Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   1370   الحديث
الأهمية: لم يتكلَّم في المهد إلا ثلاثة


Tema:

گود میں صرف تین بچوں نے کلام کیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لم يتكلَّم في المهد إلا ثلاثة: عيسى ابن مريم، وصاحب جرَيج، وكان جُريج رجلًا عابِدا، فاتخذ صَوْمَعَة فكان فيها، فأتته أمه وهو يصلي، فقالت: يا جريج، فقال: يا رَبِّ أُمِّي وصلاتي فأقبل على صلاته  فانْصَرفت. فلمَّا كان من الغَدِ أتَتْهُ وهو يصلي، فقالت: يا جُريج، فقال: أي رَبِّ أمِّي وصلاتي، فأقبل على صلاته، فلمَّا كان من الغَدِ أتَتْهُ وهو يصلي، فقالت: يا جُريج، فقال: أي رَبِّ أمِّي وصلاتي، فأقبل على صلاته، فقالت: اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حتى يَنظر إلى وجوه المُومِسَاتِ. فتذاكر بَنُو إسرائيل جُريجا وعبادته، وكانت امرأة بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بحُسنها، فقالت: إن شِئتم لأَفْتِنَنَّهُ، فتَعرَّضت له، فلم يَلتَفت إليها، فأتت راعِيا كان يَأوِي إلى صَوْمَعَتِهِ، فَأَمْكَنَتْه من نَفسِها فوقع عليها، فحملت، فلمَّا ولدت، قالت: هو من جُريج، فَأتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وهدَمُوا صَومَعتَه، وجَعَلوا يَضربونه، فقال: ما شَأنُكم؟ قالوا: زَنَيْتَ  بهذه البَغِيِّ فولَدَت منك. قال: أين الصَّبي؟ فجاؤَوا به فقال: دَعوني حتى أُصلَّي، فصلَّى فلمَّا انْصرف أتى الصَّبي فَطَعن في بَطنه، وقال: يا غُلام مَنْ أبوك؟ قال: فلانٌ الراعي، فأقبلوا على جُريج يقبلونه ويَتمسَّحون به، وقالوا: نَبْنِي لك صَوْمَعَتَكَ من ذهب. قال: لا، أعِيدُوها من طين كما كانت، ففعلوا. وبينا صبي يَرضع من أُمِّهِ فمرَّ رجل راكب على دابة فَارِهة وَشَارَةٍ حسَنَة، فقالت أمه: اللهم اجعل ابْني مثل هذا، فَترك الثَّدْي وأقْبَلَ إليه فنَظَر إليه، فقال: اللَّهم لا تجعلني مثْلَه، ثم أقْبَلَ على ثَدْيه فجعل  يَرتضع»، فكأني أنظر إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهو يَحكي ارتْضَاعه بِأصْبَعِهِ السَّبَّابَة في فِيه، فجعل يَمُصُّهَا، قال: «ومَرُّوا بجارية وهم يَضْرِبُونها، ويقولون: زَنَيْتِ سَرقت، وهي تقول: حَسبي الله ونعم الوكيل. فقالت أمه: اللَّهم لا تجعل ابني مِثلها، فترك الرَّضاع ونظر إليها، فقال: اللَّهم اجعلني مِثْلَها، فَهُنَالك تَرَاجَعَا الحديث، فقالت: مرَّ رجلٌ حَسَنُ الهَيْئَةِ ، فقلت: اللَّهم اجعل ابْنِي مِثْلَه، فقلت: اللَّهم لا تَجْعَلْنِي مِثْله، ومَرُّوا بهذه الأَمَة وهم يَضربونها ويقولون: زَنَيْتِ سَرقت، فقلت: اللَّهم لا تجعل ابني مِثلها، فقلت: اللَّهم اجعلني مِثلها؟! قال: إن ذلك الرَّجُل كان جبَّارا، فقلت: اللَّهم لا تجعلني مِثْله، وإن هذه يقولون: زَنَيْتِ، ولم تَزْنِ وسَرقْتِ، ولم تَسْرِقْ، فقلت: اللَّهم اجْعَلْنِي مِثْلَهَا».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام۔
دوسرا جُرَیج والا بچہ۔ یہ جریج نامی شخص بڑا عبادت گزار تھا۔ اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اسی میں رہتا تھا۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اسے بلایا کہ اے جریج! تو وہ (دل میں ) کہنے لگا کہ یا اللہ! ایک طرف میری ماں ہے تو دوسری طرف میری نماز ( میں نماز پڑھے جاؤں یا اپنی ماں کو جواب دوں)؟ آخر وہ نماز ہی میں مصروف رہا۔ اس کی ماں واپس چلی گئی۔ پھر جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئی اور پکارا کہ اے جریج ! وہ کہنے لگا کہ اے اللہ! میری ماں پکار رہی ہے اور میں نماز میں ہوں۔ (اب میں کیا کروں!)۔ آخر وہ نماز میں ہی لگا رہا۔ پھر اس کی ماں اگلے دن پھر آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے پکار لگائی کہ اے جریج! وہ کہنے لگا کہ اے رب! ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز۔ بہرحال وہ اپنی نماز ہی میں مشغول رہا۔ اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ! اس کو اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے (یعنی ان سے اس کا سابقہ نہ پڑے)۔ پھر بنی اسرائیل میں جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا ہونے لگا اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو ابتلاء یا فتنہ میں ڈالوں۔ پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو اس کے عبادت خانے میں آیا کرتا تھا اور اس سے زنا کرایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ جب اس نے بچہ جنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر اس کے پاس آئے، اسے نیچے اتارا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور اس کو مارنے لگے۔ وہ بولا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ تو نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تجھ سے ایک بچے کوجنم دیا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آکر اس کے پیٹ میں ایک کچوکا لگایا اور بولا کہ اے بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے اور اس کو بوسہ دینے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔ وہ بولا کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو۔ تو لوگوں نے بنا دیا۔
(تیسرا ) بنی اسرائیل میں ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا کہ اتنے میں ایک بہت عمدہ جانور پر ایک خوش وضع، خوبصورت سوار گزرا۔ تو اس کی ماں اس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو اس سوار جیسا بنا دے ۔ یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف منہ کر کے اسے دیکھا اور کہنے لگا کہ یا اللہ !مجھے اس کی طرح نہ کرنا۔ اتنی بات کر کے پھر وہ بچہ پستان کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں (اس وقت) نبی ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی کو چوس کر دکھایا کہ وہ لڑکا اس طرح چھاتی چوسنے لگا۔ پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری جسے لوگ مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی میرا وکیل ہے۔ تو اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے پھر دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس عورت کی طرف دیکھ کر کہا کہ یا اللہ! مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی تو ماں نے کہا: جب ایک اچھی صورت کا آدمی گزرا تو میں نے کہا کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا کہ یا اللہ! مجھے ایسا نہ کرنا اور یہ لونڈی جسے لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنانا اُس پر توکہتا ہے کہ یا اللہ !مجھے اس کی طرح کرنا (یہ کیا بات ہے)؟ بچہ بولا، وہ سوار ایک ظالم شخص تھا، میں نے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے اس کی طرح نہ کرنا اور اس لونڈی پر لوگ تہمت لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے نہ زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ ! مجھے اس جیسا بنا دے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن نبينا -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: (لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة) والمراد في الأيام الأولى من طفولته، وهم:
أولا: عيسى بن مريم -صلى الله عليه وسلم-، وكان آية من آيات الله -عز وجل- وقد تكلم وهو في المهد.
ثانيًا: صاحب جريج، وجريج رجل عابد، برأ الله جريجًا من هذه التهمة التي أرادوا إلصاقها به، وأظهر هذه الآية كرامة له، وهي أن ينطق الصبي ببراءته، وذلك أنه اتخذ مكان يخلو فيه للعبادة، فأتته أمه يومًا وهو يصلي، فقالت: يا جريج، فقال: يا رَبِّ أُمِّي وصلاتي. تردد هل يقطع الصلاة ليجيب أمه أم يكمل صلاته، فأقبل على صلاته فذهبت أمه. فلمَّا كان من الغَدِ أتَتْهُ وهو يصلي، فتكرر ما حصل بالأمس، فلمَّا كان من الغَدِ أتَتْهُ وهو يصلي، فتكرر منه ذلك فقالت أمه: اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حتى يَنظر إلى وجوه المُومِسَاتِ أي الزانيات. فتذاكر بَنُو إسرائيل جُريجا وعبادته، وكانت امرأة زانية يُتَمَثَّلُ بحُسنها، فقالت: إن شِئتم لأغرينه حتى يدع صلاته ويقع في الزنى، فتَعرَّضت له، فلم يَلتَفت إليها، فأتت راعِيًا فَأَمْكَنَتْه من نَفسِها فزنى بها، فحملت، فلمَّا ولدت، قالت: هو من جُريج، فَأتَوْهُ وأنزلوه وهدَمُوا صَومَعتَه، وجَعَلوا يَضربونه، فقال: ما شَأنُكم؟ قالوا: زَنَيْتَ  بهذه البَغِيِّ فولَدَت منك. قال: أين الصَّبي؟ فجاؤَوا به فقال: دَعوني حتى أُصلَّي، فصلَّى فلمَّا انْصرف أتى الصَّبي فَطَعن بأصبعه في بَطنه، وقال: يا غُلام مَنْ أبوك؟ قال: فلانٌ الراعي، فأقبلوا على جُريج يقبلونه ويَتمسَّحون به، وقالوا: نَبْنِي لك صَوْمَعَتَكَ من ذهب. قال: لا، أعِيدُوها من طين كما كانت، ففعلوا.
579;الثًا: هذا الصبي الذي كان مع أمه يرضع، فمر رجل على فرس نفيسة وهيئته حسنة، وحكى النبي -صلى الله عليه وسلم- ارتضاع هذا الطفل من ثدي أمه بأن وضع إصبعه السبابة في فمه يمص، تحقيقا للأمر، فقالت: اللهم اجعل ابني مثله. فقال الطفل: اللهم لا تجعلني مثله. ثم أقبلوا بجارية؛ امرأة مملوكة يضربونها ويقولون لها: زنيت، سرقت. وهي تقول: حسبنا الله ونعم الوكيل. فقالت المرأة أم الصبي وهي ترضعه: اللهم لا تجعل ابني مثلها. فأطلق الثدي، ونظر إليها، وقال: اللهم اجعلني مثلها.
فتراجع الحديث مع أمه؛ طفل يتكلم معها، قالت: إني مررت أو مر بي هذا الرجل ذو الهيئة الحسنة فقلت: اللهم اجعل ابني مثله، فقلت أنت: اللهم لا تجعلني مثله، فقال: نعم؛ هذا رجل كان جبارا عنيدا فسألت الله ألا يجعلني مثله.
أما المرأة فإنهم يقولون: زنيت وسرقت، وهي تقول: حسبي الله ونعم الوكيل، فقلت: اللهم اجعلني مثلها. أي اجعلني طاهرا من الزنى والسرقة مفوضا أمري إلى الله، في قولها: حسبي الله ونعم الوكيل.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گود میں صرف تین بچوں نے کلام کیا“۔ یعنی اپنے بچپن کے ابتدائی دنوں میں۔ وہ یہ ہیں:
اول: عیسی بن مریم علیہ السلام جو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے، انہوں نے بات کی حالانکہ ابھی وہ گود ہی میں تھے۔
دوم: جریج والا بچہ، جریج ایک عبادت گزار شخص تھے، اللہ تعالی نے انہیں اس تہمت سے بری کیا جسے لوگوں نے ان پر لگانے کا ارادہ کیا تھا اور اس نشانی کو ان کے لیے کرامت بنا دیا یعنی ایک بچے کا ان کی صفائی میں بول پڑنا۔ ہوا یہ کہ جریج اپنے لیے ایک جگہ خاص کیے تھے جہاں وہ تنہائی میں عبادت کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کی والدہ ان کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز میں تھے، اور انہیں پکارا اے جریج!، جریج نے سوچا اے میرے رب ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز، وہ اس تردد میں تھے کہ نماز توڑ دے اور والدہ کا جواب دیں یا پھر نماز مکمل کریں، پس انہوں نے نماز مکمل کی تو ان کی والدہ واپس چلے گئیں۔ دوسرے دن ان کی والدہ ان کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز ہی میں تھے، پھر ویسا ہی ہوا جیسے پہلے دن ہوا تھا، پھر تیسرے دن ان کی والدہ ان کے یہاں آئیں تو وہی سب ہوا جو پچھلے دو دن ہوا تھا، تو ان کی والدہ نے کہہ دیا کہ اے اللہ اس کو اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ایک مرتبہ بنو اسرائیل جریج اور ان کی عبادت کا تذکرہ کر ہے تھے وہاں ایک فاحشہ عورت تھی جس کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو ابتلاء یا فتنہ میں ڈالوں یعنی وہ اپنی نماز چھوڑ دیں گے اور زنا میں مبتلا ہو جائیں گے، پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے زنا کرایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ جب اس نے بچہ جنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے، انہیں نیچے اتارا اور ان کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور ان کو مارنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تم سے ایک بچے کوجنم دیا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آکر اس کے پیٹ میں ایک کچوکا لگایا اور بولا کہ اے بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے، ان کو بوسہ دینے اور چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔ وہ بولے کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو۔ تو لوگوں نے بنا دیا۔
سوم: وہ تیسرا بچہ جس نے گود میں کلام کیا وہ وہ بچہ تھا جو اپنی ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا۔ ايسے میں ایک بہت اچھی سواری پر ایک بہت ہی خوش وضع و خوش پوشاک شخص کا گزر ہوا۔ نبی ﷺ نے اس بچے کے اپنے ماں کی چھاتی سے دودھ پینے کی حالت کو بیان کرنے کے لیے اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈالی یہ بیان کرنے کے لیے کہ فی الواقع ایسے ہوا۔ ماں نے کہا: اے اللہ میرے بچہ کو اس جیسا بنا، اس بچے نے کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر لوگ ایک باندی کو لے کر آئے، وہ اسے مار رہے تھے اور اس سے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے، تو نے چوری کی ہے۔ اور وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔ بچے کی ماں دودھ پلاتے ہوئے کہا کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ اس بچے نے پستان کو چھوڑ کر اسے دیکھا اور کہا اے اللہ! مجھے اِسی جیسا بنانا۔ پھر اس نے اپنی ماں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس عورت نے کہا کہ میرا اس آدمی پر گزر ہوا یا اس نے کہا کہ یہ خوش حال آدمی میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا ’’اے اللہ! میرے بیٹے کو بھی اُسی جیسا بنادے۔ اس پر تم نے کہا اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنا۔ بچے نے کہا: ہاں، کیوں کہ وہ شخص ظالم اور سرکش تھا۔ میں نے اللہ تعالی سے دعا کی وہ مجھے اس جیسا نہ بنائے۔ جب کہ عورت کے بارے میں لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے زنا کیا اور چوری کی ہے۔ اور وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اے اللہ! مجھے اُسی جیسا بنا۔ یعنی مجھے زنا سے اور چوری سے پاک رکھ اس حال میں کہ میرا سب کچھ اللہ کے حوالے ہے۔ باندی کے اس قول میں یہی بات تھی کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7041

 
 
Hadith   1371   الحديث
الأهمية: اللَّهُمَّ ارحم الْمُحَلِّقِينَ، قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: اللهم ارحم الْمُحَلِّقِينَ، قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: اللهم ارحم الْمُحَلِّقِينَ، قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: و الْمُقَصِّرِينَ


Tema:

اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر۔

عن عبد الله بن عُمر -رضي الله عنهما- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «اللَّهُمَّ  ارحم الْمُحَلِّقِينَ. قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: اللهم ارحم الْمُحَلِّقِينَ. قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: اللهم ارحم الْمُحَلِّقِينَ. قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: والْمُقَصِّرِينَ».

593;بد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحلق والتقصير من مناسك الحج والعمرة، والحلق أفضل من التقصير؛ لأنه أبلغ في التعبد، والتذلل لله -تعالى-، باستئصال شعر الرأس في طاعة الله -تعالى-؛ ولذا فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- دعا للْمُحَلِّقِين بالرحمة ثلاثاً، والحاضرون يذكّرونه بالْمُقَصِّرِينَ فيعرض عنهم، وفي الثالثة أو الرابعة أدخل الْمُقَصِّرِينَ معهم في الدعاء، مما يدل على أن الحلق في حق الرجال هو الأفضل.
هذا ما لم يكن في عمرة التمتع، ويضيق الوقت بحيث لا ينبت الشعر لحلق الحج، فالتقصير في حقه أفضل؛ لأنه سيحلق بعد ذلك.
576;ال مونڈنا اور انہیں چھوٹا کرنا حج اور عمرہ کے مناسک میں سے ہے۔ بال چھوٹے کرنے کی بنسبت مونڈنا زیادہ افضل ہے کیوں کہ اس میں اللہ کے سامنے بندگی اور فروتنی کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت میں سر کے بالوں کو جڑ ہی سے کاٹ دیتا ہے۔ اسی لئے نبی ﷺ نے بال مونڈنے والوں کے لیے تین دفعہ دعائے رحمت کی حالانکہ وہاں موجود لوگ آپ ﷺ کو بالوں کو چھوٹا کرنے والوں کی بھی یاد دہانی کرا رہے تھے لیکن آپ ﷺ ان کی بات سنی ان سنی کر دیتے۔ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ساتھ بالوں کو چھوٹا کرانے والوں کو شامل فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے مردوں کے حق میں بال مونڈنا زیادہ افضل ہے۔
یہ اس وقت ہے جب وہ بندہ عمرہ تمتع نہ کر رہا ہو اور وقت اتنا کم ہو کہ بال دوبارہ حج کی مناسبت سے مونڈنے کے لیے نہ اگیں، اس صورت حال میں اس کے لیے بالوں کو کٹوا کر چھوٹا کرانا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ وہ اس کے بعد (حج میں) بالوں کو منڈا سکے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7185

 
 
Hadith   1372   الحديث
الأهمية: سأل رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو على الْمِنْبَرِ: ما ترى في صلاة الليل؟ قال: مَثْنَى مَثْنَى، فإذا خَشِيَ أحدكم الصبح صلَّى واحدة، فأوترت له ما صلَّى


Tema:

ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سوال کیا، جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:دو دو رکعت (کر کے پڑھو) اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو، تو ایک رکعت پڑھ لو؛ وہ تمھاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔

عن عبد الله بن عُمر -رضي الله عنهما- قال: «سأل رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو على المِنْبَرِ: ما تَرَى في صلاة الليل؟ قال: مَثْنَى مَثْنَى، فإذا خَشِيَ أحدُكم الصبحَ صلَّى واحدة فأَوْتَرَت له ما صلَّى، وأنه كان يقول: اجعلوا آخِرَ صلاتِكم باللَّيل وِتْراً».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا (جب کہ)اس وقت آپ ﷺ منبر پر تھے کہ رات کی نماز (یعنی تہجد) پڑھنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو دو رکعت کر کے پڑھ اور جب صبح قریب ہونے لگے، تو ایک رکعت پڑھ لے۔ یہ ایک رکعت تیری ساری نماز کو طاق بنا دے گی اور آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يخطب على الْمِنْبَرِ، عن عدد ركعات صلاة الليل، وكيفيتها, فمن حرصه -صلى الله عليه وسلم- على نفع الناس، ونشر العلم فيهم، أجابه وهو في ذاك المكان، فقال: صلاة الليل مَثْنَى مَثْنَى، أي يسلم فيها المصلي من كل ركعتين، فإذا خشي طلوع الصبح، صلى ركعة واحدة فأوترت له ما صلى قبلها من الليل.
ثم أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بأن يختم العبد صلاة الليل بالوِتْر؛ إشارة منه -عليه الصلاة والسلام- بأن يختم الموفَّق حياته بالتوحيد.
وهناك صيغ أخرى لكيفية قيام الليل والوتر.
570;پ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آپ سے رات کی نماز کی رکعات کی تعداد اور اس کی کیفیت کے بارے میں پوچھا، لوگوں کو نفع پہنچانے اور ان میں علم پھیلانے کے حرص و شوق کی وجہ سے آپ ﷺ نے اسی جگہ بھی جواب دے دیا اور فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ یعنی دو رکعت کے بعد نمازی سلام پھیر دے۔ جب صبح صادق ہوجانے کا خوف ہو، تو ایک رکعت پڑھ لے، جو رات میں پہلے پڑھی گئ نمازوں کو وتر بنا دے گی۔
پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ بندہ رات کی نماز کو وتر پر ختم کرے۔ اس میں نبی ﷺ کی طرف سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باتوفیق بندے کی زندگی کا اختتام توحید پر ہو۔
رات کی نماز اور وتر کی کیفیت کے بارے میں اور بھی صیغے وارد ہوئے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7186

 
 
Hadith   1373   الحديث
الأهمية: جمع النبي -صلى الله عليه وسلم- بين المغرب والعشاء بِـجَمْع، لكل واحدة منهما إقامة، ولم يُسَبِّحْ بينهما، ولا على إثْرِ واحدة منهما


Tema:

نبی ﷺ نے جمع (مزدلفہ) میں مغرب اورعشاء (کی نماز) کو ایک ساتھ پڑھی، ان میں سے ہرایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی،اور نہ ان دونوں کے درمیان اور نہ ہی ان کے بعد کوئی نفل پڑھی۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: «جَمَع النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- بين المغرب والعشاء بِـجَمْع، لِكُلِّ واحدة منهما إقامة، ولم يُسَبِّحْ بينهما، ولا على إثْرِ واحدةٍ مِنْهُمَا».

عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمع (مزدلفہ) میں مغرب اورعشاء(کی نماز) کو ایک ساتھ پڑھی، ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی اور نہ ان دونوں کے درمیان اور نہ ہی ان کے بعد کوئی نفل پڑھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لما غربت الشمس منٍ يوم عَرَفة انصرف النبي -صلى الله عليه وسلم- منها إلى "مزدلفة"، فصلَّى بها المغرب والعشاء، جمع تأخير، بإقامة لكل صلاة، ولم يُصَلِّ نافلة بينهما؛ تحقيقاً لمعنى الجمع، ولا بعدهما؛ ليأخذ حظه من الراحة، استعداداً لما بعدها من مناسك.
593;رفہ کے دن کا سورج ڈوبنے کے بعد نبی اکرم ﷺ وہاں سے مزدلفہ کی طرف پلٹے اور وہاں پہونچ کرآخری وقت میں مغرب اورعشاء کی نماز دوالگ الگ اقامتوں سے ایک ساتھ پڑھی اوران کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی تاکہ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا جو مقصد ہےاس کو حا صل کرسکیں اور نہ ہی ان دونوں کے بعد کوئی نفل پڑھی تاکہ بھر پور آرام حاصل کر سکیں اور حج کے جو بقیہ کام ہیں ان کی ادائیگی بخوبی ہو سکے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7187

 
 
Hadith   1374   الحديث
الأهمية: صَلَّى بنا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- صلاة الخوف في بعض أيامه، فقامت طائفة معه، وطائفة بِإِزَاءِ العدو، فصلَّى بالذين معه ركعة، ثم ذهبوا، وجاء الآخرون، فصلى بهم ركعة، وقضت الطائفتان ركعة ركعة


Tema:

کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔

عن عبد الله بن عمر بن الخطاب -رضي الله عنهما- قال: « صَلَّى بنا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- صلاة الخوف في بعض أيامه، فقامت طائفة معه، وطائفة بِإِزَاءِ العدو، فصلَّى بالذين معه ركعة، ثم ذهبوا، وجاء الآخرون، فصَلَّى بهم ركعة، وقَضَتِ الطائفتان ركعة ركعة».

عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ یوں دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
صلى النبي -صلى الله عليه وسلم- صلاة الخوف بأصحابه في بعض حروبه مع المشركين حينما التقى المسلمون بعدوهم من الكفار وخافوا من شَنِّ الغارة عليهم عند اشتغالهم بالصلاة، والعدو في غير القبلة، فقسم النبي -صلى الله عليه وسلم- الصحابة طائفتين، طائفة قامت معه في الصلاة، وطائفة وجاه العدو، يحرسون المصلين.
فصلى بالتي معه ركعة، ثم ذهبوا وهم في صلاتهم فوقفوا في نحر العدو، وجاءت الطائفة التي لم تصل، فصلى بها ركعة ثم سلم النبي -صلى الله عليه وسلم-.
فقامت الطائفة التي معه أخيرًا فقضت الركعة الباقية عليها، ثم ذهبوا للحراسة، وقضت الطائفة الأولى الركعة التي عليها أيضا، وهذه صفة من الصفات الواردة لصلاة الخوف، والقصد منها كما قال ابن عباس -رضي الله عنهما-: (والناس كلهم في صلاة، ولكن يحرس بعضهم بعضا). رواه البخاري.
605;شرکین کے ساتھ مسلمانوں کی کسی جنگ میں آپ ﷺ نے لڑائی کے وقت ہمیں نماز پڑھائی۔ مسلمانوں کو خوف تھا کہ کہیں نماز میں مشغول ہونے سے کفار ان پر دھاوا نہ بول دیں، دشمن قبلے کی جانب نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا، ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے نمازیوں کے پہرے کے لیے کھڑی ہوئی۔
جو جماعت آپ کے ساتھ تھی آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ نماز کی حالت میں چلے گئے اور دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ دوسری جماعت آئی جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔
جس گروہ نے آخر میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اس نے باقی رکعات کی قضا کی اور پھر پہرہ کے لیے چلی گئی، اور پہلی جماعت نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ یہ نماز خوف پڑھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے مُراد وہ ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا: ”سب لوگ نماز میں تھے، تاہم بعض لوگ بعض کا پہرہ دے رہے تھے“۔ (بخاری)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7188

 
 
Hadith   1375   الحديث
الأهمية: لو يعلم المار بين يدي الْمُصَلِّي ماذا عليه من الإثم؟ لكان أن يَقِفَ أربعين خيرًا له من أن يَمُرَّ بين يديه، قال أَبُو النَّضْرِ: لا أدري: قال أربعين يومًا أو شهرًا أو سنةً


Tema:

اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو وہ اس کے سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو اپنے لیے بہتر سمجھے گا۔ ابو نضر (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال کہا۔

عن أبي جُهَيْمِ بنُ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأنصاري -رضي الله عنه- مرفوعًا: «لو يَعْلم المارُّ بين يَدَي الْمُصَلِّي ماذا عليه من الإثم؟ لكان أن يَقِفَ أربعين خيرًا له من أن يَمُرَّ بين يديه»، قال أَبُو النَّضْرِ: لا أدري: قال أربعين يومًا أو شهرًا أو سنةً.

ابو جہیم بن حارث بن صمّہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو وہ اس کے سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو اپنے لیے بہتر سمجھے گا“۔ ابو نضر (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال کہا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المصلي واقف بين يدي ربه -تعالى- يناجيه ويناديه، فإذا مرَّ بين يديه في هذه الحال مارّ قطع هذه المناجاة وشوّش عليه عبادته، لذا عَظُم ذنب من تسبب في الإخلال بصلاة المصلى، بمروره.
فأخبر الشارع: أنه لو علم ما الذي يترتب على مروره، من الإثم والذنب، لفَضَّل أن يقف مكانه أربعين على أن يمر أمام المصلى، مما يوجب الحذر من ذلك، والابتعاد منه، وقد شك الراوي في الأربعين: هل يراد بها اليوم أو الشهر أو العام؟ ولكن ليس المراد بهذا العدد المذكور الحصر، وإنما المراد المبالغة في النَّهْي.
606;ماز پڑھنے والا اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر اس سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اور اسے پکار رہا ہوتا ہے۔ جب اس حالت میں کوئی گزرنے والا اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ مناجات میں انقطاع پیدا کرتا ہے اور نمازی کی عبادت میں خلل ڈالتا ہے۔ اس لئے جو شخص اپنے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل انداز ہوتا ہے اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اسے علم ہو جائے کہ اس کے گزرنے پر کیا گناہ ہوتا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کو ترجیح دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل سے بچنا چاہئے اور اس سے گریز کرنا چاہئے۔ چالیس کے عدد کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ آیا اس سے مراد دن، یا مہینے، یا سال ہیں؟ تاہم اس مذکور عدد سے مراد حصر کا مفہوم پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس سے مراد ممانعت کی شدت کا بیان ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7191

 
 
Hadith   1376   الحديث
الأهمية: أمرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن نخرج في العيدين الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وأمر الحُيَّض أن يَعْتَزِلْنَ مُصلّى المسلمين


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین (کی نماز) کے لیے بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں اور حکم دیا کہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔

عن أم عَطيَّة نُسَيْبة الأنصارية -رضي الله عنها- قالت: «أَمَرَنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن نُخْرِج في العيدين الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وأَمَر الحُيَّض أن يَعْتَزِلْنَ مُصلّى المسلمين».
وفي لفظ: «كنا نُؤمر أن نَخْرُجَ يوم العيد، حتى نُخْرِجَ الْبِكْرَ من خِدْرِهَا، حَتَّى تخرجَ الْحُيَّضُ، فَيُكَبِّرْنَ بتكبيرهم ويدعون بدعائهم، يرجون بَرَكَة ذلك اليوم وطُهْرَتَهُ».

ام عطیہ نسیبہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین (کی نماز) کے لیے بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں اور حکم دیا کہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے الگ رہیں“۔
ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”ہمیں حکم تھا کہ ہم سب عید کے دن عیدگاہ میں آئیں، یہاں تک کہ ہم کنواری لڑکیوں کو بھی ساتھ لے جاتے اور حیض والی عورتوں کو بھی۔ جب مرد تکبیر کہتے تو یہ بھی کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی کرتیں اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی کو پانے کی امیدوار رہتیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يوم عيد الفطر ويوم عيد الأضحى من الأيام المفضلة، التي يظهر فيها شعار الإسلام وتتجلى أخوة المسلمين باجتماعهم وتراصِّهم، كل أهل بلد يلتمون في صعيد واحد إظهاراً لوحدتهم، وتآلفِ قلوبهم، واجتماع كلمتهم على نصرة الإسلام، وإعلاء كلمة الله وإقامة ذكر الله وإظهار شعائره.
لذا أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بخروج كل النساء، حتى على الفتيات المستورات في بيوتهن، والنساء الحُيَّض، على أن يكن في ناحية بعيدة عن المصلين، ليشهدن الخير ودعوة المسلمين فيحصل لهن مِن خير ذلك المشهد، ويصيبهن من بركته، ومن رحمة الله ورضوانه، ولتكون الرحمة والقبول أقرب إليهم.
وصلاة العيدين فرض كفاية.
593;ید الفطر اور عید الاضحی کے دن ان فضیلت کے حامل دنوں میں سے ہیں، جن میں اسلامی شعار ظاہر ہوتا ہے اور مسلمانوں کے ایک جگہ جمع ہونے اور مل مل کر کھڑے ہونے سے ان کے بھائی چارے کی جھلک ملتی ہے۔ ہر علاقے والے اپنے اتحاد، دلوں کی ہم آہنگی اور اسلام کی نصرت، اللہ کے دین کی سربلندی، اس کے ذکر کو قائم کرنے اور اس کے شعائر کے اظہار پر اپنی یک جہتی اور اتفاق کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک ہی میدان میں جمع ہوتے ہیں۔
اسی لیے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ سبھی عورتیں یہاں تک کہ اپنے گھروں میں بیٹھی پردہ نشیں لڑکیاں اور حائضہ عورتیں بھی عیدگاہ کی طرف نکلیں۔ البتہ وہ نمازیوں سے دور کسی جانب رہیں، تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اس موقع کی خیر و برکت سے بہرہ ور ہو سکیں، اللہ کی رحمت اور رضامندی حاصل کر سکیں اور تاکہ اللہ کی رحمت اور قبولیت ان کے زیادہ قریب رہے۔
عیدین کی نماز فرض کفایہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7200

 
 
Hadith   1377   الحديث
الأهمية: لا يُصَلِّي أحدكم في الثَّوْبِ الواحد، ليس على عاتقه منه شيء


Tema:

تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو

عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه مرفوعًا: «لا يُصَلِّي أحدكم في الثَّوْبِ الواحد، ليس على عاتقيه منه شيء».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
المطلوب من المُصلِّي أن يكون على أحسن هيئة، فقد قال تعالى: {يا بني آدم خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كل مَسجدٍ}. ولأن مقابلة الملوك ولقاء الأشراف والسادة؛ يتطلب من الإنسان أن يكون على أكمل الأحوال وأحسن الهيئات، فكيف بمقابلة ملك الملوك وسيد السادات؟
ولذا فإن النبي صلى الله عليه وسلم حثَّ المُصلِّي أن لا يصلِّى وعاتقاه مكشوفان مع وجود ما يسترهما أو أحدهما، ونهى عن الصلاة في هذه الحال، وهو واقف بين يدي الله يناجيه.
606;مازی سے مطلوب یہ ہے کہ وہ بہترین ہیئت اختیار کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”اے آدم کی اولاد مسجدوں میں آتے ہوئے زینت اختیار کرو“۔ اور اس لیے کہ بادشاہوں، معززین اور سرداروں سے ملنے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بہترین حالت اور ہیئت کو اختیار کرے۔ ذرا سوچئے کہ پھر جو بادشاہوں کا بادشاہ اور سرداروں کا سردار ہے اس سے کیسے ملنا چاہیے؟
اسی وجہ سے نبی ﷺ نے نمازی کو اس بات کی تلقین فرمائی کہ وہ اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں حالانکہ اس کے پاس ایسا کپڑا بھی ہو جس سے وہ ان دونوں کو یا ان میں سے ایک کو چھپا سکتا ہو۔ آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اس حال میں نماز ادا کرے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے مناجات کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 7201



© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us