سے زائل نہ کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4813

 
 
Hadith   741   الحديث
الأهمية: عُرِضَتْ عَلَيَّ الجَنَّةُ والنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كاليومِ في الخيرِ والشرِ، ولو تَعْلَمُونَ ما أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا


Tema:

میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: خَطَبَنَا رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- خُطْبَةً ما سمعتُ مثلها قَطُّ، فقال: «لو تَعْلَمُونَ ما أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». فَغَطَّى أَصْحَابُ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- وُجُوهَهُم، ولهم خَنِينٌ.
وفي رواية: بَلَغَ رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- عن أَصْحَابِهِ شَيْءٌ فَخَطَبَ، فقال: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الجَنَّةُ والنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كاليومِ في الخيرِ والشرِ، ولو تَعْلَمُونَ ما أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». فما أَتَى على أصحابِ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يومٌ أَشَدُّ مِنْهُ، غَطَّوا رُءُوسَهُمْ ولهم خَنِينٌ.

انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ نے ایسا خطبہ دیا کہ کبھی ایسا خطبہ نہیں دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روو زیادہ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا اور وہ سسکیاں بھر بھر کے رو رہے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ تک اپنے صحابہ سے متعلق کوئی بات پہنچی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں گزرا۔ انہوں نے اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے اور سسکیاں بھر بھر کر رو رہے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
وعظ النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه موعظة لم يسمعوا مثلها قط، وكان من جملتها أن قال: عرضت علي الجنة والنار، فلم أر خيراً أكثر مما رأيته اليوم في الجنة، ولا شراً أكثر مما رأيته اليوم في النار، ولو تعلمون ما أعلم من أهوال الآخرة وما أُعِد في الجنة من نعيم وفي النار من العذاب الأليم لضحكتم قليلا ًوبكيتم كثيراً، فما جاء على أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يوم أشد منه؛ فبكوا بكاء شديداً.
606;بی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایک ایسا وعظ فرمایا کہ اس طرح کا وعظ پہلے کبھی نہیں فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے جنت میں آج جتنی خیر دیکھی اس سے زیادہ میں نے کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی میں نے اتنا شر کبھی دیکھا ہے جتنا میں نے آج دوزخ میں دیکھا ہے۔ اگر تم آخرت کی ہولناکیوں کو اور جنت کی نعمتوں اور دوزخ میں جو عذاب ہو گا اس کو ویسے جان لو جیسے میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ وہ زار و قطار رو رہے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4814

 
 
Hadith   742   الحديث
الأهمية: لا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ التي قالَ


Tema:

اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کر دو گے تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا جس پر تمہارے اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور تم اس جگہ پر آ جاؤ گے جس پر وہ اس کلمے کو کہنے سے پہلے تھا۔

عن المقداد بن الأسود -رضي الله عنه- قال: قُلْتُ لرسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِن الكفارِ، فَاقْتَتَلْنَا، فضربَ إِحْدَى يَدَيَّ بالسيفِ، فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بشجرةٍ، فقال: أَسْلَمْتُ للهِ، أَأَقْتُلُهُ يا رسولَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالها؟ فقال: «لا تَقْتُلْهُ» فقلتُ: يا رسولَ اللهِ، قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ، ثُمَّ قال ذلك بعد ما قَطَعَهَا؟! فقال: «لا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ التي قالَ».

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اگر میرا کفار میں سے کسی شخص کے ساتھ آمنا سامنا ہو جائے اور ہم ایک دوسرے سے لڑائی شروع کر دیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور پھر مجھ سے بچنے کے لیے ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہے کہ: میں نے اللہ کے لئے اسلام قبول کیا۔ کیا میں ایسا کہنے کے بعد بھی اسے قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا؟ (کیا پھر بھی اسے قتل نہیں کرنا چاہئے) آپ ﷺ نے فرمایا:اسے قتل نہ کرو، اگر تم اسے قتل کر دو گے تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا جس پر تمہارے اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور تم اس جگہ پر آ جاو گے جس پر وہ اس کلمے کو کہنے سے پہلے تھا۔

سأل المقداد بن الأسود -رضي الله عنه- رسولَ الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أخبرني يا رسول الله، إن لقيتُ رجلا من المشركين فاقتتلنا، فضربني بالسيف فقطع إحدى يدي، ثم استتر مني بشجرة، ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله؛ أفقتله بعد أن قالها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقتله. فقال المقداد: قطع إحدى يدي، ثم قال ذلك بعد ما قطعها؛ لئلا يُقتل؟ فقال صلى الله عليه وسلم: لا تقتله؛ فإنك إن قتلته بعد نطقه بذاك؛ فإنه بعد الإتيان بها بمنزلتك من عصمة الدم قبل أن تقتله، وإنك بمنزلته في إهدار الدم قبل أن يقول كلمته التي قالها.

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیں کہ اگر میرا مشرکین میں سے کسی شخص کے ساتھ آمنا سامنا ہو جائے اور ہم ایک دوسرے سے لڑیں اور وہ تلوار کا وار کر کے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے اور پھر مجھ سے بچنے کے لیے ایک درخت کی اوٹ میں ہو جائے اور کہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو کیا میں یہ کہنے کے باوجود اسے قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹنے کے بعد یہ کہا ہے تاکہ وہ قتل ہونے سے بچ سکے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے ایسا کہنے کے باوجود قتل کرو گے تو ایسا کہنے کے بعد وہ اسی طرح معصوم الدم ہو گیا ہے جیسے اس کے قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور (اسے قتل کرنے پر) تم ویسے مباح الدم ہو جاؤ گے جیسے وہ اس کلمے کو پڑھنے سے پہلے تھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4815

 
 
Hadith   743   الحديث
الأهمية: يا أسامةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لا إلهَ إلَّا اللهُ؟


Tema:

اے اسامہ! لا إله إلا الله کہنے کے بعد بھی تم نے اُسے قتل کر دیا؟!

عن أسامة بن زيد -رضي الله عنهما-، قال: بَعَثَنَا رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- إلى الحُرَقَةِ من جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا القَوْمَ على مِيَاهِهِم، ولَحِقْتُ أنا ورجلٌ من الأنصارِ رجلًا منهم، فلما غَشِينَاهُ، قال: لا إله إلا الله، فَكَفَّ عنه الأَنْصَارِيُّ، وطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا المدينةَ، بَلَغَ ذَلِكَ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- فقال لي: «يا أسامةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لا إلهَ إلَّا اللهُ؟!» قُلْتُ: يا رسولَ اللهِ، إنما كان مُتَعَوِّذًا، فقال: «أَقَتَلْتَهُ بعد ما قال: لا إلهَ إلَّا اللهُ؟!» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حتى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لم أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ اليَوْمِ.
وفي رواية: فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أَقَالَ: لا إلهَ إلا اللهُ وَقَتَلْتَهُ؟!» قُلْتُ: يا رسولَ اللهِ، إنما قَالَهَا خَوْفًا من السِّلَاحِ، قال: «أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟!» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ.
وعن جندب بن عبد الله -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ بَعْثًا مِن المسلمينَ إلى قومٍ من المشركينَ، وأنهم الْتَقَوا، فَكَانَ رجلٌ مِن المشركينَ إذا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إلى رجلٍ مِن المسلمينَ قَصَدَ له فَقَتَلَهُ، وأَنَّ رجلًا مِن المسلمينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ. وكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أسامةُ بْنُ زيدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قال: لا إلهَ إلا اللهُ، فَقَتَلَهُ، فجاءَ البَشِيرُ إلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ وأَخْبَرَهُ، حتى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرجلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فقال: «لِمَ قَتَلْتَهُ؟» فقال: يا رسولَ اللهِ، أَوْجَعَ في المسلمينَ، وقَتَلَ فُلانًا وفُلانًا، وسَمَّى له نَفَرًا، وإِنِّي حَمَلْتُ عليهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قال: لا إلهَ إلا اللهُ. قال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «أَقَتَلْتَهُ؟» قال: نعم. قال: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ بلا إلهَ إلا اللهُ، إذا جَاءَتْ يَومَ القِيَامَةِ؟» قال: يا رسولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قال: «وكَيْفَ تَصْنَعُ بلا إلهَ إلا اللهُ إذا جَاءَتْ يَوْمَ القِيَامَةِ؟» فجعل لا يَزِيدُ على أَنْ يقولَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ بلا إلهَ إلا اللهُ إذا جَاءَتْ يَوْمَ القيامةِ».

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ حرقہ کی طرف (مہم پر) بھیجا۔ ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت ان کے پانیوں پر انہیں جالیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک انصاری آدمی قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیرلیا تو اس نے کہا ”لا الہ الا ﷲ“۔ انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی ﷺ تک پہنچی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:’’اسامہ! کیا تم نے کلمہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر ڈالا؟‘ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کیا تم نے اسے ’لا الہ الا ﷲ‘ کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا؟“ آپ ﷺ یہ جملہ بار بار مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: كيا اس نے لا إله إلا الله کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے ایسا اسلحے کے خوف سے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے پتہ چل جاتا کہ اس نے خلوص دل سے پڑھا تھا یا نہیں؟، پھر آپ ﷺ بار بار یہی بات دُہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش ! میں اسی روز مسلمان ہوا ہوتا۔
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کا آمنا سامنا ہو گیا۔ مشرکوں میں ایک شخص تھا، وہ جس مسلمان کی طرف چاہتا بڑھ کر اسے قتل کر دیتا۔ آخر ایک مسلمان نے اس کو غفلت کی حالت میں جا لیا۔ ہم آپس میں گفتگو کرتے تو کہتے تھے کہ وہ مسلمان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر جب انھوں نے تلوار اس پر سیدھی کی تو اس نے کہا:لا الٰہ الا اللہ لیکن انھوں نے اسے مار ڈالا۔ اس کے بعد قاصد خوشخبری لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے حال پوچھا۔ اس نے سب حال بیان کیا یہاں تک کہ اس شخص کے بارے میں بھی بتا دیا کہ اس نے کیا کیا۔ آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کیوں اس کو مار ڈالا؟، انہوں (اسامہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی، فلاں اور فلاں کو قتل کر دیا اور کئی آدمیوں کا نام لیا۔ میں جب اس پر حملہ آور ہوا اور اس نے تلوار کو دیکھا تو لا الٰہ الا اللہ پڑھنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کو قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش کی دعا کردیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ پھر آپ ﷺ نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا اور یہی کہتے رہے کہ: قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بعث النبيُّ صلى الله عليه وسلم أسامةَ بن زيد في سرية إلى الحرقة من جهينة، فلما وصلوا إلى القوم وغشوهم، هرب من المشركين رجل، فلحقه أسامة ورجل من الأنصار يتبعانه يريدان قتله، فلما أدركاه قال: لا إله إلا الله، أما الأنصاري فتركه لما قال لا إله إلا الله، وأما أسامة فقتله، فلما رجعوا إلى المدينة، وبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم قال لأسامة: "أقتلته بعد أن قال لا إله إلا لله". قال: نعم يا رسول الله؛ إنما قالها يتعوذ بها من القتل، ويستجير بها. قال: "أقتلته بعد أن قال لا إله إلا الله". قال: نعم قالها يتعوذ من القتل، وقد آذى المسلمين وقتل منهم فلانا وفلانا، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أفلا شققت عن قلبه حتى تعتقد ذلك وتجزم به؛ فكيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت يوم القيامة، من يشفع لك، ومن يحاج عنك ويجادل إذا جيء بكلمة التوحيد وقيل لك: كيف قتلت من قالها؟!
يقول أسامة رضي الله عنه: حتى تمنيت أني لم أكن أسلمت قبل هذا اليوم؛ لأنه لو كان كافرًا ثم أسلم عفا الله عنه، لكنه الآن فعل هذا الفعل وهو مسلم.
606;بی ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک سریہ میں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا۔ جب وہ ان لوگوں پر جا کر حملہ آور ہو گئے تو مشرکین میں سے ایک شخص بھاگ اٹھا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری آدمی اسے قتل کرنے کے ارادے سے اس کے پیچھے لگ گئے۔ جب انہوں نے اسے جا لیا تو اس نے کہا: لا الہ الا اللہ۔ انصاری آدمی نے تو اسے چھوڑ دیا کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا لیکن اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ جب وہ مدینے واپس لوٹے اور نبی ﷺ تک یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا ’لا الہ الا اللہ‘ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ! وہ تو یہ کلمہ صرف قتل ہونے سے بچنے کے لیے پڑھ رہا تھا اور اس کی آڑ لے رہا تھا۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں یقینی طور پر اس کا علم ہو جاتا۔ قیامت کے دن جب کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ آئے گا تو پھر تم کیا کرو گے۔ تمہاری کون سفارش کرے گا۔اس وقت تمہاری طرف سے کون جھگڑا کرے گا جب کلمہ توحید کو لایا جائے گا اور تمہیں کہا جائے گا کہ تم نے اس کلمہ کو پڑھنے والے کو کیسے قتل کر دیا؟۔
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی قبول نہ کیا ہوتا۔ کیوں کہ اگر وہ کافر ہوتے اور پھر مسلمان ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتا۔ لیکن اب تو مسلمان ہونے کی حالت میں ان سے یہ فعل سر زد ہو گیا۔   --  [صحیح]+ +[اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4816

 
 
Hadith   744   الحديث
الأهمية: أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا، فقال: اللهم اغْفِرْ لي ذَنْبِي، فقال اللهُ تبارك وتعالى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ له رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، ويَأْخُذُ بالذَّنْبِ


Tema:

ایک بندے نے گناہ کیا، پھر کہنے لگا: اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کر دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- فيما يَحْكِي عن ربه تبارك وتعالى، قال: «أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا، فقال: اللهم اغْفِرْ لي ذَنْبِي، فقال اللهُ تبارك وتعالى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ له رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، ويَأْخُذُ بالذَّنْبِ، ثم عَادَ فَأَذْنَبَ، فقال: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لي ذَنْبِي، فقال تبارك وتعالى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ له رَبًّا، يَغْفِرُ الذَّنْبَ، ويَأْخُذُ بالذَّنْبِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَفْعَلْ ما شَاءَ»

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک و تعالی کا فرمان نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ایک بندے نے گناہ کیا، پھر کہنے لگا: اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کر دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ اس بندے نے پھر دوبارہ گناہ کیا اور کہنے لگا کہ: اے رب! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخش دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا۔ چنانچہ وہ جو چاہے کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا فعل العبد ذنبا، ثم قال: اللهم اغفر لي ذنبي، يقول الله تبارك وتعالى: فعل عبدي ذنبا، فعلم أن له ربا يغفر الذنب، فيستره ويتجاوز عنه، أو يعاقب عليه، ثم عاد فأذنب، فقال: يا رب اغفر لي ذنبي، فقال الله تبارك وتعالى: فعل عبدي ذنبا، فعلم أن له ربا يغفر الذنب، فيستره ويتجاوز عنه، أو يعاقب عليه، قد غفرت لعبدي، فليفعل ما شاء من الذنوب ويتبعها بالتوبة الصحيحة، فما دام يفعل هكذا، يذنب ويتوب أغفر له، فإن التوبة تهدم ما قبلها.
580;ب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کہتا ہے: اے اللہ! میرا گناہ بخش دے، تو اس پر اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کر دیتا ہے، اس کی ستر پوشی کرتاہے اور اس سے درگزر کرتا ہے یا پھر اس پر سزا دیتا ہے۔ پھر وہ بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! میرا گناہ بخش دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی کہتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کر دیتا ہے، اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اوراس سے درگزر کرتا ہے (اور اگر چاہے تو) اس پر سزا بھی دیتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا۔ تو وہ جو چاہے گناہ کرے اور اس کے بعد سچی توبہ کرے۔ تو جب تک وہ ایسا کرتا رہے کہ گناہ کر کے توبہ کرتا رہے تو میں اسے معاف کرتا رہوں گا۔ کیوں کہ توبہ اپنے ماقبل گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4817

 
 
Hadith   745   الحديث
الأهمية: كانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ في رُكُوعِهِ وسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي، يَتَأَوَّلُ القُرْآنَ


Tema:

رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کثرت کے ساتھ یہ پڑھا کرتے تھے: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي۔ آپ ﷺ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: ما صَلَّى رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- صلاةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عليه: (إذا جاء نصر الله والفتح) إلا يقول فيها: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وبِحَمْدِكَ، اللهمَّ اغْفِرْ لِي».
وفي رواية: كانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ في رُكُوعِهِ وسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي»، يَتَأَوَّلُ القُرْآنَ.
وفي رواية: كَانَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَ‍مْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ». قالتْ عَائِشَةُ: قلتُ: يا رسولَ اللهِ، ما هذهِ الكلماتُ التي أراكَ أَحْدَثْتَهَا تَقُولُها؟ قال: «جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا (إذا جاء نصر الله والفتح)... إلى آخر السورة».

وفي رواية: كانَ رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ». قالتْ: قلتُ: يا رسولَ اللهِ، أراكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إليهِ؟ فقالَ: «أَخْبَرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إليهِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا: إذا جاء نصر الله والفتح، فَتْحُ مَكَّةَ، ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجاً، فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان تواباً».

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے سوره ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾ کے نزول کے بعد کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں یہ دعا نہ پڑھی ہو: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وبِحَمْدِكَ، اللهمَّ اغْفِرْ لِي (اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے)۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کثرت کے ساتھ یہ پڑھا کرتے تھے: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي۔ آپ ﷺ قرآن (سورہ نصر) کی عملی تفسیر فرما رہے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی وفات سے پہلے کثرت کے ساتھ یہ کہا کرتے تھے: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ۔ (اے اللہ تو پاک ہے میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہو اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں)۔ عائشہ رضی اللہ کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کلمات کیسے ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنا شروع کیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے میری امت میں ایک علامت رکھی گئی کہ میں جب اسے دیکھ لوں تو کثرت کے ساتھ یہ پڑھو۔ (اور یہ علامت یہ سورت ہے) ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾۔
ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ کثرت کے ساتھ یہ پڑھا کرتے تھے: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کثرت کے ساتھ یہ پڑھتے ہیں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إليهِ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے رب نے مجھے خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور یہ کہ جب میں اسے دیکھوں تو کثرت کے ساتھ یہ پڑھوں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إليهِ۔ میں نے اس علامت کو دیکھ لیا ہے۔ اور وہ علامت ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾ ہے یعنی جب مکہ فتح ہو جائے۔ ﴿وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ، إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾ (اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لیں تو اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے لگیں حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگیں، بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے)۔
602;الت عائشة -رضي الله عنها-: ما صلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاةً بعد أن نزلت سورة النصر إلا وقال في ركوعها وسجودها: سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي، يعمل بما أُمِرَ به في القرآن في قوله (فسبح بحمد ربك واستغفره).
وأخبرت -رضي الله عنها- أنها سألت النبي -صلى الله عليه وسلم- عن هذه الكلمات التي أصبح يقولها في الركوع والسجود فأخبرها أن الله تبارك وتعالى أخبره أنه سيرى علامة في أمته، فإذا رآها أكثر من قول: سبحان الله وبحمده أستغفر الله وأتوب إليه.
وهذه العلامة: (إذا جاء نصر الله والفتح –فتح مكة- ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجاً فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان تواباً).
عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے سورۃ النصر کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ ہر نماز کے رکوع و سجود میں یہ فرماتے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔ ایسا آپ ﷺ اس حکم کی تعمیل میں کرتے جو آپ ﷺ کو قرآن میں دیا گیا تھا کہ: ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ﴾ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کیجیے“۔عائشہ رضی اللہ عنہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا جو آپ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کہنا شروع کیے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ تبارک و تعالی نے آپ ﷺ کو بتایا ہے کہ آپ ﷺ عنقریب اپنی امت کے بارے میں ایک علامت ملاحظہ کریں گے۔ جب آپ اس علامت کو دیکھیں تو کثرت کے ساتھ یہ پڑھیں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إليهِ۔
یہ علامت: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾ -یعنی فتح مکہ ہے- ﴿وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾۔ ترجمہ: جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے (یعنی فتحِ مکہ) اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے، تو اپنے رب کی تسبیح کرنے میں جُٹ جا حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4826

 
 
Hadith   746   الحديث
الأهمية: كان أَحَبَّ الثِّيَابِ إلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- القَمِيصُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ ترین لباس قمیص تھا۔

عن أم سلمة -رضي الله عنها- قالت: كان أَحَبَّ الثِّيَابِ إلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- القَمِيصُ.

ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ ترین لباس قمیص تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أحب الثياب إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- القميص؛ لأنه أستر من الإزار والرداء، ولأنه قطعة واحدة يلبسها الإنسان مرة واحدة فهي أسهل من أن يلبس الإزار أولا ثم الرداء ثانيا.
ولكن مع ذلك لو كنت في بلد يعتادون لباس الأزر والأردية ولبست مثلهم فلا حرج والمهم ألا تخالف لباس أهل بلدك فتقع في الشهرة وقد نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن لباس الشهرة.

Esin Hadith Caption Urdu


”رسول اللہ ﷺ کا سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھا“ کیوں کہ اس میں ازار اور چادر کی بہ نسبت زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، جسے انسان ایک ہی بار پہن لیتا ہے۔ چنانچہ اس کا پہننا اس کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے کہ پہلے ازار پہنی جائے اور پھر چادر۔ تاہم اس سب کے باوجود اگرآپ کسی ایسے علاقے میں ہیں، جہاں لوگ ازار باندھتے اور چادریں پہنتے ہیں اور آپ بھی وہاں یہی لباس استعمال کریں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قابل لحاظ امر یہ ہے کہ آپ اپنے علاقے کے باشندوں کے لباس سے مختلف لباس نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے آپ چرچے میں آ جائیں گے اور نبی ﷺ نے ایسا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے جو شہرت کا باعث ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4827

 
 
Hadith   747   الحديث
الأهمية: أَنَّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إذا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قال: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا


Tema:

نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔

عن أبي أمامة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إذا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قال: «الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يعلم أصحابه السنة بأقواله وأفعاله، ومن الأذكار المأثورة عنه عند الانتهاء من طعامه أنه كان "إذا رفع مائدته" أي إذا فرغ من أكله، وبدأ في رفع آنية الطعام التي أمامه "قال: الحمد لله" ومعناه أن الثناء  والشكر كله في الحقيقة لله وحده دون سواه.
"حمداً كثيراً" أي ثناءً كثيراً يليق بجلاله، وجماله وكماله، وشكراً جزيلاً يوازي نعمه التي لا تحصى، ومنته التي لا تستقصى (وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا)
وقوله: "طيباً" أي: خالصاً من الرياء والسمعة.
"مباركاً" أي مقترناً بالقبول الذي لا يرد؛ لأن البركة معناها الخير. والعمل الذي لا يقبل لا خير فيه.
"غير مَكْفِي" أي نحمده -عز وجل- حال كونه هو الكافي لعباده، ولا يكفيه أحد من خلقه؛ لأنه لا يحتاج إلى أحد.
"ولا مودع" حال أخرى أي ونحمده -سبحانه- حال كونه غير متروك، أي لا يتركه منا أحد لحاجتنا جميعاً إليه.
581;دیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنے صحابہ کو اقوال و افعال کے ذریعے سنت کی تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ سے جو اذکار مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ ﷺ اپنے سامنے موجود کھانے کے برتن اٹھاتے تو فرماتے: ”الحَمْدُ للهِ“ اس کا معنی یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور شکر در حقیقت صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کا سزاوار نہیں۔
”حَمْداً كثِيراً“ یعنی بکثرت تعریف جو اس کی عظمت اور جمال و کمال کے شایان شان ہے اور ایسا شکر جو اس کی ان گنت نعمتوں اور ناقابلِ احاطہ احسان کے مقابل ہے۔ ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہ کر سکو گے“۔
”طَيِّبًا“ یعنی جو ریا اور جذبۂ ناموری سے پاک ہو۔
”مُبَارَكًا“ یعنی جس میں قبولیت ہو جسے رد نہ کیا جائے۔ کیونکہ برکت کا معنی ہے خیر۔ اور جو عمل مقبول نہیں ہوتا اس میں کچھ خیر نہیں ہوتی۔
”غير مَكْفِي“ یعنی ہم اللہ عزّ وجلّ کی تعریف کرتے ہیں اس حال میں کہ وہی اپنے بندوں کی کفایت کرنے والا ہے، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی کفایت کرنے والا نہیں کیونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔
”وَلَا مُوَدَّعٍ“ یعنی ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اس حال میں کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے چھوڑتا ہے کیونکہ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4828

 
 
Hadith   748   الحديث
الأهمية: كان رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- إذا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ الليلِ مِن وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى من النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً


Tema:

اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: كان رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- إذا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ الليلِ مِن وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى من النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں:اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا ترك قيام الليل من وجع أو غيره صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة؛ لأنه -صلى الله عليه وسلم- كان يوتر بإحدى عشر ركعة، فإذا مضى الليل ولم يوتر لنوم أو شبهه؛ فإنه يقضي هذه الصلاة، لكن لما فات وقت الوتر صار المشروع أن يجعله شفعا.
606;بی ﷺ اگر کسی تکلیف یا کسی اور وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت پڑھتے تھے؛ کیونکہ آپ ﷺ گیارہ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔لھٰذا اگر رات گزر جاتی اور نیند وغیرہ کی وجہ سے آپ ﷺ وتر نہ پڑھ سکتے تو پھر آپ ﷺ اس نماز کی قضا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وتر کا وقت نکل چکا ہوتا اس لئے اسے (ایک رکعت کا اضافہ کرکے) جفت بنانا مشروع ہو جاتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4829

 
 
Hadith   749   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُومُ من اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاه


Tema:

نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- والمغيرة بن شعبة -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يقوم من الليل حتى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فقلت له: لم تَصْنَعُ هذا يا رسول الله، وقد غفر اللهُ لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: «أَفَلَا أحب أن أكونَ عبدا شَكُورًا».

عائشہ رضی اللہ عنہا اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا پھر میں شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يقوم بالتهجد من الليل حتى تتشقق قدماه، فقالت له عائشة -رضي الله عنها-، -ظنا منها أنه إنما يعبد الله خوفًا من الذنب وطلبًا للمغفرة والرحمة، وهو قد تحقق له غفران الله تعالى فلا يحتاج لذلك-: لِمَ تصنع هذا يا رسول الله وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، فقال لها النبي -صلى الله عليه وسلم-: أفلا أحب أن أكون عبدا شكورا، فهذه العبادة سببها الشكر على المغفرة.
606;بی ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے -یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ ایسا گناہ کے خوف سے اور مغفرت اوررحمت کی طلب میں کرتے ہیں؛ حالاں کہ آپ کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت پکی ہو چکی ہے اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت نہیں ہے- آپ ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کےرسول ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں، تو پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا میں شکز گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ عبادت مغفرت پر اظہار شکر کے لیے ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4830

 
 
Hadith   750   الحديث
الأهمية: أنّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بَرِيءٌ من الصَّالِقَةِ وَالحَالِقةِ وَالشَّاقَّةِ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے (بوقتِ مصیبت) بین کرنے والی، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار فرمایا ہے۔

عن أبي مُوسَى عبد اللَّه بن قيس -رضي الله عنه- «أنّ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بَرِيءَ من الصَّالِقَةِ وَالحَالِقةِ وَالشَّاقَّةِ».

ابو موسی عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (بوقتِ مصیبت) بین کرنے والی، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لله -عز وجل- الحكمة التامة والتصرف الرشيد في ما أخذ وما أعطى، ومن عارض في هذا ومانعه فكأنما يعترض على قضاء الله وقدره الذي هو عين المصلحة والحكمة وأساس العدل والصلاح.
ولذا فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- ذكر أنه من تسخطَ وجزع من قضاء الله فهو على غير طريقته المحمودة، وسنته المنشودة، إذ قد انحرفت به الطريق إلى ناحية الذين إذا مسهم الشر جزعوا وهلعوا؛ لأنهم متعلقون بهذه الحياة الدنيا فلا يرجون بصبرهم على مصيبتهم ثواب الله ورضوانه.
فهو بريء ممن ضعف إيمانهم؛ فلم يحتملوا وَقعَ المصيبة حتى أخرجهم ذلك إلى التسخط القلبي، أو القولي: بالنياحة والندب والدعاء بالويل والثبور، أو الفعلي: كنتف الشعور وشق الجيوب؛ إحياءً لعادة الجاهلية.
وإنما أولياؤه الذين إذا أصابتهم مصيبة سلَّموا بقضاء الله -تعالى-، وقالوا: {إِنَّا لله وإِنا إليه رَاجعُونَ. أولئِكَ عَلَيهِم صَلَوات مِنْ رَبِّهِم وَرَحمَة وَأولئِكَ هُمُ المُهتدُونَ}.
575;للہ کا روکنا اور عطاء کرنا حکمت تامہ اور مبنی بر حق تصرف ہوتا ہے۔ جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے یا اس میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی قضاء و قدر پر نکتہ چینی کرتاہے جو کہ عین مصلحت و حکمت اور عدل و راستگی پر مبنی ہوتی ہے۔
اسی لیے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ جو شخص اللہ کے فیصلے پر ناپسندیدگی اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے وہ آپ ﷺ کے پسندیدہ طریقے اور مطلوبہ سنت پرقائم نہیں کیونکہ وہ بھٹک کر ان لوگوں کی راہ لے لیتا ہے جنھیں جب کوئی برائی لاحق ہوتی ہے تو جزع فزع شروع کر دیتے ہیں اور حواس باختہ ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ پوری طرح اس دنیوی زندگی سے دل لگا چکے ہوتے ہیں اور اپنی مصیبت پر صبر کرنے پر اللہ کے ثواب اور خوشنودی کی انھیں کوئی امیدنہیں ہوتی۔
چنانچہ نبی ﷺ ان تمام لوگوں سے بری ہیں جن کا ایمان کمزور ہو اور وہ مصیبت کے دھچکے کو برداشت نہ کر پائیں اور اس کی وجہ سے دلی یا قولی طور پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگیں مثلاً نوحہ کرنا، مردے کے محاسن بیان کرکے رونا چلانا، ہلاکت اور مرجانے کی دعائیں کرنا یا پھر عملی طور پر ناراضگی کا اظہا کرنے لگیں جیسے زمانۂ جاہلیت کی طرز پر بالوں کو نوچنا اورگریبان چاک کر نا۔
اللہ کے اولیاء تو وہ لوگ ہیں جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اللہ کی قضاء کو تسلیم کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾ ”ہم تو الله کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں اور رحمت ہے اور یہی ہدایت پانے والے ہیں“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4849

 
 
Hadith   751   الحديث
الأهمية: من أكل ثومًا أو بصلًا؛ فَلْيَعْتَزِلْنَا -أَوْ لِيَعْتَزِلْ مسجدنا-، وليقعد في بيته


Tema:

جس نے لہسن یا پیاز کھائی ہو اسے چاہیے کہ وہ ہم سے دور رہے، یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «من أكل ثومًا أو بصلًا؛ فَلْيَعْتَزِلْنَا -أَوْ لِيَعْتَزِلْ مسجدنا-، وليقعد في بيته.
وأُتي بِقِدْرٍ فيه خَضِرَاتٌ من بُقُولٍ، فوجد لها ريحًا، فسأل فأخبر بما فيها من البقول، فقال: قَرِّبُوهَا إلى بعض أصحابي، فلما رآه كره أكلها، قال: كل؛ فإني أُنَاجِي من لا تُنَاجِي».
عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «من أكل الثوم والبصل والْكُرَّاثَ فلا يقربن مسجدنا؛ فإن الملائكة تَتَأَذَّى مما يَتَأَذَّى منه بنو آدم».

جابر بن عبد اللہ - رضی اللہ عنہما - سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھائی ہو اسے چاہیے کہ وہ ہم سے دور رہے، یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔
آپ ﷺ کے پاس ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں کچھ سبزیاں تھیں۔ آپ ﷺ کو ان کی بو آئی تو ان کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ کو اس ہنڈیا میں موجود سبزیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے کسی صحابی کے قریب کر دو۔ جب ان صحابی نے (جنہیں یہ دی گئی) اسے دیکھا تو انہوں نے بھی انہیں کھانے کو ناپسند کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس ذات سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے۔ (اس لئے تم کھا لو۔)
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے لہسن، یا پیاز یا گندنا کھائی ہو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ جائے۔ فرشتوں کو بھی اُن چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المطلوب أن يكون المُصلِّى على أحسن رائحة وأطيبها، لاسيما إذا كان يريد أداء صلاته في المجامع العامة؛
ولذا أمر النبي -صلى الله عليه وسلم-، من أكل ثوماً أو بصلاً نيئين أن يتجنب مساجد المسلمين، ويؤدى صلاته في بيته، حتى تذهب عنه الرائحة الكريهة، التي يتأذى منها المصلون والملائكة المقربون.
ولما جِيء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- بقدر من خضروات وبقول، فوجد لها ريحاً كريهة، أمر أن تقرب إلى من حضر عنده من أصحابه، فلما رأى الحاضر كراهته -صلى الله عليه وسلم- لها، ظن أنها محرمة، فتردد في أَكلها، فأخبره أنها ليست بمحرمة، وأنه لم يكرهها لأجل حرمتها، وأمره بالأكل، وأخبره أن المانع له من أكلها أنه -صلى الله عليه وسلم- له اتصال مع ربه، ومناجاة لا يصل إليها أحد؛ فيجب أن يكون على أحسن حال لدى القرب من ربه -جل وعلا-، ولأن مراعاة المصالح العامة بدفع الأذية عن المؤمنين أولى من مراعاة مصالحه الخاصة بحضور الجماعة، والتي كانت السبب في تفويتها.
605;طلوب یہ ہے کہ نمازی سے اچھی اور خوشگوار بو آرہی ہو خاص طور جب وہ عام مساجد میں نماز ادا کرنا چاہتا ہو۔ اسی لیے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ جس شخس نے کچّا لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ مسلمانوں کی مساجد میں آنے سے پرہیز کرے اور نماز کو گھر ہی میں ادا کر لے یہاں تک کہ یہ ناخوشگوار بو ختم ہوجائے جس سے نمازیوں اور مقرب فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
جب نبی ﷺ کے پاس سبزیوں پر مشتمل ایک ہنڈیا لائی گئی تو آپ ﷺ کو اس میں سے ناخوشگوار بو آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس پر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے آپ ﷺ کی خدمت میں موجود صحابہ کرام کے نزدیک کر دیا جائے تاکہ وہ کھالیں۔ جب وہاں موجود اس شخص نے دیکھا کہ آپ ﷺ کو یہ ناپسند ہے تو اسے خیال گزرا کہ شاید یہ حرام ہے۔ چنانچہ اس کو کھانے میں اُن کو تردد ہوا۔ آپ ﷺ نے اُن کو بتایا کہ یہ حرام نہیں ہے اور یہ کہ اس کے حرام ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے ناپسند نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا اور اسے بتایا کہ آپ ﷺ کا اپنے رب کے ساتھ ایسا تعلق ہے اور آپ ﷺ کی اللہ کے ساتھ اس درجے کی مناجات ہوتی ہے جسے کوئی اور نہیں پا سکتا۔چنانچہ ضروری ہے کہ آپ ﷺ اپنے رب سے قربت کے وقت بہترین حال میں ہوں۔ اور یہ کہ عمومی مصلحت کا لحاظ رکھا جائے بایں طور کہ مومنوں سے تکلیف دور کی جائے یہ زیادہ ضروری ہے بنسبت اس کے کہ اس کی خاص مصلحت یعنی جماعت میں حاضری کو مدنظر رکھا جائے جس کے چھوٹنے کا سبب بھی وہ خود ہی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4850

 
 
Hadith   752   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى على النَّجَاشِيِّ، فكنت في الصفّ الثاني، أو الثالث


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- «أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى على النَّجَاشِيِّ، فكنت في الصفّ الثاني، أو الثالث».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جابر بن عبدالله -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلى على النجاشي صلاة الغائب، وأنه كان ممن صلى إلا أنه لا يذكر هل كان في الصف الثاني أو الثالث؟ هذا إذا كان الشك منه، ولم يكن من الراوي.
580;ابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور وہ خود ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نمازہ جنازہ پڑھی تھی لیکن ان کو یہ یاد نہیں کہ وہ دوسری صف میں تھے یا تیسری میں۔اور یہ شک ان (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) کا ہے راوی کا نہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4851

 
 
Hadith   753   الحديث
الأهمية: حديث ذي اليدين في سجود السهو


Tema:

سجدہ سہو کے بارے میں ذو الیدین کی حدیث

عن أبي هُرَيْرَةَ -رضي الله عنه- قال: «صلَّى بنا رسول الله-صلى الله عليه وسلم- إحدى صَلاتَيْ الْعَشِيِّ -قال ابن سِيرِينَ وسمَّاها أبو هُرَيْرَةَ، ولكن نسيت أنا- قال: فصلَّى بنا ركعتين، ثم سلَّم، فقام إلى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ في المسجد، فَاتَّكَأَ عليها كأنه غضبان ووضع يده اليُمنى على اليُسرى، و شَبَّكَ بين أصابعه، وخرجت السَّرَعَانُ من أبواب المسجد فقالوا: قَصُرَتِ الصلاة -وفي القوم أبو بكر وعمر- فهابا أن يكلماه، وفي القوم رجل في يديه طُول، يقال له: ذو اليدين فقال: يا رسول الله، أنسيت؟ أم قَصُرَتِ الصلاة؟ قال: لم أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ، فقال: أكما يقول ذو اليدين؟ فقالوا: نعم، فتقدَّم فصلَّى ما ترك، ثم سلَّمَ، ثم كبَّر وسجد مثل سجوده أو أطول، ثم رفع رأسه فكبَّر، ثم كبَّر وسجد مثل سجوده أو أطول، ثم رفع رأسه وكبَّر، فربما سألوه: ثم سلّم؟ قال: فَنُبِّئْتُ أن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قال: ثم سلَّمَ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی۔ (ظہر یا عصر کی) _ابن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام تو لیا تھا، لیکن میں بھول گیا ہوں_ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد مسجد میں رکھی ایک لکڑی پر آپ صلى الله عليه وسلم ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ بہت ہی خفا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا اور ان کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ جو لوگ نماز پڑھ کر جلدی نکل جایا کرتے تھے، وہ مسجد کے دروازوں سے باہر نکل گئے۔ پھر لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) بھی موجود تھے۔ لیکن انھیں آپ صلى الله عليه وسلم سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک شخص تھے، جن کے ہاتھ لمبے تھے اور انھیں ذوالیدین (دو ہاتھ والے) کہا جاتا تھا۔ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلى الله عليه وسلم بھول گئے یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں؟ حاضرین بولے کہ جی ہاں! یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم آگے بڑھے اور باقی ماندہ نماز پڑھی۔ پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اورجیسے آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کیا کرتے تھے، ویسے ہی یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ پھرآپ صلى الله عليه وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر تکبیر کہی اورجیسے آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کیا کرتے تھے ویسے ہی یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ لوگوں نے (اس حدیث کے راوی) ابن سیرین سے پوچھا کہ کیا پھر سلام پھیردیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سلام پھیردیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الرسل أكمل الناس عقولاً، وأثبتهم قلوباً، وأحسنهم تحمُّلاً، وأقومهم بحق الله -تعالى- ومع هذا فإنهم لم يخرجوا عن حدود البشرية، ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- أكمل الرسل في هذه الصفات، ومع ذلك فقد طرأ عليه النسيان بحكم بشريته؛ ليشرع الله لعباده أحكام السهو، ويروي أبو هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلى بأصحابه: إما صلاة الظهر أو العصر، وأن أبا هريرة عينها لكن نسي ابن سِيرِين، فلما صلى الركعتين الأوليين سلّم، ولما كان صلى الله عليه وسلم كاملًا، لا تطمئن نفسه إلا بالعمل التام؛ شعر بنقص وخلل، لا يدرى ما سببه، فقام إلى خشبة مَعْروضة في قبلة المسجد واتَّكأ عليها بنفس قَلِقَة، وَشبَّك بين أصابعه.
وخرج المسرعون من المصلين من أبواب المسجد، وهم يتناجون بينهم، بأن أمراً حدث، وهو قصر الصلاة؛ وكأنهم أكبروا مقام النبوة أن يطرأ عليه النسيان، ولهيبته -صلى الله عليه وسلم- في صدورهم لم يَجْرُؤ واحد منهم أن يفاتحه في هذا الموضوع الهام، بما في ذلك أبو بكر وعمر -رضي الله عنهما- خاصة وقد شاهدوا منه التأثر والانقباض.
إلا أن رجلًا من الصحابة يقال له ذو اليدين قطع هذا الصمت، بأن سأل النبي -صلى الله عليه وسلم- بقوله: يا رسول الله، أنسيت أم قَصُرَت الصلاة؟ لم يجزم بواحد منهما؛ لأن كل منهما محتمل في ذلك العهد، فقال -صلى الله عليه وسلم- -بناء على ظنه-: لم أنْسَ ولم تُقْصَر.
حينئذ لما علم ذو اليدين أن الصلاة لم تُقْصَر، وكان متيقنًا أنه لم يصلها إلا ركعتين، علم أنه -صلى الله عليه وسلم- قد نَسِيَ، فقال: بل نسيت.
فأراد -صلى الله عليه وسلم- أن يتأكد من صحة خبر ذي اليدين؛ لأنه يخالف ظنه من تمام الصلاة فطلب النبي -صلى الله عليه وسلم- ما يرجِّح قوله، فقال لمن حوله من أصحابه: أكما يقول ذو اليدين من أني لم أصلِّ إلا ركعتين؟ فقالوا: نعم، حينئذ تقدم -صلى الله عليه وسلم- فصلى ما ترك من الصلاة.
وبعد التشهد سلَّم، ثم كبَّر وهو جالس، وسجد مثل سجود صُلْب الصلاة أو أطول، ثم رفع رأسه من السجود فكَبَّرَ، ثم كبَّر وسجد مثل سجوده أو أطول، ثم رفع رأسه وكبَّر، ثم سلَّم ولم يتشهد.
585;سولوں کی جماعت لوگوں میں سب سے زیادہ عقل و شعور کی حامل، ثابت قلب، متحمل مزاج اور اللہ کے حقوق ادا کرنے والی جماعت ہے۔ اس کے باوجود وہ بشری تقاضوں کی حدود سے باہر نہیں تھے۔ اور محمد عربی صلى الله عليه وسلم کی شخصیت تو ان صفات میں کامل ترین شخصیت تھی۔ لیکن بایں ہمہ آپ پر بشری حیثیت سے نسیان طاری ہوا؛ تاکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے لیے سہو کے احکام مشروع فرماۓ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھيوں کو ظہر يا عصر کي نماز پڑهائی۔ یہاں نماز کی تعیین ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کر دی تھی، لیکن ابن سیرین بھول گۓ تھے۔ جب آپ نے پہلی دو رکعتیں پڑھ لیں، تو سلام پھیردیا، چوں کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کامل تھے، اس لیے آپ کو مکمل کام کے بغیر دلی اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ آپ نماز ميں کچھ کمی وخلل محسوس کر رہے تھے، ليکن اس کی وجہ معلوم نہیں کر پا رہے تھے۔ پھر آپ اسی غور وفکر ميں اس لکڑی سے ٹيک لگا کر کھڑے ہوئے جو سامنے سجدہ کرنے کی جگہ میں تھی اور اپنے ہاتھ کي انگليوں کو آپس ميں ملا لیے۔
جب کہ جلدی کرنے والے لوگ مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور آپس ميں سرگوشیاں کرنے لگے کہ ضرور کوئی نیا حکم سامنے آیا ہے، یعنی نماز کم کر دی گئی ہے۔ گويا وہ يہ سمجھ رہے تھے کہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ عليہ وسلم بھول چوک سے بالا تر ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں بیٹھی ہوئی آپ صلی اللہ عليہ وسم کی ہیبت کی وجہ سے کسی کی ہمت نہيں ہوئی کہ اس اہم مسئلے میں آپ سے بات شروع کرے۔ جب کہ اس وقت ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی موجود تھے اور انھوں نے آپ کے اندر یک گونہ بے چینی بھی دیکھی تھی۔
لیکن ایک صحابی نے جنھیں لوگ ذوالیدین کہتے تھے اس خاموشی کو توڑا۔ وہ بولے کہ کيا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ہے؟ انھوں نے یقین کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی، کیوں کہ اس وقت دونوں باتوں کا احتمال تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے گمان کے مطابق فرمایا: "نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے"۔
اس وقت ذواليدين کو اس بات کا احساس ہوگيا کہ نماز کم نہيں کی گئ ہے، جب کہ انھیں یہ یقین تھا کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے صرف دو ہی رکعات پڑھی ہیں، اس سے وہ سمجھ گئے کہ آپ بھول گئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا :بلکہ آپ بھول گئے ہيں!
آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ذوالیدین کی بات کي تصديق ضروری سمجھی، کیوں کہ وہ نماز پوری ہو جانے کے سلسلے میں آپ کے گمان کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان کی تا   ‎‎   ئید کے ارادے سے اپنے ارد گرد موجود صحابہ سے کہا: کيا ذواليدين جو کہہ رہے ہيں وہ سچ ہے کہ ميں نے صرف دو ہی رکعت نماز پڑھی ہے؟ صحابۂ کرام نے جواب ديا: ہاں! اب اللہ کے رسول صلی الہ عليہ وسلم آگے بڑھے، چھوٹی ہوئی نماز پڑھی۔
تشہد کے بعد سلام پھیرا۔ پھر بيٹھے بيٹھے تکبیر کہی اور نماز کے اندر کے سجدے کی طرح یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا اورتکبير کہی۔ پہر تکبیر کہی اور دوسرے سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا۔ پہر اپنا سر اٹھایا اور تکبير کہی۔ پھر سلام پھیرا اور تشہد ميں نہيں بيٹھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4853

 
 
Hadith   754   الحديث
الأهمية: جاء جبريل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: ما تعدون أهل بدر فيكم؟ قال: من أفضل المسلمين


Tema:

جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: آپ اپنے یہاں اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: وہ (ہمارے ہاں ) سب سے بہتر مسلمانوں میں سے ہیں۔

عن رفاعة بن رافع الزرقي -رضي الله عنه- قال: جاء جبريل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: ما تَعُدُّونَ أهل بدر فيكم؟ قال: «من أفضل المسلمين» أو كلمة نحوها. قال: وكذلك من شهد بدرا من الملائكة.

رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: آپ اپنے یہاں اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: وہ (ہمارے ہاں) سب سے بہتر مسلمانوں میں سے ہیں۔ یا آپ ﷺ نے کوئی ایسی ہی بات کہی۔ اس پر جبریل علیہ السلام نے کہا کہ فرشتوں میں سے جنھوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی، وہ بھی ایسے ہی ہیں۔ (یعنی فرشتوں میں سب سے افضل ہیں۔)

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا الصحابي الجليل رفاعة رضي الله عنه أن جبريل عليه السلام أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له: ما منزلة الذين شهدوا الجهاد في غزوة بدر، وقد نصر الله نبيه والمؤمنين الذين كانوا معه فيها نصرا مؤزرا فقال صلى لله عليه وسلم: هم من أفضل المسلمين عندنا, فرد جبريل عليه السلام: وأيضا الذين حضروها وقاتلوا من الملائكة.
575;یک جلیل القدر صحابی رفاعہ رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور پوچھا کہ جن لوگوں نے بدر کے جہاد میں شرکت کی تھی ان کا کیا مرتبہ ہے؟۔ جب کہ اللہ نے اس جنگ میں اپنے نبی اور ان مؤمنین کی بھرپور نصرت کی تھی، جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہمارے ہاں سب سے بہتر مسلمانوں سے ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے اس کے جواب میں کہا کہ اسی طرح وہ فرشتے بھی (سب سے افضل فرشتے) ہیں، جنھوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور قتال کیا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4925

 
 
Hadith   755   الحديث
الأهمية: كان جذع يقوم إليه النبي -صلى الله عليه وسلم- يعني في الخطبة - فلما وضع المنبر سمعنا للجذع مثل صوت العشار، حتى نزل النبي -صلى الله عليه وسلم- فوضع يده عليه فسكن


Tema:

ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: كان جِذْعٌ يقوم إليه النبي -صلى الله عليه وسلم- يعني في الخطبة - فلما وُضعَ المنبر سمعنا للجِذْعِ مثل صوت العِشَارِ، حتى نزل النبي -صلى الله عليه وسلم- فوضع يده عليه فَسَكَنَ. وفي رواية: فلما كان يوم الجمعة قعد النبي -صلى الله عليه وسلم- على المنبر، فصاحت النخلة التي كان يخطب عندها حتى كادت أن تَنْشَقُّ، وفي رواية: فصاحت صِيَاحَ الصبي، فنزل النبي -صلى الله عليه وسلم- حتى أخذها فَضَمَّها إليه، فجعلت تَئِنُّ أَنِينَ الصبي الذي يُسَكَّتُ حتى اسْتَقَرَّتْ، قال: «بَكَتْ على ما كانت تسمع من الذِّكْرِ».

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ جب جمعے کا دن آیا، تو نبی ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس پر اس کھجور کے تنے نے ایک چیخ ماری، جس کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے اور قریب تھا کہ وہ پھٹ ہی جاتا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس نے بچے کی طرح چلانا شروع کر دیا ۔ اس پر نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ اس بچے کی طرح سسکیاں بھرنا شروع ہو گیا، جسے چپ کرایا جا رہا ہو، یہاں تک کہ پرسکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس ذکر (سے محروم ہونے) کی وجہ سے رویا ہے، جسے یہ سنا کرتا تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اتخذ النبي -صلى الله عليه وسلم- جذع نخلة منبراً له؛ فلما استبدله النبي -صلى الله عليه وسلم- سمُع صوت الجذع وبكاءه بسبب ما كان يسمع من الذكر، فنزل النبي -صلى الله عليه وسلم- فوضع يده عليه فَسَكَنَ. وفي رواية: فنزل النبي -صلى الله عليه وسلم- حتى أخذها فَضَمَّها إليه، وكان ذلك في خطبة الجمعة.
606;بی ﷺ نے کھجور کے ایک تنے کو اپنا منبر بنا رکھا تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے بدل لیا، تو تنے سے رونا کی آواز سنائی دی، کیوںکہ اب وہ اس ذکر سے محروم ہو گیا تھا، جو وہ سنا کرتا تھا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو وہ پر سکون ہو گیا، ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ خطبہ جمعہ کے وقت کی بات ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4927

 
 
Hadith   756   الحديث
الأهمية: لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين


Tema:

مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يُلْدَغُ المؤمنُ من جُحْرٍ واحد مرتين».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا النبي الكريم -صلى الله عليه وسلم- أن المؤمن لا يصاب من مكان واحد مرتين، فينبغي أن يكون حازمًا حذرًا متيقظًا لا يؤتى من الغفلة فينخدع.
606;بی کریم ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن ایک جگہ سے دو دفعہ گزند نہیں اٹھاتا۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ محتاط، چوکنا اور بیدار مغز رہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ انجانے میں اسے آ لیا جائے اور وہ دھوکہ کھا جائے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4928

 
 
Hadith   757   الحديث
الأهمية: بين النفختين أربعون قالوا: يا أبا هريرة أربعون يوما؟ قال: أبيت، قالوا: أربعون سنة؟ قال: أبيت. قالوا: أربعون شهرا؟ قال: أبيت


Tema:

دونوں صور کے پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس کا ہے، لوگوں نے پوچھا:اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انھوں نے اس کا انکار کیا۔ پھر لوگوں نے پوچھا :چالیس سال؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا- پھر لوگوں نے پوچھا: چالیس مہینے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی انکار کیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «بين النفختين أربعون» قالوا: يا أبا هريرة أربعون يومًا؟ قال: أَبَيْتُ. قالوا: أربعون سنة؟ قال: أَبَيْتُ. قالوا: أربعون شهرا؟ قال: أَبَيْتُ. «ويَبْلَى كل شيء من الإنسان إلا عَجْبُ الذَّنَب، فيه يُرَكَّبُ الخلق، ثم يُنْزِلُ الله من السماء ماء فَيَنْبُتُونَ كما يَنْبُتُ الْبَقْلُ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں صوروں کے پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس کا ہے“، لوگوں نے پوچھا:اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انھوں نے اس کا انکار کیا۔ پھر لوگوں نے پوچھا :چالیس سال؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا- پھر لوگوں نے پوچھا: چالیس مہینے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی انکار کیا۔ اور فرمایا: ”انسان کی ہر چیز فنا ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے ساری مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرے گا، جس سے وہ سبزے کی طرح اُگ جائیں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا الصحابي الجليل أبو هريرة -رضي الله عنه- أنه سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- يذكر أن المدة التي تكون بين نفخة الصعق ونفخة البعث أربعون, فسئل -رضي الله عنه- عن هذا العدد؟ هل يقصد به الأيام أو الشهور أو السنوات؟ فامتنع عن الجواب, إشارة منه إلى أنه لم يسمع شيئا في ذلك من الرسول -صلى الله عليه وسلم-, ثم ذكر أن الله -تعالى- يرسل مطرًا غليظًا كمني الرجال، فينبت منه الناس في قبورهم كما تنبت حبة السيل ثم تخرج, ثم يقوم الناس إلى يوم الحساب لرب العالمين.
580;لیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خبر دی کہ انھوں نے نبی ﷺ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نفخۂ صعق (پہلا صور) اور نفخۂ بعث (آخری صور) کے مابین کی مدت چالیس ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے اس عدد کے متعلق پوچھا گیا کہ اس سے دن، مہینہ یا سال مقصود ہے؟ وہ جواب دینے سے رک گئے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا۔ پھر ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے منی کی طرح گاڑھا پانی پرسائے گا، جس سے لوگ اپنی قبروں سے جی اٹھیں گے، جس طرح کہ خش و خاشاک اُگ آتے ہیں۔ پھر وہ نکل کر رب العالمین کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4929

 
 
Hadith   758   الحديث
الأهمية: يصلون لكم، فإن أصابوا فلكم، وإن أخطئوا فلكم وعليهم


Tema:

جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "يُصَلُّونَ لكم، فإن أصابوا فلكم، وإن أخطأوا فلكم وعليهم".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن هناك أئمة يعني أمراء يصلون لكم، فإن أحسنوا فلكم ولهم الأجر، وإن أساءوا فلكم الأجر على الصلاة وعليهم وزر الإساءة فيها، وهذا وإن كان في الأمراء فإنه يشمل أيضًا أئمة المساجد، كل منهم على حسب إحسانه للصلاة أو إساءتها، وفي الحديث إشارة إلى أنه يجب الصبر على ولاة الأمر وإن أساءوا في الصلاة وإن لم يصلوها على وقتها، فإن الواجب ألا نشذ عنهم وأن نؤخر صلاة الجماعة كما يؤخرون، وحينئذ يكون تأخيرنا للصلاة عن أول وقتها يكون تأخيرًا بعذر لأجل موافقة الجماعة وعدم الشذوذ ويكون بالنسبة لنا كأننا صلينا في أول الوقت، والتأخير مشروط بألا يخرج وقت الصلاة، وأن الشذوذ عن الناس وعن ولاة الأمور والبعد عنهم وإثارة الناس عليهم ونشر مساوئهم كل هذا مجانب للدين الإسلامي.
606;بی ﷺ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ کچھ ائمہ یعنی حکمران ایسے آئیں گے، جو تمھیں نماز پڑھائیں گے، اگر وہ خیر و خوبی کے ساتھ نماز ادا کریں، تو تمھارے اور ان کے حق میں اجر و ثواب کا باعث ہوگی اور اگر نماز میں بگاڑ پیدا کردیں، تو تمھیں اجر و ثواب حاصل ہوجائے گا اور نماز کی خرابی و بگاڑ کا وبال ان کے سر ہوگا۔ یہ بات گرچہ امرا کے تعلق سے کہی گئی ہے، لیکن مساجد کے ائمہ بھی اس میں شامل ہیں، ان میں سے ہر شخص نماز کو بحسن و خوبی یا بگاڑ کر ادا کرنے کے اعتبار سے بدلے کا مستحق ہوگا۔ اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ امرا و حکمرانوں کی زیادتیوں پر صبر کرنا واجب ہے۔ اگر وہ نماز خراب طریقے سے پڑھائیں اور مقررہ اوقات میں ادا نہ کریں، تو ہم پر واجب یہی ہے کہ ان سے علٰحدگی اختیار نہ کریں اور نماز باجماعت انھیں کے مطابق موخر کرکے پڑھ لیا کریں۔ ہمارا یہ نماز کو اول وقت سے موخر کرکے پڑھنا، جماعت کی موافقت اور علٰحدگی سے بچنے کی وجہ سے عذر پر مبنی ہوگا اور ہمیں اول وقت میں نماز ادا کرنے کا ثواب ملے گا۔ لیکن تاخیر اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ نماز کا وقت ختم نہ ہونے پائے۔ خیال رہے کہ لوگوں اور حکمرانوں سے علٰحدگی اختیار کرنا، لوگوں کو ان کے خلاف بغاوت پر اکسانا اور ان کی برائیوں کو عام کرنا، یہ سارے کام دین اسلام سے دور کرنے کے ذرائع و اسباب ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4931

 
 
Hadith   759   الحديث
الأهمية: عجب الله -عز وجل- من قوم يدخلون الجنة في السلاسل


Tema:

اللہ عز و جل کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑے جنت میں داخل ہوتے ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: {كنتم خير أمة أُخْرِجَتْ للناس} قال: "خَيْرُ النَّاسِ للنَّاسِ يَأتُونَ بهم في السَّلاسِلِ في أعْنَاقِهِمْ حتى يَدْخُلُوا في الإسلام".
وعنه أيضا -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «عَجِبَ الله -عز وجل- مِنْ قوم يَدْخُلُونَ الجنة في السَّلاسِلِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ ”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے“، اور فرمایا: لوگوں کے لیے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو ان کی گردنوں میں زنجیریں ڈالے انہیں لے کر آتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزّ و جلّ کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہےجو بیڑیوں میں جکڑے جنت میں داخل ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عَجِب الله -سبحانه- لقوم يُقادون إلى الجنة بالسلاسل، وهم قوم كانوا من الكفار يأسرهم المسلمون في الجهاد، ثم يُسلمون فيكون هذا الأسر سببًا في إسلامهم ودخولهم الجنة, ويعتبر الحديث الثاني كالتفسير والبيان للحديث الموقوف الأول, وقد وصف هؤلاء الآسرون في أثر أبي هريرة -رضي الله عنه- بأنهم خير الناس للناس, إذ كانوا سببًا في هداية هؤلاء المأسورين, وصدّر -رضي الله عنه- كلامه بالآية؛ لأن هذا مظهر من المظاهر الذي تتجلى فيه خيرية هذه الأمة.
575;للہ سبحانہ و تعالیٰ ان لوگوں پر تعجب کا اظہار فرماتا ہے جنہیں پابندِ سلاسل جنت کے طرف لے جایا جائے گا۔ یہ وہ کافر لوگ ہیں جنہیں مسلمان دوران جہاد قیدی بنا لیتے ہیں اور بعدازاں وہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے یہ قید ان کے قبولِ اسلام اور دخولِ جنت کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ دوسری حدیث پہلی والی موقوف حدیث کی تفسیر اور وضاحت سمجھی جاتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ دوسرے لوگوں کے حق میں سب سے بہتر لوگ ہیں کیونکہ وہ ان قیدیوں کی ہدایت کا سبب بنتے ہیں۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کلام کے آغاز میں یہ آیت تلاوت کی کیونکہ یہ بات اس امت کے بہترین امت ہونے کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4932

 
 
Hadith   760   الحديث
الأهمية: أحب البلاد إلى الله مساجدها، وأبغض البلاد إلى الله أسواقها


Tema:

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أحَبُّ البلاد إلى الله مَساجِدُها، وأبغض البلاد إلى الله أسْوَاقُها».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات، بازار ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان أن أحبَّ الأماكن وأفضلها عند الله -عز وجل- هي المساجد، وذلك لما فيها من إقامة الصلوات، وذكر الله وحلق العلم، وما فيها من تعليم الناس أمور دينهم، وفي المقابل فإن أبغض الأماكن وأشدها كراهية عند الله -عز وجل- هي الأسواق، لما فيها من اللغط واللغو، وكثرة الحلف والغش والكذب، والغفلة عن ذكر الله -تعالى-.
575;س حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ عزو جل کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور فضل و شرف کی حامل جگہیں مساجد ہیں؛ اس لیے کہ ان مساجد میں نمازیں قائم کی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے، علم کی محفلوں کا انعقاد عمل میں لایا جاتاہےاور لوگوں کو ان کے دینی امور سے متعلق علم و آگہی بہم پہنچائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بازاروں سے بڑھ کر بدتر اور ناپسندیدہ مقامات کوئی اور نہیں؛ کیوں کہ یہاں لگاتارہنگامہ خیزی کا ماحول قائم رہتا ہے، فضول و بے معنی کام کیے جاتے ہیں، قسمیں کھانے، دھوکہ بازیاں کرنے اور جھوٹ بولنے کا چلن بہت زیادہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر و یاد سے لاپرواہی و غفلت عام ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4933

 
 
Hadith   761   الحديث
الأهمية: إن المقسطين عند الله على منابر من نور: الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا


Tema:

بیشک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنی رعایا اور اہل و عیال اور جس کا انھیں ذمہ دار بنایا جاتا ان میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص - رضي الله عنهما- قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن المُقْسِطين عند الله على منابر من نور: الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولَوُاْ».

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنی رعایا اور اہل و عیال اور جس کا انہیں ذمہ دار بنایا جاتا ان میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث بشارة للذين يحكمون  بالحق والعدل بين الناس الذين تحت إمرتهم وحكمهم، وأنهم على منابر من نور حقيقة إكرامًا لهم يوم القيامة عند الله -عز وجل-.
وهذه المنابر عن يمين الرحمن -تعالى-، وفيه إثبات اليمين واليد له -سبحانه- دون تعطيل أو تكييف أو تشبيه أو تحريف.
581;دیث میں ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو لوگوں مین حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں جو ان کي ماتحت ہیں یہ کہ وہ حقیقی طور پر نور کے منبرون پر ہوں گے جو ان کے لیے باعثِ عزت وتکریم ہوگی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے۔
یہ منبر اللہ تعالی کے دائیں جانب ہوگا، نیز اس میں بغیر تعطیل، یا تکییف، یا تشبیہ یا تحریف کے اس کے لیے دائیں جانب اور ہاتھ کا اثبات ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4935

 
 
Hadith   762   الحديث
الأهمية: كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون بعدي خلفاء فيكثرون


Tema:

بنی اسرائیل کے معاملات کی تدبیر و انتظام پیغمبر کرتے تھے۔ جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا پیغمبر بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔ البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہونگے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «كانت بنو إسرائيل تَسُوسُهُمُ، الأنبياء، كلما هلك نبي خَلَفَهُ نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون بعدي خلفاء فيكثرون»، قالوا: يا رسول الله، فما تأمرنا؟ قال: «أوفوا ببيعة الأول فالأول، ثم أعطوهم حقهم، واسألوا الله الذي لكم، فإنَّ الله سائلهم عما اسْتَرْعَاهُم».

ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا: '”بنی اسرائیل کے معاملات کی تدبیر و انتظام پیغمبر کرتے تھے۔ جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا پیغمبر بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔ البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہونگے“۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ان کے بارے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے پہلے بیعت کرو، اس کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے سے بیعت کرو۔ پھر انہیں ان کا حق ادا کرو۔ اور جو تمہارے اپنے حقوق ہیں، ان کا سوال اللہ سے کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جن کا والی بنایا یے، ان کی بابت وہ خود ان سے پوچھ لے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت بنو إسرائيل تتولى الأنبياء أمرهم كما يفعل الولاة والأمراء بالرعية، كلما مات نبي جاء بعده نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء كثيرون يحكمون الناس. فقال الصحابة -رضي الله عنهم-: إذا كثر بعدك الخلفاء فوقع التشاجر والتنازع بينهم فما تأمرنا أن نفعل؟ فأجابهم النبي -صلى الله عليه وسلم- بقوله: "أوفوا ببيعة الأول" وأعطوهم حقهم وإن لم يعطوكم حقكم؛ لأن الله سيسألهم عن حقكم، ويثيبكم بما لكم عليهم من الحق.
576;نی اسرائیل کے معاملات کی تدبیر و انتظام پیغمبر کرتے تھے، جیسے کہ امراء اور حکمران رعایا کی کرتے ہیں۔ جب بھی کسی نبی کی وفات ہو جاتی تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ کثیر تعداد میں خلفاء ہوں گے جو لوگوں پر حکمرانی کریں گے۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جب آپ کے بعد کثرت سے خلفاء ہوں گے تو ان کے مابین اگر جھگڑا اورتنازعہ پیدا ہوجاۓ تو آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس سے پہلے بیعت ہوجائے اس کی بیعت کو پورا کرو، اور ان کو ان کا حق ادا کرو اگرچہ وہ تمہارا حق ادا نہ کریں۔ کیونکہ تمہارے حق کے بارے میں اللہ تعالی خود ان سے پوچھ لے گا اور اس حق کے بدلے تمیہں اجر عطا فرماۓ گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4936

 
 
Hadith   763   الحديث
الأهمية: اللهم من ولي من أمر أمتي شيئا فشق عليهم، فاشقق عليه، ومن ولي من أمر أمتي شيئا فرفق بهم، فارفق به


Tema:

اے اللہ! جو شخص بهى میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان کو مشقت ميں ڈالے تو تو بھی اس پر سختی فرما، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر وہ ان کے ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- يقُولُ في بيتي هَذَا: «اللهم من وَلِيَ من أمر أمتي شيئًا فَشَقَّ عليهم، فَاشْقُقْ عليه، ومن وَلِيَ من أمر أمتي شيئًا فَرَفَقَ بهم، فَارْفُقْ به».

عائشہ رضی اللہ عنہا بيان کرتی ہيں کہ ميں نے رسول اللہ ﷺ كو اپنے اس گھر ميں فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! جو شخص بهى میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی فرما، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر وہ ان کے ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث بيان عظم أمر الولاية، وقد دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- أنَّ مَن ولي مِن أمر الناس شيئاً فضيَّق عليهم أن يعامله الله بالمثل، ومن عاملهم بالعدل والانصاف والرحمة واللين أن يجازيه على ذلك، والجزاء من جنس العمل.
575;س حديث ميں حکمرانی و فرمانروائی اور اقتدار و ذمہ داری سنبھالنے کے معاملے کی اہميت و سنگینی کا بيان ہے۔ نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ جو شخص لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ ويسا ہی معاملہ کرے، اور جو لوگوں کے ساتھ عدل وانصاف ،نرمی اور رحم دلی کا معاملہ کرے، اللہ تعالی اسے اس پر (اچھا) بدلہ دے، اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ملتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4938

 
 
Hadith   764   الحديث
الأهمية: من يحرم الرفق، يحرم الخير كله


Tema:

جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔

عن جرير بن عبد الله -رضي الله عنه- قالَ: سمعتُ رَسُولَ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- يقُولُ: «من يُحْرَمِ  الرِّفْقَ، يُحْرَمِ الخير كله».

جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث حث على الرفق في جميع الأمور، وأن من تصرف بالعنف والشدة فإنه يحرم الخير فيما فعل.
575;س حدیث میں تمام امور میں نرمی برتنے کی ترغیب ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص سختی اور شدت سے کام لیتا ہے وہ اپنے کام میں بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4939

 
 
Hadith   765   الحديث
الأهمية: كنت أمشي مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعليه برد نجراني غليظ الحاشية، فأدركه أعرابي فجبذه بردائه جبذة شديدة


Tema:

میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے جسم پر ایک موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔

عن أنس -رضي الله عنه- قَالَ: كُنْتُ أمشي مَعَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَيْهِ بُرْد نَجْرَانيٌّ غَلِيظُ الحَاشِيَةِ، فأدْرَكَهُ أعْرَابِي فَجَبذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَة شَديدة، فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبيِّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ أثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَة الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِه، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مُر لِي مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ. فَالتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا،آپ ﷺ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادرتھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی پیچھے سے آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ اس شخص کے زورسے کھینچنے کی وجہ سے اس پر چادر کے کناروں سے نشان پڑ گئے تھے۔اس نے کہا کہ: اے محمد! اللہ کا جو مال تیرے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم کرو۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے، پھر آپ ﷺ نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر أنس رضي الله عنه فقال: (كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد) أي: ثوب مخطط  (نجراني): أي منسوب إلى نجران بلد باليمن، (غليظ الحاشية) أي: الطرف (فأدركه أعرابي) أي لحقه (فجبذه) أي: فجذب الأعرابي النبي صلى الله عليه وسلم "بردائه جبذة شديدة".
قال أنس: فنظرت إلى صفحة عاتق رسول الله صلى الله عليه وسلم): وهو موضع من المنكب (قد أثرت بها) أي: في صفحته. (حاشية الرداء من شدة جبذته) ثم قال الأعرابي:( يا محمد)! والظاهر أنه كان من المؤلفة، فلذلك فعل ما فعله، ثم خاطبه باسمه قائلا على وجه العنف مقابلاً لبحر اللطف (مر لي) أي: مر وكلاءك بأن يعطوا لي أو مر بالعطاء لأجلي (من مال الله الذي عندك) أي من غير صنيع لك في إعطائك، كما صرح في رواية حيث قال: "لا من مالك ولا من مال أبيك". قيل: المراد به مال الزكاة، فإنه كان يصرف بعضه إلى المؤلفة، (فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم) فنظر إليه تعجبا (فضحك) أي تلطفا (ثم أمر له بعطاء).
575;نس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی یعنی ایسا کپڑا جس کے کنارے دھاری دار ہوں۔ نجرانی یعنی نجران کی طرف منسوب جو یمن کا ایک شہر ہے۔ موٹے کنارے والیظ، جسے ایک اعرابی نے پیچھے سے آ کر اسے کھینچا۔ یعنی اعرابی نے آپ ﷺ کی چادر سے پکڑ کر آپ ﷺ کو زور سے کھینچا۔ ”صفحة عاتق“ اس سے مراد شانے کی جگہ ہے۔ آپ ﷺ کے شانے پر (زور سے کھینچے کی وجہ سے ) چادر کے کنارے سے نشان پڑ گیا۔ پھر اس اعرابی نے کہا ”اے محمد!“ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مؤلفۃ القلوب میں سے تھا اسی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ پھر اس نے شفقت و مہربانی کے پیکر کے مقابلے میں درشتگی کے ساتھ آپ ﷺ کو آپ کے نام کے ساتھ پکارتے ہوئے کہا: ”مُرْ لِي“ یعنی اپنے کارندوں کو کہو کہ وہ مجھے مال دیں یا مجھے دینے کا حکم دو۔ ”اللہ کے اس مال سے جو تیرے پاس ہے“ یعنی جسے دینے میں تیرا کوئی ہاتھ نہیں۔ جیسا کہ ایک اور روایت میں اس کی صراحت ہے کہ اس نے کہا: ”نہ اپنے مال سے اور نہ اپنے باپ کے مال سے“۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ کا مال تھا جس کا کچھ حصہ آپ ﷺ ان لوگوں پر خرچ کرتے جن کی تالیف قلبی مقصود ہوتی۔ آپ ﷺ نے تعجب کے ساتھ اسے دیکھا۔ اور پھر آپ ﷺ اظہار شفقت کے طور پر مسکرا دیے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4940

 
 
Hadith   766   الحديث
الأهمية: ألا أخبركم بمن يحرم على النار؟ أو بمن تحرم عليه النار؟ تحرم على كل قريب، هين، لين، سهل


Tema:

کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبرنہ دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے؟ جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا ہے،آسانی کرنے والا ہے، نرم خو اور سہل مزاج ہوتا ہے۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- مرفوعاً: «ألا أخبركم بمن يحرم على النار؟ أو بمن تحرم عليه النار؟ تحرم على كل قريب هَيِّنٍ لَيِّنٍ سهل».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے؟ جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا، آسانی کرنے والا، نرم خو اور سہل مزاج ہوتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ألا أخبركم بمن يُمنع عن النار، أو تُمنع عنه، تمنع على كل قريب من الناس بمجالستهم في أماكن الطاعة وملاطفتهم قدر الاستطاعة، وكل حليم لين الجانب، سَمْحٍ في معاملة الناس.
705;یا میں تمہیں اسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جسے جہنم سے دور رکھا جائےگا یا جس سے جہنم دور رکھی جائےگی ؟ جہنم ہر ایسے شخص سے دور رکھی جائے گی جو طاعت گزاری کے مقامات پر لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے (لوگوں سے قریب ہوتا ہے) اور مقدور بھر ان سے لطف و مہربانی سے پیش آتا ہے اور اسی طرح ہر بُردبار و نرم مزاج اور لوگوں کے ساتھ کشادگی کا معاملہ کرنے والے سے بھی جہنم دور رکھی جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4943

 
 
Hadith   767   الحديث
الأهمية: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا دَخَلَ العَشْرُ أَحْيَا الليلَ، وأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ المِئْزَرَ


Tema:

جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے جگاتے اور (عبادت میں) کوشش کرتے اور کمر کس لیتے۔

عن عائشة -رضي الله عنها-  قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا دَخَلَ العَشْرُ أَحْيَا الليلَ، وأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ المِئْزَرَ.

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے جگاتے اور (عبادت میں) کوشش کرتے اور کمر کس لیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا دخل العشر الأواخر من رمضان أحيا الليل كله بأنواع الطاعات، وأيقظ أهله للصلاة، واجتهد في العبادة زيادة على عادته، وتفرغ لها واعتزل نساءه.
580;ب رمضان کی آخری دس راتیں آتیں تو نبی ﷺ ساری ساری رات مختلف قسم کی عبادتیں کرتے ہوئے گزارتے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کے لیے بیدار کرتے۔ معمول سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرتے اور اس کے لیے یکسو ہو جاتے اور اپنی بیویوں سے دور رہتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4944

 
 
Hadith   768   الحديث
الأهمية: هو في النَّارِ،  فذهبوا ينظرونَ إليهِ، فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا.


Tema:

وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- قال: كان على ثَقَلِ النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ يُقالُ له كِرْكِرَةٌ، فماتَ، فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «هو في النَّارِ». فذهبوا ينظرونَ إليهِ، فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامان پر ایک شخص متعین تھا جسے کِرْکِرہ کہا جاتا تھا۔ وہ مر گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان المسؤول عن أمتعة النبي -صلى الله عليه وسلم- رجل اسمه كركرة فمات؛ فأخبر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه في النار يعذب على معصيته، أو أنه في النار إن لم يعف الله عنه، فذهب الصحابة يبحثون عن السبب في ذلك؛ فوجدوا عباءة قد سرقها من الغنيمة.
606;بی ﷺ کے سامان کا ایک شخص ذمہ دار تھا جس کا نام کِرْکِرہ تھا۔ وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنم میں گیا ہے اور اسے اس کے گناہ پر عذاب دیا جا رہا ہے اور اگر اللہ نے اسے معاف نہ کیا تو وہ جہنم ہی میں رہے گا۔ اس پر صحابہ کرام اس کے جہنم میں جانے کا سبب جاننے کے لیے اس کے ٹھکانے کی طرف گئے تو انہیں اس کے پاس سے ایک چادر برآمد ہوئی جسے اس نے مال غنیمت میں سے چرایا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4945

 
 
Hadith   769   الحديث
الأهمية: إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، ولم يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا


Tema:

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکسار کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔

عن عبدِ اللهِ بنِ بُسْرٍ -رضي الله عنه- قال: كان للنبيِّ -صلى الله عليه وسلم- قَصْعَةٌ يقالُ لها: الغَرَّاءُ يحملها أَرْبَعَةُ رِجَالٍ؛ فلما أَضْحَوْا وسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بتلك القَصْعَةِ -يعني وَقَدْ ثُرِدَ فيها- فالتَفُّوا عليها، فلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فقال أعرابيٌّ: ما هذه الجِلْسَةُ؟ فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، ولم يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا»، ثم قال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا، ودَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا».

عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کے ہاں ایک بڑا پیالہ تھا جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے۔ اس کو” غراء“ کہا جاتا تھا۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور لوگ چاشت کی نماز پڑھ لیتےتو وہ پیالہ لایا گیا۔ یعنی اس میں ثرید تیار کیا گیا تھا۔لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی (اور بیٹھنے کی جگہ تنگ ہو گئی) تو آپ ﷺ دو زانو بیٹھ گئے۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ: یہ کیسے بیٹھے ہیں؟ (یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکساری کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اس کی بلندی (درمیانی حصے) کو چھوڑ دو، تمہارے لیے اس میں برکت رکھ دی جائے گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان للنبي صلى الله عليه وسلم وعاء يؤكل فيه يقال له الغراء يحملها أربعة رجال، فلما دخلوا في وقت الضحى وصلوا صلاة الضحى جيء بها وفُتَّ الخبز فيها، فاستداروا حولها، فلما كثروا وضاقت بهم الحلقة قعد النبي صلى الله عليه وسلم على ركبتيه جالسا على ظهور قدميه توسعة على إخوانه، فقال أعرابي من الحاضرين: ما هذه الجِلسة يا رسول الله! لما فيها من التواضع، فقال صلى الله عليه وسلم: إن الله جعلني عبدا كريما بالنبوة والعلم، ولم يجعلني جَبَّارًا عنيدًا، فلم يكن صلى الله عليه وسلم متكبرًا ولا جائرًا، ثم قال صلى الله عليه وسلم: كلوا من حواليها ودعوا ذروتها يبارك فيها، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بالأكل من جوانبها وترك أعلاها وبين أن ذلك من أسباب البركة في الطعام.
606;بی ﷺ کے پاس ایک کھانے کا برتن تھا جسے ''غراء'' کہا جاتا تھا۔ اسے چار آدمی مل کر اٹھاتے تھے۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور انہوں نے چاشت کی نماز پڑھ لی تو اس برتن کو لایا گیا اور روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں ڈال دیا گیا۔ وہ سب اس برتن کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی اور بیٹھنے کا حلقہ ان کے لیے تنگ پڑ گیا تو نبی ﷺ اپنے بھائیوں کے لیے کشادگی پیدا کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں کے بل اور اپنے پاؤں کی پشت پر بیٹھ گئے۔ حاضرین میں سے ایک اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیسے بیٹھنا ہوا! (ایسا اس نے اس لیے پوچھا) کیونکہ یہ بیٹھنے کا بہت ہی متواضع انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے نبوت و علم عطا فرما کر متواضع بندہ بنایا ہے اور مجھے متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ نبی ﷺ نہ تو متکبر تھے اور نہ ظالم۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: برتن کے کناروں سے کھاؤ اور اس کی چوٹی (درمیانی حصہ) کو چھوڑ دو، اس میں برکت ہو جائے گی۔ نبی ﷺ نے برتن کے کناروں سے کھانے اور اس کے بلند حصے کو چھوڑ رکھنے کا حکم دیا اور وضاحت فرمائی کہ یہ کھانے میں برکت پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4946

 
 
Hadith   770   الحديث
الأهمية: كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَى يا رسولَ اللهِ؟ قال: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، ومَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى


Tema:

میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے، ماسوا ان کے جنھوں نے انکار کیا۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «كل أمتي يدخلون الجنة إلا من أَبَى». قيل: ومَنْ يَأْبَى يا رسول الله؟ قال: «من أطاعني دخل الجنة، ومن عصاني فقد أَبَى».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے، ماسوا ان کے جنھوں نے انکار کیا۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا (یعنی وہ جنت میں نہیں جائے گا)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحدِّث أبو هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم بشّر أمته فقال:
(كل أمتي يدخلون الجنة) أي أمة الإجابة
ثم استثنى عليه الصلاة والسلام فقال: (إلا من أبى) أي: من عصى منهم بترك الطاعة التي هي سبب لدخولها؛ لأن من ترك ما هو سبب لشيء لا يوجد بغيره فقد أبى أي امتنع؛ فاستثناؤهم تغليظًا عليهم، أو أراد أمة الدعوة: ومن أبى من كفر بامتناعه عن قبولها.
فقال الصحب الكرام: (ومن يأبى يا رسول الله):
فأجابهم عليه الصلاة والسلام: (من أطاعني) أي انقاد وأذعن لما جئت به (دخل الجنة).
وأما (ومن عصاني) بعدم التصديق أو بفعل المنهي (فقد أبى): أي فله سوء المنقلب بإبائه.
وعليه: فمن أبى إن كان كافرًا لا يدخل الجنة أصلاً، وأما من كان مسلمًا فإنه لا يدخلها حتى يطهر بالنار، وقد يدركه العفو فلا يعذب أصلاً وإن ارتكب جميع المعاصي.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی امّت کو خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا: ”میری امّت کے تمام افراد جنّت میں جائیں گے“ یہاں امّت سے مراد امّت اجابت ہے۔ پھرآپﷺ نے اس سے استثنا کرتے ہوئے فرمایا: ”ماسوا اس کے، جس نے انکار کیا“ یعنی جس نے اس اطاعت گزاری کو ترک کرکے نافرمانی کی، جو جنّت میں جانے کا سبب ہے۔ کیوں کہ جس نے کسی چیز کے سبب کو ترک کردیتا ہے، جس کے بغیر اس کا وجود ممکن نہیں، درحقیقت وہ انکار کرنے والا ہی ہے۔ یہاں استثنا در اصل تہدید پر مبنی ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے امت سے مراد امتِ دعوت لی ہے اورانکار کرنے والے سے مراد وہ ہوں گے، جنھوں نے دین اسلام کو قبول نہ کیا۔
اس پر صحابۂ کرام نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والا کون ہے؟ آپﷺ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی“ یعنی جو کچھ میں لے کرآیا ہوں، اسے مان لیا اور اس کا تابع ہوگیا، (تو وہ جنت میں جائے گا) اور ”جس نے میری نافرمانی کی“ بایں طور پر کہ اس نے تصدیق نہ کی یا پھر ممنوعہ کاموں کا ارتکاب کیا تو ”اس نے انکار کیا“ یعنی اسے اس کے انکار کی وجہ سے برے انجام کا سامنا ہوگا۔
چنانچہ اس فرمان کی رو سے اگر انکار کرنے والا کافر ہے، تو وہ بالکل جنت نہیں جائے گا۔ اور اگرمسلمان ہے، تو وہ جہنم کی آگ سے پاک ہوجانے کے بعد جنّت جائے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے اور سرے سے عذاب ہی نہ دیا جائے، اگرچہ اس نے ہر طرح کے گناہ ہی کیوں نہ کررکھے ہوں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4947

 
 
Hadith   771   الحديث
الأهمية: كُنَّا على عَهْدِ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- نَأْكُلُ ونحنُ نَمْشِي، ونَشْرَبُ ونحنُ قِيَامٌ


Tema:

ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چلتے ہوئے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہی پانی پی لیا کرتے تھے۔

عن ابنِ عُمَرَ -رضي الله عنهما-، قال: كُنَّا على عَهْدِ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- نَأْكُلُ ونحنُ نَمْشِي، ونَشْرَبُ ونحنُ قِيَامٌ.

ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چلتے ہوئے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہی پانی پی لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
فعل الصحابة رضي الله عنهم يدل على أن الشرب من قيام جائزٌ، لإقراره عليه الصلاة والسلام لذلك، والأفضل في الأكل والشرب أن يكون الإنسان قاعدا؛ لأن هذا هو هدي النبي صلى الله عليه وسلم الأغلب، أما الشرب وهو قائم فإنه صح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن ذلك، لكن هذا الحديث دليل على أن النهي ليس للتحريم، ولكنه خلاف الأولى بمعنى: أن الأحسن والأكمل أن يشرب الإنسان وهو قاعد وأن يأكل وهو قاعد، ولكن لا بأس أن يشرب وهو قائم، وأن يأكل وهو قائم.
589;حابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ تاہم کھانے پینے کے معاملے میں افضل یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے پیے؛ کیوں کہ زیادہ تر نبی ﷺ کا یہی طریقہ تھا۔ کھڑے ہو کر پینے کے بارے میں تو نبی ﷺ کی حدیث بھی آئی ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، لیکن یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت حرمت کے بیان کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے بس یہ وضاحت ہوتی ہے کہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے، بایں معنی کہ زیادہ بہتر اور زیادہ درست تو یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے اور پیے، تاہم اگر وہ کھڑے کھڑے کچھ کھا پی لے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4948

 
 
Hadith   772   الحديث
الأهمية: كَيْفَ أَنْعَمُ! وصَاحِبُ القَرْنِ قَدِ التَقَمَ القَرْنَ، واسْتَمَعَ الإِذْنَ مَتَى يُؤْمَرُ بالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ


Tema:

میں کس طرح ہنسی خوشی رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا (فرشتہ) صور کو منہ میں لیے ہوئے ہے اور اللہ کی اجازت پر کان لگائے ہوئے ہے کہ کب اسے (صور) پھونکنے کا حکم دیا جائے اور وہ صور پھونکے

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «كَيْفَ أَنْعَمُ! وصَاحِبُ القَرْنِ قَدِ التَقَمَ القَرْنَ، واسْتَمَعَ الإِذْنَ مَتَى يُؤْمَرُ بالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ»، فَكَأَنَّ ذَلِكَ ثَقُلَ على أصحابِ رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- فقال لهم: «قُولُوا: حَسْبُنَا اللهُ ونِعْمَ الوَكِيلُ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کس طرح ہنسی خوشی رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا (فرشتہ) صور کو منہ میں لیے ہوئے ہے اور اللہ کی اجازت پر کان لگائے ہوئے ہے کہ کب اسے (صور) پھونکنے کا حکم دیا جائے اور وہ صور پھونکے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر گویا گراں گزری، چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کہو: ”حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف أفرح والملك الموكل بالنفخ في الصور قد وضع فاه عليه، يستمع وينتظر الإذن متى يؤمر بالنفخ فينفخ فيه.
فكأن ذلك ثقل  على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم واشتد عليهم ، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل أي هو كافينا.
585;سول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں کیسے فرحت اندوز ہو سکتا ہوں جب کہ صورت حال یہ ہے کہ وہ فرشتہ جو صور پھونکنے پر مامور ہے اس نے اپنے منہ کو اس پر رکھا ہوا ہے اور اجازت کا منتظر ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے اور وہ صور پھونک دے۔
توگویا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم یوں کہا کرو: ”حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ یعنی ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4949

 
 
Hadith   773   الحديث
الأهمية: لا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَومَ القِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ؟ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ فِيهِ؟ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ؟ وفِيمَ أَنْفَقَهُ؟ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ؟


Tema:

قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں كہ اس نے اسے کن چیزوں میں ختم کیا؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے اسے کن چیزوں میں خرچ کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کن چیزوں میں کھپایا؟

عن أبي بَرْزَةَ نَضْلَةَ بن عبيد الأسلمي -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَومَ القِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ؟ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ فِيهِ؟ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ؟ وفِيمَ أَنْفَقَهُ؟ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ؟».

ابو بَرزَہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں كہ اس نے اسے کن چیزوں میں ختم کیا؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے اسے کن چیزوں میں خرچ کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کن چیزوں میں کھپایا؟“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا تزول قدما عبد من موقفه للحساب إلى جنة أو نار حتى يسأل عن حياته فيم أفناها؟ في طاعة أم معصية؟ وعن علمه فيم فعل فيه؟ هل عمل بما علمه أم لا؟ وعن ماله من أين جاء به ؟ أمِنْ حلال أم حرام؟ وفيم أنفقه؟ في طاعة الله أم في معصية الله؟ وفي جسمه فيم أبلاه؟ في طاعة الله أم في معصيته.
576;ندے کے قدم میدان حشر سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے اور وہ اس وقت تک وہاں سے جنت یا دوزخ کی طرف روانہ نہیں ہو گا جب تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اپنی زندگی فرماں برداری میں بسر کی یا پھر گناہوں میں؟ اس نے اپنے علم پر کس قدر عمل کیا؟ کیا اس نے اپنے علم کے موافق عمل کیا یا نہیں؟ اس کا مال کہا سے آیا تھا؟ کیا وہ حلال ذرائع سے حاصل کیا گیا تھا یا حرام ذرائع سے؟ اور یہ کہ اسے کن مصارف میں خرچ کیا؟ آیا اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا یا پھر اس کی معصیت میں؟ اپنے جسم کو کن کاموں میں کھپایا؟ اللہ کی اطاعت میں یا اس کی نافرمانی میں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4950

 
 
Hadith   774   الحديث
الأهمية: لا تَقُلْ: عليك السلامُ، عليك السلامُ تَحِيَّةُ الموتى، قل: السلامُ عليك


Tema:

یوں نہ کہو کہ ’عليكَ السلامُ‘، کیونکہ ’علیک السلام‘ سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے، اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔

عن أبي جرَيٍّ جابر بن سُلَيْمٍ -رضي الله عنه- قال: رأيت رجلاً يصْدُرُ الناس عن رأيه، لا يقول شيئاً إلا صدروا عنه، قلت: من هذا؟ قالوا: رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. قلت: عليك السلام يا رسول الله - مرتين - قال: «لا تقل: عليك السلام، عليك السلام تحية الموتى، قل: السلام عليك» قال: قلت: أنت رسول الله؟ قال: «أنا رسول الله الذي إذا أصابك ضُرٌّ فدعوته كشفه عنك، وإذا أصابك عام سَنَةٍ فدعوته أنْبَتَهَا لك، وإذا كنت بأرض قَفْرٍ أو فَلَاةٍ فَضَلَّتْ راحلتك، فدعوته ردها عليك» قال: قلت: اعْهَدْ إِليَّ. قال: «لا تَسُبَنَّ أحداً» قال: فما سَبَبْتُ بعده حُرًّا، ولا عبداً، ولا بعيراً، ولا شاة، «ولا تحْقِرَنَّ من المعروف شيئاً، وأن تكلم أخاك وأنت مُنْبَسِط إليه وجهك، إنَّ ذلك من المعروفِ، وارفعْ إزارك إلى نصف الساق، فإِنْ أبيت فإلى الكعبين، وإياك وإسبال الإزار، فإنها من المَخِيلَةِ. وإِنَّ اللهَ لا يحب المَخِيلَةَ؛ وإِنِ امرُؤٌ شتمك وعَيَّرَكَ بما يعلم فيك فلا تُعَيِّرْهُ بما تعلم فيه، فإِنَّما وبال ذلك عليه».

ابوجری رضی اللہ عنہ جن کا نام جابر بن سلیم ہے کہتے ہیں کہ (جب میں مدینہ آیا تو) میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو مرتبہ یہ کہا ’علیک السلام يا رسول اللہ‘۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ ’علیک السلام‘ نہ کہو، یہ مُردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو! اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری تکلیف و مصیبت کو دور کرے، اگر تمہیں قحط سالی اپنی لپیٹ میں لے لے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے سبزہ (غلہ وغیرہ) اگادے اور اگر تم کسی بے آب و گیاہ زمین میں، یا کسی ایسے جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دے۔ جابر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا کسی کو برا بھلا نہ کہو۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو برابھلا نہیں کہا نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو۔
کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو اور جب تم اپنے کسی بھائی سے ملاقات کرو تو خندہ پیشانی اختیار کرو کیونکہ یہ بھی ایک نیکی ہے اور تم اپنی ازار (یعنی پاجامہ، لنگی وغیرہ) کو نصف پنڈلی تک اونچی رکھو، اگر اتنی اونچی رکھنا تمہیں پسند نہ ہو تو ٹخنوں تک رکھو مگر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے بچو! اس لیے کہ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ نیز اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اور تمہارے کسی ایسے عیب پر تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم انتقاما اس کے کسی عیب پر جسے تم جانتے ہو اسے عار نہ دلاؤ کیونکہ اس کا گناہ اسے ہی ملے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال جابر بن سليم رضي الله عنه: أبصرت رجلاً يرجع الناس إلى قوله، لا يقول لهم شيئاً إلا فعلوه، فقلت لهم: من هذا، قالوا: هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله، فقال صلى الله عليه وسلم: لا تقل عليك السلام فإنها تحية الموتى، ولكن قل: السلام عليك. فقلت: أأنت رسول الله، قال: نعم أنا رسول الله؛ أي: أنا الذي أرسله الله الذي إذا أصابك فقر ومصيبة فدعوته بتضرع وافتقار؛ رفع عنك ذلك الضرر، وإذا أصابك عام قحط لم تنبت الأرض فيه شيئاً فدعوته؛ أوجد لك فيها النبات ونمَّاه لك، وإذا كنت في أرض ليس فيها ماء ولا ناس، وضاعت راحلتك فدعوته؛ ردها عليك.فقلت له: أوصني بما ينفعني، قال: لا تشتم أحداً. فما سببت بعد ذلك حراً ولا عبداً ولا بعيراً ولا شاة، ثم قال صلى الله عليه وسلم: ولا تترك شيئاً من المعروف استصغاراً له، ولا تحقر خطابك لأخيك وفي وجهك البشر له؛ فإن ذلك من المعروف، وارفع إزارك وغيره من الثياب إلى نصف الساق، فإن تركت فعل ذلك، فارفع إلى الكعبين؛ فلا جناح فيما بين الكعبين إلى نصف الساق، واحذر من إسبال الإزار فإنه من الكبر والعجب والله جل وعلا لا يحب ذلك، وإن أحد شتمك أو عيَّرك بما فيك من الذنوب والأفعال القبيحة، فلا تعيِّره بما فيه؛ إن عاقبة ذلك عليه يوم القيامة، وقد يعجل بعضه في الدنيا.
580;ابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس لوگ آتے اور وہ جو کچھ وہ کہتا اس پر عمل کرتے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس پر میں کہنے لگا کہ ’عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله‘‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہو۔ یہ تو مردہ لوگوں کا سلام ہے ۔ اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں ۔ یعنی میں ہی ہوں جسے اللہ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے عاجزی و لاچاری کے ساتھ پکارو تو وہ تم سے وہ مصیبت دور کردے۔اور اگرخشک سالی آن پڑے اور زمین سے کچھ پیدا نہ ہو اور تم اسے پکارو تو وہ اس میں تہمارے لیے غلہ اگا کر بڑا کردے ۔ اگر تم کسی ایسی زمین میں ہو جہاں نہ پانی ہے اور نہ کسی انسان کا نام و نشان اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری کو تم تک لوٹا دے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرما دیں جو میرے لیے سود مند ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کسی کو برا بھلا مت کہو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ نہ کسی آزاد انسان کو اور نہ کسی غلام کو ۔ نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے نہ چھوڑو۔ اورچہرے کی بشاشت کے ساتھ اپنے بھائی سے ملنے کو ہیچ نہ جانو کیونکہ یہ بھی نیکی ہے۔ اپنی ازار اور دیگر لباس کو نصف پنڈلی تک اونچا رکھو۔ اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر ٹخنوں تک اونچا رکھو۔ ٹخنوں اور نصف پنڈلی کے درمیان رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور اپنی ازار کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر اور خودپسندی کی علامت ہے اور اللہ کو یہ پسند نہیں ۔اگر کوئی تمہیں برا بھلا کہے یا پھر تمہیں تمہارے گناہ اور برے افعال یاد دلا کر عار دلائے تو تم اس کی برائیوں کے ساتھ اسے عار مت دلاو۔ کیونکہ روز قیامت اس کا وبال اسی پر ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی اس پر آجائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4952

 
 
Hadith   775   الحديث
الأهمية: اصْبِرُوا، فإنه لا يأتي زمانٌ إلا والذي بعده شَرٌّ منه حَتَّى تَلْقَوا رَبَّكُم


Tema:

صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔

عن الزبير بن عدي، قال: أَتَيْنَا أنسَ بنَ مَالِكٍ -رضي الله عنه- فَشَكَوْنَا إليه ما نَلْقَى من الحَجَّاجِ، فقال: «اصْبِرُوا، فإنه لا يأتي زمانٌ إلا والذي بعده شَرٌّ منه حَتَّى تَلْقَوا رَبَّكُم» سمعتُه من نَبِيِّكُم -صلى الله عليه وسلم-.

زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت کی۔ انھوں نے فرمایا: صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمھارے نبی ﷺ سے سنا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء الزبير بن عدي ومعه جماعة إلى أنس بن مالك -رضي الله عنه- خادم رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، يشكون إليه ما يجدون من الحجاج بن يوسف الثقفي، أحد الأمراء لخلفاء بني أمية، وكان جبارًا عنيدًا معروفًا بالظلم وسفك الدماء، فأمرهم أنس -رضي الله عنه- بالصبر على جور ولاة الأمور، وأخبرهم أنه لا يأتي على الناس زمان إلا والذي بعده أشر منه حتى يلقوا ربهم، وأنه سمعه من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
والشر ليس شرًّا مطلقًا عامًّا، بل قد يكون شرًّا في بعض المواضع، ويكون خيرًا في مواضع أخرى.
586;بیر بن عدی کچھ لوگوں کے ساتھ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے۔ انھوں نے ان سے حجاج بن یوسف ثقفی کی شکایت کی، جو اموی خلفا کا گورنر تھا، وہ بہت ہی جابر اور سر کش تھا اور ظلم و خون ریزی میں مشہور تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے انھیں حکمرانوں کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ لوگوں پر آنے والا ہر زمانہ اپنے سے پہلے والے زمانے سے بد تر ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملیں۔ مزید بتایا کہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ یہاں شر سے مراد مطلق شر نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض جگہوں پر تو یہ شر ہو گا اور بعض دوسری جگہوں پر خیر ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4953

 
 
Hadith   776   الحديث
الأهمية: لمَّا كان غَزْوَةُ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فقالوا: يا رسولَ اللهِ، لَوْ أَذِنْتَ لنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا؟


Tema:

غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کو سخت بھوک لگی، انہوں نے آپ ﷺ سے کہا یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواری کے اونٹ ذبح کرلیں تاکہ ان کا گوشت کھائیں اور ان کے روغن سے فائدہ اٹھائیں۔

عن أبي هريرة، أو أبي سعيد الخدري -رضي الله عنهما- -شك الراوي- قال: لما كان غزوة تبوك، أصاب الناس مجاعة، فقالوا: يا رسول الله، لو أَذِنْتَ لنا فنحرنا نوَاضِحَنَا فأكلنَا وَادَّهَنَّا؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «افعلوا» فجاء عمر -رضي الله عنه- فقال: يا رسول الله، إن فعلت قَلَّ الظَّهْرُ، ولكن ادْعُهُمْ بفضل أَزْوَادِهِمْ، ثمَ ادْعُ الله لهم عليها بالبركة، لعل الله أن يجعل في ذلك البركة. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «نعم» فدعا بنِطَعٍ فبسطه، ثم دعا بفضل أَزْوَادِهِمْ، فجعل الرجل يجيء بكف ذُرَةٍ، ويجيء بكف تمر، ويجيء الآخر بِكَسْرَةٍ، حتى اجتمع على النِّطَعِ من ذلك شيء يسير، فدعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالبركة، ثم قال: «خذوا في أوعيتكم» فأخذوا في أوعيتهم حتى ما تركوا في العسكر وعاء إلا مَلَئُوهُ وأكلوا حتى شبعوا وفضل فضْلَةً، فقال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: «أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، لا يلقى الله بهما عبد غير شاك فَيُحْجَبَ عن الجنة».

ابوہریرہ یا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے( راوی کو شک ہے) کہ جب غزوہ تبوک کا وقت آیا تواس دن لوگوں کو بہت سخت بھوک لگی،انہوں نے آپ ﷺ سے کہا: یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنے سواری کے اونٹ ذبح کرلیں تاکہ ان کا گوشت کھائیں اور ان کے روغن سے فائدہ اٹھائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا:’کر لو‘۔عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ، اگر آپ نے یہ کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی،اس کے بجائے آپ ان کے بچے ہوئے زاد راہ منگوائیں اور اس پر اللہ سے برکت کی دعا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’یہ ٹھیک ہے‘۔ چنانچہ آپ نے ایک کھال کی چٹائی منگوائی اور اسے بچھا دیا پھر ان لوگوں جو بچا کھچا کھانے کا سامان تھا وہ منگوایا۔ کوئی شخص مٹھی بھر مکئی، کوئی مٹھی بھر کھجور اورکوئی (روٹی کا) ٹکڑا لے آیا۔ یہاں تک کہ کھال پرچھوٹی سی ڈھیر لگ گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے برکت کی دعا کی اور فرمایا: اسے اپنے برتنوں میں ڈال لو۔ چنانچہ لوگوں نے اپنے برتن بھر لیے۔ لشکر میں کوئی برتن نہیں بچا جسے انھوں نے نہ بھرا ہو۔ پھرانھوں نے کھایا اور سیر ہو گئے لیکن کھانا پھر بھی بچ رہا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمیں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ ان دونوں شہادتوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اسے جنت سے ہرگز نہ روکا جائے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في زمن غزوة تبوك أصاب الناس مجاعةٌ، فقالوا: يا رسول الله، لو أذنت لنا فنحرنا إبلنا، فأكلنا لحومها، وادهنا بشحومها، فأذن لهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وقال: افعلوا. فجاء عمر -رضي الله عنه-، فقال: يا رسول الله؛ إن فعلت ذلك نقصت الدواب التي تحملنا، وصارت قليلة، ولكن اجعلهم يأتون بباقي طعامهم، ثم ادع الله عليها بالبركة؛ لعل الله أن يجعل في ذلك الخير ويبارك في القليل، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: نعم، فدعا ببساط من جلد فبسطه ثم دعا ببقية طعامهم، فجعل الرجل يجيء بذرة بمقدار الكف، وآخر بتمر، وآخر بقطعة خبز حتى اجتمع عليه من ذلك شيء يسير، فدعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالبركة، ثم قال: (خذوا في أوعيتكم)، فأخذوا حتى ما تركوا في الجيش وعاء إلا ملؤوه، فأكلوا حتى شبعوا وبقيت منه بقية، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، لا يلقى اللهَ بهما عبدٌ بعد موته غير شاك فيمنع عن الجنة، بل لا بد له من دخولها، إما ابتداء مع الناجين، أو بعد إخراجٍ من النار.
594;زوہ تبوک کے موقع پر لوگ فاقے کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ ذبح کر لیں اور ان کا گوشت کھائیں اور ان کی چربیوں سے روغن حاصل کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ ایسا کر لو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ حاضرِ خدمت ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اگر آپ ﷺ نے ایسا کرنے کی اجازت دے دی تو سواری کے جانور کم ہو جائیں گے اور ان کی قلت ہو جائے گی۔ آپ لوگوں کو کہیں کہ وہ اپنا بچا ہوا کھانا لے کر آئیں۔ آپ اس پر برکت کی دعا کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اس میں خیر ڈال دے اور کم میں برکت دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے چمڑے کی ایک چٹائی (دسترخوان) منگوا کر اسے بچھا دیا اور پھر لوگوں کو ان کا بچا ہوا کھانے کا سامان لانے کو کہا۔ کوئی شخص مٹھی بھر مکئی لے کر آ رہا تھا تو کوئی کھجور اور کوئی روٹی کا ٹکڑا یہاں تک کہ اس چٹائی پر ان چیزوں کی ایک چھوٹی سی ڈھیر لگ گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی اور پھر فرمایا: اسے اپنے برتنوں میں ڈال لو۔ چنانچہ لوگ اسے لینے لگ گئے یہاں تک کہ انہوں نے لشکر میں کوئی ایسا برتن نہ چھوڑا جسے بھرا نہ ہو۔ انہوں نے سیر ہو کر کھایا اور یہ پھر بھی بچ گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بنا شک کیے ان دو باتوں کی گواہی دے کر موت کے بعد اللہ سےملے گا اسے جنت میں جانے سے نہیں روکا جائے گا بلکہ وہ ضرور اس میں جائے گا، یا تو شروع ہی سے وہ نجات پانے والوں کے ساتھ جنت میں جائے گا یا پھر دوزخ سے نکالے جانے کے بعد۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4955

 
 
Hadith   777   الحديث
الأهمية: الْحَرْبُ خَدْعَةٌ


Tema:

جنگ چال کا نام ہے۔

عن أبي هريرة وجابر -رضي الله عنهما- أنَّ النبيَّ -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- قالَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ».
ابو ہریرہ اور جابر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جنگ ایک چال ہوتی ہے“۔

الحَرْبُ خَدْعَة أي أن خداع الكفار والمَكر بهم في الحرب جائز، لأجل إصابتهم وإلحاق الضرر بهم، مع انعدام الخسائر بين المسلمين، ولا يُعَدُّ هذا مذموما ًفي الشرع، بل هو من الأمور المطلوبة.

602;ال ابن المنيّر -رحمه الله-: "الحرب الجيدة لصاحبها الكاملة في مقصودها إنما هي المخادعة لا المواجهة، وذلك لخَطِر المواجهة وحصول الظَفَر مع المخادعة بغير خطر".
ولا يدخل في الخدعة الغدر، وهو مخالفة العهد والاتفاق بين المسلمين وأعدائهم، قال -تعالى-: (فإما تخافن من قوم خيانة فانبذ إليهم على سواء إن الله لا يحب الخائنين) أي: إن كان بينكم وبين قوم عهد فأعلمهم بإلغائه قبل محاربتهم، لتكونوا وإياهم على حد سواء.

Esin Hadith Caption Urdu


”الحَرْبُ خَدْعَة“ کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں کفار کو تکلیف پہنچانے اور مسلمانوں کے نقصان کو دور کرنے کے لیے انہیں دھوکہ دینا اور ان کے لئے تدبیر کرنا جائز ہے۔ یہ شریعت میں ممنوع نہیں، بلکہ یہ شریعت کے مطلوبہ امور میں سے ہے۔
ابن المنیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک اچھی اور کام یاب جنگ وہ ہوتی ہے، جو آمنے سامنے کی لڑائی کی بجاۓ چالوں پر مشتمل ہو، کیوں کہ آمنے سامنے کی لڑائی میں خطرہ ہوتا ہے اور چال اور دھوکے میں بغیر خطرے کے کامیابی حاصل ہوجاتی ہے۔
”الخدعة“ میں غدر شامل نہیں۔ غدر سے مراد اہلِ اسلام اور ان کے دشمنوں کے درمیان ہونے والے اتفاق اور وعدے کی مخالفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ﴾ ”اور اگر تجھے کسی قوم کی خیانت کا ڈر ہو تو برابری کی حالت میں ان کا عہدنامہ توڑ دے“۔ یعنی اگر تمہارے اور دشمنوں کے درمیان کوئی عہد ہو تو جنگ سے پہلے ان کو معاہدہ ختم ہونے کے بارے میں بتا دو، تاکہ تم اور وہ دونوں برابر ہو جاؤ۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4956

 
 
Hadith   778   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال يومَ خَيْبَرٍ: «لَأُعْطِيَنَّ هذه الرايةَ رَجُلًا يحب اللهَ ورسولَه يَفْتَحُ اللهُ على يديه»


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر کےدن فرمایا: میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال يوم خيبر: «لَأُعْطِيَنَّ هذه الراية رجلا يحب الله ورسوله يفتح الله على يديه» قال عمر -رضي الله عنه-: ما أحببتُ الإمارة إلا يومئذ، فَتَسَاوَرْتُ لها رجاء أَنْ أُدْعَى لها، فدعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- فأعطاه إياها، وقال: «امش ولا تلتفت حتى يفتح الله عليك» فسار عليٌّ شيئا ثم وقف ولم يلتفت فصرخ: يا رسول الله، على ماذا أقاتل الناس؟ قال: «قَاتِلْهُمْ حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، وأَنَّ محمدًا رسولُ اللهِ، فإذا فعلوا فقد منعوا منك دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله».

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر کےدن فرمایا: میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی۔ انھوں نے مزید کہا: میں نے اس امید سے کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے گا، اپنی گردن اونچی کی، تاہم رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا:جاؤ، پیچھےمڑ کر نہ دیکھو، یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے۔ انھوں نے کہا: علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ دور گئے، پھر ٹھہر گئے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہا: اللہ کے رسول! میں کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے ایسا کرلیا، تو انھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کرلیے، سوائے کسی حق کے بدلے اوران کاحساب اللہ پر ہوگا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوم غزوة خيبر: لأعطين هذه الراية رجلا يحب الله ورسوله يفتح الله على يديه بعض حصون خيبر، قال عمر -رضي الله عنه-: فما تمنيت الإمارة إلا يومئذ، رجاء أن يصيبه ما قاله النبي -عليه الصلاة والسلام-، يقول: فتطاولت رجاء أن أُدعى لها، فدعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عليَّ بن أبي طالب -رضي الله عنه- فأعطاه إياها، وقال: امش ولا تلتفت حتى يفتح الله عليك؛ لئلا يشغلك ذلك الالتفات عن كمال التوجه، فمشى قليلا ثم وقف ولم يلتفت لئلا يخالف نهي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ثم رفع صوته وسأل الرسول -صلى الله عليه وسلم-: على ماذا أقاتل الناس؟ فقال: قاتلهم حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله، فإذا قالوها فقد منعوا منك دماءهم وأموالهم إلا بحقها؛ فيؤخذ بذلك الحق كالنفس بالنفس والزكوات، وأما ما بينهم وبين الله -تعالى- فإن صدقوا وآمنوا نفعهم ذلك في الآخرة ونجوا من العذاب كما نفعهم في الدنيا؛ وإلا فلا ينفعهم، بل يكونون منافقين من أهل النار.
585;سول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن اعلان فرمایا: میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اللہ اس کے ہاتھوں پر خیبر کے بعض قلعوں پر فتح نصیب کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن کے علاوہ کبھی امارت کی تمنا نہ کی، اس امید میں کہ نبی ﷺ کی جانب سے اعلان کردہ خوش خبری مجھے حاصل ہوجائے۔ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس امید میں اپنی گردن لمبی کرنے لگا کہ مجھے جھنڈا کے لئے بلایا جائے گا، تاہم رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انھیں جھنڈا عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ جاؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھو، تا آں کہ اللہ تعالیٰ تمھیں فتح و کامرانی سے نواز دے؛ کیوں کہ مڑ کر دیکھنے سے تمہاری کامل توجہ و یکسوئی میں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ کچھ دور گئے پھر ٹھہرگئے اور نبی ﷺ کی مخالفت سے بچتے ہوئے بغیر مڑے ہی بلند آواز سے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: میں کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے اس شہادت کا اقرار کرلیا، توانھوں نےتم سے اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کرلیے، سوائےکسی حق کے بدلے، تو اس حق کے تئیں ان کا مؤاخذہ کیا جائے گا، جیسے جان کے بدلہےجان اور زکوٰۃ کا اموال۔ جہاں تک ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پایا جانے والا مخفی معاملہ ہے، تو اگر وہ اپنے قول میں سچے رہے اور ایمان خالص کو اختیار کیا، تو یہ چیز ان کی آخرت میں نفع بخش ثابت ہوگی اور وہ عذاب سے بچ جائیں گے، جسیے انھیں دنیا میں اس سے فائدہ ہوا؛ ورنہ انھیں ان کے ایمان کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا، بلکہ وہ جہنم میں رہنے والے منافق ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4958

 
 
Hadith   779   الحديث
الأهمية: يا رسولَ اللهِ، هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أبي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وهَكَذَا إنما هُمْ بَنِيَّ؟ فقال: نَعَمْ، لَكِ أَجْر مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ


Tema:

یا رسول اللہ! کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کرنے کا اجر ملے گا، اگر میں ان پر خرچ کروں؟ میں انھیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی؛ کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمھیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرو گی۔

عن أم سلمة -رضي الله عنها-، قالت: قلت: يا رسول الله، هل لي أجرٌ في بني أبي سلمة أن أُنْفِقَ عليهم، ولستُ بتاركتهم هكذا وهكذا إنما هم بَنِيَّ؟ فقال: «نعم، لك أجرُ ما أنفقتِ عليهم».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرمیں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا۔ میں انھیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی،کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمہیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرو گی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قالت أم سلمة رضي الله عنها لرسول الله صلى الله عليه وسلم: هل لي ثواب أخروي في أني أنفق على عيالي من أبي سلمة وأكفيهم، ولا أدعهم يتفرقون في طلب القوت؟ أم أنه لا أجر لي لأني أفعل ذلك شفقة لأنهم أبنائي؟ فأخبرها النبي صلى الله عليه وسلم أن لها أجرًا في إنفاقها عليهم.
575;م سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر میں ابو سلمہ سے ہونے والے اپنے بچوں پر خرچ کروں اور ان کی کفایت کروں، تو کیا مجھے اس پر اخروی اعتبار سے ثواب ملے گا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں انھیں تلاش رزق میں ادھر ادھر پھرتے ہوئے نہیں چھوڑ سکتی یا پھر مجھے ایسا کرنے پر کوئی اجر نہیں ملے گا؛ کیوں کہ میں ایسا ان پر شفقت کی وجہ سے کر رہی ہوں گی، کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہیں؟ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ ان پر خرچ کرنے کا انھیں اجر ملے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4959

 
 
Hadith   780   الحديث
الأهمية: قَدْ كُنَّا زَمَنَ النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- لا نَجِدُ مِثْلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَّا قَلِيلًا، فإذا نحن وَجَدْنَاهُ، لم يَكُنْ لنا مَنَادِيلُ إلَّا أَكُفَّنَا، وسَوَاعِدَناَ، وأَقْدَامَنَا، ثُمَّ نُصَلِّي ولا نَتَوَضَّأُ


Tema:

نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا، نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔

عن سعيد بن الحارث: أنه سأل جابرا -رضي الله عنه- عن الوضوء مما مَسَّتِ النارُ، فقال: لا، قد كنا زمن النبي - صلى الله عليه وسلم - لا نجد مثل ذلك الطعام إلا قليلا، فإذا نحن وجدناه، لم يكن لنا مَنَادِيلُ إلا أَكُفَّنَا، وسَوَاعِدَنَا، وأَقْدَامَنَا، ثم نصلي ولا نتوضأ.

سعيد بن الحارث روايت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے (کھانے کے بعد) جو آگ پر پکی ہو وضو کے متعلق پوچھا (کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا (اور ہم انہی سے اپنے ہاتھ صاف کر کے) نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل سعيدُ بن الحارث جابرَ بن عبد الله رضي الله عنه عن الوضوء مما مسته النار بطبخ أو شوي ونحو ذلك هل يجب أم لا؟ فقال جابر: لا يجب الوضوء منه ثم بين دليله في ذلك، فقال: قد كنا في زمان النبي صلى الله عليه وسلم لا نجد مثل ذلك الطعام إلا قليلا، فإذا وجدناه لم يكن لنا مناديل نمسح بها دَسَم الطعام؛ ولكن كنا نمسح أصابعنا بعد لعقها بأكفنا وسواعدنا وأقدامنا، ثم نصلي ولا نتوضأ.
587;عید بن الحارث نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے کھانے کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا جسے آگ پر پکایا یا بھونا گیا ہو کہ آیا اس پر پھر سے وضو کرنا واجب ہے یا نہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طرح کی شے کھانے سے وضو کرنا واجب نہیں ہوتا۔ پھر انہوں نے اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نبی ﷺ کے زمانے میں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آیا کرتا تھا اور جب کبھی ہمیں ایسا کھانا مل جاتا تو (کھانے کے بعد) کھانے کی چکنائی کو صاف کرنے کے لیے ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے بلکہ ہم اپنی انگلیوں کو چاٹ کر انہیں اپنی ہتھیلیوں، بازؤوں اور پاؤں کے ساتھ پونچھ لیا کرتے تھے اور پھر نماز پڑھ لیتے اور نئے سرے سے وضو نہیں کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4960

 
 
Hadith   781   الحديث
الأهمية: لما خَلَقَ اللهُ الخَلْقَ كَتَبَ في كِتَابٍ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ العَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي


Tema:

جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاں عرش پر موجود ایک کتاب میں لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لما خلق اللهُ الخَلْقَ كتب في كتاب، فهو عنده فوق العرش: إن رحمتي تَغْلِبُ غضبي».
وفي رواية: «غَلَبَتْ غضبي»
وفي رواية: «سَبَقَتْ غضبي».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاں عرش پر موجود کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے“۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی ہے“۔
ایک اور روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما خلق الله -عز وجل- الخلق كلهم كتب في كتاب عنده فوق العرش: إن رحمتي أكثر وأغلب عليَّ من غضبي. قال -تعالى-: (ورحمتي وسعت كل شيء)، وهذا يحمل المسلم على عدم اليأس والقنوط.
580;ب اللہ عز و جل نے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش پر موجود اپنے پاس ایک کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت زیادہ ہے اور میرے غضب کے مقابلے میں مجھ پر غالب ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ ”میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے“ چنانچہ یہ چیز ایک مسلمان کو مایوس اور ناامید نہ ہونے پر آمدہ کرتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4961

 
 
Hadith   782   الحديث
الأهمية: لو أن لابنِ آدمَ واديًا من ذَهَبٍ أَحَبَّ أن يكونَ له واديانِ، ولَنْ يملأَ فَاهُ إلا الترابُ، ويَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ


Tema:

اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

عن عبد الله بن عباس وأنس بن مالك وعبد الله بن الزبير وأبي موسى الأشعري -رضي الله عنهم- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لو أن لابنِ آدمَ واديًا من ذَهَبٍ أَحَبَّ أن يكونَ له واديانِ، ولَنْ يملأَ فَاهُ إلا الترابُ، ويَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ».

عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک، عبد اللہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه لو حصل لابن آدم واديا مملوءا من ذهب، لأحب من حرصه الذي هو طبعه أن يكون له واديان آخران، وأنه لا يزال حريصا على الدنيا حتى يموت ويمتلئ جوفه من تراب قبره.
606;بی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ایک وادی مل جائے تو اپنی طبعی لالچ کی بنا پر وہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دو اور وادیاں ہوں اور یہ کہ تا دم موت وہ دنیا کی چاہت میں گرفتار رہتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے اور اس کا پیٹ اس کی قبر کی مٹی سے بھر جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4963

 
 
Hadith   783   الحديث
الأهمية: إِزْرَةُ المسلمِ إلى نِصْفِ السَّاقِ، ولا حَرَجَ -أو لا جُنَاحَ- فيما بينه وبين الكَعْبَيْنِ، فما كان أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ فهو في النَّارِ، ومَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لم يَنْظُرِ اللهُ إليهِ


Tema:

مسلمان کے تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اور پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار».
وعن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إِزْرَة المسلم إلى نصف الساق، ولا حرج -أو لا جُناح- فيما بينه وبين الكعبين، فما كان أسفل من الكعبين فهو في النار، ومن جر إزاره بطَرا لم ينظر الله إليه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تہبند ﮐﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﭨﺨﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮦ ﺍٓﮒ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اگر اُس نے پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اُس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الهيئة المستحبة في اتزار المؤمن أن يكون الثوب إلى نصف الساق، ولا حرج على المؤمن إذا أرخى ثوبه فيما بين نصف الساق والكعبين، وما كان أسفل الكعبين من القدم ويعلوه الإزار فإنه يعذب عقوبة لإسباله ثوبه، ومن جر ثوبه تكبرا وطغيانا عند تتابع نِعم الله عز وجل عليه لم ينظر الله له يوم القيامة.
605;ومن کے ازار باندھنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ کپڑا نصف پنڈلی تک آئے۔ تاہم اگر مومن اپنے کپڑے کو نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان تک ڈھیلا کر لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم جو حصہ پاؤں کے ٹخنوں سے نیچے ہو گا اور جس پر ازار لٹک رہی ہو گی اسے کپڑا لٹکانے کی وجہ سے عذاب ہو گا۔ اور جو شخص پے درپے ہونے والی اللہ کی نعمتوں پر اپنے کپڑے کو ازراہ تکبر و سرکشی گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ قیامت کے دن آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔   --  [یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4964

 
 
Hadith   784   الحديث
الأهمية: ما زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بالجَارِ حَتَّى ظَنَنتُ أَنَه سَيُورثه


Tema:

جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔

عن عائشة -رضي الله عنها-, وعبد الله بن عمر-رضي الله عنهما- قالا: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما زال جبريل يوصيني بالجار، حتى ظننت أنه سيورِّثه».

عائشہ رضی اللہ عنہا اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے“،

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ما زال جبريل يوصيني بالاعتناء بالجار، حتى ظننت أنه سينزل الوحي الذي يأتي به جبريل بتوريث الجار.
580;برائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کا خیال رکھنے کی مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ عنقریب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئیں گے جس میں پڑوسی کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرا دیا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4965

 
 
Hadith   785   الحديث
الأهمية: ما عَابَ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ ﷺ کو وہ اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے تھے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: ما عاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- طعاما قط، إن اشتهاه أكله، وإن كرهه تركه.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ ﷺ کو وہ اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لم يعب النبي -صلى الله عليه وسلم- أبدا فيما مضى طعاما، ولكنه إن اشتهاه أكله وإلا تركه ولا يعيبه.
606;بی ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ ﷺ کو وہ اچھا لگتا تو کھا لیتے وگرنہ چھوڑ دیتے اور اس میں عیب نہیں نکالتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4966

 
 
Hadith   786   الحديث
الأهمية: ما يَكُنْ عندي من خيرٍ فلن أَدَّخِرَهُ عَنْكُم، ومَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ، ومَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ، ومَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ، وما أُعْطِيَ أَحَدٌ عطاءً خَيرًا وأَوسعَ من الصبرِ


Tema:

اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اسے صبر کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملتی۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعاً: أنَّ ناسًا من الأنصارِ سألوا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - فأعطاهم، ثم سألوه فأعطاهم، حتى نَفِدَ ما عنده، فقال لهم حين أنفقَ كلَّ شيءٍ بيده: «ما يَكُنْ عندي من خيرٍ فلن أَدَّخِرَهُ عَنْكُم، ومَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفِّهُ اللهُ، ومَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ، ومَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ. وما أُعْطِيَ أَحَدٌ عطاءً خَيرًا وأَوسع من الصبرِ».

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل ناس من الأنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاهم ثم سألوه فأعطاهم، حتى نفد ما عنده، ثم أخبرهم أنه لا يمكن أن يدخر شيئا عنهم فيمنعهم، ولكن ليس عنده شيء، وحثهم على الاستعفاف والاستغناء والصبر.
فأخبرهم أنه من يستغن بما عند الله عما في أيدي الناس؛ يغنه الله عز وجل، فالغنى غنى القلب، فإذا استغنى الإنسان بما عند الله عما في أيدي الناس؛ أغناه الله عن الناس، وجعله عزيز النفس بعيدًا عن السؤال.
وأنه من يستعفف عما حرم الله عليه من النساء يعفه الله عز وجل ويحميه ويحمي أهله أيضًا.
وأنه من يتصبر يصبره الله، أي يعطيه الله الصبر.
وما من الله على أحد بعطاء من رزق، أو غيره؛ خيرًا وأوسع من الصبر.
575;نصار میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے مال مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں دے دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر انہیں دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ ان سے بچا کر رکھ لیں اور انہیں نہ دیں۔ بلکہ اب تو آپ ﷺ کے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں دستِ سوال دراز نہ کرنے، بے نیازی اختیار کرنے اور صبر کرنے کی ترغیب دی۔
آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جو شخص اللہ کے پاس اس کے لیے جو کچھ ہے اس کی بنا پران اشیا سے بے نیازی اختیار کرتا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں تو اللہ عز و جل اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اصل بے نیازی تو دل کی بے نیازی ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی بنا پر لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بے نیازی برتتا ہے تواللہ بھی اسے لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اوراسے عزت نفس رکھنے والا شخص بنا دیتا ہے جو مانگنے سے دور رہتا ہے۔جو بندہ ان عورتوں سے اپنے آپ کو باعفت رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اس پر حرام ہیں تو اللہ بھی اسے باعفت بنا دیتا ہے اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے اللہ صبر عطا فرماتا ہے۔ اللہ کی طرف سے کسی پر جو عنایات ہوتی ہیں جیسے رزق و غیرہ، ان میں سے کوئی بھی صبر سے بہتر اور اس سے بڑی نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4967

 
 
Hadith   787   الحديث
الأهمية: مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ على بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّات


Tema:

پانچ نمازوں کی مثال اس جاری بڑی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی شخص کے دروازے پر ہو، وہ اس سے روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ على بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ».
وعن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «أَرَأَيْتُمْ لو أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ منه كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ. شَيْءٌ؟» قالوا: لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قال: «فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ الخَطَايَا».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازوں کی مثال اس جاری بڑی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی شخص کے دروازے پر ہو، وہ اس سے روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو“۔
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم ميں سے کسی شخص کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ روزانہ اس سے پانچ دفعہ نہائے، تو کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہ سکتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں، اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہی مثال پانچوں وقت کی نمازوں کی ہے کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
شبه -صلى الله عليه وسلم- الدَّنَسَ المعنوي بالدنس الحسي، فكما أن الاغتسال كل يوم خمس مرات يذهب الوسخ، فكذلك الصلوات الخمس تذهب الذنوب.
606;بی ﷺ نے معنوی میل کچیل کو حسی میل کچیل کے ساتھ تشبیہہ دی ہے۔ چنانچہ جس طرح روزانہ پانچ دفعہ نہانے سے میل کچیل کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اسی طرح پنچگانہ نمازیں بھی گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4968

 
 
Hadith   788   الحديث
الأهمية: مَثَلُ المُؤْمِنِينَ في تَوَادِّهِمْ وتَرَاحُمِهِمْ وتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الجَسَدِ إذا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى له سَائِرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ والحُمَّى


Tema:

مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

عن النعمان بن بشير -رضي الله عنه- مرفوعاً: «مَثَلُ المُؤْمِنِينَ في تَوَادِّهِمْ وتَرَاحُمِهِمْ وتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الجَسَدِ إذا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى له سَائِرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ والحُمَّى».

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مثل المؤمنين في رحمة بعضهم لبعض، وتواصلهم، وتعاونهم، كمثل الجسد بالنسبة إلى جميع أعضائه، إذا تألم منه شيء دعا بقية أعضائه إلى المشاركة في الألم وما ينتج عنه من عدم النوم والحرارة.
605;ومنوں کی باہم ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور ان کے باہمی تعلق و تعاون کی مثال ایسے ہی ہے جیسے جسم کا باقی اعضا کے ساتھ تعلق ہوتا ہے کہ اگر اس کا کوئی جصہ تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ دیگر اعضا کو بھی اس تکلیف میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اس سے نیند اڑ جاتی ہے اور بخار ہو جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4969

 
 
Hadith   789   الحديث
الأهمية: مَثَلِي وَمَثَلُكُم كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيها، وهو يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُم عَنِ النَّارِ، وأنتم تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي


Tema:

میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور یہ شخص انہیں اس سے ہٹا رہا ہے۔ (اسی طرح) میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو۔

عن جابر بن عبد الله وأبو هريرة -رضي الله عنهم- مرفوعاً: «مثلي ومثلُكم كمثل رجلٍ أَوْقَدَ نارًا فجعل الجنادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فيها، وهو يَذُبُّهُنَّ عنها، وأنا آخذٌ بحُجَزِكُم عن النار، وأنتم تَفَلَّتُون من يَدَيَّ».

جابر بن عبد اللہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور یہ شخص انہیں اس سے ہٹا رہا ہے۔ (اسی طرح) میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين النبي صلى الله عليه وسلم أن حاله مع أمته كحال رجل في برية، أوقد نارًا فجعل الجنادب والفراش يقعن فيها؛ لأن هذه هي عادة الفراش والجنادب والحشرات الصغيرة، إذا أوقد إنسان نارًا في البر؛ فإنها تأوي إلى هذا الضوء. ويقول: لأمنعنكم من الوقوع فيها، ولكنكم تفلتون من يدي، وذلك بمخالفة النبي صلى الله عليه وسلم وترك سنته.
606;بی ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ کا معاملہ آپ ﷺ کی امت کے ساتھ ایسے ہے جیسے صحراء میں موجود وہ شخص جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے آ آ کر اس میں گرنے لگے کیونکہ عموماً پروانے، پتنگے اور چھوٹے کیڑے مکوڑے ایسے ہی کرتے ہیں کہ جب کوئی انسان خشکی پر آگ جلاتا ہے تو وہ اس کی روشنی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ میں تمہیں اس آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہو اور ایسا نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ ﷺ کی سنت کو ترک کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4970

 
 
Hadith   790   الحديث
الأهمية: الشهداء خمسة: المطعون والمبطون، والغريق، وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله


Tema:

شہید پانچ ہیں: طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور الله كى راہ میں شہید ہونے والا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-  قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «الشهداء خمسة: المطعون والمبطون، والغريق، وصاحب الهَدْمِ، والشهيد في سبيل الله».
 وفي رواية «ما تَعُدُّونَ الشهداء فيكم؟» قالوا: يا رسول الله، من قتل في سبيل الله فهو شهيد. قال: «إن شهداء أمتي إذا لقليل» قالوا: فمن هم يا رسول الله؟ قال: «من قتل في سبيل الله فهو شهيد، ومن مات في سبيل الله فهو شهيد، ومن مات في الطاعون فهو شهيد، ومن مات في البطن فهو شهيد، والغريق شهيد».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمايا: ”شہید پانچ ہیں: طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور الله كى راہ میں شہید ہونے والا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا): ”تم اپنے میں سے کن لوگوں کو شہيد شمار کرتے ہو؟“ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے وہ شہيد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میری اُمت میں شہداء کم ہوں گے“۔ صحابۂ كرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر کون شہید ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے ميں (طبعی) موت مرجائے وہ شہید ہے، جو طاعون کی بیماری ميں فوت ہوجائے وہ شہید ہے، جو پیٹ کی بیماری سے فوت ہوجائے وہ شہید ہے اور جو ڈوب کر مرجائے وہ شہید ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الشهداء في الجملة خمسة، الذي ضربه الطاعون ومات به وهو وباء فتاك، والذي يموت بمرض البطن، والذي يموت من الغرق وقد ركب البحر ركوبا غير محرم، أو في السيول والمسابح ونحوها، والذي يموت تحت الهدم كأن سقط عليه جدار، والمقتول في سبيل الله -تعالى-، وهو أعلى الأنواع، وكذلك من مات في سبيل الله بسبب غير القتال، والشهداء الأربعة الأول شهداء في أحكام الآخرة لا الدنيا فيغسلون ويصلى عليهم، والعدد في الحديث ليس للحصر.
605;جموعی طور پر شہداء کے پانچ اصناف ہیں: وہ شخص جو طاعون میں مبتلا ہوا اور اسی سے مرگیا، یہ ایک مہلک وبا ہے۔ اور جو پیٹ کی بیماری سے مرجائے۔ اور جو ڈوب کر مرجائے بشرطیکہ اس کا یہ سمندری سفر حرام نہ ہو، یا پھر جو سیلاب یا سوئمنگ پول وغیرہ میں ڈوب کر مرجائے۔ اور جو ملبے تلے دب کر مرجائے جیسے کہ اس پر کوئی دیوار گرجائے۔ اور جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے۔ اور یہ سب سے اعلیٰ قسم ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑائی کے علاوہ کسی اور وجہ سے مر جائے۔ پہلے چار قسم کے شہداء اخروی احکام کے اعتبار سے شہید ہیں، دنیوی اعتبار سے نہیں۔ چنانچہ انہیں غسل دیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس حدیث میں (شہداء کی) جو تعداد بیان کی گئی ہے، وہ حصر کے لئے نہيں ہے۔۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 4971



© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us