Hadith Explorer em português مكتشف الحديث باللغة الإنجليزية
 
Hadith   1378   الحديث
الأهمية: أستغفر لك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قال: نعم ولك، ثم تلا هذه الآية: (واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات)


Tema:

کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔

عن عاصم الأحول، عن عبد الله بن سَرْجِسَ -رضي الله عنه- قال: قلت لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: يا رسول الله، غفر الله لك، قال: «ولك». قال عاصم: فقلت له: أستغفر لك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قال: نعم ولك، ثم تلا هذه الآية: {واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات}.

عاصم بن احول عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ آپ نے فرمایا: ”اور تمھاری بھی مغفرت فرمائے“۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انھوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر عبد الله بن سرجس -رضي الله عنه- أنه دعا للنبي -صلى الله عليه وسلم- بالمغفرة، فقابله النبي -صلى الله عليه وسلم- بالدعاء أيضا بالمغفرة، فسأل عاصمٌ الأحول عبدَ الله بن سرجس -رضي الله عنه- أستغفر لك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؟ قال: نعم، واستغفر لك أيضا، ثم استدل على ذلك بقول الله -تعالى- لنبيه -صلى الله عليه وسلم-: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلمُؤْمِنِينَ وَالمُؤْمِنَاتِ} .
593;بد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کے حق میں دعائے مغفرت کی، تو بدلے میں نبی ﷺ نے ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی۔ عاصم احول نے عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انھوں نے اس کا استدلال نبی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کیا: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8262

 
 
Hadith   1379   الحديث
الأهمية: خُلِقَت الملائكة من نور، وخلق الجان من مارج من نار، وخلق آدم مما وصف لكم


Tema:

فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی صفت (اللہ تعالیٰ نے) تمھیں بیان فرمائی ہے (یعنی خاک سے)۔

عن عائشة -رضي الله عنه- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «خُلقت الملائكة من نور، وخُلق الجَانُّ من مَارِجٍ من نار، وخُلق آدم مما وُصِفَ لكم».

عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی صفت (اللہ تعالیٰ نے) تمھیں بیان فرمائی ہے (یعنی خاک سے)“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر -صلى الله عليه وسلم- عن بدء الخلق، فذكر أن الملائكة خلقوا من النور، ولذلك كانوا كلهم لا يعصون الله ولا يستكبرون عن عبادته، أما الجن فخلقوا من نار، ولهذا يتصف كثير منهم بالطيش والعبث والعدوان، وخلق آدم مما ذكر لكم يعني خلق من طين من تراب من صلصال كالفَخار؛ لأن التراب صار طينًا ثم صار فخارًا فخلق منه آدم -عليه الصلاة والسلام-.
606;بی ﷺ نے ابتدائے آفرینش کے بارے بتاتے ہوئے فرمایا کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے؛ اسی لیے ان میں سے کوئی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا اور نہ اس کی عبادت سے روگردانی کرتا ہے۔ جب کہ جنات کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں؛ اسی وجہ سے اکثر جنات میں اوچھا پن، لغویات میں دل چسپی اور سرکشی پائی جاتی ہے۔ آدم علیہ السلام کو اس شے سے پیدا کیا، جس کے بارے میں اللہ نے تمھیں بتایا ہے، یعنی گوندھی ہوئی ٹھیکری کی مانند کھنکھناتی ہوئی مٹی سے؛ کیوںکہ مٹی پہلے گارا تھی، پھر ٹھیکری بنی اور پھر اس سے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8264

 
 
Hadith   1380   الحديث
الأهمية: كان خلق نبي الله -صلى الله عليه وسلم- القرآن


Tema:

نبی ﷺ کا اخلاق تو قرآن ہی تھا۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: كان خُلُقُ نَبي اللِه -صلى الله عليه وسلم- القرآن.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کا اخلاق تو قرآن ہی تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث أنه -صلى الله عليه وسلم- يتخلق بأخلاق القرآن، ما أمر به القرآن قام به وما نهى عنه القرآن اجتنبه، سواء كان ذلك في عبادات الله -تعالى- أو في معاملة عباد الله، فخلق النبي -صلى الله عليه وسلم- امتثال القرآن، وفي هذا إشارة من أم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها- أننا إذا أردنا أن نتخلق بأخلاق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فعلينا أن نتخلق بالقرآن.
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ اس اخلاق سے آراستہ تھے جس کا حکم قرآنِ کریم نے دیا ہے اور جس سے منع کیا ہے اس سے رکتے تھے، خواہ یہ اللہ تعالی کی عبادات کے متعلق ہو یا مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنے کے۔ آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن کریم ہے۔ اس حدیث میں امّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اشارہ ہے کہ اگر ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنانا چاہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کریم کے اخلاق کواپنائیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8265

 
 
Hadith   1381   الحديث
الأهمية: من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه


Tema:

جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ أحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءهُ» فقلتُ: يا رسولَ اللهِ، أكَراهِيَةُ المَوتِ، فَكُلُّنَا نَكْرَهُ المَوتَ؟ قال: «لَيْسَ كَذَلِكَ، ولكِنَّ المُؤْمِنَ إذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ فَأَحَبَّ اللهُ لِقَاءهُ، وإنَّ الكَافِرَ إذَا بُشِّرَ بِعَذابِ اللهِ وَسَخَطهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ وكَرِهَ اللهُ لِقَاءهُ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے“۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مطلب نہیں بلکہ (وقتِ نزع) مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی رضامندی اور اس کی جنت کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، تو اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ اور جب کافرکو (نزع کے وقت) اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: (من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه) فسألت عائشة -رضي الله عنها-: هل تعني بذلك كراهية الموت يا رسول الله، فكلنا يكره الموت؟ قال: (ليس كذلك) فأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الإنسان إذا أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، وذلك أن المؤمن يؤمن بما أعد الله للمؤمنين في الجنة من الثواب الجزيل والعطاء العميم الواسع فيحب ذلك وترخص عليه الدنيا ولا يهتم بها؛ لأنه سوف ينتقل إلى خير منها، فحينئذ يحب لقاء الله، ولاسيما عند الموت إذا بُشِّر بالرضوان والرحمة فإنه يحب لقاء الله -عز وجل-، ويشتاق إليه، فيحب الله لقاءه، أما الكافر والعياذ بالله فإنه إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله فكره الله لقاءه، ولهذا جاء في حديث المحتضر أن نفس الكافر إذا بشرت بالغضب والسخط تفرقت في جسده وأبت أن تخرج، ولهذا تنزع روح الكافر من جسده نزعًا؛ ويُكرَه على أن تخرج روحه؛ وذلك لأنه يبشر والعياذ بالله بالشر، ولهذا قال الله -تعالى-: (ولو ترى إذ الظالمون في غمرات الموت والملائكة باسطو أيديهم أخرجوا أنفسكم).
606;بی ﷺ نے فرمایا: جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ پھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مراد نہیں۔ پھر نبی ﷺ نے بتایا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اس کا مطلب يہ ہے کہ اللہ تعالی نے مومنوں کے لئے جنت میں جو عظیم اجر اور بے شمار انعامات تیار کر رکھے ہیں ان پر ایک مومن شخص کا ایمان ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کو پسند کرتا ہے اور دنیا اس کی نگاہوں میں ہیچ ہو جاتی ہے، وہ اس کی پروا نہیں کرتا؛ کیونکہ عنقریب وہ اس سے بہتر جہان کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، بالخصوص موت کے وقت جب اسے اللہ کی رضامندی اور رحمت کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالی سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اس سے ملاقات کا مشتاق ہو جاتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے۔ جب کہ اس کے بر عکس کافر شخص، العیاذ بااللہ، اسے جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضى کا مژدہ سنایا جاتا ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے. چنانچہ اللہ تعالی بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ اسی لیے جاں کنی کے بیان والی حدیث میں آیا ہے کہ کافر کی روح کو جب اللہ کے غضب اور ناراضی کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اس کے جسم میں دوڑنے اور بھاگنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے کافر کی روح اس کے جسم سے کھینچ کر نکالی جاتی ہے جبکہ وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی روح نکلے کیونکہ اسے برے انجام کی خبر دی جاتی ہے۔ العیاذ باللہ۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ﴾ ”اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ﻇالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو“۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8266

 
 
Hadith   1382   الحديث
الأهمية: شهدت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوم حنين، فلزمت أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المطلب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فلم نفارقه، ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- على بغلة له بيضاء


Tema:

میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے، رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے۔

عن أبي الفضل العباس بن عبد المطلب -رضي الله عنه- قال: شهدت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوم حُنَيْنٍ، فلَزِمْتُ أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المطلب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فلم نفارقه، ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- على بَغْلَةٍ له بيضاء، فلما التقى المسلمون والمشركون وَلَّى المسلمون مدبرين، فطَفِقَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الكفار، وأنا آخِذٌ بلِجامِ بَغْلَةِ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أَكُفُّها إِرَادَةَ أن لا تُسرع، وأبو سفيان آخِذٌ برِكاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أي عباس، نادِ أصحاب السَّمُرَةِ». قال العباس - وكان رجلا صَيِّتًا - فقلت بأعلى صوتي: أين أصحاب السَّمُرَةِ، فوالله لكأن عَطْفَتَهُم حين سمعوا صوتي عَطْفَةَ البقر على أولادها، فقالوا: يا لبيك يا لبيك، فاقتتلوا هم والكفار، والدعوةُ في الأنصار يقولون: يا معشر الأنصار، يا معشر الأنصار، ثم قُصِرَتِ الدعوة على بني الحارث بن الخَزْرَجِ، فنظر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهو على بغلته كالمتطاول عليها إلى قتالهم، فقال: «هذا حِينَ حَمِيَ الوَطِيسُ»، ثم أخذ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حَصَيَاتٍ فرمى بهن وجوه الكفار، ثم قال: «انْهَزَمُوا ورَبَّ مُحَمَّدٍ»، فذهبت أنظر فإذا القتال على هيئته فيما أرى، فوالله ما هو إلا أن رماهم بحَصياته، فما زِلْت أرى حَدَّهُم كَلِيلًا وأمرَهم مُدبرًا.

ابو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ جب مسلمانوں اور مشرکین کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان پیٹھ پھیرکر بھاگ اٹھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑ لگایا اور کفار کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور اس خیال سے اسے روک رہا تھا کہ کہیں وہ تیز نہ ہو جائے جب کہ ابوسفیان نے رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھام رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔عباس رضی اللہ عنہ جو ایک بلند آواز آدمی تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی آواز کو پوری طرح بلند کر کے پکارا: اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟۔ اللہ کی قسم! انہوں نے جب میری آواز سنی تو اس طرح پلٹے جیسے گائے اپنے بچوں پر پلٹ کر آتی ہے اور ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں کہتے ہوئے کفار سے بھڑ گئے۔ انصار میں اے انصاریو! اے انصاریو! کی پکار لگ رہی تھی۔ بعد ازاں یہ پکار صرف بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ ﷺ نے اوپر ہو کر ان کی لڑائی کو دیکھا اور فرمایا: اب میدان جنگ پوری طرح گرم ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے کچھ کنکریاں لیں اور انہیں کفار کےچہروں کی طرف پھینکا اور فرمایا: محمد کے رب کی قسم! یہ کافر شکست کھا چکے ہیں۔ میں برابر لڑائی دیکھ رہا تھا اور مجھے وہ جوں کی توں نظر آ رہی تھی لیکن اللہ کی قسم! جونہی آپ ﷺ نے ان کو اپنی وہ کنکریاں ماریں تب سے ان کی شدت میں مسلسل کمی واقع ہونا شروع ہو گئی اور وہ پسپا ہوتے چلے گئے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن أبي الفضل العباس بن عبد المطلب -رضي الله عنه- قال: شهدت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- غزوة حنين، فلما التقى المسلمون والكفار ووقع القتال الشديد فيما بينهم ولى بعض المسلمين من المشركين مدبرين، فشرع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-  يحرك بغلته برجله جهة الكفار، وأنا آخذ بلجام بغلة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمنعها لئلا تسرع إلى جانب العدو، وأبو سفيان ماسك بركاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: يا عباس، ناد أصحاب السمرة وهي الشجرة التي بايعوا تحتها يوم الحديبية، في السنة السادسة، -وكان العباس رجلا قوي الصوت- فناديت بأعلى صوتي: يا أصحاب السمرة؟ -أي: لا تنسوا بيعتكم الواقعة تحت الشجرة وما يترتب عليها من الثمرة- فقال: والله حينما سمعوا صوتي أنادي عليهم أتوا مسرعين كما تُسرع قطيع البقر إذا غابت عنها أولادها، فقالوا بأجمعهم أو واحد بعد واحد: يا لبيك يا لبيك، فاقتتل المسلمون والكفار، والنداء في حق الأنصار: يا معشر الأنصار يا معشر الأنصار.
ثم اقتصرت  الدعوة وانحصرت على بني الحارث بن الخزرج فنودي: يا بني الحارث، وهم قبيلة كبيرة، فنظر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهو على بغلته، وكأن عنقه اشرأبت مرتفعة إلى قتال هؤلاء الكافرين، فقال: هذا الزمان زمان اشتداد الحرب، ثم أخذ حصيات فرمى بهن وجوه الكفار، ثم قال -صلى الله عليه وسلم- تفاؤلًا أو إخبارًا: انهزَموا ورب محمد. فذهبت أنظر فإذا القتال على هيئته فيما أرى، فوالله ما هو إلا أن رماهم بحصياته، فما زلت أرى بأسهم ضعيفًا، وحالهم ذليلًا.
575;بو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا تو کچھ مسلمان مشرکین کو پیٹھ دے کر بھاگ اٹھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑ لگا کر اسے کفار کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور اسے دشمن کی جانب بڑھنے سے روک رہا تھا جب کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھام رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔ سمرہ (ببول) وہ درخت ہے جس کے نیچے صحابہ کرام نے ہجرت کے چھٹے سال صلح حدیبیہ کے دن بیعت کی تھی۔عباس رضی اللہ عنہ ایک قوی آواز شخص تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آواز کو پوری طرح بلند کر کے پکارا: اے اصحابِ سمرہ؟۔ یعنی درخت تلے ہونے والی اپنی اس بیعت اور اس کے تقاضے کو فراموش مت کرو۔ اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز کو سنا کہ میں انہیں پکار رہا ہوں تو وہ اس سرعت سے آئے جیسے گائیوں کے ریوڑ سے جب ان کے بچے اوجھل ہو جائیں تو وہ تیزی سے آتی ہیں۔ وہ بیک زبان یا فردا فردا کہہ رہے تھے: اے قوم! ہم حاضر ہیں، اے قوم! ہم حاضر ہیں۔ مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑائی شروع ہو گئی۔انصاریوں کے لیے یہ پکار لگ رہی تھی: اے انصاریو! اے انصاریو!۔
پھر یہ پکار صرف بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گئی اور اے بنو حارث! کی پکار لگ رہی تھی۔ بنو حارث ایک بہت بڑا قبیلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے اور اسی حالت میں آپ ﷺ نے گویا اپنی گردن بلند کرتے ہوئے ان کفار کے ساتھ لڑائی کو دیکھا اور فرمایا: اس وقت لڑائی خوب گرم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ کنکریاں اٹھا کر انہیں ان کافروں کے چہروں پر مارا اور بطور اچھے شگون یا خبر دینے کی غرض سے فرمایا کہ محمد کے رب کی قسم! یہ کفار شکست کھا چکے ہیں۔ میں دیکھنے گیا تو مجھے لڑائی اپنی حالت پر قائم نظر آئی۔ اللہ کی قسم! جب سے آپ ﷺ نے ان کو اپنی وہ کنکریاں ماریں، تب سے ان کازور ٹوٹنا شروع ہو گیا اور اُن کی حالت مسلسل ابتر ہو نے لگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8267

 
 
Hadith   1383   الحديث
الأهمية: سيحان وجيحان والفرات والنيل كل من أنهار الجنة


Tema:

سيحان، جيحان، فرات اور نيل سب جنت کی نہریں ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: « سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالفُرَاتُ والنِّيل كلٌّ من أنهار الجنة».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سيحان، جيحان، فرات اور نيل سب جنت کی نہریں ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سيحان وجيحان، والفرات والنيل أربعة أنهار في الدنيا وصفها النبي -صلى الله عليه وسلم- بأنها من أنهار الجنة؛ فقال بعض أهل العلم: إنها من أنهار الجنة حقيقة لكنها لما نزلت إلى الدنيا غلب عليها طابع أنهار الدنيا وصارت من أنهار الدنيا.
575;س دنیا کی چار نہریں سيحان، جيحان، فرات اور نيل کو آپ ﷺ نے جنت کی نہریں قرار دیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت میں جنت کی نہریں تھیں لیکن جب انہیں دنیا میں اتارا گیا تو ان پر دنیا کی نہروں کی فطرت و طبیعت غالب آگئی اور یہ دنیا کی نہروں میں سے ہو گئیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8268

 
 
Hadith   1384   الحديث
الأهمية: أحاديث في فضل مجالس الذكر


Tema:

مجالسِ ذکر کی فضیلت سے متعلق احادیث

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إنَّ لِلَّه تعالى ملائكة يَطُوفُون في الطُّرُق يلْتَمِسُون أهل الذِّكْر، فإذا  وَجَدُوا قوماً يذكرون الله عز وجل تَنَادَوا: هَلُمُّوا إلى حاجَتِكُم، فَيَحُفُّونَهُم بِأَجْنِحَتِهِم إلى السَّماء الدُّنيا، فيَسألُهُم رَبُّهُم -وهو أعلم-: ما يقول عِبَادي؟ قال: يقولون: يُسَبِّحُونَك، ويُكَبِّرُونك، وَيَحْمَدُونَك، ويُمَجِّدُونَكَ، فيقول: هل رَأَوني؟ فيقولون: لا والله ما رَأَوك. فيقول: كيف لو رَأَوني؟! قال: يقولون: لو رأَوك كَانُوا أشَدَّ لك عبادة، وأشَدَّ لك تمْجِيداً، وأكْثر لك تسبيحاً. فيقول: فماذا يسألون؟ قال: يقولون: يَسْألُونك الجنَّة. قال: يقول: وهل رَأَوهَا؟ قال: يقولون: لا والله يا رب ما رأَوْهَا. قال: يقول: فَكَيف لو رَأَوْهَا؟ قال: يقولون: لو أنَّهُم رَأَوهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيها حِرصاً، وأشَدَّ لهَا طلباً، وأَعْظَم فِيهَا رغبةً. قال: فَمِمَّ يَتَعَوَذُون؟ قال: يقولون: يَتَعَوذُون من النَّار؛ قال: فيقول: وهل رأوها؟ قال: يقولون: لا والله ما رأوها. فيقول: كيف لو رأوها؟! قال: يقولون: لو رأوها كانوا أشدَّ مِنها فِراراً، وأشدَّ لها مَخَافَة. قال: فيقول: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قال: يقول ملَك مِن الملائكة: فيهم فلان ليس منهم، إنما جاء لحاجة، قال: هُمُ الجُلَسَاء لا يَشْقَى بهم جَلِيسُهُم».
وفي رواية: عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن لله ملائكة سَيَّارة فُضُلاً يَتَتَبَّعُون مجالِسَ الذكر، فإذا وجدوا مَجْلِساً فيه ذِكْرٌ، قَعَدُوا معهم، وحَفَّ بعضُهم بعضاً بأجنحتهم حتى يمْلَؤُوا ما بينهم وبين السماء الدنيا، فإذا تَفرقوا عرجوا وصعدوا إلى السماء، فيسألهم الله -عز وجل- وهو أعلم -: من أين جئتم؟ فيقولون: جئنا من عند عباد لك في الأرض: يسبحونك، ويكبرونك، ويهللونك، ويحمدونك، ويسألونك. قال: وماذا يسألوني؟ قالوا: يسألونك جنتك. قال: وهل رأوا جنتي؟ قالوا: لا، أي رب. قال: فكيف لو رأوا جنتي؟! قالوا: ويستجِيرُونَك. قال: ومم يَسْتجيروني؟ قالوا: من نارك يا ربّ. قال: وهل رأوا ناري؟ قالوا: لا، قال: فكيف لو رأوا ناري؟! قالوا: ويستغفرونك؟ فيقول: قد غفرت لهم، وأعطيتهم ما سألوا، وأجرتهم مما استجاروا. قال: فيقولون: رب فيهم فلان عبد خَطَّاء إنما مرَّ، فجلس معهم. فيقول: وله غفرت، هم القوم لا يشقى بهم جليسُهُم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اوراللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جب وہ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہوگیا۔ پھر وہ نچلے آسمان تک اپنے پروں سے انہیں گھیر لیتے ہیں۔ (پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں ) پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے.حالاں کہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟وہ جواب دیتے ہیں کہ: وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی بیان کر رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ کہا :کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ! انھوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا اگر وہ مجھے دیکھ لیتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدارکرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی اورزیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح اور زیادہ کرتے۔ پھراللہ تعالیٰ دریافت کرتاہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟کہا ،فرشتے جواب دیتے ہیں کہ واللہ ! انھوں نے تیری جنت کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالَمْ ہوتا اگر انھوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ حریص اور اس کے خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انھوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ، انھوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انھوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کردی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ: ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ: یہ ( ذاکرین ) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو (اللہ کی زمین میں) چکر لگاتے رہتے ہیں، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ کا) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور نچلے آسمان کے درمیان (کی وسعت) کو بھر دیتے ہیں۔ جب (مجلس میں شریک ہونے والے) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ (فرشتے) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں، راوی نے کہا: تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے. حالاں کہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے. تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں (رہنے والے) تیرے بندوں کی طرف سے (ہو کر) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھ ہی سے مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انھوں نے کہا:وہ تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے۔ فرمایا: کیا انھوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: پروردگار! نہیں، فرمایا: اگر انھوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں: اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انھوں نے کہا: تیری آگ (جہنم) سے، اے رب! فرمایا: کیا انھوں نے میری آگ (جہنم) دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: اے رب! نہیں ، فرمایا: اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو (ان کا کیا حال ہوتا!) وہ کہتے ہیں: وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے، تو وہ فرماتا ہے: میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انھوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انھوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی۔ (رسول اللہ ﷺ نے) فرمایا: وہ (فرشتے) کہتے ہیں: پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا، سخت گناہ گار بندہ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ فرمایا: تو اللہ ارشاد فرماتا ہے:’’میں نے اس کو بھی بخش دیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا‘‘۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقصُّ هذا الحديث مظهرا من مظاهر تعظيم مجالس الذكر، حيث يقول النبي صلى الله عليه وسلم:
"إن لله ملائكة يطوفون في الطُرُق يلتمسون أهل الذكر" أي أن الله كلَّف طائفة مخصوصة من الملائكة غير الحفظة للسياحة في الأرض، يدورون في طرق المسلمين ومساجدهم، ودورهم، يطلبون مجالس الذكر، يزورونها ويشهدونها ويستمعون إلى أهلها. قال الحافظ: والأشبه اختصاص ذلك بمجالس التسبيح ونحوها.
فإذا "وجدوا قوماً يذكرون الله عز وجل " وفي رواية مسلم " فإذا وجدوا مجلساً فيه ذكر تنادوا " أي نادى بعضهم بعضاً " أن هلموا إلى حاجتكم " وفي رواية إلى بغيتكم، أي تعالوا إلى ما تبحثون عنه من مجالس الذكر، والوصول إلى أهلها، لتزوروهم، وتستمعوا إلى ذكرهم.
قال عليه الصلاة والسلام في وصف الملائكة، وهم في مجالس الذكر: " فيحفونهم" أي يحيطون بهم إحاطة السوار بالمعصم.
"فيحفونهم بأجنحتهم " أي يطوفون حولهم بأجنحتهم " إلى السماء " أي حتى يصلوا إلى السماء.
ثم يقص عليه الصلاة والسلام المحاورة التي جرت بين رب العزة والجلال، وبين ملائكته الكرام:
فيقول الله جل في علاه: "فيسألهم ربُّهم وهو أعلم بهم" أي وهو أكثر علماً بأحوالهم، تنويهاً بشأنهم في الملأ الأعلى؛ ليباهى بهم الملائكة: "ما يقول عبادي؟ فتجيب الملائكة: يسبحونك، ويكبرونك، ويحمدونك ويمجدونك "، أي فتقول الملائكة: إن هؤلاء الذاكرين يقولون: سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلاّ الله، والله أكبر، فالتمجيد هو قول لا إله إلاّ الله؛ لما فيه من تعظيم الله تعالى، بتوحيد الألوهية.
فيقول الله جل في علاه: "هَلْ رَأوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُون: لا وَاللهِ مَا رَأوْكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: فكَيْفَ لَوْ رَأوْنِي؟ "
فتجيب الملائكة الكرام: " لو رأوك كانوا أشد لك عبادة، وأشد تمجيداً وأكثر لك تسبيحاً " لأنّ الاجتهاد في العبادة على قدر المعرفة.
ثم يقول الله تبارك وتعالى: " قال: فما يسألونني؟ " أي فماذا يطلبون مني.
فتقول الملائكة:" قالوا: يسألونك الجنة " أي يذكرونك، ويعبدونك طمعاً في جنتك.
فتجيب الملائكة: "لو رأوها كانوا أشد عليها حرصاً " أي لكانوا أكثر سعياً إليها؛ لأنه ليس الخير كالمعاينة.
فيقول الله جل جلاله" قال: فمِمَّ يتعوذون " أي فأي شيء يخافون منه، ويسألون ربهم أن يجيرهم منه.
فتجيب الملائكة: " من النار " أي يذكرون ويعبدون ربهم خوفاً ًمن النار، ويسألونه عز وجل أن يجيرهم منها.
فيقول الله جل جلاله: " فَكَيْفَ لَوْ رَأوْهَا؟"
فتجيب الملائكة:" لو رأوها كانوا أشد منها فراراً " أي لكانوا أكثر اجتهاداً في الأعمال الصالحة التي هي سبب في النجاة من النار.
فيقول الله جل جلاله: " قال: فيقول: فأشهدكم أني قد غفرت لهم " أي قد غفرت لهم ذنوبهم.
فيقول ملك من الملائكة: "فيهم فلان ليس منهم، إنَّما جاء لحاجة " أي إنه يوجد من بين هؤلاء الذاكرين" فلان": وهو ليس منهم، ولكنه جاء لحاجة يقضيها فجلس معهم، فهل يغفر له؟ فيقول الله جل في علاه ما معناه: هم الجلساء لا يشقى جليسهم ولا يخيَّب.
740;ہ حدیث مجالسِ ذکر کی تعظیم کے مظاہر میں سے ایک مظہر بیان کر رہی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کا ذکر اذکار کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا ایک خاص گروہ مقرر کیا ہے جو زمین میں حفاظت کے لیے مامور نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے راستوں اور مساجد کے اردگرد چکر لگاتے ہیں۔ان چکروں کے ساتھ وہ ذکر کی مجالس تلاش کرتے، اس میں حاضر ہوتے اور اہل مجلس کے ذکر کو سنتے ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ : یہ غالب حد تک تسبیح وغیرہ کی مجالس کے ساتھ خاص ہے۔
”پس جب وہ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب وہ کسی ایسی مجلس کو پا تے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے تو ایک دوسرے کو آواز لگاتے ہیں“یعنی ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، کہ اپنی طلب کی طرف آؤ اور ایک روایت میں ہے ”اپنی تلاش کی طرف“ یعنی ذکر کی جس مجلس کو تلاش کر رہے ہو اس کی طرف آؤ۔ اس مجلس میں بیٹھے لوگوں کی طرف پہنچو تاکہ ان کی زیارت کرسکو اور ان کے ذکر کو سُنْ سکو۔
جب وہ فرشتے ذکر کی مجلسوں میں ہوتے ہیں تو ان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا ”فَيَحُفُّونَهُمْ“ یعنی وہ اپنے پروں سے ان کو گھیر لیتے ہیں، جس طرح کنگن کلائی کو گھیر لیتا ہے۔
”انھیں اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں“ یعنی مجلس کے ارد گرد اپنے پروں سے گھومتے ہیں۔آسمان تک یعنی ایسا کرتے ہوئے وہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اللہ رب العزت اور فرشتوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہےحالاں کہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے، یعنی وہ ان کے حالات سے بخوبی واقف ہے، ایسا وہ صرف ملاء اعلیٰ میں ان کی بلندیٔ شان کے بیان اور فرشتوں کے سامنے فخرکرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے کیا کہتے تھے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں وہ تیری تسبیح ،تکبیر، حمد اور بزرگی بیان کرتے ہیں، یعنی فرشتے کہتے ہیں کہ یہ ذکر کرنے والے سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلاّ الله، والله أكبر (اللہ پاک ہے،تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی اور حقیقی معبود نہیں ہے اور اللہ بہت بڑا ہے) کہتے ہیں۔ ’تمجید‘ سے مراد ان کا یہ قول ہے ’’لا إله إلاّ الله‘‘ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں) کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید الوہیت کے ساتھ اس کی تعظیم بیان کی جار ہی ہے۔ اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ واللہ! انھوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔تو اللہ فرماتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہوگا؟، فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی اورزیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح اور زیادہ کرتے، اس لیے معرفت کے مطابق عبادت و ریاضت میں زیادتی و اضافہ ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتاہے : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ یعنی مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے، یعنی جنت کی خواہش کے ساتھ تیرا ذکر اور تیری عبادت کرتے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے تیری جنت کو دیکھا ہوتا تو اس کے اور بھی زیادہ خواہش مند ہوتے، یعنی اس کے لیے اور زیادہ کوشش کرتے کیوں کہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ (خبر آنکھوں دیکھی بات کی طرح نہیں ہوتی)؟!۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ یعنی کس چیز سے وہ ڈرتے تھے اور اپنے رب سے اس سے بچائے رکھنے کا سوال کرتے تھے؟ تو فرشتے جواب دیتے ہیں: آگ سے، یعنی وہ جہنم سے ڈرتے ہوئے اپنے رب کا ذکر اور اس کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس سے بچائے رکھنے کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اگر وہ اس کو دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو ؟، فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اس کو دیکھ لیں تو اس سے اور زیادہ دور بھاگیں، یعنی وہ نیک اعمال کو اختیار کرنے کی اور زیادہ کوشش کریں جوکہ جہنم سے بچاؤ کا سبب ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے، یعنی میں نے ان کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا۔
ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: فلاں شخص ان میں سے نہیں تھا وہ کسی کام سے آیا تھا، یعنی ان ذکر کرنے والوں کے ساتھ ایک شخص ایسا بھی تھا جو ان میں سے نہیں تھا بلکہ وہ اپنے کسی کام سے آیا تھا اور جس سے کام تھا وہ اس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، کیا اسے بھی بخش دیا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی بدبخت اور محروم نہیں رہ سکتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8272

 
 
Hadith   1385   الحديث
الأهمية: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت


Tema:

اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گنا ہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جا ننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔

عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- أنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قامَ إلى الصلاة، قال: «وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفًا، وما أنا من المشركين، إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين، اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت، لبَّيْك وسَعْدَيْك، والخيرُ كله في يديك، والشر ليس إليك، أنا بك وإليك، تباركتَ وتعاليتَ، أستغفرك وأتوب إليك»، وإذا ركع، قال: «اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي»، وإذا رفع، قال: «اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد»، وإذا سجد، قال: «اللهم لك سجدتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين»، ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهُّد والتسليم: «اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت».

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تو (’’اللہ اکبر‘‘ کہتے پھر) یہ دعا پڑھتے: ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ“ میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے سا تھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ میری صلاۃ، میری قربانی ، میرا جینا ا ور مر نا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تا بع دار ہوں۔ اے اللہ! تو باد شاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلا ق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عا دتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے۔ میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیر ا ہوں اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی بر کت والا اور بہت بلند وبالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضو ر توبہ کرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي“ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع دار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ“ اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعر یف کی، اے ہمارے رب !تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس کے بعد جو کچھ تو چا ہے اس کے برابر۔
اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے : ”اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“ اے اللہ!میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بر دار و تابع دار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی ، اس کے کان اور آنکھ بنائے۔ اللہ کی ذات بڑی با بر کت ہے وہ بہترین تخلیق فرما نے والا ہے۔
اور جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے در گزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة قال: «وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض» أي: توجَّهت بالعبادة، بمعنى: أخلصتُ عبادتي لله الذي خلق السماوات والأرض من غير مثال سبق، وأعرضتُ عما سواه، فإنَّ من أوجد مثل هذه المخلوقات التي هي على غاية من الإبداع والإتقان حقيق بأن تتوجَّه الوجوه إليه، وأن تعتمد القلوب في سائر أحوالها عليه، ولا تلتفت لغيره، ولا ترجو إلا دوام رضاه وخيره، «حنيفًا وما أنا من المشركين» أي: مائلًا عن كل دين باطل إلى الدين الحق دين الإسلام ثابتا عليه، وهو عند العرب غلب على من كان على ملة إبراهيم عليه السلام.
ثم قال: «إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين» أي: صلاتي وعبادتي وتقرُّبي كل ذلك خالص لوجه الله, لا أشرك فيه غيره، وكذلك حياتي وموتي لله هو خالقهما ومقدِّرهما، لا تصرُّف لغيره فيهما، لا شريك له سبحانه في ذاته وصفاته وأفعاله، وقد أمرني ربي بهذا التوحيد والإخلاص، وأنا من المسلمين المنقادين والمطيعين له سبحانه.
ثم قال: «اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» أي: يا الله، أنت الملك فلا مَلِك غيرك، ولا مُلْك في الحقيقة لغيرك، وأنت المنفرد بالألوهية فلا معبود بحق إلا أنت، وأنت ربي وأنا عبدك، وقد ظلمتُ نفسي بالغفلة عن ذكرك وبعمل المعاصي والذنوب، وقد اعترفتُ بذنوبي، فاغفر لي ذنوبي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت؛ فإنك أنت الغفار الغفور.
ثم قال: «واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت» أي: دلَّني ووفِّقني وثبِّتني وأوصلني لأحسن الأخلاق في عبادتك وغيرها من الأخلاق الحسنة الطيبة الظاهرة والباطنة، فإنك أنت الهادي إليها، لا هادي غيرك، وأبعدني واحفظني من سيئ الأخلاق، فإنه لا يبعدني ويحفظني منها إلا أنت.
ثم قال: «لبَّيْك وسَعْدَيْك» أي: أدوم على طاعتك دوامًا بعد دوام، وأسعد بإقامتي على طاعتك وإجابتي لدعوتك سعادة بعد سعادة.
ثم قال: «والخيرُ كله في يديك» أي: والخير كله في تصرفك، أنت المالك له المتصرِّف فيه كيف تشاء. «والشر ليس إليك» أي: إنما يقع الشر في مفعولاتك ومخلوقاتك لا في فعلك سبحانه، فالشر لا يُضاف إليه سبحانه بوجه، لا في ذاته ولا في صفاته ولا في أفعاله ولا في أسمائه، فإن ذاته لها الكمال المطلق من جميع الوجوه، وصفاته كلها صفات كمال، ويُحمد عليها ويُثنى عليه بها، وأفعاله كلها خير ورحمة وعدل وحكمة، لا شر فيها بوجه ما، وأسماؤه كلها حسنى، فكيف يُضاف الشر إليه؟ بل الشر في مفعولاته ومخلوقاته وهو منفصل عنه؛ إذ فعله غير مفعوله، ففعله خير كله، وأما المخلوق المفعول ففيه الخير والشر، وإذا كان الشر مخلوقًا منفصلًا غير قائم بالرب سبحانه فهو لا يُضاف إليه، وليس في هذا حجة للمعتزلة الذين يزعمون أن الله لم يخلق الشر، فالله خالق الخير والشر وخالق كل شيء سبحانه.
«أنا بك وإليك» أي: أعوذ وأعتمد وألوذ وأقوم بك، وأتوجَّه وألتجئ وأرجع إليك، أو بك وحَّدت وإليك انتهى أمري، فأنت المبدأ والمنتهى، وقيل: أستعين بك وأتوجه إليك.
«تباركتَ وتعاليتَ» أي: تعظَّمت وتمجَّدت وتكاثر خيرك، وتعاليت عما توهمته الأوهام وتصورته العقول، وتنزَّهت عن كل نقص وعيب.
«أستغفرك وأتوب إليك» أي: أطلب المغفرة لما مضى، وأرجع عن فعل الذنب فيما بقي، متوجِّهًا إليك بالتوفيق والثبات إلى الممات.
وإذا ركع، قال: «اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي» أي ركوعي لك وحدك مخلصًا لك، وقد آمنت بك، وانقدتُ لك، وجوارحي كلها -مِن سمع وبصر ومخ وعظم وعصب- ذليلة منقادة لأمرك.
 وإذا رفع رأسه من الركوع قال: «اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد» أي: أحمدك حمدًا لو كان أجسامًا لملأ السماوات والأرض، وملأ ما يشاء من خلقك بعد السماوات والأرض.
وإذا سجد، قال: «اللهم لك سجدتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين» أي: سجودي لك وحدك مخلصًا لك، وقد آمنت بك، وانقدتُ لك، وجوارحي كلها التي خلقتها وصوَّرتها ذليلة منقادة لأمرك، تبارك الله أحسنُ الخالقين.
ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهُّد والتسليم: «اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت» أي: اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ من الذنوب وما أخَّرتُ منها، كأنه قال: اغفر لي القديم والحديث «وما أسررتُ وما أعلنتُ» أي: اغفر لي ما أخفيت وما أظهرت، أو ما حدَّثتُ به نفسي وما تحرَّك به لساني «وما أسرفت»  أي: اغفر لي ما جاوزت فيه الحد من الذنوب والمعاصي «وما أنت أعلم به مني» أي: واغفر لي ذنوبي التي لا أعلمها «أنت المقدِّم وأنت المؤخِّر» معناه: تقدِّم من شئت بطاعتك وغيرها وتؤخِّر من شئت عن ذلك، كما تقتضيه حكمتك، وتعز من تشاء وتذل من تشاء «لا إله إلا أنت» أي: لا معبود بحق إلا أنت.
606;بی ﷺ جب صلاۃ (نماز) کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے: ”وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض“ یعنی اپنی عبادت کے ساتھ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ معنیٰ یہ ہے کہ میں اپنی عبادت کو خالصتاً اللہ کے لیے کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور اس کے علاوہ تمام اشیاء سے میں منہ موڑتا ہوں۔جس نے اس طرح کی مخلوقات پیدا کی ہیں جو انوکھے پن اور اتقان میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں وہ اس لائق ہے کہ چہروں کا رخ اسی کی طرف ہو اور تمام احوال میں دل اسی پر تکیہ کریں اور اس کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کی رضا و خیر کے دوام کے سوا ان کی کوئی اور آرزو نہ ہو۔ ”حنيفًا وما أنا من المشركين“ یعنی میں ہر باطل دین سے ہٹ کر دین حق کی طرف آنے والا اور اس پر ثابت قدم رہنے والا رہوں۔ عربوں کے ہاں اس لفظ کا استعمال اس شخص کے لیے عام ہو گیا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہوتا۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين“ یعنی میری نماز، میری عبادت اور میری نیکی سب کچھ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ اس میں میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ اسی طرح میری زندگی اور موت اللہ کے لیے ہے۔ وہی ان کا خالق اور ان کا مقدر کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کسی کو ان میں تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں پاک ہے۔ میرے رب نے مجھے اس توحید و اخلاص کا حکم دیا ہے اور میں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے والے فرماں بردار اور اطاعت گزار بندوں میں سے ہوں۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت“ یعنی اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ بادشاہت درحقیقت تیرے سوا کسی کی نہیں۔ الوہیت میں تو یکتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ تیرے ذکر سے غافل ہو کر اور معاصی و گناہوں کا ارتکاب کر کے میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ تو ہی غفار و غٖفور ہے۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت“ کہ بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما، مجھے انہیں اپنانے اور ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اپنی عبادت اور دیگر معاملات میں مجھے ظاہری و باطنی بہترین اور پاکیزہ اخلاق تک رسائی عطا فرما۔ان کی طرف رہنمائی کرنے والا تو ہی تو ہے۔ تیرے سوا کوئی راہنما نہیں۔ برے اخلاق سے مجھے دور رکھ اور ان سے میری حفاظت فرما۔ان سے دور رکھنے والا اور ان سے حفاظت کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”لبَّيْك وسَعْدَيْك“ یعنی تیری اطاعت پر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوں اور اس اطاعت پر قائم رہنے اور تیری پکار کا جواب دینے کی مجھے خوشی در خوشی ہے۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”والخيرُ كله في يديك“ خیر سب کی سب تیرے تصرف میں ہے۔ تو ہی اس کا مالک ہے اور اس میں تیری منشا کے مطابق بس تیرا ہی اختیار چلتا ہے۔
”والشر ليس إليك“ یعنی شر تیرے مفعولات اور مخلوقات میں ہوتا ہے نہ کہ فعل میں۔ شر کی نسبت کسی بھی صورت میں اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف نہیں کی جاسکتی، نہ اس کی ذات کی طرف اور نہ ہی صفات کی طرف اور نہ ہی اس کے افعال و اسماء کی طرف۔ اللہ کی ذات کو ہر طرح سے کمال مطلق حاصل ہے اور اس کی تمام صفات کامل صفات ہیں جن پر اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔ اللہ کے تمام افعال خیر و رحمت اور عدل و حکمت سے مرکب ہیں۔ ان میں کسی بھی طور پر شر نہیں ہوتا۔ اس کے تمام اسماء حُسن وخوبی سے متصف ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف شر کی نسبت کیسے کی جا سکتی ہے؟ بلکہ شر اس کے مفعولات و مخلوقات میں ہوتا ہے جو اس کی ذات سے الگ ہے۔ کیونکہ اس کا فعل، مفعول نہیں ہے۔ اس کا فعل تو سب کا سب خیر ہے۔ جب کہ مخلوق جو فعل کا نتیجہ ہوتی ہے اس میں خیر بھی ہوتی ہے اور شر بھی۔ جب شر ایک ایسی شے ہے جو الگ سے ایک مخلوق ہے اور رب تعالی شانہ کے ساتھ اس کا وجود قائم نہیں تو اس کی نسبت بھی اس کی طرف نہیں کی جائے گی۔ اس میں معتزلہ کی حجت نہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شر کو پیدا نہیں کیا۔ اللہ خیر و شر اور ہر شے کا خالق ہے۔
”أنا بك وإليك“ یعنی میں تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں، تجھ ہی پر تکیہ کرتا ہوں، تیری حفاظت میں آتا ہوں اور تیرے سہارے ہی قائم ہوں۔ میرا رخ تیری طرف ہے اور میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔یا پھر یہ معنی ہے کہ میں تجھ ہی سے مربوط ہوں اور میرے معاملے کی انتہا تو ہی ہے۔ تو ہی مبدأ ہے اور تو ہی منتہا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے: میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔
”تباركتَ وتعاليتَ“ یعنی تو عظیم و بزرگ ذات ہے اور تیری بھلائیاں بہت زیادہ ہیں۔ تو ان تمام باتوں سے بالا تر ہے جنہیں اوہام اور عقلیں تصور کرتی ہیں اور تو ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ ”أستغفرك وأتوب إليك“ میں تجھ سے گزشتہ گناہوں پر مغفرت طلب کرتا ہوں اور باقی زندگی میں، مَیْں گناہ سے منہ موڑتا ہوں اور تاوقتِ مرگ توفیق و ثابت قدمی سے تیری طرف متوجہ رہنے کا عزم کرتا ہوں۔
جب آپ ﷺ رکوع فرماتے تو کہتے: ”اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي“ یعنی میرا رکوع خالصتاً صرف تیرے لیے ہے، میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء یعنی کان، آنکھ، مغز، ہڈی اور اعصاب سب کے سب تیرے حکم کے سامنے ہیچ اور اس کے پابند ہیں۔
جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے: ”اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد“ یعنی میں تیری ایسی حمد کرتا ہوں کہ اگر اس کا جسم ہوتا تو یہ آسمانوں اور زمین اور آسمانوں اور زمین کے بعد ہر اس شے کو بھر دیتی جسے تو چاہتا۔
جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اللهم لك سجدتُ،وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين“ یعنی میرا سجدہ خالصتاً صرف تیرے لیے ہے۔میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء جنہیں تو نے پیدا کیا ہے اور انہیں شکل دی ہے وہ سب تیرے حکم کے پابند ہیں۔
”تبارک اللہ احسن الخالقین“بابرکت ہے وہ ذات باری تعالیٰ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والی ہے۔
تشہد اور سلام کے مابین آخر میں آپ ﷺ یہ کہتے: ”اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت“ یعنی اے اللہ! میرے گزشتہ اور آئندہ گناہ معاف فرما۔ گویا کہ آپ ﷺ یہ کہتے کہ میرے پرانے اور نئے سب گناہ معاف فرما۔ ”وما أسررتُ وما أعلنتُ“ یعنی میرے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف فرما یا وہ گناہ معاف فرما جن کا خیال میرے دل میں آیا اور وہ بھی جو میری زبان تک آ گئے۔ ”وما أسرفت“ یعنی میرے اُن گناہوں اور معصیتوں کو معاف فرما جن میں میں نے حد سے تجاوز کیا۔ ”وما أنت أعلم به مني“ یعنی میرے وہ گناہ بھی معاف فرما جن کو میں نہیں جانتا۔ ”أنت المقدِّم وأنت المؤخِّر“ معنی یہ کہ اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت اپنی طاعت وغیرہ کی بدولت تو جسے چاہتا ہے آگے کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ذلیل کر دیتا ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8280

 
 
Hadith   1386   الحديث
الأهمية: قمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة، فقام فقرأ سورة البقرة، لا يمر بآية رحمة إلا وقف فسأل، ولا يمر بآية عذاب إلا وقف فتعوذ


Tema:

میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔

عن عوف بن مالك الأشجعي -رضي الله عنه- قال: قمتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلةً، فقام فقرأ سورةَ البقرة، لا يَمُرُّ بآية رحمةٍ إلا وقفَ فسأل، ولا يَمُرُّ بآية عذابٍ إلَّا وقف فتعوَّذ، قال: ثم ركع بقَدْر قيامِه، يقول في ركوعه: «سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ»، ثم سجد بقَدْر قيامه، ثم قال في سجوده مثلَ ذلك، ثم قام فقرأ بآل عمران، ثم قرأ سورةً سورةً.

عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بقدر قیام رکوع کیا اور آپ ﷺ اپنے رکوع میں فرما رہے تھے: ’’سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمة‘‘ (پاک ہے وہ ذات جو بڑے قہر وغلبے، بڑی بادشاہت، نہایت بڑائی اور بے حد عظمت والی ہے)۔ پھر قیام ہی کے بقدر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں بھی آپ ﷺ نے یہی دعا پڑھی۔ پھر آپ ﷺ ( دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے اور سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورت پڑھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلةً قيام الليل، فقام صلى الله عليه وسلم فقرأ سورة البقرة، فكان لا يمر بآية يُذكر فيها الرحمة والجنة إلا سأل الله رحمته وجنته، ولا يمر بآية يُذكر فيها العذاب إلا استعاذ بالله من عذابه، ثم ركع طويلًا بقدر قيامه، وقال في ركوعه: «سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ» أي: أُنَزِّه اللهَ صاحب القهر والغلبة، وصاحب الملك ظاهرًا وباطنًا، وصاحب الكبرياء، وصاحب العظمة، ثم سجد بقَدْر قيامه، ثم قال في سجوده مثلَ ما قال في ركوعه، ثم قام فقرأ بآل عمران، ثم قرأ سورةً سورةً.
593;وف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز تہجد ادا کی۔آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور سورۂ بقرہ کی تلاوت فرمائی۔ آپ ﷺ جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں رحمت اور جنت کا ذکر ہوتا تو اللہ سے اس کی رحمت اور جنت کا سوال کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر لمبا رکوع کیا اور اپنے رکوع میں آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے: " سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ "۔ یعنی میں پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس ذات کی جو زبردست اور غالب ہے، جو ظاہری وباطنی بادشاہت کا مالک ہے اور بڑائی وعظمت والا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں وہی دعا پڑھی جو آپ ﷺ نے اپنے رکوع میں پرھی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی اور پھرایک ایک سورت کی تلاوت فرمائی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8281

 
 
Hadith   1387   الحديث
الأهمية: وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا بغير حساب، ولا عذاب مع كل ألف سبعون ألفا وثلاث حثيات من حثيات ربي


Tema:

میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستّر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور ( ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے۔

عن أبي أمامة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «وَعَدَني ربِّي أنْ يُدْخِلَ الجنةَ من أُمَّتي سبعين ألفًا بغير حسابٍ ولا عذابٍ، مع كلِّ ألفٍ سبعون ألفًا، وثلاثُ حَثَيَاتٍ مِن حَثَيَاتِ ربِّي».

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور (ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الله -تعالى- وعده أنه سيُدخِل الجنةَ سبعين الفًا من هذه الأمة من غير حساب ولا عذاب، وسيُدخِل مع كل ألف سبعين ألفًا آخرين، وسيقبض الله بيده الكريمة ثلاث قبضات ويدخلهم الجنة.
606;بی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل کرے گا اور ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار دیگر لوگوں کو بھی جنت میں داخل کر دے گا اور اللہ اپنے بزرگی والے ہاتھ سے مزید تین لپ بھر کر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8282

 
 
Hadith   1388   الحديث
الأهمية: إن الرحم شجنة آخذة بحجزة الرحمن، يصل من وصلها، ويقطع من قطعها


Tema:

”رحم“ ایک شاخ ہے، جس نے حجزۃ الرحمن تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑےگا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا، اللہ اسے توڑے دے گا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «إنَّ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ آخذةٌ بحُجْزَةِ الرَّحمنِ، يَصِلُ مَن وَصَلَها، ويقطعُ مَن قَطَعَها».

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رحم ایک شاخ ہے، جس نے حجزۃ الرحمن (حجزۃ: یہ مخلوق کے ازار باندھنے کی جگہ ہے، رہا اس کا معنی اللہ تعالی کے حق میں، تو وہ اس کی عظمت وجلالت کے شایان شان ہے) تھامے رکھا ہے، جو اسے جوڑے گا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا، اللہ اسے توڑے دے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الرَّحِم لها تعلُّق بالله -عز وجل-، فقد اشتُقَّ اسمها من اسم الرحمن، وهذا الحديث في الجملة من أحاديث الصفات، التي نص الأئمة على أنه يُمر كما جاء، وردوا على من نفى موجبه، والحُجزة على ذلك من الصفات التي يجب الإيمان بها من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل، فنؤمن بأن الرحم وهي القرابة تعتصم بها، وأن الله عز وجل يصل من وصلها، ومن قطع رحمه ولم يصل قرابته، قطعه الله، ومن قطعه الله فهو المقطوع مع عدو الله الشيطان الطريد الرجيم، ولو أراد الخلق كلهم صلته ونفعه، لم يفده ذلك.

Esin Hadith Caption Urdu


”رحم“ یعنی صلہ رحمی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ یہ نام لفظِ رحمٰن سے لیا گیا ہے۔ یہ حدیث ان احادیثِ صفات میں سے ہے، جن کے بارے میں ائمہ نے یہ واضح کیا ہےکہ یہ جیسے وارد ہوئی ہیں، ویسے ہی نقل کی جائیں اور ان کے مفہوم کی نفی نہ کی جاۓ۔ الحُجزة یہ ان صفات میں سے ہے، جن پر بغیر تحریف، تعطیل اور بغیر کیفیت اور تمثیل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ رحم وہ رشتے داری ہے، جس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور قطع رحمی کرنے والے اور ناطہ توڑنے والے کے ساتھ قطع رحمی کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ قطع رحمی کرے، وہ کٹا ہوا ہے، اللہ کے دشمن شیطان مردود کے ساتھ ۔ہے، اگر تمام مخلوق اس کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور فائدہ پہنچانا چاہیں، تو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8283

 
 
Hadith   1389   الحديث
الأهمية: ألا ترضين أن أصل من وصلك، وأقطع من قطعك؟


Tema:

کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «خَلَقَ اللهُ الخلقَ، فلمَّا فرغَ منه، قامت الرَّحِمُ فأخذت بحَقْو الرَّحمن، فقال له: مَه، قالت: هذا مقامُ العائذِ بك من القَطِيعة، قال: ألَا تَرْضَيْنَ أنْ أصِلَ مَن وصلكِ، وأقطعُ مَن قطعكِ، قالت: بلى يا ربِّ، قال: فذاك». قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: اقرءوا إن شئتم: {فهل عسيتُم إنْ تولَّيتُم أن تُفْسِدوا في الأرض وتُقَطِّعوا أرحامَكم}، وفي رواية للبخاري: فقال الله: (من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته).

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو رحم نے کھڑے ہو کر رحمٰن کے دامن میں پناہ لے لی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔ رحم نے عرض کیا، ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پھر ایسا ہی ہو گا۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: ”فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ“ اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘۔ (سورہ محمد:22)۔اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ) میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله: «خَلَقَ اللهُ الخلقَ، فلمَّا فرغَ منه» أي: انتهى من خلق المخلوقات، وهو يدل على أن ذلك وقع في وقت محدد، وإن كان الله تعالى لا حدَّ لقدرته، ولا يشغله شأن عن شأن، ولكن اقتضت حكمته أن يجعل لفعله ذلك وقتًا معينًا، وهذا من الأدلة على أن أفعاله تتعلق بمشيئته، فمتى أراد أن يفعل شيئا فعله.
وليس معنى قوله: «لما فرغ» أنه تعالى انتهى من خلق كل شيء، بل مخلوقاته تعالى لا تزال توجد شيئا بعد شيء، ولكن سبق علمه بها، وتقديره لها وكتابته إياها، ثم هي تقع بمشيئته، فلا يكون إلا ما سبق به علمه، وتقديره وكتابته، وشاءه فوجد.
قوله: «قامت الرَّحِمُ فأخذت بحَقْو الرَّحمن، فقال له: مَه» هذه الأفعال المسنَدة إلى الرحم، من القيام والقول، ظاهر الحديث أنها على ظاهرها حقيقة، وإن كانت الرحم معنى يقوم بالناس، ولكن قدرة الله تعالى لا تُقاس بما يعرفه عقل الإنسان، وهذا الحديث في الجملة من أحاديث الصفات، التي نص الأئمة على أنها تُمَرُّ كما جاء، وردُّوا على من نفى موجبه. وليس ظاهر هذا الحديث أن لله إزاراً ورداءً من جنس الملابس التي يلبسها الناس، مما يصنع من الجلود والكتان والقطن وغيره، قال تعالى: (ليس كمثله شيء وهو السميع البصير).
قوله: «قالت: هذا مقامُ العائذِ بك من القَطِيعة» هذا أعظم مقام، والعائذ به استعاذ بأعظم معاذ، وهو دليل على تعظيم صلة الرحم، وعظم قطيعتها، والقطيعة: عدم الوصل، والوصل: هو الإحسان إلى ذوي القرابة، والتودُّد لهم والقرب منهم، ومساعدتهم، ودفع ما يؤذيهم، والحرص على جلب ما ينفعهم في الدنيا والآخرة.
قوله: «قال: ألَا تَرْضَيْنَ أنْ أصِلَ مَن وصلكِ، وأقطعَ مَن قطعكِ، قالت: بلى يا ربِّ، قال: فذاك» فمن وصل قرابته وصله الله، ومن وصله الله، وصل إلى كل خير وسعادة في الدنيا والآخرة، ولا بد أن تكون نهايته مجاورة ربه في الفردوس؛ لأن الوصل لا ينتهي إلا إلى هناك فينظر إلى وجه ربه الكريم. ومن قطع قرابته قطعه الله، ومن قطعه الله فهو المقطوع مع عدو الله الشيطان الطريد الرجيم.

Esin Hadith Caption Urdu


«خَلَقَ اللهُ الخلقَ، فلمَّا فرغَ منه» یعنی اللہ تعالی مخلوقات کو پیدا کرکے فارغ ہوا، یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ متعین وقت میں ہوا۔ اگرچہ اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی حدبندی نہیں اور نہ ہی اس کو ایک حالت دوسری حالت سے غافل کرسکتی ہے۔ تاہم اس کی حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی کام کے لیے وقت متعین کرے۔یہ ان دلائل میں سے ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال اس کی مشیّت کے ساتھ معلق ہیں۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیز کرتا ہے۔
«لما فرغ» کا مطلب یہ نہیں کہ تمام چیزوں کی تخلیق مکمل ہوچکی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا علم ان کے بارے میں پہلے سے ہے اور اس کی تقدیر پہلے سے لکھی جاچکی ہے۔ بعد میں ہر چیز اس کی مشیّت سے ہوتی ہے اور ہوتا وہی ہے جو پہلے اس کے علم میں تھا، اس کی تقدیر میں لکھا گیا تھا، صرف اسی کی چاہت سے وہ چیز ہو جاتی ہے۔
«قامت الرَّحِمُ فأخذت بحَقْو الرَّحمن، فقال له: مَه» رحم کی طرف منسوب افعال جیسے کھڑا ہونا اور بات کرنا۔ ظاہری حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے، گر چہ رحمت ایک معنوی چیز ہے جو لوگوں کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی قدرت کو انسانی عقل کے ترازو میں تولا نہیں جا سکتا۔ یہ حدیث فی الجملہ ان احادیثِ صفات میں سے ہے جن کے بارے میں علماء نے صراحت کی ہے کہ یہ جیسے وارد ہوئی ویسے ہی چلی آ رہی ہے اور اس کے موجب (لازمہ) کے خلاف جو چیز ہوتی ہے اس کی علماء نفی کرتے ہیں۔ ظاہری حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی چمڑے، کاٹن اور روئی کا بنا ہوا کوئی ازار اور چادر ہوتی ہے جیسے لوگ پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔ (ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے)۔
«قالت: هذا مقامُ العائذِ بك من القَطِيعة» یہ بہت عظیم جگہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ سب سے بڑی پناہ ہے۔ یہ صلہ رحمی کی عظمت اور قطعی رحمی کے بڑے گناہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ القطيعة: صلہ رحمی نہ کرنے کو کہتے ہیں۔ صلہ رحمی: رشتہ داروں کے ساتھ احسان، محبت، ان سے قریب ہونے، ان کی مدد کرنے، ان سے تکلیف دور کرنے اور ان کو دنیا و آخرت کے فائدے پہنچانے کو کہتے ہیں۔
«قال: ألَا تَرْضَيْنَ أنْ أصِلَ مَن وصلكِ، وأقطعَ مَن قطعكِ، قالت: بلى يا ربِّ، قال: فذاك» جس نے صلہ رحمی کی اللہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے گا اور جس سے اللہ صلہ رحمی کرے، وہ دنیا و آخرت کی سعادت اور بھلائی کو پہنچ چکا۔ یقیناً اس کا اختتام جنت الفردوس میں اپنے رب کے جوار میں جگہ ملنا ہے۔ اس لیے کہ (جنت میں) پہنچنے کا آخری مرحلہ اپنے رب کے چہرے کی طرف دیکھنا ہے۔ اور جو شخص قطع تعلقی کرتا ہے اللہ اس سے قطع تعلقی کرے گا، اور جس سے اللہ تعالیٰ قطع تعلقی کرے وہ اللہ کے دشمن شیطان مردود کے ساتھ راندۂ درگاہ ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8284

 
 
Hadith   1390   الحديث
الأهمية: اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك خاصمت، وبك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وأسررت وأعلنت، وما أنت أعلم به مني، لا إله إلا أنت


Tema:

اے اللہ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوا اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے (دشمن سے) جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- كان النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- إذا تَهَجَّد من الليل قال: «اللهم ربَّنا لك الحمدُ، أنت قَيِّمُ السموات والأرض، ولك الحمدُ أنت ربُّ السموات والأرض ومَن فيهنَّ، ولك الحمدُ أنت نورُ السموات والأرض ومن فيهنَّ، أنت الحقُّ، وقولُك الحقُّ، ووعدُك الحقُّ، ولقاؤك الحقُّ، والجنةُ حقٌّ، والنارُ حقٌّ، والساعةُ حقٌّ، اللهم لك أسلمتُ، وبك آمنتُ، وعليك توكَّلتُ، وإليك خاصمتُ، وبك حاكمتُ، فاغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وأسررتُ وأعلنتُ، وما أنت أعلم به مني، لا إلهَ إلا أنت».

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلِقَاؤُكَ الحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّارُ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ“ اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا نور ہے۔ تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوا اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے (دشمن سے) جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا قام لصلاة الليل قال بعد أن يكبِّر تكبيرة الإحرام: «اللهم ربَّنا لك الحمدُ» أي: جميع الحمد واجب ومستحق لله تعالى، فهو المحمود على صفاته، وأسمائه، وعلى نعمه، وأياديه، وعلى خلقه وأفعاله، وعلى أمره وحُكمه، وهو المحمود أولًا وآخرًا، وظاهرًا وباطنًا.
ثم قال: «أنت قَيِّمُ السموات والأرض» أي: أنت الذي أقمتهما من العدم، والقائم عليهما بما يصلحهما ويقيمهما، فأنت الخالق الرازق، المالك المدبر، المحيي المميت.
ثم قال: «ولك الحمدُ أنت رب السموات والأرض ومن فيهنَّ» أي: أنت مالكهما ومن فيهما، والمتصرف بهما بمشيئتك، وأنت موجِدهما من العدم، فالملك لك، وليس لأحد معك اشتراك أو تدبير، تباركت وتعاليت.
ثم قال: «ولك الحمدُ أنت نورُ السماوات والأرض ومن فيهنَّ» فمن صفاته سبحانه أنه نور، واحتجب عن خلقه بالنور، وهو سبحانه منوِّر السماوات والأرض، وهادي أهل السماوات والأرض، ولا ينبغي نفي صفة النور عن الله تعالى أو تأويلها.
579;م قال: «أنت الحقُّ» فالحق اسم من أسمائه وصفة من صفاته، فهو الحق في ذاته وصفاته، فهو واجب الوجود كامل الصفات والنعوت، وجوده من لوازم ذاته، ولا وجود لشيء من الأشياء إلا به.   ثم قال: «وقولُك الحقُّ» ما قلتَه فهو صدق وحق وعدل، لا يأتيه الباطل من بين يديه، ولا من خلفه، لا في خبره، ولا في حُكمه وتشريعه، ولا في وعده ووعيده.
ثم قال: «ووعدُك الحقُّ» يعنى: لا تخلف الميعاد، فما وعدت به فلا بد من وقوعه، على ما وعدت، فلا خُلف فيه ولا تبديل.
ثم قال: «ولقاؤك حقُّ» أي: لا بد للعباد من ملاقاتك، فتجازيهم على أعمالهم، واللقاء يتضمن رؤية الله سبحانه.
ثم قال: «والجنةُ حقٌّ، والنارُ حقٌّ» أي: ثابتتان، موجودتان، كما أخبرتَ بذلك أنهما معدتان لأهلهما، فهما دار البقاء، وإليهما مصير العباد.
ثم قال: «والساعةُ حقٌّ» أي: مجيء يوم القيامة حق لا مرية فيه، فهو ثابت لا بد منه، وهي نهاية الدنيا، ومبدأ الآخرة.
وقوله: «اللهم لك أسلمتُ» معناه: انقدت لحكمك وسلمت ورضيت. وقوله: «وبك آمنت» يعنى: صدَّقت بك وبما أنزلت، وعملت بمقتضى ذلك.
«وعليك توكلت» أي: اعتمدت عليك، ووكَّلت أموري إليك، «وإليك خاصمت» أي: بما آتيتنى من البراهين احتججت على المعاند وغلبته «وبك حاكمت» أي: كل من أبى قبول الحق، أو جحده، حاكمته إليك وجعلتك الحكم بيني وبينه مجانبًا بذلك حكم كل طاغوت، من قانون وضعي، أو كاهن أو غيره، مما يتحاكم إليه البشر، من الأوضاع الباطلة شرعاً.
وقوله: «فاغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وأسررتُ وأعلنتُ، وما أنت أعلم به مني» أي: اغفر لي ما عملتُ من الذنوب، وما سأعمله، وما ظهر منها لأحد من خلقك، وما خفي عنهم، ولم يعلمه غيرك.
ثم ختم دعاءه بقوله: «لا إلهَ إلا أنت» فلا أتوجَّه إلى سواك؛ إذ كل مألوه غيرك باطل ودعوته ضلال ووبال، وهذا هو التوحيد الذي جاءت به رسل الله، وفرضه تعالى على عباده.
606;بی ﷺ جب رات کی نماز (تہجد) کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد فرماتے: ”اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے“ یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے واجب ہیں اور وہی ان کا حق دار ہے۔ چنانچہ وہ اپنی صفات اور اپنے اسماء پر، اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات پر، اپنی تخلیق اور اپنے افعال پر اور اپنے امر اور حکم پر لائقِ تعریف ہے، نیز وہی اول و آخر میں اور ظاہر و باطن میں لائقِ ستائش ذات ہے۔
پھر آپ فرماتے: ”تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے“ یعنی تو ہی وہ ذات ہے جس نے ان آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود دے کر قائم کیا اور تو ہی ہے جو ان کی اس طرح سے دیکھ بھال کرتا ہے کہ یہ درست اور اپنی حالت پر قائم رہتے ہیں۔ پس تو ہی خالق و رازق، مالک و مدبر اور زندگی و موت دینے والا ہے۔
پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے“ یعنی تو ان دونوں کا اور ان میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے، تو جیسے چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے اور تو ہی ان کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ پس بادشاہت صرف تیرے لیے ہےاور تیرے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی اور مدبر ہے۔ تو با برکت اور بلند ہے۔
پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا نور ہے“ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نور ہے اور اپنے اس نور کے ذريعہ وہ اپنے مخلوق سے مستور ہے۔ اور اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو منور کرنے والا ہےاور ان میں بسنے والوں کو راہ سجھاتا ہے۔ اللہ تعالی سے صفتِ نور کی نفی کرنا یا اس کی تاویل کرنا کسی بھی طورپر درست نہیں ہے۔
پھر فرماتے: ”تو حق ہے“ حق اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ پس اللہ اپنی ذات اور صفات میں حق ہے۔ وہ واجب الوجود ہے (ایسا موجود کہ جس کا وجود ضروری اور کسی پیدا کرنے والے سے بے نیاز ہے) اور اس کی صفات کامل ہیں، اس کا وجود اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور ہر شے کا وجود اللہ ہی کے ذريعہ ہے۔
پھر فرماتے: ”تیرا فرمان حق ہے“ یعنی تو نے جو کچھ کہا وہ سچ، حق اور عدل ہے۔ اس میں آگے پیچھے کسی بھی طرف سے باطل کے در آنے کی گنجائش نہیں، نہ اس کی خبر میں، نہ اس کے حکم اور اس کی تشریع میں اور نہ ہی اس کے وعدے اور وعید میں۔
پھر فرماتے: ”تیرا وعدہ حق ہے“ یعنی تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تو نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور ویسے ہی ہو کر رہے گا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے۔ اس ميں نہ ہی وعدہ خلافی کی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔
پھر فرماتے: ”تیری ملاقات حق ہے“ یعنی بندے ضرور تجھ سے ملاقات کریں گے اور تو ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ملاقات میں اللہ سبحانہ تعالی کی رؤیت بھی شامل ہے۔
پھر فرماتے: ”جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے“ یعنی دونوں ثابت و موجود ہیں جیسا کہ تو نے بتایا ہے کہ یہ دونوں ان کے اندر جانے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں دار البقاء (ہمیشہ رہنے والے) ہیں اور یہی دونوں تمام بندوں کا آخری ٹھکانہ ہیں۔
پھر فرماتے: ”قیامت حق ہے“ یعنی روز قیامت کا آنا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ضرور آ کر رہے گی۔ یہ دنیا کا اختتام اور آخرت کی ابتدا ہے۔
”اے اللہ میں تیرا تابع فرمان ہوا“ یعنی میں تسلیم و رضا کے ساتھ تیرے حکم کا مطیع و فرماں بردار ہوں۔
”میں تجھ پر ایمان لایا“ یعنی میں نے تیری اور تو نے جو کچھ نازل کیا اس کی تصدیق کی اور اس کے تقاضے پر عمل کیا۔
”میں نے تجھی پر توکل کیا“ یعنی میرا بھروسہ تجھی پر ہے اور میرے تمام معاملات تیرے سپرد ہیں۔
”تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے جھگڑا کیا“ یعنی تو نے مجھے جو دلائل دیے ہیں ان کے ساتھ میں نے مخالفِ حق سے بحث کیا اور اس پر غلبہ پالیا۔
”تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا“ یعنی جس نے بھی حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اسے تسلیم نہیں کیا، اس کا معاملہ میں تیری بارگاہ میں لے کر آیا اور اپنے اور اس کے مابین تجھی کو فیصل بنایا اور کسی بھی طاغوت جیسے خود ساختہ قانون، یا کاہن یا ایسے ہی دیگر شرعاً باطل ذرائع سے فیصلہ کرانے سے گریز کیا جن سے لوگ اپنے فیصلے کراتے ہیں۔
”پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے“ یعنی میرے وہ تمام گناہ معاف فرما جن کا میں مرتکب ہوا ہوں اور جن کا میں آگے بعد میں مرتکب ہوں گا، اور اس میں سے جو کچھ تیرے کسی مخلوق کے سامنے ظاہر ہیں اور جو ان سے چھپے ہوئے ہیں اور تیرے علاوہ انہیں کوئی نہیں جانتا۔
پھر آپ ﷺ اپنی دعا کا اختتام اپنے ان الفاظ کے ساتھ کیا: ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“چنانچہ میں تیرے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ تیرے سوا جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور اس سے دعا کرنا گمراہی اور وبال ہے۔ یہی وہ توحید ہے جسے اللہ کے تمام رسول لے کر آئے اور اللہ تعالی نے اسے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8285

 
 
Hadith   1391   الحديث
الأهمية: سبق الكتاب أجله، اخطبها إلى نفسها


Tema:

کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو۔

عن الزُّبير بن العوام -رضي الله عنه- أنَّه كانت عنده أمُّ كُلثوم بنتُ عقبة، فقالت له وهي حاملٌ: طَيِّب نفسي بتطليقة، فطلَّقها تطليقةً، ثم خرجَ إلى الصلاة، فرجع وقد وضعت، فقال: ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ، ثم أتى النبيَّ -صلى الله عليه وسلم-، فقال: «سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه، اخطِبها إلى نفسِها».

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے دھوکا دیا، اللہ اس سے دھوکا دے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ”کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان الزبير بن العوام متزوِّجًا بأم كلثوم بنت عقبة فقالت له وهي حامل: «طيِّب نفسي بتطليقة» أي: أدخل علي السرور بتطليقة واحدة، والظاهر أنها كانت لا تحبه وتريد أن تخرج من تحته خروجًا لا يتمكَّن من مراجعتها، فطلبت منه أن يطلقها طلقة واحدة لما أحسَّت بقرب ولادتها، وعلمت أن عدة الحامل أن تضع حملها، فطلَّقها تطليقةً، ثم خرجَ إلى الصلاة، فرجع وقد ولدت، فقال: «ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ» والخداع من صفات الله تعالى الفعلية الخبرية، ولكنه لا يوصف بها على سبيل الإطلاق، إنما يوصف بها على سبيل المقابلة، فيقال يخدع الله من يخدعه، مثل خداعه للمنافقين، وخداعه لمن يمكر بالمؤمنين وما شابه ذلك، ولا يجوز تأويلها بقولهم إن الزبير أراد بقوله هذا: جزاها الله تعالى بخداعها. بل يجب إثبات هذه الصفة كغيرها من صفات الله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل.
 ثم أتى الزبير إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بما حدث بينه وبين زوجته، فقال صلى الله عليه وسلم: «سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه»، أي: مضت العدة المكتوبة قبل ما يتوقع من تمامها، ووقع الطلاق، ثم قال صلى الله عليه وسلم: «اخطِبها إلى نفسِها» أي: كن واحدًا من الخُطاب لا حقَّ لك في نفسها؛ لخروجها عن العدة.
586;بیر بن عوام نے امّ کلثوم بنت عقبہ کے ساتھ شادی کی تھی، بیوی نے حاملہ ہونے کی حالت میں ان سے کہا ”طيِّب نفسي بتطليقة“ یعنی مجھے ایک طلاق دے کر خوش کردو۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ شوہر کو پسند نہیں کرتی تھیں اور ان کے نکاح سے ایسے نکلنا چاہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ ان سے رجوع نہ کرسکے، لیکن اس نے بچے کی ولادت قریب ہونے کی وجہ سے شوہر سے ایک طلاق کا مطالبہ کیا، وہ جانتی تھی کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایک طلاق دی اور نماز کے لئے نکل گیے، واپس لوٹے تو بیوی بچہ جن چکی تھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا ”ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ“ خداع (دھوکا دینا) اللہ تعالیٰ کی صفاتِ فعلیہ خبریہ میں سے ہے۔ لیکن علی الاطلاق اس سے اللہ تعالیٰ کو متصف نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ مقابلۃً اللہ کی صفت بنتی ہے، چنانچہ اس طرح کہا جائے جو اللہ کو دھوکا دیتا ہے اللہ اسے دھوکا دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا منافقین کو دھوکا دینا اور مؤمنین کو دھوکا دینے والوں کو دھوکا دینا وغیرہ۔
اس کی تاویل یوں کرنا درست نہیں کہ حضرت زبیر کی مُراد یہ تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بدلہ ہے دھوکے کی شکل میں۔ بلکہ دوسری صفات کی طرح اس صفت کو بھی بغیر رد و بدل، تعطیل اور بغیر تکییف و تمثیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔
پھر زبیر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور وہ سارا واقعہ بتایا جو ان کے ان کی بیوی کے درمیان گزرا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا ”سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه“ یعنی مقررہ عدت امید سے پہلے پوری ہو چکی اور طلاق واقع ہو گئی۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اخطِبها إلى نفسِها“ یعنی تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجو، عدت گزرنے کی وجہ سے تمہیں ان کی ذات پر کوئی حق نہیں رہا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8286

 
 
Hadith   1392   الحديث
الأهمية: يوضع الصراط بين ظهري جهنم، عليه حسك كحسك السعدان، ثم يستجيز الناس، فناج مسلم، ومجدوح به، ثم ناج ومحتبس به فمنكوس فيها


Tema:

پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گزارا جائے گا تو کچھ لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «يُوضَعُ الصِّراط بين ظَهْرَي جهنم، عليه حَسَكٌ كحَسَك السَّعْدان، ثم يستجيز الناس، فناجٍ مُسَلَّم، ومَجْدوح به ثم ناجٍ، ومحتبَس به فمنكوسٌ فيها، فإذا فرغ اللهُ عز وجل من القضاءِ بين العباد، يفقد المؤمنون رجالًا كانوا معهم في الدنيا يُصلُّون بصلاتهم، ويُزَكُّون بزكاتهم، ويصومون صيامهم، ويحجُّون حجَّهم ويغزون غزوَهم فيقولون: أي ربنا عبادٌ من عبادك كانوا معنا في الدنيا يُصلُّون صلاتنا، ويُزَكُّون زكاتنا، ويصومون صيامنا، ويحجُّون حجَّنا، ويغزون غزوَنا لا نراهم، فيقول: اذهبوا إلى النار فمن وجدتم فيها منهم فأخرجوه، قال: فيجدونهم قد أخذتهم النارُ على قَدْر أعمالهم، فمنهم مَن أخذته إلى قدميه، ومنهم مَن أخذته إلى نصف ساقيه، ومنهم مَن أخذته إلى رُكبتيه، ومنهم من أخذته إلى ثَدْيَيْه، ومنهم من أزرته، ومنهم من أخذته إلى عنقه، ولم تَغْشَ الوجوهَ، فيستخرجونهم منها فيُطرحون في ماء الحياة»، قيل: يا رسول الله وما الحياة؟ قال: «غسل أهل الجنة فينبتون نباتَ الزرعة» وقال مرة: «فيه كما تنبت الزرعة في غُثاء السَّيل، ثم يشفع الأنبياء في كلِّ من كان يشهد أن لا إله إلا الله مخلِصًا فيخرجونهم منها» قال: «ثم يتحنَّنُ اللهُ برحمته على من فيها، فما يترك فيها عبدًا في قلبه مثقالُ حبَّة من إيمان إلا أخرجه منها».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گزارا جائے گا تو کچھ لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔ جب اللہ تعالی اپنے بندوں کے مابین فیصلے سے فارغ ہو جائے گا تو مسلمانوں کو بہت سے ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے اور وہ انہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے۔ تو وہ کہيں گے: اے ہمارے رب! تیرے کچھ بندے جو دنیا میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے اور جو ہماری طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتےاور جہاد کرتے تھے، وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم کی طرف جاؤ اور ان میں سے جتنے لوگ جہنم میں ملیں، انہیں اس میں سے نکال لو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ انہیں اس حالت ميں پائيں گے کہ جہنم کی آگ نے انہيں ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کسی کو قدموں تک، کسی کو نصف پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک، کسی کو چھاتیوں تک، کسی کو تہبند تک اور کسی کو گردنوں تک، لیکن چہروں پر اس کی لپٹ نہیں پہنچی ہوگی۔ وہ انہیں دوزخ میں سے نکال لیں گے اور پھر انہیں آب حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آب حیات کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جنتیوں کا غسل ہے۔ پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے کھیتی نکلتی ہے۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے ساتھ آئے کوڑے پر خود رو گھاس اگ آتی ہے۔ پھر انبیاء کرام ہر اس شخص کی شفاعت کریں گے جو اخلاص کے ساتھ یہ گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ انہيں جہنم سے نکلوا لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے گا اور اس ميں کوئی ايک بندہ بھی ایسا نہيں چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا مگر اسے اس سے باہر نکال لے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا كان يوم القيامة وضع الله عز وجل الصراط على وسط جهنم، وعلى الصراط شوك صلب، ثم يؤمر الناس بالمرور عليه، فمنهم من ينجو ويسلم ولا تناله النار، ومنهم من يُخدش ثم يسلم ويُخلَّص، ومنهم من يسقط في جهنم.
فإذا فرغ اللهُ عز وجل من محاسبة عباده وأُدخل أهلُ الجنة الجنةَ وأهلُ النار النارَ، لا يجد المؤمنون من أهل الجنة ناساً كانوا معهم في الدنيا يصلون ويزكون ويصومون ويحجون ويجاهدون معهم، فيقولون لله عز وجل: إننا لا نرى هؤلاء الناس معنا في الجنة مع أنهم كانوا يصلون ويزكون ويصومون ويحجون ويجاهدون معنا في الدنيا. فيقول الله لهم : اذهبوا إلى النار فإذا وجدتم فيها أحدًا منهم فأخرجوه منها.
فيجدونهم قد أصابتم النارُ على قَدْر أعمالهم، فمنهم مَن أصابته إلى قدميه، ومنهم مَن أصابته إلى نصف ساقيه، ومنهم مَن أصابته إلى رُكبتيه، ومنهم من أصابته إلى وسطه ومنهم من أصابته إلى ثَدْيَيْه، ومنهم من أصابته إلى رقبته، ولكنَّ النار لم تصل إلى وجوههم، فيشفعون فيهم، فيخرجون من النار ويُلقون في ماء الحياة، وهو ماء يُحيى من انغمس فيه، فينبتون كما ينبت الزرع في مجرى السَّيل.
ثم يشفع الأنبياء في كلِّ من كان يشهد أن لا إله إلا الله مخلِصًا من قلبه فيخرجونهم من النار، ثم يعطف اللهُ برحمته على من في النار، فما يترك فيها أحدًا في قلبه مقدار حبَّة من إيمان إلا أخرجه منها.
602;یامت کےدن اللہ عزوجل پل صراط کو جہنم کے وسطی حصہ پر رکھ دے گا۔ پل پر سخت کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس پر سے گزرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ تو نجات پا جائیں گے اور صحیح سلامت گزر جائیں گے، آگ ان کو نہیں چھوئے گی۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو زخمی تو ہوں گے تاہم بحفاظت چھٹکارا پا جائیں گے۔ اور بعض جہنم کے اندر جا گریں گے۔
جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا اور جنتیوں کو جنت اور دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو جنتی مومنوں کو کچھ ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ تھے اور انہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور ان کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔ تووہ لوگ اللہ عزوجل سے کہیں گے: ہمیں یہ لوگ اپنے ساتھ جنت میں دکھائی نہیں دے رہےحالانکہ وہ دنیا میں ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے ، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: جہنم کی طرف جاؤ اور اگر ان میں سے کوئی تمھیںجہنم میں ملے، تو اسے اس میں سے نکال لو۔
چنانچہ (جب وہ وہاں جائیں گے تو) انہیں اس حال میں پائیں گے کہ انہیں جہنم کی آگ نے ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کچھ کے قدموں تک آگ آ رہی ہو گی، کچھ کی پنڈلیوں کے نصف تک، کچھ کے گھٹنوں تک، کچھ کے درمیان تک، کچھ کے پستانوں تک اور کچھ کی گردن تک آگ پہنچی ہو گی۔ تاہم آگ ان کے چہروں تک نہ آئی ہو گی۔ وہ ان کے بارے میں شفاعت کریں گے تو ان کو جہنم سے نکال کر آب حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ ایسا پانی ہے جو اپنے اندر غوطہ لگانے والے کو زندہ کردیتا ہے۔ چنانچہ وہ اس سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے بہاو کی جگہ پر بیج اگ آتا ہے ہے۔
پھر انبیاء کرام ہر اس شخص کے بارے میں شفاعت کر یں گے جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ انہیں جہنم سے نکلوا لیں گے۔ پھر اللہ جہنم والوں پر رحمت وشفقت کرے گا اور اس میں سے کسی بھی ایسے شخص کو نکالے بغیر نہیں چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8287

 
 
Hadith   1393   الحديث
الأهمية: ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدًا من النار من يوم عرفة


Tema:

کوئی دن ایسا نہیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعاً: «ما مِن يومٍ أكثر مِن أنْ يُعْتِقَ اللهُ فيه عبدًا مِن النارِ، مِن يومِ عرفة، وإنَّه ليدنو، ثم يُباهي بهم الملائكةَ، فيقول: ما أراد هؤلاء؟».

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی ایسا دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو، وہ (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ليس يوم من الأيام أكثر من يوم عرفة في أن يُخَلِّص وينجِّي الله من يشاء من النار، وإنه -سبحانه- يقرب من عباده الحجيج قُربًا حقيقيًّا، ويباهي بهم الملائكة، ويُظهر على الملائكة فضل الحُجَّاج وشرفهم، وأهل السنة والجماعة يعتقدون أن الله عز وجل قريب من عباده حقيقة كما يليق بجلاله وعظمته، وهو مستوٍ على عرشه، بائن من خلقه، وأنه يتقرب إليهم حقيقة، ويدنو منهم حقيقة.، فيقول: ما أراد هؤلاء؟ أي: أي شيء أراد هؤلاء؟ حيث تركوا أهلهم وأوطانهم، وصرفوا أموالهم، وأتعبوا أبدانهم، أي: ما أرادوا إلا المغفرة، والرضا، والقرب، واللقاء، وما أرادوه فهو حاصل لهم، ودرجاتهم على قدر نياتهم.
593;رفہ کے دن کے علاوہ کسی دن اتنے لوگوں کو اللہ تعالی جہنم سے خلاصی نہیں دیتا ہے جتنا عرفہ کے دن دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حاجی بندوں سے حقیقتاً قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے رشک کرتا ہے اور ان کے سامنے حاجیوں کی فضیلت اور ان کا شرف بتاتا ہے۔ اہل السنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جلالت و عظمتِ شان کے مطابق سچ مُچ اپنے بندوں سے قریب ہے، وہ عرش پر مستوی ہے، مخلوق سے الگ ہے اور حقیقت میں ان سے قریب اور پاس ہوتا ہے۔ اور پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کہ انہوں نے اپنے گھر بار کو اور وطنوں کو چھوڑا، اپنا مال خرچ کرکے، جسموں کو تھکا کر آئے، یعنی یہ اپنے گناہوں کی مغفرت، اللہ کی رضا، اس کے قرب اور ملاقات کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ جو وہ چاہیں گے وہ انہیں ملے گا، ان کے درجات ان کی نیتوں کے بقدر ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8288

 
 
Hadith   1394   الحديث
الأهمية: الراحمون يرحمهم الرحمن ارحموا أهل الأرض يرحمكم من في السماء


Tema:

رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- يبلغ به النبي -صلى الله عليه وسلم-: «الرَّاحمون يرحَمُهمُ الرحمنُ، ارحموا أهلَ الأرضِ، يرحمْكم مَن في السماءِ».

عبد اللہ بن عمرو - رضی اللہ عنہما- سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
«الراحمون» الذين يرحمون من في الأرض من آدمي وحيوان محترم بشفقة وإحسان ومواساة «يرحمهم الرحمن» من الرحمة وهي مفهومة، ومن ذلك أن يحسن إليهم ويتفضل عليهم والجزاء من جنس العمل «ارحموا من في الأرض» أتى بصيغة العموم ليشمل جميع أصناف الخلق فيرحم البر والفاجر والوحوش والطير «يرحمكم من في السماء» أي: يرحمكم الله تعالى الذي في السماء، ولا يجوز تأويله بأن المراد من في السماء ملكه وغير ذلك؛ فإن علو الله على خلقه ثابت في الكتاب والسنة وإجماع الأمة، وليس المراد بقولنا: «الله في السماء» أن السماء تحويه وأنه داخل فيها، تعالى الله عن ذلك، بل «في» بمعنى «على» أي: فوق السماء عالٍ على جميع خلقه.

Esin Hadith Caption Urdu


”الراحمون“ جو شخص اہلِ زمین یعنی انسان اور جانوروں پر شفقت، احسان اور مواسات کے ذریعے رحم کرتا ہے، ”الرحمن“ یہ رحمت سے مشتق ہے اوریہ معروف ہے۔ اسی لیے اہلِ زمین کے ساتھ احسان اور مہربانی کا معاملہ کرتا ہے اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ہے۔ ”تم زمین والوں پر رحم کرو“ یہاں عموم کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے تاکہ تمام مخلوقات جیسے نیک، فاجر، درندوں اور پرندوں کو شامل ہو جائے۔ ”تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا“ یعنی اللہ تعالیٰ جو کہ آسمان میں ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔ من في السماء کی تاویل فرشتوں وغیرہ سے کرنا درست نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر بلند ہونا قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ ”الله في السماء“ سے مُراد یہ نہیں کہ آسمان اللہ کو محیط ہے اور اللہ کی ذات اس میں داخل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بلند ہے۔ بلکہ یہاں لفظِ «في» «على» کے معنیٰ میں ہے یعنی آسمان کے اوپر تمام مخلوقات پر بلند ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8289

 
 
Hadith   1395   الحديث
الأهمية: إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق، وإني لأرجو أن ألقى الله وليس أحد منكم يطالبني بمظلمة في دم ولا مال


Tema:

نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: قال الناسُ: يا رسولَ الله، غَلَا السِّعْرُ فسَعِّرْ لنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنَّ اللهَ هو المُسَعِّر القابضُ الباسطُ الرازقُ، وإني لأرجو أن ألقى اللهَ وليس أحدٌ منكم يُطالِبُني بمظلمةٍ في دمٍ ولا مالٍ».

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ارتفعت أسعار السلع في زمان النبي صلى الله عليه وسلم، فطلب الناس منه أن يحدِّد لهم أسعار السلع، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنَّ اللهَ هو المُسَعِّر القابضُ الباسطُ الرازقُ» أي: إن الله تعالى هو الذي يُرَخِّص الأشياء ويغلِّيها، وهو الذي يضيق الرزق على من يشاء ويوسعه على من يشاء، أي: فمن حاول التسعير فقد عارض الله ونازعه فيما يريده، ويمنع العباد حقوقهم مما أولاهم الله تعالى في الغلاء والرخص.
ثم قال صلى الله عليه وسلم: «وإني لأرجو أن ألقى اللهَ وليس أحدٌ منكم يُطالِبُني بمظلمةٍ في دمٍ ولا مالٍ» وهذا إشارة إلى أن المانع له من التسعير مخافة أن يظلمهم في أموالهم؛ فإن تسعير السلع تصرف فيها بغير إذن أهلها فيكون ظلما، لكن إذا تواطأ الباعة مثلا من تجار ونحوهم على رفع أسعار ما لديهم أثرة منهم، فلولي الأمر تحديد سعر عادل للمبيعات مثلا؛ إقامة للعدل بين البائعين والمشترين، وبناء على القاعدة العامة، قاعدة جلب المصالح ودرء المفاسد، وإن لم يحصل تواطؤ منهم وإنما ارتفع السعر بسبب كثرة الطلب وقلة العرض، دون احتيال، فليس لولي الأمر أن يحد السعر، بل يترك الرعية يرزق الله بعضهم من بعض، وعلى هذا فلا يجوز للتجار أن يرفعوا السعر زيادة عن المعتاد ولا التسعير، وعليه يحمل هذا الحديث.
570;پ ﷺ کے زمانے میں اشیاء کی قیمتیں زیادہ ہوگئیں، لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے قیمتیں متعین کر دیں، تو آپ نے فرمایا ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی چیزوں کو سستی اور مہنگی کرتا ہے، وہ جس پر چاہے رزق تنگ کرتا ہے اور جس پر چاہے فراخی کرتا ہے، یعنی جو قیمتیں مقرر کرتا ہے وہ اللہ سے اس چیز میں جھگڑا کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے اور گرانی و ارزانی سے متعلق لوگوں کے حقوق جو اللہ کے عطاء کردہ ہیں روکتا ہے۔
پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیمتیں مقرر کرنے سے یہ بات مانع ہے کہ کہیں میں لوگوں کے اموال میں ان پر ظلم نہ کر جاؤں، اس لیے سامان میں مالک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا ظلم ہے۔ تاہم اگر تاجر وغیرہ چیز قصداً مہنگی کریں، تو انتظامیہ اور حاکم وقت کو عمومی قائدے ”جلبِ منفعت اور دفعِ ضرر“ کے پیشِ نظر بیچنے اور خریدنے والوں کے درمیان اشیاء کی منصفانہ قیمت متعین کرنے کا اختیار ہے۔ اور اگر گراں فروشی میں تاجروں کے اختیار اور حیلے سے نہ ہو، بلکہ طلب بڑھنے اور رسد گھٹنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو، تو حاکمِ وقت کو قیمت متعین کرنے کا اختیار نہیں۔ بلکہ لوگوں کو کُھلی طور پر معاملات کرنے چھوڑ دے، تاکہ اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے رزق کا ذریعہ بنائے۔ لہٰذا اس کے پیش نظر تاجروں کے لیے مروجہ قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں۔ یہی اس حدیث سے مقصود ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8290

 
 
Hadith   1396   الحديث
الأهمية: يكشف ربنا عن ساقه، فيسجد له كل مؤمن ومؤمنة، فيبقى كل من كان يسجد في الدنيا رياء وسمعة، فيذهب ليسجد، فيعود ظهره طبقا واحدا


Tema:

ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «يكشِف ربُّنا عن ساقِه، فيسجدُ له كلُّ مؤمنٍ ومؤمنةٍ، فيبقى كلُّ مَن كان يسجدُ في الدنيا رياءً وسُمْعةً، فيذهبُ ليسجدَ، فيعودَ ظهرُه طبقًا واحدًا».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يكشف الرب -سبحانه وتعالى- عن ساقه الكريمة، فيسجد له كل مؤمن ومؤمنة، وأما المنافقون الذين كانوا يسجدون في الدنيا ليراهم الناس، فمُنعوا من السجود، وجُعلت ظهورهم فقارًا واحدًا، لا يستطيعون الانحناء ولا السجود؛ لأنهم ما كانوا في الحقيقة يسجدون لله في الدنيا، وإنما كانوا يسجدون لأغراضهم الدنيوية، ولا يجوز تأويل الساق بالشدة أو الكرب أو غيرها، بل يجب إثباتها صفة لله -تعالى- من غير تكييف ولا تمثيل، ومن غير تحريف ولا تعطيل.
575;للہ تعالیٰ اپنی پنڈلی مبارک کھولے گا، تو ہر مومن مرد و عورت سجدے میں گر جائیں گے۔ تاہم منافقین جو دنیا میں ریاکاری کے لیے سجدہ کرتے تھے، سجدہ کرنے سے روک دیے جائیں گے اور ان کی کمریں ایک تختے کی طرح ہو جائیں گی اور وہ جھک نہ سکیں گے اور نہ سجدہ کر سکیں گے۔ اس لیے کہ وہ دنیا میں حقیقتاً اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اپنی دنیوی مقاصد کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ حدیث میں وارد پنڈلی (ساق) کی تاویل سختی، کرب وغیرہ سے کرنا جائز نہیں بلکہ اس کو بغیر تکییف و تمثیل اور بغیر تحریف و تعطیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا ضروری ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8291

 
 
Hadith   1397   الحديث
الأهمية: إن الله عز وجل حيي ستير يحب الحياء والستر فإذا اغتسل أحدكم فليستتر


Tema:

اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔

عن يعلى بن أمية -رضي الله عنه- أنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلًا يغتسل ُبالبَراز بلا إزار، فصعِد المِنْبر، فحَمِد اللهَ وأثنى عليه، ثم قال صلى الله عليه وسلم: «إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ حَيِيٌّ سَتِيرٌ، يحب الحياءَ والسَّتر؛ فإذا اغتسل أحدُكم فليستتر».

یعلی ابن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کھلی فضاء میں بغیر ازار کے غسل کر رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گیے اور اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: ”اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى النبي صلى الله عليه وسلم رجلًا يغتسل في الفضاء الواسع عريانًا، فصعِد النبي صلى الله عليه وسلم المِنْبر، فحَمِد اللهَ وأثنى عليه، ثم قال: «إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ حَيِيٌّ سَتِيرٌ، يحب الحياءَ والسَّتر؛ فإذا اغتسل أحدُكم فليستتر» أي: إن من أسماء الله تعالى الحيي الستير، فهو سبحانه يحب الحياء والستر، فلا ينبغي لمسلم أن يكشف عورته أمام الناس إذا اغتسل، بل يجب عليه أن يستتر، وحياؤه تعالى وصف يليق به، ليس كحياء المخلوقين، الذي هو تغير وانكسار يعتري الشخص عند خوف ما يعاب أو يُذم، بل هو ترك ما ليس يتناسب مع سعة رحمته وكمال جوده وكرمه وعظيم عفوه وحلمه.
606;بی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کھلی فضاء میں برہنہ ہو کر نہا رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گیے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اللہ عز وجل انتہائی حیا والا اور انتہائی پردہ پوشی کرنے والا ہے اور وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی غسل کرے ستر کو چھپا لے۔
یعنی 'الحیی' اور 'الستیر' اللہ کے اسماء میں سے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔ چنانچہ کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جب غسل کرے تو لوگوں کے سامنے اپنی شرم گاہ کھول دے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو چھپائے۔ ’حیا‘ اللہ کے شایان شان اس کی ایک صفت ہے جو کہ انسانوں کی ’حیا‘ کی مانند ہر گز نہیں ہے جس میں تغیر اور انکساری ہوتا ہے اور یہ حیا کسی شخص میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسے کسی معیوب یا مذموم شے کا اندیشہ ہو۔ اللہ کی حیا سے مراد ہر ایسی شے کو ترک کر دینا ہے جو اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کے کمالِ جود و کرم اور اس کے درگزر اور حلم کی عظمت سے مناسبت نہیں رکھتی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8292

 
 
Hadith   1398   الحديث
الأهمية: إن الله قال: إذا تلقاني عبدي بشبر، تلقيته بذراع، وإذا تلقاني بذراع، تلقيته بباع، وإذا تلقاني بباع أتيته بأسرع


Tema:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میرا بندہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف چار ہاتھ بڑھتا ہے تو میں تیزی سے اس کی طرف بڑھتا ہوں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ اللهَ قال: إذا تَلَقَّاني عبدي بشِبر، تَلَقَّيْتُه بذِراع، وإذا تَلَقَّاني بذراع، تَلَقَّيْتُه ببَاع، وإذا تَلَقَّاني بباع أتيتُه بأسرع».

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میرا بندہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف چار ہاتھ بڑھتا ہے تو میں تیزی سے اس کی طرف بڑھتا ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا تقرب العبد إلى الرب بمقدار شبر، تقرب الرب إليه بمقدار ذراع، وإذا تقرب العبد إلى الرب بأكثر من ذلك، تقرب الله إليه بأكثر مما تقرب به إليه، وإذا أتى العبد إلى ربه أتاه الله أسرع منه، والقرب والإتيان صفتان ثابتتان لله -عز وجل- نؤمن بهما من غير تكييف ولا تمثيل ومن غير تحريف ولا تأويل.
580;ب بندہ ایک بالشت اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اللہ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، اور جب بندہ اور زیادہ اپنے رب کے قریب ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اس سے قریب ہوتا ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے پاس آتا ہے تو اللہ دوڑ کر اس کے پاس آتا ہے۔ قریب ہونا اور آنا دونوں صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں۔ ہم بغیر تکییف و تمثییل کے اور بغیر تحریف و تاویل کے ان پر ایمان لاتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8293

 
 
Hadith   1399   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا دخل المسجد قال: أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وسلطانه القديم، من الشيطان الرجيم


Tema:

نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ میں اللہ عظیم کی، اس کی ذاتِ کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی، مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا دخل المسجد قال: «أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وسلطانه القديم، من الشيطان الرَّجِيم»، قال: أَقَطُّ؟ قلت: نعم، قال: فإذا قال ذلك قال الشيطان: حُفِظَ منِّي سائر اليوم.

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ میں اللہ عظیم کی، اس کی ذاتِ کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی، مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں۔ تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا دخل المسجد قال: «أعوذ بالله العظيم» أي: أعتصم وألتجئ وأحتمي بالله العظيم الذات والشأن والصفات. «وبوجهه الكريم» ومعنى الكريم: الجواد المعطي الذي لا ينفذ عطاؤه؛ وهو الكريم المطلق، والكريم الجامع لأنواع الخير والشرف والفضائل، ويجب إثبات الوجه صفة لله -تعالى- من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل. «وسلطانه القديم» أي: حجته القديمة، وبرهانه القديم، أو قهره القديم. «من الشيطان الرجيم» أي: من الشيطان المطرود من باب الله والمرجوم بشُهُب السماء. «قال: أَقَطُّ؟ قلتُ: نعم» أي: يقول أحد الرواة لشيخه:  الذي ترويه هذا المقدار أو أكثر من ذلك؟ أو قد يكون معناه: أهذا يكفيه عن غيره من الأذكار؟ أو هذا يكفيه من شر الشيطان؟ فلهذا قال: قلت: نعم. «قال: فإذا قال ذلك قال الشيطانُ: حُفِظَ منِّي سائرَ اليوم» أي: فإذا قال الداخل للمسجد هذا الدعاء المذكور، قال الشيطان: لقد حفظ هذا الداخل نفسَه منى جميع اليوم.
570;پ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے: ”میں اللہ عظیم کی پناہ چاہتا ہوں“ یعنی آپ نے اللہ تعالیٰ جس کی ذات اور صفات عظیم ہیں کے ذریعہ اپنے آپ کو بچایا اور حفاظت کی۔ ”اس کی ذاتِ کریم کی“ الكريم کا معنی ہے سخی، ایسا دینے والا جس کی عطا ختم نہ ہوتی ہو، وہ سخی مطلق ذات ہے اور اس کی سخاوت تمام قسم کی بھلائیوں، شرف اور فضائل کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے چہرے کی صفت کو بغیر کسی تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے ثابت کرنا ضروری ہے۔
”اس کی قدیم بادشاہت کی“ اللہ کی دلیل اور بُرھان یا اس کا غلبہ قدیم ہے۔
”مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں“ یعنی شیطان سے جو کہ اللہ کے در سے دھتکارا ہوا ہے اور جو آسمان کے دھکتے ہوئے شعلوں سے مارا ہوا ہي ۔ ”تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں“ یعنی حدیث کا کوئی راوی اپنے شیخ سے کہتا ہے کہ آپ نے اتنا ہی نقل کیا ہے یا اس سے زیادہ؟ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا اتنا ذکر کافی ہے؟ یا اتنا ذکر شیطان کے شر سے بچنے کے لیے کافی ہے؟ اسی وجہ سے کہا، قلتُ: نعم۔
”تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا“ یعنی مسجد میں داخل ہونے والا جب یہ دعا کہتا ہے، تو شیطان کہتا ہے۔ اس آنے والے نے اپنے آپ کو پورا دن مجھ سے محفوظ کر لیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8294

 
 
Hadith   1400   الحديث
الأهمية: لقد جاءت خولة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تشكو زوجها، فكان يخفى علي كلامها


Tema:

خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں، ان کی گفتگو مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، أنَّها قالت: «الحمد لله الذي وَسِعَ سمعه الأصوات، لقد جاءت خَوْلةُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تشكو زوجَها، فكان يخفى عليَّ كلامها، فأنزل الله عز وجلَّ: {قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله والله يسمع تَحَاوُرَكُما} [المجادلة: 1]» الآية

اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں، ان کی گفتگو مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی، چنانچہ اللہ عزوجل نے ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا“ نازل فرمائی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت خولة بنت ثعلبة متزوجة من أوس بن الصامت فقال لها: أنتِ عليَّ كظهر أمي. أي: أنتِ حرام عليَّ، فذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكرت له قصتها، فقال لها صلى الله عليه وسلم: «قد حرمت عليه»، فجعلت تقول بصوت منخفض يخفى على عائشة مع قربها منها: بعدما كبرت سني ظاهرَ مني؟ إلى الله أشكو حال صبية إن ضممتُهم إليَّ جاعوا، وإن تركتُهم عنده ضاعوا. فهذه مجادلتها لرسول الله صلى الله عليه وسلم التي ذكرها الله تعالى بقوله: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ واللهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُما}.
فقالت عائشة: «الحمدُ للهِ الذي وَسِعَ سَمْعُه الأصواتَ» أي: استوعبها وأدركها فلا يفوته منها شيء وإن خفي «لقد جاءت خَوْلةُ إلى رسولِ الله صلى الله عليه وسلم تَشْكو زَوْجَها، فكان يخفى عليَّ كلامُها، فأنزل اللهُ عزَّ وجلَّ: {قد سَمِعَ اللهُ قولَ التي تُجَادِلُك في زَوْجِها وتشتكي إلى اللهِ واللهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُما} [المجادلة: 1]» الآية» أي: فحينما جاءت خولة تشكو زوجها لرسول الله صلى الله عليه وسلم كانت تكلمه بصوت منخفض لا تسمعه عائشة مع قربها منها، ومع ذلك سمعه الله تعالى من فوق سبع سماوات، وأنزل الآية المذكورة، وهذا من أبلغ الأدلة على اتصاف الله تعالى بالسمع، وهو أمر معلوم بالضرورة من الدين، لا ينكره إلا من ضل عن الهدى.
وقول عائشة هذا يدل على أن الصحابة رضي الله عنهم، آمنوا بالنصوص على ظاهرها الذي يتبادر إلى الفهم، وأن هذا هو الذي أراده الله منهم ومن غيرهم من المكلفين ورسوله؛ إذ لو كان هذا الذي آمنوا به واعتقدوه خطأ لم يُقَرُّوا عليه ولبُيِّن لهم الصواب، ولم يأت عن أحد منهم تأويل هذه النصوص عن ظواهرها، لا من طريق صحيح ولا ضعيف، مع توافر الدواعي على نقل ذلك.
582;ولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی شادی اوس بن صامت سے ہوئی تھی۔ اوس رضی اللہ عنہ نے خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے یعنی تو مجھ پر حرام ہے۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس چلی گئیں اور آپ ﷺ کو اپنا قصہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔ وہ آہستہ آواز میں یہ بات کہہ رہی تھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قریب ہونے کے باوجود (ان کی گفتگو) مخفی رہی، (خولہ کہہ رہی تھیں) کہ اب جب کہ میں بوڑھی ہو چکی ہوں، اس نے میرے ساتھ ظہار کر لیا؟ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی بچوں کے حال کی شکایت کرتی ہوں، اگر میں اسے اپنے ساتھ رکھوں تو وہ بھوکے رہیں اور اگر میں انہیں اُن کے پاس چھوڑ دوں تو وہ انہیں ضائع کردیں گے۔ یہ خولہ رضی اللہ عنہا کا آپ ﷺ کے سامنے مجادلہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا“ (سورہ مجادلہ:1)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں: الحمدُ للهِ الذي وَسِعَ سَمْعُه الأصواتَ“ یعنی تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہ کی ہوئی ہے، اس سے کوئی چیز فوت نہیں ہو سکتی اگر چہ پوشیدہ ہو۔ جب خولہ رضی اللہ عنہا آ کر آپ ﷺ سے اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی، تو دھیمی آواز میں بول رہی تھیں تاکہ قریب میں اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نہ سن لیں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر اس کی بات سنی اور مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (یہ آیت) اللہ تعالیٰ کے سننے کی صفت سے متصف ہونے کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔ یہ دین میں ایک بدیہی سا طے شدہ امر ہے، اس کا انکار صرف وہی شخص کرتا ہے جو راہِ ہدایت سے بھٹک چکا ہو۔
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ صحابہ کرام ظاہرِ نصوص یعنی جس کی طرف پہلی دفعہ سمجھ میں آتی ہے، پر ایمان لائے تھے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کو ان سے اور دوسرے مکلف لوگوں اور اپنے رسول سے مطلوب تھا۔ اس لیے کہ یہ جس پر وہ ایمان لائے تھے اور جس کا انہیں اعتقاد تھا اگر یہ غلط ہوتا تو (اللہ) ان کو اس پر قائم نہ رکھتا اور ان کے سامنے درست بات بیان کردی جاتی۔ جب کہ کسی سے بھی ان نصوص کے ظاہری مفہوم میں تاویل منقول نہیں، نہ ہی صحیح سند سے اور نہ ہی ضعیف سند سے، حالانکہ اس کے اسباب بکثرت موجود تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8295

 
 
Hadith   1401   الحديث
الأهمية: أتعجبون من غيرة سعد، فوالله لأنا أغير منه، والله أغير مني، من أجل غيرة الله حرم الفواحش، ما ظهر منها، وما بطن، ولا شخص أغير من الله


Tema:

تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ باغیرت ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں۔

عن المغيرة بن شعبة -رضي الله عنه- مرفوعاً: قال سعدُ بنُ عُبَادة -رضي الله عنه- : لو رأيتُ رجلًا مع امرأتي لَضربتُه بالسيف غير مُصْفِح عنه، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أتعجبون من غَيْرة سعد، فوالله لأنا أغير منه، واللهُ أغير مني، من أجل غَيْرة الله حَرَّم الفواحش، ما ظهر منها، وما بطن، ولا شخص أغير من الله، ولا شخص أحبّ إليه العُذر من الله، من أجل ذلك بعث الله المرسلين، مُبشِّرين ومنذِرين، ولا شخص أحبّ إليه المِدحةَ من الله، من أجل ذلك وعد الله الجنة».

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اسے تلوار کو اس سے موڑے بغیر (دھار کو دوسری طرف کئے بغیر سیدھی تلوار) ماروں گا۔ رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ” تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے بھی زیادہ باغیرت ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں نیز اللہ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے ہیں اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قال سعدُ بنُ عُبَادة: لو رأيتُ رجلًا مع امرأتي لَضربتُه بحد السيف لا بعرضه، يعني: لقتلته بدون توقف، وقد أقره رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك، وأخبر أنه أغير من سعد، وأن الله أغير منه، وغيرة الله تعالى من جنس صفاته التي يختص بها، فهي ليست مماثلة لغيرة المخلوق، بل هي صفة تليق بعظمته، مثل الغضب، والرضا، ونحو ذلك من خصائصه التي لا يشاركه الخلق فيها، ومعنى الشخص في اللغة: ما شخص، وارتفع، وظهر، والله تعالى أظهر من كل شيء، وأعظم، وأكبر، وليس في إطلاقه على الله تعالى محذور، على أصل أهل السنة الذين يتقيدون بما قاله الله ورسوله.
ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ومن أجل غيرة الله حرم الفواحش، ما ظهر منها، وما بطن» أي: من أثر غيرة الله أنه منع عباده من قربان الفواحش، وهي: ما عظم وفحش في النفوس الزاكية والعقول السليمة مثل الزنا. والظاهر: يشمل ما فعل علناً، وما باشرته الجوارح وإن كان سراً، والباطن: يشمل ما في السر، وما انطوت عليه القلوب.
وقوله: «ولا أحد أحب إليه العذر من الله، ومن أجل ذلك بعث المرسلين مبشرين ومنذرين» المعنى: بعث المرسلين للإعذار والإنذار لخلقه، قبل أخذهم بالعقوبة، وهو كقوله تعالى: {رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ}.
وقوله: «ولا أحد أحب إليه المِدحة من الله، ومن أجل ذلك وعد الله الجنة» هذا لكماله المطلق، فهو تعالى يحب من عباده أن يثنوا عليه ويمدحوه على فضله وجوده، ومن أجل ذلك جاد عليهم بكل نعمة يتمتعون بها، ويرضى عنهم إذا حمدوه عليها، ومهما أثنوا عليه ومدحوه لا يمكن أن يصلوا إلى ما يستحقه من المدح والثناء، ولهذا مدح نفسه، فوعد الجنة ليكثر سؤاله، والثناء عليه من عباده ومدحه، ويجتهدوا في ذلك غاية ما يستطيعون؛ لأن الجنة هي منتهى الإنعام.
587;عد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں کسی شخص کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تلوار کی سیدھی دھار کے ساتھ اس کی گردن اڑا دوں، یعنی اسے قتل کرنے میں توقّف نہ کروں۔ آپ ﷺ نے انہیں اس بات پر قائم رکھتے ہوئے فرمایا کہ میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیور ہے۔ غیرت، اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور اللہ کی غیرت مخلوق کی غیرت کی طرح نہیں، بلکہ اللہ کی عظمت کے مطابق ہے جیسے غصہ اور رضامندی اور دیگر اللہ کی خصوصیات جن میں لوگ اللہ کے ساتھ شریک نہیں۔ لغت میں شخص کا معنی خاص، بلند اور ظاہر ہونے کے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے ظاہر، عظمت والے اور بڑا ہے۔ اہل سنت و جماعت جو قرآن و سنت کو لازم پکڑتے ہیں ان کے اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لیے غیرت کا لفظ بولنا ممنوع نہیں۔
پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ” اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے“ یعنی یہ اللہ کی غیرت ہی کا اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فُحش کاموں کے قریب جانے سے اپنے بندوں کو روک دیا ہے۔’فُحش‘ سے مُراد کام جن کی شناعت اور بُرا ہونا پاکیزہ لوگوں اور عقل سلیم والوں کے ہاں مسلم ہو جیسے زنا۔ ظاہر سے مُراد اعلانیہ کیے جانے والے تمام گناہ اور وہ گناہ ہیں جن میں اعضاء کا براہِ راست دخل ہوتا ہے اگرچہ وہ پوشیدہ ہی ہوں۔ اور باطن سے مُراد جو پوشیدہ ہوں اور دلوں میں ہوں۔
”اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں نیز اللہ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے ہیں“ یعنی اللہ نے پیغمبروں کو لوگوں کی طرف عذاب سے پہلے ڈرانے اور خوشخبری دینے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ ”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے“۔
” اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کے کاملِ مطلق ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے اپنے فضل اور سخا کی ثنا و تعریف سے خوش ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ہر طرح کی نعمت دے کر سخاوت کا مظاہرہ کیا جس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے وہ خوش ہوتا ہے۔ لوگ جب بھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں تو وہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کر سکتے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود بیان کی اور جنت کا وعدہ کیا تاکہ لوگ اللہ سے زیادہ مانگیں اور اس زیادہ سے زیادہ حمد و ثنا بیان کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی کوشش کریں۔ اس لیے کہ جنت تمام انعامات کی انتہا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8296

 
 
Hadith   1402   الحديث
الأهمية: اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف


Tema:

اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخش، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما، اے اللہ! ان پر يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسی قحط سالی مسلط فرما۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم كان إذا رفع رأسه من الركعة الآخِرة، يقول: «اللهمَّ أَنْجِ عَيَّاش بن أبي ربيعة، اللهمَّ أَنْجِ سَلَمَة بنَ هشام، اللهم أَنْجِ الوليد بن الوليد، اللهم أَنْجِ المستضعفين من المؤمنين، اللهمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَك على مُضَر، اللهمَّ اجعلها سنين كسِنِي يوسف». وأنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم قال: «غِفَارُ غفر الله لها، وأَسْلَمُ سالمها الله» قال ابن أبي الزناد عن أبيه: هذا كلُّه في الصبح.

ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے سر کو آخری رکعت ( کے رکوع ) سے اٹھاتے تو فرماتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخش، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما، اے اللہ! ان پر يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسی قحط سالی مسلط فرما“۔ اور نبی ﷺ فرماتے: ”قبیلہ غفار کی اللہ مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے“۔ ابن ابی الزناد اپنے والد سے روايت کرتے ہيں کہ يہ سب صبح (فجر) کی نماز ميں کہتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا رفعَ رأسَه من الركعة الآخيرة من صلاة الصبح، يقول: «اللهمَّ أَنْجِ عَيَّاش بنَ أبي رَبِيعة، اللهمَّ أَنْجِ سَلَمَة بنَ هشام، اللهم أَنْجِ الوليد بن الوليد، اللهم أَنْجِ المستضعفين من المؤمنين» وهؤلاء صحابة دعا لهم النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالإنجاء والخلاص من العذاب، وقد كانوا أسرى في أيدي الكفار بمكة، وعياش بن أبي ربيعة هو أخو أبي جهل لأمة حبسه أبو جهل بمكة، وسلمة بن هشام هو أخو أبي جهل قديم الإسلام عُذِّب في سبيل الله ومنعوه أن يهاجر، والوليد بن الوليد هو أخو خالد بن الوليد وحُبِس بمكة ثم أفلت منهم.
ثم يقول صلى الله عليه وسلم: «اللهمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَك على مُضَر، اللهمَّ اجعلها سنين كسِنِي يوسُفَ» أي: اللهم اشدد عذابك وعقوبتك على كفار قريش وهم من قبيلة مضر، واجعل عذابك عليهم بأن تسلِّط عليهم قحطًا عظيمًا سبع سنين أو أكثر، كالقحط الذي حدث أيام يوسف عليه السلام.
هذا وقد تكون الوطأة –وهي الدوس بالقدم- صفة من صفات الله بمقتضى هذا الحديث، ولكننا لم نجد أحدًا من السلف الصالح أو علماء المسلمين عدها من صفات الله عز وجل، فيحمل الوطء على الشدة والعذاب، ونسبته إلى الله تعالى لأنه فعله وتقديره، والله أعلم.
ثم قال صلى الله عليه وسلم: «غِفَارُ غَفَر اللهُ لها» يحتمل أن يكون دعاء لها بالمغفرة، أو إخبارا بأن الله تعالى قد غفر لها، وكذلك قوله: «وأَسْلَمُ سالمها اللهُ» يحتمل أن يكون دعاء لها أن يسالمها الله تعالى، ولا يأمر بحربها، أو يكون إخبارا بأن الله قد سالمها ومنع من حربها، وإنما خُصَّت هاتان القبيلتان بالدعاء لأن غفارا أسلموا قديما، وأسلم سالموا النبي صلى الله عليه وسلم.
«قال ابن أبي الزناد عن أبيه: هذا كلُّه في الصبح» يعني: أنه روى عن أبيه هذا الحديث بهذا الإسناد، فبين أن الدعاء المذكور كان في صلاة الصبح.
606;بی ﷺ جب صبح کی نماز کی آخری رکعت میں اپنے سر كو اوپر اٹھاتے تو فرماتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخش“ یہ سب صحابہ ہیں جن کے لیے نبی ﷺ نے عذاب سے نجات اور چھٹکارے کی دعا فرمائی۔ یہ لوگ مکہ ميں کفار کی قید میں تھے۔ عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ ابو جہل کے اخیافی بھائی تھے جنہیں ابو جہل نے مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ابو جہل کے حقیقی بھائی تھے جو بہت پہلے اسلام لانے والوں ميں سے تھے۔ انہیں اللہ کے راستے میں سخت تکلیف دی گئی اور ہجرت کرنے سے روک دیا گیا۔ ولید بن ولید رضی اللہ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے جو مکہ میں قید تھے اور بعد ميں ان سے چھوٹ کر بھاگ آئے۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما۔ اے اللہ! ان پر يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسی قحط سالی مسلط فرما“ یعنی اے اللہ! قریش کے کفار پر جو قبیلہ مضر سے ہیں، اپنا عذاب اور عقاب سخت کر دے اور ان پر اپنے عذاب کی یہ صورت بنا کہ ان پر سات سال یا اس سے بھی زیادہ مدت تک يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسا بڑا قحط مسلط کر دے۔
ہو سکتا ہے کہ ”الوطأة“ - جس کا معنی ”پاوں سے روندنا“ ہے- اس حدیث کی رو سے اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہو، لیکن ہم نے سلف صالحین اور علمائے مسلمین میں سے کسی کو نہیں پايا جس نے اسے اللہ عز و جل کی صفات میں سے شمار کیا ہو۔ لھٰذا اسے سختی اور عذاب پر محمول کیا جائے گا۔ اس کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی کیونکہ یہ اسی کا فعل اور اسی کا مقدر کردہ ہے۔ واللہ اعلم۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”غِفَارُ غَفَر اللهُ لها“ ہو سکتا ہے کہ یہ اس كے ليے مغفرت کی دعا ہو (یعنی اللہ غفار قبیلے کی مغفرت کرے) اور یہ بھی احتمال ہے کہ (آپ ﷺ کی طرف سے) خبر ہو کہ اللہ تعالی نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ اسی طرح ”وأَسْلَمُ سالمها الله“ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے یہ قبیلہ اسلم کے لئے دعا ہو کہ اللہ تعالی ان کو سلامت رکھے اور ان کے ساتھ جنگ کا حکم نہ دے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ اللہ نے انہیں سلامت رکھا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ بطور خاص ان دو قبیلوں کی لئے دعا کی گئی کیونکہ غفار قبیلہ بہت پہلے اسلام لے آیا تھا اور قبیلہ اسلم نے نبی ﷺ سے صلح کر لی تھی۔
”ابن ابی زناد اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: یہ سب صبح کی نماز میں ہوتا تھا“ یعنی ابن ابی زناد نے اس حدیث کو اس سند کے ساتھ اپنے والد سے روایت کیا اور وضاحت کی کہ مذکورہ دعا صبح کی نماز میں ہوتی تھی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8297

 
 
Hadith   1403   الحديث
الأهمية: انشق القمر على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فلقتين، فستر الجبل فلقة، وكانت فلقة فوق الجبل، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: اللهم اشهد


Tema:

رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مسعود میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔

عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- مرفوعاً: انشقَّ القمر على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فِلْقَتين، فستر الجبل فِلْقَة، وكانت فِلْقَة فوق الجبل، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اللهمَّ اشهَدْ».

ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
انشق القمر في زمان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قطعتين متفارقتين كل قطعة في مكان، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «اللهم اشهد» أي: اللهم اشهد عليهم أنني قد أريتهم الدليلَ على صدق نبوتي.
585;سول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو الگ الگ ٹکڑے ہوئے، ہر ٹکڑا اپنی الگ جگہ پر ہوگیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہ، یعنی اس بات پر کہ میں نے ان کو اپنی نوبت کے سچے ہونے پر دلیل دکھائی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8298

 
 
Hadith   1404   الحديث
الأهمية: ليس أحد، أو: ليس شيء أصبر على أذى سمعه من الله، إنهم ليدعون له ولدا، وإنه ليعافيهم ويرزقهم


Tema:

کوئی شخص یا کوئی چیز، ناگوار باتوں کو سن کر، اللہ سے زیادہ صبر کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انھیں تندرستی دیتا ہے، بلکہ انھیں روزی بھی دیتا ہے۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «ليس أحد، أو: ليس شيء أصبر على أذًى سمعَه مِن الله، إنَّهم لَيَدْعُون له ولدًا، وإنَّه ليُعافِيهم ويرزُقُهم».

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص یا کوئی چیز، ناگوار باتوں کو سن کر، اللہ سے زیادہ صبر کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انھیں تندرستی دیتا ہے، بلکہ انھیں روزی بھی دیتا ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قوله: «ليس أحدٌ، أو: ليس شيءٌ أصبرَ» أي: الله تعالى أشد صبرًا من أي أحد، ومن أسمائه الحسنى «الصبور»، ومعناه: الذي لا يعاجل العصاة بالعقوبة، وهو قريب من معنى الحليم، والحليم أبلغ في السلامة من العقوبة.
قوله: «على أذى سمعه من الله» لفظ الأذى في اللغة هو لما خف أمره، وضعف أثره من الشر والمكروه، وقد أخبر سبحانه أن العباد لا يضرونه، كما قال تعالى: {وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللهَ شَيْئاً}، وقال في الحديث القدسي: (يا عبادي إنكم لن تبلغوا ضري فتضروني ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني) فبين أن الخلق لا يضرونه، لكن يؤذونه.
قوله: «إنَّهم لَيَدْعُون له ولدًا» أي: أن ابن آدم يؤذي الله تعالى ويسبه، بإضافة ما يتعالى ويتقدس عنه، مثل نسبة الولد إليه تعالى والند والشريك في العبادة، التي يجب أن تكون خالصة له وحده.
وقوله: «وإنَّه ليُعافِيهم ويرزُقُهم» أي: أنه تعالى يقابل إساءتهم بالإحسان، فهم يسيئون إليه تعالى بالعيب والسب، ودعوى ما يتعالى عنه ويتقدس، وتكذيب رسله ومخالفة أمره، وفعل ما نهاهم عن فعله، وهو يحسن إليهم بصحة أبدانهم، وشفائهم من أسقامهم، وحفظهم بالليل والنهار مما يعرض لهم، ويرزقهم بتسخير ما في السماوات والأرض لهم، وهذا غاية الصبر والحلم والإحسان، والله أعلم.

Esin Hadith Caption Urdu


”ليس أحدٌ، أو: ليس شيءٌ أصبرَ“ یعنی اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام الصبور ہے۔ اس کے معنی ہیں جو نافرمانوں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ یہ حلیم کے معنی کے قریب ہے۔ الحلیم کا نام سزا سے محفوظ رکھنے میں زیادہ بلیغ ہے۔
”على أذى سمعه من الله“ لفظِ أذى لغت میں اس شر اور برائی کو کہتے ہیں جس کا معاملہ ہلکا اور جسکا اثر بہت کم ہو۔ در اصل اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا ہے کہ بندے اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، چنانچہ فرمایا ہے: ﴿وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللهَ شَيْئاً﴾ ”کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ آپ کو غم ناک نہ کریں، یقین مانو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے“۔ حدیثِ قدسی میں بھی آیا ہے: ”اے میرے بندو تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو“۔ اس طرح یہ واضح ہو گیا کہ مخلوق اسے نقصان تو نہیں پہنچا سکتی؛ البتہ اذیّت دے سکتی ہے۔
”إنَّهم لَيَدْعُون له ولدًا“ یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرکے، جس سے وہ بلند اور پاک ہے، اسے تکلیف دیتا ہے اور اس کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ جیسے اس کی طرف بیٹے، شریک اور عبادت میں ساجھی کی نسبت کرنا، جب کہ عبادت خالص اسی یکتا ذات کے لیے ہونی چاہیے۔
”وإنَّه ليُعافِيهم ويرزُقُهم“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بُرائی کا مقابلے بھلائی عطا کرتا ہے۔ وہ عیب، گالی، ایسے دعووں، جن سے اللہ کی ذات بَری اور پاک ہے، اس کے رسولوں کی تکذیب اور اس کی نافرمانی کرکے اللہ کے ساتھ بُرا کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اللہ انھیں صحت یابی، بیماریوں سے شفا، دن رات پیش آنے والی چیزوں سے حفاظت اور زمین و آسمانوں کو مسخر کرکے انہیں رزق عطا کرتا ہے۔ یہ حد درجے کا صبر، حلم اور احسان ہے۔ والله أعلم   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8299

 
 
Hadith   1405   الحديث
الأهمية: صدق الله، وكذب بطن أخيك، اسقه عسلا


Tema:

اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أنَّ رجلًا أتى النبيَّ صلى الله عليه وسلم فقال: أخي يَشْتكي بطنَه، فقال: «اسْقِه عَسَلًا» ثم أتى الثانيةَ، فقال: «اسْقِه عَسَلًا» ثم أتاه الثالثةَ فقال: «اسْقِه عَسَلًا» ثم أتاه فقال: قد فعلتُ؟ فقال: «صدق اللهُ، وكذب بطنُ أخيك، اسْقِه عَسَلًا» فسقاه فبرأ.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی بیماری لاحق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پھر دوسری بار آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پھر (تیسری بار) آیا اور عرض کیا کہ میں نے پلایا (لیکن فائدہ نہیں ہوا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سچا ہے، اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ۔ چنانچہ اس نے پھر شہد پلایا، تو وہ تندرست ہوگیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بأن أخاه يتألم من مرض في بطنه، وهذا المرض هو الإسهال، كما اتضح من روايات أخرى للحديث، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يسقي أخاه عسلا، فسقاه فلم يُشف، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره، فأمره أن يسقيه عسلا مرة أخرى، فسقاه فلم يُشف، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره، فأمره أن يسقيه عسلا مرة ثالثة، فسقاه فلم يُشف، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال صلى الله عليه وسلم: «صدق الله وكذب بطن أخيك اسقه عسلا» وهذا فيه احتمالان: أحدهما: أن يكون النبي صلى الله عليه وسلم أخبر عن غيب أطلعه الله عليه، وأعلمه بالوحي أن شفاء ذلك من العسل، فكرر عليه الأمر بسقي العسل ليظهر ما وعد به. والثاني: أن تكون الإشارة إلى قوله تعالى: {فيه شفاء للناس} ويكون قد علم أن ذلك النوع من المرض يشفيه العسل.
فلما أمره في المرة الرابعة أن يسقيه عسلا، ذهب الرجل فسقى أخاه عسلا فشُفي بإذن الله تعالى.
ولا يلزم حصول الشفاء به لكل مرض في كل زمن وبأي نوع من أنواع العسل، لكن (لكل داء دواء إذا أصيب دواء الداء برئ بإذن الله) كما قال -صلى الله عليه وسلم-، رواه مسلم (4/ 1729، ح2204).
575;یک آدمی نبیﷺکے پاس آیا اور اس نے آپﷺ کو بتایا کہ اس کا بھائی پیٹ کے مرض کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ یہ اسہال کا مرض تھا جیسا کہ اسی حدیث کی دیگر روایات سے واضح ہوتا ہے۔ نبیﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کو شہد پلائے۔ اس نے اسے شہد پلایا، لیکن وہ صحت یاب نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ آپﷺ نے دوبارہ اسے حکم دیا کہ وہ اسے شہد پلائے۔ اس نے پھر پلایا لیکن اسے کچھ افاقہ نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو صورت حال بتائی۔ آپﷺ نے تیسری مرتبہ پھر اسے حکم دیا کہ اسے شہد پلائے۔ اس نے پھر شہد پلایا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپﷺنے فرمایا: ”اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اسے شہد پلاؤ“۔ اس میں دو احتمالات کا امکان ہے:
پہلا احتمال: یہ کہ نبیﷺ نے یہ بات غیبی طور پر بتائی ہو، جس سے آپ ﷺ کو اللہ تعالی نے مطلع کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس کی شفا شہد میں ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے بار بار اسے شہد پلانے کا حکم دیا؛ تا کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔
دوسرا احتمال: ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے اس قول کی طرف اشارہ ہو کہ: ﴿فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ﴾ ”اس (شہد) میں لوگوں کے لیے شفا ہے“، اور آپ ﷺ کو اس بات کا علم ہو کہ اس قسم کے مرض کی شفا شہد ہی میں ہے۔
جب آپ ﷺنے چوتھی دفعہ شہد پلانے کا حکم دیا، تو اس آدمی نے جا کر اپنے بھائی کو شہد پلایا، جس سے وہ اللہ کے حکم سے شفایاب ہو گیا۔
اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ تمام حالات اور ہر بیماری سے شہد کی ہر قسم کے ذریعہ شفا ملے گی البتہ ہر بیماری کی ایک دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہوجاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم سے شفایاب ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم: 2204)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8300

 
 
Hadith   1406   الحديث
الأهمية: يا رسولَ الله، هل نرى ربَّنا يوم القيامة؟ قال: هل تُضَارُّون في رؤية الشمس والقمر إذا كانت صَحْوًا؟


Tema:

اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان صاف ہو؟

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قلنا يا رسولَ الله، هل نرى ربَّنا يوم القيامة؟ قال: «هل تُضَارُّون في رؤية الشمس والقمر إذا كانت صَحْوًا؟»، قلنا: لا، قال: «فإنكم لا تُضَارُّون في رؤية ربِّكم يومئذ، إلا كما تُضَارُّون في رؤيتهما» ثم قال: «ينادي منادٍ: ليذهب كلُّ قوم إلى ما كانوا يعبدون، فيذهب أصحابُ الصليب مع صليبهم، وأصحابُ الأوثان مع أوثانهم، وأصحابُ كلِّ آلهةٍ مع آلهتهم، حتى يبقى من كان يعبد اللهَ، مِن بَرٍّ أو فاجر، وغُبَّرات من أهل الكتاب، ثم يؤتى بجهنم تعرضُ كأنها سَرابٌ، فيقال لليهود: ما كنتم تعبدون؟ قالوا: كنا نعبد عُزَير ابنَ الله، فيقال: كذبتم، لم يكن لله صاحبة ولا ولد، فما تريدون؟ قالوا: نريد أن تسقيَنا، فيقال: اشربوا، فيتساقطون في جهنم، ثم يقال للنصارى: ما كنتم تعبدون؟ فيقولون: كنا نعبد المسيحَ ابن الله، فيقال: كذبتم، لم يكن لله صاحبة، ولا ولد، فما تريدون؟ فيقولون: نريد أن تسقيَنا، فيقال: اشربوا فيتساقطون في جهنم، حتى يبقى من كان يعبد الله من بَرٍّ أو فاجر، فيقال لهم: ما يحبسكم وقد ذهب الناس؟ فيقولون: فارقناهم، ونحن أحوجُ منا إليه اليوم، وإنَّا سمعنا مناديًا ينادي: ليَلْحقْ كلُّ قوم بما كانوا يعبدون، وإنما ننتظر ربَّنا، قال: فيأتيهم الجَبَّار في صورة غير صورتِه التي رأوه فيها أولَ مرة، فيقول: أنا ربُّكم، فيقولون: أنت ربُّنا، فلا يُكَلِّمُه إلا الأنبياء، فيقول: هل بينكم وبينه آيةٌ تعرفونه؟ فيقولون: الساق، فيَكشِفُ عن ساقه، فيسجد له كلُّ مؤمن، ويبقى من كان يسجد لله رِياءً وسُمْعَة، فيذهب كيما يسجد، فيعود ظهرُه طَبَقًا واحدًا، ثم يؤتى بالجسر فيُجْعَل بين ظَهْرَي جهنم»، قلنا: يا رسول الله، وما الجسر؟ قال: «مَدْحَضةٌ مَزَلَّةٌ، عليه خطاطيفُ وكَلاليبُ، وحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لها شوكةٌ عُقَيْفاء تكون بنَجْد، يقال لها: السَّعْدان، المؤمن عليها كالطَّرْف وكالبَرْق وكالرِّيح، وكأَجاويد الخيل والرِّكاب، فناجٍ مُسَلَّمٌ، وناجٍ مَخْدوشٌ، ومَكْدُوسٌ في نار جهنم، حتى يمرَّ آخرُهم يسحب سحبًا، فما أنتم بأشد لي مُناشدةً في الحق قد تبيَّن لكم من المؤمن يومئذ للجَبَّار، وإذا رأَوْا أنهم قد نَجَوْا، في إخوانهم، يقولون: ربنا إخواننا، كانوا يصلون معنا، ويصومون معنا، ويعملون معنا، فيقول الله -تعالى-: اذهبوا، فمن وجدتُم في قلبه مِثْقالُ دِينار من إيمان فأخرجوه، ويُحَرِّمُ اللهُ صُوَرَهم على النار، فيأتونهم وبعضُهم قد غاب في النار إلى قدمِه، وإلى أنصاف ساقَيْه، فيُخْرِجون مَن عَرَفوا، ثم يعودون، فيقول: اذهبوا فمَن وجدتُم في قلبه مِثْقال نصف دينار فأخرجوه، فيُخْرِجون مَن عَرَفوا، ثم يعودون، فيقول: اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مِثْقال ذرة من إيمان فأخرجوه، فيُخْرِجون مَن عَرَفوا» قال أبو سعيد: فإنْ لم تُصَدِّقوني فاقرءوا: {إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا} «فيشفعُ النبيُّون والملائكة والمؤمنون، فيقول الجَبَّار: بَقِيَتْ شفاعتي، فيَقْبِض قَبْضَةً من النار، فيُخْرِجُ أقوامًا قدِ امْتَحَشُوا، فيُلْقَوْن في نهرٍ بأفواه الجنة، يقال له: ماء الحياة، فيَنْبُتون في حافَّتَيْه كما تَنْبُتُ الحِبَّة في حَمِيل السَّيْل، قد رأيتُموها إلى جانب الصَّخْرة، وإلى جانب الشجرة، فما كان إلى الشمس منها كان أخضر، وما كان منها إلى الظِّلِّ كان أبيض، فيخرجون كأنَّهم اللؤلؤ، فيُجعل في رقابهم الخَوَاتيم، فيَدخلون الجنة، فيقول أهل الجنة: هؤلاء عُتَقاءُ الرحمن، أدخلهم الجنةَ بغير عَمَلٍ عملوه، ولا خيرٍ قَدَّموه، فيقال لهم: لكم ما رأيتم ومثلُه معه».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان صاف ہو؟‘‘ ہم نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایاـ ’’اس دن تمہیں اپنے پروردگار کو دیکھنے میں اتنی ہی تکلیف ہوگی جتنی کہ ان دونوں (سورج اور چاند) کے دیکھنے میں ہوتی ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس چیز کی طرف چلی جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ اورجھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ ہو لیں گے۔ یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں يا بد اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ پھر دوزخ سامنے لائی جائے گی وہ ایسی (چمکدار ہو گی )جیسے سراب ہوتا ہے۔ پھر یہودیوں سے کہا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے؟۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر (علیہ السلام) کی پوجا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے ہیں۔ انہیں جواب ملے گا: تم جھوٹے ہو۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو۔ (وہ اس چمکتی ریت کی مانند جہنم کی طرف اسے پانی جان کر چل پڑیں گے) اور جہنم کے اندر جا گریں گے۔ پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا: تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد، بتاؤ اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں پانی پلائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پی لو۔ چنانچہ یہ بھی جہنم میں جا گریں گے۔ یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہوں یا بد۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم ان سے اس وقت جدا ہو گئے تھے جب کہ ہمیں ان کی زیادہ ضر ورت تھی۔ ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔ چنانچہ ہم تو بس اپنے رب کے منتظر ہیں (کیونکہ ہم اسی کی عبادت کرتے تھے)۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ پھر اللہ (جبار) ان کے سامنے اس صورت کی بجائے کسی دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور اللہ تعالی کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ انبیاء کے سوا اور کوئی بھی اللہ سے بات نہیں کرے گا۔ الله تعالی فرمائے گا: کیا تمہیں کسی ایسی نشانی کا علم ہے جس سے تم اپنے رب کو پہچان لو؟ وہ کہیں گے کہ ”ساق“ (پنڈلی)۔ اس پر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دے گا تو ہر مومن اس کے سامنے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح (سخت) ہوکر رہ جائے گی۔ پھر پل صراط لایا جائے گا اور جہنم کی پشت پر لا کر رکھا جائے گا۔ ہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! پل کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک پھسلنے اور گرنے کی جگہ ہے، اس پر درانتیاں،آنکڑے اور چوڑے چوڑے کانٹے ہوں گے جن کے سر اس سعدان جھاڑی کے کانٹوں کی طرح خم دار ہوں گے جو نجد کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ مومن اس پر سے پلک جھپکنےمیں، بجلی کی سی تیزی سے، ہوا کی مانند اور تیز رفتار عمدہ گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں سے بعض تو صحیح سلامت نجات پا جائیں گے، بعض زخمی تو ہوں گے لیکن بچ جائیں گے اور بعض اوندھے منہ جہنم میں جا گریں گے۔ یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا۔ تم لوگ آج کسی حق كے لیے جس طرح مجھ سے مطالبہ اور درخواست کرتے ہو اس دن اللہ سے مومنين اس سے بھی زیادہ شد ومد كے ساتھ مطالبہ اور درخواست کريں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات عطا فرما)۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو۔ اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض لوگ تو جہنم میں اپنے پاؤں اور آدھی پنڈلیوں تک غرق ہیں۔ جنہیں وہ پہچان لیں گے انہیں دوزخ سے نکال لیں گے۔ پھر واپس آئیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکال لیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ وہ جسے پہچان پائیں گے اسے نکال لائیں گے۔” ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو: ﴿إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ ”اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اگر نیکی ہے تو اسے بڑھا کر کئی گنا کر دیتا ہے“۔ اس کے بعد انبیاء، فرشتے اور مومنین شفاعت کریں گےاور اللہ تعالی کا ارشاد ہو گا کہ اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر کر لے کر ایسے لوگوں کو نکالے گا جو جھلس کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں جنت کے کناروں پر موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جسے آب حیات کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس کے کنارے اس طرح تر و تازہ ہو جائیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا کہ اس کے جس حصے پر دھوپ پڑتی رہتی ہے اس پر سبزا ابھرتا ہے اور جس حصے پر سایہ ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے۔ جب وہ نکلیں گے تو یوں لگیں گے جیسے موتی ہوں۔ ان کی گردنوں پر مہریں لگا دی جائیں گے (کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں)۔ پھر انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اہل جنت کہیں گے: یہ ”عتقاء الرحمن“ (اللہ کے آزاد کردہ لوگ) ہیں۔ انہوں نے نہ تو کوئی عمل کیا تھا اور نہ ہی کوئی نیکی آگے بھیجی تھی لیکن اللہ نے پھر بھی انہیں جنت میں داخل کر دیا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ سب تمہارا ہے اور اتنا ہی اس کے ساتھ مزید بھی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل بعضُ الصحابة النبيَّ صلى الله عليه وسلم: هل نرى ربَّنا يوم القيامة؟ فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: نعم ترون ربكم يوم القيامة كما ترون الشمس في منتصف النهار والقمر ليلة البدر من غير ازدحام ولا منازعة، والتشبيه إنما وقع في الوضوح وزوال الشك والمشقة والاختلاف، فهو تشبية للرؤية بالرؤية لا للمرئي بالمرئي. وهذه الرؤية غير الرؤية التي هي ثواب للأولياء وكرامة لهم في الجنة؛ إذ هذه للتمييز بين مَن عبد الله وبين من عبد غيره.
ثم أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه ينادي مناد يوم القيامة: من كان يعبد شيئا من دون الله فليتبعه، وفي رواية صحيحة: أن الله هو الذي ينادي سبحانه، فيُجمع من كان يعبد الأصنام من دون الله ويُقذفون في نار جهنم. فلا يبقى إلا من كان يعبد الله سواء كان مطيعًا أو عاصيًا وبعض بقايا قليلة من يهود ونصارى، وأما معظمهم وجُلُّهم فقد ذُهب بهم مع أوثانهم إلى جهنم، ويؤتى بجهنم تُعرض على الناس في ذلك الموقف كأنها سراب، فيجاء باليهود، فيقال لهم: مَن كنتم تعبدون؟ قالوا: كنَّا نعبدُ عُزَيرَ ابنَ الله. فيقال لهم: كذبتم في قولكم: عُزَيرُ ابنُ الله؛ فإن الله لم يتخذ زوجة ولا ولدًا، ثم يقال لهم: فماذا تريدون؟ فيقولون: نريد أن نشرب. وقد صار أول مطلبهم الماء؛ لأنه في ذلك الموقف يشتد الظمأ لتوالي الكربات، وترادف الشدائد المهولات، وقد مُثِّلت لهم جهنم كأنها ماء، فيقال لهم: اذهبوا إلى ما ترون وتظنونه ماء، فاشربوا. فيذهبون فيجدون جهنم يكسر بعضها بعضاً؛ لشدة اتقادها وتلاطم أمواج لهبها فيتساقطون فيها، ومثل ذلك يقال للنصارى بعدهم.
حتى إذا لم يَبْق إلا مَن كان يعبد اللهَ من مطيع وعاص، فيقال لهم ما يوقفكم هذا الموقف وقد ذهب الناس؟ فيقولون: فارقنا الناس في الدنيا ونحن اليوم أحوج إلى مفارقتهم؛ وذلك لأنهم عصوا الله وخالفوا أمره، فعاديناهم لذلك، بغضاً لهم في الله، وإيثاراً لطاعة ربنا، ونحن ننتظر ربنا الذي كنا نعبده في الدنيا، فيأتيهم الله تعالى في صورة غير الصورة التي رأو فيها أول مرة،  وفي هذا بيان صريح أنهم قد رأوه في صورة عرفوه فيها، قبل أن يأتيهم هذه المرة، ولا يصح تأويل الصورة، بل يجب الإيمان بها من غير تكييف ولا تمثيل ومن غير تحريف ولا تعطيل. فإذا أتاهم الله تعالى قال لهم: أنا ربكم. فيقولون: أنت ربنا، فرحًا بذلك واستبشارًا، وعند ذلك لا يكلمه سبحانه إلا الأنبياء، فيقول الله لهم: هل بينكم وبينه آيةٌ تعرفونه بها؟   فيقولون: الساق. فيكشف سبحانه عن ساقه فيعرفه المؤمنون بذلك فيسجدون له، وأما المنافقون الذين يراءون الناس بعبادتهم، فمُنعوا من السجود، وجُعلت ظهورهم طبقاً واحداً، لا يستطيعون الانحناء، ولا السجود؛ لأنهم ما كانوا في الحقيقة يسجدون لله في الدنيا، وإنما كانوا يسجدون لأغراضهم الدنيوية.
ففي ذلك إثبات الساق صفة لله تعالى، ويكون هذا الحديث ونحوه تفسيراً لقوله تعالى: {يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلا يَسْتَطِيعُونَ} وتفسير الساق في هذا الموضع بالشدة أو الكرب مرجوح، ويجب مع ذلك إثبات صفة الساق لله تعالى من السنة، ودلالة الآية على الصفة هو الراجح والأصح، وذلك من غير تكييف ولا تمثيل ومن غير تحريف ولا تعطيل.
ثم يؤتى بالصراط، فيُجعل في وسط جهنم، وهذا الصراط لا تستمسك فيه الأقدام، ولا تثبت، وعلى هذا الصراط خطاطيف، وهو الحديدة المعقوفة المحددة؛ لأجل أن تمسك من أريد خطفه بها، فهي قريبة من الكلوب، وعلى الصراط أيضًا أشواك غليظة عريضة، يمر الناس على هذا الصراط على قدر إيمانهم وأعمالهم، فمن كان إيمانه كاملاً، وعمله صالحاً خالصاً لله، فإنه يمر من فوق جهنم كلمح البصر، ومن كان دون ذلك يكون مروره بحسب إيمانه وعمله، كما فُصِّل ذلك في الحديث، ومُثِّل بالبرق، والريح، إلى آخره. والمارون على الصراط أربعة أصناف:
الأول: الناجي المسلَّم من الأذى، وهؤلاء يتفاوتون في سرعة المرور عليه كما سبق.
والثاني: الناجي المخدوش، والخدش هو الجرح الخفيف، يعني: أنه أصابه من لفح جهنم، أو أصابته الكلاليب والخطاطيف التي على الصراط بخدوش.
والثالث: المكدوس في النار، الملقى فيها بقوة.
والرابع: الذي يُسحب على الصراط سحباً قد عجزت أعماله عن حمله.
ثم قال صلى الله عليه وسلم: «فما أنتم بأشد لي مناشدة في الحق قد تبين لكم، من المؤمن يومئذ  للجبار» هذا من كرم الله، ورحمته، حيث أذن لعباده المؤمنين في مناشدته وطلب عفوه عن إخوانهم الذين أُلقوا في النار، بسبب جرائمهم التي كانوا يبارزون بها ربهم، ومع ذلك أَلْهم المؤمنين الذين نجوا من عذاب النار وهول الصراط، ألهمهم مناشدته، والشفاعة فيهم، وأذن لهم في ذلك؛ رحمة منه لهم تبارك وتعالى.
«يقولون: ربنا إخواننا الذين كانوا يصلون معنا، ويصومون معنا، ويعملون معنا» مفهوم هذا أن الذين لا يصلون مع المسلمين، ولا يصومون معهم، لا يشفعون فيهم، ولا يناشدون ربهم فيهم. وهو يدل على أن هؤلاء الذين وقعت مناشدة المؤمنين لربهم فيهم كانوا مؤمنين، موحدين؛ لقولهم: «إخواننا كانوا يصلون معنا، ويصومون معنا»، ولكن ارتكبوا بعض المآثم، التي أوجبت لهم دخول النار.
وفي هذا رد على طائفتين ضالتين: الخوارج، والمعتزلة، في قولهم: إن من دخل النار لا يخرج منها، وإن صاحب الكبيرة في النار.
فيقول الله تعالى لهم: اذهبوا، فمن وجدتُم في قلبه مقدار دِينار من إيمان فأخرجوه من النار، ويُحَرِّمُ اللهُ على النار أن تأكل وجوههم، فيأتونهم فيجدون بعضهم قد أخذته النار إلى قدمِه، وبعضهم إلى أنصاف ساقَيْه، فيُخْرِجون مَن عَرَفوا منهم، ثم يعودون، فيقول الله لهم: اذهبوا فمَن وجدتُم في قلبه مقدار نصف دينار من إيمان فأخرجوه من النار، فيُخْرِجون مَن عَرَفوا منهم، ثم يعودون، فيقول: اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مقدار ذرة من إيمان فأخرجوه، فيُخْرِجون مَن عَرَفوا منهم،  وعند ذلك قال أبو سعيد الخدري: فإنْ لم تُصَدِّقوني فاقرءوا: {إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا} واستشهاد أبي سعيد بالآية ظاهر في أن العبد إذا كان معه مثقال ذرة من إيمان، فإن الله يضاعفه له، فينجيه بسببه.
ثم قال: «فيشفع النبيون، والملائكة، والمؤمنون» وهذا صريح في أن هؤلاء الأقسام الثلاثة يشفعون، ولكن يجب أن يُعلم أن شفاعة أي شافع، لا تقع إلا بعد أن يأذن الله فيها، كما تقدم في مناشدتهم ربهم وسؤالهم إياه، ثم يأذن لهم فيقول: اذهبوا فمن وجدتم، إلى آخره.
قوله: «فيقول الجبار: بقيت شفاعتي، فيقبض قبضة من النار، فيخرج أقواماً قد امتحشوا» والمراد بشفاعته تعالى رحمته لهؤلاء المعذبين، فيخرجهم من النار. قوله: «فيقبض قبضة» فيه إثبات القبض لله تعالى، وكم في كتاب الله تعالى وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم من نص يثبت اليد والقبضة، ولكن أهل التأويل الفاسد المحرِّفين يأبون قبول ذلك، والإيمان به، وسوف يعلمون أن الحق ما قاله الله وقاله رسوله، وأنهم قد ضلوا السبيل في هذا الباب.
فيقبض سبحانه قبضة من النار، فيخرج أقواماً قد احترقوا وصاروا فحما، قوله: «فيُلْقَوْن في نهرٍ بأفواه الجنة، يقال له: ماء الحياة، فينبتون في حافتيه» أي: فيُطرحون في نهر بأطراف الجنة يُعرف بماء الحياة، أي الماء الذي يحيي من انغمس فيه، وعند ذلك تنبت لحومهم وأبصارهم وعظامهم التي احترقت في النار بجانب هذا النهر، قوله: «كما تنبت الحبة في حميل السيل، قد رأيتموها إلى جانب الصخرة، وإلى جانب الشجرة، فما كان إلى الشمس منها كان أخضر، وما كان إلى الظل كان أبيض» يعني بذلك: سرعة خروج لحومهم؛ لأن النبت في حميل السيل - كما ذكر - يخرج بسرعة، ولهذا يكون من جانب الظل أبيض، ومن جانب الشمس أخضر، وذلك لضعفه ورقته، ولا يلزم أن يكون نبتهم كذلك - كما قاله بعضهم: بأن الذي من جانب الجنة يكون أبيض، والذي من جانب النار يكون أخضر - بل المراد تشبيههم بالنبت المذكور في سرعة خروجه، ورقته، ولذلك قال: «فيخرجون كأنهم اللؤلؤ» يعني: في صفاء بشرتهم، وحسنها.
قوله: «فيجعل في رقابهم الخواتيم» وهذه الخواتيم يكتب فيها: «عتقاء الرحمن من النار» كما ذكر في الرواية الأخرى.
قوله: «فيدخلون الجنة، فيقول أهل الجنة: هؤلاء عتقاء الرحمن، أدخلهم الجنة، بغير عمل عملوه، ولا خير قدموه» يعني: أنهم لم يعملوا صالحاً في الدنيا، وإنما معهم أصل الإيمان، الذي هو شهادة أن لا إله إلا الله والإيمان برسولهم.
قوله: فيقال لهم: «لكم ما رأيتم، ومثله معه» يظهر أنهم يدخلون أماكن من الجنة خالية، ولهذا قيل لهم ذلك.
576;عض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ: “کیا ہم روز قیامت اللہ تعالی کو دیکھیں گے؟۔” آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ہاں۔ تم اپنے رب کو بالکل ایسے ہی دیکھو گے جیسے عین دوپہر کے وقت سورج کو اور چودھویں کی رات مکمل چاند کو بغیر کسی بھیڑ اور دھکم پیل کے دیکھ لیتے ہو۔ تشبیہ وضاحت اور اس میں کسی قسم کے شک، مشقت اوراختلاف نہ ہونے ميں ہے۔ یہ دیکھنے کی تشبیہ دیکھنے کے ساتھ ہے، دیکھی جانے والی شے کی تشبیہ دیکھی جانے والی شے کے ساتھ نھیں ہے۔ یہ رویت اس رویت کے علاوہ ہے جو اللہ کے اولیاء کو جنت میں بطور ثواب اور اعزاز کے عطا ہوگی۔ کیونکہ یہ رویت ان لوگوں کے درميان فرق کرنے کے لیے ہے جنہوں نے اللہ کی عبادت کی اور جنہوں نے اس کے علاوہ کی عبادت کی۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک اعلان کرنے والا پکار کر کہے گا کہ جو اللہ کے سوا کسی اور شے کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہو لے۔ ایک صحیح روایت میں ہے کہ: خود اللہ تعالی ہی یہ ندا دے گا۔ چنانچہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے تھے انہیں اکٹھا کر کےجہنم میں پھینک دیا جائے گا اور صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، چاہے وہ فرمانبردار ہوں یا نافرمان، اور یہود و نصاری میں سے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ البتہ ان میں سے زیادہ تر کو تو ان کے معبودوں کے ساتھ جہنم کے پاس لے جایا جائے گا۔ پھر اس جگہ جہنم کو لا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ یوں لگے گی جیسے سراب ہوتا ہے۔ پھر یہودیوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے۔ ان کو جواب ملے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی اولاد۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟وہ کہیں گے کہ ہم پینا چاہتے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا مطالبہ پانی کا ہوگا۔ کیونکہ اس جگہ پے در پے آنی والی پریشانیوں اور کٹھن مراحل اور ہولناکیوں کی وجہ سے سخت پیاس لگے گی۔ جہنم ان کو ایسے دکھائی دے گی جیسے پانی ہو۔ ان سے کہا جائے گا: جو تمہیں دکھائی دے رہا ہے اور جسے تم پانی سمجھ رہے ہو اس کی طرف جاؤ اور پی لو۔ وہ وہاں جائیں گے تو جہنم کو پائیں گے جو اپنی حرارت کی شدت اور شعلہ زنی کی وجہ سے خود اپنے آپ ہی کو کھائے جا رہی ہو گی۔ پس وہ لوگ اس میں گر جائیں گے۔ ان کے بعد اسی طرح نصاری کو بھی کہا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب صرف اللہ کی عبادت کرنے والے مطیع اور گناہ گار باقی رہ جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو کس چيز نے اس جگہ روک رکھا ہے، جب کہ لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے: ہم نے دنیا میں اس وقت ان لوگوں سے کنارہ کشی کی جب کہ ہمیں ان کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکامات کی مخالفت کی۔ چنانچہ ہم نے اللہ کی خاطر ان سے نفرت كركے ان كی دشمنی مول لی اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کو مقدم رکھا (پھر آج بھلا ہم ان سے الگ کیوں نہ رہیں؟!)۔ اب ہم اپنے اس رب کے انتظار میں ہیں جس کی ہم دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت کے بجائے کسی اور صورت میں آئے گا جس ميں انہوں نے پہلی بار اسے دیکھا تھا۔ اس میں اس بات کی صاف وضاحت ہے کہ اس دفعہ آنے سے پہلے ہی وہ اللہ کو ایسی صورت میں دیکھ چکے تھے جس میں انہوں نے اسے پہچان لیا تھا۔ صورت کی تاویل کرنا درست نہیں ہے۔ بلکہ بغیر کسی تکییف و تمثیل اور بنا کسی تحریف و تعطیل کے اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ جب اللہ تعالی ان کے پاس آئے گا تو کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ اس پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس وقت اللہ تعالی سے صرف انبیاء ہی کلام کر سکیں گے۔ اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: کیا تمہارے اور تمہارے رب کے مابین کوئی ایسی علامت ہے جس سے تم اسے پہچان سکو؟
وہ کہیں گے کہ یہ علامت پنڈلی ہے۔ اس پر اللہ تعالی اپنے پنڈلی کھول دے گا اور اس سے مومنين اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پہچان کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ جب کہ منافقین جو لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کیا کرتے تھے، انہیں سجدہ کرنے سے روک دیا جائے گا اور ان کی پیٹھ کو ایک طشت بنادیا جائے گا، (جس کی وجہ سے) وہ نہ جھک سکیں گے اور نہ ہی سجدہ کر سکیں گے۔ کیونکہ دنیا میں وہ لوگ درحقیقت اللہ تعالی کے لیے سجدے نہیں کرتے تھے بلکہ محض اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے سجدے کیا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ "ساق" (پنڈلی) اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔ یہ حدیث اور اس طرح کی دیگر احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر ہیں کہ: ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلا يَسْتَطِيعُونَ﴾ ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کو کہا جائے گا تو وہ نہ کر سکیں گے“۔ اس مقام پر "ساق" کی تفسیر سختی اور پریشانی کے ساتھ کرنا مرجوح ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حدیث کی بنا پر"ساق" کی صفت کو اللہ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔ صفت پر ہی آيت کی دلالت راجح اور صحيح ترین ہے،اوراسے بغیر تکییف و تمثیل اور بغير کسی تحریف و تعطیل کے ماننا ہے۔
پھر ان کو پل صراط پر لایا جائے گا جسے جہنم کے درمیان میں رکھ دیا جائے گا۔ اس پل پر پاؤں ٹھہر نہیں پائیں گے اور نہ جم سکیں گے۔ اس پر آنکڑے لگے ہوں گے یعنی خم دار اور تیز لوہے کے کانٹے تاکہ جنہیں اچک لینا ہو انہیں ان کے ذریعہ اچک لیا جاسکے۔ یہ خمیدہ کھونٹیوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ پل پر موٹے اور چوڑے چپٹے کانٹے بھی ہوں گے۔ لوگ اس پل پر سے اپنے ایمان اور اعمال کے لحاظ سے گزریں گے۔ جس کا ایمان کامل ہوگا اور عمل صالح خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو گا وہ جہنم کے اوپر سے پلک جھپکنے میں گزر جائے گا۔ جو اس سے کمتر ہوگا اس کا گزرنا اس کے ایمان اور عمل کے لحاظ سے ہوگا جیسا کہ اس کی تفصیل حدیث میں بیان کی گئی ہے اور ان کے گزرنے کی کیفیات کو بجلی اور ہوا وغیرہ کےساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ پل پر سے گزرنے والے چار قسم کے لوگ ہوں گے:
اول: بغیر کسی تکلیف کے نجات پا جانے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گزرنے کی رفتار ایک دوسرے سے مختلف ہو گی جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔
دوم: زخمی ہو کر نجات پانے والے۔ “الخدش” ہلکے زخم کو کہتے ہیں۔ یعنی جہنم کی تپش انہیں پہنچے گی یا پھر وہ پل پر نصب کھونٹیوں اور آنکڑوں کی زد میں آ جائیں گے۔
سوم: جہنم میں پٹخ دیے جانے والے جو زور سے اس میں جا گریں گے۔
چہارم: جو گھسٹ گھسٹ کر پل پر سے گزریں گے اور ان کے اعمال (اتنے کمزور ہوں گے کہ)ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوں گے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ آج کسی حق کے لیے جس طرح مجھ سے مطالبہ اور درخواست کرتے ہو اس دن مومنین اللہ سے اس سے بھی زیادہ شد و مد کے ساتھ مطالبہ اور درخواست کریں گے۔” یہ اللہ کا خصوصی کرم اور رحمت ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی بابت اللہ تعالیٰ سے فرمائش کریں اور انہیں معاف کرنے کی درخواست کریں، جنہیں ان کے ان جرائم کے سبب جہنم میں ڈال دیا گیا ہوگا جن کا ارتکاب وہ اپنے رب کی مخالفت میں کرتے رہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو دوزخ کے عذاب اور پل صراط کی ہولناکی سے نجات پاگئے ہوں گے یہ بات ڈال دے گا کہ وہ ان کے حق میں اس سے درخواست کریں اور ان کے لیے شفاعت کریں۔ اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کی بدولت انہیں اس کی اجازت دے گا۔ ’’اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات عطا فرما)۔” اس کا مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے اور ان کے ساتھ روزے نہیں رکھتے وہ ان کے حق میں شفاعت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے لیے اپنے رب کے حضور درخواست گزاریں گے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جن کے حق میں مومن لوگ اپنے رب سے درخواست کریں گے وہ بھی مومن اور موحد ہوں گے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے: “ہمارے بھائی بھی جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے۔” تاہم انہوں نے بعض گناہوں کا ارتکاب کیا جن کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے۔
اس میں خوارج اور معتزلہ کے دو گمراہ گروہوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ جو جہنم میں چلا جائے گا وہ اس میں سے نہیں نکلے گا اور یہ کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ضرور دوزخ میں جائے گا۔
اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جو شخص بھی تمہیں ایسا ملے جس کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ اللہ تعالی ان کے چہروں کو آگ پر حرام کر دے گا تا کہ وہ ان کے چہروں کو نہ جلائے۔ چنانچہ وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ ان میں سے بعض کے پاؤں تک اور بعض کی پنڈلیوں کے نصف تک آگ پہنچ رہی ہے۔ وہ ان میں سے جن کو پہچان پائیں گے انہیں نکال لیں گے۔ پھر جب واپس آئیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں تم نصف دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچان سکيں گے انہیں نکال لیں گے۔ پھر جب لوٹ کر آئیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں تمہیں ذرہ برابر بھی ایمان ملے اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جسے وہ پہچان پائیں گے نکال لائیں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم میری بات کی تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھ لو: [إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا]۔ (ترجمہ: اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہو تو اس کا ثواب کئی گناہ بڑھا کر دیتا ہے۔) ابو سعید رضی اللہ عنہ کا اس آیت کو استشہاد کے طور پر پیش کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ بندے کے پاس ذرہ برابر بھی اگر ایمان ہو تو اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے اور اسے اس کی وجہ سے نجات دے دیتا ہے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کے بعد انبیاء، فرشتے اور مومنین شفاعت کریں گے۔‘‘ اس میں اس بات کا صراحت کے ساتھ بیان ہے کہ یہ تینوں شفاعت کریں گے۔ تاہم یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ کسی بھی سفارشی کی شفاعت اللہ کی اجازت کے بعد ہی ہوگی جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ مومنین نے اس وقت اپنے رب سے درخواست کی اور اس سے سوال کیا، تب انہیں اس کی اجازت دی گئی۔ پھر اللہ نے ان کو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: ’’جاؤ اور جوتمہیں ملے اسے نکال لاؤ۔الخ۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر اللہ تعالی کا ارشاد ہو گا کہ اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو نکال کر باہر لے آئے گا جو جھلس کرکوئلہ ہو چکے ہوں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شفاعت سے مراد اس کا ان عذاب میں مبتلا لوگوں پر رحم کرنا ہے۔ چنانچہ اللہ انہیں جہنم سے نکال لے گا۔ آپ ﷺ نےفرمایا: “اللہ ایک مٹھی بھرے گا۔” اس میں اللہ تعالی کے لیے صفتِ قبض (مٹھی بھرنا) کا بیان ہے۔ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی احادیث میں کتنے ہی ایسے نصوص ہیں جن سے ہاتھ اور مٹھی کا اثبات ہوتا ہے۔ لیکن تاویل و تحریف کرنے والے بدعقیدہ لوگ اسے قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے سے انکاری ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے کہ حق وہی تھا جو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا تھا اور وہی تھے جو راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ بہرحال اللہ تعالی جہنم میں سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو باہر نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔
آپ ﷺ نےفرمایا: ’’انہیں جنت کے کناروں پر موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جس کا نام آب حیات ہے۔ وہ اس کے کناروں پر اس طرح تر و تازہ ہو جائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے ارد گرد موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جسے آب حیات کہا جاتا ہے۔ ایسا پانی جو اپنے اندر غوطہ لگانے والے کو جلا بخش دیتا ہے۔ اس نہر کے کناروں پر ان کا جل جانے والا گوشت، آنکھیں اور ہڈیاں دوبارہ سے نکل آئیں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس طرح سیلاب کے پس ماندہ کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا کہ اس کے جس حصے پر دھوپ پڑتی رہتی ہے اس پر سبزا اگ آتا ہے اور جس حصے پر سایہ ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے۔” آپ ﷺ کا اس تشبیہ سے مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ ان کا گوشت بہت تیزی سے نکل آئے گا۔ کیونکہ جیسا کہ ذکر ہوا، سیلاب کے لائے ہوئے کوڑے کرکٹ پر روئیدگی بہت تیزی سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے جو حصہ سائے میں ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے اور جو دھوپ میں ہوتا ہے وہ سرسبز ہوتا ہے۔ ایسا ان کی پتیوں کے نازک ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقعتاً وہ بھی ایسے ہی نکلیں گے کہ جو لوگ جنت کی طرف ہوں گے وہ روکھے رہ جائیں گے اور جو جہنم کی طرف ہوں گے وہ سرسبز ہوں گے۔ بعض لوگوں سے یہ قول منقول ہے، تاہم ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں ان کو اس سبزے کے ساتھ تشبیہ اس کے تیزی سے نکلنے اور نزاکت میں دی گئی ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایسے نکلیں گے جیسے موتی ہوں۔‘‘ یعنی اپنی ظاہری جلد کی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے وہ موتیوں کی مانند نظر آئیں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “پھر ان کی گردنوں پر مہریں لگا دی جائیں گی۔” ان مہروں پر لکھا ہوگا: ’’رحمن کی طرف سے جہنم سے آزاد کر دہ۔‘‘ جیسا کہ ایک اور روایت میں ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا: ’’پھر وہ جنت میں چلے جائیں گے۔ اہل جنت انہیں دیکھ کر کہیں گے: یہ رحمن کے آزاد کردہ لوگ ہیں۔انہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی بھلائی کو آگے بھیجا تھا لیکن پھر بھی اللہ نے ان کو جنت میں داخل کر دیا۔” یعنی دنیا میں انہوں نے کوئی نیک کام نہیں کیا لیکن جوہرِ ایمان ان کے پاس تھا جو کہ صرف اور صرف اللہ کے معبود برحق ہونے کی گواہی اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان سے کہا جائے گا: ’’تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ سب تمہارا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہے۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ جنت کے كچھ خالی مقامات پر آئیں گے اسی لیے ان سے ایسا کہا جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8301

 
 
Hadith   1407   الحديث
الأهمية: إن الله يصنع كل صانع وصنعته


Tema:

ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے۔

عن حذيفة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ اللهَ يصنعُ كلَّ صانعٍ وصنعَتَه».

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله خلق كل صانع وما يصنعه من الصناعات، وفي هذا دليل على أن أفعال العباد مخلوقة، فالله خلق العباد وخلق أعمالهم، قال ابن تيمية -رحمه الله-: (فما من مخلوق في الأرض ولا في السماء إلا الله خالقه سبحانه، لا خالق غيره ولا رب سواه، ومع ذلك فقد أمر العباد بطاعته وطاعة رسله ونهاهم عن معصيته، وهو سبحانه يحب المتقين والمحسنين والمقسطين ويرضى عن الذين آمنوا وعملوا الصالحات ولا يحب الكافرين ولا يرضى عن القوم الفاسقين ولا يأمر بالفحشاء ولا يرضى لعباده الكفر ولا يحب الفساد، والعباد فاعلون حقيقة والله خالق أفعالهم، والعبد هو المؤمن والكافر والبر والفاجر والمصلي والصائم، وللعباد قدرة على أعمالهم ولهم إرادة، والله خالقهم وخالق قدرتهم وإرادتهم كما قال تعالى: {لمن شاء منكم أن يستقيم} {وما تشاءون إلا أن يشاء الله رب العالمين}).

Esin Hadith Caption Urdu


”ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے“ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے افعال بھی مخلوق ہیں، اللہ تعالی ہی بندوں کو پیدا فرمایا ہے اور وہی ان کے افعال کا بھی پیدا کرنے والا ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: زمین وآسمان کی ہر مخلوق کا خالق اللہ سبحانہ وتعالی ہے، اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اس کے سوا کوئی رب نہیں، اور اللہ تعالی نے بندوں کو اس کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کی معصیت سے روکا ہے، وہ متقی، احسان کرنے والے اور انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے راضی ہوتا ہے، وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا، نہ ہی فاسق لوگوں سے راضی ہوتا ہے، اس نے فحش اور بے حیائی کا حکم نہیں دیا، نہ ہی وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور فساد کو پسند فرماتا ہے۔ بندے حقیقی معنوں میں فاعل (کرنے والے) ہیں اور اللہ تعالی ان کے افعال (حرکات وسکنات) کا خالق ہے، بندے ہی مومن، کافر، نیک اور صالح، فاجر وفاسق، نمازی اور روزہ دار ہیں، بندوں کے پاس کام کرنے کی قدرت ہے اور وہ صاحب ارادہ بھی ہیں جبکہ اللہ تعالی ان کا خالق ہے، ان کی قوتوں اور ان کے ارادوں کا پیدا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ ” تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو، اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے“۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ مندہ نے ”کتاب التوحید“ میں روایت کیا ہے۔ - امام بخاری نے اسے اپنی کتاب ”خلقُ أفعالِ العبادِ“ میں روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8302

 
 
Hadith   1408   الحديث
الأهمية: الله الطبيب، بل أنت رجل رفيق، طبيبها الذي خلقها


Tema:

طبیب صرف اللہ ہے جب کہ تم تو بس نرمی و مہربانی کرنے والے شخص ہو۔ اس کا طبیب تو وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔

عن أبي رَمْثة -رضي الله عنه- أنَّه قال للنبي -صلى الله عليه وسلم-: أَرِني هذا الذي بظهرك، فإنِّي رجلٌ طبيبٌ، قال: «اللهُ الطبيبُ، بل أنت رجلٌ رَفِيقٌ، طبيبُها الذي خلقَها».

ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ مجھے اپنی پشت پر جو یہ چیز ہے دکھائیں کیونکہ میں طبیب آدمی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طبیب صرف اللہ ہے اور تم تو بس نرمی و مہربانی کرنے والے شخص ہو۔ اس کا طبیب تو وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أبو رمثة طبيبًا، فرأى خاتم النبوة ظاهرًا ناتئًا بين كتفي النبي -صلى الله عليه وسلم-، فظنه سلعة تولدت من الفضلات أو مرضًا جلديًّا، فطلب من النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يعالجه، فرد المصطفى -صلى الله عليه وسلم- كلامه بأن «الله الطبيب» أي: هو المداوي الحقيقي بالدواء الشافي من الداء «بل أنت رجل رفيق» ترفق بالمريض وتتلطف به، وذلك لأن الطبيب هو العالم بحقيقة الدواء والداء، والقادر على الصحة والشفاء، وليس ذلك إلا الله.
575;بو رمثہ ایک طبیب تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین مہر نبوت کو ابھرے ہوئے دیکھا تو انہیں گمان گزرا کہ یہ زائد مادوں سے پیدا شدہ گلٹی ہے یا پھر کوئی جلدی بیماری ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا علاج کرنے کی اجازت چاہی۔ نبی ﷺ نے یہ کہہ کر ان کی پیشکش کو رد فرما دیا کہ:”طبیب تو اللہ ہے“ یعنی دوائے شافی کے ساتھ بیماری کا حقیقی علاج کرنے والا تو وہی ہے۔ ”بل أنت رجل رفيق“ تم تو بس مریض کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنے والے ہو کیونکہ طبیب دواء اور بیماری کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے جبکہ صحت اور شفاء دینے پر قادر تو صرف اللہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8303

 
 
Hadith   1409   الحديث
الأهمية: قصة موسى -عليه السلام- مع الخضر


Tema:

موسی علیہ السلام کا خضر کے ساتھ قصہ

عن سعيد بن جُبير، قال: قلتُ لابن عباس: إنَّ نَوْفًا البَكالي يزعم أنَّ موسى ليس بموسى بني إسرائيل، إنما هو موسَى آخر؟ فقال: كذبَ عدوُّ الله، حدثنا أُبَي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم: «قام موسى النبيُّ خطيبًا في بني إسرائيل، فسُئل أيُّ الناس أعلم؟ فقال: أنا أعلم، فعتب الله عليه، إذ لم يَرُدَّ العلم إليه، فأوحى الله إليه: أنَّ عبدًا من عبادي بمَجْمَع البحرين، هو أعلم منك. قال: يا رب، وكيف به؟ فقيل له: احمل حوتًا في مِكْتَل، فإذا فقدتَه فهو ثَمَّ، فانطلق وانطلق بفتاه يُوشِع بن نُون، وحملا حوتًا في مِكْتَل، حتى كانا عند الصخرة وضعا رءوسهما وناما، فانسلَّ الحوتُ من المِكْتَل فاتخذ سبيله في البحر سَرَبًا، وكان لموسى وفتاه عَجَبًا، فانطلقا بقية ليلتهما ويومهما، فلما أصبح قال موسى لفتاه: آتنا غداءنا، لقد لَقِينا من سفرنا هذا نَصَبًا، ولم يجد موسى مسًّا من النَّصَب حتى جاوز المكان الذي أُمِر به، فقال له فتاه: أرأيتَ إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيتُ الحوتَ، وما أنسانيهُ إلا الشيطانُ. قال موسى: ذلك ما كنا نَبْغي فارتدَّا على آثارِهما قصصًا. فلما انتهيا إلى الصخرة، إذا رجل مُسَجًّى بثوب، أو قال تَسَجَّى بثوبه، فسلَّم موسى، فقال الخَضِر: وأنَّى بأرضك السلام؟ فقال: أنا موسى، فقال: موسى بني إسرائيل؟ قال: نعم، قال: هل أتَّبِعُك على أن تُعَلِّمَني مما عُلِّمْتَ رُشْدًا قال: إنَّك لن تستطيع معيَ صبرا، يا موسى إني على علم من علم الله علَّمَنيه لا تعلمه أنت، وأنت على علم علَّمَكَه لا أعلمه، قال: ستجدني إن شاء الله صابرا، ولا أعصي لك أمرا، فانطلقا يمشيان على ساحل البحر، ليس لهما سفينة، فمرَّت بهما سفينة، فكلَّموهم أن يحملوهما، فعرف الخَضِر فحملوهما بغير نَوْل، فجاء عصفور، فوقع على حرف السفينة، فنقر نقرة أو نقرتين في البحر، فقال الخضر: يا موسى ما نقص علمي وعلمك من علم الله إلا كنقرة هذا العصفور في البحر، فعَمَد الخضر إلى لوح من ألواح السفينة، فنزعه، فقال موسى: قوم حملونا بغير نَوْل عَمَدتَ إلى سفينتهم فخرقتها لتُغْرِق أهلها؟ قال: ألم أقل إنك لن تستطيع معي صبرا؟ قال: لا تؤاخذني بما نسيتُ ولا تُرْهِقْني من أمري عُسْرًا -فكانت الأولى من موسى نسياناً-، فانطلقا، فإذا غُلام يلعب مع الغِلمان، فأخذ الخَضِر برأسه من أعلاه فاقتلع رأسه بيده، فقال موسى: أقتلتَ نفسا زكِيَّة بغير نفس؟ قال: ألم أقل لك إنك لن تستطيع معي صبرا؟ -قال ابن عيينة: وهذا أوكد- فانطلقا، حتى إذا أتيا أهل قرية استَطْعما أهلَها، فأَبَوْا أن يُضَيِّفوهما، فوجدا فيها جدارًا يريد أن يَنْقَضَّ فأقامه، قال الخضر: بيده فأقامه، فقال له موسى: لو شئتَ لاتخذتَ عليه أجرا، قال: هذا فِراق بيني وبينك». قال النبي صلى الله عليه وسلم: «يرحمُ اللهُ موسى، لوَدِدْنا لو صبر حتى يُقَصَّ علينا من أمرهما».

سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بَکالی کا یہ خیال ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) (جو خضر کے پاس گئے تھے وہ) موسیٰ بنی اسرائیل والے نہیں تھے بلکہ دوسرے موسیٰ تھے، (یہ سن کر) ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ ہم سے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ (ایک روز) موسیٰ (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ دیا، تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب علم کون ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ہوں۔ لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا۔ تب اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ دریاؤں کے سنگم پر ہے۔ وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے پروردگار ! میری ان سے ملاقات کیسے ہو؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لو، پھر جہاں تم اس مچھلی کو گم کر دو گے تو وہ بندہ تمہیں (وہیں) ملے گا۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) چلے اور ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لے لیا اور انہوں نے زنبیل میں مچھلی رکھ لی، جب (ایک) پتھر کے پاس پہنچے، دونوں اپنے سر اس پر رکھ کر سو گئے اور مچھلی زنبیل سے نکل کر دریا میں اپنی راہ بناتی چلی گئی اور یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کے لیے بےحد تعجب کی تھی، پھر دونوں باقی رات اور دن میں (جتنا وقت باقی تھا) چلتے رہے، جب صبح ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے خادم سے کہا، ہمارا ناشتہ لاؤ، اس سفر میں ہم نے (کافی) تکلیف اٹھائی ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) بالکل نہیں تھکے تھے، مگر جب اس جگہ سے آگے نکل گئے، جہاں تک انہیں جانے کا حکم ملا تھا، تب ان کے خادم نے کہا، کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم صخرہ کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا ذکر بھول گیا، اور مجھے اس کی یاد سے شیطان نے غافل رکھا، (یہ سن کر) موسیٰ (علیہ السلام) بولے کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی ہمیں تلاش تھی، تو وہاں سے اُلٹے پاؤں واپس ہوئے، جب پتھر تک پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کپڑا لپیٹے ہوئے یا کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سلام کیا، خضر نے کہا کہ تمہاری سر زمین میں سلام کہاں؟ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں، خضر بولے کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ! پھر کہا کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں، تاکہ آپ مجھے ہدایت کی وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے خاص آپ ہی کو سکھلائی ہیں۔ خضر بولے کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ اے موسیٰ ! مجھے اللہ نے ایسا علم دیا ہے جسے تم نہیں جانتے اور تم کو جو علم دیا ہے اسے میں نہیں جانتا۔ (اس پر) موسیٰ نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ پھر دونوں دریا کے کنارے کنارے پیدل چلے، ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی کہ ایک کشتی ان کے سامنے سے گزری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو۔ خضر کو انہوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کرلیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی، پھر سمندر میں اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں (اسے دیکھ کر) خضر بولے کہ اے موسیٰ ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہوگا جتنا اس چڑیا نے سمندر (کے پانی) سے، پھر خضر نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال ڈالا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں کرایہ لیے بغیر سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی لکڑی اکھاڑ ڈالی تاکہ یہ ڈوب جائیں، خضر بولے کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟ (اس پر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میری بھول پر مجھے نہ پکڑیئے اور مجھے اپنے کام میں تنگی میں نہ ڈالیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول کر یہ پہلا اعتراض کیا تھا۔
پھر دونوں چلے ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر نے اوپر سے اس کا سر پکڑ کر ہاتھ سے اسے الگ کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو بغیر کسی جانی حق کے مار ڈالا؟ خضر (علیہ السلام) بولے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اس کلام میں پہلے سے زیادہ تاکید ہے (اس میں ’لک‘ زائد ہے جس سے تاکید ظاہر ہے) پھر دونوں چلتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے، ان سے کھانا لینا چاہا۔ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔انہوں نے وہیں دیکھا کہ ایک دیوار اسی گاؤں میں گرنے کے قریب تھی۔ خضر نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے سیدھا کردیا۔ موسیٰ بول اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو (گاؤں والوں سے) اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔ خضر نے کہا کہ (بس اب) ہم اور تم میں جدائی کا وقت آگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ موسیٰ پر رحم کرے، ہماری تمنا تھی کہ موسیٰ کچھ دیر اور صبر کرتے تو مزید واقعات ان دونوں کے بیان ہوتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يقول سعيد بن جُبير إنه أخبر ابن عباس أن رجلًا يُسمى نَوْفًا البَكالي زعم أنَّ موسى الذي كان مع الخضر ليس بموسى المرسَل لبني إسرائيل، إنما هو موسى آخر؟ فقال ابن عباس: (كذب عدوّ الله) وهذا خرج منه مخرج الزجر والتحذير لا القدح في نوف، لأن ابن عباس قال ذلك في حال غضبه وألفاظ الغضب تقع على غير الحقيقة غالبًا وتكذيبه له لكونه قال غير الواقع ولا يلزم منه تعمده.
ثم استدل على كذب نوف بأن أبي بن كعب حدثه عن النبي صلى الله عليه وسلم أن موسى قام خطيبًا في بني إسرائيل فسأله رجل: من أعلم الناس؟ فقال: أنا أعلم الناس. وهذا قاله موسى عليه السلام بحسب اعتقاده، فعاتبه الله عز وجل حيث لم يرد العلم إليه، ولم يقل: الله أعلم. فأوحى الله تعالى إليه أنه يوجد عبد من عبادي يسمى الخضر عند ملتقى البحرين هو أعلم منك فقال: يا رب، كيف الطريق إلى لقائه؟ فقال له: احمل حوتًا في وعاء من خوص فإذا فقدت الحوت، فستجد الخضر هناك فانطلق موسى بخادم له يُسمَّى يوشع بن نون، وحملا حوتًا في وعاء من خوص كما أمره الله به، حتى إذا كانا عند صخرة عند ساحل البحر وضعا رؤوسهما على الأرض وناما، فخرج الحوت من الوعاء، واتخذ طريقا إلى البحر وأمسك الله عن الحوت جرية الماء فصار عليه مثل الطاق، وكان إحياء الحوت وإمساك جرية الماء حتى صار مسلكًا بعد ذلك عجبًا لموسى وخادمه، فانطلقا بقية ليلتهما ويومهما فلما أصبح قال موسى لخادمه: آتنا غداءنا لقد تعبنا من سفرنا هذا، ولم يجد موسى عليه السلام تعبًا حتى جاوز المكان الذي أُمر به فأُلقي عليه الجوع والتعب، فقال له خادمه: إننا عندما كنا عند الصخرة فإني فقدت الحوت. فقال موسى: هذا الذي كنا نطلب لأنه علامة وجدان الخضر، فرجعا في الطريق الذي جاءا فيه يتبعان آثارهما اتباعًا، فلما أتيا إلى الصخرة إذا رجل مغطًّى كله بثوب، فسلم موسى عليه، فقال الخضر: (وأنَّى بأرضك السلام) أي: وهل بأرضي من سلام؟ وهو استفهام استبعاد، يدل على أن أهل تلك الأرض لم يكونوا إذ ذاك مسلمين.
فقال موسى للخضر: أنا موسى. فقال له الخضر: أنت موسى الذي أُرسل إلى بني اسرائيل؟ فقال موسى: نعم. وهذا يدل على أن الأنبياء ومن دونهم لا يعلمون من الغيب إلا ما علمهم الله تعالى، لأن الخضر لو كان يعلم كل غيب لعرف موسى قبل أن يسأله، وهذا محل الشاهد الذي لأجله ذكر ابن عباس الحديث، ثم قال له موسى: هل أتبعك على أن تعلمني من الذي علمك الله علمًا، ولا ينافي نبوّته وكونه صاحب شريعة أن يتعلم من غيره ما لم يكن شرطًا في أبواب الدين، فإن الرسول ينبغي أن يكون أعلم ممن أُرسل إليه فيما بُعث به من أصول الدين وفروعه لا مطلقًا. فأجابه الخضر بقوله: إنك لن تستطيع معي صبرًا؛ فإني أفعل أمورًا ظاهرها مناكير وباطنها لم تُحط به. ثم قال له: يا موسى إني على علم من علم الله علمنيه لا تعلمه أنت، وأنت على علم علمكه الله إياه لا أعلمه. فقال له موسى: ستجدني إن شاء الله صابرًا معك غير منكر عليك، ولن أعصي لك أمرًا. فانطلقا يمشيان على ساحل البحر ليس لهما سفينة، فمرت بهما سفينة فكلموا أصحاب السفينة أن يحملوهما فعرف أصحابُ السفينة الخضر فحملوهما بغير أُجرة، فجاء عصفور فوقف على حرف السفينة فنقر نقرة أو نقرتين في البحر، فقال الخضر: يا موسى ما نقص علمي وعلمك من علم الله إلا كنقرة هذا العصفور في البحر. فقصد الخضر إلى لوح من ألواح السفينة فنزعه بفأس فانخرقت السفينة ودخل الماء، فقال له موسى عليه السلام: هؤلاء قوم حملونا بغير أجر قصدت إلى سفينتهم فخرقتها لتُغرق أهلها. قال الخضر مذكِّرًا له بما قال له من قبل: ألم أقل إنك لن تستطيع معي صبرًا. قال موسى: لا تؤاخذني بنسياني ولا تضيق عليَّ، فإن ذلك يُعَسِّر علي متابعتك. فكانت المسألة الأولى من موسى عليه السلام نسيانًا.
فانطلقا بعد خروجهما من السفينة، فإذا هم بغلام يلعب مع الغلمان فأخذ الخضر برأس الغلام فاقتلع رأسه بيده، فقال موسى للخضر عليه السلام: أقتلت نفسًا طاهرة من الذنوب، لم نرها أذنبت ذنبًا يقتضي قتلها، أو قتلت نفسًا فتُقتل به. فقال الخضر لموسى عليهما السلام: ألم أقل لك إنك لن تستطيع معي صبرًا. بزيادة «لك» في هذه المرة زيادة في العتاب، ولذلك قال سفيان بن عيينة أحد رواة الحديث: وهذا أوكد. واستدل عليه بزيادة «لك» في هذه المرة. فانطلقا حتى مرَّا بأهل قرية فطلبا منهم الطعام فامتنعوا أن يضيفوهما، ولم يجدوا في تلك القرية ضيافة ولا مأوى، فوجدا فيها جدارًا قد أوشك على السقوط والانهيار فأشار الخضر بيده فأقامه، فقال موسى للخضر: لو شئت لأخذت عليه أجرًا فيكون لنا عونا على سفرنا. فقال الخضر لموسى عليه السلام: هذا الاعتراض الثالث سبب للفراق بيني وبينك. قال النبي صلى الله عليه وسلم: يرحم الله موسى لقد أحببنا وتمنينا أن لو صبر حتى نستزيد مما دار بينهما من العلم والحكمة.
587;عید بن جبیرکہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ وہ موسی (جو خضر کے ساتھ گئے تھے) بنی اسرائیل کے موسی نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے موسی ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے، یہ جملہ ان سے ڈانٹ اور انتباہ کے طور پر نکلا تھا نوف پر طعنہ زنی کے طورپر نہیں، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حالت غضب میں کہا تھا اور حالت غضب میں نکلے ہوئے الفاظ غالباً حقیقت کے خلاف واقع ہوا کرتے ہیں، چونکہ اس نے خلافِ واقع بات کہی تھی اس لیے ان کو جھٹلایا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوف نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا۔
پھر آپ نے نوف بکالی کے جھوٹ کے خلاف دلیل دی کہ ان سے ابی بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحبِ علم کون ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ہوں۔ لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا اور اللہ أعلم نہیں کہا۔ چنانچہ اللہ نے ان کے اوپر وحی نازل فرمائی کہ میرا ایک بندہ دو دریا کے ملنے کی جگہ پر ہے جس کا نام خضر ہے وہ تم سے زیادہ علم والا ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب! ان سے ملاقات کی کیا صورت ہے؟ اللہ نے حکم دیا کہ ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لو جس جگہ یہ مچھلی گم ہو جائے وہ وہیں پر ملے گے، پھر موسی علیہ السلام ایک مچھلی کو زنبیل میں رکھ کر جیسا کہ اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا تھا چلے اور ان کے ساتھ ان کے خادم بھی تھے جن کا نام یوشع بن نون تھا۔ یہاں تک کہ جب دونوں ایک چٹان کے پاس سمندر کے ساحل پر پہنچے تو وہ دونوں اپنے سر کو زمین پر رکھ کر سو گئے، چنانچہ مچھلی زنبیل سے نکل بھاگی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا اللہ تعالٰی نے مچھلی کے کودنے سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا موسی علیہ السلام اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، چنانچہ وہ دونوں ایک رات اور ایک دن میں جتنا باقی رہ گیا تھا وہ چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسی علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ ہم تو اس سفر سے تھک گئے، موسی علیہ السلام کو اس وقت تک تھکان نے چھوا بھی نہیں مگر جب وہ اس جگہ سے آگے بڑھ گئے جہاں تک انہیں جانے کا حکم ہوا تھا، اس وقت ان کے خادم نے کہا آپ نے نہیں دیکھا جب ہم چٹان کے پاس پہنچے تھے تو مچھلی نکل بھاگی تھی، موسی علیہ السلام نے کہا ہم تو اسی کے تلاش میں تھے کیونکہ یہ نشانی ہے خضر سے ملنے کی، آخر وہ دونوں کھوج لگاتے ہوئے اپنے پاؤں کے نشانوں پر لوٹے جب اس چٹان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کپڑے میں لپٹے ہوئے یا کپڑا لپیٹتے ہوئے موجود ہے، موسی علیہ السلام نے ان سے سلام کیا تو خضر نے کہا ’’وأنَّى بأرضك السلام‘‘ یعنی تمہارے ملک میں سلامتی کہاں ہے؟ یہ استفہام استبعاد ہے یعنی یہ تو خارج از امکان ہے، اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اس ملک والے اس وقت مسلمان نہیں تھے۔
موسی علیہ السلام نے خضر سے کہا میں موسی ہوں خضر نے پوچھا بنی اسرائیل کی طرف مبعوث موسی؟ موسی علیہ السلام نے کہا ہاں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور ان کے علاوہ (کوئی بھی) غیب نہیں جانتے، ہاں مگر جن چیزوں کے بارے میں اللہ نے انبیاء کو خبر کیا ہو کیونکہ اگر خضر تمام غیب کی چیزوں کو جانتے تو ان سے سوال کرنے سے پہلے پہچان لیتے، یہی بات محل شاہد ہے جس کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث کو ذکر کیا۔
پھر ان سے موسی علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم سکھلائیں جو علم کی باتیں آپ کو سکھائی گئی ہیں؟ یہ کہنا نبی ہونے کے منافی نہیں ہے اور کسی صاحب شریعت کا اپنے علاوہ سے تعلیم سیکھنا دین کے معاملے کے علاوہ شرط نہیں ہے کیونکہ رسول کا ان سے زیادہ جاننا جن کی طرف وہ بھیجے گئے دین کے اصول اور فروع میں ہے نہ کہ ہرعلم میں، خضر نے کہا تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ہو کیونکہ میں بظاہر ایسے کام کرتا ہوں جو کہ منکر ہیں اور ان کي باطن کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔ پھر ان سے کہا اے موسی! اللہ نے ہمیں وہ علم دیا ہے جو تمہیں نہیں دیا ہے اور اللہ نے جو تمہیں علم دیا ہے وہ علم مجھے نہیں دیا ہے۔ موسی علیہ السلام نےکہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے یعنی اس پر میں کوئی نکیر نہ کروں گا اور نہ تو میں آپ کی کوئی نافرمانی کروں گا۔ چنانچہ وہ دونوں دریا کے کنارے چلنے لگے ان دونوں کے پاس کشتی نہیں تھی، اتنے میں ادھر سے ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں سوار کر لو چنانچہ انہوں نے خضر کو پہچان لیا اور دونوں کو بغیر اجرت لیے سوار کر لیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی پھر اس نے ایک یا دو چونچیں سمندر میں ماریں۔ خضر نے کہا اے موسی! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے صرف اتنا ہی علم لیا ہے جتنا کہ اس چڑیا کی چونچ میں پانی آیا ہے۔ اس کے بعد خضر نے کشتی کی تختیوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے کلہاڑی سے اکھاڑ ڈالا کشتی میں سوراخ ہو گیا اور پانی داخل ہو گیا موسی علیہ السلام نے کہا ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر اجرت لیے سوار کر لیا اور آپ نے ان کی کشتی میں سوراخ کر دیا اور کشتی والوں کو ڈبانا چاہا، خضر انہیں یاد دِلاتے ہوئے کہا میں نے کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے، موسی علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کریں اور مجھے مشکل میں نہ ڈالیں اس لیے کہ ایسا کرنے سے آپ کی پیروی نہیں کر پاؤں گا یہ پہلا اعتراض موسی کا بھولے سے ہی تھا۔
پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد چلے ایک لڑکا کچھ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر نے اس کے سر کو اوپر سے پکڑ کر اسے اپنے ہاتھ سے الگ کردیا۔ موسی علیہ السلام نے کہا تم نے ایک معصوم جان کا نا حق خون کیا، خضر نے کہا میں نے تم سے کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ سفیان بن عیینہ حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں انہوں نے کہا یہ بات پہلے سے زیادہ سخت ہے، کیونکہ اس بار ’’ لک ‘‘یعنی خطاب کے صیغے کا استعمال کیا۔ پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا چنانچہ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کر دیا اس گاؤں میں کوئی مہمان نواز اور پناہ گاہ نہ مل سکی، پھر دونوں نے دیکھا کہ اس گاؤں میں ایک دیوار جو گرنے کے قریب ہے خضر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دیوار کو سیدھا کر دیا، موسی علیہ السلام نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان گاؤں والوں سے مزدوری لے سکتے تھے، جس سے ہمارے سفر میں مدد ملتی، خضر نے موسی علیہ السلام سے کہا اس تیسرے اعتراض کی وجہ سے مجھ میں اور تم میں جدائی کی گھڑی آن پہنچی۔
نبی ﷺ نے فرمایا اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے ہم تو یہ چاہتے تھے کاش موسی علیہ السلام ان کے ساتھ پیش آنے والے حالات پر صبر کرتے تو ان کے علم وحکمت کی اور مزید حالات ہم سے بیان کیے جاتے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8304

 
 
Hadith   1410   الحديث
الأهمية: إن الشيطان قال: وعزتك يا رب، لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم، قال الرب: وعزتي وجلالي لا أزال أغفر لهم ما استغفروني


Tema:

شیطان نے کہا: اے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو تب تک بہکاتا رہوں گا، جب تک ان کی روحیں ان کی جسموں میں رہیں گی۔ اس پر رب تعالی نے فرمایا: مجھے میری عزت اور بزرگی کی قسم! میں تب تک ان کی مغفرت کرتا رہوں گا، جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ الشيطانَ قال: وعِزَّتِك يا رب، لا أَبرحُ أُغوي عبادَك ما دامت أرواحُهم في أجسادهم، قال الربُّ: وعِزَّتي وجَلالي لا أزال أغفرُ لهم ما استغفروني».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان نے کہا: اے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو تب تک بہکاتا رہوں گا، جب تک ان کی روحیں ان کی جسموں میں رہیں گی۔ اس پر رب تعالی نے فرمایا: مجھے میری عزت اور بزرگی کی قسم! میں تب تک ان کی بخشش کرتا رہوں گا، جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔

Esin Hadith Caption Urdu


«إن الشيطان قال: وعزتك يا رب، لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم» أي: أقسم الشيطان بعزة الله أنه لا يزال يضل العباد طيلة حياتهم «قال الرب: وعزتي وجلالي لا أزال أغفر لهم ما استغفروني» أي: فقال الرب عز وجل ردًّا عليه: وعزتي وجلالي لا أزال أغفر لهم ما داموا يطلبون مني مغفرة ذنوبهم.,«إن الشيطان قال: وعزتك يا رب، لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم» أي: أقسم الشيطان بعزة الله أنه لا يزال يضل العباد طيلة حياتهم «قال الرب: وعزتي وجلالي لا أزال أغفر لهم ما استغفروني» أي: فقال الرب عز وجل ردًّا عليه: وعزتي وجلالي لا أزال أغفر لهم ما داموا يطلبون مني مغفرة ذنوبهم.

Esin Hadith Caption Urdu


”شیطان نے کہا: اے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو تب تک بہکاتا رہوں گا، جب تک ان کی روحیں ان کی جسموں میں رہیں گی“ یعنی شیطان نے اللہ تعالی کی عزت کی قسم اٹھائی کہ وہ بندوں کو ان کی ساری زندگی گمراہ کرتا رہے گا۔
”اس پر رب تعالی نے فرمایا: مجھے میری عزت اور بزرگی کی قسم! میں تب تک ان کی بخشش کرتا رہوں گا، جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے“ یعنی رب عز وجل نے اس کے جواب میں فرمایا: مجھے میری عزت اور بزرگی کی قسم! جب تک وہ مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8305

 
 
Hadith   1411   الحديث
الأهمية: إنه يخرج من ضئضئ هذا قوم يتلون كتاب الله رطبا، لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية


Tema:

اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار (شدہ جانور) سے پار نکل جاتا ہے۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: بعَث عليُّ بن أبي طالب -رضي الله عنه- إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مِن اليَمَن بذُهَيْبة في أدِيمٍ مَقْرُوظ، لم تُحَصَّل من تُرَابِها، قال: فقَسَّمها بين أَربعَة نَفَر، بين عُيَيْنة بن بدر، وأقْرَع بنِ حَابِس، وزَيدِ الخَيل، والرابع: إِمَّا عَلقَمَة وإمَّا عَامِر بنُ الطُّفَيل، فقال رجل مِن أَصحَابه: كُنَّا نحْن أحق بهذا من هؤلاء، قال: فبلغ ذلك النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم- فقال: «ألا تَأْمَنُونِي وأنا أمينُ مَن في السَّماءِ، يَأْتِينِي خبرُ السماءِ صباحًا ومساءً»، قال: فقام رجلٌ غائِرُ العَيْنَيْنِ، مُشْرفُ الوَجْنَتين، ناشِزُ الجَبْهة، كَثُّ اللِّحيَة، مَحْلُوقُ الرَّأس، مُشَمَّر الإزار، فقال يا رسولَ الله اتَّق الله، قال: «وَيْلَك، أَوَلَسْتُ أحقَّ أهلِ الأرض أن يتَّقِيَ الله» قال: ثم ولَّى الرَّجلُ، قال خالد بن الوليد: يا رسول الله، ألا أضرِبُ عُنُقَه؟ قال: «لا، لَعَلَّه أنْ يكون يُصَلِّي» فقال خالد: وكَم مِن مُصَلٍّ يقول بلسانِه ما ليس في قلبِه، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إني لم أومَرْ أنْ أُنَقِّبَ عن قلوب الناس ولا أَشُقَّ بطونَهم» قال: ثم نظر إليه وهو مُقْفٍ، فقال: «إنه يخرج من ضِئضِئ هذا قومٌ يتلونَ كتابَ اللهِ رَطْبًا، لا يُجَاوِز حَنَاجِرَهم، يَمْرُقون من الدِّين كما يَمْرُق السَّهْمُ مِن الرَّمِيَّة»، وأظنه قال: «لئن أدركتُهم لأَقْتُلَنَّهُم قَتْلَ ثمودَ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دیےہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے ( کان کی ) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ۔ عیینہ بن بدر ، اقرع بن حابس ، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہ تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ ۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اس پر کہا کہ ان لو گو ں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:’’تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالاں کہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور میرے پاس آسمان کی خبر (وحی) صبح و شام آتی ہے۔‘‘راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی ، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند اٹھائے ہوئے تھا ، کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ ! اللہ سے ڈریئے۔ آپﷺنے فرمایا ، افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں۔‘‘ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟‘‘، آپﷺ نے فرمایا:’’نہیں شاید وہ نما ز پڑھتا ہو‘‘، اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ:بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھےاس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج کروں اور ان کے پیٹ چاک کروں‘‘، راوی نے کہا پھر آپ ﷺ نے اس ( منافق ) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا ۔ آپﷺنے فرمایا کہ ’’ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار (شدہ جانور) سے پار نکل جاتا ہے۔‘‘ (راوی) کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا۔‘‘

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أرسل النبي -صلى الله عليه وسلم- علي بن أبي طالب إلى اليمن، يدعو إلى الله -تعالى- ويقبض الزكاة من أصحابها، ويقضي في المنازعات، وكان ذلك قبل حجة الوداع، ثم إن علياً رجع من اليمن، وقابل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بمكة، في حجة الوداع، وكان قد أرسل بقطعة من الذهب لم تخلص من ترابها، فليست ذهباً خالصاً؛ لأنها مختلطة بالتراب، فقسمها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين هؤلاء الأربعة المذكورين رجاء إسلامهم، وكانوا رؤساء قبائلهم، فإذا أسلموا أسلم تبعاً لهم خلق كثير، ولهذا أعطاهم النبي -صلى الله عليه وسلم- المال ترغيباً لهم في الإسلام، وتأليفاً لقلوبهم عليه، ومن كان منهم مسلمًا فيعطى لتقوية إيمانه وتثبيته، وكانت هذه القطعة الذهبية من الخمس، واستبعد أهل العلم أن تكون من أصل الغنيمة، ويمكن أن تكون زكاة.
فلما أعطى النبي -صلى الله عليه وسلم- هؤلاء الأربعة المذكورين قام رجل من المسلمين، فقال: كنا نحن أحق أن نُعطى من هذا المال من هؤلاء الأربعة؟ فعلم النبي -صلى الله عليه وسلم- بذلك فقال: «ألا تأمنوني وأنا أمينُ مَن في السماءِ، يأتيني خبرُ السماءِ صباحًا ومساءً» أي: يأمنني الله -تعالى- على الرسالة التي أرسلني بها إلى الأرض، ولا تأمنني أنت أيها المعترض، ومَن على شاكلتك ممن ضل طريق الرشد، لا تأمنوني على حُطام الدنيا أن أضعه حيث يجب أن يوضع، على وفق أمر الله -تعالى-، وقوله: «مَن في السماءِ» من أدلة علو الله -تعالى- على خلقه، ومعناه: الله الذي في السماء، و"في" هنا بمعنى "على" لأن العرب قد تضع "في" بموضع "على" قال الله -تعالى-: {فسيحوا في الأرض}، وقال: {ولأصلبنكم في جذوع النخل} ومعناه: على الأرض، وعلى جذوع النخل، فكذلك قوله: «في السماء» أي: على العرش، فوق السماء، وهذا الحديث مثل قول الله -تعالى-: {أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ {16} أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ً}.
وبينما هم كذلك قام رجل من صفته أن عينيه داخلتين في محاجرهما لاصقتين بقعر الحدقة، وعظما خديه بارزان، مرتفع الجبهة، ضخم اللحية، رأسه محلوق، ثوبه مرتفع أعلى من الكعبين، فقال للنبي -صلى الله عليه وسلم-: اتق الله، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «وَيْلَك، أَوَلَسْتُ أحقَّ أهل الأرض أن يتقيَ الله» يعني: أنه -صلى الله عليه وسلم- هو أحق الناس وأولاهم بطاعة الله -تعالى- وتقواه، ومن الضلال المبين أن يتصور الإنسان الطاعة معصية، فهذا الرجل المعترض تصور أن فعل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- معصية، وأنه من الظلم، فنصب نفسه آمراً بتقوى الله، فقال للرسول -صلى الله عليه وسلم-: «اتق الله» مع أن فعل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- هو التقوى، ومن أعظم الطاعات، فهو يعطي لله، ولنصر دينه، وهداية عباده.
فلما ذهب الرجلُ، قال خالد بن الوليد: يا رسول الله، دعني أقتله؟ فقال -صلى الله عليه وسلم-: «لا، لعلَّه أنْ يكون يصلي» فقال خالد: وكم مِن مُصَلٍّ يقول بلسانِه ما ليس في قلبِه، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إني لم أومَرْ أنْ أُنَقِّبَ عن قلوب الناس ولا أَشُقَّ بطونَهم» أي: إنما أعامل الناس بما ظهر منهم، وأترك بواطنهم لله هو أعلم بها، فيحاسبهم عليها سبحانه، وفي رواية أن القائل عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-.
ثم نظر النبي -صلى الله عليه وسلم- لهذا  الرجل وهو ذاهب فقال: «إنه يخرج من ضِئضِئ هذا قومٌ يتلونَ كتابَ اللهِ رَطْبًا، لا يجاوز حناجرَهم، يَمْرُقون من الدين كما يَمْرُق السَّهْمُ مِن الرَّمِيَّة، لئن أدركتُهم لأقتلنَّهم قَتْلَ ثمودَ» والمقصود: الإخبار بأنه يأتي من جنس هذا الرجل الضال، قوم يسلكون مسلكه، يقرؤون القرآن سهلًا لكثرة قراءتهم وحفظهم له، ولكن لا يصل إلى قلوبهم، فهم لا يفهمونه على ما أريد، بل يضعونه في غير موضعه؛ لأنهم ضالون وجاهلون، ولهذا يخرجون من الإسلام بسرعة وسهولة، غير متأثرين به، كأنهم لم يدخلوه، وهذا يدل على أنهم دخلوا في الإسلام، ولكن لم يتمكن الإيمان في قلوبهم، ولم يفهموه على وجهه، ولهذا صار من أوصافهم: أنهم يقتلون أهل الإسلام، ويدعون الكفار عباد الأوثان، ومن أجل ذلك قال -صلى الله عليه وسلم-: «لئن أدركتهم، لأقتلنهم قتل ثمود» أي: لأقتلنهم القتل الشديد القوي، فلا أبقي منهم أحداً.
606;بی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ وہ لوگوں کو اللہ کی دعوت دیتے، صاحب نصاب سے زکوۃ وصول کرتے اور ان کے تنازعات کے فیصلے کرتے تھے۔ یہ حجۃ الوداع سے پہلے کی بات ہے۔ پھرحضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے واپس آئے اور حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے مکہ میں ملے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سونے کا ڈلا (ٹکڑا) بھیجا تھا جس سے مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی اس لیے وہ خالص سونا نہیں تھا کیونکہ وہ مٹی کے ساتھ مختلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ ڈلا مذکورہ بالا چار افراد کے مابین تقسیم کر دیا اس امید پر کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ وہ چوں کہ اپنے قبائل کے سردار تھے اس لیے اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تو ان کی پیروی میں بہت بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے ترغیبِ اسلام اور تالیفِ قلب کے لیے وہ سونا ان کو دے دیا۔ ان میں سے جن مسلمانوں کو دیا تو اس کا مقصد ایمان پر مضبوطی اور ثابت قدمی تھا۔ سونے کا یہ ڈلا خمس میں سے تھا اوراہلِ علم نےاس کو بعید خیال کیا ہے کہ یہ اصل مال غنیمت میں سے تھا، یہ بھی امکان ہے کہ یہ مالِ زکوۃ میں سے ہو۔ جب رسول اللہﷺ نے ان مذکورہ بالا افراد کو دیا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا:ان چاروں کی بہ نسبت ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ یہ مال ہمیں دیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ علم ہوا تو آپﷺنے فرمایا: ”تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور آسمان سے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت میں مجھ پر اعتبار کیا ہے اور مجھے زمین پر رسالت سے نوازا ہے اور اے اعتراض کرنے والے اورراہِ راست سے بھٹکے ہوئے جو تیرے ہمنوا ہیں! تم لوگ مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟! تم مجھ پر دنیا کے حقیر چیز پر اعتبار نہیں کر تےکہ میں اس کو وہاں رکھوں جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ: ”جو آسمان میں ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر بلندی کی دلیل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو آسمان پر ہے۔ یہاں پر ’فی‘ بمعنی ’علی‘ ہے کیوں کہ عرب ’فی‘ کو ’علی‘ کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ﴾ ”زمین پر چلو پھرو“ اور اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ ”کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دوں گا“ تو اس کا مطلب ہے علی الارض (زمین پر) اور علی جذوع النخل (کھجور کےتنوں پر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ”في السماءِ“ (آسمان پر) یعنی آسمان سے اوپر عرش پر۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اِس قول کے مثل ہے: ﴿أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ، أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا﴾ ”کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگیے ہو کہ آسمان والا تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگیے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسائے پھر تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا“۔
اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا (جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند ٹخنوں سے اوپر اٹھائے ہوئے تھا، نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا: اللہ سے ڈریے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں“ یعنی نبی کریم ﷺ لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کا حق رکھتے ہیں۔ یہ اس کا صریح ظلم تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اس لیے کھڑا کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے ڈر کی نصیحت کرے اور آپ ﷺ سے یہ کہے کہ (اللہ سے ڈریے) اس کے باوجود کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کیا تھا وہ عین تقویٰ کے مطابق اور عظیم اطاعات میں شامل تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے لیے، اس کے دین کی مدد کے لیے اور لوگوں کی ہدایت کے پیش نظر ان کو نواز رہے تھے۔جب یہ شخص چلا گیا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ!مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، ممکن ہے وہ نماز پڑھتا ہو“ خالد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ :بہت سارے نمازی جو زبان سے کچھ کہتے ہیں لیکن ان کے دل میں ویسا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں“ یعنی میں لوگوں کےساتھ ان کے ظاہر کے مطابق ہی معاملہ کروں اور ان کے باطن میں کیا ہے اس کو چھوڑ دوں اسے اللہ بہتر جانتا ہے وہ خود ہی اس کا حساب کر لے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ کہنے والے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے اور اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“، مقصد یہ خبر دینا تھا کہ اس گمراہ آدمی کی نسل سے ایسے افراد آئیں گے جو اس کے راستے پر چلنے والے ہوں گے، قرآن کی کثرت قرأت اور حفظ کی وجہ سے تلاوت بڑی خوش الحانی سے کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے دلوں تک نہیں پہنچے گا۔ اس کا جو مقصود و معنی ہے وہ نہیں سمجھیں گے اورغیر موضوع لہ معنی مراد لیں گے۔ کیوں کہ یہ گمراہ اور جاہل ہوں گے اس لیے اسلام سے بھی بغیر متاثر ہوئے بڑی آسانی اور تیزی سے خارج ہو جائیں گے گویاکہ یہ اسلام میں داخل ہی نہیں تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں گے لیکن ایمان ان کے دل میں جگہ نہیں پائے گا، اور نہ ہی ان کے چہروں سے اسلام کا تصور نظر آئے گا اس لیے یہ چیزیں ان کے اوصاف میں شامل ہوں گی کہ: وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، کافروں کو بتوں کی عبادت کی دعوت دیں گے۔اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“یعنی میں پوری طاقت سے قتل کرتا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑتا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8307

 
 
Hadith   1412   الحديث
الأهمية: اتق الله، وأمسك عليك زوجك


Tema:

اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: جاء زيدُ بنُ حارثة يشكو، فجعل النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- يقول: «اتَّقِ اللهَ، وأمسِكْ عليك زوجَك»، قال أنس: لو كان رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- كاتمًا شيئًا لكتم هذه، قال: فكانت زينبُ تَفْخرُ على أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم- تقول: زوَّجَكنَّ أهاليكنَّ، وزوَّجني اللهُ -تعالى- من فوق سبع سموات، وعن ثابت: {وتُخفي في نفسِك ما اللهُ مُبْدِيهِ وتخشى الناسَ} [الأحزاب: 37]، «نزلت في شأن زينبَ وزيد بن حارثة».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہيں: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کی) شکایت لے کر (آپ ﷺکے پاس) آئے، تو نبی ﷺ ان سے فرمانےلگے: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر رسول اللہ ﷺ کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ وہ بیان کرتے ہیں: چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات پر اپنی فوقیت جتاتے ہوئے کہتی تھیں: تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی اور میری شادى اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کی ہے۔ ثابت رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ﴾ ”اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے“۔ (الاحزاب: 37) زینب رضی اللہ عنہا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
جاء زيد بن حارثة رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يشكو زوجه زينب بنت جحش رضي الله عنها ويستشيره في طلاقها؛ وقد أوحى الله تعالى إلى رسوله بأنه سوف يتزوج زينب، أوحى الله بذلك إليه قبل أن يطلقها زيد، فلما جاء يشكوها إليه، ويستشيره في طلاقها، قال له: «اتق الله يا زيد، وأمسك عليك زوجك» فعاتبه الله تعالى بقوله: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا} الآية.
والذي كان صلى الله عليه وسلم يخفيه، هو كراهيته لزواجها؛ خوفاً من كلام الناس أنه تزوج زوجة ابنه بالتبني
قوله: «قال أنس: لو كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كاتما شيئا لكتم هذه» أي: لو قُدِّر على سبيل الفرض الممتنع شرعا كتم شيء من الوحي، لكان في هذه الآية، ولكنه غير واقع بل ممتنع شرعا. وهذه الآية من أعظم الأدلة لمن تأملها على صدق الرسول صلى الله عليه وسلم، فالله  تعالى يخبر عما وقع في نفسه من خشية الناس، فبلَّغه كما قال الله تعالى مع ما تضمنه من لومه، بخلاف حال الكذاب، فإنه يتجنب كل ما يمكن أن يكون فيه عليه غضاضة، ومثل ذلك قوله تعالى: {عَبَسَ وَتَوَلَّى} إلى آخر الآيات ونظائرها في القرآن.
وقوله: «فكانت زينب تفخر على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم» فزينب رضي الله عنها تعتد بأن زواجها برسول الله صلى الله عليه وسلم كان بأمر الله له بذلك، وأنه من أعظم فضائلها، وأنه لا يساويها في ذلك من أزواجه أحد، فكانت تقول: «زوجكن أهاليكن، وزوجني الله تعالى من فوق سبع سماوات»
وهذا القدر من الحديث فيه ثبوت علو الله تعالى وتقرُّره لدى المؤمنين، فهو أمر مسلَّم به بين عموم المسلمين، بل بين عموم الخلق إلا من غُيِّرت فطرته، فهو من الصفات المعلومة بالسمع، والعقل، والفطرة، عند كل من لم تنحرف فطرته. ومعنى قولها: «وزوجني الله» أي: أمر رسوله بأن يتزوجها بقوله تعالى: {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا} وتولى تعالى عقد زواجها عليه.
586;ید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شكايت لے کر آئے اور انہیں طلاق دینے کے بارے میں آپ ﷺ سے مشورہ طلب کیا۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو بذریعہ وحی اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ عنقریب آپ ﷺ زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کریں گے۔ اللہ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع زید رضی اللہ عنہ کے طلاق دینے سے پہلے ہی دے دی تھی۔ جب زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس ان كی شکایت لے کر آئے اور انہیں طلاق دینے کے بارے میں آپﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: "اے زید! اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔" اس پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی اپنے اس فرمان کے ذریعہ سرزنش کی: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”(یاد کرو) جب کہ آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی کہ تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ آپ اس سے ڈريں، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا“۔ (الاحزاب: 37)
آپ ﷺ جس بات کو چھپا رہے تھے وہ آپ ﷺ کا زینب رضی اللہ عنہ سے نکاح کو ناپسند کرنا تھا اس خوف سے کہ لوگ یہ باتیں کریں گے کہ آپ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی۔
”انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اگر رسول اللہ ﷺ كو کسی بات کو چھپانا ہوتا تو اس بات کو چھپاتے۔“ یعنی اگر بفرض محال جو شرعاً ممنوع ہےٍ، وحی کی کسی بات کو چھپايا گيا ہوتا تويہی آیت ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شرعاً ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس آیت میں غور و تامل کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے دل میں آنے والے لوگوں کے خوف کے بارے میں بتلا رہا ہے، اور اللہ نے جو فرمایا آپ ﷺ نے وہ سب کچھ جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیا حالانکہ اس میں آپ ﷺ پر کی گئی سرزنش کا ذکر ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص کذاب ہوتا ہے وہ ہر اس بات سے گریز کرتا ہے جس میں اس پر کچھ ملامت کا پہلو ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ﴾ اور اس طرح کی دیگر قرآنی آیات اسی قبیل سے ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں”۔ زینب رضی اللہ عنہا اس بات کو بہت اہمیت دیتی تھیں کہ ان کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور یہ ان کےلیے بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اور یہ کہ اس فضیلت کے اعتبار سے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کوئی بھی ان کی ہم پلہ نہیں۔ چنانچہ وہ کہا کرتی تھیں: ”تمہارا نکاح تو تمہارے اہل خانہ نے کیا ہے جب کہ میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا ہے۔“
حدیث کے اس قدر حصے میں اس بات کا ثبوت وبيان ہے کہ ایمان والوں کے نزدیک اللہ کی ذات بلند وبرتر ہے۔ یہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے نزدیک مسلمہ بات ہے ماسوا ان لوگوں کے جن کی فطرت ہی بگڑ چکی ہو۔ ہراس مسلمان کے نزدیک جس کی فطرت میں کجی نہ ہو، یہ سمعی و عقلی اور فطری اعتبار سے ثابت شدہ صفات میں سے ہے۔ زینب رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ: ”میرا نکاح اللہ نے کرایا“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے اس فرمان: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا﴾ کے ذریعے ان سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح کرانے کی ذمہ داری اللہ نے لی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8308

 
 
Hadith   1413   الحديث
الأهمية: اتقوا دعوات المظلوم فإنها تصعد إلى السماء كأنها شرار


Tema:

مظلوم کی بد دعا سے بچو، یہ آگ کی چنگاریوں کی مانند آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «اتَّقُوا دَعَوَاتِ المظلومِ؛ فإنَّها تصعد إلى السماء كأنَّها شَرارٌ».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” مظلوم کی بد دعا سے بچو، یہ آگ کی چنگاریوں کی مانند آسمان کی طرف اٹھتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
اجتنبوا الظلم، وخافوا من دعوة المظلوم؛ فإنها تصعد إلى الله في السماء كأنها شرار، وشبهها بالشرار في سرعة صعودها، أو لأنَّها خرجت من قلب يلهب بنار القهر والظُّلم، وأنها في خرقها للحُجب كأَنَّها شرارة في أثرها.
592;لم سے اجتناب کرو اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرو کیونکہ وہ آسمان کی طرف ایسے اٹھتی ہے جیسے آگ کی چنگاریاں اٹھتی ہیں۔ آپ ﷺ نے مظلوم کی بد دعا کو اس کے تیزی سے اوپر اٹھنے کی وجہ سے چنگاریوں کے ساتھ تشبیہ دی یا پھر اس لیے کہ یہ ایک ایسے دل سے نکلی ہوتی ہے جو ظلم و جور کی آگ سے دہک رہا ہوتا ہے اور یہ پردوں کو ایسے چیرتی ہوئی نکلتی ہے کہ گویا چنگاری ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8309

 
 
Hadith   1414   الحديث
الأهمية: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها ويضع إصبعيه


Tema:

میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو (کان اور آنکھ پر) رکھا ہوا ہے۔

عن أبي يونس سليم بن جبير مولى أبي هريرة -رضي الله عنه- ، قال: سمعتُ أبا هريرة يقرأ هذه الآية {إنَّ اللهَ يأمركم أن تؤدُّوا الأماناتِ إلى أهلها} [النساء: 58] إلى قوله تعالى {سميعًا بصيرًا} [النساء: 58] قال: «رأيتُ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- يضع إبهامَه على أُذُنِه، والتي تليها على عينِه»، قال أبو هريرة: «رأيتُ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- يقرؤها ويضعُ إصبعيه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سلیم بن ابی جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَ... سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ”اللہ تعالیٰ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ!... (بے شک اللہ تعالیٰ) سنتا ہے، دیکھتا ہے“۔ (النساء: 58) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے (اس آیت کو پڑھتے ہوئے) اپنے انگوٹھے کو اپنے کان اور اس کے ساتھ والی انگلی کو اپنی آنکھ پر رکھا ہوا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو (کان اور آنکھ پر) رکھا ہوا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أبو هريرة -رضي الله عنه- يقرأ هذه الآية: {إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها} [النساء: 58] إلى قوله تعالى {سميعًا بصيرًا} [النساء: 58]، ويذكر أنه رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقرؤها ويضع إصبعه الغليظة الخامسة على أذنه، والتي بجوارها على عينه، تأكيدًا لإثبات صفة السمع والبصر لله -تعالى-، ودفعًا لتأويلات المحرفين، وليس فيه تشبيهًا بالمخلوق؛ لقوله -تعالى-: (ليس كمثله شيء وهو السميع البصير) فالإيمان بالنصوص كلها يقتضي ما ذكر.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے:﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَ... سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ”اللہ تعالیٰ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ!... (بے شک اللہ تعالیٰ) سنتا ہے، دیکھتا ہے“ (النساء: 58).رسول اللہﷺکواس آیت کی تلاوت کرتے وقت اپنی پانچویں موٹی انگلی کواپنے کان پراوراس کے پاس والی انگلی کواپنی آنکھ پررکھتے ہوۓ دیکھاہے۔ایساآپﷺنے اللہ تعالی کے لیے سمع وبصرکی صفات کے اثبات میں تاکیدپیداکرنے کے لیے اورتحریف کرنے والوں کی تاویلات کوردکرنے کے لیے کیا۔اس میں مخلوق کے ساتھ تشبہہ نہیں ہے۔کیوں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِير﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں،وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“،چنانچہ نصوص پر مکمل طور پر ایمان لانے کا تقاضا ہے کہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے، اس پر ایمان لایا جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8310

 
 
Hadith   1415   الحديث
الأهمية: اللهم رب جبرائيل، وميكائيل، وإسرافيل، فاطر السماوات والأرض، عالم الغيب والشهادة، أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك، إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم


Tema:

اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جا ننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف ہے، ان میں اپنی منشاء سے حق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے۔

عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن بن عَوْف، قال: سألتُ عائشةَ أمَّ المؤمنين -رضي الله عنها-، بأيِّ شيء كان نبيُّ الله صلى الله عليه وسلم يفتَتِح صلاتَه إذا قام من الليل؟ قالت: كان إذا قام من الليل افتتح صلاتَه: «اللهمَّ ربَّ جِبرائيل، ومِيكائيل، وإسرافيل، فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختُلِف فيه من الحق بإذنك، إنَّك تهدي مَن تشاء إلى صراطٍ مستقيمٍ».

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب قیام اللیل (تہجد) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا آپ ﷺ قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کر تے تھے: ”اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ“ اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جا ننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف ہے، ان میں اپنی منشاء سے حق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سأل أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عائشةَ أم المؤمنين عن الدعاء الذي كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يفتتح به صلاته إذا صلى قيام الليل؟ فقالت عائشة: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا صلى قيام الليل قال هذا الدعاء: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل» وتخصيص هؤلاء الملائكة الثلاثة بالإضافة، مع أنه تعالى رب كل شيء؛ لتشريفهم وتفضيلهم على غيرهم، وكأنه قدم جبريل؛ لأنه أمين الكتب السماوية، فسائر الأمور الدينية راجعة إليه، وأخَّر إسرافيل؛ لأنه النافخ في الصور، وبه قيام الساعة، ووسَّط ميكائيل؛ لأنه أمين القطر والنبات ونحوهما مما يتعلق بالأرزاق المقوِّمة في الدنيا، «فاطر السماوات والأرض» ، أي: مبدعهما ومخترعهما «عالم الغيب والشهادة» ، أي: عالم بما غاب عن العباد وما شاهدوه «أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا يختلفون» أي: تحكم بين العباد فيما كانوا يختلفون فيه من أمر الدين في أيام الدنيا «اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك» أي: اهدني إلى الحق والصواب في هذا الاختلاف الذي اختلف الناس فيه من أمور الدين والدنيا بتوفيقك وتيسيرك «إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» أي: فإنك تهدي من تشاء إلى طريق الحق والصواب.
575;بو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا جس سے نبی ﷺ قیام اللیل میں نماز کا آغاز کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی ﷺ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے:
’’اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ‘‘: ان تین فرشتوں کی بطور خاص اللہ تعالی کی طرف اضافت کی گئی حالانکہ اللہ تعالی تو ہر شے کا رب ہے۔ ایسا ان فرشتوں کی بزرگی اوردوسرے فرشتوں پر ان کی فضیلت کی وجہ سے کیا گیا۔ گویا کہ آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو سب پر اس لیے مقدم کیا کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے امین ہیں اور تمام دینی امور انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام کو آخر میں ذکر کیا کیونکہ وہ صور پھونکنے والے ہیں اور جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔ میکائیل علیہ السلام کو درمیان میں ذکر فرمایا کیونکہ وہ بارش و روئیدگی وغیرہ جیسی ان تمام اشیاء کے نگران ہیں جن کا تعلق رزق کی ان تمام شکلوں کے ساتھ ہے جن پر دنیا کا مدار ہے۔
’’فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘: یعنی انہیں عدم سے وجود بخشنے والے اور انہیں پیدا کرنے والے۔
’’عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ‘‘: یعنی جو کچھ انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور جو کچھ ان کے سامنے ہے سب کو جاننے والے۔
’’أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ‘‘: یعنی دنیا میں جن دینی امور میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ان میں تو ان کے مابین فیصلہ کرے گا۔
’’اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ‘‘: لوگ دین و دنیا کے جن امور میں اختلاف میں پڑے ہیں ان میں اپنی توفیق سے اور اپنی طرف سے آسانی پیدا فرماتے ہوئے میری حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی فرما۔
’’إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ‘‘: تو جسے چاہتا ہے اسے حق اور راہ راست کی طرف ہدایت دیتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8311

 
 
Hadith   1416   الحديث
الأهمية: لا تزال جهنم تقول: هل من مزيد، حتى يضع رب العزة فيها قدمه، فتقول: قط قط وعزتك، ويزوى بعضها إلى بعض


Tema:

جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دیں گے۔ اس پر وہ کہہ اٹھے گی کہ: بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم!۔ (اس کے بعد) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہو جائے گا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تزالُ جهنَّمُ تقول: هل مِن مَزِيد، حتى يضعَ ربُّ العِزَّةِ فيها قَدَمُه، فتقولُ: قَطٍ قَطٍ وعِزَّتِك، ويُزوَى بعضُها إلى بعضٍ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی: کیا کچھ اور ہے؟ يہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، تو وہ کہہ اٹھے گی: بس بس، تیری عزت کی قسم!۔ اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے مل جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر الله تعالى أنه يقول لجهنم: هل امتلأت؟ وذلك أنه وعدها أن سيملؤها من الجِنة والناس أجمعين، فهو سبحانه يأمر بمن يأمر به إليها، ويلقى فيها وهي تقول: هل من مزيد؟ أي: هل بقي شيء تزيدني؟ حتى يضع رب العزة قدمه فيها، فتقول: هذا يكفيني وتُقبض ويُجمع بعضها إلى بعض. ولا يجوز تأويل صفة القدم إلى من قدَّمهم الله إلى النار ولا غير ذلك من التأويلات الباطلة، بل يجب إثبات القدم صفة لله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل.
575;للہ تعالی اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ وہ جہنم سے پوچھے گا: کیا تو بھر گئی؟۔ یہ پوچھنا اس لیے ہوگا کیونکہ اللہ کا اس سے وعدہ ہے کہ وہ اسے جنات اور انسانوں سے بھر دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالی جسے اس میں ڈالنا ہوگا اسے اس میں ڈالنے کا حکم دے گا اور وہ اس میں جھونک دیاجائے گا۔ جہنم کہے جا رہی ہو گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی کوئی ایسی شے باقی ہے جو تو مجھ میں اضافہ کرے؟ یہاں تک کہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا۔ اس پر وہ بول اٹھے گی: يہ مجھے کافی ہے۔ اور پھر سميٹ کر کے اس کے ايک حصے کو دوسرے حصے سے ملا ديا جائے گا۔ صفت قدم کی یہ تاویل کرنا جائز نہیں ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی آگ میں ڈالے گا اور نہ ہی دیگر باطل تاویلات کا سہارا لیا جائے گا۔ بلکہ بغیر کسی تحریف و تعطیل اور بنا کسی تکییف و تمثیل کے اللہ کے لیے صفت قدم کا اثبات کرنا واجب ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8312

 
 
Hadith   1417   الحديث
الأهمية: تحاجت الجنة والنار، فقالت النار: أوثرت بالمتكبرين، والمتجبرين، وقالت الجنة: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وغرتهم


Tema:

جنت اور دوزخ نے باہم بحث ومباحثہ کیا۔ دوزخ نے کہا: میں سرکش ومتکبر اور جابر وظالم لوگوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر وکمتر اور بھولے بھالے (سادہ لوح) لوگ داخل ہوں گے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «تَحَاجَّتِ الجنةُ والنارُ، فقالت النارُ: أوثِرتُ بالمُتَكَبِّرين، والمُتَجَبِّرين، وقالت الجنةُ: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاءُ الناس وسَقَطُهم وغِرَّتُهم؟ قال الله للجنة: إنما أنت رحمتي أرحمُ بك مَن أشاءُ من عبادي، وقال للنار: إنما أنت عذابي أُعذِّب بك مَن أشاء من عبادي، ولكل واحدةٍ منكما مِلْؤها، فأما النارُ فلا تمتلئُ حتى يضعَ الله تبارك وتعالى رِجْلَه، تقول: قَط قَط قَط، فهنالك تمتلئ، ويَزْوِى بعضُها إلى بعض، ولا يظلم اللهُ من خلقه أحدا، وأما الجنةُ فإنَّ اللهَ يُنشئ لها خَلْقًا».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے باہم بحث ومباحثہ کیا۔ دوزخ نے کہا: میں سرکش ومتکبر اور جابر وظالم لوگوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر وکمتر اور بھولے بھالے (سادہ لوح) لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور دوزخ سے کہا: تو ميرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا۔ اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اسے بھر دینے والی مقدار ہے۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا پیر نہیں رکھ دے گا۔ تو وہ پکار اٹھے گی کہ بس، بس، بس۔ چنانچہ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ سے سمٹ کر مل جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ رہا جنت کا معاملہ تو اس کے (بھرنے کے) لیے اللہ تعالیٰ ایک (نئی) مخلوق پیدا فرمائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
افتخرت النار على الجنة بأنها محل انتقام الله تعالى من الطغاة والمتكبرين والمجرمين الذين عصوا الله وكذَّبوا رسله، وأما الجنة فإنها اشتكت لكون من يدخلها الضعفاء والفقراء وأهل المسكنة غالباً،  بل هم متواضعون لله خاضعون له، وهذا القول قالته الجنة والنار حقيقة، وقد جعل الله لهما شعوراً وتمييزاً، وعقلاً ونطقاً، والله لا يعجزه شيء.
فقال الله للجنة: «إنما أنت رحمتي أرحمُ بك مَن أشاءُ من عبادي»، وقال للنار: «إنما أنت عذابي أُعذِّب بك مَن أشاء من عبادي» هذا هو حكم الله بينهما، يعني: أن الله تعالى خلق الجنة ليرحم بدخولها من شاء من عباده، من يتفضل عليه ويجعله مؤهَّلاً لذلك، وأما النار فخلقها لمن عصاه وكفر به وبرسله، يعذبهم بها، وذلك كله ملكه يتصرف فيه كيف يشاء، لا يُسأل عما يفعل وهم يُسألون، ولكن لا يدخل النار إلا من استوجبها بعمله.
ثم قال: «ولكل واحدة منكما ملؤها» وهذا وعد من الله تعالى لهما بأن يملأهما بمن يسكنهما، وقد جاء الطلب من النار صريحًا، كما قال تعالى: {يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ} ، وأقسم الله تعالى ليملأن جهنم من الجِنَّةِ والناس أجمعين، فالجنة والنار دار بني آدم والجن بعد الحساب، فمن آمن وعبد الله وحده، واتبع رسله، فمصيره إلى الجنة، ومن عصى وكفر وتكبر فمصيره إلى النار.
قال: «فأما النارُ فلا تمتلئُ حتى يضعَ الله تبارك وتعالى رِجْلَه، تقول: قَطِ قَطِ قَطِ، فهنالك تمتلئ، ويَزْوِى بعضُها إلى بعض، ولا يظلم اللهُ من خلقه أحدا» فالنار لا تمتلئ حتى يضع الله تعالى عليها رجله فتنضم ويجتمع بعضها إلى بعض، وتتضايق على من فيها، وبذلك تمتلئ ولا يظلم ربك أحداً. ويجب إثبات الرِّجل لله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل، ثم قال: «وأما الجنةُ فإنَّ اللهَ يُنشئ لها خَلْقًا» أما الجنة فلا تمتلئ حتى يخلق الله تعالى لها خلقًا آخرين، فبهم تمتلئ.
580;ہنم نے جنت پر فخر کیا کہ وہ ان سرکشوں، متکبروں اور مجرموں سے اللہ کے انتقام کی جگہ ہے جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ البتہ جنت نے شکوہ کیا کہ اس میں تو زیادہ تر کمزور, فقیر اور مسکین لوگ ہی داخل ہوں گے بلکہ وہ اللہ کے سامنے فروتنی کا اظہار کرنے والے اور اس کى فرماں برداری کرنے والے ہوں گے۔ یہ بات جنت اور جہنم نے حقیقت میں کہی تھی، بایں طور کہ اللہ نے ان میں شعور و تمیز اور عقل پیدا فرما دی اور انہیں بولنے کی طاقت دے دی۔ اور اللہ کو کوئی شے عاجز نہیں کر سکتی۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ اور دوزخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے۔ میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا۔ یہ تھا وہ فیصلہ جو اللہ نے ان دونوں کے مابین کیا۔ یعنی اللہ تعالی نے جنت کو اس لیے پیدا فرمایا تاکہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس پر نوازش کرتے ہوئے اس کا اہل بنا دے اور اسے اس میں داخل کر کے اس پر رحم فرمائے۔ جب کہ دوزخ کو ان لوگوں کے لیے پیدا فرمایا جو اس کی نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے اللہ انہیں عذاب دے گا۔ یہ سب اللہ كى ملکیت ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ وه اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب ده ہیں۔ تاہم جہنم میں صرف وہی جائے گا جو اپنے عمل کی وجہ سے اس کا مستحق ٹھہرے گا۔
پھر فرمایا: ’’اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اسے بھر دینے والی مقدار ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالی کا ان دونوں سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں ان لوگوں سے بھر دے گا جو ان میں رہیں گے۔ دوزخ کی طرف سے تو واضح مطالبہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ﴾ ”جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ہے؟ وہ جواب دے گی کہ کیا کچھ اورزيادہ بھی ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ وہ جہنم کو ضرور جنوں اور انسانوں سے بھر دے گا۔ چنانچہ حساب كے بعد جنت و دوزخ، انسانوں اور جنات کے لیے جائے سکونت ہوں گی۔ جو ایمان لایا اور اس نے صرف اللہ ہی کی عبادت کی اور اس کے رسولوں کی اتباع کی تو اس کا جائے مقام جنت ہو گا اور جس نے نافرمانی، انکار اور تکبر کیاْ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا۔
آپﷺ نے فرمایا: دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا پیر نہیں رکھ دے گا۔ تو وہ پکار اٹھے گی کہ بس، بس، بس۔ چنانچہ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ سے سمٹ کر مل جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ تو جہنم اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس پر اپنا قدم نہ رکھ دے گا۔ چنانچہ وہ سمٹ جائے گی اور اس کے حصے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ اپنے اندر موجود لوگوں پر تنگ ہو جائےگی۔ اس طرح وہ بھر جائے گی اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اللہ تعالی کے لئے بغیر تحریف و تعطیل اور بغير تکییف و تمثیل کے پاؤں کو ثابت ماننا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: رہا جنت کا معاملہ تو اس کے (بھرنے کے) لیے اللہ تعالیٰ ایک (نئی) مخلوق پیدا فرمائے گا۔ یعنی جنت اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اللہ تعالی اس کے لیے ایک دوسری مخلوق پیدا نہ فرما دے گا، جن سے وہ بھر جائے گی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8313

 
 
Hadith   1418   الحديث
الأهمية: يقول الله: إذا أراد عبدي أن يعمل سيئة، فلا تكتبوها عليه حتى يعملها، فإن عملها فاكتبوها بمثلها، وإن تركها من أجلي فاكتبوها له حسنة


Tema:

جب میرا بندہ کسی برائی کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔ اگر وہ اسے کر لے تو اسے ایک ہی برائی لکھو اور اگر وہ اسے میری وجہ سے چھوڑ دے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «يقول اللهُ: إذا أراد عبدي أنْ يعملَ سيئةً، فلا تكتبوها عليه حتى يعملَها، فإنْ عَمِلها فاكتبوها بمثلِها، وإنْ تركها مِن أجلي فاكتبوها له حسنةً، وإذا أراد أنْ يعملَ حسنةً فلم يعملها فاكتبوها له حسنةً، فإنْ عملها فاكتبوها له بعشر أمثالها إلى سبعِ مائة ضِعْفٍ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔ اگر وہ اسے کر لے تو اسے ایک ہی برائی لکھو اور اگر وہ اسے میری وجہ سے چھوڑ دے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اور اگر وہ کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اگر وہ اسے کر لے تو پھر اسے اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الخطاب من الله تعالى للملائكة الموكَّلين بحفظ عمل الإنسان وكتابته، وهو يدل على فضل الله على الإنسان، وتجاوزه عنه. قوله: «إذا أراد عبدي أن يعمل سيئة، فلا تكتبوها عليه حتى يعلمها» والعمل قد يراد به عمل القلب والجوارح، وهو الظاهر؛ لأنه قد جاء ما يدل على أن عمل القلب يؤاخذ به، ويجزي عليه، قال الله تعالى: {وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ}، وفي الحديث الصحيح: «إذا التقى المسلمان بسيفهما فالقاتل والمقتول في النار» ، قالوا: هذا القاتل، فما بال المقتول؟ قال: «إنه كان حريصاً على قتل أخيه»، فهذه النصوص تصلح لتخصيص عموم قوله: «إذا أراد أن يعمل سيئة فلا تكتبوها حتى يعملها» وهذا لا يخالف قوله في السيئة: «لم تكتب عليه»؛ لأن عزم القلب وتصميمه عمل.
قوله: «فإن علمها فاكتبوها بمثلها»، يعني: سيئة واحدة، قال الله تعالى: {مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ}، وقال تعالى: {مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ}.
قوله: «فإن تركها من أجلي فاكتبوها له حسنة» قيَّد تركها بأنه من أجل الله تعالى، أي: خوفاً منه، وحياءً، أما إذا تركها عاجزاً، أو خوفاً من الخلق، أو لعارض آخر، فإنها لا تُكتب له حسنة، بل ربما كُتبت عليه سيئة.
قوله: «وإذا أراد أن يعمل حسنة فلم يعملها فاكتبوها له حسنة» إلى آخره، وهذا تفضُّل من الله تعالى الكريم المنان على عباده، فله الحمد والمنة، فأي كرم أعظم من هذا، الهم بالحسنة يكتب الله به حسنة كاملة، وعمل الحسنة يكتب به عشر حسنات إلى سبعمائة حسنة.
وفي هذا الحديث أسند النبي صلى الله عليه وسلم هذا القول إلى الله تعالى بقوله: «يقول الله: إذا أراد عبدي» واصفاً له بذلك، وهذا القول من شرعه الذي فيه وعده لعباده، وتفضُّله عليهم، وهو غير القرآن، وليس مخلوقاً، فقوله تعالى غير خلقه.
575;للہ تعالی کا یہ ارشاد ان فرشتوں سے ہے جو انسان کے اعمال کو محفوظ کرنے اور ان کے لکھنے پر متعین ہیں۔ اس میں انسان پر اللہ کے فضل اور اللہ کی طرف سے اس سے درگزر کرنے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان: ”جب میرا بندہ کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔“ عمل سے کبھی دل اور اعضاء کاعمل مراد ہوتا ہے اور یہی معنی راجح ہے۔ کیونکہ ا س بات کی دلیل موجود ہے کہ دل کے عمل پر مواخذہ ہو گا اور اس پر انسان کو جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ ”جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے“۔ اور صحیح حدیث میں آیا ہے: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ (لڑنے کے لئے) ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں ہیں“۔ لوگوں نے یہ دریافت کیا کہ يہ تو قاتل ہے، ليكن مقتول کا کیا قصور ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔“ ان نصوص کے ذریعہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم کی تخصیص کرنا درست ہے: ”جب وہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔“ یہ تخصیص برائی کے بارے میں اللہ کے اس قول کے مخالف نہیں کہ ”اسے اس کے کھاتے میں نہ لکھو۔“ کیونکہ دل کا پکا اور مصمم ارادہ کر لینا ایک عمل ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا: ”اگر وہ اسے کر لے تو اسے اسی کے مثل لکھو“۔ یعنی ایک برائی (لکھو)۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ﴾ ”جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا“۔ اور فرمایا: ﴿مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ ”جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ديا جائے گا اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان والا ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے“۔
الله تعالی کا قول: ”اگر وہ میرے لیے اس برائی کو چھوڑ دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو“۔ اس کے چھوڑنے کو اللہ کی خاطر چھوڑنے سے مشروط کیا گیا ہے، یعنی اگر وہ اللہ کے خوف سے اور اس سے حیا کی وجہ سے چھوڑ دے۔ تاہم اگر وہ اس سے عاجز آنے کی وجہ سے چھوڑ ے یا پھر مخلوق کے خوف کے وجہ سے یا کسی اور عارض کی وجہ سے ترک کرے تو اس صورت میں اس کے لیے نیکی نہیں لکھی جاتی بلکہ بسا اوقات برائی لکھی جاتی ہے۔
اللہ تعالی کا یہ قول: اور اگر وہ کسی نیکی کا اراده کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو اگر وہ اسے کر لے تو پھر اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دو۔ یہ اللہ کی کریم ذات کا اپنے بندوں پر فضل ہے جو بہت زیادہ احسان کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اور تمام احسانات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اس سے بڑی کرم نوازی اور کیا ہو سکتی ہے کہ نیکی کے ارادے کو پوری نیکی لکھ دیا جائے اور نیکی کرنے کو دس سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھا جائے۔
اس حدیث میں نبی کريم ﷺ نے اس بات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمايا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ ارادہ کرے۔ آپ ﷺ نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ اللہ کا فرمان ہے۔ اللہ کا یہ قول اس کی شریعت ہی کا حصہ ہے جس میں اس کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے وعدہ اور ان پر اس كے فضل و کرم کا بیان ہے۔ اور یہ قرآن کے علاوہ ہے اور یہ مخلوق نھیں ہے۔ پس اللہ تعالی کا قول اس کی مخلوق کے علاوہ ہے۔ (یعنی اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے)

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8314

 
 
Hadith   1419   الحديث
الأهمية: إن الله يقول لأهون أهل النار عذابًا: لو أن لك ما في الأرض من شيء كنت تفتدي به؟ قال: نعم، قال: فقد سألتك ما هو أهون من هذا وأنت في صلب آدم، أن لا تشرك بي، فأبيت إلا الشرك


Tema:

(قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ اس دوزخی سے فرمائے گا جسے سب سے ہلکا عذاب دیا جا رہا ہو گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: دنیا میں میں نے تجھ سے اس کی نسبت بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا، وہ یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ، لیکن تو نے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إنَّ اللهَ يقول لأهونِ أهلِ النارِ عذابًا: لو أنَّ لك ما في الأرضِ من شيءٍ كنتَ تفتدِي به؟ قال: نعم، قال: فقد سألتُك ما هو أهونُ مِن هذا وأنت في صُلْبِ آدمَ، أنْ لا تُشْرِكْ بي، فأبيتَ إلَّا الشِّركَ».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ اس دوزخی سے فرمائے گا جسے سب سے ہلکا عذاب دیا جا رہا ہو گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: دنیا میں، مَیں نے تجھ سے اس کی نسبت بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا، وہ یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تونے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الله تعالى يقول لأقل أهل النار عذابًا يوم القيامة: لو أنك تملك كل ما في الأرض، أكنت تدفعه لتتخلص من هذا العذاب؟ فيقول: نعم. فيقول الله تعالى: لقد طلبتُ منك شيئا هو أيسر عليك من ذلك، وأنت في ظهر أبيك، حيث أخذتُ عليك العهد والميثاق أن لا تشرك بي شيئا، ولكنك امتنعت وأشركت بي، قال الله تعالى: (وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين).
602;یامت کے دن سب سے کم عذاب دیے جانے والے دوزخی سے اللہ فرمائے گا کہ اگر تیرے پاس جو کچھ زمین میں ہے وہ سب ہوتا تو کیا تو اس عذاب سے خلاصی پانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا کہ: ہاں۔ اس پراللہ تعالی فرمائے گا: میں نے تو تم سے اس سے بھی آسان چیز کامطالبہ کیا تھا جب کہ تو اپنے باپ کی پشت میں تھا۔ میں نے تجھ سے یہ عہد و پیمان لیا تھا کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائے گا۔ لیکن تو نے اس وعدے کو پورا نہ کیا اور میرے ساتھ شرک کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا ۛ أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَافِلِينَ﴾ ”اور اے نبی! لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا ضرور تو ہی ہمارا رب ہے، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8315

 
 
Hadith   1420   الحديث
الأهمية: جنتان من فضة آنيتهما، وما فيهما، وجنتان من ذهب آنيتهما، وما فيهما، وما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن


Tema:

دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی، جو دیدار سے مانع ہو گی۔

عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- مرفوعاً: «جَنَّتانِ مِن فِضَّةٍ آنِيَتُهما، وما فيهما، وجَنَّتانِ مِن ذَهَبٍ آنِيَتُهما، وما فيهما، وما بين القومِ وبين أنْ ينظروا إلى ربِّهم إلَّا رِداءُ الكِبْرِياءُ على وجهِه في جَنَّة عَدْنٍ».

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا: ”دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی، جو دیدار سے مانع ہو گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث يدل على تفاوت منازل الجنة ودرجاتها، فبعضها أعلى من بعض حسًّا ومعنى، حيث يكون بناؤها من الذهب، وأوانيها من الذهب، وبعضها يكون بناؤها من الفضة، وأوانيها من الفضة، ومعلوم أن الذهب هو أغلى المعادن وأنفسها لدى المخاطبين بالقرآن عند نزوله، ويجوز أن يكون فيها ما هو أعلى من الذهب وأرفع؛ لأن الله  تعالى أخبر أن فيها ما لا عين رأته، ولا أُذن سمعته، ولا خطر على قلب بشر، وقع في أول بعض روايات هذا الحديث: «جِنان الفردوس أربع، ثنتان من ذهب ...» الحديث
قوله: «وما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن» فيه التصريح بقرب نظرهم إلى ربهم، فإذا أراد تعالى أن يُنَعِّمَهم ويزيد في كرامتهم رفع رداء الكبرياء عن وجهه فنظروا إليه.
وأهل السنة يثبتون رداء الكبرياء لله تعالى، ورؤية المؤمنين لربهم في الجنة، من غير تكييف ولا تمثيل ومن غير تحريف ولا تعطيل، كما يثبتون له وجهًا يليق بجلاله، ولا يجوز تأويل شيء من ذلك وصرفه عن ظاهره، كما هو مذهب السلف الصالح.
740;ہ حدیث جنت کے مختلف منازل اور درجات پر دلالت کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ درجات دوسرے سے حسی اور معنوی طور پر اعلیٰ ہیں کہ بعض کی تعمیر سونے سے ہوگی اور ان کے برتن سونے کے ہوں گے اور بعض کی تعمیر چاندی کی ہوگی اور ان کے برتن بھی چاندی کے ہوں گے۔ یہ تو معلوم ہے کہ قرآن نزول کے وقت جن لوگوں سے مخاطب تھا، ان کے یہاں سونا سب سے مہنگا اور عمدہ دھات ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جنت میں سونے سے زیادہ اعلیٰ و عمدہ چیزیں موجود ہوں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں ایسی چیزیں ہیں، جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیںسنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا ہے۔ اس حدیث کے بعض روایات کے شروع میں ہے : ”جنت الفردوس چار طرح کے ہیں...“۔
”جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی“ اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ لوگ اللہ کو سب سے زیادہ قریب سے دیکھ سکیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو خوش کرنا چاہے گا اور ان کے شرف میں اضافہ کرنا چاہے گا، تو اپنے چہرے سے کبریائی کی چادر اٹھائے گا اور وہ اسے دیکھ سکیں گے۔
اہل سنت اللہ تعالیٰ کے لیے کبریائی کی چادر اور جنت میں مؤمنین کی اپنے رب کی رؤیت کو بغیر کسی کیفیت، نمونے اور بغیر کسی تحریف و تعطیل کے ثابت مانتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے شایانِ شان چہرے کو ثابت کرتے ہیں۔ اس میں کسی طرح کی تاویل کرنا اور اسے ظاہر سے پھیر کر دوسرا معنیٰ مُراد لینا جائز نہیں ہے۔ یہی سلف صالحین کا مذہب ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8316

 
 
Hadith   1421   الحديث
الأهمية: احتج آدم وموسى، فقال له موسى: يا آدم أنت أبونا خيبتنا وأخرجتنا من الجنة، قال له آدم: يا موسى اصطفاك الله بكلامه، وخط لك بيده، أتلومني على أمر قدره الله علي قبل أن يخلقني بأربعين سنة؟ فحج آدم موسى، فحج آدم موسى


Tema:

آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «احتجَّ آدمُ وموسى، فقال له موسى: يا آدمُ أنت أبونا خَيَّبتنا وأخرجتَنا من الجنة، قال له آدمُ: يا موسى اصطفاك اللهُ بكلامِه، وخطَّ لك بيدِه، أتلومُني على أمرٍ قَدَّره اللهُ عليَّ قبل أنْ يخلُقَني بأربعين سنةً؟ فحَجَّ آدمُ موسى، فحَجَّ آدمُ موسى».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“۔

Esin Hadith Caption Urdu


«احتجَّ آدم وموسى» عليهما السلام أي: كل واحد منهما ذكر حُجَّته أمام الآخر، وهذا يجوز أن يكون بعد وفاة موسى، أو أنه في الرؤيا، فإن رؤيا الأنبياء وحي، ومثل هذا يجب فيه التسليم، ولا نستطيع الوقوف على حقيقته
«فقال له موسى: يا آدمُ أنت أبونا خَيَّبتنا وأخرجتَنا من الجنة» أي: كنت سبب خيبتنا وإغوائنا بالخطيئة التي ترتَّب عليها إخراجك من الجنة، ثم تَعَرضنا نحن لإغواء الشياطين.   «قال له آدمُ: يا موسى اصطفاك اللهُ بكلامِه» أي: اختارك الله تعالى بأن أسمعك كلامه، وهذا الذي اختص به موسى من بين الرسل، بأن الله تعالى كلمه بدون واسطة، بل أسمعه كلامه منه إليه.
 «وخطَّ لك بيدِه» أي: كتب لك التوراة بيده، ويجب علينا أن نؤمن بهذا من غير تكييف ولا تعطيل ومن غير تحريف ولا تمثيل.   «أتلومُني على أمرٍ قَدَّره اللهُ عليَّ قبل أنْ يخلُقَني بأربعين سنةً؟» أي: كيف تلومني على أمر كتبه الله عليَّ في اللوح المحفوظ وفي صحف التوراة وألواحها قبل خلقي بأربعين سنة.
«فحَجَّ آدمُ موسى» أي: غلبه بالحجة، وإنما كان موضع الحجة لآدم على موسى -صلوات الله وسلامه عليهما- أن الله سبحانه إذا كان قد علم من آدم أنه سيخرج من الجنة وينزل للأرض فكيف يمكنه أن يرد علم الله فيه، فحجة آدم عليه السلام ظهرت؛ لأن ما قُدِّر عليه أمر لا يمكن تغييره ولا رده، بل هو قدر قدره العليم القدير، فلا يمكن دفعه، ولا رفعه بعد وقوعه، فليس أمامه إلا التسليم، ومع ذلك لا يكون القدر حجة فيما لم يقع؛ لأن الإنسان مأمور بفعل الطاعة، واجتناب المعصية، وهو لا يعلم ما هو المقدر عليه حتى يقع، فإذا وقع الأمر وتعذر دفعه هناك يسلم للقدر، ويقول: قدر الله وما شاء فعل، ويستغفر من ذنبه ويتوب إلى ربه.
فتبين أن آدم حج موسى لما قصد موسى لوم آدم على ما كان سبباً في مصيبة أبنائه، وأن آدم احتج بأن هذه المصيبة سبق بها القدر، ولا بد من وقوعها، وسواء في ذلك المصائب التي تحصل بأفعال العباد، أو غيرها، فإن على العبد الصبر والتسليم، ولا يسقط بذلك لوم الجاني وعقابه.

Esin Hadith Caption Urdu


”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا“ یعنی ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے سامنے اپنی دلیل بیان کی۔ ممکن ہے کہ ایسا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہو یا پھر خواب میں ہوا ہو کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور ہم اس کی حقیقت سے آگاہ ہونے سے قاصر ہیں۔
”موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا“ یعنی آپ اس غلطی کے سبب ہماری محرومی اور دوری کی وجہ بنے جس کی وجہ سے آپ کو جنت سے نکال دیا گیا اور پھر ہم بھی شیطانوں کے بہکاؤں کے برسرِ پیکار ہوگئے۔
”آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب کیا“ یعنی اپنا کلام سنانے کے لیے اللہ نے آپ کو چنا۔ تمام رسولوں میں سے صرف موسی علیہ السلام کا یہ خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی واسطے کے ان سے ہم کلام ہوا اور انہیں اپنا وه کلام سنایا جو الله کی طرف سے انہی کے ليے تھا۔
”اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے (تورات کو) لکھا“ یعنی توریت کو اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے لکھا۔ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم اس بات پر بغیر کسی تکییف و تعطیل اور بنا کسی تحریف و تمثیل کے ایمان لائیں۔
”کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جو اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے لیے مقدر کر دی تھی؟“ یعنی ایک ایسی بات پر آپ مجھے کیسے ملامت کر رہے ہیں جسے اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لوح محفوظ میں اور توریت کے صحیفوں اور اس کی تختیوں میں لکھ دیا تھا۔
”چنانچہ آدم علیہ السلام دلیل میں موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“ یعنی حجت کے ذریعے ان پر غالب آ گئے۔ آدم علیہ السلام کی موسی علیہ السلام پر حجت یہ تھی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جب آدم علیہ السلام کے بارے میں اس بات کا علم تھا کہ وہ جنت سے نکل کر زمین پر اتر جائیں گے تو وہ اللہ کے علم کو کیسے رد کر سکتے تھے۔ آدم علیہ السلام کی حجت غالب آ گئی کیونکہ جو شے نوشتۂ تقدیر ہو اس میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ تقدیر ہوتی ہے جسے علیم و قدیر ذات نے متعین کیا ہوتا ہے چنانچہ اسے ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کے واقع ہونے کے بعد اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسے تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاہم جو شے واقع نہیں ہوئی ہے اس میں تقدیر حجت نہیں بن سکتی کیونکہ انسان کو حکم ہے کہ وہ نیک اعمال کرےاور برائی سے اجتناب کرے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کے حق میں کون سی شے مقدر ہے یہاں تک کہ وہ واقع ہو جائے۔ جب کوئی بات واقع ہو جائے اور اس کا ٹالنا ناممکن ہو جائے تو اس وقت وہ تقدیر کے سپرد کرے اور کہے کہ: یہ اللہ کی طرف سے مقدر تھا اور اس نے جو چاہا کیا۔ اور وہ اپنے گناہ پر معافی کا طلب گار ہو اور اپنے رب سے توبہ کرے۔
چنانچہ واضح ہو گیا کہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر اس وقت دلیل میں غالب آ گئے جب موسی علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو اس (خطا) پر ملامت کرنا چاہا جس کی بدولت ان کی اولاد مصیبت سے دوچار ہوئی۔ آدم علیہ السلام نے دلیل دی کہ یہ مصیبت پہلے سے ہی مقدر تھی اور اس کو واقع ہو کر ہی رہنا تھا۔ چاہے مصائب وہ ہوں جو بندوں کے افعال کی وجہ سے آتے ہیں یا ان کے علاوہ ہوں، بندے پر (ہر صورت میں) صبر و تسلیم ہی واجب ہے، تاہم اس کی بنا پر مجرم سے ملامت اور اس کی سزا ساقط نہیں ہوتی۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8317

 
 
Hadith   1422   الحديث
الأهمية: أنه ذكر رجلا من بني إسرائيل، سأل بعض بني إسرائيل أن يسلفه ألف دينار


Tema:

نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا، اس نے بنی اسرائیل کے دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفی قرض مانگا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أنَّه ذكر رجلًا من بني إسرائيل، سأل بعضَ بني إسرائيل أن يُسْلِفَه ألفَ دينار، فقال: ائْتِنِي بالشهداء أُشْهِدُهم، فقال: كفى بالله شهيدًا، قال:  فَأْتِنِي بالكَفِيل، قال: كَفَى بالله كفيلًا، قال: صَدَقتَ، فَدَفَعَها إِليه إلى أجل مُسَمَّى، فخرج في البحر فقَضَى حَاجَتَه، ثُمَّ التَمَسَ مركَبًا يَرْكَبُها يَقْدَم عليه لِلأَجَل الذي أجَّله، فلم يجِد مركَبًا، فأَخَذَ خَشَبَة فَنَقَرَها، فَأَدْخَل فِيهَا أَلفَ دِينَار وصَحِيفَة مِنْه إلى صاحبه، ثم زَجَّجَ مَوضِعَها، ثمَّ أَتَى بِهَا إِلَى البحر، فقال: اللَّهُمَّ إنَّك تعلم أنِّي كنتُ تَسَلَّفتُ فلانًا ألف دِينَار، فَسَأَلَنِي كفيلًا، فقلتُ: كفى بالله كفيلًا، فَرَضِيَ بك، وسأَلَنِي شهيدًا، فقلتُ: كفى بالله شهيدًا، فرضِي بك، وأنِّي جَهَدتُ أنْ أَجِدَ مَركَبا أَبعث إليه الذي لَه فَلَم أَقدِر، وإنِّي أسْتَوْدِعُكَها. فرمى بها في البحر حتَّى وَلَجِت فيه، ثم انْصَرف وهو في ذلك يلتمس مركبا يخرج إلى بلده، فخرج الرجل الذي كان أسلفه، ينظُر لعلَّ مَركَبًا قد جاء بماله، فَإِذا بِالخَشَبَة التي فيها المال، فأَخَذَها لِأهله حَطَبًا، فلمَّا نَشَرَها وجَد المالَ والصحِيفة، ثمَّ قدِم الذي كان أسلفه، فأتى بالألف دينار، فقال: والله ما زلتُ جاهدًا في طلب مركب لآتيك بمالك، فما وجدتُ مركبا قبل الذي أتيتُ فيه، قال: هل كنتَ بعثتَ إليَّ بشيء؟ قال: أُخبِرك أنِّي لم أجِد مركبا قبل الذي جئتُ فيه، قال: فإنَّ الله قد أدَّى عنك الذي بعثتَ في الخشبة، فانصرِف بالألف الدينار راشدًا».

ابو ہريرہ رضي الله عنہ سے روایت ہےکہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا۔ اس نے بنی اسرائیل کے دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفی قرض مانگا، اس شخص نے گواہوں کو طلب کیا تاکہ وہ ان کو گواہ بنالے قرض مانگنے والا کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ گواہ کے طور پر کافی ہے وہ کہنے لگا کہ اچھا کسی کی ضمانت دے دو قرض مانگنے والے نے جواب دیا کہ اللہ ہی ضمانت کے لیے کافی ہے، اس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو یہ کہہ کر ایک معین مدت کے لیے اس نے اسے ایک ہزار اشرفیاں دے دیں، پھر جس نے قرض لیا تھا اس نے سمندر کا سفر کیا اور اپنا کام پورا کر کے یہ چاہا کہ جہاز پر سوار ہو کر اپنے کیے ہوئے وعدہ پر پہنچ جائے اور قرض ادا کرے، لیکن اسے کوئی جہاز نہ ملا، چنانچہ اس نے ایک لکڑی اٹھا لی اور اس میں کریدا اس میں ایک ہزار اشرفیاں اور ایک خط رکھا اور اس کے منہ کو اچھی طرح بند کر دیا اور سمندر پر آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے میں نےفلاں شخص سے ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے ضمانت مانگی تھی میں نے کہا تھا اللہ ضمانت کے لیے کافی ہے وہ اس پر راضی ہو گیا تھا، اس نے مجھ سے گواہ طلب کیے تھے، چنانچہ میں نے کہا اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے، تو وہ تجھ سے راضی ہو گیا تھا، میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز ملے اور میں اس کے قرض کو ادا کر دوں لیکن میں کیا کروں جہاز ہی نہیں ملا، اب میں اس مال کو تیرے سپرد کرتا ہوں، اس نے یہ کہہ کر اس لکڑی کوسمندر میں پھینک دی یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب گئی، پھر وہ لوٹ کر چلا آیا، اس وقت بھی وہ اپنے شہر کے لیے جہاز ڈھونڈھتا رہا۔ اور وہ شخص جس نے قرض دیا تھا وہ سمندر پر اس خیال سے گیا کہ کوئی جہاز آئے اور اس کی اشرفیاں لائے، کیا دیکھتا ہے کہ وہی لکڑی جس میں مال موجود تھا نظر آئی، اس نے اسے جلانے کے لیے اٹھالی، جب اس کو چیرا تو اس میں اشرفیاں اور خط کو پایا، پھر وہ شخص جس نے قرض لیا تھا وہ ایک ہزار اشرفیاں لے کر آیا اور کہنے لگا اللہ کی قسم! میں نے بہت کوشش کی کہ آپ کی اشرفیاں واپس کر سکوں لیکن جس جہاز میں آیا اس سے پہلے کوئی جہاز نہ ملا، تب اس قرض دینے والے نے کہا تو نے میرے پاس کچھ بھیجا تھا؟، اس نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جس جہاز پر میں آیا ہوں اس سے قبل مجھے کوئی جہاز نہ ملا، قرض دینے والے نے کہا اللہ نے وہ اشرفیاں پہنچا دی ہیں جو تو نے ایک لکڑی میں رکھ کر بھیجی تھیں، پھر وہ اشرفیاں لے کر اطمینان کے ساتھ لوٹ گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن رجلاً من بني اسرائيل طلب من رجل آخر من بني إسرائيل أن يُسلفه ألف دينار، فقال له الرجل: ائتني بشهيد يشهد أنك أخذت مني ألف دينار. فقال له الرجل الذي يريد السلف: «كفى بالله شهيدًا» أي: يكفيك ويكفيني أن يكون الله شهيدًا علينا. فقال الرجل له: فائتني بضامن يضمنك. فقال: «كفى بالله كفيلاً» أي: يكفيك أن يكون الله هو الضامن. فقال له: صدقت. فأعطاه الألف دينار إلى وقت محدد. فخرج الذي استلف فركب البحر بالمال يتجر فيه، فلما جاء الموعد المحدَّد لسداد الدَّين بحث عن مركب يركبها حتى يقدم على الذي أسلفه، فلم يجد مركبًا، فأخذ خشبة فحفرها وأدخل فيها ألف دينار وصحيفة منه إلى صاحبه وكتب إليه: من فلان إلى فلان، إني دفعت مالك إلى وكيل توكل بي. ثم سوَّى موضع الحفر وأصلحه، ثم أتى بالخشبة إلى البحر فقال: اللهم إنك تعلم أني كنت تسلفت من فلان ألف دينار فسألني كفيلاً فقلت: كفى بالله كفيلاً، فرضي بك، وسألني شهيدًا فقلت: كفى بالله شهيدًا، فرضي بك، وإني اجتهدت أن أجد مركبًا أبعث إليه الذي له في ذمتي فلم أقدر على تحصيلها، وإني أتركها عندك وديعة وأمانة. ثم رمى بها في البحر حتى دخلت فيه، ثم انصرف ولكنه ظل أيضًا يبحث عن مركب ليذهب إلى بلد الذي أسلفه بألف دينار أخرى؛ ظنا منه أن فعله الأول غير كاف، أما الرجل صاحب المال فخرج في الموعد ينظر لعل مركبًا قد جاء بماله الذي أسلفه للرجل، كأن يكون أرسله مع شخص أو جاء به بنفسه، فلم يجد مركبًا، فإذا بالخشبة التي فيها المال فأخذها لأهله يجعلها حطبًا للإيقاد، وهو لا يعلم أن المال فيها، فلما قطعها بالمنشار، وجد المال الذي له والصحيفة التي كتبها الرجل إليه بذلك، ثم جاء الرجل الذي استلف فأتى بالألف دينار الأخرى، فقال للذي أسلفه: والله لقد اجتهدت في البحث عن مركب لآتيك بمالك فما وجدت مركبًا قبل الذي أتيت فيه. قال الذي أسلفه: هل كنت بعثت إليّ بشيء؟ فقال: أُخبرك أني لم أجد مركبًا قبل الذي جئتُ فيه. قال الرجل الذي أسلفه: إن الله قد أدَّى عنك الألف دينار التي بعثت بها في الخشبة. فانصرف بالألف الدينار الأخرى التي أتيت بها راشدًا.
606;بی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا، اس نے بنی اسرائیل کے دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفیاں بطور قرض مانگا قرض دینے والے نے کہا کہ کوئی گواہ لے آؤ تاکہ وہ گواہ رہے کہ تم نے مجھ سے ایک ہزار دینار قرض لیا ہے۔ قرض مانگنے والے نے کہا: ”اللہ تعالی ہی گواہ کے طور پر کافی ہے“ یعنی یہ بات ہمارے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالی ہم پر گواہ ہے، پھر قرض دینے والے نے کہا کہ کسی ضمانت دینے والے کو لے آؤ جو ضمانت دے، اس نے کہا: ”اللہ کی ضمانت کافی ہے“ یعنی یہ کافی ہے کہ ضامن اللہ تعالی رہے، اس نے کہا کہ تو سچ کہتا ہے اور اس کو ہزار اشرفیاں ایک متعین مدت کے لیے دے دیے، پھر جس نے قرض لیا تھا اس نے اس مال کے ساتھ سمندر کا سفر کیا تاکہ تجارت کر سکے، پھر جب قرض کی ادائیگی کا وقت آپہنچا جہاز کو تلاش کرنے لگا تاکہ قرض دینے والے تک پہنچ جائے، لیکن اسے کوئی جہاز نہ ملا، چنانچہ اس نے ایک لکڑی اٹھا لی اور اس کو کریدا ایک ہزار اشرفیاں اور ایک خط اس میں رکھا جس میں لکھا ’’ فلان کی جانب سے فلان کے لیے خط۔ بے شک میں نے اس میں تمہارا مال اس نمائندہ وکیل کو سونپ دیا ہے جس کو تم نے میرے لیے وکیل تسلیم کیا تھا‘‘! پھر اس بنائے گئے سوراخ کو درست کیا ہے اور اس لکڑی کو لے کر سمندر کے قریب آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ تو جانتا ہے میں نےفلاں شخص سے ایک ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے گواہ مانگا تھا میں نے کہا تھا اللہ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہ اس پر راضی ہو گیا تھا، اس نے مجھ سے ضمانت بھی مانگی تھی، چنانچہ میں نے کہا کہ اللہ ہی ضمانت کے لیے کافی ہے چنانچہ وہ اس پر راضی ہو گیا، میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز ملے اور میں میرے ذمہ جو ہے وہ ادا کردوں، لیکن مجھے جہاز نہ مل سکا، پس میں یہ امانت تیرے سپرد کرتا ہوں، اس نے یہ کہہ کر اس لکڑی کو سمندر میں پھینک دی یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب گئی، پھر وہ لوٹ کر چلا آیا، لیکن وہ ہمیشہ ایک ہزار دینار کے ساتھ جہاز کو تلاش کرتا رہا ، اس گمان کے ساتھ کہ اس نے پہلے جو کیا وہ اس کے لیے کافی نہیں ہے۔یہاں قرض دینے والا اپنے وعدہ کیے ہوئے وقت پر نکلا تاکہ دیکھا شاید کوئی جہاز اس کا وہ مال لے کر آئے جسے اس نے فلاں شخص کو قرض دیا تھا کہ شاید ہو سکتا ہے کہ اس شخص نے کسی سے وہ مال دے کر بھیجا ہو یا وہ خود لے کر آیا ہو لیکن اسے کوئی جہاز نظر نہیں آیا، چنانچہ اتنے میں اسے ایک لکڑی دکھائی دی جس میں مال رکھا ہو تھا، اس نے اسے اپنے لیے لے لیا تاکہ اسے ایندھن کے طور پر استعمال کرے جب کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس میں مال چھپا ہے، جب اس نے آرے سے اس کو چیرا تو اسے اشرفیاں اور قرضدار کا لکھا ہوا خط دستیاب ہوا۔
پھر وہ شخص جس نے قرض لیا تھا وہ مزید ایک ہزار اشرفیاں لے کر آیا اور قرض دینے والے سے کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! جہاز کو تلاش کرنے کی میں نے بہت کوشش کی تاکہ آپ کی رقم واپس لا سکوں لیکن جس جہاز میں آیا اس سے پہلے کوئی جہاز نہ ملا، تب اس قرض دینے والے نے کہا تو نے میرے پاس کچھ بھیجا تھا؟، اس نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جس جہاز پر میں آیا ہوں اس سے قبل مجھے کوئی جہاز نہ ملا، قرض دینے والے نے کہا اللہ نے تمہاری جانب سے وہ ایک ہزار دینار ادا کر دیے ہیں جس کو تم نے لکڑی میں رکھ کر بھیجا تھا، چنانچہ وہ شخص سرخ روئی کے ساتھ دوسرے ایک ہزار دینار جسے وہ ساتھ لایا تھا لوٹ آیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8318

 
 
Hadith   1423   الحديث
الأهمية: يحشر الناس يوم القيامة -أو قال: العباد- عُرَاةً غُرْلًا بهما


Tema:

قیامت کے دن لوگ، یا فرمایا بندے برہنہ، غیر مختون اور خالی ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-، قال: بلغني حديثٌ عن رجل سمعه من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فاشتريتُ بعيرًا، ثم شَدَدْتُ عليه رَحْلي، فَسِرْتُ إليه شهرا، حتَى قَدِمتُ عليه الشَّام فإذا عبد الله بن أُنيس، فقُلت للبوَّاب: قل له: جابر على الباب، فقال: ابن عبد الله؟ قلت: نعم، فخرج يَطَأُ ثوبه فَاعْتَنَقَنِي، وَاعْتَنَقْتُهُ، فقلت: حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سمعتَه من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في القِصَاص، فخشيتُ أن تموت، أو أموت قبل أنْ أسْمَعَه، قال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «يُحْشَرُ الناسُ يوم القيامة -أو قال: العباد- عُراةً غُرْلًا بُهْمًا» قال: قلنا: وما بُهْمًا؟ قال: «ليس معهم شيء، ثم يناديهم بصوت يَسْمَعُه مَن بَعُدَ كما يسمعه مَن قَرُبَ: أنَا الملك، أنا الدَيَّان، ولا ينبغي لأحد من أهل النار، أن يدخل النارَ، وله عِنْد أحد من أهل الجنة حقٌّ، حتى أَقُصَّه منه، ولا ينبغي لأحد مِنْ أهل الجنَّة أَن يَدْخُل الجنَّةَ، وِلَأحَد مِن أهْل النَّار عِنْدَه حقٌّ، حتى أقصَّه منه، حتَّى اللَّطْمَة» قال: قلنا: كيف، وإِنَّا إِنَّما نَأْتِي اللهَ عزَّ وجّلَّ عُراةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قال: «بِالحَسَنَات والسيِّئَات».

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک ایسی حدیث پہنچی جسے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، تو میں نے ایک اونٹ خریدا، پھر میں نے اس پر اپنا رخت سفر باندھا، اور ان کا قصد کر کے ایک مہینہ چلتا رہا، یہاں تک کہ میں شام پہنچ گیا، وہاں مطلوبہ صحابی عبداللہ بن انیس سے ملاقات ہوئی میں نے چوکیدار سے کہا ان سے جا کر کہو دروازے پر جابر ہے، انہوں نے پوچھا عبد اللہ کے لڑکے؟ میں نے کہا : ہاں ، چنانچہ وہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور مجھے گلے سے لگالیا اور میں نے بھی انہیں گلے سے لگا لیا، میں نے کہا کہ مجھے قصاص کے متعلق ایک حدیث کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے تو مجھے خوف ہوا کہ اس حدیث کے سننے سے پہلے آپ یا میں مر نہ جاؤں، انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگ، یا کہا بندے برہنہ، غیرمختون اور بہم اٹھائے جائیں گے“، کہتے ہیں : ہم نے پوچھا ” بُهْمًا“ کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو۔
پھر ان کو ایسی آواز سے پکار ے گا جسے وہ دور سے بالکل اسی طرح سنے گا جیسے اسے وہ قریب سے سنتا ہے کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں میں بدلہ لینے والا ہوں کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پرحق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلا دوں اورکسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، حتی کہ ایک طمانچے کا بدلہ کیوں نہ ہو۔ ہم نے پوچھا کہ جب ہم اللہ کے سامنے برہنہ، غیرمختون اور خالی ہاتھ حاضر ہوں گے تو کیسا لگے لگا؟ تو (نبی ﷺ نے) جواب دیا کہ نیکی اور بدی کے ذریعہ۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جابر بن عبد الله الأنصاري أنه علم أن عبد الله بن أُنيس سمع حديثًا من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لم يسمعه، فاشترى جملًا ووضع عليه أمتعته، ثم سافر شهرا، حتى قَدِم الشام فدخل على عبد الله بن أُنيس، فقال للبوَّاب: قل له: جابر على الباب، فقال عبد الله بن أُنيس: ابن عبد الله؟ قال جابر: نعم، فخرج إليه مسرعًا يدوس على ثوبه من سرعته، واعتنقا، فقال له جابر: إني علمت أنك سمعتَ من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حديثًا في القَصَاص، فخفت أن تموت، أو أموت قبل أن أسمعه، فقال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «يُحْشَرُ الناسُ يوم القيامة عُراةً غُرْلًا بُهْمًا» قال: قلنا: وما بُهْمًا؟ قال: «ليس معهم شيء» أي: يجمع الله الناس يوم القيامة في مكان واحد ليحاسبهم، ويجزيهم بعملهم، ويكونون حينذاك عراة وغير مختونين، كما ولدتهم أمهاتهم، ليس معهم شيء من الدنيا.
ثم قال: «ثم يناديهم بصوت» فالنداء لا يكون إلا بصوت، ولا يعرف الناس نداء بدون صوت، فذكر الصوت هنا لتأكيد النداء، وهذا في غاية الصراحة والوضوح في أن الله يتكلم بكلام يُسمع منه تعالى، وأن له صوتاً، ولكن صوته لا يشبه أصوات خلقه، ولهذا قال: «يسمعه من بعد كما يسمعه من قرب» فهذه الصفة تختص بصوته تعالى، وأما أصوات خلقه فيسمعها القريب منها فقط، حسب قوة الصوت وضعفه، وقد كثرت النصوص المثبتة لذلك، منها قوله تعالى: {ِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا}، وقوله: {وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا}، وقوله: {وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ}.
ثم قال: «أنا الملك أنا الديان» يعني: أن النداء الذي يسمعه أهل الموقف كلهم يسمعه من بعد كما يسمعه من قرب، هو بقوله: «أنا الملك أنا الديان ...»، فهو تعالى الملك الذي بيده ملك السماوات والأرض، ومن فيهن، وهو الديان الذي يجازي عباده بعملهم، من عمل خيراً جازاه بأفضل مما عمل، ومن عمل شراً جازاه بما يستحق.
ثم يقول تعالى: «ولا ينبغي لأحد من أهل النار، أن يدخل النارَ، وله عند أحد من أهل الجنة حقٌّ، حتى أقصَّه منه، ولا ينبغي لأحد من أهل الجنة أن يدخل الجنةَ، ولأحد من أهل النار عنده حقٌّ، حتى أقصَّه منه، حتى اللطمة» أي: أن الله عز وجل يحكم بين عباده بالعدل، فيأخذ من الظالم حق المظلوم، فلا يدخل أحد من أهل النار النارَ وله عند أهل الجنة حق، حتى يمكنه من أخذ حقه، وهذا من تمام العدل فإن الكافر والظالم مع أنهما سيدخلان النار إلا أنهم لن يُظلموا، فإذا كان لهم حق عند أحد من أهل الجنة أخذوه منه، وكذلك الحال في أهل الجنة.
فقال الصحابة للنبي -صلى الله عليه وسلم-: قلنا: كيف سيوفي الناس الحقوق وليس معهم شيء من الدنيا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «بالحسنات والسيئات» أي: إنما يحدث توفية الحقوق بأن يأخذ المظلوم من حسنات الظالم، فإذا فنيت حسنات الظالم أُخذ من سيئات المظلوم فوُضعت على سيئات الظالم ثم طُرح في النار، كما جاء في الحديث.
580;ابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما خبر دے رہے ہیں کہ انہیں اس بات کا علم ہوا کہ عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے رسول ﷺ سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جسے انہوں نے نہیں سنی ہے، تو انہوں نے ایک اونٹ خریدا، پھر اس پر اپنا رخت سفر باندھا اور ایک مہینہ تک سفر کرتے رہے یہاں تک کہ شام پہنچے اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کےپاس جاکر دربا ن سے کہا : کہہ دو جابر دروازہ پر ہیں، عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے پوچھا عبد اللہ کے لڑکے؟جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، پس وہ تیزی سے نکلے اور اسی تیزی کی وجہ سے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے نکلے، اوردونوں گلے ملے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ : مجھے قصاص کے متعلق ایک حدیث کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے آپ یا میں مر نہ جاؤں، انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگ، یا فرمایا: بندے برہنہ، غیرمختون اور بہم اٹھائے جائیں گے“، کہتے ہیں : ہم نے پوچھا ” بُهْمًا“ کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ یعنی اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گا تاکہ ان سے حساب لے اور انہیں ان کے عمل کے اعتبا سے بدلہ دے، اس وقت وہ سب ننگے اور غیر مختون ہوں گے جیسا کہ انہیں ان کی ماؤں نے جنا تھا، ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی پھر فرمایا: ”پھر ان کو ایسی آواز سے پکار ے گا“ پکار بغیر آواز کے نہیں پائی جاتی اور بغیر آواز کے پکار سے لوگ آگاہ نہیں ہو سکتے، تو یہاں پر آواز کا ذکر ندا کی تاکید کے لیے ہے اور یہ بات بالکل صریح اور واضح ہے کہ اللہ تعالی ایسا کلام فرماتا ہے جسے سنا جاتا ہے اور اس کلام میں آواز ہوتی ہے لیکن اس کی آواز مخلوق کی آواز کے مشابہ نہیں ہے اسی لیے فرمایا: ”اسے وہ بالکل اسی طرح سنے گا جیسے اسے وہ قریب سے سنتا ہے“۔ یہ صفت اللہ تعالی کی آواز کے ساتھ خاص ہے اور مخلوق کی آواز کو آواز کی قوت و ضعف کے لحاظ سےصرف قریب سے سنا جا سکتا ہے اور اس کے ثبوت میں کثرت سے نصوص وارد ہیں، اس میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ فرمان:﴿وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا﴾ ”اور ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا؟“۔ اور اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ ”ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور رازگوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا“۔ نیز اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اور جب تمہارے رب نے موسی کو آواز دی کہ تو ظالم قوم کے پا س جا“۔
پھر فرمایا: ”میں بادشاہ ہوں میں بدلہ دینے والا ہوں“ یعنی محشر میں کھڑے ہوئے سبھی جس ندا کو سنیں گے وہ، اس ندا کو دور کی مسافت سے اسی طرح سنیں گے جس طرح وہ قریبی مسافت سے سنتے ہیں۔
”میں بادشاہ ہوں میں بدلہ دینے والا ہوں“ پس وہی بادشاہ ہے جس کے ہاتھ میں آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بادشاہت ہے، وہ الديّان ہے جو بندوں کو ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا، پس جس نے خیر کے کام کیے اسے اس کے عمل سے بہتر بدلہ دیگا اور جس نے شر کے کام کیے اسے اس کے مستحق بدلہ دے گا۔
پھر فرمایا: ”کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، اور کسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، یہاں تک کہ تھپڑ کا بدلہ بھی۔ یعنی: اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور ظالم سے مظلوم کا حق لے گا، چنانچہ کوئی جہنمی اس حال میں جہنم میں داخل نہیں ہو گا کہ اس کا کسی جنتی پرحق ہو، یہاں تک کہ اس کا حق اس سے دلائے گا، اور یہی مکمل عدل کا تقاضا ہے کیونکہ کافر اور ظالم باوجود اس کے کہ وہ جہنم میں جائیں گے مگر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اگر جنت والوں میں سے کسی کے پاس اس کا حق ہوگا تو ان سے لے کر اس کو دلایا جائے گا اور بالکل اسی طرح اہل جنت کے ساتھ کیا جائے گا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے پوچھا: لوگوں کو کیسے ان کے حقوق دلائے جائیں گے جب کہ ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی؟۔
تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اور بدی کے ذریعہ“ یعنی حقوق کی ادائیگی اس طرح ہوگی کہ مظلوم ظالم کی نیکیاں لے لے گا اور جب ظالم کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوم کے گناہوں کو لے کر ظالم کے گناہوں پر لاد دیا جائے گا پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8319

 
 
Hadith   1424   الحديث
الأهمية: إذا دخل أهل الجنة الجنة ينادي مناد: إن لكم أن تحيوا، فلا تموتوا أبدًا، وإن لكم أن تصحوا، فلا تسقموا أبدًا، وإن لكم أن تشبوا فلا تهرموا أبدًا، وإن لكم أن تنعموا، فلا تبأسوا أبدًا


Tema:

جب اہلِ جنت، جنت میں چلے جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: تم ہمیشہ زندہ رہو گے، تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے۔ تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، تم ہمیشہ خوش حال رہو گے، اب کبھی تم بدحال نہیں ہو گے۔

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «إذا دخلَ أهلُ الجنةِ الجنةَ يُنَادِي مُنادٍ: إن لكم أن تَحْيوا، فلا تَموتُوا أبداً، وإن لكم أن تَصِحُّوا، فلا تَسقَمُوا أبداً، وإن لكم أن تَشِبُّوا فلا تَهرَمُوا أبداً، وإن لكم أن تَنعَمُوا، فلا تَبْأسُوا أبداً».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اہلِ جنت، جنت میں چلے جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: تم ہمیشہ زندہ رہو گے، تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے۔ تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، تم ہمیشہ خوش حال رہو گے، اب کبھی تم بدحال نہیں ہو گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من نعيم الجنة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبر أن أهل الجنة ينادي فيهم مناد: "إن لكم أن تحيوا فلا تموتوا أبداً، وإن لكم أن تصحوا فلا تسقموا أبداً" وذكر الحديث، أي: أنهم في نعيم دائم لا يخافون الموت ولا المرض ولا كبر السن الموجب للضعف، ولا انقطاع ما هم فيه من النعيم، فهذا الحديث وغيره يوجب للإنسان الرغبة في العمل الصالح الذي يتوصل به إلى هذه الدار.
606;بی ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہو گی کہ اہلِ جنت جب جنت میں چلے جائیں گے تو ان میں ایک پکار لگانے والا پکار کر کہے گا: ”تم ہمیشہ زندہ رہو گے، تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے...“ یعنی وہ دائمی نعمت میں ہوں گے۔ نہ تو انہیں موت کا خوف ہو گا اور نہ ہی مرض اور بڑھاپے کا جو کمزوری کا باعث ہوتا ہے اور نہ ہی جس نعمت میں وہ ہوں اس کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہو گا۔ یہ حدیث اور اس طرح کی دیگر حدیثیں انسان کے لیے عملِ صالح کی رغبت کو واجب کرتی ہیں جس کے ذریعہ وہ اس جگہ(جنت) تک پہنچ سکتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8341

 
 
Hadith   1425   الحديث
الأهمية: إن أدنى مقعد أحدكم من الجنة أن يقول له: تمن، فيتمنى ويتمنى فيقول له: هل تمنيت؟ فيقول: نعم، فيقول له: فإن لك ما تمنيت ومثله معه


Tema:

تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟ وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی پوری کی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إنَّ أدنى مَقْعَدِ أحدِكم من الجنة أن يقول له: تَمَنَّ، فيتمنَّى ويتمنَّى فيقول له: هل تمنَّيتَ؟ فيقول: نعم، فيقول له: فإن لك ما تمنَّيتَ ومثله معه».

ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تونے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے دی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن أقل أهل الجنة ملكًا وأنزلهم مرتبة مَن ينال أمانيه كلها بحيث لا تبقى له أمنية إلا تحققت، حيث يقول الله له: «تمن» فيتمنى ما يشاء، حتى إذا تمنى جميع أمانيه، قال الله تعالى له: «فإن لك ما تمنيت ومثله معه» زيادة وفضلًا وإكرامًا من الله -تعالى-.
580;نتيوں ميں سے ملكيت و مرتبے كے اعتبار سے سب سے کم تر وہ ہوگا جس کی سب خواہشات پوری ہوں گی بایں طور کہ اس کی کوئی ایسی خواہش نہیں رہے گی جو پوری نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ ’خواہش کر‘، چنانچہ وہ جو چاہے گا خواہش کرے گا یہاں تک کہ جب اپنی سب خواہشات کا اظہار کرچکے گا تو اللہ تعالی اس سے فرمائےگا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے دی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔ ایسا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑھا کر دینے اور ازراہ نوازش و کرم ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8342

 
 
Hadith   1426   الحديث
الأهمية: وما لنا لا نرضى يا ربنا وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك؟! فيقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك؟ فيقولون: وأي شيء أفضل من ذلك؟ فيقول: أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدًا


Tema:

بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو دائمی کردوں گا اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- قال: «إنَّ الله -عزَّ وجل- يقول لأهل الجنة: يا أهل الجنَّة، فيقولون: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، والخير في يَدَيْكَ، فيقول: هل رَضِيتُمْ؟ فيقولون: وما لنَا لا نَرضَى يا ربَّنَا وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا ما لم تُعْطَ أحدا من خلقك؟! فيقول: ألاَ أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ من ذلك؟ فيقولون: وأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ من ذلك؟ فيقول: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي، فَلاَ أَسْخَطُ عليكم بعده أبدًا».

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے، اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو دائمی کردوں گا اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔

يصوِّر لنا الحديث الشريف حوارًا سيكون في الجنة يوم القيامة بين الله -تعالى- والمؤمنين، وهو أن الله -تعالى- ينادي على المؤمنين ويسألهم  بعد دخولهم إياها:
(يا أهل الجنة، فيقولون لبيك) أي: إجابة بعد إجابة.
(يا ربنا وسعديك) بمعنى الإسعاد، وهو الإعانة، أي: نطلب منك إسعادا بعد إسعاد.
(والخير في يديك) أي: في قدرتك، ولم يذكر الشر؛ لأن الأدب عدم ذكره صريحا.


فيقول -تعالى- لهم:
(هل رضيتم؟) بما صرتم إليه من النعيم المقيم.
(فيقولون وما لنا لا نرضى) الاستفهام لتقرير رضاهم، أي نعم قد رضينا، (وقد أعطيتنا) وفي رواية وهل شيء أفضل مما أعطيتنا؟ أعطيتنا (ما لم تعط أحدا من خلقك) الذين لم تدخلهم الجنة.
فيقول -تعالى-: (ألاَ أُعطِيكم أفضل من ذلك؟ فيقولون يا رب، وأي شيء أفضل من ذلك، فيقول أُحِل عليكم رِضْوَاني) أي: رضائي.
(فلا أسخط عليكم بعده أبدا) فالله -تعالى- لا يسخط على أهل الجنة.

یہ حدیث قیامت والے دن جنت میں اللہ تعالیٰ اور مومنین کی آپس میں ہونے والی گفتگو کی تصویر کشی کر رہی ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو جنت میں داخل کرنے کے بعد آواز دیں گے اور ان سے پوچھیں گے ”لَبَّيكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ“ یعنی جواب پر جواب ”وَسَعْدَيْكَ“بمعنی سعادت اور اعانت ہے، یعنی ہم تجھ سے خوش بختی پر خوش بختی کے خواہش مند ہیں، ”وَالخَيْرُ في يَديْكَ“ یعنی تیری قدرت میں ہے اور ادب کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے شر کا تذکرہ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم راضی ہو؟ یعنی جو تمہیں ہمیشہ کی نعمتیں ملی ہیں کیا تم ان پر راضی ہو؟، ”ہم بھلا کیوں نہ راضی ہوں“ یہ استفہام ان کی رضا مندی کے اقرار کے لیے ہے، یعنی ہاں! بیشک ہم راضی ہیں ”یقینا تو نے ہمیں عطا کیا ہے“ اور ایک روایت میں ہے کہ تو نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے اب اس سے افضل چیز کیا ہو سکتی ہے؟ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کر دیا، وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا یعنی جو ان لوگوں کو نہیں ملا جن کو تو نے جنت میں داخل نہیں کیا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا؟، جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو دائمی کردوں گا یعنی میری رضا اور خوشنودی، اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا، اللہ تعالیٰ اہل جنت سے کبھی ناراض نہیں ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8343

 
 
Hadith   1427   الحديث
الأهمية: إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله -تبارك وتعالى-: تريدون شيئا أزيدكم؟ فيقولون: ألم تبيض وجوهنا؟ ألم تدخلنا الجنة وتنجنا من النار؟ فيكشف الحجاب، فما أعطوا شيئا أحب إليهم من النظر إلى ربهم


Tema:

جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، (اس وقت) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں ؟ وہ جواب دیں گے:کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے ! کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔

عن صهيب بن سنان -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله -تبارك وتعالى-: تريدون شيئا أزيدكم؟ فيقولون: ألم تبُيِّضْ وُجُوهنا؟ ألم تُدْخِلْنَا الجنة وتُنَجِّنَا من النار؟ فيكشف الحِجَاب، فما أُعْطُوا شيئا أحَبَّ إليهم من النظر إلى ربهم».

589;ہیب بن سان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، (اس وقت) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں؟ وہ جواب دیں گے:کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے! کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين لنا الحديث الشريف جانباً من النعيم الذي يكون للمؤمنين يوم القيامة في الجنة، وهو حوار بينهم وبين الله -عزوجل- بعد دخولهم الجنة بأن يسألهم -تعالى- عما يتمنون زيادته لنعيمهم، فيُجيبون بأنهم في أنواع النعيم من تبييض الوجوه وإدخالهم الجنة ونجاتهم من النار، فيعطيهم الله النعيم الذي ليس بعده نعيم وهو كشف الحجاب الذي بينهم وبين الله -تعالى- فينظرون لوجهه الكريم ويكون أفضل ما ينعم به عليهم في الجنة.
740;ہ حدیث شریف اس نعمت کو بیان کرر ہی ہے جو قیامت کے دن جنت میں مومنین کو ملے گی یعنی جنت میں چلے جانے کے بعد ان کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین گفتگو ہو گی بایں طور کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ وہ انہیں ملنے والی نعمتوں پر مزید کس شے کی تمنا کرتے ہیں؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو انواع و اقسام کی نعمتوں میں ہیں کہ ان کے چہروں کو منور کر دیا گیا ہے، انہیں جنت میں داخل کیا گیا ہے اور انہیں جہنم سے نجات دی گئی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ انہیں ایسی نعمت دے گا جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہو گی یعنی ان کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین موجود حجاب کو اٹھا دیا جائے گا اور وہ اللہ کے چہرۂ مبارک کا دیدار کریں گے۔ اہلِ جنت جن نعمتوں میں ہوں گے ان میں یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8344

 
 
Hadith   1428   الحديث
الأهمية: أنا سيد الناس يوم القيامة، هل تدرون مم ذاك؟


Tema:

میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: كنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في دعوة، فَرُفِعَ إليه الذِّرَاعُ، وكانت تعجبه، فَنَهَسَ منها نَهْسَةً وقال: «أنا سَيِّدُ الناس يوم القيامة، هل تدرون مِمَّ ذاك؟ يجمع الله الأولين والآخرين في صَعِيدٍ واحد، فيُبْصرُهُم الناظر، يُسْمِعُهُمُ الداعي، وتَدْنُو منهم الشمس، فيبلغ الناس من الغَمِّ والكَرْبِ ما لا يُطيقُون ولا يحتملون، فيقول الناس: ألا ترون ما أنتم فيه إلى ما بَلَغَكُم، ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: أبوكم آدم. فيأتونه فيقولون: يا آدم أنت أبو البشر، خلقك الله بيده، ونفخ فيك من روحه، وأمر الملائكة فسجدوا لك، وأسكنك الجنة، ألا تشفع لنا إلى ربك؟ ألا ترى إلى ما نحن فيه وما بلغنا؟ فقال: إن ربي غضب اليوم غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وإنه نهاني عن الشجرة فعصيتُ، نفسي نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى نوح، فيأتون نوحًا فيقولون: يا نوح، أنت أول الرسل إلى أهل الأرض، وقد سماك الله عبدًا شكورًا، ألا ترى إلى ما نحن فيه، ألا ترى إلى ما بلغنا، ألا تشفع لنا إلى ربك؟ فيقول: إن ربي غضب اليوم غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه قد كانت لي دعوة دعوتُ بها على قومي، نفسي نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى إبراهيم، فيأتون إبراهيم فيقولون: يا إبراهيم، أنت نبي الله وخليله من أهل الأرض، اشْفَعْ لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه؟ فيقول لهم: إن ربي قد غضب اليوم غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإني كنت كذبت ثلاث  كَذَبَات؛ نفسي نفسي نفسي، اذْهَبُوا إلى غيري، اذْهَبُوا إلى موسى، فيأتون موسى فيقولون: يا موسى أنت رسول الله، فضلك الله برسالاته وبكلامه على الناس، اشْفَعْ لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه؟ فيقول: إن ربي قد غضب اليوم غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإني قد قتلت نفسًا لم أُومَرْ بقتلها، نفسي نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري؛ اذهبوا إلى عيسى. فيأتون عيسى فيقولون: يا عيسى، أنت رسول الله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه، وَكَلَّمْتَ الناس في المهد، اشْفَعْ لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه؟ فيقول عيسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، ولم يذكر ذنبًا، نفسي نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى محمد -صلى الله عليه وسلم-».
وفي رواية: «فيأتوني فيقولون: يا محمد أنت رسول الله وخاتم الأنبياء، وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، اشْفَعْ لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه؟ فأنْطَلِقُ فآتي تحت العرش فأقع ساجدًا لربي، ثم يفتح الله عليَّ من مَحَامِدِه وحُسْنِ الثناء عليه شيئًا لم يفتحه على أحد قبلي، ثم يقال: يا محمد ارفع رأسك، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فأرفع رأسي، فأقول: أمتي يا رب، أمتي يا رب، أمتي يا رب. فيقال: يا محمد أدخلْ من أمتك من لا حساب عليهم من الباب الأيمن من أبواب الجنة، وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب». ثم قال: «والذي نفسي بيده، إن ما بين الْمِصْرَاعَيْنِ من مصاريع الجنة كما بين مكة وهَجَر، أو كما بين مكة وبُصْرَى».

ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں تھے کہ آپ ﷺک ی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست (کا گوشت) اٹھا کر آپ کو پیش کیا گیا کیونکہ آپ ﷺکو مرغوب تھا، آپ ﷺنے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اس سے تناول کیا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہموار چٹیل میدان میں جمع کرے گا۔ ایک دیکھنے والا ان سب کو دیکھے گا اور ایک پکارنے والا ان سب کو اپن آواز سنا سکے گا۔ سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور کرب لاحق ہو گا جو ان کی طاقت سے زیادہ اور ناقابل برداشت ہو گا۔ لوگ ایک دوسرے کہیں گے: کیا دیکھتے نہیں تم کس حالت میں ہو؟ کیا دیکھتے نہیں تم پر کیسی مصیبت آپڑی ہے؟ کیا تم کوئی ایسا شخص تلاش نہیں کرتے جو اللہ کے ہاں تمہاری سفارش کردے؟، چنانچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ اپنے باپ آدم کے پاس چلو تو وہ آدم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے :اے آدم (علیہ السلام)! آپ سب انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟، آدم جواب دیں گے کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا اور یقیناً اس نے مجھے ایک خاص درخت ( کےقریب جانے) سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی تھی، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے ۔تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح(علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ نوح (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے نوح(علیہ السلام)! آپ اہل زمین کی طرف بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟ وہ انہیں جواب دیں گے کہ آج میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے کبھی آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے ایک دعا (خاص کی گئی) تھی وہ میں نے اپنی قوم کےخلاف مانگ لی۔ (آج تو ) میری اپنی جان (پر بنی) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ۔ تم ابراہیم (علیہ السلام)کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام)کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض گزار ہوں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟ تو ابراہیم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے کہ میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا، جب کہ میرے اپنے تین جھوٹ ہیں، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ (علیہ السلام)کے پاس جاؤ۔ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام)! آپ اللہ کےرسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغام اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے لوگوں پر فضیلت عطا کی، اللہ کے حضور ہمارے لیے سفارش کیجیے، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں آیا اور نہ اس کے بعد آئے گا۔ میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں جس کے قتل کا مجھے حکم نہ دیا گیا تھا۔ میری جان (کا کیا ہو گا) میری جان، (کا کیا ہو گا)، میری جان (کا کیا ہو گا) میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام)! آپ اللہ کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف اِلقا کیا اور اس کی روح ہیں، اس لیے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، آپ ہماری حالت نہیں دیکھتے جس میں ہم ہیں ؟ تو عیسیٰ (علیہ السلام) انہیں جواب دیں گے کہ میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا، وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، (کہیں گے مجھے) اپنی جان کی فکر ہے، اپنی جان کی فکر ہے، اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ایسا کرو تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے، ایک روایت میں ہے کہ وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد (ﷺ)! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں، اپنے رب کےحضور ہماری سفارش فرمائیں، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟، تو میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی ایسی تعریفوں اور اپنی ایسی بہترین ثنا (کے دروازے) کھول دے گا اور انہیں میرے دل میں ڈالے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں کھولے گئے ہوں گے، پھر (اللہ ) فرمائےگا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، مانگیں، آپ کو ملے گا، سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول ہو گی۔ تو میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا ”اے میرے رب ! میری امت! میری امت! تو کہا جائے گا! اے محمد! آپ کی امت کے جن لوگوں کا حساب و کتاب نہیں ہونا ہے، انہیں جنت کے دروازے میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیں اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں (بھی) لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ پھر فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ)کی جان ہے! جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا (فاصلہ) ہے جتنا مکہ اور (شہر) ہجر یا مکہ اور بصری کے درمیان ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- أنهم كانوا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في دعوة طعام فقدمت إليه الذراع فقضم منها قضمة بأسنانه وكانت تعجبه ذراع الشاة؛ لأن لحمها أطيب ما في الجسم من لحم لين وسريع الهضم ومفيد، وكانت تعجب النبي -صلى الله عليه وسلم- فنهس منها نهسة ثم حدثهم هذا الحديث العجيب الطويل، فقال: أنا سيد ولد آدم يوم القيامة، ولا شك أنه -صلى الله عليه وسلم- سيد ولد آدم وأشرف بني الإنسان عند الله -تبارك وتعالى-.
ثم قال لهم: أتدرون مم ذاك؟ قالوا: لا يا رسول الله.
فساق لهم بيان شرفه وفضله -صلى الله عليه وسلم- على جميع بني آدم؛  فذكر أن الناس يحشرون يوم القيامة في أرض واسعة مستوية أولهم وآخرهم، كما قال -عز وجل-: (قل إن الأولين والآخرين لمجموعون إلى ميقات يوم معلوم) يجمعون في أرض واحدة، والأرض يومئذ ممدودة ليست كهيئتها اليوم كروية، إذا مددت بصرك لا ترى إلا ما يواجهك من ظهرها فقط، أما يوم القيامة فإن الأرض تمد مد الجلد وليس فيها جبال ولا أودية ولا أنهار ولا بحار تمد مدًّا واحدًا. والذين فيها يسمعهم الداعي وينفذهم البصر، يعني لو تكلم الإنسان يسمعهم آخر واحد، والبصر يراهم؛ لأنه ليس بها تكور حتى يغيب بعض عن بعض، ولكن كلهم في صعيد واحد.   في ذلك اليوم تدنو الشمس من الخلائق على قدر ميل، ويلحقهم من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون؛ فتضيق بهم الأرض ويطلبون الشفاعة لعل أحدا يشفع فيهم عند الله -جل وعلا-، ينقذهم من هذا الموقف العظيم على الأقل.   فيلهمهم الله -عز وجل- أن يأتوا إلى آدم أبي البشر؛ فيأتون إليه ويبينون فضله، لعله يشفع لهم عند الله -عز وجل- يقولون له: أنت آدم أبو البشر كل البشر من بني آدم الذكور والإناث إلى يوم القيامة، خلقك الله بيده كما قال -تعالى- منكرًا على إبليس: {ما منعك أن تسجد لما خلقت بيدي}، وأسجد لك ملائكته، قال الله -تعالى-: (وإذ قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا} وعلمك أسماء كل شيء، قال الله -تعالى-: {وعلم آدم الأسماء كلها} ونفخ فيك من روحه، قال الله -تعالى-: {فإذا سويته ونفخت فيه من روحي فقعوا له ساجدين}.
كل هذا يعلمه الخلق، ولاسيما أمة محمد الذين أعطاهم الله -تعالى- من العلوم ما لم يُعطِ أحدًا من الأمم، فيعتذر ويقول: إن ربي غضب اليوم غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله قط ثم يذكر خطيئته، وهي أن الله -سبحانه وتعالى- نهاه أن يأكل من شجرة فأكل، قال الله -تعالى-: {ولا تقربا هذه الشجرة فتكونا من الظالمين}، فعوقب بأن أخرج من الجنة إلى الأرض لحكمة يريدها الله -عز وجل- فيذكر معصيته، ويقول: نفسي نفسي نفسي. يعني عسى أن أنقذ نفسي ويؤكد ذلك ويكرره ثلاث مرات، اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى نوح، ونوح هو الأب الثاني للبشرية؛ لأن الله أغرق جميع أهل الأرض الذين كذبوا نوحًا {وما آمن معه إلا قليل}، ولم يستمر عقب غيره، فيقولون: اذهبوا إلى نوح فيأتون إلى نوح؛ لأنهم في شدة وضيق فيأتونه ويذكرون نعم الله عليه، وأنه أول رسول أرسله الله إلى أهل الأرض، وأن الله سماه عبدًا شكورًا، ولكنه يقول كما قال آدم بأن الله -عز وجل- غضب اليوم غضبًا لم يغضب مثله قط، ولن يغضب مثله ثم ذكر دعوته التي دعا بها على قومه: {رب لا تذر على الأرض من الكافرين ديارًا} وفي رواية أنه يذكر دعوته التي دعا بها لابنه {فقال رب إن ابني من أهلي وإن وعدك الحق وأنت أحكم الحاكمين قال يا نوح إنه ليس من أهلك إنه عمل غير صالح فلا تسألن ما ليس لك به علم إني أعظك أن تكون من الجاهلين}، يذكر ذنبه والشافع لا يشفع إلا إذا كان ليس بينه وبين المشفوع عنده ما يوجب الوحشة، والمعصية بين العبد وربه توجب الوحشة بينهما وخجله منه، فيذكر معصيته فيقول نفسي نفسي نفسي، ويحيلهم إلى إبراهيم -صلى الله عليه وسلم-، فيأتي الناس إليه ويقولون: أنت خليل الله في الأرض. ويذكرون من صفاته، ويطلبون منه أن يشفع لهم عند ربه، فيعتذر ويقول إنه كذب ثلاث كذبات، ويقول: نفسي نفسي نفسي.
والكذبات هي قوله: إني سقيم. وهو ليس بسقيم لكنه قال متحديا لقومه الذين يعبدون الكواكب.
والثانية قوله: {بل فعله كبيرهم هذا} أي الأصنام، وهو ما فعل وإنما الذي فعله هو إبراهيم -صلى الله عليه وسلم- لكن ذكر ذلك على سبيل التحدي لهؤلاء الذين يعبدون الأوثان.
والثالثة قوله للملك الكافر: هذه أختي يعني زوجته ليسلم من شره، وهي ليست كذلك.
هذه كذبات في ظاهر الأمر؛ لكنها في الحقيقة وبمناسبة تأويله -صلى الله عليه وسلم- لم تكن كذبات؛ لكنه لشدة ورعه وحيائه من الله -تبارك وتعالى- اعتذر بهذا، ويقول: نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى موسى، فيأتون إلى موسى ويذكرون صفاته، وأن الله -تعالى- كلمه تكليمًا واصطفاه على أهل الأرض برسالاته وكلامه، فيذكر ذنبًا ويعتذر بأنه قتل نفسًا قبل أن يؤذن له في قتلها، وهو القبطي الذي كان في خصام مع رجل من بني إسرائيل، وموسى من بني إسرائيل -صلى الله عليه وسلم- والقبطي من أهل فرعون {فاستغاثه الذي من شيعته على الذي من عدوه فوكزه موسى فقضى عليه} دون أن يؤمر بقتله، فرأى -صلى الله عليه وسلم- أن هذا مما يحول بينه وبين الشفاعة للخلق حيث قتل نفسا لم يؤمر بقتلها، وقال: نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى عيسى. فيأتون إلى عيسى ويذكرون من منة الله عليه أنه نفخ فيه من روحه وأنه كلمته ألقاها إلى مريم وروح منه؛ لأنه خلق بلا أب، فلا يذكر ذنبًا ولكنه يحيلهم إلى محمد -صلى الله عليه وسلم-، وهذا شرف عظيم لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- حيث كان أربعة من الأنبياء يعتذرون بذكر ما فعلوه وواحد لا يعتذر بشيء، ولكن يرى أن محمدا -صلى الله عليه وسلم- أولى منه.
فيأتون إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فيقبل ذلك، ويسجد تحت العرش ويفتح الله عليه من المحامد والثناء على الله ما لم يفتحه على أحد غيره، ثم يقال له: ارفع رأسك وقل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع. فيشفع -صلى الله عليه وسلم- ويقول: يا رب أمتي أمتي. فيتقبل الله شفاعته، ويقال له أدخل أمتك من الباب الأيمن من الجنة وهم شركاء مع الناس في بقية الأبواب.
وهذه فيها دلالة ظاهرة على أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أشرف الرسل، والرسل هم أفضل الخلق.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں دست (کا گوشت) اٹھا کر پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے دانتوں سے نوچ کر کھایا اور آپ کو بکری کی دست بڑی مرغوب تھی، کیونکہ بکری کے پورے جسم میں سے اس حصے کا گوشت بہترین اور نرم ہوتا اور زود ہضم اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کو یہ بڑی مرغوب تھی اس لیے آپ ﷺ نے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اسے تناول فرمایا اور پھر یہ طویل حدیث بیان فرمائی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت والے دن آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ آدم کی اولاد کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانوں میں سے سب سے اعلیٰ ہیں۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ تو صحابہ نے جواب دیا اے اللہ کے رسولﷺ! نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے تمام بنی آدم پر اپنا مرتبہ اور فضیلت کو بیان کیا۔
فرمایا کہ قیامت والے دن پہلے اور بعد والے تمام لوگوں کو ایک ہموار اور وسیع زمین میں اکٹھا کیا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ﴾ ”فرما دیجیے کہ پہلے اور آخری سارے لوگ ایک معین دن پر جمع کیے جائیں گے“۔ ایک ہی زمین پر سب کو جمع کیا جائے گا اور اس دن جو زمین پھیلائی جائے گی وہ ایسی نہیں ہو گی جیسی اب دیکھتے ہو۔ آج جب تم نظر دوڑاتے ہو تو جو سامنے ہوتا ہے صرف وہی نظر آتا ہے، جب کہ قیامت کے دن زمین بالکل سیدھی پھیلا دی جائے گی اور اس میں کسی قسم کے کوئی بھی پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر نہیں ہوں گے۔ اس میں موجود تمام داعی کی بات کو سنیں گے اور ان کی بینائی کی رسائی بھی ہو گی۔ یعنی جب کوئی انسان بات کرے گا تو ہر ایک سنے گا اور سارے اس کو دیکھیں گے کیونکہ کوئی بھی کسی سے چھپا نہیں ہو گا لیکن سارے کے سارے ایک چٹیل زمین پر ہوں گے۔ اس دن سورج مخلوق سے ایک میل کی مسافت پر ہو گا اور ایسے کرب وغم میں مبتلا ہوں گے کہ اس کو برداشت کرنے کی طاقت اور قوت نہیں ہوگی۔ زمین تنگ ہو جائے گی اور وہ خواہش کریں گے کہ کوئی ایک اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرے جو ان کو جلد از جلد اس بڑے وقوف سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ ان کو الہام کریں گے کہ وہ ابو البشر آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کے فضائل بیان کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ ان سے کہیں گے کہ آپ ابو البشر ہیں اور قیامت تک جتنے بھی نر ومادہ انسان پیدا ہوئے وہ سارے کے سارے بنی آدم ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے انکار پر فرمایا تھا ﴿مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ ”کہ تجھے کس چیز نے اس کو سجدے سے منع کیا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا“۔ آپ کو ملائکہ سے سجدہ کرایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا﴾ ”جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا“، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کے نام سکھائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ ”آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھائے“، اور آپ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کو پھونکا جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ﴾ ”جب میں نے اس کو مکمل کیا تو اس میں اپنی روح پھونکی تو سارے اس کے سامنے سجدے میں گر گئے“، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جن کو مخلوق جانتی ہے جب کہ خاص طور پر امت محمد (ﷺ) کو ایسے علوم سے اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے جو دیگر امتوں میں سے کسی کو نہیں نوازا۔ وہ معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا پھر وہ اپنی خطا بتائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص درخت سے کھانے سے روکا تھا لیکن انہوں نے کھا لیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“، اس کی سزا یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی منشا کے مطابق ان کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا۔ وہ اپنی نافرمانی بیان کریں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ یعنی آج تو اپنی جان بچانا ممکن ہو جائے اور اس کو تین مرتبہ تاکید اور تکرار کے ساتھ بیان کیا۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ ، ایسا کرو نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔
نوح (علیہ السلام) دوسرے ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے تمام اہلِ زمین کو نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے غرق کر دیا تھا ﴿وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ﴾ ”ہاں وہ چند ایک جو ان پر ایمان لے آئے تھے“ ان کے علاوہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑا۔ لوگ کہیں گے نوح (علیہ السلام) کی طرف چلو ،تو وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے کیونکہ وہ بہت سختی اور تنگی کا شکار ہوں گے۔ وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کریں گے، یہ کہ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کی طرف رسالت دے کر مبعوث فرمایا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام شاکر بندہ رکھا۔ لیکن وہ بھی ویسے ہی کہیں گے جیسے آدم (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا پھر اس دعا کا تذکرہ کریں گے جو انہوں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی ﴿رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ ”اے رب کافروں کا کوئی بھی گھر روئے زمین پر نہ چھوڑنا“ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اس دعا کا ذکر کریں گے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے کی تھی ﴿وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ، قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾  ”نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے“۔ وہ اپنے گناہ کا تذکرہ کریں گے۔ در اصل کوئی سفارشی سفارش نہیں کرے گا مگر جب اس کے اور مشفوع کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو جو خوف پیدا کرتی ہو (تو سفارش کرسکتا) جب کہ معصیت بندے اور رب کے درمیان خوف اور شرمندگی پیدا کرتی ہے ۔وہ بھی اپنی نافرمانی کا تذکرہ کریں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔
لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا حوالہ دیا جائے گا تو لوگ ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اللہ کی زمین پر آپ خلیل اللہ ہیں، ان کی صفات بیان کریں گے اور خواہش کریں گے کہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ تو وہ بھی معذرت کریں اور کہیں گے کہ ان کے تین جھوٹ ہیں اور کہیں گے (آج تو ) میری اپنی جان (پر بنی) ہے ،مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے۔
وہ جھوٹ یہ تھے:
اولاً: ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ ”میں بیمار ہوں“ حالاں کہ وہ بیمار نہیں تھے لیکن انہوں نے ایسا اپنی قوم کو چیلنج کے طور پر کہا کیونکہ وہ ستاروں کی عبادت کرتے تھے۔
ثانیاً: ان کا یہ کہنا: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا﴾ ”ان میں سے جو بڑا ہے اس نے کیا ہے“ یعنی بڑے بت نے کیا ہے۔ حالانکہ وہ اس نے نہیں کیا تھا بلکہ وہ ابراہیم علیہ السلام کا فعل تھا جب کہ انہوں نے چیلنج کرنے کے انداز میں یہ کہا کیونکہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔
ثالثاً: ان کا کافر بادشاہ سے یہ کہنا کہ یہ میری بہن ہے، یعنی اپنی بیوی کو اس کے شر سے بچانے کے لیے کہا حالانکہ ایسا تھا نہیں۔
ظاہراً یہ جھوٹ ہیں لیکن حقیقت میں اور اس کی مناسب تاویل جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی کہ جھوٹ نہیں تھے لیکن مضبوط تقویٰ اور اللہ سے حیا کی وجہ سے اس کو عذر بنائیں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔
وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان کی صفات بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کی ہے، آپ کو اہلِ زمین پر اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ منتخب فرمایا ہے ۔تو وہ بھی اپنی خطا کا تذکرہ کریں گے اور معذرت کریں گے کہ انہوں نے ایک شخص کو جان بوجھ کو قبل از اجازت ہی قتل کر دیا تھا جوکہ ایک قبطی تھا اور بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اور قبطی فرعونیوں میں سے تھا ﴿فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ﴾ ”ان کے گروہ کے شخص نے اپنے دشمن کے خلاف موسیٰ علیہ السلام سے مدد طلب کی، انہوں نے مکاّ مارا تو وہ مر گیا“ بغیر حکم کے اس کو قتل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کا خیال ہے کہ یہ چیز ان کے اور مخلوق کی سفارش کے درمیان حائل ہو جائے گی کہ انہوں نے ایک جان کو بغیر حکم کے قتل کر دیا تھا اور وہ بھی کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم سب عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔
لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ کریں گے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کو پھونکا اور یہ کہ وہ اللہ کا کلمہ ہیں جن کو مریم (علیہا السلام) کی طرف اِلقا کیا اور اس کی روح ہیں، یہ کہ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ وہ کوئی گناہ بیان نہیں کریں لیکن لوگوں کو محمدﷺ کا حوالہ دیں گے۔
یہ رسول اللہ ﷺ کا عظیم شرف ہے کہ چار انبیاء اپنے کاموں کو بیان کر کے معذرت کر لیں گے اور ایک کوئی عذر پیش نہیں کریں گے لیکن ان کا خیال ہے کہ محمدﷺ ان سے زیادہ مناسب ہیں۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں گے آپ ان کی بات مان لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثناء کے ان پر ایسے در وا کریں گے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے وہ دروازے کسی کے لیے نہیں کھولے ہوں گے۔ پھر آپ سے کہا جائے گا کہ سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کیجئے عطا کیا جائے،سفارش کیجئے سفارش قبول کی جائے گی۔رسول اللہﷺ سفارش کریں گے اور فرمائیں گے اے رب! میری امت، میری امت! اللہ تعالیٰ ان کی سفارش قبول فرمائے گا اور آپ سے کہے گا کہ اپنی امت کو جنت کے دائیں دروازے سے داخل کر لیں اور یہ دیگر لوگوں کے ساتھ باقی دروازوں میں بھی شریک ہوں گے۔ اس میں یہ واضح دلیل موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام رسولوں میں سے افضل ہیں اور رسول افضل الخلائق ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8345

 
 
Hadith   1429   الحديث
الأهمية: إن للمؤمن في الجنة لخيمة من لؤلؤة واحدة مجوفة طولها في السماء ستون ميلا، للمؤمن فيها أهلون يطوف عليهم المؤمن فلا يرى بعضهم بعضا


Tema:

مومن کے لیے جنت میں کھوکھلے موتی سے بنا ایک خیمہ ہو گا جس کی آسمان کی طرف اونچائی ساٹھ میل ہو گی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی جن کے پاس وہ آئے جائے گا اور وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گی۔

عن أبي موسى -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إن للمؤمن في الجنة لَخَيْمَةٌ من لُؤْلُؤَةٍ واحدة مُجَوَّفَةٍ طُولُها في السماء ستون مِيلًا، للمؤمن فيها أَهْلُونَ يطوف عليهم المؤمن فلا يرى بعضهم بعضًا».

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے لیے جنت میں کھوکھلے موتی سے بنا ایک خیمہ ہو گا جس کی آسمان کی طرف اونچائی ساٹھ میل ہو گی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی جن کے پاس وہ آئے جائے گا اور وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن للمؤمن في الجنة خيمة من لؤلؤة واحدة مجوفة طولها في السماء ستون ميلًا، وأن له فيها أهلين لا يرى بعضهم بعضًا، وذلك والله أعلم لسعتها وحسن غرفها وسترها.
606;بی ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا جنت میں ایک کھوکھلے موتی سے بنا ہوا خیمہ ہو گا جس کی آسمان کی طرف اونچائی ساٹھ میل ہو گی اور یہ کہ اس میں اس کی بیویاں ہوں گی جو ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گی۔ اور ایسا شاید، واللہ اعلم، خیمے کی کشادگی اور اس کے کمروں کی اچھی بناوٹ اور ان کی ستر پوشی کی وجہ سے ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8349

 
 
Hadith   1430   الحديث
الأهمية: إن في الجنة شجرة يسير الراكب الجواد المضمر السريع مائة سنة ما يقطعها


Tema:

جنت میں ایک درخت ہے جس کے نیچے دبلے پتلے تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال بھی چلے گا تب بھی اس کی مسافت کو طے نہیں کر سکے گا۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن في الجنة شجرة يسير الراكب الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السريع مائة سنة ما يقطعها».
وروياه في الصحيحين أيضًا من رواية أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: «يسير الراكب في ظلها مئة سنة ما يقطعها».

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے نیچے دبلے پتلے تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال بھی چلے گا تب بھی اس کی مسافت کو طے نہیں کر سکے گا“۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں ہے کہ سوار اس کے سائے تلے سو سال تک چلے گا لیکن اسے طے نہیں کر سکے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث سعة الجنة وما فيها من نعيم كبير، ففيه وصف لأشجار الجنة وظلالها، وأن الراكب للفرس القوي في الجري ما يصل إلى نهايتها لعظمها، وهذا فضل عظيم أعده الله لعباده المتقين.
581;دیث میں جنت کی کشادگی اور اس میں موجود عظیم نعمتوں کا ذکر ہے بایں طور کہ اس میں جنت کے درختوں اور ان کے سائیوں کا بیان ہے کہ ایک تیر رفتار گھوڑ سوار ان کی کشادگی کی وجہ سے کبھی ان کی انتہاء تک نہیں پہنچ سکے گا۔ یہ بہت بڑا فضل و عنایت ہے جو اللہ نے اپنے متقی بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8350

 
 
Hadith   1431   الحديث
الأهمية: إن أهل الجنة ليتراءون أهل الغرف من فوقهم كما تراءون الكوكب الدري الغابر في الأفق من المشرق أو المغرب لتفاضل ما بينهم


Tema:

جنتی اپنے اوپر کے بالاخانے والے لوگوں کو اس طرح دیکھیں گے، جس طرح تم لوگ اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو، جو آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں ہوتا ہے اورایسا اہل جنت کے مابین پائے جانے والے فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔

عن أبي سعيد -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن أهل الجنة ليَتَراءَوْنَ أهل الغرف من فوقهم كما تَراءَوْنَ الكوكب الدري الغابر في الأفق من المشرق أو المغرب لِتفَاضُلِ ما بينهم» قالوا: يا رسول الله؛ تلك منازل الأنبياء لا يبلغها غيرهم قال: «بلى والذي نفسي بيده، رجال آمنوا بالله وصدقوا المرسلين».

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتی اپنے اوپر کے بالاخانے والے لوگوں کو اس طرح دیکھیں گے، جس طرح تم لوگ اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو جو آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں ہوتا ہے اورایسا اہل جنت کے مابین پائے جانے والے فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو انبیا علیہم السلام کے مکان ہوں گے، جن تک ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جا سکتا۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان بالا خانوں تک وہ لوگ بھی پہنچیں گے، جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أهل الجنة تتفاوت منازلهم بحسب درجاتهم في الفضل، حتى إن أهل الدرجات العلى ليراهم من هو أسفل منهم كالنجوم.
580;نتی اپنے مراتب کے لحاظ سےمختلف درجات میں ہوں گے۔ یہاں تک کہ بلند درجات والے نچلے درجات والوں کو ایسے دکھائی دیں گے، جیسے تارے دکھائی دیتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8351

 
 
Hadith   1432   الحديث
الأهمية: لقاب قوس في الجنة خير مما تطلع عليه الشمس أو تغرب


Tema:

جنت میں ایک کمان کے برابر جگہ، دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لَقَابُ قَوْسٍ في الجنة خيرٌ مما تَطلُع عليه الشمس أو تَغْرُب».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک کمان کے برابر جگہ، دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث بيان عظم ثواب المؤمن في الجنة، وحقارة الدنيا، حيث إن هذا القدر من الجنة وهو قاب القوس خير مما في الدنيا من النعيم أجمع، لنفاسته ولدوامه وبقائه، جعلنا الله من أهلها.
575;س حدیث میں جنت میں مومن کو حاصل ہونے والے عظیم اجر وثواب اور دنیا کی بے وقعتی کو اس اعتبار سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کی یہ معمولی مقدار یعنی ایک کمان کے برابر معمولی جگہ، دنیا میں پائی جانے والی تمام نعمتوں سے بہتر ہے؛ کیوں کہ جنت کی ان نعمتوں میں ہر قسم کی نفاست و پاکیزگی ہے۔ اس میں ہمیشگی اور بقا و پائیداری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اہل جنت میں شامل فرمادے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8352

 
 
Hadith   1433   الحديث
الأهمية: إن في الجنة سوقا يأتونها كل جمعة


Tema:

جنت میں ایک بازار ہے جس میں ہر جمعہ لوگ آئیں گے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إن في الجنة سوقاً يأتونها كل جمعة. فَتَهُبُّ ريح الشمال، فَتَحْثُو في وجوههم وثيابهم، فيزدادون حسناً وجمالاً فيرجعون إلى أهليهم، وقد ازدادوا حسناً وجمالاً، فيقول لهم أهلوهم: والله لقد ازددتم حسناً وجمالاً! فيقولون: وأنتم والله لقد ازددتم بعدنا حسناً وجمالاً!».

575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک بازار ہے جس میں ہر جمعہ لوگ آئیں گے۔ شمال کی ہوا چلے گی تو ان کے چہروں اور لباس سے ہوتے گزر جائے گی اور اس سے ان کا حسن وجمال مزید بڑھ جائے گا اور وہ جب اپنے اہلِ خانہ کے پاس واپس آئیں گے تو اس حال میں لوٹیں گے کہ ان کے حسن وجمال میں اضافہ ہوچکا ہو گا ،ان کے اہلِ خانہ ان سے کہیں گے: الله كى قسم! ہمارے پاس سے جانے کے بعد آپ کے حسن وجمال میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم! تمہارا بھی حسن وجمال ہمارے بعد بڑھ گیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا الحديث عن أنواع النعيم الذي أكرم به أهل الجنة وما يجدونه من حسن ونعيم بمرور الدهور والأزمان وما يقام لهم في الجنة من لقاءات وأسواق ونحوها إيناساً لهم، وكما أن لهم جمالاً لا مثيل له ولا نظير وهو دائماً في تجدد وازدياد.
581;دیث ہمیں ان انواع و اقسام کی نعمتوں کے بارے میں بتا رہی ہے جن سے اللہ تعالی اہلِ جنت کو نوازیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں جو خوبصورتی اور نعمتیں حاصل ہوں گی اور ان کا دل بہلانے کے لیے جنت میں ان کے لیے جن باہمی ملاقاتوں اور بازاروں وغیرہ کا انتظام کیا جائے گا اس کی خبر دے رہی ہے۔ اسی طرح جنتی لوگوں کو بے مثیل و بے نظیر خوبصورتی حاصل ہوگی جس میں دم بدم نکھار آتا جائے گا اور اضافہ ہوتا رہے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8353

 
 
Hadith   1434   الحديث
الأهمية: إن أهل الجنة ليتراءون الغرف في الجنة كما تتراءون الكوكب في السماء


Tema:

جنتی اپنے (اوپر کے) بالا خانوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں تاروں کو دیکھتے ہو۔

عن سهل بن سعد -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن أهل الجنة لَيَتَراءَوْنَ الغُرَفَ في الجنة كما تَتَراءَوْنَ الكوكب في السماء».

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنتی اپنے (اوپر کے) بالا خانوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں تاروں کو دیکھتے ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يتفاوت أهل الجنة في المنازل بحسب درجاتهم في الفضل، حتى إن أهل الدرجات العلى ليراهم من هو أسفل منهم، كالنجوم.
580;نتیوں کے ان کی فضلیت کے اعتبار سے جنت میں مختلف مراتب ہیں۔ یہاں تک کہ نچلے درجے والے جنتیوں کو اوپر کے درجات والے جنتی ایسے دکھائی دیں گے جیسے تارے ہوں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8354

 
 
Hadith   1435   الحديث
الأهمية: هو الطهور ماؤه الحل ميتته


Tema:

سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردہ حلال ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سأل رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، إنا نركب البحر، ونحمل معنا القليل من الماء، فإن توضأنا به عطشنا، أفنتوضأ بماء البحر؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «هو الطَّهُورُ ماؤه الْحِلُّ مَيْتَتُهُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں اور ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے۔ اگرہم اس سے وضوء کر لیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں۔ کیا ہم سمندر کے پانی سے وضوء کر لیا کریں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا:سمندر کا پانی پاک کرنےوالا اور اس کا مردہ حلال ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الرسول صلى الله عليه وسلم طهورية ماء البحر وجواز التطهر منه، وحل ما مات فيه من دوابه كالسمك وغيره.
585;سول اللہ ﷺ سمندی پانی کے پاک ہونے، اس سے پاکیزگی حاصل کرنے کے جواز اور اس کے مردار جانور کے حلال ہونے کی وضاحت فرما رہے ہیں جیسے مچھلی وغیرہ۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8355

 
 
Hadith   1436   الحديث
الأهمية: الماء طهور لا ينجسه شيء


Tema:

پانی پاک ہے؛ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

عن أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- أنه قيل لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أنتوضأ من بِئر بُضَاعَةَ وهي بئر يُطرحُ فيها الحَيضُ ولحم الكلاب والنَّتَنُ؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «الماء طهور لا ينجسه شيء».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم بئرِ بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں، جو کہ ایسا کنواں ہے، جس میں حائضہ عورتوں کے کپڑے اور کتوں کا گوشت اور گندگی پھینکی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پاک ہے؛ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الرسول -صلى الله عليه وسلم- أن الماء الطهور لا ينجس بمجرد ملاقاة النجاسة له مالم يتغير لونه أو طعمه أو ريحه.
570;پ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ پانی پاک ہے اور صرف نجاست کے گرنےسے پاک پانی ناپاک نہیں ہوتا، جب تک کہ پانی کا رنگ، مزہ یا بو تبدیل نہ ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8356

 
 
Hadith   1437   الحديث
الأهمية: إذا كان الماء قلتين لم يحمل الخبث


Tema:

جب پانی کی مقدار دو قلہ ہو، تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دیتا ہے۔

عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: سُئِلَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الماء وما يَنُوبُهُ من الدواب والسِّبَاعِ، فقال -صلى الله عليه وسلم-: «إذا كان الماء قُلَّتين لم يحمل الخَبَثَ».

عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے پوچھا گیا، جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے رہتے ہوں (کہ اس کا کیا حکم ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی کی مقدار دو قلہ ہو، تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دیتا ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الماء الكثير لا ينجس بمجرد ملاقاته للنجاسة إن لم يتغير أحد أوصافه، بعكس ما إذا كان قليلاً فإنه ينجس غالبا لأنه مظنة تغير أوصافه ؛ وعلى هذا فإن كان الماء كثيراً وتغيرت أوصافه بنجاسة خرج عن كونه طهوراً إلى كونه نجساً وإن كان قلتين، وذكر ذلك في معرض السؤال عن سؤر السباع والدواب؛ دل ذلك على عدم طهارة سؤرهم غالباً، إلا إذا كان كثيراً لم تتغير أوصافه بسببها.
606;بی ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ ماء کثیر محض نجاست کی آمیزش کی وجہ سے ناپاک نہیں ہوتا، بشرطے کہ اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہوا ہو۔ اس کے برعکس اگر پانی قلیل ہو، تو یہ عموما نجس ہو جاتا ہے، کیوںکہ عموماً اس کے اوصاف میں تبدیلی آجاتی ہے۔ چنانچہ اگر پانی کثیر ہو اور اس کے اوصاف میں تبدیلی آ جائے، تو وہ پاکیزہ نہیں رہتا، بلکہ نجس ہوجاتا ہے، اگرچہ مقدار میں وہ دو قلے ہی کیوں نہ ہو۔ درندوں اور چوپائیوں کے جھوٹے کے بارے سوال کے ضمن میں اس کے بیان میں اس بات کی دلیل ہے کہ عموما ان چوپایوں اور درندوں کا جھوٹا ناپاک ہوتا ہے، ماسوا اس صورت کے کہ پانی کثیر ہو اور ان کی وجہ سے اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہوا ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8357

 
 
Hadith   1438   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يغتسل بفضل ميمونة -رضي الله عنها-


Tema:

نبی ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يغتسل بفضل ميمونة -رضي الله عنها-.

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يغتسل بالماء المتبقي من اغتسال زوجته ميمونة -رضي الله عنها-.
606;بی ﷺ اپنی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8359

 
 
Hadith   1439   الحديث
الأهمية: إن الماء لا يجنب


Tema:

پانی جُنبی نہیں ہوتا

عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: اغتسل بعض أزواج النبي -صلى الله عليه وسلم- في جَفْنَةٍ، فجاء النبي -صلى الله عليه وسلم- ليتوضأ منها أو يغتسل، فقالت: له يا رسول الله، إني كنت جُنُبًا؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن الماء لا يَجْنُبُ».

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج میں سے کسی زوجہ نے ایک بڑے برتن میں (موجود پانی سے) غسل کیا۔ بعد ازاں نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ اس برتن (میں موجود پانی) سے وضوء یا غسل کرنا چاہتے تھے۔ آپ کی اس زوجہ نے کہا کہ یارسول اللہ! میں تو جنبی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كانت إحدى زوجات النبي -صلى الله عليه وسلم- تغتسل للجنابة، فجاء النبي -صلى الله عليه وسلم- ليتوضأ أو يغتسل؛ فأراد استخدام الماء المتبقي من غسل زوجته -رضي الله عنها – ، فأخبرته بأنها كانت على جنابة، فأرشدها بأن ذلك الماء لا يتأثر بذلك وهو كونه طاهراً مطهراً .
606;بی ﷺ کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا۔ آپ ﷺ وضو یا غسل کے ارادے سے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اپنی زوجہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ جنبی تھیں (اس لیے انہوں نے اُس پانی سے غسلِ جنابت کیا تھا)۔ آپ ﷺ نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ کہ پانی تو پاک ہوتا ہے اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8360

 
 
Hadith   1440   الحديث
الأهمية: إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات


Tema:

یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔

عن كبشة بنت كعب بن مالك -وكانت تحت ابن أبي قتادة-: أن أبا قتادة دخل فسَكَبَتْ له وَضُوءًا، فجاءت هرة فشربت منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات».

کبشہ بنت کعب بن مالک (جو ابو قتادہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں) بیان کرتی ہیں کہ ابو قتادہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی انڈیل کر رکھا۔ اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی۔ ابو قتادہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے اچھی طرح پانی پی لیا۔ کبشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا: بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے گھروں میں بکثرت آنے جانے والوں اور بکثرت آنے جانے والیوں میں سے ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في الحديث أن أبا قتادة بدأ وضوءه، فدخلت هرة - والهرة تدخل البيوت وتخالط الناس وتتردد عليهم – فأصغى لها الإناء لتشرب من ماء الوضوء، فتعجبت كبشة  ابنة أخيه من فعله -وهو ماء معد للوضوء ولا بد من أن يكون طاهراً مطهراً- فأخبرها بالحديث أن الهرة ليست نجسة و لا تؤثر في الماء لأنها من المخالطين للناس دائماً .
581;دیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وضو شروع کیا تو اسی دوران ایک بلی آ گئی۔ - اور بلی گھروں میں گھس آتی ہے، لوگوں میں گھل مل جاتی ہے اور ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہے - چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے سامنے برتن کو جھکا دیا تا کہ وہ وضو کا پانی پی سکے۔ ایسا کرنے پر ان کی بھتیجی کبشہ بہت حیران ہوئیں۔ کیونکہ یہ وضو کا پانی تھا جس کے لیے پاکیزہ اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ بلی ناپاک نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے پانی پر کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ تو ان جانوروں میں سے ہیں جو ہر وقت انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8361

 
 
Hadith   1441   الحديث
الأهمية: أحلت لكم ميتتان ودمان، فأما الميتتان: فالحوت والجراد، وأما الدمان: فالكبد والطحال


Tema:

تمہارے لئے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں۔

عن  عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أُحِلَّتْ لكم مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فأما الميتتان: فَالْجَرَادُ والْحُوتُ، وأما الدَّمَانِ: فالكبد والطحال».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن عمر بحكم شرعي فقهي يتعلق بحل أكل بعض الأشياء الأول: تحليل أكل ميتة الجراد والحوت، والثاني: حل أكل نوعين من الدماء وهما: الكبد والطحال، وهذان الحكمان مستثنيان من تحريم أكل الميتة والدم.
575;بن عمر رضی اللہ عنہما ایک فقہی حکم شرعی بیان کررہے ہیں جس كا تعلق بعض اشیاء کے کھانے كى حلت سے ہے۔ ان میں سے ایک تو مردہ ٹڈی اور مردہ مچھلی کےکھانے کو حلال قرار دینے کے بارے میں ہے۔ جبکہ دوسرا: دو قسم کے خون کے کھانے کے جائز ہونے سے متعلق ہے اور وہ دونوں جگر اور تلی ہیں۔ یہ دونوں حکم مردار اور خون کھانے کی حرمت سے مستثنی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8362

 
 
Hadith   1442   الحديث
الأهمية: إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه، ثم لينزعه؛ فإن في أحد جناحيه داء، وفي الآخر شفاء


Tema:

جب مکھی کسی کے (مشروب سے بھرے) برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه، ثم لينزعه؛ فإن في أحد جناحيه داء، وفي الآخر شفاء». وفي رواية: «وإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”جب مکھی کسی کے پینے (کے برتن) میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے“۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”اور وہ اپنے اس پر کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي-صلى الله عليه وسلم- عن الذباب إذا وقع في الشراب فإنه لا يؤثر فيه، بل عليه أن يغمسه كاملا فيه ؛ وذلك لأن في أحد جناحيه مرضًا -وهو الجناح الذي يغمسه في الماء- وفي الآخر شفاء من ذلك المرض.
وقد أثبت الطب الحديث صحة هذه المعلومة التي عرفها المسلمون منذ قرون، فالحمد لله على نعمة الإسلام.
570;پ ﷺ نے مکھی کے بارے میں بتایا کہ جب وہ کسی پینے کی چیز میں گِر جائے تواس میں کچھ بھی اثر نہیں کرتی، بلکہ اس کو پورا ڈبو دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے ایک پَر میں بیماری ہوتی ہے اور یہ وہ پَر ہوتا ہے جسے وہ پانی میں ڈبوتی ہے اور دوسرے پَر میں اس بیماری کی شفاء ہوتی ہے۔
جو چیز کئی صدیوں سے مسلمان جانتے تھے، جدید طب نے اس کو درست ثابت کردیا ہے۔ مذہبِ اسلام کی اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8363

 
 
Hadith   1443   الحديث
الأهمية: ما قطع من البهيمة وهي حية فهي ميتة


Tema:

زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے۔

عن أبي واقد الليثي -رضي الله عنه- قال: قَدِم النبي -صلى الله عليه وسلم- المدينة وهم يَجُبُّون أَسْنِمة الإبل، ويَقْطعون أَلْيَات الغنم، فقال: «ما قُطِع من البَهِيمَة وهي حيَّة فهي ميْتَة».

ابو واقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے، تو وہاں کے لوگ (زندہ) اونٹوں کے کوہان اور (زندہ) بکریوں کی پٹھ کاٹتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قدم للمدينة, وكان أهلها يقطعون أسنمة الإبل, وأليات الغنم, فيأكلونها وينتفعون بها, فنهاهم النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك, وبيَّن لهم القاعدة في هذا الباب, وهي أن ما قطع من البهيمة -بنفسه أو بفعل فاعل- من سنام بعير, أو ألية شاة ونحو ذلك, حال حياتها فحكمه حكم ميتة تلك البهيمة, فإن كان طاهرا فطاهر, أو نجسا فنجس, فيد الآدمي طاهرة, وألية الخروف نجسة, ما خرج عن ذلك إلا نحو شعر المأكول وصوفه وريشه ووبره ومسكه وفأرته فإنه طاهر.
575;س حدیث میں یہ فوائد بیان کیے گئے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اوراہل مدینہ کے نزدیک یہ طریقہ رائج تھا کہ وہ (زندہ) اونٹ کی کوہان اور (زندہ) بکریوں کا چوتڑ کاٹ کر کھاتے اور ان سے استفادہ کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے انھیں اس عمل سے روک دیا اور اس مسئلے کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے ایک قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ زندہ چوپایوں کا جو حصہ کاٹ لیا جائے، جیسے اونٹ کی کوہان یا بکری کا چوتڑ وغیرہ، چاہے آدمی خود کاٹے یا کٹا ہوا حاصل کرے، اس کا حکم اس جانور کے مردار کا حکم ہے؛ اگر اس جانور کا مردار طاہر ہے، تو طاہر ہوگا اور اگر اس جانور کا مردار نجس ہے، تو نجس ہوگا۔ چنانچہ آدمی کا ہاتھ طاہر ہوگا، جب کہ مینڈھے کا چوتڑ نجس ہوگا۔ اسی سے اور بھی مسائل کا استخراج ہو سکتا ہے۔ البتہ ماکول اللحم جانوروں کے بال، ان کی اون، ان کے پر، ان کا رواں، ان کا مشک اور مشک دان، یہ ساری چیزیں طاہر و پاک ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8364

 
 
Hadith   1444   الحديث
الأهمية: من شرب في إناء من ذهب أو فضة، فإنما يجرجر في بطنه نارًا من جهنم


Tema:

جو شخص سونا یا چاندی کے برتن میں پیے، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے۔

عن أم سلمة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ شَرِبَ وفي رواية: «إنَّ الذي يَأكُل أو يَشرَب» في إناءٍ من ذهبٍ أو فضةٍ، فإنما يُجَرْجِرُ في بطنه نارًا مِن جهنَّم».

ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص سونا یا چاندی (کے برتن) سے پیے ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:وہ شخص جو سونا یا چاندی کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہو، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الحديث فيه الوعيد الشديد لمن استعمل أواني الذهب والفضة التي صنعت منهما أو طُلِيت أو زيِّنت بهما, وأنَّ من ارتكب هذه المعصية سَيُسْمَعُ لوقوع عذاب جهنَّم في جوفه صوتٌ مرعب منكر؛ لما في ذلك من التشبه بالكفار, والخيلاء وكسر قلوب الفقراء؛ ولأن الإِسلام يصون المسلم عن الانحلال والترف, ومن الحكم في تحريم استعمالهما -أيضا- كونهما نقدين إلى زمن قريب؛ فاتخاذهما واستعمالهما أواني أو تحفًا ونحو ذلك، هو شَلٌّ للحركة التجارية، وتعطيلٌ لقيم الحاجات والضرورات، بدون وجود مصلحة راجحة.
وهذا النهي -في الحديث- عن استعمالهما في الأكل والشرب يعم استعمالهما لأي منفعة، إلاَّ ما أذن فيه الشرع كحليِّ المرأة.
575;س حدیث میں ان افراد کو سخت وعید سنائی گئی ہے، جو سونا اور چاندی سے تیار کردہ یا سونا اور چاندی سے ملمع شدہ یا ان دونوں سے تزیین شدہ برتن استعمال کرتے ہیں۔ اس گناہ کے مرتکب شخص کو اس کے پیٹ میں جہنم کا عذاب وارد ہونے کی وجہ سے ڈراؤنی اور ناگوار آواز سنائی جائے گی؛ کیوں کہ یہ عمل کافروں اور متکبروں کی نقالی اور فقرا و محتاجوں کی دل شکنی کے مترادف ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ اسلام، بندۂ مسلم کو اخلاقی گراوٹ اور عیش پرستی سے بچاتا ہے۔ حرمت کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ نقدی مال کے طور پر زمانہ قریب تک سونا چاندی کا چلن رہتا آیا ہے؛ لہذا انھیں برتنرں اور تحفوں وغیرہ کے طور پر اپنانا اور استعمال کرنا ایک طرح سے تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج بنا دینا اور حاجات و ضروریات کی قدر و قیمت کو ناکارہ بنا دینا ہے۔ جب کہ ان کے اپنانے اور استعمال کرنے میں کوئی مفاد کا پہلو بھی نہیں ہے۔
ان برتنوں میں کھانے اور پینے پر اس حدیث کی ممانعت، ہر قسم کی منفعت کو شامل ہے، سوائے اس کے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو، جیسے عورتوں کے زیورات۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8365

 
 
Hadith   1445   الحديث
الأهمية: مرَّ على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجال من قريش يجرون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو أخذتم إهابها، قالوا: إنها ميتة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطهرها الماء والقَرَظ


Tema:

قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جارہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“ انھوں نے کہا: یہ مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے پانی اور قرظ پاک کر دیتا ہے۔

عن العالية بنت سُبَيع قالت: كان لي غنم بأُحُدٍ، فوقَع فيها الموت، فدَخَلْتُ على ميمونة زوج النبي -صلى الله عليه وسلم-، فذَكَرْتُ ذلك لها، فقالت لي ميمونة: لو أَخَذْتِ جُلُوَدها فَانْتَفَعْتِ بها. فقالت: َأو يَحِلُّ ذلك؟ قالت: نعم، مرَّ على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رجال من قريش يَجُرُّون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لو أخذتم إِهَابَهَا». قالوا: إنها مَيْتَة. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يُطَهِّرها الماء والقَرَظ».

عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں کہ احد کی جانب میری بکریاں ہوتی تھیں۔ ہوا یہ کہ وہ مرنا شروع ہو گئیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کے چمڑے اتار لیتی تو ان سے فائدہ اٹھاسکتی تھی۔ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ حلال ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ گدھے کی طرح ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“، انھوں نے کہا: یہ مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور قرظ (کیکر کی مانند ایک درخت ہوتا ہو جو چمڑا صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے) پاک کر دیتا ہے۔“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر العالية بنت سُبَيع -رحمها الله- أنه كان لها غنم وقع فيها الموت بسبب المرض أو غير ذلك، ثم إنها ذهبت وأخبرت ميمونة -رضي الله عنها- فأشارت عليها بالانتفاع بجلودها.
فقالت: وهل يجوز الانتفاع بجلودها بعد موتها؟
 قالت: نعم يجوز ذلك، ثم إنها استدلت لقولها بقصة مشابهة قد وقعت، وهي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم-: مرَّ عليه رجال من قريش يَجُرُّون شاة لهم كَجَرِّ الحمار لإبعادها والتخلص منها، أو أنها كالحمار في ضخامتها.
فقال لهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: لو انتفعتم به بدلًا من أن يرمى.
فقالوا: إنها مَيْتَة، وكأنهم ظنوا أن الرسول -صلى الله عليه وسلم- لا يدري أنها ميتة، وهم يعرفون أن الميتة حرام بجميع أجزائها لنجاستها.
فأخبرهم الرسول -صلى الله عليه وسلم- أن دبَاغها بالماء والقَرظ يجعل من هذه المادة النجسة مادة طاهرة.
593;الیہ بنت سبیع رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے مرنا شروع ہو گئیں۔ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور انہیں بتایا تو انھوں نے ان کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا بکری کے مرنے کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے؟ (میمونہ رضی اللہ عنہا نے )جواب دیا :ہاں۔ پھر انھوں نے اپنی بات کا استدلال اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ سے کیا اور وہ یہ تھا کہ: قریش کے کچھ لوگ نبی کریمﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو تاکہ اس کو دور کہیں پھینک دیں اور اس سے خلاصی حاصل کریں یا پھر وہ اپنی جسامت میں گدھے کی طرح تھی(موٹی تازی)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ”اس کو پھینکنے کے بجائے اس سے نفع حاصل کرلو۔“ انہوں نے کہا :یہ مردار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ مردہ ہے اور ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ مردار کے تمام اجزاء نجاست کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس کو پانی اور قرظ سے دباغت دینے سے نجس مادے ختم ہو جاتے ہیں۔“

 

Grade And Record التعديل والتخريج
 
[حَسَنْ]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8366

 
 
Hadith   1446   الحديث
الأهمية: كنا في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم، وإنا أَسْرَيْنا حتى كنا في آخر الليل، وَقَعْنا وَقْعَة، ولا وَقْعَة أحلى عند المسافر منها، فما أيقظنا إلا حَرُّ الشمس، وكان أول من استيقظ فلان، ثم فلان، ثم فلان، ثم عمر بن الخطاب


Tema:

ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ہم رات بھر چلتے رہے اور جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا اور مسافر کے لیے اس وقت کے پڑاؤ سے زیادہ مرغوب اور کوئی چیز نہیں ہوتی ( پھر ہم اس طرح غافل ہو کر سو گیے) کہ ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کوئی چیز بیدار نہ کر سکی۔ سب سے پہلے بیدار ہونے والا شخص فلاں تھا، پھر فلاں پھر فلاں، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔

عن عمران بن حصين -رضي الله عنهما- قال: كنا في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم، وإنا أَسْرَيْنا حتى كنا في آخر الليل، وَقَعْنا وَقْعَة، ولا وَقْعَة أحلى عند المسافر منها، فما أيقظنا إلا حَرُّ الشمس، وكان أول من استيقظ فلان، ثم فلان، ثم فلان، ثم عمر بن الخطاب،  وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نام لم يوقظ حتى يكون هو يستيقظ، لأنا لا ندري ما يحدث له في نومه، فلما استيقظ عمر ورأى ما أصاب الناس وكان رجلا جليدا، فكبَّر ورفع صوته بالتكبير، فما زال يكبر ويرفع صوته بالتكبير حتى استيقظ بصوته النبي صلى الله عليه وسلم، فلما استيقظ شكوا إليه الذي أصابهم، قال: «لا ضير -أو لا يضير- ارتحلوا». فارتحل، فسار غير بعيد، ثم نزل فدعا بالوَضوء، فتوضأ، ونُودِيَ بالصلاة، فصلَّى بالناس، فلما انفتل من صلاته إذا هو برجل معتزل لم يُصَلِّ مع القوم، قال: «ما منعك يا فلان أن تصلي مع القوم؟». قال: أصابتني جنابة ولا ماء، قال: «عليك بالصعيد، فإنه يكفيك». ثم سار النبي صلى الله عليه وسلم، فاشتكى إليه الناس من العطش، فنزل فدعا فلانا، ودعا عَلِيًّا فقال: «اذهبا، فابتغيا الماء». فانطلقا، فتلقيا امرأة بين مزادتين -أو سطيحتين- من ماء على بعير لها، فقالا لها: أين الماء؟ قالت: عهدي بالماء أمسِ هذه الساعةَ، ونَفَرُنا خُلُوف. قالا لها: انطلقي. إذًا قالت: إلى أين؟ قالا: إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت: الذي يقال له: الصابئ؟ قالا: هو الذي تَعْنين، فانطلقي، فجاءا بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وحدثاه الحديث، قال: فاستَنْزَلوها عن بعيرها، ودعا النبي صلى الله عليه وسلم بإناء، ففرَّغ فيه من أفواه المزادتين -أو سطيحتين- وأَوْكَأ أفواههما وأطلق العَزَالِيَ، ونودي في الناس: اسقوا واستقوا، فسقى مَن شاء واستقى مَن شاء، وكان آخر ذاك أن أعطى الذي أصابته الجنابة إناء من ماء، قال: «اذهب فأفرغه عليك». وهي قائمة تنظر إلى ما يُفْعَل بمائها، وايمُ الله لقد أقلع عنها، وإنه ليُخَيَّل إلينا أنها أشد مَلَأَة منها حين ابتدأ فيها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اجمعوا لها». فجمعوا لها من بين عَجْوة ودقيقة وسويقة حتى جمعوا لها طعاما، فجعلوها في ثوب وحملوها على بعيرها، ووضعوا الثوب بين يديها، قال لها: «تعلمين، ما رزئنا من مائك شيئا، ولكنَّ الله هو الذي أسقانا». فأتت أهلها وقد احتبست عنهم، قالوا: ما حبسك يا فلانة؟ قالت: العجب، لقيني رجلان، فذهبا بي إلى هذا الذي يقال له الصابئ، ففعل كذا وكذا، فوالله إنه لأسحر الناس من بين هذه وهذه، وقالت بإصبعيها الوسطى والسبابة، فرفعتهما إلى السماء –تعني: السماء والأرض- أو إنه لرسول الله حقا، فكان المسلمون بعد ذلك يَغِيرون على من حولها من المشركين، ولا يصيبون الصِّرْم الذي هي منه، فقالت يوما لقومها: ما أرى أن هؤلاء القوم يدعونكم عمدا، فهل لكم في الإسلام؟ فأطاعوها، فدخلوا في الإسلام.

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم رات بھر چلتے رہے اور جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا اور مسافر کے لیے اس وقت کے پڑاؤ سے زیادہ مرغوب اور کوئی چیز نہیں ہوتی ( پھر ہم اس طرح غافل ہو کر سو گیے ) کہ ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کوئی چیز بیدار نہ کر سکی۔ سب سے پہلے بیدار ہونے والا شخص فلاں تھا، پھر فلاں پھر فلاں، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور جب نبی کریم ﷺ آرام فرماتے تو ہم آپ کو جگاتے نہیں تھے یہاں تک کہ آپ خود بخود بیدار ہوں کیوں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ پر خواب میں کیا تازہ وحی آتی ہے۔ جب حضرت عمر جاگ گیے اور یہ آمدہ آفت دیکھی اور وہ ایک نڈر آدمی تھے، وہ زور زور سے تکبیر کہنے لگے۔ اسی طرح با آواز بلند، آپ اس وقت تک تکبیر کہتے رہے جب تک کہ نبی کریم ﷺ ان کی آواز سے بیدار نہ ہو گیے۔ تو لوگوں نے پیش آمدہ مصیبت کے متعلق آپ ﷺ سے شکایت کی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ:کوئی حرج نہیں۔ سفر شروع کرو۔ پھر آپ تھوڑی دور چلے، اس کے بعد آپ ٹھہر گیے اور وضو کا پانی طلب فرمایا اور وضو کیا اور اذان کہی گئی۔پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ نماز پڑھانے سے فارغ ہوئے تو ایک شخص پر آپ کی نظر پڑی جو الگ کنارے پر کھڑا ہوا تھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ: اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہونے سے کون سی چیز نے روکا؟۔ اس نے جواب دیا کہ: مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ: تم مٹی کے ذریعے(تیمم) کرلیتے یہ تمہارے لیے کافی ہوتا۔۔ پھر نبی کریم ﷺ نے سفر شروع کیا تو لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ ٹھہر گیے اور فلاں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی طلب فرمایا۔ ان دونوں سے آپ نے فرمایا کہ جاؤ پانی تلاش کرو۔ یہ دونوں نکلے۔ راستہ میں ایک عورت ملی جو پانی کی دو مشکیزے اپنے اونٹ پر لٹکائے ہوئے بیچ میں سوار ہو کر جا رہی تھی۔ انھوں نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ کل اسی وقت میں پانی پر موجود تھی ( یعنی پانی اتنی دور ہے کہ کل میں اسی وقت وہاں سے پانی لے کر چلی تھی آج یہاں پہنچی ہوں ) اور ہمارے قبیلہ کے مرد لوگ پیچھے رہ گیے ہیں۔ انھوں نے اس سے کہا۔ اچھا ہمارے ساتھ چلو۔ اس نے پوچھا، کہاں چلوں؟ انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں۔ اس نے کہا، اچھا وہی جن کو لوگ صابی کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا، یہ وہی ہے، جسے تم کہہ رہی ہو۔اچھا اب چلو۔ آخر یہ دونوں حضرات اس عورت کو آپ ﷺ کی خدمت مبارک میں لائے۔ اور سارا واقعہ بیان کیا۔ عمران نے کہا کہ لوگوں نے اسے اونٹ سے اتار لیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک برتن طلب فرمایا۔ اور دونوں مشکیزوں کے منہ اس برتن میں کھول دیے ، پھر ان کا اوپر کا منہ بند کر دیا۔ اس کے بعد نیچے کا منہ کھول دیا اور تمام لشکریوں میں منادی کر دی گئی کہ خود بھی سیر ہو کر پانی پئیں اور اپنے تمام جانوروں وغیرہ کو پلا لیں۔ پس جس نے چاہا پانی پیا اور پلایا (اور سب سیر ہو گیے) آخر میں اس شخص کو بھی ایک برتن میں پانی دیا جسے غسل کی ضرورت تھی۔ آپ نے فرمایا، لے جاؤ اور غسل کر لو۔ وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی سے کیا کیا کام لیے جا رہے ہیں اور اللہ کی قسم! جب پانی لیا جانا ان سے بند ہوا، تو ہم دیکھ رہے تھے کہ اب مشکیزوں میں پانی پہلے سے بھی زیادہ موجود تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کچھ اس کے لیے (کھانے کی چیز ) جمع کرو۔ لوگوں نے اس کے لیے عمدہ قسم کی کھجور ( عجوہ ) آٹا اور ستو اکٹھا کیا یہاں تک کہ بہت سارا کھانا اس کے لیے جمع ہو گیا۔ تو اسے لوگوں نے ایک کپڑے میں رکھا اور عورت کو اونٹ پر سوار کر کے اس کے سامنے وہ کپڑا رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دیا۔پھر وہ اپنے گھر آئی، دیر کافی ہو چکی تھی اس لیے گھر والوں نے پوچھا کہ اے فلانی! کیوں اتنی دیر ہوئی؟ اس نے کہا، ایک عجیب بات ہوئی وہ یہ کہ مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھے اس شخص کے پاس لے گیے جسے لوگ صابی کہتے ہیں۔ وہاں اس طرح کا واقعہ پیش آیا، اللہ کی قسم! وہ تو اس کے اور اس کے درمیان سب سے بڑا جادوگر ہے اور اس نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اشارہ کیا۔ اس کی مراد آسمان اور زمین سے تھی۔ یا پھر وہ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ اس کے بعد مسلمان اس قبیلہ کے دور و نزدیک کے مشرکین پر حملے کیا کرتے تھے۔ لیکن اس گھرانے کو جس سے اس عورت کا تعلق تھا کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہ اچھا برتاؤ دیکھ کر ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ تمہیں جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ تو کیا تمہیں اسلام کی طرف کچھ رغبت ہے؟ قوم نے عورت کی بات مان لی اور اسلام لے آئی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث الشريف جملة من الأحكام والمعجزات التي ظهرت للصحابة رضوان الله عليهم؛ ذلك لأنهم كانوا في سفر وغلبهم النعاس وخرج وقت صلاة الفجر فما كان من النبي صلى الله عليه وسلم إلا أن أوضح لهم ما يجب عليهم فعله في مثل هذه الحال ألا وهو المبادرة لقضاء الصلاة.
والأمر الآخر أنه كان من بين الصحابة من أصابته جنابة ولم يكن معهم ماء فأمره النبي صلى الله عليه وسلم بالتيمم فظهر أنه في حال فقد الماء أجزأ التيمم عن الغسل.
والأمر الثالث وهو إحدى معجزات النبي صلى الله عليه وسلم أن الناس شكو إليه العطش وعدم الماء فأرسل من يبحث عن الماء فلم يجدوا ماء ووجدوا امرأة معها ماء في مزادتين لها فأخذوها للنبي صلى الله عليه وسلم فأخذ من مزادتيها ماءً ودعا الله تعالى حتى فاض الماء وجعل الصحابة يستقون ويسقون حتى من أصابته جنابة أخذ من الماء ما يغتسل به ثم أخذت المرأة مزادتيها وهي تقول وكأني بها أملأ من ذي قبل كما أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر أن يجمع لها من الطعام مكافأة لها، مما كان سبباً بعد ذلك في إسلامها وإسلام قومها.
575;س حدیث میں چند ایسے احکام اورمعجزات بیان کیے گیے ہیں جو صحابہ کے سامنے ظاہر ہوئے تھے۔ واقعہ یوں ہے کہ صحابہ کرام ایک سفر پر تھے کہ ان پر نیند غالب آ گئی اور نمازِ فجر کا وقت نکل گیا۔ایسی حالت میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کو جو چیزبتائی تھی وہ یہی تھی کہ قضاء نماز کو ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
اور دوسرا معاملہ یہ تھا کہ صحابہ میں سے کوئی جنبی بھی ہو گیا اور ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو تیمم کا حکم دیا۔ تو اس سے یہ پتہ چلا کہ پانی کی غیر موجودگی میں تیمم غسل سے کفایت کر جاتا ہے۔
تیسرا معاملہ: آپ ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا، ہوا یہ کہ لوگوں نے آپﷺ کے سامنے پیاس اور پانی کی غیر موجودگی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو پانی تلاش کرنے کے لیے بھیجا لیکن انہیں کہیں سے بھی پانی نہ ملا۔ انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے تو وہ اس کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے۔ آپﷺ نے اس سے ایک مشکیزہ پکڑا،اوراللہ تعالیٰ سے دعا کی یہاں تک کہ پانی بہہ پڑا، صحابہ نے خود بھی پانی پیا ،اپنے جانوروں کو بھی پلایا یہاں تک کہ جو شخص جنبی تھا اس نے بھی پانی لیا اورغسل کیا۔ اس عورت نے اپنا مشکیزہ پکڑا اوریہ کہنے لگی کہ یہ تو ویسے کا ویسے ہی بھرا ہے جیسے پہلے بھرا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے کھانے پینے کا سامان اکٹھا کروا کر بطور محنتانہ بھی دیا جس کی وجہ سے آگے چل کر وہ خود بھی مسلمان ہو گئی اور اس کا پورا قبیلہ بھی مسلمان ہو گیا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8367

 
 
Hadith   1447   الحديث
الأهمية: أن قدح النبي -صلى الله عليه وسلم- انكسر، فاتخذ مكان الشعب سلسلة من فضة


Tema:

نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کا تار لگا کر اسے جوڑ دیا۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن قَدَحَ النبي -صلى الله عليه وسلم- انْكَسَرَ، فاتَّخَذَ مكان الشَّعْبِ سِلْسِلَةً من فِضة.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کا تار لگا کر اسے جوڑ دیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان للنبي -صلى الله عليه وسم- إناء يشرب فيه الماء، فانشق وانكسر؛ فاتخذ النبي -صلى الله عليه وسلم- قطعة من فضة، ووصل بها بين طرفي الشق.
606;بی ﷺ کا ایک برتن تھا جس میں آپ ﷺ پانی پیا کرتے تھے۔ یہ برتن ٹوٹ گیا تو آپ ﷺ نے چاندی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے ٹوٹے ہوئے دونوں اطراف کو باہم جوڑ دیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8368

 
 
Hadith   1448   الحديث
الأهمية: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الخمر تتخذ خلًّا؟ قال: «لا»


Tema:

نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: سُئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الخمر تُتَّخَذُ خَلًّا؟ قال: «لا».

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس بن مالك -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سئل عن حكم الخمر إذا عولجت حتى صارت خلًّا, وذلك بعد نزول تحريم الخمر, فنهى عن ذلك.
وعليه فالخمرة إذا حُوّلت إلى خلٍّ بأي طريقة كانت, سواء بوضع شيء فيها كخبز أو بصل أو خميرة أو حجر ونحو ذلك, أو بنقلها من الظل إلى الشمس أو العكس, أو بخلطها بمادة أخرى فهي على تحريمها، ولا ينقلها هذا التحويل عن حكمها، أما إذا تخللت بنفسها من دون عمل أحد فإنها تطهر بذلك وتباح.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شراب کا حکم دریافت کیا گیا، جسے اس وقت تک رکھا جائے کہ وہ سرکے میں تبدیل ہوجائے۔ یہ شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔
اسی کے مطابق اگر شراب کو کسی بھی طریقہ سے سرکے میں تبدیل کردیا جائے؛ چاہے اس میں روٹی، پیاز، خامرہ (انزیم) یا پتھر اور اس طرح کی کوئی شے ڈالی جائے یا اسے سایہ سے دھوپ میں لاکر رکھا جاۓ یا اس کے برعکس دھوپ سے سایے میں لاکر رکھا جاۓ یا اسے اور کسی چیز کے ساتھ ملادیا جائے، ان ساری صورتوں میں وہ اپنی اصل حرمت پر باقی رہے گی اور اس تصرف وتبدیلی سے اس کا حکم تبدیل نہیں ہوگا۔ تاہم اگر کسی کے عمل دخل کے بغیر از خود سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اس صورت میں وہ پاک اور مباح ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8369

 
 
Hadith   1449   الحديث
الأهمية: إن الله أعطى كل ذي حق حقه، ولا وصية لوارث، والولد للفراش، وللعاهر الحَجَر، ومن ادَّعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله، لا يقبل الله منه صرفًا ولا عدلًا


Tema:

اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف (اپنے بیٹے ہونے کی) نسبت کرے یا (جو غلام) اسے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے؛ انھیں ناپسند کرتے ہوئے، تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ نفلی عبادت قبول فرمائے گا اور نہ فرض۔

عن عمرو بن خارجة -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- خطب على ناقته وأنا تحت جِرَانِها وهي تَقْصَع بِجِرَّتِها، وإن لُعابها يَسِيل بين كتفيَّ فسمعتُه يقول: «إن الله أعطى كلِّ ذي حقٍّ حقَّه، ولا وصيَّةَ لِوارث، والولَد لِلْفِراش، وللعاهِرِ الحَجَر، ومن ادَّعى إلى غير أبِيهِ أو انْتمى إلى غير مَوَاليه رغبةً عنهم فعَلِيه لعنةُ الله، لا يَقْبَلُ الله منه صَرْفا ولا عَدْلا».

عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کاندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف (اپنے بیٹے ہونے کی) نسبت کرے یا (جو غلام) اسے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے؛ انھیں ناپسند کرتے ہوئے، تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ نفلی عبادت قبول فرمائے گا اور نہ فرض“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر عمرو بن خارجة -رضي الله عنه- أنه كان مع النبي -صلى الله عليه وسلم- قريبًا منه, فخطب -عليه الصلاة والسلام- الناس وهو على ناقته, ولعابها يسيل بين كتفي عمرو, وذكر أن النبي -صلى الله عليه وسلم- بيّن -في خطبته هذه- جملة من الأحكام, منها أن الله -تعالى- قد أعطى كل ذي حق حقه, وبيَّن له حظه ونصيبه الذي فُرض له فلا تجوز الوصية للوارث, ثم بيَّن أن الولد للفراش, فلا ينسب إلا إلى صاحب الفراش، سواء كان زوجًا أو سيدًا، وليس للزاني في نسبةٍ حظٌّ, إنما الذي جُعل له من فعله الخيبة، واستحقاق الحد، ثم بين حرمة انتساب الإنسان لغير أبيه, أو انتساب المولى المعتَق لغير مواليه الذين أعتقوه, ووضح أن من انتسب إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه, أو انتمى إلى غير مواليه استوجب اللعن من الله -تعالى-, وأنه جل وعلا لا يقبل منه فرضًا ولا نفلًا.
593;مرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے قریب موجود تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام ،اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور اس اونٹنی کا لعاب بہتے ہوئے عمرو کے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اس خطبے میں کچھ احکام کی وضاحت فرمائی،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے اور اس کے حق میں پہنچنے والے فرض کردہ حصے اور متعین مقدار کو واضح کردیاہے؛ لہٰذا وارث کے لیے وصیت کرنے کا اب کوئی جواز باقی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بیان کیا کہ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ بستر والے کا ہوگا؛ لہٰذا اس بچے کی نسبت بستر والے کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کی جائے گی، چاہے وہ صاحب فراش شوہر ہو یا مالک۔ زانی کو بچے کی نسبت اپنی طرف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کی بدکاری کے نتیجے میں اس کے حق میں رسوائی و نامرادی ہے اور اس پر حد جاری کیے جانے کا حکم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی حرمت بیان فرمائی کہ کوئی انسان خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا غلام اپنی نسبت، اس کو آزاد کرنے والے مالکان کے علاوہ کسی اور کی جانب کرے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمادیا کہ غیر باپ کی طرف انتساب کرنا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، یا غلام کا اسے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی جانب منسوب ہونا، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے۔ اللہ جل و علا کی ذات ایسے شخص کی کوئی فرض اور نفل نیکی نہیں قبول فرمائے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8370

 
 
Hadith   1450   الحديث
الأهمية: يغسل من بول الجارية، ويرش من بول الغلام


Tema:

لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔

عن أبي السَّمْح قال: كنت أخْدُم النبي -صلى الله عليه وسلم-، فكان إذا أراد أن يغتسل قال: «وَلِّني قَفَاك». فأوَلِّيه قَفَايَ فأَسْتُره به، فأُتِيَ بحسن أو حسين -رضي الله عنهما- فَبَال على صدره فجئتُ أغسله فقال: «يُغسَلُ مِنْ بوْل الجاريَة، ويُرَشُّ مِنْ بوْل الغُلام».

ابو سمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا۔ جب آپ ﷺ غسل کرنا چاہتے، تو مجھ سے فرماتے کہ تم اپنی پیٹھ میری جانب کر دو، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا۔ (ایک مرتبہ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو انھوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا۔ میں اسے دھونے کے لیے بڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يذكر أبو السمح -رضي الله عنه- أنه كان يخدم النبي -صلى الله عليه وسلم-, وأنه -عليه الصلاة والسلام- ربما أراد أن يغتسل فيطلب من أبي السمح أن يوليه ظهره, فكان يستر النبي -صلى الله عليه وسلم- بجسمه بحيث يجعل ظهره مما يلي النبي -صلى الله عليه وسلم- فيستره عن الناس وعن نفسه, ثم ذكر حادثة وقعت له مع النبي -صلى الله عليه وسلم-, حيث أتي بالحسن أو الحسين فبال على ثياب النبي -صلى الله عليه وسلم- من جهة صدره, فأراد أبو السمح أن يغسله, فبيَّن له النبي -صلى الله عليه وسلم- أن بول الرضيع الذي لم يأكل الطعام يكفي في تطهيره -إن أصاب الثوب- أن يُرش بالماء رشّا يعم مكان البول, ولا يجب غسله, بخلاف بول الجارية فالواجب غسل الثوب منه, ولو كانت رضيعة, ومما ذكره أهل العلم من وجوه الفرق بين الصبي والصبية:
- كثرة حمل الرجال والنساء للطفل الذكر، فتعم البلوى ببوله فيشق غسله.


- أن بوله يخرج بقوة وشدة دفع، فينتشر وتكثر الإصابة منه، فيشق غسل ما أصابه كله، بخلاف بول الأنثى.
- أن بول الأنثى أخبث وأنتن من بول الذكر، وسببه حرارة الذكر، ورطوبة الأنثى، فالحرارة تخفف من نتن البول، وتذيب منها ما يحصل مع الرطوبة.
هذه من الحِكَمِ التي تلمَّسها العلماء للفرق بين بول الغلام وبين بول الجارية، فإنْ صحَّتْ، فهي حِكَمٌ معقولة؛ لأنَّها فروق واضحة، وإنْ لم تصح فالحكمة هي حُكْمُ الله تعالى؛ فإنَّنا نعلم يقينا أنَّ شرع الله هو الحكمة؛ فانَّ الشرع لا يفرِّقُ بين شيئين متماثلين في الظاهر، إلاَّ والحكمة تقتضي التفريق، ولا يجمع بينهما إلاَّ والحكمة تقتضي الجمع؛ لأنَّ أحكام الله لا تكون إلاَّ وفق المصلحة؛ ولكن قَدْ تظهر وقد لا تظهر.
575;بو سمح رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور جب کبھی آپ ﷺ غسل کا ارادہ فرماتے، تو ابو سمح کو ہدایت دیتے کہ وہ اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے کھڑے ہوجائیں اور ابو سمح اپنے جسم کے ذریعے نبی ﷺ کو یوں آڑ میں لے کر کھڑے ہوجاتے کہ ان کی پشت نبی ﷺ سے قریب ہوتی۔ اس طرح آپ ﷺ کا لوگوں سے اور خود سے ستر فرماتے۔ انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو ان کی موجودگی میں نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا کہ آپ کی خدمت میں حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو لایا گیا اور انھوں نے آپ کے سینے کی جگہ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ لیکن جب ابو سمح رضی اللہ عنہ نے اس کو دھونا چاہا، تو آپ ﷺ نے ان سے اس مسئلے کی بابت وضاحت فرمائی کہ تاحال کھانا کھانا شروع نہ کرنے والے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کی پاکی کے لیے (اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے) بس اتنا کافی ہے کہ جہاں پیشاب لگا ہو ،اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا جائے، اسے دھونا واجب نہیں۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کو کپڑوں سے دھونا واجب ہے؛ چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔
لڑکا اور لڑکی کے مابین کیے گئے فرق کی وجوہات کے تئیں اہل علم کا کہنہا ہے کہ نرینہ اولاد کو مرد اور خواتین بکثرت اٹھائے پھرتے ہیں، جس کی بنا پر اس کے پیشاب کی وجہ سے ہونے والی مشقت بہت عام ہوتی ہے اور اس طرح اسے دھونا دشواری کا باعث ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکے کے پیشاب کے بالمقابل، لڑکی کے پیشاب میں گندگی اور بدبو کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے؛ کیوں کہ بچے کے پیشاب میں حرارت اور لڑکی کے پیشاب میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا حرارت، پیشاب کی بدبو کے اثرات کی شدت کو گھٹا دیتی ہے اور پیشاب سے اس چیز کو تحلیل کردیتی ہے، جو رطوبت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔
لڑکا اور لڑکی کے پیشاب میں جو فرق ہے اس کے متعلق یہ کچھ حکمتیں ہیں جنہیں علماء کرام نے بیان کی ہیں، اگر یہ صحیح ہیں تو بہت ہی معقول حکمتیں ہیں اس لیے کہ فرق بلکل واضح ہے، اور اگر یہ حکمتیں صحیح نہیں ہیں تو اس حکم میں اصل حکمت تو ہے ہی، یعنی کہ یہ اللہ تعالی کا حُکم ہے، اور ہم یہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت ہی عین حکمت ہے، یقینا شریعت بظاہر ایک جیسی دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کرتی مگر یہ کہ حقیقی معنوں میں ان میں فرق موجود ہو، اسی طرح شریعت کسی دو چیزوں کو جمع نہیں کرتی مگر یہ کہ ان کو جمع کرنا ہی حکمت کا عین تقاضہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کے احکام مصلحت کے عین موافق ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ مصلحتیں کبھی ظاہر ہو جاتی ہیں تو کبھی مخفی رہتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8371

 
 
Hadith   1451   الحديث
الأهمية: تحته، ثم تقرصه بالماء، وتنضحه، وتصلي فيه


Tema:

(پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

عن أسماءَ -رضي الله عنها- قالت: جاءت امرأةٌ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- فقالت: أرأَيْتَ إحدانا تَحِيضُ في الثَّوب، كيف تصنعُ؟ قال: «تَحُتُّهُ، ثم تَقْرُصُه بالماء، وتَنْضَحُه، وتُصَلِّي فيه».

اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ذرا یہ بتائیں کہ ہم میں سے کسی کو کپڑے میں حیض آ جائے، تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكرت أسماء -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سُئل عن دم الحيض يصيب الثوب، فبيَّن -صلى الله عليه وسلم- كيفية إزالته من الثوب بأن تبدأ المرأة بحكِّه؛ لكي تزول عينه, ثم تَدلك موضع الدم بأطراف أصابعها؛ ليتحلل بذلك ويخرج ما يشربه الثوب منه, ثم تغسله بعد ذلك لتزول بقيَّة نجاسته، فيراعى فيه هذا الترتيب الذي هو الأمثل في إزالة النجاسة اليابسة؛ لأنَّه لو عكس لانتشرت النَّجاسة، فأصابت ما لم تصبه من قبل, ثم لها أن تصلي في ذلك الثوب الذي أصابه دم الحيض بعد تطهيره بهذه الطريقة.
575;سما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سے کپڑوں کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے کپڑے سے اس کو زائل کرنے کی کیفیت یوں بیان فرمائی کہ عورت سب سے پہلے اس کو کھرچے گی؛ تاکہ جما ہوا خون نکل جائے، پھر خون لگے مقام کو اپنی انگلیوں کے کناروں سے رگڑے گی؛ تاکہ اس کے ذریعہ اس کی سختی دور ہو جائے اور کپڑے میں جذب شدہ خون نکل جائے اور پھر اس کے بعد اس کو دھو ئے گی؛ تاکہ بچی ہوئی نجاست زائل ہوجائے۔ اس ضمن میں اس ترتیب کا لحاظ رکھے، جو خشک نجاست کو دور کرنے میں نہایت ہی قابل عمل نمونہ ہے؛ کیوں کہ اگر اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے، تو نجاست پھیل کر اس جگہ بھی لگ جائے گی، جہاں قبل ازیں نہ لگی تھی۔ اس طرح اس عورت کے لیے جائز ہوگا کہ اس طریقے سے اس حیض کے کپڑے کو پاک کرنے کے بعد اسی میں نماز پڑھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8372

 
 
Hadith   1452   الحديث
الأهمية: يكفيك غسل الدم، ولا يضرك أثره


Tema:

خون کو دھو لینا تمھارے لیے کافی ہے، اس کا اثر (دھبہ) تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن خولةَ بنتَ يسار -رضي الله عنها- أتَتِ النبي -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسولَ الله إنه ليس لي إلا ثوبٌ واحدٌ وأنا أَحِيضُ فيه فكيْف أصنعُ؟ قال: «إذا طَهُرْتِ فاغْسِلِيهِ، ثم صَلِّي فيه». فقالت: فإنْ لم يَخرجِ الدَّمُ؟ قال: «يَكْفِيكِ غَسْلُ الدَّمِ، ولا يضُرُّكِ أَثَرُه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا، نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں، اسی میں مجھے حیض آتا ہے، میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم پاک ہو جاؤ( حیض رک جائے)، تو اسے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو“، اس پر خولہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اگر خون زائل نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خون کو دھو لینا تمھارے لیے کافی ہے، اس کا اثر (دھبہ) تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
ذكر أبو هريرة -رضي الله عنه في هذ الحديث أن خولة بنت يسار -رضي الله عنها- جاءت إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- تسأله, فذكرت أنها لا تملك إلا ثوبا واحدا, وقد يصيبه شيء من دم الحيض إذا جاءتها العادة, فماذا تصنع؟ فأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تغسله بالماء إذا جاءها الطهر, ثم تصلي فيه, فذكرت أن لون الدم بعد الحَتِّ والقرص والغسل -التي ذكرت في الأحاديث الأخرى- قد يبقى, فبيَّن لها أن الماء يكفي في طهارة الثوب, وأن اللون الذي يبقى بعد الاجتهاد وبذل الوسع في الطهارة لا يضر.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں یہ بات ذکر فرمائی کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنھا، نبی ﷺ کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے حاضر ہوئیں اور بتایا کہ ان کے پاس ایک کپڑے کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں ہے اور عادت کے مطابق جب کبھی حیض کا خون آتا ہے، تو کچھ خون اس میں لگ جاتا ہے، ایسی صورت میں کیا کروں گی؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں اس بات کا حکم دیا کہ جب وہ حیض سے پاک ہوجائیں، تو اس کپڑے کو پانی سے دھولیں اور پھر اس میں نماز ادا کرلیں۔ انھوں نے مزید دریافت کرتے ہوئے کہا کہ کھرچنے، پانی سے رگڑنے اور پانی سےدھونے (دوسری احادیث میں انھوں نے ان تین چیزوں کا ذکر کیا ہے) کے بعد بھی کبھی کبھی خون کا رنگ باقی رہ جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ کپڑے کی پاکی کے لیے پانی کافی ہے اور پاکی حاصل کرنے میں محنت اور حتی المقدور کوشش کے بعد باقی رہ جانے والےخون کے رنگ میں کوئی حرج نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8373

 
 
Hadith   1453   الحديث
الأهمية: لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك مع كل وضوء


Tema:

اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لَوْلا أنْ أَشُقِّ على أُمَّتِي لَأَمَرْتُهم بالسِّواكِ مع كلِّ وُضُوء».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کو مشقت و تکلیف میں مبتلا کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انھیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
بيّن النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث أنه لولا ما خشيَه من لُحوق الجهد والمشقة والشدة بأمته وأتباعه الذين آمنوا به: لأمرهم أمر إلزام وفرض بأن يستاكوا مع كل وضوء, ولكنه امتنع عن ذلك رحمة بهم وشفقة عليهم, ولم يجعله من الفرائض المتحتمة, وإنما من السنن المستحبة التي يثاب فاعلها ولا يعاقب تاركها.
575;س حدیث میں نبی ﷺ یہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی امت اور اہل ایمان کے صبر آزما محنت و مشقت اور دشواری سے دوچار ہونے کا خدشہ نہ ہوتا، تو آپ انھیں وجوبی طور پر حکم دیتے کہ وہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کیا کریں، لیکن آپ نے اپنی امت پر رحمت و شفقت کا خیال رکھتے ہوئے وجوبی حکم سے احتراز فرمایا اور اس عمل کو حتمی و قطعی فرائض میں شامل نہیں کیا؛ لہٰذا یہ ان مستحب سنتوں میں سے ہے، جن پر عمل کرنے والے کو اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے اور چھوڑنے والا سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8374

 
 
Hadith   1454   الحديث
الأهمية: من سره أن يعلم وضوء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فهو هذا


Tema:

جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ)وہ یہی ہے۔

عن عبْدِ خيْرٍقال: أتانا علي -رضي الله عنه- وقد صلَّى فدعا بطَهور، فقلنا ما يصنع بالطَّهور وقد صلَّى ما يُريد، إلا ليعلِّمَنا، فأُتِي بإناء فيه ماء وطَسْت، فأفْرَغَ من الإناء على يمينه، فغسل يديه ثلاثا، ثم تَمَضْمَضَ واسْتَنْثَر ثلاثا، فمَضْمَض ونَثَرَ من الكفِّ الذي يأخُذ فِيه، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يده اليمنى ثلاثا، وغسل يده الشِّمال ثلاثا، ثم جعل يده في الإناء فمسَحَ بِرأسه مرَّة واحدة، ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا، ورِجْلَه الشمال ثلاثا. ثم قال: «مَنْ سرَّه أن يعْلَم وُضُوء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فهو هذا».

عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نماز پڑھ چکے تھے،(پھر بھی) وضو کا پانی منگوایا، تو ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا: آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، جب کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں ؟ شاید آپ ہمیں وضو کا طریقہ سکھانا چاہتے ہوں گے! خیر پانی بھرا ہوا ایک برتن اور ایک طشت لایا گیا۔ آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی؛ آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے۔ پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا۔ پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اوراپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا۔ پھر فرمایا: ”جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے، تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث بطوله بين صفة وضوء النبي -صلى الله عليه وسلم-, يذكر فيه عبد خير، أن عليا -رضي الله عنه- أتاهم بعدما صلى, فدعا بماء, فاستغربوا طلبه هذا لكونه قد صلى, ثم عرفوا أنه أراد أن يعلّمهم صفة وضوء النبي -صلى الله عليه وسلم-, فجاؤوه بماء في إناء, فصب من الإناء على يمينه فغسل يديه ثلاث مرات, ثم تمضمض واستنثر ثلاث مرات, يمضمض ويستنثر من نفس الكف الذي يأخذ منه الماء, ثم غسل وجهه ثلاث مرات, وحدود الوجه من منابت شعر الرأس المعتاد إلى الذقن مع ظاهر اللحية، ومن الأذن إلى الأذن، ثم يغسل يده اليمنى إلى المرفقين ثلاث مرات, ثم اليسرى كذلك, والمرفقان داخلان في الغسل، ثم مسح رأسه مرة واحدة, ثم غسل رجله اليُمنى ثلاث مرات، ثم رجله اليسرى ثلاث مرات، ثم ذكر أن هذا هو وُضوء رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-.
575;س پوری حدیث میں نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ عبد خیر اس بات کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر لینے کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور پانی منگوایا۔ حاضرین کو یہ امر عجیب لگا کہ نماز پڑھ لینے کے باوجود آپ پانی طلب فرمارہے ہیں۔ پھر وہ خود جان گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں نبی ﷺ کے وضو طریقہ سکھانا چاہتے ہیں۔چنانچہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کو پانی سے بھرا برتن لاکر دیا۔ انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر برتن سے پانی انڈیلتے ہوئے اس کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی۔ ایک چلو پانی ہی سے کلی کی اور ناک بھی جھاڑی۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ چہرے کے حدود میں سر کے بالوں کے آغاز سے لے کر داڑھی کے ظاہری حصے کے ساتھ ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک کا حصہ آتا ہے۔ پھر تین تین مرتبہ اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا۔ دونوں ہاتھوں کے دھونے میں کہنیاں شامل ہیں۔ پھر ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح فرمایا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں تین تین مرتبہ دھویا۔ بعد ازاں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8375

 
 
Hadith   1455   الحديث
الأهمية: إذا استيقظ أحدكم من منامه فتوضأ فليستنثر ثلاثا، فإن الشيطان يبيت على خيشومه


Tema:

جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو اور وضو کا ارادہ کرے تو تین مرتبہ اپنی ناک جھاڑ کر صاف کرے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسے پر رات گزارتا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-  قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا اسْتَيقظَ أحدُكم من منامه فتوضأَ فليَستنثرْ ثلاثا، فإن الشيطان يبيت على خَيشُومه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو اور وضو کا ارادہ کرے تو تین مرتبہ اپنی ناک جھاڑ کر صاف کرے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسے پر رات گزارتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا استيقظ أحدكم من نومه فتوضأ": أي: أراد الوضوء.
"فليستنثر": أي: ليغسل داخل أنفه " ثلاثا "، وجاء التعليل النبوي لهذا الاستنثار للقائم من نوم ليله؛ بقوله: "فإن الشيطان" الفاء للسببية "يبيت على خيشومه": يعني: أن الشيطان إذا لم يمكنه الوسوسة عند النوم لزوال الإحساس يبيت على أقصى أنفه؛ ليلقي في دماغه الرؤيا الفاسدة، ويمنعه عن الرؤيا الصالحة، لأن محله الدماغ فأمر -صلى الله عليه وسلم- أن يغسلوا داخل أنوفهم لإزالة لوث الشيطان ونتنه منها، وبيتوتة الشيطان حقيقية، فإن الأنف أحد المنافذ إلى القلب وليس عليه ولا على الأذنين غلق، وفي الحديث: إن الشيطان لا يفتح الغلق وجاء الأمر بكظم الفم في التثاؤب من أجل عدم دخول الشيطان في الفم.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ“ یعنی وہ وضو کا ارادہ کرے۔ ”فَلْيَسْتَنْثِرْ“ یعنی اپنی ناک کے اندرونی حصے کو تین مرتبہ دھلے۔ رات کی نیند سے سو کر جاگنے والے کے لئے اپنی ناک کو جھاڑنے کی علت نبی ﷺ نے اپنے اس فرمان کے ذریعہ بیان کی ہے: ”فَإِنَّ الشَّيْطَانَ“ (کیوں کہ شیطان) یہاں فا سببیہ ہے۔ ”يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ“ یعنی سوتے ہوئے چونکہ احساس باقی نہیں رہتا اور اس کی وجہ سے شیطان وسوسہ نہیں ڈال سکتا اس لئے وہ ناک کے اوپر والے حصے پر رات گزارتا ہے تا کہ سونے والے شخص کے دماغ میں برے خواب ڈال سکے اور اسے اچھے خواب دیکھنے سے روک سکے کیونکہ خوابوں کی جگہ دماغ ہوتی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ناک سے شیطان کی گندگی اور بدبو کے ازالہ کے لئے لوگ اسے دھوئیں۔ شیطان کا ناک میں رات گزارنا حقیقت ہے۔ کیوں کہ ناک دل تک جانے والے راستوں میں سے ایک ہے اور اس پر اور کانوں پر کوئی بندش نہیں ہوتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ شیطان بندش کو نہیں کھول سکتا۔ نیز جمائی آنے پر منہ کو بند کرنے کا حکم ہےاسی لیے آیا ہے تاکہ شیطان اس میں داخل نہ ہو سکے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8377

 
 
Hadith   1456   الحديث
الأهمية: أسبغ الوضوء، وخلل بين الأصابع، وبالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائما


Tema:

وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے دار ہو۔

عن لقيط بن صبرة -رضي الله عنه- قال: كنتُ وافد بني المنتفِق -أو في وفد بني المنتفِق- إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: فلمَّا قدِمْنا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فلم نُصادفْه في منزله، وصادفنا عائشة أم المؤمنين، قال: فأمرَتْ لنا بخَزِيرَةٍ فصُنِعت لنا، قال: وأتينا بقِنَاع (ولم يقل قتيبة: "القناع". والقناع: الطبق فيه تمر)، ثم جاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «هل أصبتم شيئا؟ -أو أُمِر لكم بشيء؟-» قال: قلنا: نعم، يا رسول الله.
قال: فبينا نحن مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جلوس، إذ دَفَعَ الراعي غَنَمَهُ إلى المُرَاح، ومعه سَخْلَةٌ تَيْعَر، فقال: «ما ولدت يا فلان؟»، قال: بهْمَة، قال: «فاذبح لنا مكانها شاة»، ثم قال: "لا تحْسَبنَّ، -ولم يقل: لا تحسِبن- أنا من أجلك ذبحناها، لنا غنم مائة لا نريد أن تزيد، فإذا ولد الراعي بهمة، ذبحنا مكانها شاة".
قال: قلت: يا رسول الله، إن لي امرأة وإن في لسانها شيئا -يعني البَذَاء-؟ قال: «فَطَلِّقْها إذًا»، قال: قلت: يا رسول الله إن لها صُحْبَة، ولي منها ولد، قال: "فمرها -يقول: عظها- فإن يك فيها خير فستفعل، ولا تضرب ظَعِيَنَتَك كضربك أُمَيّتَكَ".
فقلت: يا رسول الله، أخبرني عن الوضوء؟ قال: « أَسْبِغ الوضوء، وَخَلِّلْ بين الأصابع، وَبَالغْ في الاسْتِنْشَاق إلا أن تكون صائما».

لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ گھر میں نہیں ملے۔ ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں۔ انھوں نے ہمارے لیے خزیر
۱ (   ایک قسم کا کھانا) تیار کرنے کا حکم کیا۔ وہ تیار کیا گیا۔ ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں "قناع" کا لفظ نہیں کہا ہے۔ "قناع" اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی ہوئی ہو) پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا تم لوگوں نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمھارے لیے کسی چیز کا حکم دیا گیا؟“ ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول!
ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا۔ اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا، جو ممیا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے(اس سے) پوچھا:”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“ اس نے جواب دیا: مادہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اس کی جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ بالکل نہ سمجھنا -لقیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ”تحْسَبنَّ“ سین کے فتحہ (زبر) کے ساتھ ادا فرمایا، کسرہ (زیر) کے ساتھ نہیں-کہ ہم نے اسے تمھارے لیے ذبح کیا ہے؛ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں۔ ہم انھیں بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔
لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، جو زبان دراز ہے(میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے!! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے، تو تمھاری اطاعت کرے گی اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو، جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔
پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کیاکرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو"۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين لنا الصحابي الجليل لقيط بن صبرة -رضي الله عنه- أنه كان وافد قومه إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-, ومن عادة الوفود أن يسألوا النبي -صلى الله عليه وسلم- عما يهمهم ويشكل عليهم، وقدمت لهم عائشة حساء وتمرًا، ورأوا راعيًا للنبي -صلى الله عليه وسلم- ومعه شاة مولودة صغيرة، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يذبح شاة، وأخبر الوفد أنه لم يذبحها من أجله حتى لا يظن أنه تكلف في الضيافة فيرفض، وكان من أسئلته -رضي الله عنه- أنه سأل عن كيفية التعامل مع الزوجة في حال كان لسانها بذيئاً، فأخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن العلاج في وعظها إن كان فيها خير وإلا فالطلاق، كما أمره -عليه السلام- بأن لا يضرب زوجته ضرب الأمة،
كذلك سأل عن الوضوء فبين له النبي -صلى الله عليه وسلم- وجوب الإسباغ بمعنى إكمال غسل كل عضو يغسل من أعضاء الوضوء وإكمال مسح ما يمسح، وسنية التخليل، وذلك لضمان وصول الماء لأعضاء الوضوء، أما إذا كان الماء لا يصل لما بين الأصابع إلا بالتخليل فهذا من الإسباغ الواجب، ثم بين سنية المبالغة في الاستنشاق لغير الصائم خشية أن يصل الماء لجوفه، وما يدل على سنيته وعدم وجوبه أنه مرغب فيه حال الفطر فقط.
580;لیل القدر صحابی لقیط بن صبرۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمارہے ہیں کہ وہ سردار کی حیثیت سے اپنی قوم کےایک وفد کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے۔ وفود کا یہ معمول تھا کہ وہ نبی ﷺ سے اپنے اہمیت کے حامل اور غیر واضح مسائل دریافت کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے شوربا( جس میں گوشت کو ابالے جانے کے بعد آٹا یا چاول ڈالا جاتا ہے) اور کھجور پیش کیے۔ (اسی دوران) نبی ﷺ کے چرواہے پر اس وفد کی نظر پڑی، جس کے ساتھ بکری کا ایک چھوٹا نومولود بچہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس چرواہے کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کردے اور وفد سے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ آپ نے اس وفد کی خاطر اس بکری کو ذبح نہیں کروایا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ گمان کربیٹھیں کہ آپ نے پرتکلف مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا ہے۔ اس لیے آپ نے اس امکانی خیال کو دور فرمادیا۔ صحابی رسول ﷺ کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ بدزبان و بدگو بیوی کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس بیوی میں کچھ خیر و بھلائی موجود ہوتو اس کے حق میں وعظ و نصیحت کارگر ہوجائے گی؛ ورنہ طلاق ہی اس کا حل ہے۔ نیز آپ نے انھیں اس بات کا بھی حکم دیا کہ اپنی بیوی کو اس طرح نہ ماریں پیٹیں، جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
نیز صحابی رسول ﷺ نے آپ سے وضو کے بارے میں استفسار کیا، تو آپ نے واضح فرمادیا کہ کامل وضو کرنا واجب ہے۔ یعنی وضو میں دھوئے جانے والے اعضا میں سے ہر عضو کو کامل طریقے سے دھویا جائے۔ مسح کامل طریقے سے کیا جائےاور انگلیوں کے درمیان خلال کی سنت کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ سب اس لیے تاکہ وضو کے تمام اعضا تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو جائےاور اگر خلال ہی کے ذریعہ پانی انگلیوں کے درمیان پہنچ سکتا ہو تو کامل طریقے سے وضو کا پانی پہنچانا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حد درجہ ناک میں پانی چڑھانے کی سنت کو واضح فرماتے ہوئے روزے دار کو اس خدشے کے ساتھ مستثنی فرمادیا کہ کہیں اس کے پیٹ میں پانی داخل نہ ہوجائے اور اس عمل کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ صرف عدم روزہ ہی میں اس کو پسندیدہ قرار دیا گیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8378

 
 
Hadith   1457   الحديث
الأهمية: رأيت عمار بن ياسر توضأ فخلل لحيته، فقيل له: -أو قال: فقلت له:- أتخلل لحيتك؟ قال: وما يمنعني؟ ولقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخلل لحيته


Tema:

میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لئے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عن حسان بن بلال قال: رأيت عمار بن ياسر-رضي الله عنه- توضأ فخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، فقيل له: -أو قال: فقلت له:- أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَك؟ قال: «وما يمنعُني؟ ولقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يُخَلِّلُ لِحْيَتَه».

حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لیے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر حسان بن بلال أنه رأى عمار بن ياسر يخلل لحيته في الوضوء، فسأله عن تخليل اللحية في الوضوء، كأنه تعجب من هذه الصفة التي لم يكن يعلمها من قبل إلا عندما رأى عمار بن ياسر يفعل ذلك.  
فأجابه عمار -رضي الله عنه- بأنه ليس هناك ما يمنع من تخليلها، وقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يفعل ذلك.
وتخليل اللحية له صفتان:
الأولى: أن يأخذ كَفَّا من ماء، ويجعله تحتها ويَعْرُكُها حتى تتخلل به.
الثانية: أن يأخذ كَفَّا من ماء، ويخللها بأصابعه كالمُشْط.
581;سان بن بلال بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دوران وضو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے ان سے وضو میں داڑھی کا خلال کرنے کے بارے میں پوچھا۔ گویا کہ ایسے طریقے سے وضو کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا جس سے وہ پہلے واقف نہیں تھے بلکہ انہیں اس کا تب ہی علم ہوا تھا جب عمار بن یاسر کو انہوں نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ کوئی ایسی بات نہیں جو داڑھی کے خلال میں مانع ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
داڑھی کے خلال کے دو طریقے ہیں:
اول: ایک یہ کہ آدمی پانی کا ایک چلو لے اور اسے داڑھی کے نیچے لے جائے اور پھر اسے ملے یہاں تک کہ اس میں پانی گھس جائے۔
دوم: پانی کا چلو لے اور اپنی انگلیوں کو اس میں ایسے پھیرتے ہوئے خلال کرے جیسے کنگھی پھیری جاتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8379

 
 
Hadith   1458   الحديث
الأهمية: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بثلثي مد فجعل يدلك ذراعه


Tema:

نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیا

عن عبد الله بن زيد -رضي الله عنه- مرفوعاً: «أن النبي صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ فجعل يَدْلُكُ ذِرَاعَه».

عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث يخبرنا عبد الله بن زيد -رضي الله عنه- عن كَمِّية الماء التي يتوضأ بها النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو أنه كان يتوضأ بِثُلُثَيْ مُدٍّ، إلا أنه يؤدي الغَرض من غير إسْرَاف، وأنه -صلى الله عليه وسلم- جعل يَدْلُك ذِرَاعه؛ وذلك لأجل إيصال الماء إلى جميع العضو المغسول.
575;س حدیث میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہمیں اس پانی کی مقدار کے بارے میں بتا رہے ہیں جس سے نبی ﷺ وضو کیا کرتے تھے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ دو تہائی مد سے وضو فرمایا کرتے تھے (اگرچہ یہ مقدار کم تھی) تاہم اس سے بغیر کسی اسراف کے مقصود پورا ہو جاتا تھا اور یہ کہ نبی ﷺ نےاپنا بازو ملنا شروع کردیا تاکہ پانی کو دھوئے جانے والے سارے عضو تک پہنچایا جا سکے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8380

 
 
Hadith   1459   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- توضأ فمضمض، ثم استنثر، ثم غسل وجهه ثلاثا، ويده اليمنى ثلاثا والأخرى ثلاثا، ومسح برأسه بماء غير فضل يده، وغسل رجليه حتى أنقاهما


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور داہنا ہاتھ تین بار دھویا اور دوسرا تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہو ئے پا نی کے علا وہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا

عن عبد الله بن زيد -رضي الله عنه- يَذْكُر أنه: «رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- توضأ فَمَضْمَض، ثم اسْتَنْثَرَ، ثم غسل وجهه ثلاثا، ويَدَه اليُمنى ثلاثا والأخرى ثلاثا، ومسح برأسه بماء غير فَضْلِ يَدِهِ، وغسل رجْلَيْه حتى أنْقَاهُما».

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور داہنا ہاتھ تین بار دھویا اور دوسرا تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہو ئے پا نی کے علا وہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن زيد -رضي الله عنه- عن كيفية وضوء النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبر أنه توضأ، فأدخل الماء في فمه ثم أداره ثم مجه، ثم أدخل الماء في أنفه وأخرجه، ثم غسل وجهه ثلاث مرات، ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاث مرات، ثم اليسرى إلى المرفق ثلاث مرات، ثم مسح رأسه بماء جديد، ثم غسل رجليه إلى الكعبين حتى أزال الوسخ عنهما.
593;بداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کی کیفیت ذکر کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے پانی کو منہ میں داخل کیا، پھر اس کو گھمایا، پھر کلی کی، پھر پانی کو ناک میں داخل کیا اور باہر نکالا پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر داہنا ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح نئے پانی سے کیا اور پھر اپنے دونوں پیر دھوئے ٹخنوں تک یہاں تک کہ ان سے گندگی کو صاف کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8381

 
 
Hadith   1460   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- توضأ، فمسح بناصيته، وعلى العمامة والخفين


Tema:

نبی ﷺ نے وضو کیا اور اپنی پیشانی، عمامہ اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔

عن المغيرة بن شعبة -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- توضأ، فمسح بِنَاصِيَتِهِ، وعلى العِمَامة والخُفَّين.

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا اور اپنی پیشانی، عمامہ اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر المغيرة بن شعبة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- مسح على ناصيته وهي: مقدَّم شعر الرأس، ثم أكمل المسح على العمامة، ولم يقتصر على المسح على بعض الرأس، بل كمل المسح على العمامة، ومن هديه -صلى الله عليه وسلم- أيضا المسح على الخفين، كما في هذا الحديث وغيره.
605;غیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی پیشانی کے بالوں پر مسح فرمایا۔''ناصية'' سر کے بالوں کے اگلے حصے کو کہتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے عمامہ پر مسح کو پورا کیا۔ آپ ﷺ نے سر کے کچھ حصے پر مسح کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ عمامہ پر مسح کر کے اسے مکمل کیا۔ موزوں پر مسح کرنا بھی آپ ﷺ کی سنت ہے۔ جیسا کہ اس حدیث اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8382

 
 
Hadith   1461   الحديث
الأهمية: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا توضأ أدار الماء على مرفقيه


Tema:

نبی ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی کہنیوں پر اچھی طرح پانی ڈالتے۔

عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما- قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا توضأ أدار الماء على مِرْفَقَيْهِ.

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی کہنیوں پر اچھی طرح پانی ڈالتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يبين الحديث أن من واجبات الوضوء غسل اليدين إلى المرفقين، والتأكيد على تعميم المرفقين يبين دخولهما في غسل اليدين.
581;دیث میں اس بات کا بیان ہے کہ وضو کے واجبات میں سے ایک چیز ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ہے اور کہنیوں کو دھونے کی تاکید سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ ان دونوں کا دھونا بھی ہاتھوں کے دھونے میں شامل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8383

 
 
Hadith   1462   الحديث
الأهمية: لا صلاة لمن لا وضوء له، ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله تعالى عليه


Tema:

اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں اور اس شخص کا وضو نہیں، جس نے وضو کے شروع میں ”بسم الله“ نہیں کہا۔

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا صلاةَ لِمن لا وُضوءَ له، ولا وُضوءَ لِمن لم يَذْكر اسم الله -تعالى- عليه».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں اور اس شخص کا وضو نہیں، جس نے وضو کے شروع میں ”بسم الله“ نہیں کہا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- في هذا الحديث عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه حكم بعدم صحة صلاة من لم يتوضأ، كما حكم بعدم صحة وضوء من لم يذكر اسم الله عليه, فلم يقل: بسم الله. قبل الوضوء، فالحديث نص في وجوب التسمية عند الوضوء، ومن تركها عمدا فوضوءه باطل, ومن توضأ بدون تسمية ناسيا أو جاهلا بالحكم الشرعي فوضوءه صحيح.
575;بو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی اس بات سےعلم و آگہی دے رہے ہیں کہ آپ نے بے وضو نماز ادا کرنے والے کی نماز کو باطل قرار دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے وضو سے پہلے ”بسم اللہ“ پڑھے بغیر کیے جانے والے وضو کو باطل قرار دیا۔ لہذا اس حدیث میں وضو کرتے وقت ”بسم اللہ“ کہنے کے وجوب کی دلیل ملتی ہے اور یہ کہ جس نے جان بوجھ کر بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو باطل ہے۔ البتہ جس نے بھول کر یا شرعی حکم سے ناواقفیت کی بنا پر بسم اللہ کہے بغیر وضو کرلیا، اس کا وضو درست ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8384

 
 
Hadith   1463   الحديث
الأهمية: ارجع فأحسن وضوءك


Tema:

واپس جاؤ اور اچھى طرح سے وضو کرو۔

عن عمر بن الخطاب: أن رجلا توضأ، فتَرك مَوْضِع ظُفُر على قَدَمِه، فَأَبْصَرَهُ النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «ارْجِع فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ» فرجَع، ثم صلَّى.

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن کی جگہ کو (دھوئے بغیر) چھوڑ دیا۔ نبی ﷺ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا: ”واپس جاؤ اور اچھی طرح سے وضو کرو“۔ چنانچہ وہ شخص واپس ہو گیا اور پھر نماز پڑھی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- أن رجلا توضأ ولم يتم وضوؤه كما أمره الله، بل تَرك مَوْضِع ظُفُر على قَدَمِه، فتجاوزه من غير أن يَمُرَّ عليه الماء، فرأى النبي -صلى الله عليه وسلم- ذلك، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يرجع فيتوضأ وضوءا يأتي به على الوجه المشروع، بحيث لا يترك أي جزء من أجزاء الأعضاء التي يجب استيعابها بالماء، فرجع الرجل فتوضأ ثم صلى.
593;مر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک شخص نے وضو کیا، تاہم اس طرح مکمل طور پر نہیں کیا، جس کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے؛ بلکہ اپنے پاؤں میں ایک ناخن کے برابر جگہ پر سے پانی گزارے بغیر ہی اسے چھوڑ دیا۔ نبی ﷺ نے جب یہ دیکھا، تو اسے حکم دیا کہ وہ واپس جا کر پھر سے مشروع طریقے سے وضو کرے، بایں طور کہ اعضاے وضو کے ان اجزا میں سے کسی بھی جز کو نہ چھوڑے، جن تک پوری طرح سےپانی بہانا واجب ہے۔ چنانچہ اس نے واپس جاکر دوبارہ وضو کیا اور پھر نماز پڑھی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8386

 
 
Hadith   1464   الحديث
الأهمية: كان النبي صلى الله عليه وسلم يغسل، أو كان يغتسل، بالصاع إلى خمسة أمداد، ويتوضأ بالمد


Tema:

نبی ﷺ جب دھوتے یا ( یہ کہا کہ ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک ( پانی استعمال فرماتے تھے ) اور جب وضو کرتے تو ایک مد ( پانی ) سے کرتے۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يغسل، أو كان يغْتَسِل، بالصَّاع إلى خَمْسة أمداد، ويَتَوضأ بالمُدِّ».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب دھوتے یا ( یہ کہا کہ ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک (پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو کرتے تو ایک مُدّ ( پانی ) سے کرتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحدث أنس -رضي الله عنه- فيقول: "كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد" أي كان يقتصد في الماء الذي يتطهر به، فغالباً ما كان يقتصر في غسله على قدر صاع من الماء، وهو أربعة أمداد، وربما زاد على ذلك، فاغتسل بخمسة أمداد على حسب حاجة جسمه.
وقوله "ويتوضأ بالمد" وهو رطل وثلث.
575;نس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد پانی تک سے نہایا کرتے تھے۔ یعنی آپ ﷺ جس پانی سے طہارت حاصل کرتے اسے اعتدال سے استعمال کرتے تھے۔ عموماً آپ ﷺ غسل فرماتے ہوئے ایک صاع پانی استعمال فرماتے تھے۔ ایک صاع میں چار مد ہوتے ہیں۔ بسا اوقات اس سے زیادہ استعمال فرماتے اور جسم کی ضرورت کے مطابق پانچ مُد پانی سے غسل فرماتے۔ انس رضی اللہ کہتے ہیں کہ ''آپ ﷺ ایک مد سے وضو فرماتے تھے''۔ مد 1.33رطل کا ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8387

 
 
Hadith   1465   الحديث
الأهمية: ما من مسلم يتوضأ فيحسن وضوءه، ثم يقوم فيصلي ركعتين، مقبل عليهما بقلبه ووجهه، إلا وجبت له الجنة


Tema:

جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

عن عقبة بن عامر-رضي الله عنه-، قال: كانت علينا رعاية الإبل فجاءت نَوبتي فرَوَّحْتُها بعَشِيٍّ فأدركتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قائما يُحدث الناس فأدركت ُمن قوله: «ما من مسلم يتوضأ فيُحسن وُضُوءه، ثم يقوم فيصلي ركعتين، مقبل عليهما بقلبه ووجهه، إلا وجَبَتْ له الجنة»، قال فقلت: ما أجود هذه فإذا قائل بين يدي يقول: التي قبلها أجود فنظرتُ فإذا عمر قال: إني قد رأيتك جئت آنفا، قال: «ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ -أو فيُسبِغُ- الوضوء ثم يقول: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا عبد الله ورسوله إلا فتُحِتْ له أبواب الجنة الثمانية يدخل من أيها شاء».

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کے وقت ان کو چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہوکر لوگوں کو کچھ ارشاد فرماتے ہوئے پايا، مجھے آپ ﷺ کی یہ بات (سننے کو) ملی: جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ میں نے کہا: کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا کہ اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے تم ابھی آئے ہو، آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے) فرمایا تھا: ’’تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ کہے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں)، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہوجائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يحكي هذا الحديث ما جاء من الذكر المستحب عقب الوضوء: ففي قول عقبة بن عامر: "كانت علينا رعاية الإبل فجاءت نوبتي فروحتها بعشي" معنى هذا الكلام أنهم كانوا يتناوبون على رعي إبلهم فيجتمع الجماعة ويضمون إبلهم بعضها إلى بعض فيرعاها كل يوم واحد منهم؛ ليكون أرفق بهم، وينصرف الباقون في مصالحهم، والرِعَاية هي الرَّعْي.
وأما قوله: "روحتها بعشي" أي رددتها إلى مراحها في آخر النهار، وتَفَرَّغْت من أمرها، ثم جئت إلى مجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم.
وقوله صلى الله عليه وسلم: (فيصلي ركعتين مقبل عليهما بقلبه ووجهه) مقبل: أي وهو مقبل، وقد جمع صلى الله عليه وسلم بهاتين اللفظتين أنواع الخضوع والخشوع؛ لأن الخضوع في الأعضاء، والخشوع بالقلب.
ومعنى قول عقبة: "ما أجود هذه "يعني هذه الكلمة أو الفائدة أو البشارة أو العبادة، وجودتها من جهات، منها: أنها سهلة متيسرة يقدر عليها كل أحد بلا مشقة، ومنها أن أجرها عظيم.   قوله: "جئت آنفا" أي قريبا  وأما قوله صلى الله عليه وسلم: (فيبلغ أو يسبغ الوضوء): التردد من الراوي وهما بمعنى واحد، أي: يتمه ويكمله فيوصله مواضعه على الوجه المسنون، عليه يستحب للمتوضيء أن يقول عقب وُضُوئه: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، وينبغي أن يُضَمَّ إليه ما جاء في رواية الترمذي متصلا بهذا الحديث: (اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين).
ويستحب أيضا: أن يضم إليه ما رواه النسائي في كتابه عمل اليوم والليلة مرفوعا: (سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت، وحدك لا شريك لك، أستغفرك وأتوب إليك).
575;س حدیث میں وضو کے بعد مستحب ذكر (دعا) کا بيان ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کے وقت ان کو چرا کر واپس لایا۔ یعنی وہ اپنے اونٹوں کو باری باری چرایا کرتے تھے۔ یعنی کچھ لوگ مل کر اپنے اونٹوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کر لیتے اور روزانہ ان میں سے ایک شخص انہیں چراتا تاکہ اس میں ان کے لیے آسانی رہے اور باقی لوگ اپنے دیگر کام نمٹا لیں۔ یہاں الرعاية“ کا معنی چرانا ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”فرَوَّحْتُها بعَشِيٍّ“ یعنی دن کےاختتام پر میں نے انہیں ان کے باڑوں تک پہنچایا اور اس کام سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آگیا۔
آپ ﷺ کا یہ فرمان: پس دو رکعتیں نماز ادا کرے اس طرح کہ اپنے دل اور چہرہ سے پوری توجہ کرنے والا ہو، نبی ﷺ نے ان دو الفاظ میں خشوع و خضوع کی تمام اقسام کو سمو دیا ہے۔ کیونکہ خضوع اعضاء میں ہوتا ہے اور خشوع دل میں۔
عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مَا أَجْوَدَ هَذِهِ“ (یہ کیا ہی عمدہ ہے!) یعنی یہ بات یا فائدہ یا خوش خبری یا عبادت کیا ہی عمدہ ہے۔ اور اس کی عمدگی کئی اعتبار سے ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ يہ بہت سہل اور آسان ہے جسے ہر کوئی بنا کسی مشقت کے سر انجام دے سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ کا قول: ”جِئْتَ آنِفًا“ یعنی تم ابھی ابھی آئے ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوءَ“ یہ تردد راوی کی طرف سے ہے (یعنی آپ ﷺ نے "یبلغ" یا "یسبغ" فرمایا) بہر حال دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی جو اسے پورے اور مکمل انداز سے کرے اور مسنون طریقے سے اعضاءِ وضو تک پانی کو پہنچائے۔
اس حدیث کی بنیاد پر وضو کرنے والے کے لیے اپنے وضو کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: ”أَشْهَدُ أَنَّ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ الله وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ اور مناسب ہے کہ اس دعا کے ساتھ ترمذی شریف كى روايت ميں وارد اسی حدیث سے متصل الفاظ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ“ (اے اللہ! تو مجھے بہت زيادہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں ميں سے بنا) بھی ملا لیے جائیں۔
اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ ان الفاظ کو بھی ان کے ساتھ ملا لیا جائے جو امام نسائی نے اپنی کتاب عمل اليوم و الليلة میں مرفوعاً ذکر کئے ہیں: ”سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ“ تو پاک ہے اے اللہ اور تیری تعریف کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8388

 
 
Hadith   1466   الحديث
الأهمية: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظاهر خفيه


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عن عبد خير، عن علي -رضي الله عنه-، قال: لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخُفِّ أولى بالمسح من أعلاه، وقد «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظَاهر خُفَيْهِ».

عبد بن خیر علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر علي -رضي الله عنه-  أنه لو كان الدين يؤخذ بالعقل دون النقل، لكان أسفل الخف أولى بالمسح من أعلاه؛ لأن أسفل الخف يباشر الأرض والقاذورات والأوساخ، فهو أولى بالمسح من ناحية العقل ولكن الشرع جاء بخلاف ذلك، فلزم العمل به وترك الرأي المخالف للنصوص، وأنه قد رأى النبي صلى الله عليه وسلم يمسح أعلى الخفِّ، وما فعله النبي -صلى الله عليه وسلم- موافق للعقل من جهة أخرى؛ لأنه إذا مسح أسفل الخف بالماء تسبِّب في حمله للنجاسة، فجعل المسح أعلاه ليزيل ما علق به من غبار؛ لأنَّ ظاهر الخف هو الذي يُرَى، فكان مسحه أولى، وكل الأحكام الشرعية لا تخالف العقول السليمة، لكنها في بعض الأحيان قد تخفى على بعض أصحاب العقول.
593;لی رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ اگر دین وحی کو چھوڑ کر عقل اور رائے سے لیا جاتا تو موزوں کے نیچے والے حصے پر مسح کرنا اوپری حصہ سے اَوْلیٰ ہوتا کیونکہ موزے کے نیچے کا حصہ زمین اور گندگیوں سے ملا ہوا رہتا ہے چنانچہ عقلی طور پر یہ مسح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن شریعت نے اس کے خلاف حکم دیا ہے، لہذا شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے اور وہ رائے اور نظریہ جو نصوصِ شرعیہ کے مخالف ہو اسے ترک کرنا ضروی ہے اور یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو) رسول اللہ ﷺ نے جو کیا وہ دوسرے ناحیہ سے عقل کے عین موافق ہے کیونکہ جب موزوں کے نچلے حصہ کو پانی سے مسح کیا جائے تو وہ نجاست کے لگ جانے کا سبب بنتا ہے چنانچہ اوپری حصہ پر مسح کرنے کا حکم دیا تاکہ اوپری حصہ میں جو گرد وغبار ہے زائل ہو جائے، اور چونکہ موزے کے اوپر والا حصہ ہی نظر آتا ہے اسی بنا پر موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنا اولی ہے اور شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں وہ عقل سلیم کے مخالف نہیں ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ عقل والوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8390

 
 
Hadith   1467   الحديث
الأهمية: بعث رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سرية، فأصابهم البرد فلما قدموا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمرهم أن يمسحوا على العصائب والتساخين


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی نے آلیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پگڑیوں اور موزوں پر مسح کرلیا کریں۔

عن ثوبان -رضي الله عنه-، قال: «بعث رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً، فأصابهم البَرْد فلما قَدِموا على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمَرَهُم أن يَمْسَحوا على الْعَصَائِب والتَّسَاخِين».

ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی نے آلیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پگڑیوں اور موزوں پر مسح کرلیا کریں۔

يخبر ثوبان -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- بعث جماعة من أصحابه لملاقاة الكفار، وفي أثناء سيرهم شَقَّ عليهم خلع العمائم والخفاف بسبب برودة الجو، فلما قدموا المدينة أخبروا النبي -صلى الله عليه وسلم- بذلك، فأباح لهم المسح على العمائم وعلى الخفاف، سواء كانت من الجلود أو من الصوف أو من الخِرق، تسهيلا وتيسيرا على المكلفين، فكان ذلك سنة ثابتة حضرا وسفرا لعذر ولغير عذر.

ثوبان رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کافروں سے مد بھیڑ کے لیے روانہ فرمائی چنانچہ سفر کے دوران انہیں ٹھنڈ موسم کی وجہ سے پگڑیوں اور موزوں کو نکالنا گراں گزرا جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ آئے تو آپ ﷺ کو انہوں نے ٹھنڈ موسم کے بارے میں جانکاری دی، چنانچہ نبیﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پگڑیوں اور موزوں پر مسح کریں، بندوں کی آسانی اور سہولت کے لیے پھر چاہے وہ موزے چمڑے یا اون یا چیتھڑوں کے ہوں چنانچہ یہ سفر اور حضر، معذور وغیر معذور سب کے لیے سنت ثابتہ مقرر پائی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8391

 
 
Hadith   1468   الحديث
الأهمية: إذا توضأ أحدكم ولبس خفيه فليمسح عليهما, وليصل فيهما, ولا يخلعهما إن شاء إلا من جنابة


Tema:

تم میں سے کوئی جب وضو کرے اور موزے پہنے تو وہ ان پر مسح کر لے اور انہیں پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے اور چاہے تو انہیں نہ اتارے ما سوا اس کے کہ اسے جنابت لاحق ہو جائے۔

عن عمر -موقوفا- وعن أنس -رضي الله عنه- مرفوعا: «إذا توضأ أحدكم ولبِس خُفَّيْه فَلْيَمْسَحْ عليهما, وليُصَلِّ فيهما, ولا يخلعْهُما إن شاء إلا من جَنابة».

Esin Hadith Text


عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب وضو کرے اور موزے پہن لے تو وہ ان پر مسح کر لے اور انہیں پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے اور چاہے تو انہیں نہ اتارے ما سوا اس کے کہ اسے جنابت لاحق ہو جائے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا لبس المَرء خُفيه بعد أن توضأ، ثم بعد ذلك أحدث وأراد الوضوء، فله المسح عليه، ويصلي فيهما ولا ينزعهما، لما في ذلك من المشقة والحرج، بل له المسح عليهما، تيسيرًا وتخفيفا على هذه الأُمَّة؛ إلا إذا أجْنَب لزمه خَلع الخُف والاغتسال ولو كانت المدة باقية، وعلى هذا يكون المسح خاص في حال الوضوء فقط.
580;ب آدمی وضو کرنے کے بعد موزے پہنے اور پھر اسے حدث لاحق ہو جائے اور وہ وضو کرنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ان پر مسح کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے اور انہیں نہ اتارے کیونکہ اتارنے میں مشقت اور تنگی ہوتی ہے۔ اس کے بجائے اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ان پر مسح کر لے۔ یہ حکم امت کے لیے آسانی اور تخفیف کے لیے دیا گیا ہے۔ ماسوا اس کے کہ وہ جنبی ہو جائے، اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ موزوں کو اتار کر غسل کرے اگرچہ ابھی مدت باقی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ مسح کا حکم صرف وضو کے ساتھ خاص ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8392

 
 
Hadith   1469   الحديث
الأهمية: كان أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على عهده ينتظرون العشاء حتى تَخْفِق رؤوسهم, ثم يصلون ولا يتوضؤون


Tema:

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا یہاں تک انتظار کرتے کہ غلبۂ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے، پھر وہ از سرِ نو وضو کئے بغیر نماز پڑھتے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كان أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على عَهدِه ينتظرون العشاء حتى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ, ثم يصلُّون ولا يَتَوَضَّئُونَ.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا یہاں تک انتظار کرتے کہ غلبۂ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے، پھر وہ از سرِ نو وضو کئے بغیر نماز پڑھتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان الصحابة في حياة النبي -صلى الله عليه وسلم- ينتظرون صلاة العشاء الآخرة، وينامون نومًا غير مستغرق ثم يصلون بلا وضوء، ومن فعل فعلاً على عهده ولم يُنْكِر عليه الرسول -صلى الله عليه وسلم- فهذا يعتبر من الإقرار، والإقرار يعتبر أحد وجوه السنة النبوية التي هي عبارة عن قول أو فعل أو تقرير، فما يفعل على عهده -صلى الله عليه وسلم- ولم ينكره فإنه يُعَدُّ من السنة التقريرية؛ لأنه لو كانت صلاتهم باطلة أو فعلهم هذا غير جائز لنبههم عليه -صلى الله عليه وسلم-، إما لعلمه به، وإما أن يكون بواسطة الوحي إليه به. هذا بخلاف ما يفعل بعد وفاته -صلى الله عليه وسلم-.
" تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ "
أي: تَميل من غَلبة النُّعاس. وفي رواية : "حتى إني لأسمع لأحدهم غطيطاً، ثم يقومون فيصلون ولا يتوضئون "، وفي رواية أخرى : " يضعون جنوبهم "
" ثم يصلُّون ولا يَتَوَضَّئُونَ "
أي يقومون إلى الصلاة من غير أن يحدثوا وضوءًا؛ لأن نومهم لم يكن مستغرقاً، ولأنه لو كان ناقضاً لما أقرهم -صلى الله عليه وسلم- على ذلك.
وقلنا بذلك جمعاً بين الأدلة، فقد ثبت أن النوم ناقض للوضوء ،كالغائط والبول كما في قوله -صلى الله عليه وسلم- : ( ولكن من غائط وبول ونوم )
وأيضا قوله -صلى الله عليه وسلم- كما في حديث علي -رضي الله عنه-: (العين وكاء السَّه فمن نام فليتوضأ) وفي حديث معاوية -رضي الله عنه-: "العين وكاء السَّه، فإذا نامت العينان استطلق الوكاء "
ففي هذه الأدلة إثبات أن النوم ناقض للوضوء، وفي حديث الباب وما جاء معه من روايات فيه دلالة على أن النوم لا ينقض الوضوء.
وعلى ذلك: يؤول حديث الباب وكذا رواية : "الغطيط ووضع الجُنوب" على أن النوم لم يكن مستغرقاً؛ فقد تسمع لأحدهم غطيطاً وهو في مبادئ نومه قبل استغراقه، ووضع الجَنب لا يستلزم منه الاستغراق، كما هو ظاهر ، وبهذا تجتمع الأدلة، ويُعمل بها جميعا ًوإذا أمكن الجمع بين الأدلة، فهو أولى من إهدار بعضها.
وحاصله: إذا نام الإنسان واستغرق في نومه، بحيث فقد إدراكه بالكلية، فهذا يلزمه الوضوء، وإن لم يكن مستغرقا ًفلا يلزمه الوضوء، وإن كان الأولى والأحوط أن يتوضأ احتياطاً للعبادة.
وإن شَك هل كان نومه مستغرقاً أم لا ؟ لم ينتقض وضوؤه؛ لأن الأصل بقاء الطهارة ولا يزول اليقين بالشك.
قال شيخ الإسلام ابن تيمية -رحمه الله-: " وأما النوم الذي يشك فيه: هل حصل معه ريح أم لا؟ فلا ينقض الوضوء؛ لأن الطهارة ثابتة بيقين فلا تزول بالشك. "
606;بی کريم ﷺ کی زندگی ميں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا انتظار کرتے کرتے سو جاتے پَر گہری نیند نہ سوتے، پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔ آپ ﷺ کے زمانے میں کسی نے کوئی کام کيا اور آپ ﷺ نےاس پر نکیر نہ فرمائى تو اسے اقرار سمجھا جاتا ہے۔ اور اقرار بھی سنت نبوی کا ايک روپ (قسم) ہے جو قول، یا فعل یا تقريرپر مشتمل ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے زمانے میں جو کام کیا جائے اور آپ ﷺ اس پر نکیر نہ فرمائیں تو اسے تقریری سنت (حدیث) شمار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر ان کی نماز باطل ہوتی یا ان کا یہ فعل جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں اس پرمتنبہ فرماتے۔ اس لیے کہ یا تو آپ کو اس کے باطل ہونے کے علم ہوتا یا بذريعۂ وحی آپ کو بتلادیا جاتا۔ بر خلاف اس کے جو آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ ”تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ“ یعنی اونگھ کے غلبے کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے۔ ايک دوسری روايت ميں ہے: ”صحابی فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ میں کسی کے خرّاٹوں کی آواز سنتا، پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے“۔ ايک اور روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام اپنے پہلؤوں کو (زمين پر) رکھ لیتے تھے، پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے، كيونکہ ان کی نیند گہری نہیں ہوتی تھی، اور دوسرے اس لیے کہ اگر ان کی نیند سے وضو ٹوٹتا تو آپ ﷺ انہیں اس پر برقرار نہ رکھتے۔ دلائل کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے ہم نے يہ بات کہی ہے۔ کيونکہ یہ بات ثابت ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے بول وبراز سے ٹوٹ جاتا ہے جيسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”لیکن پیشاب، پاخانہ اور نیند سے“۔ اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے جیساکہ علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ”آنکھ کا کھلا رہنا دبر كا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کر لے“۔ نیز معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت ميں ہے کہ: ”آنکھ کا کھلا رہنا دبر كا بندھن ہے، جب آنکھيں سو جاتى ہيں تو بندھن ڈھيلا ہوجاتا ہے“ ان دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جب کہ باب كى حديث اور اس کے ساتھ جو دوسری روايتيں ہیں، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ چنانچہ اسی کے پیشِ نظر باب كى حديث اور ”خراٹے اور پہلو رکھنے“ والی روایت کی تاویل کی جائے گی کہ یہ نیند اتنی گہری نہیں تھی جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ کيونکہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی ابتدائی نیند میں خرّاٹے لیتا ہو، اور پہلو رکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نیند گہری ہو، جیسا کہ یہ بات ظاہر ہے۔ اس طرح تمام دلائل یکجا ہوجاتے ہیں اور ان سب پر عمل ہوجاتا ہے۔ اور جب دلائل کے درميان تطبيق ممکن ہو، تو یہ بعض روایات کو چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔
خلاصۂ كلام يہ ہے کہ جب انسان سو جائے اور اس کی نیند اتنی گہری ہو جائے کہ وه پوری طرح سے شعور وادراک کوکھو دے، تواس کے لیے وضو کرنا لازم ہے۔ اور اگر نیند گہری نہ ہو تو وضو کرنا لازم نہیں ہوگا۔ اگرچہ احتیاطاً عبادت کے لیے بہتر اور محتاط رویہ يہی ہے کہ وہ وضو کرلے۔ اور اگر کسی کو شک ہو کہ آیا اس کی نیند گہری تھی یا نہیں؟ تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کہ اصل طہارت کا باقی رہنا ہے اور یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ نیند جس میں شک ہو کہ آیا اس میں ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کہ طہارت (پاکی) یقین کے ساتھ ثابت ہے، اوریقین شک کى وجہ سے ختم نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8394

 
 
Hadith   1470   الحديث
الأهمية: أن النبي صلى الله عليه وسلم قبل بعض نسائه، ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضأ


Tema:

نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکل گئے اور وضو نہیں کیا۔

عن عروة، عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعاً: «أن النبي صلى الله عليه وسلم قَبَّلَ بعض نسائه، ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضَّأ»، قال: قلت: من هي إلا أنت؟ فَضَحِكت.

عُروہ رحمہ اللہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکل گئے اور وضو نہیں کیا۔ عروہ نے کہا: وہ آپ کے علاوہ کون ہو سکتی ہیں؟ تو وہ ہنسنے لگیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- في هذا الحديث، أنه -صلى الله عليه وسلم- قَبَّلَ إحدى زوجاته، ثم ذهب إلى الصلاة ولم يتوضأ.
ثم إن عروة -رضي عنه الله- وهو الراوي عن عائشة -رضي الله عنها- تَفَطَّن لهذا الأمر وعلم بأن الزوجة المبهمة في الحديث هي عائشة -رضي الله عنها-

فلما أخبرها بذلك ضَحِكَت -رضي الله عنها- إقرارا منها على فهمه.
"ولم يتوضأ" وهذا هو الأصل: أن مسَّ الرجل زوجته أو تقبيلها لا ينقض الوضوء مطلقا، سواء كان بشهوة أو بغير شهوة؛ لأن الأصل سلامة الوضوء وسلامة الطهارة، فلا يجوز القول بأنها منتقضة بشيء إلا بحجة قائمة لا معارض لها، وليس هنا حجة قائمة تدل على نقض الوضوء بلمس المرأة مطلقًا والأصل بقاء الطهارة، أما قوله -تعالى-: (أو لامستم النساء) فالصواب في تفسيرها: أن المراد به الجماع وهكذا القراءة الأخرى "أو لمستم النساء" فالمراد بها الجماع، كما قال ابن عباس وجماعة من أهل العلم.
ولأن الغالب في تقبيل الرجل زوجته يكون عن شهوة، فدل ذلك على أن مسَّ المرأة بشهوة لا ينقض الوضوء، إلا إذا صاحب ذلك إنزال، فهنا ينتقض الوضوء بسبب الإنزال.

575;س حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتلا رہی ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی کسی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر بغیر وضو کئے نماز کے لیے چلے گئے۔
پھر عروہ رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کو نقل کرتے ہیں، اس معاملے کو سمجھ گئے اور جان گئے کہ حدیث میں جو بیوی مذکور نہیں وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں۔
جب عروہ نے ان کو اس بارے میں بتلایا تو وہ ہنسنے لگیں، جو اس بات کا اقرار تھا کہ وہ ٹھیک سمجھے ہیں۔
”وَلَمْ يَتَوَضَّأْ“ اور وضو نہیں کیا۔
اور اصل بات یہی ہے کہ: شوہر کے اپنے بیوی کو چھُونے یا بوسہ دینے سے وضو بالکل نہیں ٹوٹتا، خواہ یہ بوسہ دینا شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے ہو۔ اس لیے کہ اصل وضو اور طہارت کا باقی رہنا ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے میں کسی دوسری دلیل کے بغیر یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اس پر کوئی دلیل موجود نہیں کہ عورت کو مطلقاً چھُونےسے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اصل طہارت کا باقی رہنا ہے۔ رہی بات اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ“ (يا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو) کی، تو اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد جماع ہے، اسی طرح دوسری قراءت: ”أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ“ میں بھی (چھونے) سے مُراد جماع ہے۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے۔
نیز اس لیے کہ شوہر کا بیوی کو بوسہ دینا اکثر شہوت سے ہی ہوتا ہے، لھٰذا یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شہوت کے ساتھ بیوی کو چھُونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ ہاں اگر انزال ہوجائے، تو انزال کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8395

 
 
Hadith   1471   الحديث
الأهمية: هل هو إلا مضغة منه


Tema:

وہ اسی کا ایک لوتھڑا ہے۔

عن طلق بن علي -رضي الله عنه- قال: قَدِمْنَا على نَبِيِّ الله -صلى الله عليه وسلم- فجاء رَجُل كأنه بَدَوي، فقال: يا نَبِيَّ الله، ما ترى في مَسِّ الرَّجل ذَكَره بعد ما يتوضأ؟ فقال: «هل هو إلا مُضْغَةٌ منه»، أو قال: « بَضْعَةٌ منه».

طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے۔ اسی درمیان ایک شخص آیا، جو حلیے سے بدوی لگ رہا تھا۔ اس نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! آدمی اگر وضو کرنے کے بعد اپنے آلۂ تناسل کو چھو لے، تو اس کے بارے آپ کیا فرماتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسی کا ایک لوتھڑا ہے۔ یا کہا ٹکڑا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "ما ترى في مَسِّ الرَّجل ذَكَره بعد ما يتوضأ"يعني ما الذي أوجبه الشرع فيما إذا مَسَّ الرَّجُل ذَكَره بعد الوضوء ، هل عليه شيء؟
وفي رواية عند أحمد: "الرَّجُل يَمَسُّ ذَكَرَه في الصلاة عليه الوضوء؟ قال: "لا إنما هو مِنْك" قوله: "هل هو إلا مُضْغَةٌ منه أو قال: بَضْعَةٌ منه" أي: أن الذَّكر كسائر أعضاء الجَسَد، فإذا مَسَّ المتوضئ يَده أو رِجْلَه أو أنفه أو رأسَه لم ينتقض وضوؤه بذلك، كذلك إذا مسَّ ذَكَرَه، وهذا الحديث إما منسوخ أو محمول على مس الذكر من وراء حائل، أما مباشرة الذكر باليد فينقض الوضوء؛ لأحاديث أخرى.
605;فہوم حدیث: ”مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ“ یعنی وضو کرنے کے بعد اگر آدمی اپنے آلۂ تناسل کو چھو لے، تو اس سلسلے میں ازروئے شریعت اس شخص پر کیا واجب ہوتا ہے؟ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آدمی نماز میں اپنے ذکر کو چھو لیتا ہے، کیا اس پر دوبارہ وضو کرنا واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں!اس کا آلۂ تناسل اس کے جسم ہی کا ایک حصہ ہے"۔
”هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ؟ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ بَضْعَةٌ مِنْهُ“ یعنی آلۂ تناسل جسم کے تمام اعضا کی مانند ہے۔ جب وضو کرنے والا اپنے ہاتھ، اپنے پاؤں، ناک یا سر کو چھوتا ہے، تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، بالکل ایسے ہی اگر وہ اپنے آلۂ تناسل کو چھولے، تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا پھر اس صورت پر محمول ہے، جب آلۂ تناسل کو کسی پردے کے پیچھے سے چھوا جائے۔ براہ راست آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؛ کیوںکہ دوسری احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8396

 
 
Hadith   1472   الحديث
الأهمية: من مس ذكره فليتوضأ


Tema:

جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

عن عروة قال: دخلت على مروان بن الحكم فذَكَرْنا ما يكون منه الوضوء، فقال مروان: ومن مَسِّ الذَّكَر؟ فقال عروة: ما علمت ذلك، فقال مروان: أخبرتني بُسْرَة بنت صفوان، أنها سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَه فليتوضأ».

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مروان بن حکم کے پاس آیا۔ جن وجوہات کی بنا پر وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے بارے میں ہمارے مابین گفتگو ہوئی۔ مروان نے پوچھا کہ کیا آلۂ تناسل کو چھونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے؟۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: يخبر عروة -رحمه الله- أنه دخل على مروان بن الحكم وكان أميرا على المدينة  في ذلك الوقت "فذَكَرْنا ما يكون منه الوضوء" أي تذاكرنا وبحثنا في نواقض الوضوء والأشياء التي ينتقض بها الوضوء، فقال مروان: "ومِنْ مَسِّ الذَّكَر" يعني: ومما يحصل به نقض الوضوء مَسّ الذَّكَر، فقال عروة: "ما علمت ذلك"، يعني: ما أعلم دليلا، وليس عندي علم في ذلك عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال مروان: حدثتني بُسْرَة بِنْتُ صفوان -رضي الله عنها- أن النبي --صلى الله عليه وسلم- قال: (مَنْ مَسَّ ذَكَرَه فليتوضأ).
وفي رواية الترمذي: "فلا يصَلِ حتى يتوضأ" وهذه الرواية نصٌ في أن مَسَّ الذَّكَر ناقضٌ للوضوء سواء كان لشهوة أو لغير شهوة وسواء قصد مسه أو لم يقصد، لكن بشرط أن يحصل المَسُّ مباشرة، أي من غير حائل بينهما، أما إذا كان من وراء حائل فلا يؤثر مَسُّه؛ لعدم وجود حقيقة المسِّ؛ لأن المَسَّ هو مباشرة العضو العضو؛ يدل لذلك ما رواه النسائي وغيره: "إذا أفْضَى أحدكم بيده إلى فَرْجِه وليس بينها سِتْر ولا حائل فليتوضأ".
581;دیث کا مفہوم: عروہ رحمہ اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ مروان بن حکم کے پاس گئے جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے۔
”فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ“ یعنی ہمارے مابین ان باتوں اور اشیاء کے بارے میں گفتگو اور بحث چل نکلی جن کی وجہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔
مروان نے کہا کہ ”ومِنْ مَسِّ الذَّكَر“ یعنی جن چیزوں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان میں سے ایک آلہ تناسل کو چھونا بھی ہے۔
عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ“ یعنی مجھے اس کی دلیل کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے مروی کوئی حدیث میرے پاس ہے۔
اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسْرَہ بنت صفوان نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے“۔
ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ”وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ وضوء نہ کرلے“۔
یہ روایت تو اس بات کی کھلی وضاحت ہے کہ آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے شہوت کے ساتھ چھوا جائے یا پھر بغیر شہوت کے ساتھ اور چاہے اس شخص نے چھونے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ یہ چھونا براہ راست ہو اور درمیان میں کوئی شے حائل نہ ہو۔ اگر درمیان میں کوئی شے حائل ہو تو پھر چھونے سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اب درحقیقت مس ہوا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مس کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک عضو براہ راست دوسرے عضو کے ساتھ لگے۔ اس پر نسائی کی روایت کردہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے ” إذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إلَى فَرْجِهِ وَلَيْسَ بَيْنَها سِتْرٌ وَلَا حَائِلٌ فَلْيَتَوَضَّأْ“ یعنی جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو اس طرح سے ہاتھ لگا لے کہ درمیان میں کوئی پردہ یا آڑ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وضوء کرے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8397

 
 
Hadith   1473   الحديث
الأهمية: قال: أصلي في مرابض الغنم؟ قال: نعم، قال: أصلي في مبارك الإبل؟ قال: لا


Tema:

اس نے پوچھا کہ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اس نے مزید پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں!

عن جابر بن سمرة -رضي الله عنه-  أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أَأَتَوضأ من لحوم الغنم؟ قال: «إن شِئْتَ فتوضأْ، وإن شِئْتَ فلا تَوَضَّأْ» قال أتوضأ من لحوم الإبل؟ قال: «نعم فتوضَّأْ من لحوم الإبِل» قال: أُصَلي في مَرَابِضِ الغَنم؟ قال: «نعم» قال: أُصلي في مَبَارِكِ الإبِل؟ قال: «لا».

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کیا میں بکری کے گوشت (کو کھانے) سے وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر چاہو تو وضو کر لو اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو۔ اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹ کے گوشت (کو کھانے) سے وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اونٹ کے گوشت ( کو کھانے) سے وضو کرو۔ عرض کیا: میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے مزید پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "أأتَوضأ من لحوم الغنم" هذا استفهام من الصحابي عن لحوم الغنم، هل يجب الوضوء من أكلها عند إرادة الصلاة أو ما يشرط له الطهارة ؟
"إن شِئْتَ فتوضأ، وإن شِئْتَ فلا تَوَضَّأْ" خَيَّره النبي -صلى الله عليه وسلم- بين فعل الوضوء وتركه، فكلاهما جائز.
"قال أتوضأ من لحوم الإبل" أي: هل يجب الوضوء من أكل لحوم الإبل عند إرادة الصلاة أو ما يُشرط له الطهارة؟
"نعم فتوضأ من لحوم الإبِل" أي: يجب عليك الوضوء من لحم الإبل ولو كان المأكول يسيرا، أما اللبن والمرق فلا يلزم الوضوء منه؛ لأن النَّبي -صلى الله عليه وسلم- لم يأمر العُرَنِيِّينَ بالوضوء من ألبان الإبل، وقد أمرهم بشُرْبها، وتأخيرُ البيان عن وقت الحاجة لا يجوز.
"قال: أُصَلي في مَرَابِضِ الغَنم؟" أي: هل تجوز الصلاة في الأماكن التي تأوي إليها الغنم؟
"قال: «نعم»" أي: تجوز لك الصلاة في تلك الأماكن لعدم الخشية منها.
"قال: أُصلي في مَبَارِكِ الإبِل؟" أي : هل تجوز لي الصلاة في الأماكن التي تأوي إليها الإبل وتبرك فيها؟
"قال: «لا»" أي: لا تصل فيها؛ لأنه لا يؤمن من نفورها، فيلحق المصلي ضرر من صدمة وغيرها، وهذا المعنى مأمون من الغنم لما فيها من السُّكون وقِلَّة نُفورها، وعدم أذاها.
581;دیث کا مفہوم: ”أأتَوضأ من لحوم الغنم“ یہ صحابی کی طرف سے بکریوں کے گوشت کے بارے میں استفسار ہے کہ کیا اس کے کھانے سے وضو واجب ہو جاتا ہے، جب کہ نماز پڑھنے کا ارادہ ہو یا کوئی ایسا کام کرنا ہو، جس کے لیے طہارت شرط ہے؟
آپ ﷺ نے اسے وضو کرنے اور نہ کرنے کے مابین اختیار دیا۔ دونوں ہی صورتیں جائز ہیں۔
”قال أتوضأ من لحوم الإبل“ یعنی جب نماز پڑھنے کا یا کسی ایسے کام کا ارادہ ہو، جس کے لیے طہارت شرط ہے، تو کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا واجب ہو جاتا ہے؟
”نعم فتوضأ من لحوم الإبِل“ یعنی اونٹ کا گوشت کھا کر تمھارے لیے وضو کرنا واجب ہے، اگرچہ بہت کم ہی کیا کھایا ہو۔ جب کہ اس کے دودھ یا یخنی پینے سے وضو واجب نہیں ہوتا؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے قبیلۂ عرینہ کے لوگوں کو اونٹ کا دودھ پینے کے بعد وضو کا حکم نہیں دیا تھا، حالاں کہ آپ ﷺ نے انھیں اونٹ کا دودھ پینے کا حکم دیا تھا اور یہ معلوم ہے کہ بوقت ضرورت وضاحت میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔
”قال: أُصَلي في مَرَابِضِ الغَنم؟“ یعنی جن جگہوں پر بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں، کیا ان جگہوں پر نماز پڑھنا جائز ہے؟
فرمایا ہاں، یعنی ان جگہوں پر تمھارے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؛ کیوں کہ بھیڑ بکریوں سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔
”قال: أُصلي في مَبَارِكِ الإبِل؟“ یعنی جن جگہوں پر اونٹ رہتے ہیں اور جہاں وہ بیٹھتے ہیں، کیا ان میں میرے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؟
فرمایا نہیں، یعنی ان جگہوں میں نماز نہ پڑھو؛ کیوں کہ ان کے بدکنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس سے ہو سکتا ہے کہ نمازی کو کوئی ضرر ٹھوکر وغیرہ کی شکل میں لاحق ہو جائے۔ بھیڑ بکریوں سے اس بات کا خوف نہیں ہوتا؛ کیوں کہ وہ پرسکون رہتی ہیں اور بہت کم بدکتی ہیں اور ان سے اذیت پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8399

 
 
Hadith   1474   الحديث
الأهمية: من غسل الميت فليغتسل، ومن حمله فليتوضأ


Tema:

جو میت کو نہلائے اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ غَسَّل الميـِّت فلْيَغْتَسلْ، ومَنْ حَمَلَه فلْيَتَوضَّأْ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میت کو نہلائے، اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے، اسے چاہیے کہ وضو کر لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يفيد الحديث في الجملة الأولى منه أن من قام بتغسيل ميت, سواء كان الميت صغيرًا أو كبيرًا، ذكرًا أو أُنثى, بحيث باشَر تغسيله بيده أو كان بينهما حائل، كخرقة كانت على يده أو قفاز: يستحب له الغُسل المعروف المشابه لغسل الجنابة.
وفي الجملة الثانية أفاد الحديث الأمر بالوضوء من حمل الميت,  ويُفَسَّر الوضوء هنا بغسل اليدين فقط، أو بأن يكون أمره -صلى الله عليه وسلم- متجها لمن أراد أن يحمل الميت حتى يكون مستعداً للصلاة عليه, ولم يُحمل الحديث هنا على ظاهره لعدم وجود أحد من أهل العلم يقول بوجوب الوضوء من حمل الميت.
575;س حدیث کا پہلا جملہ یہ بتاتی ہے کہ جو شخص کسی میت کو غسل دے؛ چاہے میت کسی چھوٹے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی اور چاہے براہ راست اپنے ہاتھ سے غسل دے یا دونوں کے درمیان کوئی آڑ ہو، جیسے ہاتھ پر کوئی کپڑے کا چیتھڑا یا دستانہ ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنابت جیسا معروف غسل کرلے۔
حدیث کے دوسرے جملے میں میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کاحکم دیا جارہا ہے اور یہاں وضو کی تفسیر و توضیح محض دونوں ہاتھوں کو دھولینے سے کی گئی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے حکم سے مقصود وہ لوگ ہوں، جو میت کو اٹھانے کے خواہاں ہوں؛ تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ خیال رہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کسی بھی اہل علم کی جانب سے میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کے واجب ہونے کا فتویٰ موجود نہیں ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8400

 
 
Hadith   1475   الحديث
الأهمية: أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمرو بن حزم: أن لا يمس القرآن إلا طاهر


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ: قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے

عن عبد الله بن أبي بكر بن حزم، أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم لعَمْرو بن حَزْم: «أن لا يَمَسَّ القرآن إلا طَاهر».

عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "في الكتاب الذي كَتَبَه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لعمرو بن حَزْم" أي أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كتب كتابا لعمرو بن حَزْم عندما كان قاضيا على نجران، كتب له كتابا مُطَوَّلا فيه كثير من أحكام الشريعة، كالفرائض والصدقات والديات، وهو كتاب مشهور تلقته الأُمُّة بالقبول.
"أن لا يَمَسَّ القرآن إلا طَاهر" المراد بالمس هنا: أن يُباشره بيده من غير حائل، وبناء عليه: فإن تناوله من وراء حائل مُنفصل عنه كما لو حمله في كِيس أو شنطة أو قَلَّب صفحاته بِعُود ونحوه لم يدخل في النهي لعدم حصول المَسُّ.
والمراد بالقرآن هنا: ما كُتب فيه القرآن، كالألواح والأوراق والجلود، وغير ذلك، وليس المراد به الكلام؛ لان الكلام لا يُمَس بل يُسْمَع.
و " إلا طَاهر" هذا اللفظ مشتَرَك بين أربعة أمور:
الأول: المراد بالطاهر المسلم؛ كما قال -تعالى-: {إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ}.
الثاني: المراد به الطاهرُ من النجاسة؛ كقوله -صلى الله عليه وسلم- في الهرَّة: "إنَّها ليست بنجس".
الثالث: المراد به الطَّاهرُ من الجنابة.
الرابع: أنَّ المراد بالطَّاهر المتوضئُ.
كل هذه المعاني للطهارة في الشَّرع محْتَمِلَة في المراد من هذا الحديث، وليس لدينا مرجِّح لأحدها على الآخر، فالأولى حَمْلُهَا على ما فهمه الصحابة -رضوان الله عليهم-، وهو المُحْدِث حدثًا أصغر؛ وهو موافق لما ذهب إليه الجمهور، ومنهم الأئمة الأربعة وأتباعهم، وهو الاحتياط والأولى.
581;دیث کا مفہوم: ”رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا“ یعنی عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جب نجران کے قاضی تھے تو آپ ﷺ نے انہیں ایک تفصیلی مکتوب لکھ کر دیا تھا جس میں بہت سے احکامِ شریعت جیسے فرائض و صدقات اور دیات وغیرہ کا بیان تھا۔ یہ ایک مشہور مکتوب ہے جسے امت نے قبول کیا ہے۔
”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“ یہاں چھونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پاک کو بغیر کسی آڑ کے براہ راست ہاتھ لگائے۔
اس بنیاد پر اگر آدمی کسی ایسی آڑ کے پیچھے سے اسے اٹھائے جو اس سے الگ ہو مثلاً وہ اسے کسی تھیلی یا بیگ میں اٹھائے، یا لکڑی وغیرہ سے اس کے اوراق پلٹے تو یہ اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آئے گا کیونکہ اس صورت میں چھونے کا عمل نہیں ہوا ہے۔ یہاں قرآن سے مراد وہ تختیاں، اوراق اور چمڑے وغیرہ ہیں جن پر قرآن لکھا گیا ہے، یہاں قرآن سے مراد کلام نہیں ہے کیونکہ کلام کو چھوا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے۔
’’سوائے طاہر کے‘‘ طاہر کا لفظ چار معانی میں مشترک ہے:
اول: طاہر سے مراد مسلمان ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ ”مشرک تو ہیں ہی ناپاک“۔
دوم: اس سے مراد وہ شخص ہو جو نجاست سے پاک ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے“۔
سوم: اس سے مراد وہ شخص ہے جو جنابت سے پاک ہو۔
چہارم: طاہر سے مراد باوضو شخص ہے۔
اس حدیث میں شریعت کی رو سے طہارت کے ان سبھی معانی کے مراد ہونےکا احتمال ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی دليل يا قرينہ نہیں ہے جس کی بنا پر ہم ان میں سے کسی ایک کو دیگر معانی پر ترجیح دے سکيں۔ چنانچہ اولیٰ یہی ہے کہ اس لفظ کو اس معنی پر محمول کیا جائے جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہے اور وہ حدثِ اصغر سے طاہر شخص ہے۔ کیوں کہ یہ معنی یقینی ہے اور جمہورِ علماء بشمول ائمۂ اربعہ اور ان کے متبعین کے مسلک کے بھی موافق ہے۔ نیز اسی میں احتیاط ہے اور یہی اولی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8401

 
 
Hadith   1476   الحديث
الأهمية: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يذكر الله على كل أحيانه


Tema:

نبی ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔

عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يذكر الله على كل أحْيَانِه».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يذكر الله" بجميع أنواع الذكر من التسبيح والتهليل والتكبير والتحميد ومن ذلك قراءة القرآن؛ لأن القرآن من ذِكْر الله، بل هو أفضل أنواع الذِّكْر .
"على كل أحْيَانِه" أي أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يذكر الله في جميع أوقاته ولو كان مُحدثا حَدَثا أصغر أو أكبر، إلا أن العلماء استثنوا من ذِكْر الله تعالى قراءة القرآن حال الجنابة، فالجُنُب ليس له أن يقرأ القرآن حال الجَنَابة مطلقا، لا نَظَرا ولا عن ظَهر قَلْب؛ لحديث علي -رضي الله عنه- قال: "كان النَّبي -صلى الله عليه وسلم- يُقْرِئُنَا القرآن ما لم يَكُن جُنباً" أحمد وأصحاب السنن الأربعة.
واختلف العلماء في الحائض والنفساء هل تلحقان بالجُنب؟
والأظهر أنه تجوز لهما القراءة عن ظهر قلب؛ لأنهما تطول مدتهما، وليس الأمر في أيديهما كالجنب.
ويستثنى من جواز قراءة القرآن على أي حال: قراءته حال البول والغائط والجماع وفي المواطِن التي لا تليق بعَظَمَته، كالحمامات ودورات المياه وغير ذلك من المواضِع النجسة.
581;دیث کا مفہوم: ”نبی ﷺ اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے“ یعنی ہر قسم کا ذکر کرتے تھے جیسے تسبیح، تہلیل، تکبیر اور تحمید۔، اور قرآن پڑھنا بھی اسی میں آتا ہے۔ کیونکہ قرآن اللہ کا ذکر ہے،بلکہ یہ ذکر کی سب سے افضل قسم ہے۔ ”اپنے تمام اوقات میں“ یعنی نبی ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے تھے چاہے آپ کو حدث اصغر یا حدث اکبر ہی کیوں نہ لاحق ہوتا،لیکن علماء نے جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنے کو اللہ کے ذکر سے مستثنی کیا ہے۔ لھٰذا جنبی شخص کے لئے حالت جنابت میں کسی بھی صورت میں قرآن پڑھنا جائز نہین ہے، نہ تو دیکھ کر اور نہ ہی زبانی۔کیونکہ علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ”نبی ﷺ ہمیں قرآن پڑھ کر سناتے تھے سوائے اس صورت کے کہ آپ ﷺ جنبی ہوتے“۔ (مسند احمد و سنن اربعہ)
وہ عورت جو حیض میں ہو اور وہ جو نفاس میں ہو اس کے بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ آیا ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو جبنی کا ہے یا نہیں؟
اس سلسلے میں زیادہ واضح بات یہ ہے کہ ان دونوں کے لئے زبانی قرآن پڑھنا جائز ہے کیونکہ ان کی مدت لمبی ہوتی ہے۔اور معاملہ ان کے ہاتھ میں ایسے نہیں ہوتا جیسے جنبی شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہر حال میں قرآن پاک پڑھنے سے یہ حالتیں مستثنٰی ہیں:پیشاب، پاخانہ اور جماع کرتے ہوئے اور ایسی جگہوں پر قرآن پڑھنا جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں جیسے غسل خانے، واش روم اور اسی طرح کے دیگر ناپاک مقامات۔   --  [صحیح]+ +[امام بخاری نے اسے صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8402

 
 
Hadith   1477   الحديث
الأهمية: إن العينين وكاء السه، فإذا نامت العينان استطلق الوكاء


Tema:

دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔

عن معاوية بن أبي سفيان -رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العَيْنَين وِكَاء السَّه، فإذا نَامَت العَينان اسْتٌطْلِقَ الوِكَاءُ».

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "العَيْنان وِكَاء السَّه" أي أن العينين في حال اليقظة تحفظ الدبر، وتمنع خروج الخارج منه، وإن خرج منه شيء شَعَر الإنسان به.
"فإذا نَامَت العَينان اسْتَطْلَقَ الوِكَاءُ" أي أن الإنسان إذا نام حصل عنده استرخاء في عضلات البدن، فينطلق الحَبْل الذي كان يَشُد حلقة الدبر، فيخرج منه الرِّيح من غير أن يَشْعُر به.
فالنبي -صلى الله عليه وسلم- شبه العَين بالحَبل الذي يُشَدُّ به الوِعاء فإن كانت العينان مفتوحتان كان الحَبْل مشدودا على حلقة الدبر، حتى وإن خرج منه شيء شَعَر به، وإن نامت العينان استرخى الوِكَاء، فخرج ما بداخل القِرَبة من غير أن يَشْعُر بخروجه.
وهذا من باب التشبيه وهو: تشبيه بليغ من النبي -صلى الله عليه وسلم- ليُقَرب الحكم الشرعي إلى الأذهان، وهو من جوامع الكلم التي أوتيها النبي -صلى الله عليه وسلم-.
581;دیث کا معنی: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں“ یعنی دونوں آنکھیں بیداری کی حالت میں سرین کی حفاظت کرتی ہیں اور ازخود سرین سے کوئی چیز نکلے، اُسے روک دیتی ہیں اور اگر کوئی چیز نکلے تو انسان اسے محسوس کر لے۔ ”جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“ یعنی انسان جب سوجاتا ہے تو اس کے بدن کے حصے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ رسی اپنی جگہ سے کھسک جاتی ہے جو سرین کے دائرے کو باندھے ہوئے ہوتی ہے اور پھر وہا ں سے ہوا (بو) احساس ہوئے بغیر نکلنے لگتی ہے۔ حدیث کے اس ٹکڑے میں نبی ﷺ نے آنکھ کو اس رسی سے تشبیہ دی ہے جس سے برتن باندھا جاتا ہے دونوں آنکھیں اگر بیدار ہوں گی تو سرین کے دائرے پر رسی کی پکڑ مضبوط ہوگی اور وہاں سے کوئی چیز نکلی تو اسے محسوس ہو گی اس کے برخلاف جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور مشک کے اندر کی چیز اسے محسوس ہوئے بغیر نکل جاتی ہے۔یہاں پر نبی ﷺ نے انتہائی عمدہ اور لا جواب تشبیہ بطور مثال کے ذکر دی ہے تاکہ شرعی حکم کو ذہن کے قریب کیا جا سکے، اس (تشبیہ) کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے اور یہ نبی ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8404

 
 
Hadith   1478   الحديث
الأهمية: لقد انقطعت في يدي يوم مؤتة تسعة أسياف، فما بقي في يدي إلا صفيحة يمانية


Tema:

غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں (لڑتے لڑتے) ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی تلوار باقی بچی۔

عن أبي سليمان خالد بن الوليد -رضي الله عنه- قال: لقد انقطعت في يدي يوم مُؤْتَةَ تسعة أسياف، فما بقي في يدي إلا صَفِيحَةٌ يمانية.

ابو سلیمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں(لڑتے لڑتے) ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی تلوار باقی بچی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خالد بن الوليد -رضي الله عنه- سيف الله، وفارس الإسلام، وليث المشاهد، وقائد المجاهدين، كان من أشراف قريش في الجاهلية، أسلم قبل فتح مكة، وكان في غزوة أحد في جيش قريش المشركين ثم أسلم، وفي هذا دليل على كمال قدرة الله -عز وجل-؛ وأنه بيده أَزِمَّة الأمور، وأنه يضل من يشاء ويهدي من يشاء، وهو يخبر عن تكسر الأسياف التسعة في يده في مؤتة، في السنة الثامنة من الهجرة، وهذا من شجاعته -رضي الله عنه-، ولم يصمد معه إلا سيف عريض من سيوف اليمن.
587;یف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کے شہسوار، میدان جہاد کے شیر اور مجاہدین کے سالار ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے بڑے لوگوں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے فتحِ مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا۔ غزوۂ احد میں وہ قریش کے لشکر کے ساتھ تھے۔ بعدازاں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ اللہ تعالی کی قدرتِ کاملہ کی دلیل ہے اور اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ زمام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سن آٹھ ہجری میں پیش آنے والی جنگ موتہ میں اپنے ہاتھوں ٹوٹنے والی نَو تلواروں کی بابت بتا رہے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار باقی بچی۔ یہ ان کی شجاعت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالی اُن سے راضی و خوش ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8407

 
 
Hadith   1479   الحديث
الأهمية: الحُمَّى من فيح جهنم فأبردوها بالماء


Tema:

بخار جہنم کی بھاپ سے ہوتا ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔

عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الحُمَّى من فَيْحِ جهنم فأبردوها بالماء».

اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ سے ہوتا ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الحمى من شدة حرارة جهنم، فما يجده المريض من ذلك فهو منها، والحث على إزالة تلك الحرارة بالماء.
606;بی ﷺ نے خبر دی کہ بخار جہنم کی گرمی کی شدت سے ہے۔ چنانچہ مریض کو جو گرمی محسوس ہوتی ہے وہ اسی کی وجہ سے ہوتی ہے چنانچہ اس گرمی کو پانی سے زائل کرے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8408

 
 
Hadith   1480   الحديث
الأهمية: قصة عائشة -رضي الله عنها-، مع عبد الله بن الزبير -رضي الله عنهما- في الهَجْر والنذر


Tema:

ترکِ تعلق اورنذر کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ (ہونے والے) واقعہ کا (بیان)

عن عوف بن مالك -أو: ابن الحارث- بن الطفيل أن عائشة -رضي الله عنها-، حُدِّثَتْ أن عبد الله بن الزبير -رضي الله عنهما-، قال في بيع أو عطاء أعطته عائشة رضي الله تعالى عنها: والله لتَنْتَهِيَنَّ عائشة أو لأَحْجُرَنَّ عليها، قالت: أهو قال هذا؟ قالوا: نعم. قالت: هو لله علي نَذْرٌ أن لا أكلم ابن الزبير أبدًا. فاستشفع ابنُ الزبير إليها حين طالت الهجرة. فقالت: لا، والله لا أُشفَّع فيه أبدًا، ولا أَتَحَنَّثُ إلى نذري. فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وعبد الرحمن بن الأسود بن عبد يَغُوثَ وقال لهما: أَنْشُدُكُما الله لَمَا أَدْخَلْتُمَانِي على عائشة -رضي الله عنها-، فإنها لا يَحِلُّ لها أن تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فأقبل به المِسْوَرُ وعبد الرحمن حتى استأذنا على عائشة فقالا: السلام عليك ورحمة الله وبركاته، أندخل؟ قالت عائشة: ادخلوا. قالوا: كلنا؟ قالت: نعم ادخلوا كلكم، ولا تعلم أن معهما ابن الزبير، فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب فاعتنق عائشة -رضي الله عنها-، وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا ويبكي، وطَفِقَ المِسْوَرُ، وعبد الرحمن يُنَاشِدَانِهَا إلا كَلّمَتْهُ وقَبِلَتْ منه، ويقولان: إن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى عما قد علمتِ من الهجرة؛ ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال، فلما أكثروا على عائشة من التذكرة والتحريج، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُما وتبكي، وتقول: إني نَذَرْتُ والنذرُ شديدٌ. فلم يزالا بها حتى كلمت ابن الزبير، وأعتقت في نذرها ذلك أربعين رقبة، وكانت تَذْكُرُ نَذْرَهَا بعد ذلك فتبكي حتى تَبُلَّ دموعُها خمارَها.

عوف بن مالک -یا ابن حارث- بن طفیل سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بیان کیا گیا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بیع اور عطیہ کے بارے میں فرمایا، جسے عائشہ رضی اللہ نے دیا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیے، نہیں تو اللہ کی قسم میں انھیں مال میں تصرف سے روک دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا: کیا واقعی اس نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں! فرمایا: میں اللہ کے نام پر منت مانتی ہوں کہ ابن زبیر سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی! اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی (کہ انھیں معاف فرما دیں)، ام المؤمنین نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں قبول کروں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطع تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے لمبا ہو گیا، تو انھوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے اس سلسلے میں بات کی اور ان دونوں سے کہا کہ میں تمھیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل کرا دو؛ کیوں کہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی نذر مانیں۔ چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کیا: "السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انھوں نے عرض کیا: ہم سب؟ کہا: ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے (کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو ابن زبیر سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لیے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ جب دونوں نے بار بار یاد دلایا تو ام المؤمنین بھی انھیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ سخت ہے! لیکن یہ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم (توڑنے) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کیے۔ اس کے بعد جب بھی آپ اپنی یہ نذر یاد کرتیں، تو رونے لگتیں، یہاں تک کہ آنسوں آپ کے دوپٹے کو تر کر دیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
سمع عبد الله بن الزبير -رضي الله عنهما- أن عائشة -رضي الله عنها- تبرعت وأعطت عطايا كثيرة، فاستكثر ذلك منها وقال: لئن لم تنته لأمنعنها من التصرف في مالها. وهذه كلمة شديدة بالنسبة لأم المؤمنين عائشة -رضي الله عنها-؛ لأنها خالته وعندها من الرأي والعلم والحلم والحكمة ما لا ينبغي أن يقال فيها ذلك القول، فسمعت -رضي الله عنها- بذلك وأُخبرت به أخبرها بذلك الواشون الذين يشون بين الناس ويفسدون بينهم بالنميمة، فلما وصلت هذه الكلمة إلى عائشة نذرت -رضي الله عنها- ألا تكلمه أبدًا؛ وذلك لشدة ما حصل لها من الانفعال على ابن أختها، وهجرتْه، ومن المعلوم أن هجر أم المؤمنين -رضي الله عنها- لابن أختها سيكون شديدًا عليه، فحاول أن يسترضيها، ولكنها صممت لأنها ترى أن النذر شديد، فاستشفع إليها برجلين من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وفَعلا حيلةً بأم المؤمنين لكنها حيلة حسنة؛ لأنها أدت إلى مطلوب حسن، وهو الإصلاح بين الناس، فاستأذنا على عائشة -رضي الله عنها- فسلما عليها، ثم استأذناها في الدخول فقالا: ندخل. قالت: نعم. قالوا: كلنا. قالت: كلكم. ولم تعلم أن عبد الله بن الزبير معهما، لكنها لم تقل هل معكم عبد الله بن الزبير، فلم تستفصل وأتت بقول عام: ادخلوا كلكم، فدخلوا فلما دخلوا عليها وإذا عليها حجاب أمهات المؤمنين وهو عبارة عن ستر تستتر به أمهات المؤمنين لا يراهن الناس، وهو غير الحجاب الذي يكون لعامة النساء؛ لأن الحجاب الذي لعامة النساء هو تغطية الوجه والبدن، ولكن هذا حجاب يكون حاجبًا وحائلا بين أمهات المؤمنين والناس، فلما دخلا البيت دخل عبد الله بن الزبير الحجاب لأنه ابن أختها فهي من محارمه، فأكب عليها يقبلها ويبكي ويناشدها الله -عز وجل- ويحذرها من القطيعة ويبين لها أن هذا لا يجوز؛ لكنها قالت النذر شديد ثم إن الرجلين أقنعاها بالعدول عما صممت عليه من الهجر وذكراها بحديث النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه لا يحل للمؤمن أن يهجر أخاه فوق ثلاث حتى اقتنعت وبكت وكلمت عبد الله بن الزبير، ولكن هذا الأمر أهمها جدًا، فكانت كلما ذكرته بكت -رضي الله عنها-؛ لأنه شديد، وقد أعتقت أربعين عبدًا من أجل هذا النذر ليعتق الله -تعالى- رقبتها من النار، وذلك من مزيد ورعها، وإلا فالواجب رقبة واحدة.
593;بد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کافی کچھ عطیہ و صدقہ کیا ہے۔ انھیں عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عطیہ بہت زیادہ نظر آیا، اس لیے کہا: اگر وہ باز نہیں آئیں، تو میں انھیں مال میں تصرّف کرنے سے روک دوں گا۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں بہت سخت بات تھی؛ کیوں کہ وہ ان کی خالہ تھیں اورعقل و فکر، حلم و بردباری اور حکمت ودانش والی تھیں؛ اس لیے ان کے بارے میں ایسی بات کہنا مناسب نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی۔ انھیں بتانے کا کام غیبت کرنے والوں اور چغل خوری کے ذریعے آپس میں فساد پھیلانے والوں نے کیا۔ جب یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی، تو انھوں نے ان سے ہمیشہ نہ بات کرنے کی قسم کھا لی۔ انھوں نے اپنے بھانجے پر شدید ناراضگی کی وجہ سے کیا۔ انھوں نے قطع تعلق بھی کر لیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا اپنے بھانجے سے ترکِ تعلق اختیار کرنا، ابن زبیر پر بہت سخت گزرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں راضی کرنے کی کوشش کرنے لگے؛ لیکن ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے عزم پر قائم رہیں۔ کیوں کہ وہ نذر کو بہت اہم جانتی تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دو ساتھیوں کو اپنا سفارشی بنایا۔ ان دونوں نے ام المؤمنین کے ساتھ حیلہ کا راستہ اختیار کیا، جو بجا بھی تھا؛ کیوں کہ اس کا نیک مقصد تھا۔ اصلاح بین الناس کا مقصد۔ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی؛ چنانچہ سلام کیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ جب انھوں نے داخل ہونے کی اجازت دے دی، تو دونوں نے کہا: ہم داخل ہو جائیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں! ان لوگوں نے کہا: ہم سب؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سب لوگ! عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہیں تھا کہ عبد اللہ بن زبیر بھی ان دونوں کے ساتھ ہیں۔ پھر بھی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا تمھارے ساتھ عبد اللہ بن زبیر ہیں؟ انھوں نے کوئی تفصیل نہیں طلب کی؛ بلکہ عام بات کہہ دی کہ تم سب داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ داخل ہوئے۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان پر امہات المومنین کا حجاب تھا۔ یعنی ایک ایسا پردہ جس سے امہات المؤمنین پردہ فرمایا کرتی تھیں؛ تاکہ لوگ انھیں دیکھ نہ پائيں، وہ عام عورتوں والا حجاب نہیں تھا؛ کیوں کہ عام عورتوں کے حجاب میں چہرہ اور جسم کو ڈھاکنا ہوتاہے، لیکن یہ حجاب ایسا تھا جو لوگوں اور امہات المومنین کے درمیان حاجب اور حائل ہوا کرتا تھا۔ جب وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے، تو عبد اللہ بن زبیر پردے کے اندر داخل ہوگئے؛ کیوں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔ اس طرح وہ ان کے محارم میں سے تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما ام المؤمنین کی طرف متوجہ ہوئے، انھیں بوسہ دینے لگے، رونے لگے، اللہ کا واسطہ دے کر قطع کلامی سے ڈرانے لگے اور کہنے لگے کہ یہ جائز نہیں ہے۔ لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نذر کا معاملہ سخت ہے۔ پھر ان دونوں نے انھیں اس قطع کلامی سے، جس کا انھوں نے پختہ عزم کر رکھا تھا، رجوع کرنے پر آمادہ کیا اور نبی ﷺ کی وہ حدیث سنائی، جس میں ہے کہ کسی مومن کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطمئن ہوگئیں اور رونے لگیں اور عبد اللہ بن زبیر سے بات چیت شروع کردیں۔ لیکن یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا کو کافی غمگین کرتی رہی۔ چنانچہ جب بھی عائشہ رضی اللہ عنہا اسے یاد کرتیں، رونے لگتیں۔ کیوں کہ یہ بات بہت سخت تھی۔ اس نذر کی بنا پر انھوں نے چالیس غلام آزاد کیے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی گردن کو جہنم سے آزاد کردے۔ ان کا یہ عمل مزید تقوی و پرہیزگاری کے طور پر تھا؛ ورنہ واجب تو ایک ہی گردن آزاد کرنا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8409

 
 
Hadith   1481   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج إلى قتلى أحد، فصلى عليهم بعد ثمان سنين كالمودع للأحياء والأموات


Tema:

رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کی جانب گئے اور آٹھ سال بعد ان کے حق میں دعا فرمائی۔ (ایسا لگ رہا تھا،) جیسے آپ ﷺ زندوں اور مردوں، سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔

عن عقبة بن عامر -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج إلى قتلى أحد، فصلى عليهم بعد ثمان سنين كالمُوَدِّعِ للأحياء والأموات، ثم طلع إلى المنبر، فقال: «إني بين أيديكم فَرَط ٌوأنا شهيد عليكم وإن مَوْعِدَكُمُ الحَوْضُ، وإني لأنظر إليه من مقامي هذا، ألَا وإني لست أخشى عليكم أن تُشركوا، ولكن أخشى عليكم الدنيا أن تَنَافَسُوهَا» قال: فكانت آخر نظرة نَظَرْتُها إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

608;في رواية: «ولكني أخشى عليكم الدنيا أن تنافسوا فيها، وتَقْتَتِلوا فتَهْلِكوا كما هلك من كان قبلكم». قال عقبة: فكان آخر ما رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على المنبر.
وفي رواية قال: «إني فَرَطٌ لكم وأنا شهيد عليكم وإني والله لأنظر إلى حوضي الآن، وإني أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأرض، أو مَفَاتِيحَ الأرض، وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي، ولكن أخاف عليكم أن تَنَافَسُوا فيها».

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کی جانب گئے اور آٹھ سال بعد ان کے حق میں دعا فرمائی۔ (ایسا لگ رہا تھا،) جیسے آپ ﷺ زندوں اور مردوں، سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تم سے سبقت کرنے والا ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے (قیامت کے دن) تمھاری ملاقات حوض (کوثر) پر ہو گی۔ میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ ذرا غور سے سنو! مجھے تمھارے بارے میں اس بات کا خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے۔ ہاں! میں تمھارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو“۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے رسول اللہ ﷺ کا یہ آخری دیدار تھا، جو مجھ کو نصیب ہوا متفق علیہ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے: ”لیکن میں تمھارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو اور ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوکر باہم قتل کرنے لگ جاؤ۔ پھر تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ، جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہو گئے“۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منبر پر یہی آخری مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میں تم سے سبقت کرنے والا ہوں۔ میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اللہ کی قسم! اس وقت بھی میں اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا کہ) زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اور اللہ کی قسم! میں تمھارے متعلق اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے تمھارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے“۔۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى أحد فدعا للشهداء هناك، وكان هذا بعد ثمان سنين من الغزوة، ثم صعد المنبر -صلى الله عليه وسلم- وخطب الناس كالمودع لهم، وأخبر أنه يرى حوضه وأنه سيسبقهم إليه، وأنه شهيد عليهم، وأخبر أن أمته ستملك خزائن الأرض، وأخبر -صلى الله عليه وسلم- أنه لا يخشى على أمته الشرك، ولكنه خشي شيئا آخر الناس أسرع إليه وهو أن تفتح الدنيا على الأمة فيتنافسوها ويتقاتلوا عليها فتهلكهم كما أهلكت من قبلهم.
يقول عقبة -رضي الله عنه-: وكانت تلك المرة آخر مرة رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على المنبر.
575;یک دن رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد کے شہدا کی جانب ان کے حق میں دعا کے لیے نکلے۔ یہ واقعہ غزوہ احد کے آٹھ سال بعد کا ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں سے اس انداز میں خطاب فرمایا، جیسے ان سے وداعی و رخصتی خطاب فرما رہے ہوں اور اس بات کی بھی خبر دی کہ آپ ﷺ (دنیا ہی میں اس وقت) اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہے ہیں اور بہت جلد اس حوض کے پاس ان سے قبل پہنچنے والے ہیں، اور یہ کہ آپ ﷺ ان کے گواہ ہوں گے، اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو اس بات سے بھی مطلع فرمایا کہ اس امت کو بہت جلد زمین کے خزانوں کا مالک بنایا جائے گا۔ نیز آپ ﷺ نے اس بات سے بھی آگاہ فرما دیا کہ آپ ﷺ کو اپنی امت پر شرک کا خدشہ نہیں، لیکن کسی اور امر کا خوف لاحق ہے، جس کی طرف لوگ بہت تیزی کے ساتھ لپک کر جانے والے ہیں اور وہ یہ کہ اس امت پر دنیوی مال و متاع کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کرتے ہوئے، اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو جائیں گے اور اس طرح یہ امت بھی ہلاکت و تباہی کا شکار ہوگی، جس طرح ان سے قبل لوگ ہلاک و برباد ہوئے۔
عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے منبر پر رسول اللہ ﷺ کو یہی آخری مرتبہ دیکھا۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8410

 
 
Hadith   1482   الحديث
الأهمية: أخبرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم-  بما كان وبما هو كائن، فأعلمنا أحفظنا


Tema:

ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سے سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔

عن أبي زيد عمرو بن أخطب الأنصاري -رضي الله عنه-: صلى بنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الفجر، وصعد المنبر، فخطبنا حتى حضرت الظهر، فنزل فصلى، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى غربت الشمس، فأخبرنا بما كان وبما هو كائن، فأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا.

ابوزید عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو ہمیں آپﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر الصحابي عمرو بن أخطب -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- صلى الفجر ذات يوم، وصعد المنبر وخطب الناس حتى أذن الظهر، ثم نزل فصلى الظهر، ثم عاد فصعد المنبر وخطب حتى أذن العصر، فنزل وصلى العصر، ثم صعد المنبر فخطب حتى غابت الشمس، يعني بذلك أنه خطب يومًا كاملًا من صلاة الفجر إلى غروب الشمس، أعلمه الله -عز وجل- في ذلك اليوم شيئا من علوم الغيب الماضية، ومن الغيوب المستقبلة، وأخبر بها -صلى الله عليه وسلم- أصحابه، فأعلمهم بما قال ذلك اليوم هو من حفظ ورسخ ذلك في ذهنه.
589;حابیٔ رسول بتارہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن فجر پڑھی اور منبر پر چڑھ کر ظہر کی اذان تک لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اتر کر ظہر کی نماز پڑھائی، پھر دوبار منبر پر چڑھے اور عصر کی اذان تک خطبہ دیا، پھر اتر کر عصر پڑھی، پھر منبر پر چڑھ کر سورج غروب ہونے تک خطبہ دیا یعنی ایک دن پورا فجر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک خطبہ دیا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ماضی اور مستقبل کی غیب کی خبریں بتائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو وہ ساری باتیں بتائیں، صحابہ میں اس دن سب سے زیادہ نبی ﷺ کی کہی باتوں کو جاننے والے وہ تھے جنہوں نے اسے یاد کرکے اپنے ذہن میں راسخ کرلیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8411

 
 
Hadith   1483   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمر بقتل الأوزاغ وقال: كان ينفخ على إبراهيم


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی۔

عن أم شريك -رضي الله عنها- : أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمرها بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ وقال: «كان يَنْفُخُ على إبراهيم».

ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمر النبي صلى الله عليه وسلم بقتل الوزغ، وأخبر أنه كان ينفخ النار على إبراهيم من أجل أن يشتد لهبها؛ مما يدل على عداوته التامة لأهل التوحيد والإخلاص، وكل ما أُمر بقتله لم يجز أكله.
606;بی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا اور بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے جلائی گئی آگ پر پھونک مارتی تھی تاکہ اس کے شعلے مزید بھڑکیں۔ اس بات سے اس کی موحدین وصاحب اخلاص کے تئیں مکمل دشمنی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اور ہر اس چیز کا کھانا ناجائز ہے جسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8412

 
 
Hadith   1484   الحديث
الأهمية: من قتل وزغا في أول ضربة كتب له مائة حسنة، وفي الثانية دون ذلك، وفي الثالثة دون ذلك


Tema:

جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کےلیے سو نیکیاں ہیں۔ دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من قتل  وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فله كذا وكذا حسنة، ومن قتلها في الضَّرْبَةِ الثانية فله كذا وكذا حسنة دون الأولى، وإن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة». وفي رواية: «من قتل  وَزَغًا في أول ضربة كتب له مائة حسنة، وفي الثانية دون ذلك، وفي الثالثة دون ذلك».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں؛ مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا, تو اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا, اس کےلیے سو نیکیاں ہیں، دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حث النبي -صلى الله عليه وسلم- على قتل الوزغ ورغب فيه؛ فأخبر أن من قتله في الضربة الأولى كتب له مائة حسنة، ومن قتله في الضربة الثانية فله أقل من ذلك، ومن قتله في الثالثة فله أقل من ذلك، والحكمة من قتلها أنها كانت تنفخ النار على إبراهيم -عليه السلام- وأنها ضارة سامة.
606;بی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے پر ابھارا اور اس کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کے لئے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اس سے کچھ کم نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جس نے اسے تیسری ضرب میں مارا، اسے اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔ اس کے مارنے میں حکمت یہ ہے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی، اور یہ کہ یہ زہریلی اور نقصان پہنچانے والی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8413

 
 
Hadith   1485   الحديث
الأهمية: قال رجل لأتصدقن بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد سارق، فأصبحوا يتحدثون: تصدق على سارق!


Tema:

ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا ، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «قال رجل لأَتَصَدَّقَنَّ بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد سارق، فأصبحوا يتحدثون: تُصُدِّقَ على سارق! فقال: اللهم لك الحمد لأَتَصَدَّقَنَّ بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد زانية؛ فأصبحوا يتحدثون: تُصُدِّقَ الليلة على زانية! فقال: اللهم لك الحمد على زانية! لأَتَصَدَّقَنَّ بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد غني، فأصبحوا يتحدثون: تُصُدِّقَ على غني؟ فقال: اللهم لك الحمد على سارق وعلى زانية وعلى غني! فأتي فقيل له: أما صدقتك على سارق فلعله أن يَسْتَعِفَّ عن سرقته، وأما الزانية فلعلها تَسْتَعِفُّ عن زناها، وأما الغني فلعله أن يَعْتَبِرَ فيُنْفِقَ مما أعطاه الله».

575;بوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے۔ پھر اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی۔ میں اور بھی صدقہ دوں گا۔ چنانچہ (دوسرے دن) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی۔ میں پھر صدقہ دوں گا۔ چنانچہ (تیسرے دن) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک مال دار شخص کو تھما آیا۔ پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مال دار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا : اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ چنانچہ اس کے پاس کوئی آیا اور کہا: جہاں تک چور کو تیرے صدقہ کرنے کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ چوری سے باز آ جائے۔ جہاں تک زانیہ کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ زنا سے کنارہ کش ہو جائے اور جہاں تک مال دار کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبرنا النبي -صلى الله عليه وسلم- بخبر من أخبار الأمم المضية لأخذ العبرة منها فقال ما معناه: خرج رجل ليتصدق، ومعروف أن الصدقة على الفقراء والمساكين، فوقعت صدقته في يد سارق فأصبح الناس يتحدثون تصدق الليلة على سارق، والسارق ينبغي أن يعاقب؛ لا أن يعطى وينمى ماله، فقال هذا الرجل المتصدق: الحمد لله؛ لأن الله تعالى محمود على كل حال، ثم خرج هذا الرجل فقال: لأتصدقن الليلة، فوقعت صدقته في يد امرأة بغي تمكن الناس من الزنا بها، فأصبح الناس يتحدثون تصدق الليلة على زانية، وهذا شيء لا يقبله العقل ولا الفطرة، فقال: الحمد لله، ثم قال لأتصدقن الليلة -وكأنه رأى أن صدقته الأولى والثانية لم تقبل- فتصدق فوقعت في يد غني، والغني ليس من أهل الصدقة بل من أهل الهدية والهبة وما أشبه ذلك، فأصبح الناس يتحدثون تصدق الليلة على غني، فقال: الحمد لله، على سارق وعلى زانية وعلى غني.
 وقد كان يريد أن تقع صدقته في يد فقير متعفف نزيه لكن كان أمر الله قدرًا مقدورًا، فقيل له بواسطة نبي تلك الأمة: إن صدقاتك الثلاثة قد قبلت؛ لأنه مخلص قد نوى خيرًا لكنه لم يتيسر له، وأما السارق فلعله أن يستعف عن السرقة يقول هذا مال يكفيني، وأما البغِي فلعلها أن تستعف عن الزنا؛ لأنها ربما كانت تزني والعياذ بالله ابتغاء المال وقد حصل لها ما يكفها عن الزنا، وأما الغني فلعله يعتبر فينفق مما آتاه الله.
729;میں نبی ﷺ نے پچھلی امتوں کے واقعات میں سے یہ واقعہ بتایا؛ تاکہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی صدقہ دینے کی غرض سے نکلا۔ یہ معروف بات ہے کہ صدقہ فقرا اور مساکین کو دیا جاتا ہے؛ لیکن اس کا صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں پڑ گیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات میں ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ چور کی سرزنش کا حق دار ہوتا ہے؛ مال و دولت دیے جانے کا نہیں۔ ایسے میں صدقہ دینے والے نے کہا: اللہ تیری تعریف و شکر ہے؛ کیوں کہ ہر حال میں اس کی تعریف و شکر ہونا چاہیے۔ پھر یہ آدمی نکلا اور کہا: آج رات میں صدقہ کروں گا۔ لیکن اس نے ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں صدقہ رکھ دیا، جو لوگوں سے زنا کرواتی تھی۔ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ عقل و فطرت تسلیم نہیں کرتی کہ ایک زانیہ کو صدقہ دیا جائے۔ اس آدمی نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے۔ پھر اس نے کہا: آج رات صدقہ کروں گا۔ گویا وہ اپنے پہلے اور دوسرے صدقے کو نامقبول سمجھے ہوئے تھا۔ اس نے صدقہ دیا، تو ایک مال دار آدمی کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ جب کہ مال دار آدمی صدقے کا مستحق نہیں ہوتا؛ بلکہ اسے تحفہ تحائف وغیرہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ اس کی چاہت تھی کہ اس کا صدقہ کسی پاک باز متعفف فقیر کو ملے؛ لیکن اللہ کی لکھی تقدیر ہوکر رہتی ہے۔ اسے اس امت کے نبی کے ذریعے خبر دی گئی کہ تمھارا صدقہ قبول کر لیا گیا؛ کیوں کہ وہ مخلص تھا اور اس کی نیت اچھی تھی، لیکن اس کی نیت پوری نہ ہو سکی۔ جب کہ ممکن ہے کہ چور صدقہ پا نے کے بعد یہ سمجھے کہ میرے لیے یہ مال کافی ہے اور وہ اپنی چوری سے باز آ جائے یہ کہتے ہوئے کہ میرے لئے یہ مال کافی ہے۔ رہی زانیہ تو شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے؛ کیوں کہ بسا اوقات وہ حصول مال کے لیے زنا میں ملوث ہوتی ہے (اللہ بچائے) اور اسے زنا سے روکنے لائق مال حاصل ہو چکا ہے اور رہا مال دار آدمی تو شاید وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8414

 
 
Hadith   1486   الحديث
الأهمية: أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي مَلَّكَك الله إياها؟ فإنه يَشْكُو إلي أنك تُجِيعه وتُدْئِبه


Tema:

کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں مالک بنایا ہے ،اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور تھکاتے ہو۔

عن أبي جعفر عبد الله بن جعفر -رضي الله عنهما-، قال: أرْدَفَنِي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ذات يوم خلفه، وأَسَرَّ إليَّ حديثا لا أُحَدِّث به أحدًا من الناس، وكان أَحَبَّ ما اسْتَتَرَ به رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لحاجته هَدَفٌ أو حائشُ نَخْل. يعني: حائط نخل.
فدخل حائطا لرجل من الأنصار، فإذا فيه جَمَل، فلما رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جَرْجَر وذَرَفَتْ عيناه، فأتاه النبي -صلى الله عليه وسلم- فمسَح سَرَاته -أي: سنامه- وذِفْرَاه فسَكَن، فقال: «مَن رَبُّ هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟». فجاء فَتًى من الأنصار، فقال: هذا لي يا رسول الله. قال: «أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي مَلَّكَك الله إياها؟ فإنه يَشْكُو إلي أنك تُجِيعه وتُدْئِبه».

ابو جعفر عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کر لیا، پھر مجھ سے چپکے سے ایک راز کی بات کہی، جو میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کو قضاے حاجت کے لیے چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں؛ یا تو کوئی اونچا مقام (ٹیلہ) یا کھجور کے درختوں کا جھنڈ یعنی کھجور کا باغ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا۔ جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے اوراس کے کوہان اور کانوں کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا مارتے اور تھکاتے ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عن عبد الله بن جعفر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أركبه خلفه ذات ليلة على الدابة، وكتم إليه بشيء من القول لا يحب رضي الله عنه أن يحدث به الناس، لأنه سر النبي صلى الله عليه وسلم، وأخبر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يحب إذا أراد قضاء حاجته أن يستتر إما بشيء مرتفع، أو ببستان يجتمع فيه النخل حتى لا يراه أحد، وهذا البستان مكان فيه زرع مرتفع لكنه لا يصلح لجلوس الناس فيه، وأن النبي صلى الله عليه وسلم دخل بستانا لرجل من الأنصار فوجد جملا، فلما رأى الجملُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم بكى؛ فمسح النبي صلى الله عليه وسلم سنامه وخلف أذنه، ثم سأل عن صاحب الجمل، فجاء فتى من الأنصار وأخبر أنه صاحبه، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أفلا تتقي الله الذي جعلك مالكا لهذا الجمل، فإنه شكى لي أنك تجيعه وتتعبه.
593;بد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں ایک رات اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور چپکے سے انھیں ایک بات کہی، جس کا یہ صحابی رسول ﷺ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا نہیں چاہتے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے انھیں وہ بات رازداری سے بتائی تھی۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ کا بھی ذکر کیا کہ جب آپ ﷺ قضاے حاجت کا ارادہ فرماتے، تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ یا تو کسی اونچی و بلند چیز کی آڑ میں یا کسی ایسے باغ میں چھپ جائیں، جہاں کھجور کے گھنے درخت ہوں؛ تاکہ آپ پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اور یہ باغ ایسی جگہ ہے، جہاں اونچی اونچی فصلیں ہوتی ہیں؛ لیکن لوگوں کے بیٹھنے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ ایک انصاری شخص کے باغ میں تشریف لے گئے، تو وہاں ایک اونٹ کو دیکھا، جب رسول اللہ ﷺ پر اونٹ کی نظر پڑی تو وہ رونے لگا۔ آپ نے اس کی کوہان اور کانوں کے پیچھے سہلایا۔ اس کے بعد اونٹ کے مالک کے تعلق سے دریافت فرمایا۔ ایک انصاری نوجوان نے آکر بتایا کہ وہ اس کا مالک ہے۔ تب آپ ﷺ نے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمھیں اس اللہ عز وجل کا کوئی ڈر و خوف نہیں، جس نے تمھیں اس اونٹ کا مالک بنایا ہے؟ کیوں کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکے رکھنے کے ساتھ ساتھ تھکا دینے کی حد تک کام لیتے ہو۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8842

 
 
Hadith   1487   الحديث
الأهمية: عن أنس -رضي الله عنه- قال: كنا إذا نَزَلْنا مَنْزِلًا، لا نُسَبِّحَ حتى نَحُلَّ الرِّحال


Tema:

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے، تو اس وقت تک نماز نہ پڑھتے، جب تک کجاؤں کو نہ اتار دیتے۔

عن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: كنا إذا نَزَلْنا مَنْزِلًا، لا نُسَبِّحَ حتى نَحُلَّ الرِّحال.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے، تو اس وقت تک نماز نہ پڑھتے، جب تک کہ کجاؤں کو نہ اتار دیتے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس -رضي الله عنه- أن الصحابة -رضي الله عنهم- كانوا إذا سافروا, ثم وقفوا في مكان للراحة ونحوها أو وصلوا لوجهتهم, لم يبادروا لصلاة النافلة -مع حرصهم على الصلاة- حتى يريحوا الدواب التي تحمل أمتعة المسافرين، وذلك بسرعة إنزال الأمتعة عنها, تخفيفًا عنها ورحمةً بها.
575;نس بن مالک رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم کا یہ معمول تھا کہ جب کبھی سفر کرتے اور کسی مقام پر آرام وغیرہ کے لیے رکتے یا اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے،تو نفل نماز کی ادائیگی کے لیے عجلت نہ کرتے، باوجود یہ کہ انھیں نماز سے دلی لگاؤ تھا، تاآں کہ وہ اپنے مال بردار چوپایوں سے سامان سفر اتار کر انھیں راحت بہم نہ پہنچادیتے۔ اس طرح ہنگامی انداز میں ان سواریوں سے سامان سفر اتاردیتے؛ تاکہ انھیں بوجھ سے ہلکا کردیں اور ان کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کریں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8844

 
 
Hadith   1488   الحديث
الأهمية: ما مِنْكُمْ من أحَدٍ إلا وقد كُتِبَ مَقْعَدُه من النَّار ومَقْعَدُه من الجنَّة


Tema:

تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے

عن علي -رضي الله عنه- قال: كُنَّا في جَنَازة في بَقِيعِ الغَرْقَدِ، فَأتَانَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَقَعَدَ، وَقَعَدْنَا حَوْلَه ومعه مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ وجعل يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثم قال: «ما مِنْكُمْ من أحَدٍ إلا وقد كُتِبَ مَقْعَدُه من النَّار ومَقْعَدُه من الجنَّة» فقالوا: يا رسول الله، أفلا نَتَّكِلُ على كِتَابِنَا؟ فقال: «اعملوا؛ فَكلٌّ مُيَسَّرٌ لما خُلِقَ له...» وذكر تمام الحديث.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع الغرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشريف لائے اور بيٹھ گئے۔ ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے سرجھکایا اور چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسا نہ کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، اس لیے کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ہوگی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے... (اس کے بعد مکمل حديث ذکر کی)۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان الصحابة -رضي الله عنهم- في جنازة أحدهم في مَقبرة أهل المدينة، فقَعَد النبي -صلى الله عليه وسلم- بين أصحابه، وكان بيده عصا، فنَكَّس رأسه وطأطأه إلى الأرض كالمتفكر المهموم، وجعل ينكش الأرض بالعصا، ثم قال: إن الله -تعالى- قد كتب مقادير الناس وكتب مقاعدهم في الجنَّة وفي النَّار.
فلما سمعوا ذلك من النبي -صلى الله عليه وسلم- قالوا: ما دام أنه قد سبق القضاء والقدر؛ بأن الشقي شقي، وأن السعيد سعيد، وأن الذي في الجنة في الجنة، والذي في النار في النار، فما دام الأمر كذلك، ألا نترك العمل؛ لأنه لا فائدة في السعي، فإن كل شيء مكتوب ومُقدر.
فأجابهم بقوله: اعملوا ولا تتكلوا على ما قَدَّره الله من خير أو شرٍّ، بل اعملوا بمقتضى ما أمرتم به وانتهوا عما نُهيتم عنه، فإن الجنة لا تأتي إلا بعمل والنار لا تأتي إلا بعمل، فلا يدخل النار إلا من عمل بعمل أهل النار، ولا يدخل الجنة إلا من عمل بعمل أهل الجنة، فَكلٌّ مُيَسَّرٌ لما خُلِقَ له من خَيْرٍ أو شَرٍّ، فمن كان من أهل السعادة يسره الله لعمل أهل السعادة، ومن كان من أهل الشقاوة يسره الله لعمل أهل الشقاوة.
589;حابۂ کرام رضی اللہ عنہم ايک صحابی کے جنازہ ميں اہل مدينہ کے قبرستان ميں تھے۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور صحابہ کے درميان بيٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ ميں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے کسی غمگين، فکرمند کی طرح اپنا سر مبارک جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کو کریدنےلگے، پھر فرمايا: بلا شبہ اللہ نے لوگوں کی تقديريں اور جنت اور جہنم ميں ان کے ٹھکانے لکھ ديے ہيں۔
جب صحابہ نے نبی ﷺ سے يہ سنا تو عرض كيا کہ جب تقدير ميں يہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بدبخت برا ہوگا اورنيک بخت اچھا ہوگا، نيز جو جنتی ہے جنت ميں جائے گا اور جہنمی جہنم ميں رہے گا، جب معاملہ ايسا ہےتو کيوں نہ ہم عمل کرنا چھوڑديں۔ اس ليے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے، کیوں کہ ہر چيز لکھ دی گئی ہے اور مقدر کر دی گئی ہے۔
توآپ ﷺ نے انہيں جواب ديتے ہوئے ارشاد فرمايا: اعمال انجام ديتے رہو اور جو اللہ نے اچھا يا برا مقدر کرديا ہے اس پر اعتماد کرکے نہ بيٹھ جاؤ، بلکہ جس کا حکم ديا گيا ہے اس کے مطابق عمل کرو اور جس سے روکا گيا ہے اس سے بازرہو۔کیوں کہ جنت عمل ہی کے ذريعہ حاصل ہوگی اور جہنم ميں عمل ہی کے سبب جانا پڑےگا۔ چنانچہ صرف وہی شخص جہنم ميں جائے گا جو جہنميوں کا کام کرے گا اور صرف وہی شخص جنتی ہوگاجو جنتيوں والے اعمال انجام دے گا۔ ۔ہر شخصکو اس کی تقدير کے مطابق ہی اچھائی يا برائی کی توفيق ملتی ہے۔ پس جو نيک بختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ نيک بختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے اور جو بدبختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ بدبختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8869

 
 
Hadith   1489   الحديث
الأهمية: أيُّما مُسلم شَهِد له أربعة بخير، أدخله الله الجنة


Tema:

جس مسلمان کے متعلق چار آدمی بھلائی کی گواہی دے ديں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔

عن أبي الأسود، قال: قَدِمْتُ المدينة، فَجَلَسْتُ إلى عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- فَمَرَّتْ بهم جَنازة، فَأُثْنِيَ على صاحِبِها خيراً، فقال عمر: وجَبَتْ، ثم مَرَّ بأُخْرَى فَأُثْنِيَ على صاحِبِها خيراً، فقال عمر: وجَبَتْ، ثم مَرَّ بالثالثة، فَأُثْنِيَ على صاحِبِها شَرَّا، فقال عمر: وجَبَتْ، قال أبو الأسود: فقلت: وما وجَبَتْ يا أمير المؤمنين؟ قال: قلت كما قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «أيُّما مُسلم شَهِد له أربعة بخير، أدخله الله الجنة» فقلنا: وثلاثة؟ قال: «وثلاثة» فقلنا: واثنان؟ قال: «واثنان» ثم لم نَسْأَلْهُ عن الواحد.

ابوالاسود فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ لوگوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف کی،تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر ایک اور جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کا بھی ذکرخير کيا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہو گئی“۔ پھر تيسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی۔ اس بار بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہو گئی“۔ ابو الاسود کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اميرالمومنين کيا چیز واجب ہوگئی؟ انہوں نے جواب دیا: ميں نے وہی بات کہی ہے جو نبی ﷺ نے فرمائی ہے: ”جس مسلمان کے متعلق چار آدمی بھلائی کی گواہی دے ديں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرےگا“۔ ۔ہم نے عرض کيا:اور تين لوگ (جس کےحق ميں گواہی ديں) تو؟ آپ ﷺ نے فرمايا:”اور تين آدمی بھی“۔ ۔ہم نے عرض کيا: اور دو لوگ (جس کےحق ميں گواہی ديں)؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: ”اوردو لوگ بھی“۔ پھر ہم نے آپ ﷺ سے ایک شخص کے بارے میں نہیں پوچھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
مَرَّت جَنازة على عمر -رضي الله عنه- وكان معه بعض الناس، فشهدوا لها بالخير والصلاح، فقال عمر -رضي الله عنه-: ثبت له ذلك، ثم مَرَّت جَنازة أخرى، فشهدوا لها بالخير والصلاح كالجنازة الأولى، فقال عمر -رضي الله عنه-: ثبت له ذلك، ثم مَرَّت جَنازة ثالثة، فشهدوا عليها بسوء حالها، فقال عمر -رضي الله عنه-: ثبت لها ذلك. فأشكل على أبي الأسود قول عمر -رضي الله عنه- فأراد بيان معنى ذلك، فقال رضي الله عنه: قلت كما قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: أيُّما مُسلم شَهِد له أربعة من أهل الخير والصلاح أنه من أهل الخير والصلاح، ثبتت له الجنة، فقال الصحابة عندما سمعوا ذلك من النبي -صلى الله عليه وسلم-: ومن شهد له ثلاثة بخير؟ قال: وهكذا لو شهد له ثلاثة بخير وجَبَتْ له الجنَّة، فقال الصحابة: ومن شهد له اثنان، هل يكون من أهل الجنَّة؟ قال: ومن شهد له اثنان وجَبَتْ له الجنَّة، ولم نسأله عَمَّن شَهِد له واحد من الناس بالخير أيدخل الجنَّة؟
593;مر رضی اللہ عنہ کے پاس سےایک جنازہ گزرا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ بيٹھے تھے۔ ان لوگوں نے ميت کے لیے خیر و صلاح کی گواہی دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہوگيا۔ پھر ایک دوسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے پہلے جنازہ کی طرح اس کے لیے بھی خیر و صلاح کی گواہی دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہو گيا۔ پھر تيسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کے لیے برے حال کی کی گواہی دی۔تو اس پر بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہو گيا۔ ابو الاسود‘ عمر رضی اللہ عنہ کی بات سمجھ نہ سکے تو اس کے مفہوم کی وضاحت چاہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نےکہا کہ ميں نے وہی کہا ہے جو نبی ﷺ نے فرمايا تھا: جس مسلمان کے متعلق چار اچھے اور نیک لوگ یہ گواہی دے ديں کہ وہ اچھے اور نیک لوگوں میں سے ہے تو اس کے ليے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے جب آپ ﷺ سے يہ بات سنی تواس شخص کے بارے ميں پوچھا جس کے اچھے ہونے کی تين لوگ گواہی ديں؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: اور اسی طرح اگر اس کے اچھے ہونے کی تين لوگ گواہی دیں تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے عرض کيا: کیاجس کے لیے دو لوگ گواہی ديں اس کے لیے بھی جنت ہے؟” آپ ﷺ نے فرمايا:“ جس کے ليے دو گواہ ہوں تو اس کےليے بھی جنت ہے۔(راوی کہتے ہیں) اور ہم نے آپ سے اس شخص کے بارے ميں دريافت نہيں کيا جس کے حق ميں صرف ايک آدمی خیر کی گواہی دے‘ کيا وہ جنت ميں داخل ہوگا؟   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8870

 
 
Hadith   1490   الحديث
الأهمية: ما مِنْكُنَّ من امرأة تُقَدِّمُ ثَلاَثَة من الولد إلا كانوا حِجَابًا من النَّارِ


Tema:

تم میں سے جو بھی عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے (یعنی وہ فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائيں گے۔

عن أبي سعيد الخُدْرِي -رضي الله عنه- قال: جاءت امرأة إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله، ذهب الرجال بِحَدِيثِكَ، فاجْعَل لنَا من نَفْسِك يومًا نَأتِيكَ فيه تُعَلِّمُنَا مما عَلَّمَكَ الله، قال: «اجْتَمِعْنَ يَوَم كَذَا وكَذَا» فَاجْتَمَعْنَ، فأتَاهُنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- فَعَلَّمَهُنَّ مما عَلَّمَهُ الله، ثم قال: «ما مِنْكُنَّ من امرأة تُقَدِّمُ ثَلاَثَة من الولد إلا كانوا حِجَابًا من النَّارِ» فقالت امرأة: واثنين؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «واثنين».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی باتیں تو مرد حضرات ہی لے گئے، لہذا آپ اپنی طرف سے ایک دن ہمارے ليے بھی مقرر کر دیں، اس دن ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ ہميں ان باتوں کی تعلیم دیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم فلاں فلاں دن جمع ہو جاؤ۔ پس وہ جمع ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلائی تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو بھی عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے (یعنی وہ فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائيں گے۔ ایک عورت نے کہا: اور دوبچوں کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
قالت امرأة للنبي -صلى الله عليه وسلم-: شغلك عنَّا الرجال الوقت كله، فأصبحنا لا نجد وقتا نَلقَاك فيه ونسألك عن ديننا، لملازمتهم لك سائر اليوم؛ فخُصَّنا معشر النساء بيوم نَلقَاك فيه لتُعَلِّمَنا فيه أمور ديننا، فخَصص النبي -صلى الله عليه وسلم- لهنَّ يوما يجتمعن فيه، فاجتمعت النسوة في اليوم الذي خَصَّه النبي -صلى الله عليه وسلم- لهُنَّ، فأتاهن فعلمهن مما علمه الله مما يحتجن إليه من العلم، ثم بَشَّرهن أنه ليس مِنْهنَّ امرأة يموت لها ثلاثة من أولادها ذكوراً أو إناثاً فتقدمهم للدار الآخرة صابرة محتسبة إلا كان مُصابها فيهم وقاية لها من النَّار وإن استوجبتها بذنوبها، فقالت امرأة: وإن مات لها اثنان، هل لها أجْر من مات لها ثلاثة من الولد؟
فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: وكذلك إن مات لها اثنان من الولد، فأجْرُها أجْرُ من مات لها ثلاثة من الولد.
575;یک عورت نے نبی کريم ﷺ سےعرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مرد حضرات آپ کاسارا وقت لے ليتے ہيں اور ہميں آپ سے ملاقات کر نے اور دين کے متعلق کچھ دريافت کرنے کا وقت ہی نہيں ملتا ہےکيونکہ وہ لوگ دن بھر آپ کے ساتھ رہتے ہيں۔ لہذا آپ ہم عورتوں کے لیےکوئی خاص دن مقرر کر دیں جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تاکہ آپ ہميں دين کی باتيں سکھلائيں۔ آپ ﷺ نے عورتوں کے اجتماع کے لیے ايک دن خاص کرديا، پس وہ خواتين اس مخصوص دن ميں جمع ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اورآپ ﷺ نے انہیں اللہ کی سکھلائي ہوئي بعض ان باتوں کی تعلیم دی جن کی وہ ضرورت مند تھيں، پھر آپ ﷺ نے انہيں خوشخبري دی کہ ان ميں سے جس بھي عورت کے تين لڑکے يا تين لڑ کيوں کا انتقال ہو جاتا ہے اور وہ عورت صبر واحتساب کے ساتھ انہيں دار آخرت کے ليے پہلے بھيج ديتي ہے تو اس خاتون کي يہ مصيبت اس کے ليے جہنم سے نجات کا ذريعہ بن جائے گی، اگر چہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہی کيوں نہ رہی ہو۔ اس پر ایک عورت نے کہا: اگر اس کے دو بچوں کی وفات ہوئی ہو، تو کيا اس کے ليے بھی وہی اجر وثواب ہے جو اس عورت کے ليے ہے جس کے تين بچوں کی وفات ہوجائے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اور اسي طرح اگر کسي عورت کے دو بچے انتقال کرجائيں، تو اس کے ليے بھی وہی اجر وثواب ہے جو اس عورت کے ليے ہے جس کے تين بچے انتقال کرجائيں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8871

 
 
Hadith   1491   الحديث
الأهمية: أن عبد الله بن أبي أوفى كَبَّرَ على جَنَازة ابْنَةٍ له أرْبَعَ تكبيرات، فقام بعد الرابعة كَقَدْرِ ما بَين التَّكْبِيرَتَيْنِ يَسْتَغْفِرُ لها ويَدْعُو، ثم قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ هكذا


Tema:

عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے رہے جتنا دو تکبیروں کے درمیان وقفہ ہوتا ہے، اس میں فوت شدہ بیٹی کے لیے مغفرت طلب کرتے اور دعا کرتے رہے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔

عن عبد الله بن أبي أَوفَى -رضي الله عنهما-: أنه كَبَّرَ على جَنَازة ابْنَةٍ له أرْبَعَ تكبيرات، فقام بعد الرابعة كَقَدْرِ ما بَين التَّكْبِيرَتَيْنِ يَسْتَغْفِرُ لها ويَدْعُو، ثم قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ هكذا.
وفي رواية: كَبَّر أربَعاً فَمَكَثَ سَاعة حتى ظَنَنْتُ أنه سَيُكَبِّرُ خَمْساً، ثم سلَّم عن يمينه وعن شماله. فلما انْصَرف قلنا له: ما هذا؟ فقال: إني لا أزِيدُكُم على ما رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَع، أو: هكذا صَنَع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے رہے جتنا دو تکبیروں کے درمیان وقفہ ہوتا ہے، اس میں فوت شدہ بیٹی کے لیے مغفرت طلب کرتے اور دعا کرتے رہے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے چار تکبیریں کہیں، پھر کچھ دیر ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر انہوں نے دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا: یہ کیا بات ہے؟ تو عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے سامنے اس سے زیادہ نہیں کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا۔ یا (یہ فرمایا) رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عبد الله بن أبي أوفَى -رضي الله عنهما- أنه صلى على جَنازة ابنته، فكَبَّرَ أرْبَعَ تكبيرات، وتأخر قليلا بعد التكبيرة الرابعة يدعو ويستغفر لها، وتفصيل ذلك أنه يُكَبِّر للدخول في الصلاة، ثم يقرأ الفاتحة، ثم يُكَبِّر التكبيرة الثانية، ثم يصلي على النبي -صلى الله عليه وسلم-، ثم يُكَبِّر التكبيرة الثالثة، ثم يدعو للميت، ثم يُكبر التكبيرة الرابعة.
وقال عبد الله بن أبي أوفَى -رضي الله عنهما- بعد أن سلَّم من الصلاة لمن صلى معه: هكذا كان يصنع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. أي يكبر أربع تكبيرات ويدعو للميت بعد التكبيرة الرابعة.
وفي رواية: أنه كَبَّر أربع تكبيرات، ثم دعا لها واستغفر بعد التكبيرة الرابعة، حتى أيْقَن من خَلفه أنه سيُكَبِّر التكبيرة الخامسة، ثم سلم تسليمتين: الأولى إلى جهة اليمين، والثانية إلى جهة اليسار، كالصلاة، وبعد تمام الصلاة، سأله من وراءه من الناس عن سبب تأخره بعد التكبيرة الرابعة ولم يسلِّم بعدها فورًا، فقال: إن الذي صَنعته ليس فيه زيادة على الذي صنعه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وصفة التسليم محل خلاف سائغ بين العلماء، والأصح والأكثر من فعل الصحابة التسليم عن يمينه فقط، حتى حكي الإجماع على ذلك، كما في المغني لابن قدامة، وهذا الحديث حسنه الألباني ولكن في تحسينه اختلاف بين العلماء؛ لأن في سنده إيراهيم الهجري وهو ضعيف، وقد ورد أيضًا حديث مرفوع في التسليمة الواحدة وفيه إرسال.
593;بداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی نمازِ جنازہ پڑھائی، چنانچہ آپ نے چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اپنی بیٹی کے حق مین دعا واستغفار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کھڑے رہے؛ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے پہلی تکبیر نماز میں داخل ہونے کے لیے کہی پھر آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی، پھر دوسری تکبیر کی اور درود شریف پڑھا، اُس کے بعد آپ نے تیسری تکبیر کہی اور میت کے لیے دعا کی، پھر چوتھی تکبیر کہی۔
پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد ان لوگوں سے جنھوں نے ان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھا تھا کہا، اسی طرح رسول ﷺ بھی کرتے تھے یعنی چار تکبیریں کہتے تھے اور چوتھی تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا کرتے تھے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حسبِ سابق چار تکبیریں کہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد ٹھہر کر دعا واستغفار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے پہلا سلام اپنی داہنی اور دوسرا سلام اپنی بائیں جانب پھیرا، جس طرح نماز میں ہوتا ہے، چنانچہ نماز کے اختتام کے بعد ان کے ساتھ نماز پڑھنے والے لوگوں نے ان سے چوتھی تکبیر کے بعد تاخیر کرنے اور فورًا سلام نہ پھیرنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ جو کیا کرتے تھے، میں نے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
سلام پھیرنے کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سب سے زیادہ اور سب سے صحیح جو بات ثابت شدہ ہے وہ صرف داہنی جانب ایک سلام پھیرنا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر اجماع بھی نقل کیا گیا جیسا کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مغنی میں نقل کیا ہے۔
اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے لیکن اس حدیث کے حسن ہونے میں علماء کا اختلاف ہے کیوں کہ اس کی سند میں ابراھیم الہجری ہے جو کہ ضعیف ہے۔
صرف ایک سلام پھیرنے کے متعلق ایک مرفوع حدیث بھی آتی ہے لیکن وہ مرسل ہے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8872

 
 
Hadith   1492   الحديث
الأهمية: لا يَمُوتُ لأحَدٍ من المسلمين ثلاثة من الوَلَد فتَمسُّه النَّار إلا تَحِلَّة القَسَم


Tema:

جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے آگ پر سے گزرے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يَمُوتُ لأحَدٍ من المسلمين ثلاثة من الوَلَد فتَمسُّه النَّار إلا تَحِلَّة القَسَم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے آگ پر سے گزرے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من مات له ثلاثة من الولد ذكورًا فقط أو إناثًا فقط أو من الذكور والإناث معًا، فإن الله -تعالى- يُحَرِّم جسده على النار، إذا صَبَر واحْتَسَب ورضِي بقضاء الله -تعالى- وقَدَره، إلا بِقَدْر إبرار القسم، وهو عبور الصراط؛ لقوله عز وجل: (وإن منكم إلا واردها).
580;س شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں، تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آگ پر حرام کردے گا، جبکہ وہ صبر سے کام لے، ثواب کی امید رکھے اور اللہ کی قضا و قدر پر راضی برضا رہے۔اسے صرف اس قدر آگ چھوئے گی جس سے اللہ تعالی اپنی قسم کو پورا کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ ”تم میں سے ہر شخص کو اس (جہنم) پر سے گزرنا ہوگا“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8873

 
 
Hadith   1493   الحديث
الأهمية: ما مِنْ مُسْلِم يموت له ثلاثة لم يَبْلُغوا الحِنْثَ إلا أدْخَلَه الله الجنَّة بِفَضْل رَحْمَتِهِ إيَّاهُمْ


Tema:

جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں اسے اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کردے گا۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما مِنْ مُسْلِم يموت له ثلاثة لم يَبْلُغوا الحِنْثَ إلا أدْخَلَه الله الجنَّة بِفَضْل رَحْمَتِهِ إيَّاهُمْ».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں، اسے اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کردے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة أولاد صغار ذكوراً أو إناثاً لم يتجاوزوا سِن البلوغ؛ إلا كان ذلك سببًا في دخوله الجنَّة.
705;سی مسلمان کے تین چھوٹے بچوں کا سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے وفات پا جانا، چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، اس کے لئے دخول جنت کا سبب ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8875

 
 
Hadith   1494   الحديث
الأهمية: هذا أثْنَيْتُمْ عليه خيرا، فَوَجَبتْ له الجنَّة، وهذا أثْنَيْتُمْ عليه شَرَّا، فَوَجَبَتْ له النَّار، أنتم شُهداء الله في الأرض


Tema:

یہ شخص جس کی تم نے اچھے الفاظ میں تعریف کی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ اور یہ شخص جس کی تم نے برے الفاظ میں تعریف کی، اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: مَرُّوا بجَنَازَةٍ، فأَثْنَوْا عليها خيراً، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «وَجَبَتْ» ثم مَرُّوا بأخرى، فأَثْنَوْا عليها شراً، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «وَجَبَتْ»، فقال عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: ما وَجَبَتْ؟ فقال: «هذا أَثْنَيْتُمْ عليه خيراً، فوَجَبَتْ له الجنة، وهذا أَثْنَيْتُم عليه شراً، فوَجَبَتْ له النار، أنتم شُهَدَاءُ الله في الأرض».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ ایک جنازہ کے پاس سے گزرے تو اس کی اچھے الفاظ میں تعریف کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ پھر وہ ایک دوسرے جنازے کے پاس سے گزرے تو اس کی برے الفاظ میں تعریٖف کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا چیز واجب ہوگئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص جس کی تم نے اچھے الفاظ میں تعریف کی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ اور یہ شخص جس کی تم نے برے الفاظ میں تعریف کی، اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن بعض الصحابة مَرُّوا على جنازة فشهدوا لها بالخير والاستقامة على شريعة الله، فلما سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- ثناءهم عليها قال -صلى الله عليه وسلم-: "وجَبَت"، ثم مروا بجنازة أخرى، فشهدوا عليها بالسوء، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: وجَبَتْ. فقال عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: ما معنى: "وجَبت" في الموضعين؟ فقال -صلى الله عليه وسلم-: إن من شَهِدْتم له بالخير والصلاح والاستقامة، فهذا وَجَبتْ له الجنَّة، ومن شَهِدْتم عليه بالسوء، فهذا وَجَبتْ له النار، ولعله كان مشهوراً بنفاق ونحوه.
ثم أخبر -صلى الله عليه وسلم- أن من شهد له أهل الصدق والفضل والصلاح من استحقاقه الجنة أو النار يكون كذلك.
576;عض صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين ايک جنازہ کے پاس سے گذرے تو انہوں نےاس کے حق میں نيکی اور اللہ کی شريعت پر عمل پیرا ہونے کی گواہی دی۔ چناں چہ جب نبی ﷺ نےجنازہ کے بارے ميں ان کی تعريف سنی تو فرمايا: ”واجب ہوگئي“، پھر وہ لوگ ايک دوسرے جنازہ کے پاس سے گذرے تو اس کے برے ہونے کي گواہی دی ،تو آپ ﷺ نے فرمايا:”واجب ہوگئی“،اس پرعمر بن خطاب رضي اللہ عنہ نے پوچھا کہ ان دونوں جگہوں پر ”واجب ہوگئی“ کے کيا معنیٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: جس شخص کےلیے تم لوگوں نے نيکی، راستی اور ثابت قدمی کی گواہی دی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس کے لیے تم نےبرائی کی گواہی دی، اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی۔ شايد کہ وہ شخص نفاق وغيرہ ميں مشہور تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بتلايا کہ جس شخص کے جنتی يا جہنمی ہونے کے تعلق سے صاحبِ فضل، سچے اور نيکو کار لوگ گواہی دے ديں وہ اسی طرح (جنتي يا جہنمي) ہوتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8876

 
 
Hadith   1495   الحديث
الأهمية: إذا قال الرَّجُل: هَلَكَ الناس، فهو أَهْلَكُهُم


Tema:

جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إذا قال الرَّجُل: هَلَكَ الناس، فهو أَهْلَكُهُم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا قال الرجل: هَلك الناس، يريد بذلك إنقاصهم وتحقيرهم والترفع عليهم، لما يَرى من نفسه فضلا عليهم، فقد صار بذلك أعظمهم هلاكًا، وهذا على رواية الرفع :"أهلكُهم"، وأما على رواية النصب: "أهلكَهم" فمعناه: كان سببًا في هلاكهم حيث قَنَّطهم وأيأسهم من رحمة الله -تعالى-، وصَدَّهم عن الرجوع إليه بالتوبة، ودفعهم إلى الاستمرار فيما هم عليه من القنوط، حتى هلكوا.

Esin Hadith Caption Urdu


”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے“ اس سے اس کی مراد لوگوں کی تنقیص و تحقیر کرنا اور اپنی برتری جتانا اور اپنے آپ کو ان سے بالاتر سمجھنا ہو تو وہ خود ان سے زیادہ تباہ و برباد ہو گیا۔ یہ معنی اس صورت میں ہے جب أهلكُهم میں کاف کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے۔اور اگر نصب کےساتھ أهلكَهم پڑھا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ :یہ لوگوں کی ہلاکت کا سبب بن گیا اور وہ اس طرح کہ اس نے لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید اور مایوس کر دیا اور ان کو توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے روک دیا اور جن کاموں پر وہ لگے ہوئے ہیں ناامیدی کی وجہ سے وہ اسی پر گامزن رہے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8877

 
 
Hadith   1496   الحديث
الأهمية: المُتَسَابَّانِ ما قالا فَعَلى البَادِي منهما حتى يَعْتَدِي المَظْلُوم


Tema:

آپس ميں گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ بھی کہیں گے، اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا، يہاں تک کہ مظلوم زیادتی کرے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «المُتَسَابَّانِ ما قالا فَعَلى البَادِي منهما حتى يَعْتَدِي المَظْلُوم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپس ميں گالی دينے والے دو شخص جو کچھ بھی کہیں گے, اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا، يہاں تک کہ مظلوم زیادتی كا ارتكاب کرے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كل ما صَدر من المُتَسَابَّين فإن إثم ذلك على البادئ منهما؛ لأنه هو المعتدي بفعله، أما الآخر فلا شيء عليه؛ لأنه مأذون له بالرَّد على من ظلمه، فإن اعتدى المظلوم على الظالم وذلك بأن جاوز الحَدَّ المأذون له فيه صار إثم المظلوم أكثر من إثم البادئ.
570;پس ميں گالی دينے والے دو شخص جو کچھ بھی کہتے ہيں, اس کا گناہ ان میں سے ابتدا کرنے والے پر ہوتا ہے، کیونکہ درحقیقت زیادتی کرنے والا وہی ہے۔ رہی بات دوسرے شخص کی تو اس پر کوئی گناہ نہيں ہے، اس لیے کہ اسے اپنے اوپر زيادتی کرنے والے کو جواب دينے کی اجازت ہے۔ ليكن اگر مظلوم، ظالم پر زیادتی کرے بایں طور کہ وہ اس حد سے تجاوز كرجائے جس کی اسے اجازت ہے تو اس صورت میں مظلوم کا گناہ ابتدا کرنے والے کے گناہ سے زیادہ ہو جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8878

 
 
Hadith   1497   الحديث
الأهمية: إنك إن اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ المسلمين أفْسَدْتَهُم، أو كِدْتَ أن تُفْسِدَهُم


Tema:

اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہو گے تو تم انہیں بگاڑ کر رکھ دو گے یا انہیں بگاڑنے کے کگار پر ہوگے۔

عن معاوية -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إنك إن اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ المسلمين أفْسَدْتَهُم، أو كِدْتَ أن تُفْسِدَهُم».

معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوگے تو تم انہیں بگاڑ کر رکھ دو گے یا انہیں بگاڑنے کے کگار پر ہوگے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إنك إن اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ المسلمين بالتَّجَسُسِ عن أحوالهم والبحث عن عيوبهم والتنقيب عن معايبهم التي يخفونها وجَاهَرتهم بها، فضحتهم وكشفت سترهم فقَلَّ حياؤهم، فيجترئون على ارتكاب أمثالها من المعاصي مُجَاهرة، بعد أن كانوا مُتَخَفِّين لا يعلم عنهم إلا الله -تعالى-.
575;گر تم مسلمانوں کے پوشیدہ امور کی ٹوہ میں لگو گے یعنی ازراہ تجسس ان کے حالات جاننے کی کوشش کرو گے، ان کی اُن برائیوں اور عیوب کے درپے ہوگے جنہیں وہ چھپاتے ہیں اور انہیں افشاء کر دو گے تو اس طرح کر کے تم ان کی رسوائی کا سبب بنو گے اور ان کا پردہ چاک کر کے رکھ دو گے جس سے ان کی حیاء میں کمی واقع ہو گی اور یوں وہ اس طرح کے گناہوں میں اور بھی زیادہ جری ہوجائیں گے اور ان کا کھلم کھلا ارتکاب کریں گے حالانکہ اس سے پہلے وہ چھپ کر یہ گناہ کیا کرتے تھے جن کا صرف اللہ تعالی کو علم ہوتا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8879

 
 
Hadith   1498   الحديث
الأهمية: أنه أُتِي برجُل فقيل له: هذا فُلان تَقْطُر لحيته خَمْرَا، فقال: إنا قد نُهِيْنَا عن التَّجَسُّسِ، ولكن إن يَظهر لنا شَيْءٌ، نَأخُذ به


Tema:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا : یہ فلاں شخص ہے۔ اس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے! تو (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا : ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آجائے، تو ہم اس کا مؤاخذہ کریں گے۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه-: أنه أُتِي برجُل فقيل له: هذا فُلان تَقْطُر لحيته خَمْرًا، فقال: إنا قد نُهِيْنَا عن التَّجَسُّسِ، ولكن إن يَظهر لنا شَيْءٌ، نَأخُذ به.

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا : یہ فلاں شخص ہے۔ اس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے! تو (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا : ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آجائے، تو ہم اس کا مؤاخذہ کریں گے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إنَّ ابن مسعود -رضي الله عنه- أُتي له بِرَجُل قد شَرب الخمر وقَرينة الحال تدل على ذلك، وهي: أن لحيته تَقطر خمرًا، فأجابهم بأننا مَنْهيون شرعًا عن التَّجَسُّسِ على الآخرين؛ لأن ظاهر حال الرَجل أنه شربه متخفياً، ولكن هؤلاء القوم تجسسوا عليه حتى أخرجوه على هذه الحالة، لكن إذا ظَهر لنا شيءٌ وتبين وثبت بالشهود العدول أو أَقَرَّ على نَفْسِه من غير تَجَسُّسٍ عليه، فإننا نَعامله بمقتضاه من حَدٍّ أو تعزير، ومن اسْتَتَر بِسَتْر الله فلا نؤاخذه.
593;بداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایا گیا، جو شراب پیے ہوئے تھا۔ شراب پینے کا علم فقط قرینۂ حال سے ہو رہا تھا؛ کیوں کہ اس میں ہے "اس کی داڑھی سے شراب ٹپک رہی تھی" ۔ انھوں نے جواب دیا کہ شرعی طور پر ہمیں تجسس سے روکا گيا ہے؛ کیوں کہ اس آدمی کی ظاہری حالت بتا رہی ہے کہ اس نے چھپ کر پیا ہے۔ لیکن لوگ انھیں ٹوہ لگا کر اس حالت میں نکال لائے ہیں۔ البتہ اگر کوئی چیز واضح ہو جائے اور عادل گواہوں کی گواہی بھی مل جائے یا ٹوہ لگائے بغیر وہ اقرار کر لے، تو ہم اس کے جرم کے مطابق حد یا سزا نافذ کریں گے۔ لیکن جو اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھے گا، ہم اس کا مؤاخذہ نہیں کریں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8880

 
 
Hadith   1499   الحديث
الأهمية: لا يَحِلُّ لمسلم أن يَهْجُرَ أخَاه فوق ثَلَاث، فمن هَجَر فوق ثَلَاث فمات دخل النَّار


Tema:

کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ جس نے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا يَحِلُّ لمسلم أن يَهْجُرَ أخَاه فوق ثَلَاث، فمن هَجَر فوق ثَلَاث فمات دخل النَّار».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ جس نے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جہنم میں جائے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث : أنه لا يَحِلُّ للمسلم أن يهجر أخاه المسلم فوق ثلاث، إذا كان الهجر لحَظِّ النفس ومعايش الدنيا، أما إذا كان لمقصد شرعي جاز، بل قد يجب ذلك، كهجر أهل البدع والفجور والفسوق إذا لم يتوبوا، ومن فعل ذلك، ثم مات وهو مُصِرٌّ على معصيته ولم يَتُب منها قبل أن يموت دخل النار، ومعلوم أن من استحق النار من المسلمين لذنب اقترفه ولم يتجاوز الله عنه، فإنه إذا دخلها لابد وأن يخرج منها، ولا يبقى في النار أبد الآباد إلا الكفار الذين هم أهلها، والذين لا سبيل لهم إلى الخروج منها.
581;دیث کا مفہوم: مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے جب کہ یہ قطع تعلقی محض اپنی ذات اور دنیوی امورکی خاطر ہو۔ تاہم اگر اس قطع تعلقی کا کوئی شرعی مقصد ہو تو پھر جائز ہے بلکہ کبھی تو ایسا کرنا واجب ہو جاتا ہے جیسے اہل بدعت اور فاجر و فاسق لوگوں سے قطع تعلقی کرنا جب کہ وہ توبہ نہ کریں۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں اسے موت آ جاتی ہے اور وہ اپنی معصیت پر ڈٹا رہتا ہے اور موت سے پہلے اس سے تائب نہیں ہوتا تو وہ جہنم میں جاتا ہے۔یہ بات معلوم ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص کسی گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوتا ہے اور اللہ اس سے درگزر نہیں کرتا تو وہ اس میں جائے گا تو سہی لیکن اس سے ضرور باہر آئے گا۔ اورجہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صرف کافر لوگ ہی رہیں گے جو اس کے اہل ہیں، اور جن کے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8882

 
 
Hadith   1500   الحديث
الأهمية: لا يَرْمِي رَجُل رَجُلًا بِالفِسْقِ أو الكُفْر إلا ارْتَدَّتْ عليه، إن لم يَكُنْ صَاحبه كذلك


Tema:

کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر تہمت نہ لگائے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے۔

عن أبي ذر -رضي الله عنه- أنه سمع النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: «لا يَرْمِي رَجُل رَجُلًا بِالفِسْقِ أو الكُفْر إلا ارْتَدَّتْ عليه، إن لم يَكُنْ صَاحبه كذلك».

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’”کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر تہمت نہ لگائے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
حرم النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يقول الرجل لصاحبه يا فاسق أو ياكافر؛ لأنه لو لم يكن صاحبه هكذا؛ لرجَعت تلك الكلمة على قائلها.
606;بی ﷺ نے اس بات کو حرام قرار دیا کہ آدمی اپنے کسی ساتھی کو اے فاسق یا اے کافر کہہ کر بلائے۔ کیونکہ اگر اس کا ساتھی ایسا نہیں ہوا تو وہ بات اپنے کہنے والے پر پلٹ آئے گی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8883

 
 
Hadith   1501   الحديث
الأهمية: من خَبَّبَ زوجة امْرِئٍ أو مَمْلُوكَهُ فليس مِنَّا


Tema:

جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من خَبَّبَ زوجة امْرِئٍ أو مَمْلُوكَهُ فليس مِنَّا».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من سَعى في إفساد امرأة على زوجها، سواء كان المُفسد رجلا أو امرأة، وذلك بأن يُذكر عندها مساوئ زوجها وسوء أخلاقه حتى تكره زوجها وتتمرد عليه وتسعى إلى التخلص منه بالطلاق أو الخلع، أو أفسد مملوك رجل عليه وعمل معه أعمالا جعلته يتمرد على سيده ويعامله معاملة سيئة؛ فليس على هدْينَا ولا على مَنْهَجِنا، بل ذلك من عمل الشيطان.
580;و کسی کی بیوی کو اس کے شوہر کے برخلاف اکسائے، ایسا کرنے والا مرد ہو یا کہ عورت بایں طور کہ اس کے سامنے اس کے شوہر کی برائی اوراس کےغلط اخلاق کو کچھ اس انداز سے بیان کرے تاکہ وہ اس سے نفرت کرنے لگے اورسرکشی پر آمادہ ہو اور پھر طلاق یا خلع کے ذریعہ اس سے علٰیحدگی کا مطالبہ کرنے لگے، یا یہ کہ کسی غلام کو اس کے مالک کے برخلاف ورغلائے اور مختلف حربے اپنا کر مالک کے برخلاف سرکشی پر آمادہ کرے اورپھر اس کے ساتھ غیر اخلاقی برتاؤ کرے توایسا شخص ہمارے منہج اور راستے پر چلنے والا نہیں اوراس کا یہ عمل شیطانی عمل ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8884

 
 
Hadith   1502   الحديث
الأهمية: من هَجَر أخَاه سَنَة فهو كَسَفْكِ دَمِهِ


Tema:

جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

عن أبي خِراش حَدْرَدِ بن أبي حَدْرَدٍ الأسْلَمِي -رضي الله عنه- مرفوعاً: «من هَجَر أخَاه سَنَة فهو كَسَفْكِ دَمِهِ».

ابو خراش حدرد ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من هجر أخاه لغير مقصد شرعي واستمر هجره إياه مُدة سنة وجَبَت عليه العقوبة، كما أن سفك دمه يُوجب العقوبة وهو التعزير بما يراه القاضي، ردعًا له وزجرًا لغيره، أما إذا كان الهَجْر لمقصد شرعي، فإن هجر أهل البدع والفسوق ينبغي أن يدوم على مرور الزمان ما لم تظهر منهم توبة ورجوع إلى الحق.
580;س نے اپنے کسی بھائی سے کسی شرعی غرض کے علاوہ کسی اور وجہ سے قطع تعلقی کر لی اور یہ قطع تعلقی ایک سال تک چلتی رہی تو اس کے لیے سزا واجب ہو گئی جیسے اس کے خون بہانے سے سزا واجب ہو جاتی ہے یعنی تعزیزی سزا جو قاضی کی صواب دید پر ہو گی۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ وہ اس سے باز آ جائے اور دوسروں کو اس سے تنبیہ ہو۔ تاہم اگر یہ قطع تعلقی کسی شرعی غرض سے ہو جیسے اہلِ بدعت اور فاسق لوگوں سے قطعِ تعلقی تو اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں اور حق کی طرف نہ لوٹ آئیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8885

 
 
Hadith   1503   الحديث
الأهمية: إن الشَّيطان قد يَئِسَ أن يَعْبُدَه المُصَلُّون في جَزيرة العَرب، ولكن في التَّحْرِيشِ بينهم


Tema:

بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین باہمی پھوٹ ڈالنے میں پُرامید ہے۔

عن جابر -رضي الله عنه- سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إن الشَّيطان قد يَئِسَ أن يَعْبُدَه المُصَلُّون في جَزيرة العَرب، ولكن في التَّحْرِيشِ بينهم».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین باہمی پھوٹ ڈالنے میں پُرامید ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن الشيطان يَئِسَ أن يَعود أهل الجزيرة إلى عِبادة الأصنام، كما كانوا عليه قبل فتح مكة، ولكنه رضي واكتفى بالتَّحْرِيشِ بينهم، وذلك بالسعي في زرع الخصومات والشحناء والحروب والفتن ونحوها.
588;یطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے کہ جزیرۃ العرب کے لوگ دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیں گے جیسے وہ فتح مکہ سے پہلے کیا کرتے تھے تاہم وہ ان کے مابین چپقلش پیدا کرنے کے معاملے میں ہنوز پرامید ہے اور اسی کو وہ کافی سمجھتا ہے بایں طور کہ وہ ان کے مابین جھگڑے، بغض و عداوت، جنگیں اور فتنوں وغیرہ کو ہوا دینے کے لیے دوڑ دھوپ کرے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8886

 
 
Hadith   1504   الحديث
الأهمية: اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام، فقلت: لا أَضرب مملوكا بعده أبدًا


Tema:

ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔

عن أبي مسعود البَدْري -رضي الله عنه- قال: كنت أضرب غُلاما لي بالسَّوْط، فسمعت صوتا من خَلفِي: «اعلم أبَا مسعود» فلم أفْهَم الصَّوت من الغَضَب، فلمَّا دَنَا مِنِّي إذا هو رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فإذا هو يقول: «اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام». فقلت: لا أَضرب مملوكا بعده أبدًا.
وفي رواية: فسقط السَّوط من يَدي من هَيْبَتِه.
وفي رواية: فقلت: يا رسول الله، هو حُرٌّ لوجه الله تعالى، فقال: «أمَا لو لم تفعل، لَلَفَحَتْكَ النَّار، أو لَمَسَّتْكَ النَّار».

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کوڑے سے اپنے ایک غلام کو ماررہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی:ابو مسعود!جان لو۔ لیکن میں غصے کی وجہ سے وہ آواز پہچان نہ سکا۔جب آوازدینے والا میرے قریب ہوا تو (معلوم ہوا کہ) وہ رسول اللہ ﷺ تھے اور فرما رہے تھے کہ ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کی ہیبت سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! یہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں جھلسا دیتی یا آگ تمہیں چھو لیتی۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان أبو مسعود -رضي الله عنه- يَضرب غلامه بالسَّوط، فسمع صوتا يَزجره عن خلفه، فلم يُمَيِّز صوت القائل، فلما اقترب منه علم أنه صوت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فإذا هو يذكره بقدرة الله عز وجل بقوله: «اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام».
فلما سمع كلام النبي -صلى الله عليه وسلم- وتحذيره من التعدي على الضعيف، سقط السَّوط من يده هيبة لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-، والتزم  للنبي -صلى الله عليه وسلم- أن لا يَتعدى على مملوك بعد هذا أبدا.
وبعد أن سمع ما سمعه من النبي -صلى الله عليه و سلم- من زجر وتحذير، ما كان منه -رضي الله عنه- إلا أن أعتقه كفارة عن ضرب، فقال -صلى الله عليه وسلم-: لو لم تعتقه لأصابتك النار يوم القيامة لسوء فعلتك.
575;بو مسعود رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو کوڑے سے ما رہے تھے۔ اسی اثناء میں انہوں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی جو انہیں ڈاٹ رہی تھی۔ وہ پہچان نہ پائے کہ آواز دینے والا کون ہے۔ جب آواز دینے والا قریب آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی آواز ہے۔ آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے انہیں اللہ عز و جل کی قدرت یاد دلا رہے تھے کہ ’’اے ابو مسعود! یہ جان رکھو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو‘‘۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی بات سنی اور کمزور پر دست درازی کے بارے میں آپ ﷺ کی تحذیر ان تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ اس کے بعد وہ کسی غلام کو نہیں ماریں گے۔ نبی ﷺ سے اس ڈانٹ اور ڈراوے کو سن کر انہوں نے مار کے کفّارے کے طور پر اس غلام کو آزاد کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو قیامت کے دن تمہارے اس برے عمل کی وجہ سے تمہیں جہنم کی آگ چھو لیتی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8887

 
 
Hadith   1505   الحديث
الأهمية: إن الله يُعَذِّب الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ الناس في الدنيا


Tema:

اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔

عن هشام بن حكيم بن حزام -رضي الله عنهما-: أنه مَرَّ بالشَّام على أُناس من الأَنْبَاطِ، وقد أُقيموا في الشمس، وصُبَّ على رؤوسهم الزَّيْتُ! فقال: ما هذا؟ قيل: يُعَذَّبُون في الخَرَاج - وفي رواية: حُبِسُوا في الجِزْيَةِ - فقال هشام: أشْهَدُ لسَمِعْتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إن الله يُعَذِّب الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ الناس في الدنيا». فدخل على الأمير، فحدثه، فأمر بهم فَخُلُّوا.

ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کا ملکِ شام کے کچھ عجمی کاشت کار لوگوں پر سے گزر ہوا، جنہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر تیل بہایا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟ جواب دیا گیا کہ: خراج کی وجہ سے (یعنی ٹیکس نہ ادا کرنے کے جرم میں) انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: جزیہ کی وجہ سے انہیں قید کیا گیا ہے۔ ہشام نےکہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: ”اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں“، چناں چہ وہ امیر (گورنر) کے پاس گئے اور انہیں یہ حدیث سنائی، تو گورنر نے ان کی بابت حکم دیا اور انہیں چھوڑ دیا گیا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إن هشام بن حكيم بن حزام -رضي الله عنهما- مَرَّ بالشَّام على أُناس من فلاحين العجم، وقد أوقفوا في الشمس لتحرقهم، وزيادة في تعذيبهم صبَّ على رؤوسهم الزَّيْتُ؛ لأن الزَّيْت تشتد حرارته مع حرارة الشمس، فسأل هشام -رضي الله عنه- عن سبب تعذيبهم  فأجابوه بأنهم لم يدفعوا ما عليهم من أجرة الأراضي التي يعملون عليها، وفي رواية: أنهم لم يدفعوا ما وجب عليهم من الجزية، فلما رأى هشام -رضي الله عنه- هذا التنكيل بهؤلاء الضعفاء قال -رضي الله عنه-: أشهد لسَمِعْتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخبر أن من يُعَذِّبُون الناس ممن لا يستحق التعذيب، فإن الله تعالى يعذبهم يوم القيامة، جزاء وفاقًا، ثم بعد أن قال مقولته تلك: دخل على الأمير وأخبره بما سمعه من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فما كان من الأمير إلا أن تركهم في حالهم.
ولكن لا يعني ذلك عدم عقوبة المخطئ وإيلامه بما يردعه ويكف شره، بل المنهي عنه هو التعذيب الزائد عن العقوبة المعتادة.
729;شام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما شام میں کچھ عجمی کسانوں کےپاس سے گزرے جنہیں جلانے کے لئے دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کی سزا میں سختی لانے کے لئے ان کے سروں پر تیل انڈیلا گیا تھا اس لئے کہ سورج کی گرمی کےساتھ تیل کی گرمی زور پکڑتی ہے۔ ہشام رضی اللہ عنہ نےان کو عذاب دینے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سب جس زمین پر کاشت کرتے ہیں اس کا کرایہ ابھی تک ادا نہیں کیے، اور ایک روایت میں ہے کہ: ان پر جو جزیہ واجب ہے اسے ادا نہیں کیے۔ جب ہشام رضی اللہ عنہ نےان کمزور لوگوں کے ساتھ اس قدر سختی کو دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ ﷺ خبر دے رہے تھے کہ جو لوگ دنیا میں ایسے لوگوں کو عذاب دیتے ہیں جو عذاب کے مستحق نہیں تو اللہ تعالی ایسے لوگوں کو قیامت کے دن مکمل بدلے کے طور پر عذاب دے گا۔ ہشام رضی اللہ عنہ اپنی بات کہنے کے بعد گورنر کے پاس گئے اور اس کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنائی، گورنر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ان کو چھوڑ دے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قصور وار کو ایسی سزا نہ دی جائے جس سے وہ جرم سے باز آجائے اور شر سے رک جائے۔ بلکہ جو بات ممنوع ہے وہ عام سزا سے زائد سزا دینے کے متعلق ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8888

 
 
Hadith   1506   الحديث
الأهمية: إني كنت أَمَرْتُكُمْ أن تُحْرِقُوا فلانًا وفلانًا، وإن النَّار لا يُعَذِّبُ بها إلا الله، فإن وجَدْتُمُوهُما فاقْتُلُوهُما


Tema:

میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: بَعَثَنَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بَعْثٍ، فقال: «إن وجَدْتُم فُلانا وفُلانا» لرجلين من قُرَيْش سَمَّاهُما «فأَحْرِقُوهُمَا بالنَّار» ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين أردنا الخروج: «إني كنت أَمَرْتُكُمْ أن تُحْرِقُوا فلانًا وفلانًا، وإن النَّار لا يُعَذِّبُ بها إلا الله، فإن وجَدْتُمُوهُما فاقْتُلُوهُما».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا تو فرمایا: اگر تمہیں فلاں فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ آپ ﷺ نے یہ قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا۔ پھر جب ہم نکلنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- في هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- بعثهم في جيش لقتال العدو، وأمرهم إذا رأوا  رجلين من قريش عينهما لهم أن يحرقوهما بالنار، ثم قال صلى الله عليه وسلم لهم عندما جاءوا ليودعونه قبل سفرهم: إني كنت أمرتكم أن تحرقوا فلانا وفلانا، وإن النار لا يعذب بها إلا الله، فإن أخذتموهما فاقتلوهما.
575;س حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک لشکر میں دشمن سے لڑنے کے لئے روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ اگر انہیں دو قریشی افراد نظر آئیں جن کی آپ ﷺ نے تعیین کی تو انہیں آگ میں جلا دیں۔ پھر جب وہ آپ ﷺ کو سفر پر روانہ ہونے سے پہلے الوداع کرنے آئےتو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں فلاں فلاں شخص کو جلانے کے لئے کہا تھا۔ لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا۔ اس لئے اگر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو انہیں (جلانے کے بجائے) قتل کر دینا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8889

 
 
Hadith   1507   الحديث
الأهمية: نَهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن تُصْبَرَ البَهائِم


Tema:

رسول الله ﷺ نے زندہ جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔

عن أنس -رضي الله عنه- قال: نَهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن تُصْبَرَ البَهائِم.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زندہ جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أنس -رضي الله عنه- عن نهي النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تُحبس البهائم وهي حية لتُقتل بالرمي ونحوه حتى تموت؛ ونهى عن ذلك لما فيه من تعذيب الحيوان.
575;نس رضی الله عنہ بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ جانوروں کو اس مقصد کے لیے باندھا جائے کہ ان پر تیراندازی وغیرہ کرکے انہیں مار دیا جائے۔ آپ ﷺ نے اس سے اس لیے منع کیا کیونکہ اس سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8890

 
 
Hadith   1508   الحديث
الأهمية: رَأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حِمارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ، فَأنْكَر ذلك


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا، جس کے چہرے پر داغنے کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- مرفوعاً: رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حِمَارًا مَوْسُومَ الوَجْهِ، فأنكر ذلك؟ فقال: «والله لا أَسِمُهُ إلا أقصى شيء من الوجه» وأمر بحماره فُكُوِيَ في جَاعِرَتَيْهِ، فهو أول من كوى الجاعرتين.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغنے کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (عباس رضی اللہ عنہ جو اس گدھے کے مالک تھے) نے کہا کہ اللہ کی قسم اب میں اس جگہ پر داغ دوں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گدھے کی سرین پر داغ دے کر نشان لگایا گیا۔ عباس رضی اللہ عنہ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے سرین پر داغ لگایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: رأى -عليه الصلاة والسلام- حمارًا قد كُوي في وجهه، فأنكر ذلك، والوسم هو عبارة عن كي يكوي الحيوان ليكون علامة، يتخذ أهل المواشي علامة لهم، كل قبيلة لها وسم معين إما شرطتان أو شرطة مربعة أو دائرة أو هلال، المهم أن كل قبيلة لها وسم معين، والوسم هذا يحفظ الماشية إذا وجدت ضالة يعني ضائعة عرف الناس أنها لهؤلاء القبيلة فذكروها لهم.
"فقال" أي العباس بن عبد المطلب -رضي الله عنه- كما هو مُصَرَّح به في رواية ابن حبان في صحيحه عن ابن عباس -رضي الله عنهما- "أن العباس، وسَم بعيرًا أو دابة في وجهه، فرآه النبي -صلى الله عليه وسلم- فغضب، فقال عباس: لا أسِمْه إلا في آخره، فوسَمَه في جَاعِرَتَيْه".
و بعد أن عَلِم بالنهي، حلف أن لا يَسِم حمارًا إلا في أقْصَى شيء من وجهه، وفي رواية ابن حبان السابقة: "لا أسمه إلا في آخِره فوسَمَه في جَاعِرَتَيْه"

ثم أمر بحماره فوُسِم في جَاعِرَتَيْهِ، وهي مؤخرته، حيث مَضْرَب الحيوان بِذَنَبِه على فَخِذه.
قال النووي -رحمه الله-: "وإذا وُسِمَ فيستحب أن يَسِمَ الغنم في آذانها والإبل والبقر في أصول أفخاذِها؛ لأنه موضع صَلْبٌ فيقل الألم فيه ويَخِفُ شعره ويظهر الوَسْم وفائدة الوَسْم تمييز الحيوان بعضه من بعض" فالعباس -رضي الله عنه- أول من وسَمَ حماره في مؤخرته.

581;دیث کا مفہوم: نبی ﷺ نے ایک گدھا دیکھا، جسے اس کے چہرے میں داغ کر نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
'الوسم' سے مراد یہ ہے کہ جانور پر نشان لگانے کے لیے اسے (گرم لوہے سے) داغا جائے۔ جن لوگوں کے پاس مویشی ہوتے تھے، وہ ان پر نشان لگاتے تھے۔ ہر قبیلے کا ایک خاص نشان ہوتا یعنی دو خط، ایک خط، مربع ، دائرہ یا ہلال۔ غرض یہ کہ ہر قبیلے کا اپنا ایک خاص نشان ہوا کرتا تھا۔ اس نشان سے جانوروں کی حفاظت ہوتی تھی بایں طور کہ جب وہ گم ہو جاتے اور لوگوں کو ملتے تو وہ پہچان جاتے کہ یہ فلاں قبیلے کے ہیں اور انہیں اس قبیلے کے لوگوں کی طرف ہانک دیتے۔
”فَقَالَ“ کہنے والے سے مراد عباس ابن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیح ابن حبان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بصراحت موجود ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ یا کسی جانور کو اس کے چہرے میں داغ کر نشان زد کر دیا۔ آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو سخت ناراض ہوئے۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”میں اب اس کے جسم کے آخری حصے میں داغ کر نشان لگاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی سرین پرنشان لگایا“۔
یعنی جب انہیں ممانعت کا علم ہوا، تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ گدھے کے اس جگہ پر نشان لگائیں گے، جو اس کے چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو گا۔ ابن حبان کی سابق الذکر روایت میں ہے: ”میں اس کے آخری حصے میں نشان لگاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی سرین کو نشان زد کیا“۔
پھر ان کے حکم کے مطابق ان کے گدھے کی سرین پر نشان لگایا گیا۔ جاعرۃ سے مراد گدھے کے جسم کا آخری حصہ ہے۔ یعنی ران، جہاں جانور دم مارتا رہتا ہے۔
علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر نشان لگانا ہو تو مستحب یہ ہے کہ بھیڑ بکریوں کوان کے کانوں پر نشان لگایا جائے اور اونٹ اور گائے کو ان کے رانوں کی جڑ پر نشان زد کیا جائے۔ کیوںکہ یہ سخت جگہ ہوتی ہے اور یہاں نشان لگانے سے تکلیف کم ہوتی ہے۔ مزید برآں اس جگہ بال بھی کم ہوتے ہیں اور نشان خوب نمایاں رہتا ہے۔ نشان کا فائدہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اس سے جانور ایک دوسرے سے ممتاز رہیں“۔
عباس رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے اپنے گدھے کو اس کے پچھلے حصے میں نشان لگایا تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8891

 
 
Hadith   1509   الحديث
الأهمية: إنه لا ينبغي أن يُعَذِّب بالنَّار إلا رَبُّ النَّارِ


Tema:

آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔

عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: كنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سفر، فانطلق لحاجته، فرأينا حُمَّرَةً معها فرخان، فأخذنا فرخيها، فجاءت الحُمَّرَةُ فجعلت تَعْرِشُ  فجاء النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها» ورأى قرية نمل  قد حرقناها، فقال: «من حَرَّقَ هذه؟» قلنا: نحن قال: «إنه لا ينبغي أن يعذِّب بالنار إلا رب النار».

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ ۔ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھاجس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبیﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو۔“ پھر نبی ﷺ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے(جلایا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر ابن مسعود -رضي الله عنه- أنهم كانوا في سفر مع النبي -صلى الله عليه وسلم-، ثم إنه -صلى الله عليه وسلم- مضى لحاجته فوجد الصحابةُ حُمَّرةً، وهي نوع من الطيور، معها ولداها، فأخذوا ولديها، فجعلت تَعْرِش، يعني تحوم حولهم، كما هو العادة أن الطائر إذا أخذ أولاده جعل يعرض ويحوم ويصيح لفقد أولاده، فأمر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يطلق ولديها لها، فأطلقوا ولديها.
"ثم مَرَّ بقرية نَمْل" يعني مجتمع النمل، "قد أُحْرِقت فقال: من أحرق هذه؟ قالوا: نحن يا رسول الله. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: إنه لا يْنِبغِي أن يُعذب بالنار إلا ربُّ النار" فنهى عن ذلك، وعلى هذا إذا كان عندك نمل فإنك لا تحرقها بالنار وإنما تضع شيئًا يطردها مثل الجاز، وهو سائل الوقود المعروف إذا صببته على الأرض فإنها تنفر بإذن الله ولا ترجع، وإذا لم يمكن اتقاء شرها إلا بمبيد يقتلها نهائيًّا، أعني النمل، فلا بأس؛ لأن هذا دفع لأذاها، وإلا فالنمل مما نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن قتله، لكن إذا آذاك ولم يندفع إلا بالقتل فلا بأس بقتله.
575;بن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ پھر آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو صحابہ کرام نے ایک حُمَرة دیکھا، یہ پرندوں کی ایک قسم ہے۔ اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، صحابہ کرام نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ پرندہ ان کے گرد منڈلانے لگا، جیسے پرندوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کے بچوں کو پکڑ لیا جائے تو وہ منڈلانے اور ارد گرد گھومنے لگتے ہیں اور اپنے بچوں کی گم شدگی پر چلاتے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے۔ صحابہ کرام نے اس کے بچے چھوڑ دیے۔
پھر چیونٹیوں کی ایک بستی یعنی ان کے رہنے کی جگہ سے گزرے، جسے جلا دیا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسے کس نے جلایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے جلایا ہے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا ”آگ سے عذاب دینا صرف آگ کے رب (یعنیاللہ) کے شایانِ شان ہے“۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
اس حدیث کے پیشِ نظر اگر آپ کا واسطہ چیونٹیوں سے پڑے، تو آپ انہیں آگ سے نہیں جلائیں گے۔ بلکہ کوئی ایسی چیز رکھ دیں جو انہیں بھگا دے جیسے گیسولین جو کہ ایک معروف مائع ایندھن ہے، جب آپ اس کو زمین پر انڈیل دیں گے تو وہ ان شاء اللہ بھاگ جائیں گی اور واپس نہیں لوٹیں گی۔ اگر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو سوائے اس کے کہ کیٹناشک کا استعمال کیا جائے جو حتمی طور پر انہیں مار ڈالے یعنی چیونٹیوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی گزند کو دور کرنا ہے، ورنہ تو چیونٹیاں ان حشرات میں سے ہیں جنہیں قتل کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے، لیکن اگر وہ آپ کو تکلیف کا پہنچائے اور قتل کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، تو ان کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8892

 
 
Hadith   1510   الحديث
الأهمية: نَهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الضرب في الوجه، وعن الوَسْم في الوَجه


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اس پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔

عن ابن عباس -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- مر عليه حمار قد وُسِمَ في وجهه، فقال:«لعن الله الذي وسمه».
وفي رواية لمسلم أيضا: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الضرب في الوجه، وعن الوسم في الوجه»

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک ایسے گدھے کا گزر ہوا، جس کے چہرے کو نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اسے (چہرے پر) نشان لگایا“۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اس پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث النهي الأكيد والوعيد الشديد فيمن وسَم حيوانًا في وجهه وكذا الضرب في الوجه. قد عَدَّه العلماء -رحمهم الله- من كبائر الذنوب
وعلل العلماء للنهي؛ بأن الوجه لطيف يجمع المحاسن، وأعضاؤه نفيسة لطيفة وأكثر الإدراك بها فقد يبطلها ضرب الوجه وقد ينقصها وقد يشوه الوجه والشين فيه فاحش لأنه بارز ظاهر لا يمكن ستره ومتى ضربه لا يسلم من شين غالبا.
575;س حدیث میں اس بات کی سخت ممانعت اور اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جس نے کسی جانور کے چہرے پر نشان لگایا اور اسی طرح اس کے چہرے پر مارا۔ علماے کرام نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔
علماے کرام نے اس ممانعت کی علت یہ بیان کی ہے کہ چہرہ ایک عمدہ عضو ہے، جو تمام محاسن کا مرکز ہوتا ہے۔ چہرے کے اجزا بہت نفیس و نازک ہوتے ہیں اوربیش تر قوائے ادراک چہرے ہی میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ چہرے پر مارنے کی وجہ سے یہ ناکارہ ہو سکتے ہیں یا انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بسا اوقات چہرے پر مارنے سے چہرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور اس میں پیدا شدہ عیب بہت برا ہوتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کا چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ اور جب بندہ جانور کو چہرے میں مارتا ہے، تو عموما اس میں عیب پیدا ہو ہی جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8893

 
 
Hadith   1511   الحديث
الأهمية: لقَد رَأَيْتُنِي سابع سَبْعة من بَني مُقَرِّنٍ ما لنا خَادم إلا واحِدةٌ لَطَمَهَا أصْغَرُنَا فَأَمَرَنَا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن نُعْتِقَهَا


Tema:

مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔

عن أبي علي سويد بن مُقَرِّن -رضي الله عنه- قال: لقد رَأَيْتُنِي سابع سبعة من بني مُقَرِّن ما لنا خادم إلا واحدة لطمها أصغرنا فأمرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن نعتقها وفي رواية: «سابع إخوة لي».

ابو علی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا (يعنی ہم سات بھائی تھے)۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔ ايک روايت میں «سابع إخوة لي» کے الفاظ ہیں۔ يعنی ميں اپنے بھائيوں ميں ساتواں تھا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر سويد بن مقرن فيقول كنت واحدًا من سَبْعة إخوة من بَني مُقَرِّنٍ كلهم صحابة مهاجرون، لم يشاركهم أحدٌ في ذلك: وهو اجتماع سبعة من الإخوة في الهجرة، وليس لنَا من يقوم على خِدمتنا نحن السَبْعة إلا مملوكة واحدة.، فضَربها  أصغرنا على خَدِّها.
فأمرنا -صلى الله عليه وسلم- أن نحررها من العبودية؛ ليكون اعتاقها كفَّارة عن ضَرِبها.
587;وید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8894

 
 
Hadith   1512   الحديث
الأهمية: مَنْ ضَرب غُلامًا له حَدًّا لم يأته، أو لَطَمَه فإن كَفْارَتَه أن يُعْتِقَه


Tema:

جس نے اپنے غلام کو کسی ناکردہ جرم کی پاداش میں مارا یا اسے طمانچہ رسید کیا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «من ضرب غلاما له حدا لم يأته، أو لَطَمَه، فإن كفارته أن يعتقه».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام کو کسی ناکردہ جرم کی پاداش میں مارا یا اسے طمانچہ رسید کیا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من ضرب غلامًا مملوكًا له بلا ذنب يستحق معه العقوبة و لم يفعل الغلام ما يُوجب حَدَّه فإن كفَّارة تلك المعصية أن يُعْتِقَه.
580;س نے اپنے غلام کو بغیر کسی ایسے گناہ کے مارا، جس پر وہ عقوبت کا حق دار ہو اور اس نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا ہو، جس پر وہ مستوجب سزا ہوتا ہو، تو اس معصیت کا کفارہ یہ ہے کہ وہ شخص اس غلام کو آزاد کردے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8895

 
 
Hadith   1513   الحديث
الأهمية: ما لكم ولمجالس الصُّعُدَاتِ؟ اجتنبوا مجالس الصُّعُدَاتِ


Tema:

تم لوگوں کو کیا ہوا ہے جو راستے میں مجلسیں جمائے بیٹھے رہتے ہو؟ راستوں میں مجلسیں جمانے سے بچو ۔

عن أبي طلحة زيد بن سهل -رضي الله عنه- قال: كُنَّا قعودا بالأفْنِيَةِ نتحدَّث فيها فجاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقام علينا، فقال: «ما لكم ولمجالس الصُّعُدَاتِ؟ اجتنبوا مجالس الصُّعُدَاتِ». فقُلنا: إنما قَعَدْنَا لغير ما بأس، قَعَدْنَا نتذَاكَر، ونتحدث. قال: «إما لا فأدُّوا حقَها: غَضُّ البَصَر، وردُّ السلام، وحُسْن الكلام».

ابو طلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ کھلی جگہوں میں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر فرمایا: ”تم لوگوں کو کیا ہوا ہے جو راستے میں مجلسیں جمائے بیٹھے رہتے ہو؟ راستوں میں مجلسیں جمانے سے بچو“۔ ہم نے عرض کیا ہہم کسی نقصان کی غرض سے نہیں بیٹھے، ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر بیٹھنا ہی ہے تو راستہ کا حق آنکھیں نیچی کر کے اور سلام کا جواب دے کر اور اچھی گفتگو سے ادا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو طلحة -رضي الله عنه- أنهم كانوا قعودًا عند فِنَاءِ دار، وهي الأماكن المتسعة عند البيوت ويتحدثون في أمورهم، "فجاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقام علينا" أي أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أقبل عليهم ووقف عندهم ونهاهم -صلى الله عليه وسلم- عن الجلوس في الطرقات.
قالوا: "إنما قَعَدْنَا لغير ما بأس، قَعَدْنَا نتذَاكَر، ونتحدث" أي أن جلوسنا هنا يا رسول الله لا لأمر فيه بأس شرعًا، بل جلوسنا هنا لأمر مباح وهو أننا نتذاكر ونتحدث فيما بيننا.
قال: "إما لا فأدُّوا حقَها" أي فإن أبيتم ترك هذه المجالس، فأدوا حقها وفي الرواية الأخرى: "إن أبيتم إلا المجلس فأعطوا الطريق حقه"، وفي الرواية الأخرى: "سألوه وما حقُّ الطريق" فقال لهم: "غَضُّ البَصَر، وردُّ السلام، وحُسْن الكلام"، وفي الرواية الأخرى: "غضُّ البصر وكفُّ الأذى وردُّ السلام والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر" والمعنى إن أبيتم إلا الجلوس في الطرقات، فإن الواجب عليكم أن تُؤَدُّوا ما هو واجب عليكم، فبين لهم -صلى الله عليه وسلم- سبب النهي عن الجلوس في الطرقات وذلك أن الإنسان قد يتعرض للفتن بحضور النساء الشواب، وخوف ما يلحق من ذلك من النظر إليهن والفتنة بسببهن، ومن التعرض لحقوق الله وللمسلمين بما لا يلزم الإنسان إذا كان في بيته وحيث ينفرد أو يشتغل بما يلزمه، ومن رؤية المنكر، فيجب عليه في هذه الحال أن يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر، فإن ترك ذلك فقد تعرض لمعصية الله.
وكذلك هو يتعرض لمن يَمُر عليه ويسلِّم، وربما كثر ذلك عليه فيعجز عن ردِّ السلام على كل مَار، ورَدُّه فرض، فيأثم والمرء مأمور ألا يتعرض للفتن، ولا يلزم نفسه ما لعله لا يقوم بحقه فيه.
575;بو طلحہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ گھر کے صحن میں بیٹھے تھے۔ فِنَاء گھر کے قریب کھلی جگہ کو کہتے ہیں، اس میں بیٹھ کر اپنے معاملات کے بارے میں باتیں کررہے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوئے اور ہمیں راستوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔
صحابہ کرام نے عرض کیا ”إنما قَعَدْنَا لغير ما بأس، قَعَدْنَا نتذَاكَر، ونتحدث“ یعنی اے اللہ کے رسول ﷺ ہم یہاں کسی غیر شرعی کام کے لیے نہیں بیٹھے، بلکہ جائز کام کے لیے بیٹھے ہیں، یہاں بیٹھ کر ہم بات چیت کرتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا ”إما لا فأدُّوا حقَها“ یعنی اگر تم ان مجلسوں کو چھوڑ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرتے رہو۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ”إنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِس فَأَعْطُوا الطَّريقَ حَقَّهُ“ اور ایک اور روایت کے الفاظ ہیں ”سَألُوهُ وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟“ یعنی صحابہ نے پوچھا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نظریں جُھکانا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کرنا۔ دوسری روایت میں ہے: نظریں جُھکانا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا اور بُرائی سے روکنا۔ مطلب یہ کہ اگر تمہیں لامحالہ راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرنا تمہارے اوپر لازم ہے۔
آپ ﷺ نے ان کے سامنے راستوں میں بیٹھنے سے ممانعت کا سبب بتلایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بسا اوقات انسان کو فتنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے عورتوں کا سامنے آنا اور انہیں دیکھنے کا خوف اور اس کی وجہ سے فتنے میں پڑنا، اسی طرح اللہ اور مسلمانوں کے ایسے حقوق کا پیش ہونا جن کی ادائیگی گھر میں ہونے کی صورت میں لازم نہیں آتی، کیونکہ وہ اکیلا ہوتا ہے یا اپنی ضروری کاموں میں مشغول ہوتا ہے، ان کُھلے راستوں میں بُرائیوں پر بھی نظر پڑے گی، اس وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر اسے چھوڑے گا تو اللہ کی نافرمانی لازم آئے گی۔
اسی طرح گزرنے والے کو سلام کرنا بھی لازم آئے گا، بسا اوقات لوگوں کی کثرت کی وجہ سے بیٹھنے والا سلام کرنے اور اس کا جواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا اور انسان کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ فتنوں سے بچے اور ان میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچائے، اس لئے کہ اپنے نفس پر ان چیزوں کو لازم نہ کرے جن کا حق ادا کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8896

 
 
Hadith   1514   الحديث
الأهمية: كُتب على ابن آدم نَصِيبُه من الزِنا مُدْرِكُ ذلك لا مَحَالة: العينان زِناهما النَظر، والأُذنان زِناهما الاستماع، واللسان زِناه الكلام، واليَدُ زِناها البَطْش، والرِّجل زِناها الخُطَا، والقلب يَهْوَى ويتمنى، ويُصَدِّق ذلك الفَرْج أو يُكذِّبُه


Tema:

ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «كُتب على ابن آدم نَصِيبُه من الزِنا مُدْرِكُ ذلك لا مَحَالة: العينان زِناهما النَظر، والأُذنان زِناهما الاستماع، واللسان زِناه الكلام، واليَدُ زِناها البَطْش، والرِّجل زِناها الخُطَا، والقلب يَهْوَى ويتمنى، ويُصَدِّق ذلك الفَرْج أو يُكذِّبُه».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث أن الإنسان مُدرك للزنا لا محالة إلا من عصمه الله، ثم ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- أمثلة لذلك:
"فالعين زناها النظر" يعني: أن الرَّجُل إذا نظر إلى امرأة ولو لغير شهوة وهي ليست من محارمه فهذا نوع من الزنا وهو زنا العين.
"والأُذنان زِناهما الاستماع" أي يستمع الإنسان إلى كلام المرأة ويتلذذ بصوتها، هذا زنا الأذن.
"واليد زناها البَطْش" يعني العمل باليد من اللمس وما أشبه ذلك.


"والرِجل زناها الخُطا" يعني أن الإنسان يمشي إلى محل الفواحش مثلا أو يسمع إلى صوت امرأة فيمشي إليها أو يرى امرأة، فيتبعها هذا نوع من الزنا.
"والقلب يَهْوَى ويتمنى" أي يميل إلى هذا الأمر وهو التعلق بالنساء هذا زنا القلب.
"والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه" يعني أنه إذا زنى بالفرج والعياذ بالله، فقد صدق زنا هذه الأعضاء وإن لم يزن بفرجه، بل سَلِم وحفظ نفسه فإن هذا يكون تكذيبا لزنا هذه الأعضاء.
فدل ذلك على الحذر من التعلق بالنساء لا بأصواتهن ولا بالرؤية إليهن ولا بمسهن ولا بالسعي إليهن ولا بغواية القلب لهن، كل ذلك من أنواع الزنا -والعياذ بالله-، فليحذر الإنسان العاقل العفيف من أن يكون في هذه الأعضاء شيء يتعلق بالنساء.
581;دیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر صورت زنا کرتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ بچائے، پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس کی کئی مثالیں ذکر کیں:
”فالعين زناها النظر“ یعنی جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھے، اگرچہ بغیر شہوت کے ہو اور وہ عورت اس کی محرمات میں سے نہ ہو، تو یہ بھی زنا کی ایک قسم ہے۔ یہ آنکھوں کا زنا ہے۔
”والأُذنان زِناهما الاستماع“ یعنی انسان کا کسی اجنبی عورت کی گفتگو سن کر اس کی آواز سے لطف اندوز ہونا۔ یہ کانوں کا زنا ہے۔
”اليد زناها البَطْش“ ہاتھ سے چھونا وغیرہ۔ یہ ہاتھ کا زنا ہے۔
”والرِجل زناها الخُطا“ یعنی انسان کا فُحش کاموں والی جگہ کی طرف جانا یا عورت کی آواز سننے جانا یا کسی عورت کو دیکھ کر اس کا پیچھا کرنا، یہ سب زنا کی قسمیں ہیں۔
”والقلب يَهْوَى ويتمنى“ یعنی دل کا عورتوں کی طرف میلان۔ یہ بھی دل کا زنا ہے۔
”والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه“ یعنی جب انسان شرم گاہ کے ذریعے زنا کرتا ہے-اللہ کی پناہ- تو یہ ان اعضا کے زنا کی تصدیق ہے۔ اگر وہ شرم گاہ کے ذریعے زنا نہ کرے، بلکہ محفوظ رہے، تو یہ ان اعضا کی تکذیب ہے۔
یہ حدیث عورتوں سے بچے رہنے پر دلالت کرتی ہے کہ نہ ان کی آواز سنی جائے، نہ ان کی طرف دیکھا جائے، نہ چُھوا جائے، نہ ان کی طرف جانے کی کوشش کی جائے اور نہ ان کی طرف قلبی میلان کیا جائے۔ یہ سب زنا کی قسمیں ہیں -اللہ کی پناہ- اس لیے عقل مند اور پاک دامن انسان کو ان اعضا سے متعلق ایسی تمام چیزوں سے بچنا چاہیے، جو کسی بھی طرح عورتوں سے تعلق کا سبب بنتی ہیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8898

 
 
Hadith   1515   الحديث
الأهمية: إن أول الناس يُقضى يوم القيامة عليه رجُل اسْتُشْهِدَ، فأُتي به، فعرَّفه نِعمته، فعرَفَها، قال: فما عَمِلت فيها؟ قال: قَاتَلْتُ فيك حتى اسْتُشْهِدْتُ


Tema:

قیامت کے دن جس شخص کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إن أول الناس يُقضى يوم القيامة عليه رجُل اسْتُشْهِدَ، فأُتي به، فعرَّفه نِعمته، فعرَفَها، قال: فما عَمِلت فيها؟ قال: قَاتَلْتُ فيك حتى اسْتُشْهِدْتُ. قال: كَذبْتَ، ولكنك قَاتَلْتَ لأن يقال: جَرِيء! فقد قيل، ثم أُمِرَ به فَسُحِب على وجهه حتى أُلقي في النار. ورجل تعلم العلم وعلمه، وقرأ القرآن، فأُتي به فعرَّفه نِعَمه فعرَفَها. قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته، وقرأت فيك القرآن، قال: كَذَبْتَ، ولكنك تعلمت ليقال: عالم! وقرأت القرآن ليقال: هو قارئ؛ فقد قيل، ثم أُمِر به فَسُحِب على وجهه حتى ألقي في النار. ورجل وَسَّعَ الله عليه، وأعطاه من أصناف المال، فأُتي به فعرَّفه نِعَمه، فعرَفَها. قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تُحِبُّ أن يُنْفَقَ فيها إلا أنفقت فيها لك. قال: كَذَبْتَ، ولكنك فعلت ليقال: جواد! فقد قيل، ثم أُمِر به فَسُحِب على وجهه حتى ألقي في النار».

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے جس شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کو پاکر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو، تو اس لیے لڑتا رہا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے سو ! تمہیں (دنیا میں) بہادر کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کو پاکر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لیے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے سو تجھے ایسا (دُنیا میں) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ نے (دنیا میں) وسعتِ رزق سے نوازا ہوگا اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوگا اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کو پاکر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے تیرے راستے میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو تیری رضا حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو نے ایسا اس لیے کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے پس ! تجھے (دنیا میں) ایسا کہا گیا، پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن أول من يُقضي فيهم يوم القيامة هم ثلاثة أصناف: مُتَعلِّم مرائي ومقاتل مرائي ومتصدِّق مرائي، ثم إن الله -سبحانه وتعالى- يأتى بهم إليه يوم القيامة فيعرفهم الله نعمته فيعرفونها ويعترفون بها فيسأل كل منهم: ماذا صنعت؟ يعني في شكر هذه النعمة، فيقول الأول: تعلمت العلم وقرأت القرآن فيك. فقال الله له: كذبت، ولكن تعلمت ليقال: عالم، وقرأت القرآن ليقال: قارئ ليس لله، بل لأجل الرياء، ثم أُمر به فسُحب على وجهه في النار، وكذا من بعده.
602;یامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا حساب کتاب ہوگا وہ تین لوگ ہوں گے۔ دکھاوے کے لیے علم حاصل کرنے والا، دکھاوے کے لیے جہاد کرنے والا اور دکھاوے کے لیے صدقہ کرنے والا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں حاضر کرے گا، انہیں اپنی نعمتیں جَتوائے گا یہ ان نعمتوں کو جان لیں گے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کی قدردانی میں تم نے کیا کیا۔ پہلا کہے گا میں نے تیری رضا کے لیے علم سیکھا اور قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، بلکہ تو نے اس لیے علم سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور اس لیے قرآن پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے۔ اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیا بلکہ دکھاوے کے لیے کیا۔اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا کہ اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔ اسی طرح ایسا ہی سلوک ان کے بعد والوں کے ساتھ ہوگا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8899

 
 
Hadith   1516   الحديث
الأهمية: أرأيت الرَّجل الذي يعمل العمل من الخَير، ويَحمدُه الناس عليه؟ قال: تلك عاجِل بُشْرَى المؤمن


Tema:

اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔

عن أبي ذر -رضي الله عنه- قال: قيل لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أرأيت الرَّجل الذي يعمل العمل من الخَير، ويَحمدُه الناس عليه؟ قال: «تلك عاجِل بُشْرَى المؤمن».

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گيا کہ اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن الرَّجُل يعمل عملا صالحا لله لا يقصد به الناس، ثم إن الناس يمدحونه على ذلك. يقولون فلان كثير الخير فلان كثير الطاعة فلان كثير الإحسان إلى الخلق وما أشبه ذلك فقال -صلى الله عليه وسلم-: "تلك عاجل بشرى المؤمن" وهو الثناء عليه؛ لأن الناس إذا أثنوا على الإنسان خيرًا فهم شهداء الله في أرضه ولهذا لما مَرَّت جَنازة من عند النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه أثنوا عليها خيرا قال وجبت، ثم مرَّت أخرى فأثنوا عليها شرًا قال وجبت فقالوا يا رسول الله ما وجبت قال: "أما الأول فوجبت له الجنة وأما الثاني فوجبت له النار أنتم شهداء الله في الأرض".
فهذا معنى قوله: "تلك عاجل بشرى المؤمن".
والفرق بين هذه وبين الرياء أن المرائي لا يعمل العمل إلا لأجل أن يراه الناس ويثنون عليه فيكون في هذه الحال قد أشرك مع الله غيره، وأما هذا فنيته خالصة لله عز وجل ولم يطرأ على باله أن يمدحه الناس أو يذموه فإذا علموا بطاعته ومدحوه وأثنوا عليه فهذا ليس برياء هذا عاجل بشرى، والفرق بين هذا وبين ما ذُكر في الحديث فرق عظيم.
581;دیث کا مفہوم: بندہ اللہ کی خاطر کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا نہیں ہوتا ہے پھر لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلان شخص بہت زیادہ بھلائی کرنے والا ہے، فلان شخص بہت زیادہ نيکی کرنے والا ہے، فلان شخص مخلوق کے ساتھ بہت احسان کرنے والا ہے اور اسی طرح کی دیگر ستائش بھری باتیں کہتے ہیں، توآپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔''یعنی اس کی مدح و ستائش اس کے لیے پیشگی بشارت ہے; کیونکہ لوگ جب کسی شخص کی تعریف کرتے ہیں تو وہ زمین پر اللہ کے گواہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب ایک جنازہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ ﷺ کے صحابۂ کرام نے اس کا ذکر خیر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''واجب ہوگئی''، پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کا برے طور پر ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''واجب ہوگئی''، چنانچہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے جنازے کے لئے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے کے لئے جہنم واجب ہوگئی, تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔'' آپ ﷺ کے فرمان: ''یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔'' کا مطلب یہی ہے۔ اس ميں اور ریاکاری میں فرق یہ ہے کہ ریاکار شخص عمل ہی اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر اس کی تعریف کریں، اس صورت میں وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنے کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب کہ اس دوسرے شخص کی نیت خالصتا اللہ عزوجل کے لئے ہوتی ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ لوگ اس کی تعریف یا برائی کریں۔ اب اگرلوگوں کو اس کے نیک اعمال کا علم ہوجائے اور وہ اس پر اس کی مدح و ستائش کریں تو یہ ریا کاری نہيں ہے، بلکہ پيشگی خوش خبری ہے۔ اس کے اور حدیث میں جس صورت کا بیان ہے اس کے مابين بڑا فرق ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8900

 
 
Hadith   1517   الحديث
الأهمية: حُرْمَةُ نساء المجاهدين على القَاعِدِين كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِم


Tema:

مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت پیچھے رہ جانے والوں (یعنی جہاد کے لیے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے۔

عن بريدة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «حُرْمَةُ نساء المجاهدين على القَاعِدِين كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِم، ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى» ثم التفت إلينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: «ما ظنَّكم؟».

بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت پیچھے رہ جانے والوں (یعنی جہاد کے لیے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو شخص، مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں کا جانشین (نگران) بنے اور پھر اس کے ساتھ ان کے بارے میں خیانت کرے، تو اس کو قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ایسی حالت میں تمہارا کیا خیال ہے؟

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الأصل أن المرأة الأجنبية تحرم على غيرها من الرجال الأجانب ويزداد الأمر حُرْمَة في نساء المجاهدين الذين خرجوا للجهاد في سبيل الله -تعالى- وتركوا نساءهم خلفهم، وائتمنوا المقيمين عليهن.
فالواجب عليهم الحذر من أن يقعوا في أعراضهم، لا بخلوة ولا نظر ولا كلام فاحش؛ لأنهن في التحريم كَحُرمة أمهاتهم عليهم، فبين النبي -صلى الله عليه وسلم- أن على الإنسان أن يقوم بما يجب لهم ولا يخونه فيهم لا بأن ينظر أو يحاول أن يقع في أمر محرم، ولا في أن يُقَصِّر فيما هو مطلوب منه من الرعاية والعناية وإيصال الخير إليهم ودفع الأذى عنهم.
"ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى" والمعنى : أن من تجرأ على نساء المجاهدين حال غيبتهم وخانهم في نسائهم، فإن الله -تعالى- يمكن المجاهد منه يوم القيامة؛ فيأخذ المجاهد من حسنات الخائن ما شاء حتى يرضى وتقرَّ عينه.
ثم قال -صلى الله عليه وسلم-: "فما ظنكم؟" أي: فما تظنون في رغبة المجاهد في أخذ حسناته والاستكثار منها في ذلك المقام؟ أي لا يبقى منها شيء إلا أخذه.
576;نیادی اصول یہ ہے کہ اجنبی عورت اجنبی مردوں پر حرام ہے۔ لیکن ان مجاہدین کی عورتوں کے بارے میں حرمت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلے ہیں اور اپنی بیویوں کو پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں، اور مقیم لوگوں کو ان پر امین بناکر گئے ہیں۔
لہٰذا ان پر واجب ہے کہ مجاہدین کی بیویوں کی عزتیں پامال کرنے سے ڈریں، نہ ان کے ساتھ تنہائی میں رہیں، نہ ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کوئی بے ہودہ گفتگو کرے، کیوں کہ وہ ان پر اسی طرح حرام ہیں جیسے ان کی اپنی مائیں ان پر حرام ہیں۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے واضح فرمادیا کہ انسان کے اوپر لازم ہے کہ ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے معاملے میں خیانت نہ کرے، نہ تو ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کسی حرام چیز کے ارتکاب کی کوشش کرے۔ اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال کرنے، ان سے ہمدردی و بھلائی کرنے اور ان سے نقصان کو دور کرنے میں کوئی کوتاہی کرے۔
”ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى“ یعنی جس شخص نے مجاہدین کی عدم موجودگی میں ان کی بیویوں پر جسارت کیا اور ان کی بیویوں کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کیا، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجاہد کو خیانت کرنے والے پر قادر بنا دے گا، چنانچہ وہ مجاہد اس خائن کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے گا اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوجائے گی۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ”فما ظنكم“ (تو تمہارا کیا خیال ہے؟)یعنی اس مقام پر مجاہد کے اس کی نیکیوں کو لینے کی خواہش اور انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یعنی ان نیکیوں میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ جائے گی، وہ سب لے لے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8901

 
 
Hadith   1518   الحديث
الأهمية: سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن نظر الفَجْأَةِ فقال: اصْرِف بَصَرك


Tema:

میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نظر کو پھیر لو۔

عن جَرير -رضي الله عنه- قال: سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن نظر الفَجْأَةِ فقال: «اصْرِف بَصَرك».

جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نظر کو پھیر لو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جرير بن عبد الله -رضي الله عنه- أنه سئل النبي -صلى الله عليه وسلم- عن نظر الفجأة ، ونظر الفجأة هو الذي يفاجئ الإنسان مثل أن تمرَّ به امرأة فينظر إليها فجأة من غير قصد، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "اصرف بصرك" يعني أدره يمينًا أو شمالًا حتى لا يلحقك إثم باستدامة النظر.
580;ریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے سوال کیا۔ اچانک پڑ جانے والی نظر سے مراد یہ ہے کہ مثلا انسان کے سامنے سے عورت کا گزر ہو اور وہ اس کی طرف اچانک بلا ارادہ دیکھ لے۔ اس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نظر پھیر لو۔ یعنی اسے دائیں یا بائیں طرف ہٹا لو، تا کہ تاک کر دیکھنے کی وجہ سے تم گناہ گار نہ ہو جاؤ۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8902

 
 
Hadith   1519   الحديث
الأهمية: صِنْفَان من أهل النار لم أَرَهُما: قوم معهم سِيَاط كَأذْنَابِ البَقر يضربون بها الناس، ونساء كاسِيَات عاريات مُمِيَلات مَائِلات، رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلة لا يَدْخُلْن الجَنَّة


Tema:

دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا، ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے جس سے وہ لوگوں کو مارتے پھریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی، وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود مردوں کی طرف مائل ہوں گی، ان عورتوں کے سر بُختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-  قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «صِنْفَان من أهل النار لم أَرَهُما: قوم معهم سِيَاط كَأذْنَابِ البَقر يضربون بها الناس، ونساء كاسِيَات عاريات مُمِيَلات مَائِلات، رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلة لا يَدْخُلْن الجَنَّة، ولا يَجِدْن ريحها، وإن ريحها ليُوجَد من مَسِيرة كذا وكذا».

ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا، ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے جس سے وہ لوگوں کو مارتے پھریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔ وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود مردوں کی طرف مائل ہوں گی، ان عورتوں کے سر بُختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہوں گے وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پاسکیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت (یعنی دور) سے محسوس کی جاسکتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: "صِنْفَان من أهل النار لم أَرَهُما" أي لم يرهما في عصره لطهارة ذلك العصر، بل حدثا بعده وهذا من المُعجزات التي أَيْدَّ الله بها نبيه -صلى الله عليه وسلم-:
الأول: "قوم معهم سِيَاط كَأذْنَابِ البَقر يضربون بها الناس" قال العلماء وهؤلاء هم الشُرط الذين يضربون الناس بغير حق معهم سِيَاط كأذناب البقر يعني سَوط طويل يضربون به الناس بغير حق.
الثاني: "نساء كاسيات عاريات مُمِيلات مائلات" والمعنى: قيل: كاسيات بثيابهن كسوة حِسِّية عاريات من التقوى؛ لأن الله -تعالى- قال : (ولباس التقوى ذلك خير ذلك) وعلى هذا فيشمل هذا الحديث كل امرأة فاسقة فاجرة وإن كان عليها ثياب فضفاضة؛ لأن المراد بالكسوة الكسوة الظاهرة كسوة الثياب عاريات من التقوى؛ لأن العاري من التقوى لا شك أنه عار كما قال -تعالى- (ولباس التقوى ذلك خير)، وقيل: كاسيات عاريات أي عليهن كسوة حِسِّية لكن لا تستر، إما لضِيقها وإما لخِفَّتِها تكون رقيقة ما تستر ، وإما لقصرها.
كل هذا يقال للمرأة التي تلبس ذلك إنها كاسية عارية.
"مُمِيَلات" يعني تميل المشطة كما فسرها بعضهم بأنها المشطة المائلة التي تجعل المشطة على جانب، فإن هذا من الميل؛ لأنها مميلات بمشطتهن ولا سيما أن هذا الميل الذي جاءنا إنما وردنا من النساء الكفار وهذا والعياذ بالله ابتلى به بعض النساء فصارت تفرق ما بين الشعر من جانب واحد فتكون هذه مميلة أي قد أمالت مشطتها، وقيل: مميلات أي فاتنات غيرهن لما يخرجن به من التبرج والطيب وما أشبه ذلك فهن مميلات لغيرهن ولعل اللفظ يشمل المعنيين؛ لأن القاعدة أن النَصَّ إذا كان يحتمل معنيين ولا مرجح لأحدهما، فإنه يحمل عليهما جميعا وهنا لا مرجح ولا منافاة لاجتماع المعنيين فيكون شاملا لهذا وهذا.
وأما قوله : "مَائِلات" فمعناه منحرفات عن الحق وعمَّا يجب عليهن من الحَيَاء والحِشَمة تجدها في السوق تمشي مشية الرجل بقوة وجلد حتى إن بعض الرجال لا يستطيع أن يمشي هذه المشية لكنها هي تمشي كأنها جندي من شدة مشيتها وضربها بالأرض وعدم مبالاتها كذلك أيضا تضحك إلى زميلتها وترفع صوتها على وجه يثير الفتنة وكذلك تقف على صاحب الدكان تماكسه في البيع والشراء وتضحك معه وما أشبه ذلك من المفاسد والبلاء وهؤلاء مائلات لا شك أنهن مائلات عن الحق نسأل الله العافية.
"رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلة" البخت : نوع من الإبل لها سنام طويل يميل يمينا أو شمالا هذه ترفع شعر رأسها حتى يكون مائلا يمينًا أو يسارًا كأسنمة البخت المائلة، وقال بعض العلماء، بل هذه المرأة تضع على رأسها عمامة كعمامة الرجل حتى يرتفع الخمار ويكون كأنه سنام إبل من البخت.
وعلى كل حال فهذه تجمل رأسها بتجميل يفتن لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها نعوذ بالله يعني لا يدخلن الجنة ولا يقربنها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا من مسيرة سبعين عامًا أو أكثر ومع ذلك لا تقرب هذه المرأة الجنة والعياذ بالله؛ لأنها خرجت عن الصراط فهي كاسية عارية مميلة مائلة على رأسها ما يدعو إلى الفتنة والزينة.
581;دیث کا مطلب یہ ہے کہ " صِنْفَان من أهل النار لم أَرَهُما " یعنی میں نے ان کو اپنے زمانے میں نہیں دیکھا، اس زمانے کی پاکیزگی کی وجہ سے، بعد میں یہ رونما ہوئے۔ یہ اللہ کے نبی ﷺ کے معجزات میں سے ہے، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تائید فرمائی۔
پہلی قسم: ”قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ“ علماء کہتے ہیں کہ یہ وہ پولیس والے ہیں جو لوگوں کو ناحق گائے کی دُموں کے مانند اپنے کوڑوں سے مارتے پھریں گے یعنی لمبے کوڑوں سے لوگوں کو ناحق مارتے ہیں۔
دوسری قسم: ”وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ ، مُمِيلاَتٌ مَائِلاَتٌ“ ہے۔ اس کا مطلب بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ عورتیں باریک کپڑے پہنیں گی جو کہ تقوے سے خالی ہوں گی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ﴾ ”اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے“۔ اسی لیے یہ حدیث ہر فاسق و فاجر عورت کو شامل ہے، اگرچہ اس نے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن رکھے ہوں، اس لیے کہ ’پہنے ہونے‘ سے مُراد ظاہری جسم پر کپڑوں کا پہننا ہے جب کہ وہ تقوے سے خالی ہوں گی۔ اس لیے کہ تقوی سے خالی ہونا یقیناً ننگا ہونا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ﴾۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ ”كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ“ یعنی انہوں نے کپڑے تو پہنے ہوں گے لیکن ان سے ستر نہیں چھپے گا یا تو تنگ ہونے کی وجہ سے یا باریک ہونے کی وجہ سے یا چھوٹے ہونے کی وجہ سے۔
ان میں سے ہر طرح کے کپڑے پہننے والی عورت کپڑے پہن کر بھی ننگی ہے۔
”مُمِيَلات“ یعنی آڑی مانگ نکالنے والی (جو سر کے ایک جانب کو نکالی جاتی ہے) جیسا کہ بعض حضرات نے اس کی تفسیر کی ہے کہ ایک جانب مانگ نکالنے والی عورت ’’مائلۃ‘‘ کہلاتی ہے اور اس کا طرزِ عمل ’’میل‘‘ کہلاتا ہے، اس لیے کہ یہ عورتیں اپنی ایک جانب مانگ نکال کر اجنبی مردوں کو مائل کرنے والی ہوتی ہیں۔ یہ میلان خاص کر کفار کی عورتوں میں پایا جاتا ہے۔ اور اس میں بعض مسلمان عورتیں بھی مبتلا ہیں، اللہ کی پناہ۔ سر کے بالوں کو ایک طرف بکھیر دیتی ہے۔ایسی عورتیں ’’مميلة‘‘ یعنی اپنی مانگ کو ایک طرف مائل کرنے والی کہلاتی ہیں۔
بعض علماء کا کہنا ہے ’’مميلات‘‘ کا مطلب ہے دوسروں کو فتنے میں ڈالنے والی عورتیں، بایں طور کہ وہ ننگے سر اور خوشبو وغیرہ کے ساتھ نکلتی ہیں، اس طرح دوسروں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں۔شاید یہ لفظ دو معنوں کو شامل ہے۔ اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب نص دو معنوں پر مشتمل ہو اور کسی ایک معنی کی وجہِ ترجیح نہ ہو، تو اسے دونوں معنوں پر محمول کیا جاتا ہے۔ یہاں پر بھی کسی ایک معنی کے لیے کوئی وجہِ ترجیح نہیں اور نہ ہی دونوں معنوں کے جمع ہونے میں کوئی ممانعت ہے، اس لیے یہ دونوں معنوں کو شامل ہوگا۔
”مَائِلات“ یعنی حق سے اور اپنے اوپر لازم شرم و حیاء سے انحراف کرنے والی عورتیں، جیسے آج کل بازاروں میں مردوں کی چال چلنے والی عورتیں ہیں کہ وہ ایسی قوت اور پھرتیلی سے فوجیوں کی طرح زمین پر زور سے پاؤں رکھتی ہوئی اور بے پرواہی سے چلتی ہیں کہ کچھ مرد بھی اس طرح نہیں چل سکتے، مزید یہ کہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ اونچی آواز میں اس طرح ہنسی مذاق کرتی ہیں کہ فتنے کا سبب بن جاتی ہیں، اسی طرح دکان والے کے ساتھ کھڑی ہو کر ہنستے ہوئے لین دین کرتی ہیں اور دیگر بہت ساری خرابیوں اور بُرائیوں کا ارتکاب کرتیں ہیں۔ یہ عورتیں مائلات ہیں، یقیناً یہ حق سے دور ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے ہیں۔
رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلة“ ان کے سر بختی اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے۔
البخت: ایک قسم کا اونٹ ہوتا ہے جس کی لمبی کوہان دائیں یا بائیں طرف جھکی ہوتی ہے، یہ عورت بھی اپنے سر کے بال اٹھا کر بختی اونٹ کی طرح دائیں یا بائیں جھکا دیتی ہے۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ وہ عورت ہے جو اپنے سر پر مردوں کی طرح پگڑی رکھتی ہے تاکہ اس کا دوپٹہ اونچا رہے، یہ بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہے۔
بہرحال یہ عورت سر کی ایسی زیب و زینت کرتی ہے جو فتنے کا باعث بنتی ہے، یہ جنت میں نہیں جائے گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو سونگھ سکے گی -اللہ کی پناہ-، یعنی یہ عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی بلکہ اس کے قریب بھی نہیں ہوں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال یا اس سے زیادہ دور مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے۔ یہ عورت جنت کے قریب بھی نہیں جائے گی، -اللہ کی پناہ-، اس لیے کہ یہ راہِ راست سے بھٹک چکی ہوں گی یہ کپڑے پہننے کے باوجود بھی ننگی ہوں گی، مائل کرنے والی اور اپنے سر کو ایسا مائل ہونے والی ہوں گی جو فتنے اور زینت کا باعث ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8903

 
 
Hadith   1520   الحديث
الأهمية: لا يَنظر الرَّجُل إلى عَوْرَة الرجل، ولا المرأة إلى عَوْرَة المرأة، ولا يُفْضِي الرَّجُل إلى الرَّجُل في ثوب واحد، ولا تُفْضِي المرأة إلى المرأة في الثوب الواحد


Tema:

مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔

عن أبي سعيد -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا يَنظر الرَّجُل إلى عَوْرَة الرجل، ولا المرأة ُإلى عَوْرَة المرأة،ِ ولا يُفْضِي الرَّجُلُ إلى الرَّجُل في ثوب واحد، ولا تُفْضِي المرأةُ إلى المرأةِ في الثوب الواحد».

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
لا ينظر الرجل إلى عورة رجل آخر ولا تنظر المرأة إلى عورة المرأة هذا نهي للناظر وللناظرة أن ينظرا إلى عورة غيرهم، فلو قُدِّر أن امرأة انكشفت عورتها لحاجة، كما لو كشفت عورتها عند الطبيبة للعلاج وكانت أختها ترافقها فلا يجوز لها أن تنظر إلى عورة أختها، أو انكشفت من ريح أو غير ذلك فإن المرأة الأخرى لا تنظر إلى ما بين السرة والركبة، وعورة الرجل هي ما بين سرته وركبته، فلو انكشفت عورة الرَّجُل لحاجة أو من غير قصد، فلا يجوز للآخرين النظر إلى عورته، فإن وقع نظره على عورة أخيه فجأة وجب صرف نظره وعدم استدامته.
"ولا يُفْضِي الرَّجُل إلى الرَّجُل في ثوب واحد، "ولا تُفْضِي المرأة إلى المرأة في الثوب الواحد" والمعنى: لا تصل بشرة أحدهما إلى بشرة الآخر متجردين في ثوب واحد" فإن في مُبَاشرةِ أحدهما الآخر لمسُ عورةِ كل واحدٍ منهما صاحبه، ولمسُها كالنظر إليها، بل هو أشد في التحريم وأبلغ، وما قيل في حق الرَّجُل يقال في حق المرأة للنص.
575;یک مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے، اس میں دیکھنے والے کے لیے ممانعت ہے کہ وہ کسی کے ستر کو نہ دیکھے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی عورت کسی ضرورت کی بنا پر اپنا ستر کھولے مثلاً علاج کی غرض سے لیڈی ڈاکٹر کے سامنے ستر کھولنا، اب اس کی کوئی مسلمان بہن جو اس کے ساتھ ہو اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بہن کا ستر دیکھے، یا اگر تیز ہوا اور آندھی کی وجہ سے کسی کا ستر کھل جائے تو کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنی بہن کے ران اور ناف کے درمیان دیکھے۔ مرد کا ستر ران و گھٹنے کے درمیان کا حصہ ہے۔ اگر کسی ضرورت سے مرد کا ستر ظاہر ہوجائے یا غیر اختیاری طور پر اس کا ستر کھُل جائے تو کسی کے لیے اس کے ستر کو دیکھنا جائز نہیں۔ اگر کسی کی نظر اچانک اپنی کسی بھائی کے ستر پر پڑ جائے تو اس پر لازم ہے کہ فوراً اپنی نظر ہٹالے۔
”ولا يُفْضِي الرَّجُل إلى الرَّجُل في ثوب واحد، ولا تُفْضِي المرأة إلى المرأة في الثوب الواحد“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو لوگ ننگے حالت میں ایک کپڑے میں ایک دوسرے سے اپنا جسم نہ ملائیں۔ اس لیے کہ اس طرح دونوں جسم ملانے میں ایک دوسرے کا ستر چھُوئے گا اور ستر کا چھُونا ایسے ہی ہے جیسے اس کی طرف دیکھنا، بلکہ حرمت کے اعتبار سے چھُونا دیکھنے سے زیادہ سخت ہے۔ جو کچھ مرد کے حق میں کہا گیا وہی عورت کے حق میں بھی ہے اس لیے کہ اس سلسلے میں نص وارد ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8904

 
 
Hadith   1521   الحديث
الأهمية: لَعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الرَّجُل يَلبَسُ لِبْسَة المرأة، والمرأة تَلْبَس لبْسَة الرَّجُل


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے اس مرد پر لعنت کی ہے جو عورت کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی ہے جو مرد کا لباس پہنتی ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الرجل يلبس لِبْسَةَ المرأة، والمرأة تلبس لِبْسَةَ الرجل.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مرد پر لعنت کی ہے جو عورت کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی ہے جو مرد کا لباس پہنتی ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من تشبه بالنساء فهو ملعون على لسان النبي -صلى الله عليه وسلم- ومن تشبهت بالرجال فهي ملعونة على لسان النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ وذلك أن الله -سبحانه وتعالى- خلق الذكور والإناث وجعل لكل منهما مزية، الرجال يختلفون عن النساء في الخِلقة والخَلق والقوة والدِّين وغير ذلك والنساء كذلك يختلفن عن الرجال فمن حاول أن يجعل الرجال مثل النساء أو أن يجعل النساء مثل الرجال، فقد حاد الله في قَدَرِه وشرعه ؛ لأن الله -سبحانه وتعالى- له حكمة فيما خلق وشرع ولهذا جاءت النصوص بالوعيد الشديد باللعن وهو الطرد والإبعاد عن رحمة الله لتشبه الرجل بالمرأة أو المرأة بالرجل.
580;و شخص عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ بر زبان نبی ﷺ ملعون ہے اور جو عورت مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہے اسے بھی نبیﷺ نے معلونہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے مرد وزن کو پیدا فرمایا اور ان میں سے ہر ایک کو امتیازی شان دی۔ مرد اپنی خلقت، بناوٹ، قوت اور دینی معاملات وغیرہ کے اعتبار سے عورتوں سے مختلف ہوتے ہیں اور اسی طرح عورتیں بھی مردوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ جو مردوں کو عورتوں کی مانند یا عورتوں کو مردوں کی مانند بنانا چاہتا ہے وہ اللہ کی بناوٹ اور شریعت میں اس سے انحراف کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے جو کچھ بنایا ہے یا مشروع کیا ہے اس میں اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔ اسی وجہ سے احادیث کی نصوص میں لعنت کی سخت وعید آئی ہے۔ یعنی مرد کی عورت کے ساتھ اور عورت کی مرد کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا جاتا ہے اور دور کر دیا جاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8905

 
 
Hadith   1522   الحديث
الأهمية: احْلِقُوهُ كُلَّه، أو اتْرُكُوه كلَّه


Tema:

یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صبيًّا قد حُلِق بعض شعر رأسه وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: «احلقوه كله، أو اتركوه كله».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا اور کچھ بنا مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صَبِيًّا قد حُلق بعض شعر رأسه وتُرك بَعضه، وهذا الفعل يُسمى القزع، فَنَهَاهُم عن أن يفعلوا ذلك بالصبي مرة ثانية، وقال لهم: لا يُحلق جزء منه ويترك البقية، وهذا النهي إما على الكراهة وإما على التحريم، فينبغي اجتنابه مطلقًا.
585;سول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بالوں کو مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ کو بغیر مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بچے کے ساتھ دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور بقیہ کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ یہ ممانعت یا تو کراہت کے لیے ہے یا پھر حرمت کے لیے، لہذا اس کام سے مطلقا پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8906

 
 
Hadith   1523   الحديث
الأهمية: إذا انقطع شِسْعُ نَعْل أحدكم فلا يَمْشِ في الأخرى حتى يُصلِحها


Tema:

جب تم میں سے کسی آدمی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتی پہن کر نہ چلے جب تک کہ اپنی اس جوتی کے تسمہ کو ٹھیک نہ کرالے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه-  قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إذا انقطع شِسْعُ نَعْل أحدكم، فلا يَمْشِ في الأخرى حتى يُصلِحها».

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی آدمی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتی پہن کر نہ چلے جب تک کہ اپنی اس جوتی کے تسمہ کو ٹھیک نہ کرالے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- المسلم إذا انقطع نعله ولم يمكنه المشي فيه، فلا يمشي في نعل واحدة، بل عليه أن يصلح ما فسد أو يخلع الأخرى ويمشي حافيًا، وسبب ذلك ما فيه من التشبه بالشيطان، كما في أحاديث أخرى.
606;بی کریم ﷺ نے مسلمان کو اس بات سے منع فرمایا کہ جب اُس کی جوتی کا ایک تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک وہ اس کو درست نہ کر لو اکیلی دوسری جوتی میں نہ چلے۔ بلکہ اس پر لازم ہے کہ ٹوٹے تسمے کو درست کرے یا پھر دوسری جوتی کو بھی اتار کر ننگے پاؤں چلے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں شیطان سے مشابہت ہوتی ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر آیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8907

 
 
Hadith   1524   الحديث
الأهمية: إن اليهود والنصارى لا يَصْبغُونَ، فخَالِفُوهم


Tema:

یہودی اور عیسائی خضاب نہیں لگاتے۔ تم ان کی مخالفت کیا کرو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن اليهود والنصارى لا يصبغون، فخالفوهم».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی خضاب نہیں لگاتے۔ تم ان کی مخالفت کیا کرو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر أبو هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبرهم بأن اليهود والنصارى أي لا يصبغون شعر رؤوسهم ولِحاهم، بل يتركون الشَّيب فيها على حاله، فأمر أن يخالفوهم بصبغ الشَّعر، وخضب اللحية والرأس.
575;بوہریرہ رضی اللہ عنہا بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ یہودی و عیسائی اپنے سروں اور داڑھیوں کے بالوں پر خضاب نہیں لگاتے، بلکہ (ان میں نمودار ہونے والی ) سفیدی کو جوں کا توں چھوڑ دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ مسلمان ان کی مخالفت کرتے ہوئے داڑھی اور سر کو رنگیں اور خضاب لگائیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8908

 
 
Hadith   1525   الحديث
الأهمية: غَيِّرُوا هذا واجْتَنِبوا السَّوَاد


Tema:

اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا۔

عن جابر -رضي الله عنه- قال: أُتِيَ بأبي قُحَافَة والد أبي بكر الصديق -رضي الله عنهما-، يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كَالثَّغَامَةِ بياضًا. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «غَيِّرُوا هذا واجْتَنِبوا السَّواد».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس (ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں) کی طرح سفید تھے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أنه أتي بأبي قحافة -والد أبي بكر الصديق- إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كَالثَّغَامَةِ ، وهو نوع من النبات أبيض، فلما رآه -صلى الله عليه وسلم- على تلك الحال، قال: "غَيِّرُوا هذا واجْتَنِبوا السَّوَاد" فأمر بتغيير الشَّيب وأن يُجَنَّب السَّواد؛ لأن السَّواد يعني أنه يُعيد الإنسان شابًّا، فكان ذلك مضادة لفطرة الله -عز وجل- وسنته في خلقه، وأما بقية الأصباغ كالحُمرة والصُفرة أو بالحناء والكَتَم مخلوطين فلا بأس، إذا خرج اللون عن السَّواد، بل بين السَّواد والحُمرة، فهذا لا بأس به، والمنهي عن صبغه به هو السَّواد الخالص، وفي مسلم من حديث أنس -رضي الله عنه- خضب أبو بكر وعمر -رضي الله عنهما- بالحناء والكَتَم.
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس کی طرح سفید ہوگیے تھے۔ ثغامہ ایک قسم کا سفید رنگ کا گھاس ہے۔ جب آپ ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا، تو فرمایا:”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ آپ ﷺ نے ان کے بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کو کالا کرنے سے بچو، اس لیے کہ بالوں کو کالا کرنا انسان کو دوبارہ جوان بنانا ہے۔ یہ تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی فطرت اور اس کی سنت کے منافی ہے۔ جہاں تک باقی رنگوں کا تعلق ہے جیسے لال اور نیلا رنگ یا مہندی اور وسمہ ملے ہوئے رنگ، تو ان میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کالےکے علاوہ ایسا رنگ ہو جو کالے اور سُرخ کے درمیان ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ممانعت صرف خالص کالے رنگ کی ہے۔ صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہندی اور وسمہ لگایا کرتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8909

 
 
Hadith   1526   الحديث
الأهمية: لا تَبْكُوا على أَخِي بعد اليوم


Tema:

آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔

عن عبد الله بن جعفر -رضي الله عنهما-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمهل آل جعفر ثلاثا، ثم أتاهم، فقال: «لا تبكوا على أخي بعد اليوم» ثم قال: «ادعوا لي بني أخي» فجيء بنا كأننا  أفْرُخٌ  فقال: «ادعوا لي الحلاق» فأمره، فحلق رؤوسنا».

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا،اس وقت ہم چوزوں کی طرح لگ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نائی کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أنه عندما استشهد جعفر بن أبي طالب في غزوة مؤتة، أمهل النبي -صلى الله عليه وسلم- أهله ثلاثا من أجل أن تَطيب نَفوسهم ويذهب ما في نفوسهم من الحزن والأسى، ثم قال لهم: "لا تَبْكُوا على أَخِي بعد اليوم" أي نهاهم عن البكاء بعد ثلاثة أيام؛ لأن الصدمة الأولى وزمن الحزن لا يطول ولا يستمر.
والنهي هنا: للتنزيه لإباحة البكاء بعد ثلاثة أيام ما لم يقترن به محرم. 
ثم قال: «ادعوا لي بَنِي أخِي» وهم محمد وعبد الله وعوف أولاد جعفر، قال عبد الله: "فجيء بِنَا كأننا أفْرُخٌ" الفَرَخ ولد الطائر، وذلك لما أصابهم من الحزن على فقد والدهم.
قال: "ادعوا لي الحلَّاق. فأمره، فَحَلَق رؤوسنا" أي أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر بحلق رؤوسهم فحُلقت، لما رأى من اشتغال أمهم أسماء بنت عميس -رضي الله عنها- عن ترجيل شعورهم بما أصابها من قتل زوجها في سبيل الله فأشفق عليهم من الوَسَخ والقمل، فإذا أزيل صار في ذلك فائدة ومصلحة وراحة لأمهم التي جاءها ما يشغلها عن العناية بشعر أولادها.
تنبيه: معلوم أن الحلق عند المصيبة لا يجوز، وقد جاء في الحديث: (لعن الرسول -صلى الله عليه وسلم- الصَّالقة والحَالقة والشَّاقة).
والحالقة: التي تحلق شعرها عند المصيبة، والشاقة: التي تشق ثوبها عند المصيبة، والصالقة: التي ترفع صوتها عند المصيبة، والحلق لأولاد جعفر ليس اعتراضا على موته، ولكن المقصود من هذا الحَلق لأولاد جعفر بعد موته -رضي الله تعالى عنه وأرضاه- هو كون أمهم كانت منشغلة عن العناية برؤوسهم، فخشي أن يُصيبهم شيء من القَمْل فأمر بحلق رءوسهم -صلوات الله وسلامه وبركاته عليه-، ولم يكن الحلق تأثرًا بالمصيبة.
581;دیث کا مفہوم: غزوہ موتہ میں جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو نبی ﷺ نے ان کے گھر والوں کو تین دن تک(سوگ کرنے) کی مہلت دی تا کہ ان کے دلوں کو اطمینان و تسلی ہو جائےاور ان کے دلوں میں موجود رنج و غم زائل ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آج کے بعد تم میرے بھائی پر مت رونا“۔ یعنی تین دن کے بعد آپ ﷺ نے انہیں رونے دھونے سے منع فرما دیا کیونکہ ابتدائی صدمہ اور رنج و غم کا وقت لمبا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ یہاں یہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ تین دن کے بعد بھی رونا مباح ہے جب تک کہ اس کے ساتھ کسی حرام فعل کا ارتکاب نہ ہو۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ یہ محمد، عبد اللہ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا جب کہ ہم ایسے لگ رہے تھے جیسے چوزے ہوں۔”فرخ“ پرندے کے بچہ کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اپنے والد کو کھو دینے پر طاری ہونے والے غم کی وجہ سے تھی۔
آپﷺ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ۔ نائی کے آنے پر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ یعنی نبی ﷺ نے نائی کو ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حکم کی تعمیل میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اللہ کے راستے میں شہید ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے بالوں کو سنوار نہیں پا رہی ہیں تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں میل کچیل نہ گھر کر لے اور جوئیں نہ پڑ جائیں، لہٰذا اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اس میں فائدہ ومصلحت اور ان کی والدہ کے لیے راحت و سکون کا باعث ہے جو اپنے اوپر آپڑنے والی مصیبت کے سبب اپنے بچوں کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔
نوٹ: یہ بات معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت سر منڈانا جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ پر لعنت فرمائی“۔
حالقہ اس عورت کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت اپنے بال منڈا دیتی ہے۔
شاقہ وہ عورت ہے جو کسی مصیبت کے آنے پر اپنے کپڑوں کو پھاڑتی ہے۔
اور صالقہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بوقت مصیبت با آواز بلند بین کرتی ہے۔
لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بچوں کے بال منڈانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ماں ان کے سر کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں جوئیں نہ پڑ جائیں اس لئے آپ ﷺ نے انہیں مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ مونڈنا مصیبت سے متاثر ہو کر نہیں تھا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8910

 
 
Hadith   1527   الحديث
الأهمية: لا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ؛ فإنه نُور المسلم يوم القيامة


Tema:

سفید بال نہ اکھاڑو کیوں کہ وہ قیامت کے دن مسلمان کا نور ہوں گے۔

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ؛ فإنه نُور المسلم يوم القيامة».

عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفید بال نہ اکھاڑو کیوں کہ وہ قیامت کے دن مسلمان کا نور ہوں گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي -صلى الله عليه وسلم المسلم- عن نَتْف الشعر الأبيض، سواء كان من شعر رأسه أو لحيته أو غيرهما من مواضع البدن؛ فهذا الشَّيب يكون نورا لصاحبه يوم القيامة.
606;بی ﷺ نے مسلمان کو سفید بال اکھاڑنے سے منع فرمایا چاہے وہ اس کے سر کے بال ہوں یا داڑھی کے ہوں یا جسم کے کسی اورحصے کے۔ یہ سفید بال اس شخص کے لئے روز قیامت نور ہوں گے۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8911

 
 
Hadith   1528   الحديث
الأهمية: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن القَزَع


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے مشکوں کا منہ موڑ کر ان سے پانے پینے سے منع فرمایا۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما-، قال: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن القَزَع.

ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”قَزَع“ سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يحلق بعض رأس الصبي ويترك بعض، وهو عام في كل أحد.
606;بی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ بچے کے سر کے کچھ حصے کو مونڈ دیا جائے اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ حکم ہر شخص کے بارے میں ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8914

 
 
Hadith   1529   الحديث
الأهمية: إنما هَلَكَت بَنُو إسرائيل حين اتَّخَذَهَا نساؤُهُم


Tema:

بنو اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔

عن حُميد بن عبد الرحمن: أنه سمع معاوية -رضي الله عنه- عام حَجَّ على المِنْبَر، وتناول قُصَّة من شَعْرٍ كانت في يَدِ حَرَسِيٍّ، فقال: يا أهل المدينة أين عُلَمَاؤُكُمْ؟! سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يَنْهَى عن مثل هذه، ويقول: «إنما هَلَكَت بَنُو إسرائيل حين اتَّخَذَهَا نساؤُهُم».

حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے، انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر حُميد بن عبد الرحمن بن عوف -رحمه الله- أنه سمع معاوية -رضي الله عنه- عام حَجَّ وهو على المِنْبَر، وبيده قُصَّة من شَعْرٍ، وهي شَعْر مكْفُوف بعضه على بعض، كانت بيد أَحَد خدمه الذين يحرسونه فتناولها منه، فقال: يا أهل المدينة أين عُلَمَاؤُكُمْ؟! من باب الإنكار عليهم بإهمالهم إنكار هذا المنكر وغفلتهم عن تغييره، ثم أخبرهم -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- أخبره أن الله -تعالى- أهلك بني إسرائيل عندما اتخذ نساؤها هذه القصة، ووصلها بالشعر، وإنما أهلكوا جميعا؛ لإقرارهم المنكر مع ما انضم إلى ذلك من ارتكابهم ما ارتكبوه من المناهي.
581;مید بن عبد الرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کے سال منبر پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گھچا تھا، یہ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے بالوں کا مجموعہ تھا جو کہ ان کی کسی چوکیداری کرنے والے خادم کے ہاتھ میں تھا۔ فرمایا اے اہلِ مدینہ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ یہ انکار کے قبیل سے ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس بُرائی سے منع کرنے میں کوتاہی کی اور اس (ممنوع شے) کو تبدیل کرنے سے غفلت برتی۔پھر فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے بالوں کو گوند کر اس طرح کے بال بنانا شروع کردیا تو اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، وہ تمام لوگ ہلاک ہوگئے، اس لیے کہ وہ بُرائی کا اقرار کرتے تھے اور ساتھ ہی بُرائی کرنے والوں کو اپنے ساتھ ملاتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8915

 
 
Hadith   1530   الحديث
الأهمية: ما من ميِّت يموت فيقوم باكِيهم فيقول: واجَبَلَاه، واسَيِّدَاه، أو نحو ذلك إلا وُكِّلَ به مَلَكَان يَلْهَزَانِه: أهكذا كُنت؟


Tema:

جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟

عن أبي موسى -رضي الله عنه- مرفوعاً: «ما من ميِّت يموت فيقوم باكِيهم فيقول: واجَبَلَاه، واسَيِّدَاه، أو نحو ذلك إلا وُكِّلَ به مَلَكَان يَلْهَزَانِه: أهكذا كُنت؟».

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟“

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن المسلم إذا مات، وقام أحد يبكي عليه  وينوح ويخبر بأن هذا الميت بالنسبة له أو لها كالجبل تأوي إليه عند الشدائد، وأنه كان له سنداً وملجأ، أو نحو ذلك؛ إلا جاء ملكان للميت يدفعانه في صدره ويسألانه سؤال المتهكم: هل أنت كما قيل؟
605;سلمان کی جب وفات ہوتی ہے اور كوئی اس کی میت پر کھڑا ہو کر روتا اور نوحہ کرتا ہے اورجھوٹ موٹ ہی کہتا جاتا ہے کہ مرنے والا اس کے لئے پہاڑ کی مانند تھا جس کی طرف وہ مصائب میں رجوع کیا کرتا تھا اور یہ کہ وہ اس کا سہارا اور پناہ گاہ تھا یا اس طرح کی دیگر باتیں کرتا ہے تو اس مرنے والے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کے سینے پر مارتے ہوئے اس سے مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں : کیا تم ایسے ہی تھے جیسے کہا جا رہا ہے؟   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8917

 
 
Hadith   1531   الحديث
الأهمية: إن الملائكة تَنْزِل في العَنَانِ -وهو السَّحَاب- فَتَذْكُرُ الأمر قُضِيَ في السماء، فَيَسْتَرِقُ الشيطان السَّمْعَ، فيسمعه، فيُوحِيَه إلى الكُهَّان، فيكذبون معها مائة كَذْبَة من عند أَنْفُسِهم


Tema:

فرشتے (اللہ کے احکام لے کر) بادلوں میں اترتے ہیں اور اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا فیصلہ آسمان میں کیا گیا ہوتا ہے۔ چنانچہ شیطان چوری چھپے اسے سنتا ہے اور کاہنوں کو پہنچادیتا ہےتو وہ اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملاکر بیان کرتے ہیں

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: سَأَل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أُنَاسٌ عن الكُهَّان، فقال: «ليْسُوا بشيء» فقالوا: يا رسول الله إنهم يُحَدِّثُونَا أحْيَانَا بشيء، فيكون حَقَّا؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «تلك الكلمة من الحَقِّ يخْطفُها الجِنِّي فَيَقُرُّهَا في أُذُنِ وليِّه، فَيَخْلِطُونَ معها مائة كَذِبَة».

وفي رواية للبخاري عن عائشة -رضي الله عنها-: أنها سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إن الملائكة تَنْزِل في العَنَانِ -وهو السَّحَاب- فَتَذْكُرُ الأمر قُضِيَ في السماء، فَيَسْتَرِقُ الشيطان السَّمْعَ، فيسمعه، فيُوحِيَه إلى الكُهَّان، فيكذبون معها مائة كَذْبَة من عند أَنْفُسِهم».

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بيان کرتی ہيں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ کچھ نہیں ہيں۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ بعض دفعہ ہمیں کسی چیز کی بابت بتلاتے ہیں اور وہ بات بالکل سچ نکلتی ہے؟ تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : یہ حق بات اسے جن (فرشتوں سے) اچک ليتا ہے اور اسے اپنے دوست (کاہن) کے کان میں ڈال ديتا ہے،چنانچہ وہ اس میں سو جھوٹ ملا ليتے ہيں۔
اور بخاری کی ايک روايت ميں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہيں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: فرشتے (اللہ کے احکام لے کر) بادلوں میں اترتے ہیں اور اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا فیصلہ آسمان میں کیا گیا ہوتا ہے۔ چنانچہ شیطان چوری چھپے اسے سنتا ہے اور کاہنوں کو پہنچادیتا ہےتو وہ اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملاکر بیان کرتے ہیں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن أناسًا سألوا النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الذين يخبرون عن المغيبات في المستقبل فقال: لا تعبأوا بهم ولا تأخذوا بكلامهم ولا يهمكم أمرهم.
فقالوا: إن قولهم يوافق الواقع، كما لو أخبروا عن وقوع أمر غيبي في شهر كذا في يوم كذا، فإنه يقع على وفق قولهم، فقال -صلى الله عليه وسلم-: إن الجن يخطفون ما يسمعونه من خبر السماء، فينزلون إلى أوليائهم من الكهان فيخبرونهم بما سمعوا، ثم يَضيف هذا الكاهن إلى هذا الذي سمعه من السماء مائة كذبة.
ومعنى رواية البخاري: أن الملائكة تسمع في السماء ما قضى الله تعالى في كل يوم من الحوادث على أهل الدنيا ثم ينزلون في السحاب فيُحَدِّث بعضهم بعضا، فيسترق الشيطان تلك الأخبار، ثم ينزل بها إلى أوليائهم من الكهان فيخبرونهم بما سمعوا، ثم يضيف الكاهن على ما سمعه مائة كذبة وأكثر.
593;ائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بيان کرتی ہيں کہ کچھ لوگوں نے نبی کريم ﷺ سے ان کاہنوں کے بارے ميں دريافت کيا جو مستقبل ميں وقوع پذير ہونے والے غيبی امور بتلاتے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمايا کہ ان کی کوئی پرواہ نہ کرو، نہ انہيں کوئی اہميت دو اور نہ ہی ان کی باتيں تسليم کرو۔
لوگوں نے عرض کيا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! بسا اوقات ان کی باتيں سچ نکلتی ہيں، جيسے اگر وہ کسی غيبى امر کے بارے ميں خبر ديتے ہيں کہ اس کا وقوع فلاں مہينے کے فلاں دن ميں ہوگا تو وہ چيز ان کی خبر کے مطابق ہی واقع ہوتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا: يقينا جن آسمان کی باتيں چھپ کر سن ليتے ہيں، پھر اپنے کاہن دوستوں کے پاس آتے ہيں اور جو کچھ سنے ہوتے ہيں انہيں بتلاتے ہيں، پھر يہ کاہن آسمان سے سنی ہوئی اس بات ميں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کرلوگوں سے بيان کرتا ہے۔
اور بخاری کی روايت کا مفہوم ہے کہ: فرشتے آسمان ميں ان باتوں کو سنتے ہيں جن کا اللہ رب العالمين روزانہ اہل دنيا پر فيصلہ فرماتا ہے، پھر وہ فرشتے بادلوں ميں اترتے ہيں اورايک دوسرے کو بتلاتے ہيں توشيطان چھپ کر انہيں سن ليتا ہے، پھر اپنے کاہن دوستوں کے پاس آتا ہے اور سنی ہوئی بات انہيں بتلاتا ہے، پھر يہ کاہن اس بات ميں اپنی طرف سے سو اور اس سے زيادہ جھوٹ ملا ليتے ہيں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8918

 
 
Hadith   1532   الحديث
الأهمية: غطُّوا الإناء، وأَوْكِئُوا السِّقَاء، وأغْلِقُوا الأبْوَاب، وأطْفِئُوا السِّراج؛ فإن الشيطان لاَ يَحُلُّ سِقَاء، ولا يفتح بابا، ولا يَكْشِف إناء


Tema:

برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، مشکیزے کا منہ بند کر دیا کرو، دروازوں کو بھڑا دیا کرو اور چراغ کو بجھا دیا کرو۔ کیوںکہ شیطان نہ تو مشکیزے کی گرہ کھولتا ہے، نہ بند دروازے کو کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کو کھولتا ہے۔

عن جابر -رضي الله عنه- مرفوعًا: «غَطُّوا الإِناء، وأَوْكِئُوا السِّقَاءَ، وأَغْلِقُوا الأبوابَ، وأَطْفِئُوا السِّرَاجَ؛ فإن الشيطان لا يَحُلُّ سِقَاءً، ولا يَفْتَحُ بَابًا، ولا يَكْشِفُ إِناءً، فإن لم يجد أحدكم إلا أن يَعْرُضَ على إِنَائِهِ عُودًا، ويذكر اسم الله، فَلْيَفْعَلْ؛ فإن الفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ على أهل البيت بَيْتَهُم».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، مشکیزے کا منہ بند کر دیا کرو، دروازوں کو بھڑا دیا کرو اور چراغ کو بجھا دیا کرو۔ کیوںکہ شیطان نہ تو مشکیزے کی گرہ کھولتا ہے، نہ بند دروازے کو کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کو کھولتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی شخص کو کچھ نہ ملے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ہی رکھ دے اور اللہ کا نام لے لے، تو وہ ایسا ہی کر لے۔ اس لیے کہ چوہا اہل خانہ کا گھر جلا دیتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- بتغطية الإناء؛ صونًا له من الحشرات، وسائر المؤذيات ولما قد ينزل فيه من الوباء، وأن تغلق الأسقية، وأن تغلق الأبواب لما في ذلك من المصالح الدينية والدنيوية، وحراسة الأنفس والأموال، من أهل العبث والفساد.
وأرشد إلى أن تطفأ السرج لما في ذلك من حفظ البيت وأهله لما قد يخشى عليهم من ضرر الاحتراق.
والحديث محمول على وقت النوم ليلا، وأخبر أن الشيطان لا يفتح سِقاء مغلقا، ولا بابا ولا يَكشف عن الأواني المغلقة.
فإذا لم يمكن تغطية الإناء بما يستوعبه بحيث لا يظهر ما بداخله أو بعضه فلا يدعه مشكوفا، بل يجعل عليه عودا عرضًا، ويسمي الله -تعالى- عند تغطية الإناء، وإيكاء الأسقية، وإغلاق الأبواب، وذكر أن السِّراج وغيره من المواد المشتعلة إذا تركت على حالها ولم تطفأ قبل النوم؛ فإن الغالب على الفويسقة العَبَث به؛ وقد يكون ذلك سببا لإحراق أهل البيت وقت نومهم.
606;بی ﷺ نے برتن کو حشرات اور موذی جانوروں سے بچانے کے لیے ڈھانکنے کا حکم دیا؛ اس لیے بھی کہ ہو سکتا ہے کوئی وبا اس میں نازل ہو جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے مشکیزوں کو باندھ دینے اور دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دیا؛ کیوںکہ ایسا کرنے میں دینی اور دنیاوی مصالح ہیں اور بے ہودہ کار اور فساد انگیز لوگوں سے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔
آپ ﷺ نے راہ نمائی فرمائی کہ چراغوں کو بجھا دیا جائے، کیوںکہ اس سے گھر اور اہل خانہ محفوظ رہتے ہیں؛ کیوںکہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں جلنے کا نقصان نہ ہو جائے۔
حدیث رات کو سونے کے وقت پر محمول ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ شیطان بند مشکیزے اور دروازے نہیں کھولتا اور نہ ہی بند برتنوں کو کھولتا ہے۔
اگر برتن کو کسی شے سے مکمل طور پر ڈھانکنا ممکن نہ ہو، بایں طور کہ اس میں موجود شے بالکل بھی دکھائی نہ دے اور نہ ہی اسے جزوی طور پر ڈھانکا جا سکتا ہو، تو پھر بھی وہ شخص اسے کھلا نہ رہنے دے، بلکہ اس پر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی رکھ دے اور برتن کو ڈھانکتے ہوئے، مشکیزوں کو باندھتے ہوئے اور دروازوں کو بند کرتے وقت ان پر اللہ تعالی کا نام لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ چراغ اور اس طرح کی دیگر آتشی اشیا کو اگر ان کے حال پر رہنے دیا جائے اور سونے سے پہلے انھیں بجھایا نہ جائے، تو عموما چوہے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور اس وجہ سے بسا اوقات سوتے ہوئے اہل خانہ جل جاتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8925

 
 
Hadith   1533   الحديث
الأهمية: أُغْمِي على عبد الله بن رواحة -رضي الله عنه- فجعلت أُخْتُه تبكي، وتقول: واجَبَلاهُ، واكذا، واكذا: تُعَدِّدُ عليه. فقال حين أفَاق: ما قُلْتِ شيئا إلا قِيل لي أنت كذلك؟!


Tema:

عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر (ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!

عن النعمان بن بشير -رضي الله عنهما- قال: أُغْمِي على عبد الله بن رواحة -رضي الله عنه- فجعلت أُخْتُه تبكي، وتقول: واجَبَلاهُ، واكذا، واكذا: تُعَدِّدُ عليه. فقال حين أفَاق: ما قُلْتِ شيئا إلا قِيل لي أنت كذلك؟

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر(ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں ۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أخبر النعمان بن بشير -رضي الله عنهما- أن عبد الله بن رواحة -رضي الله عنه- أصيب بمرض وأغمي عليه بسبب شِدَّة المرض، فلما رأته أخته -رضي الله عنها- على تلك الحال ظنت أنه قد مات، فجعلت تبكي وتندب وتقول واجَبَلاهُ" أي أنه- رضي الله عنه- كان لها كالجبل تأوي إليه عند طروق الحوادث فتعتصم به، ومستندًا تستند إليه في أمورها و تذكره بمحاسنه وشمائله على طريقة أهل الجاهلية، فلما أفاق من غيبوبته أخبرها عما حصل له، وأنه قيل له: أأنت جبل يلجؤون إليك، أأنت كذا وكذا كما يصفونك، فكل ما عددته من صفات أُخبر بها -رضي الله عنه- في غيبوبته، وذلك على سبيل التَّهكم، والوعيد الشديد، وجاء في رواية أنه لما مات لم تندبه واتعظت بذلك.
606;عمان بن بشیر نے فرمایا کہ عبداللہ بن رواحہ بیمار ہوئے اور مرض کی شدت کی وجہ سے بے ہوش گیے۔ ان کی بہن نے جب ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھا کہ وہ فوت ہو گیے ہیں تو اس نے ماتم کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا ’واجبلاہ‘ یعنی گویا وہ ان کے لیے ایک پہاڑ کی مانند تھے کہ جس میں پہاڑی راستے پر کسی حادثہ کی صورت میں بچاؤ کے لیے ــــــــــــ پناہ لی جا سکتی ہو۔ اس طرح اُس نے اُن کے مختلف امور کی نسبت اور اُن کے محاسن و خصوصیات کا تذکرہ دورِ جاہلیت کے انداز میں شروع کر دیا۔ جب انھیں اپنی بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ کہا گیا کہ:کیا تو پہاڑ ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے؟ کیا تو ایسا ایسا ہے جیسے تیرے اوصاف اور خوبیاں بیان کی جار ہی ہیں؟ اپنی بے ہوشی کی کیفیت کے متعلق اپنی بہن کو بتایا اور یہ انداز دھمکانے اور سخت وعید کرنے کے قبیل سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو انھوں نے ماتم نہ کیا اور لوگوں کو بھی ماتم نہ کرنے کی نصیحت کی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8927

 
 
Hadith   1534   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا يَتَطَيَّر


Tema:

نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

عن بُريدة -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا يَتَطَيَّر.

بریدہ رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يتشاءم من شيء مطلقًا، والمراد التشاؤم الذي يصد عن عمل شيء كما كان يفعله أهل الجاهلية، وقد جاء الإسلام بالنهي عن التشاؤم والتطير والاستقسام بالأزلام، وشرع لهم بديلًا منها وهو الاستخارة.
606;بی ﷺ کسی بھی شے سے بالکل بھی بد شگونی نہیں لیا کرتے تھے۔بدشگونی سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کو کسی کام سے روک دے، جیساکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے۔ اسلام نے آتے ہیں بدشگونی و بدفالی اور پانسے کے تیروں سے قسمت معلوم کرنے سے منع کردیا اور استخارہ کو اس کا بدل مشروع کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8928

 
 
Hadith   1535   الحديث
الأهمية: كان فيما أَخذَ علينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في المَعْرُوف الذي أَخَذ علينا أن لا نَعْصِيَه فيه: أن لا نَخْمِشَ وجها، ولا نَدْعُوَ وَيْلًا، ولا نَشُقَّ جَيْبَا، وأن لا نَنْشُرَ شَعْرًا


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔

عن أسيد بن أبي أسيد التابعي، عن امرأة من المبايعات، قالت: كان فيما أخذ علينا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- في المعروف الذي أخذ علينا أن لا نعصيه فيه: أن لا نَخْمِشَ وجهًا، ولا نَدْعُوَ وَيْلًا، ولا نَشُقَّ جَيْبًا، وأن لا نَنْشُرَ شَعْرًا.

اُسید بن ابی اسید تابعی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
كان النبي -عليه الصلاة والسلام- يأخذ العهد من الصحابيات عند المبايعة بأن لا يعصينه، ومن ذلك: ألا تخدش المرأة وجهها، أو تضرب وجهها، أو تضرب خدها، ولا ترفع صوتها بالنياحة المنهي عنها، ولا تمزق ثيابها، وألا تنفش شعرها وتمزقه عند نزول المصائب.
606;بی ﷺ بیعت کرتے وقت صحابیات سے اس بات کا عہد لیتے تھے کہ وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی اور یہ بھی کہ عورت اپنا چہرہ نہ نوچے، یا اپنا چہرہ یا اپنے رخسار کو نہ پیٹے اور نوحہ کر کے اپنی آواز بلند نہ کرے جس سے کہ روکا گیا ہے، اپنے کپڑے نہ پھاڑے اور نہ اپنے بال بکھیرے اور نہ مصیبت کے وقت اسے نوچے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8929

 
 
Hadith   1536   الحديث
الأهمية: لا تَتْرُكُوا النَّار في بُيُوتِكُم حين تَنَامُون


Tema:

جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما- مرفوعاً: «لا تَتْرُكُوا النار في بيوتكم حين تنامون».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو، تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- ينهى أمَّته عن النوم قبل إطفاء النار التي أوقدوها.
581;دیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنی امت کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اپنی جلائی ہوئی آگ کو بجھانے سے پہلے نہ سوئیں۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8930

 
 
Hadith   1537   الحديث
الأهمية: يا أيها الناس، من عَلِم شيئا فَلْيَقُلْ به، ومن لم يَعْلَم، فَلْيَقُلْ: الله أعلم، فإن من العلم أن يقول لما لا يَعْلَم: الله أعلم


Tema:

اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیوں کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔

عن مسروق، قال: دخَلْنَا على عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- فقال: يا أيها الناس، من عَلِم شيئا فَلْيَقُلْ به، ومن لم يَعْلَم، فَلْيَقُلْ: الله أعلم، فإن من العلم أن يقول لما لا يَعْلَم: الله أعلم. قال الله تعالى لنبيه -صلى الله عليه وسلم-: (قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين).

مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ ’اللہُ أعْلَمْ‘ (اللہ ہی کو زیادہ علم ہے) کیوں کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے بھی کہہ دیا تھا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ ”کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن الإنسان إذا سُئل عن شيء يعلمه، فليبينه للناس ولا يكتمه، وأما إذا سئل عن شيء لا يعلمه، فليقل: الله أعلم ولا يتكلف الجواب.
"فإن من العلم أن يقول لِمَا لا يَعْلَم: الله أعلم" أي أن من العلم أن يقول الإنسان لما لا يعلم : "الله أعلم"؛ لأن الذي يقول لا أعلم وهو لا يعلم هو العالم حقيقة هو الذي علم قَدْر نفسه وعلم منزلته وأنه جاهل فيقول لما لا يعرف الله أعلم.
وعند مسلم بلفظ: "فإنه أعلم لأحدكم أن يقول لما لا يعلم: الله أعلم".
والمعنى: أنه أحسن لعلمه وأتم وأنفع له أن يقول لما لا يعلمه: "الله أعلم".
ثم استدل ابن مسعود -رضي الله عنه- بقوله -تعالى-: (قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين) أي لا أسألكم على ما جئت به من الوحي أجرا تعطونني إياه وإنما أدلكم على الخير وأدعوكم إلى الله -عز وجل-.
(وما أنا من المتكلفين) أي من الشاقين عليكم أو القائلين بلا علم.
فالحاصل: أنه لا يجوز للإنسان أن يفتي إلا حيث جازت له الفتوى، وإن كان الله -تعالى- قد أراد أن يكون إمامًا للناس يفتيهم ويهديهم إلى صراط مستقيم فإنه سيكون وإن كان الله لم يرد ذلك فلن يفيده تجرأه في الفتوى ويكون ذلك وبالًا عليه في الدنيا والآخرة.
581;دیث کا مفہوم: جب کسی سے کسی ایسی بات کے بارے میں پوچھا جائے جس کا اسے علم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اسے نہ چھپائے۔ تاہم اگر اس سے کسی ایسی شے کے بارے میں پوچھ لیا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو پھریوں کہے کہ : اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے) اور کھینچ تان کر جواب دینے کی کوشش نہ کرے۔
”کیونکہ انسان جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں اس کا یہ کہنا کہ: اللہ بہتر جانتا ہے بھی علم ہی ہے“ کیوں کہ جس شخص کو علم نہ ہو اور وہ کہہ دے کہ وہ نہیں جانتا تو درحقیقت وہی عالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے اپنی قدر و منزلت کا علم ہے اور اسے پتہ ہے کہ اس بات سے وہ ناواقف ہے۔ چنانچہ جس بات کو وہ نہ جانتا ہوتا اس کے بارے میں وہ کہہ دیتا ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں ”فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ: اللهُ أَعْلَمُ“ کہ تم میں سے اگر کوئی شخص کوئی بات نہ جانتا ہو تو اس کا اللہ اعلم کہنا اس کے علم کے لیے زیادہ بہتر و درست اور اس کے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔
پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے اس قول سے استدلال کیا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں جو وحی لے کر آیا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں بلکہ میں تو تمہاری خیر کی طرف راہنمائی کررہا ہوں اور تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں۔
﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں تمہیں مشقت میں مبتلا کرنے والا یا بغیر علم کے بات کرنے والا نہیں ہوں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کے لیے صرف اسی صورت میں فتوی دینا جائز ہے جس میں فتوی دینے کی اس میں صلاحیت ہو۔ اگر اللہ تعالی کا ارادہ یہ ہوا کہ وہ لوگوں کو فتوے دے اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرے تو ایسا ہو جائے گا اور اگر اللہ کا یہ ارادہ نہ ہوا تو فتوی دینے کی جراءت کرنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ ایسا کرنا الٹا اس کے لئے دنیا و آخرت میں وبال بن جائے گا۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8934

 
 
Hadith   1538   الحديث
الأهمية: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نهى أن يَنْتَعِلَ الرَّجُل قائما


Tema:

رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔

عن جابر -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نهى أن يَنْتَعِلَ الرَّجُل قائمًا.

جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث فيه النهي عن لبُس النعال قائما؛ لأن لبُسها وهو قاعد أسهل وأمكن، وهذا الحكم مختص فيما إذا كان النَّعل يحتاج إلى معالجة في إدخاله في الرِّجْل؛ لأن الإنسان لو انتعل قائما والنَّعل يحتاج إلى معالجة فربما يسقط إذا رفع رجله ليصلح النَّعل، أما النِّعال المعروفة الآن فلا بأس أن ينتعل الإنسان وهو قائم ولا يدخل ذلك في النهي؛ لأن نعالنا الموجودة يسهل خلعها ولبسها من غير حاجة إلى الجلوس.
ولا فرق بين الرجل والمرأة في الحكم؛ لأن الأحكام الشرعية لا تفرق بين الرجل والمرأة إلا ما دلَّ الدليل على التخصيص. وأما تخصيص الحديث هنا بالرَّجُل؛ فلأن الرجال هم أكثر خروجا وبروزا من المرأة فلذلك خصهم بالذكر.
575;س حدیث میں کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی ممانعت ہے کیونکہ بیٹھ کر اسے پہننا زیادہ آسان اور ممکن ہے۔ یہ حکم اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب جوتے کو پاؤں میں ڈالنے کے لیے ہاتھ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ انسان اگر کھڑا ہو کر جوتا پہنے اور جوتا ایسا ہو کہ اسے (پاؤں میں) ڈالنے کے لیے ہاتھ کے استعمال کی ضرورت ہو تو امکان ہے کہ جب وہ جوتا درست کرنے کے لئے اپنا پاؤں اٹھائے تو گر جائے۔ جب کہ آج کل کے معروف جوتوں کو کھڑے ہونے کی حالت میں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ ممانعت کے دائرے میں نہیں آتے کیونکہ ہمارے موجودہ جوتوں کو بیٹھے بغیر آسانی سے اتارا اور پہنا جا سکتا ہے۔
اس حکم میں مرد و عورت کے مابین کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ شرعی احکامات مرد وزن کے مابین کوئی فرق نہیں کرتے سوائے اس کے کہ کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو تخصیص پر دلالت کرے۔ تاہم حدیث میں بطور خاص مرد کا ذکر اس لئے ہے کیونکہ عورت کی بنسبت اکثر مرد ہی باہر نکلتے ہیں اس لئے خاص طور پر انہیں کا ذکر کیا۔   --  [صحیح]+ +[اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8944

 
 
Hadith   1539   الحديث
الأهمية: نُهِيَنا عن التَّكَلُّف


Tema:

ہمیں تکلُّف سے منع کیا گیا ہے۔

عن عمر -رضي الله عنه- قال: نُهِيَنا عن التَّكَلُّف.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔

يخبر عمر -رضي الله عنه- في هذا الحديث: أنهم "نهوا عن التَّكلف" والناهي هو رسول الله -صلى الله عليه وسلم-؛ لأن الصحابي إذا قال: "نهينا" فإن هذا له حكم الرفع يعني كأنه قال: نهانا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن التكلف.
والتكلف: هو كل فعل وقول يحاول صاحبه الظهور به أمام الآخرين وليس فيه .
فمثال القول: كثرة السؤال، والبحث عن الأشياء الغامضة التي لا يجب البحث عنها، والأخذ بظاهر الشريعة وقبول ما أتت به، وعن أنسٍ -رضي الله عنه- قال: كنَّا عند عمر وعليه قميصٍ في ظهرِه أربع رقاع، فقرأ (وَفَاكِهَةً وَأَبًّا)، فقال: هذه الفاكهة قد عرفناها، فما الأَب؟ ثم قال: "قد نهينا عن التكلّف".

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
والفعل: كأن ينزل به ضَيف فيتكلف له بما يَشق عليه، بل وربما يحمله ذلك على الاستدانة وقد لا يجد لهذا الدين وفاء، فيلحق بنفسه الضرر في الدنيا والآخرة.
فعلى المسلم أن لا يتكلف في الأمور، بل يجعل الأمور وسطا كما كان حاله -صلى الله عليه وسلم- لا يُمسك موجودًا ولا يتكلف معدومًا.
575;س حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ یہ بتلا رہے ہیں کہ صحابہ کرام کو تکلف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ منع کرنے والے اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ اس لیے کہ جب صحابی یہ کہیں کہ ہمیں روکا گیا ہے تو اس حدیث کا حکم حدیثِ مرفوع کا ہو جائے گا، گویا صحابی نے یوں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تکلف کرنے سے روکا ہے۔
تكلف: ہر وہ فعل یا قول جسے ایک آدمی دوسروں کے سمانے ظاہر کرتا ہے حالانکہ وہ (قول یا فعل حقیقتاً) اس میں نہیں ہے۔
قول کی مثال: زیادہ سوالات کرنا اور غیر ضروری غامض اشیاء کی بحث وتحقیق کرنا کہ جن کے متعلق بحث وتحقیق کرنا واجب نہیں اور شریعت کے ظاہری مفہوم کے مطابق عمل کرنا اور انہیں قبول کرنا مطلوب ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے جسم پر قمیص تھی جس کی پشت میں چار پیوند لگے تھے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ پڑھی اور فرمایا یہ ﴿فَاكِهَةً﴾ یعنی پھل تو ہم جان چکے ہیں۔ پر یہ ﴿أَبًّا﴾ کیا ہے؟ پھر فرمایا کہ ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ (یعنی اس کے معنی کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں)۔
فعل کی مثال: جیسے مہمان کے آںے پر ایسا اہتمام کیا جائے جو میزبان پر گراں گزرے، بلکہ کبھی وہ اس کے لئے دوسروں سے قرض لیتا ہے۔ بسااوقات یہ قرض چکانے کی طاقت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھاتا ہے۔
مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی چیز میں تکلف نہ کرے، بلکہ تمام امور کو اعتدال سے نمٹائے، جیسے اللہ کے نبی ﷺ کا حال تھا کہ نہ تو موجود چیز کسی سے روکتے تھے اور نہ معدوم چیز کے لئے تکلف سے کام لیتے تھے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8945

 
 
Hadith   1540   الحديث
الأهمية: الجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيطَان


Tema:

گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «الجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيطَان».

Esin Hadith Text


ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری (باجا) ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الأجراس التي تُعلق على البهائم: آلة من آلات الشيطان التي يُشغل بها الناس ويصرفهم عما خُلقوا من أجله، وأما أجراس التنبيه فقد أفتت اللجنة الدائمة بما يلي: (الأجراس المستعملة في البيوت والمدارس ونحوها جائزة ما لم تشتمل على محرم، كشبهها بنواقيس النصارى، أو لها صوت كالموسيقى، فإنها حينئذ تكون محرمة لذلك.).
606;بی کریم ﷺ فرما رہے ہیں کہ گھنٹیاں جو چوپایوں پر (ان کے گلوں وغیرہ میں) لٹکائی جاتی ہیں وہ شیطان کے آلات میں سے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے اولیاء کو مشغول رکھتا ہے اور انہیں ان کے مقصد حیات سے پھیر دیتا ہے۔ رہی وہ گھنٹیاں جو گھروں اور مدرسوں میں استعمال کی جاتی ہیں تو ان کے متعلق سعودی عرب کی مستقل فتوی کمیٹی نے فتوی دیا کہ وہ جائز ہیں جبکہ اس میں کوئی حرام کردہ چیز نہ ہو جیسے اس گھنٹی کا عیسائیوں کی گھنٹیوں سے مشابہ ہونا یا پھر اس گھنٹی میں موسیقی کا پایا جانا تب تو وہ گھنٹی حرام ہوگی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8946

 
 
Hadith   1541   الحديث
الأهمية: إن الذين يَصْنَعُون هذه الصُّور يُعَذَّبُونَ يوم القيامة، يُقال لهم: أَحْيُوا ما خَلَقْتُم


Tema:

جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انھیں روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں جان ڈالو۔

عن ابن عمر -رضي الله عنهما-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «إن الذين يَصْنَعُون هذه الصُّور يُعَذَّبُونَ يوم القيامة، يُقال لهم: أَحْيُوا ما خَلَقْتُم».

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انھیں روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں جان ڈالو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
أن الذين يصنعون الصُّور -سواء كانت الصورة نحْتًا أو رسْمًا أو تصويرًا فوتوغرافيًّا- مما له روح، كتصوير آدمي أو حيوان، وسواء كانت الصورة ممتهنة أو غير ممتهنة، فإنهم يُعذبون بفعلهم ذلك يوم القيامة؛ لمضاهاتهم خلق الله -تعالى-، ويقال لهم: "أَحْيُوا" أوجدوا فيها الروح كما أوجدتم الجَسد "ما خَلَقْتُم" ما صورتم من الصُّور المشابهة لخلق الله -تعالى-، فإذا كنتم قد شابهتهم خلق الله -تعالى- في الصورة، فابعثوا فيها الروح، وهذا من باب التهكم والتقريع والتوبيخ.
وفي الصحيحين من حديث ابن عباس -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (من صوَّر صورة في الدنيا كُلِّف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة، وليس بنافخ)، وفي رواية البخاري: (من صور صورة فإن الله مُعَذِّبه حتى ينفخ فيها الروح).
قال النووي -رحمه الله-: "قال العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم، وهو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث، وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله -تعالى-".
580;و لوگ (جاندار چیزوں کی) تصویریں بناتے ہیں چاہے وہ تراش کر بنائی گئی ہوں یا نقوش کھینچ کر یا فوٹو گراف تصویر کے ذریعہ جیسے کسی آدمی یا کسی جانور کی تصویر، اور چاہے یہ تصویریں ایسی ہوں جن کی توہین ہو رہی ہو یا توہین نہ ہو رہی ہو، اُن کو ان کے اس عمل کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا کیوں کہ انھوں نے اللہ تعالی کی تخلیق کی نقالی کی کوشش کی۔
ان سے کہا جائے گا کہ: انہیں زندہ کرو۔
یعنی تم نے جسم بنایا ویسے ہی اب ان میں روح بھی پھونکو۔
"ما خَلَقْتُم": یعنی تم نے اللہ تعالی کی مخلوق کے مشابہہ جو یہ تصاویر بنائی ہیں۔ جب تم نے صورت کے لحاظ سے اللہ کی مخلوق کی مشابہت کی ہے تو اب ان میں روح بھی پھونکو۔ ایسا ان سے بطور استہزاء اور بطور ڈانٹ ڈپٹ اور توبیخ کہا جائے گا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس - رضی اللہ عنہما - سے مروی حدیث میں ہے کہ: جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی اسے قیامت کے دن اس میں روح پھونکنے کو کہا جائے جسے وہ نہیں پھونک سکے گا۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ: جس نے کوئی تصویر بنائی اسے ایسا کرنے پر اللہ عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح پھونک دے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کے بقول جاندار کی تصویر بنانا سختی کے ساتھ حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔کیوں کہ اس کے بارے میں احادیث میں مذکور یہ سخت وعید آئی ہے چاہے تصویر ایسی چیز میں بنی ہو جس کی توہین ہوتی ہو یا کوئی اور شے ہو۔ تصویر کا بنانا ہر حال میں حرام ہے کیوں کہ اس میں اللہ کی تخلیق کی مشابہت ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8947

 
 
Hadith   1542   الحديث
الأهمية: إن هذه المساجد لا تَصْلُحُ لشيء من هذا البَول ولا القَذَر، إنما هي لِذِكْر الله تعالى، وقراءة القرآن


Tema:

ان مسجدوں میں پیشاب اور نجاست مناسب نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ تعالی کے ذکر اور قرآن پڑھنے كے لئے بنائی گئی ہیں۔

عن أنس -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إن هذه المساجد لا تَصْلُحُ لشيء من هذا البَول ولا القَذَر، إنما هي لِذِكْر الله عز وجل، والصلاة، وقراءة القرآن» أو كما قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد وں میں پیشاب اور نجاست مناسب نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ عز وجل کے ذکر، نماز اور قرآن پڑھنے كے لئے بنائی گئی ہیں“۔ یا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث له قصة، أخبر عنها أنس -رضي الله عنه- حيث يقول: بينما نحن في المسجد مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذ جاء أعرابي، فقام يبول في المسجد، فقال أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: مه مه. وفي رواية : "فزجره الناس" . فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تَزْرِمُوهُ، دعوه"، فتركوه حتى بال، ثم إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- دعاه فقال له: "إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول"، فبين الرسول -صلى الله عليه وسلم- أن هذه المساجد لا يصلح فيها فعل شيء من الأذى كقضاء الحاجة ولا وضع القذر، ولا رفع الصوت فيها، فإنما بنيت للصلاة والقرآن والذِّكر،
فعلى المؤمن أن يحترم المساجد وأن يكون فيها متأدبًا لأنها بيوت الله -تعالى-.
575;س حدیث کے پیچھے ایک قصہ ہے جسے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھے۔ اسی دوران ایک اعرابی آیا اور اس نے اٹھ کر مسجد ہی میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اسے منع کرنے کے لیے اسے آوازیں دیں کہ: نہ، نہ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انھوں نے اسے جھڑکا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اس کا پیشاب نہ روکو، اسے کرنے دو۔ اس پر انھوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ان مساجد میں پیشاب اور گندگی کرنا مناسب نہیں۔۔۔۔۔
نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ مساجد میں گندگی اور نجاست پھیلانا جیسے قضائے حاجت کرنا، کوڑا کچرا پھینکنا اور آوازیں بلند کرنا مناسب نہیں بلکہ یہ تو نماز، قرآن اور ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں۔
چنانچہ مومن مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مساجد کا احترام کرے۔ یہاں انتہائی ادب کے ساتھ رہے کیوں کہ مساجد اللہ کے گھر ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8948

 
 
Hadith   1543   الحديث
الأهمية: أن رجُلا نَشَدَ في المسجد فقال: من دَعَا إلى الجَمَل الأحمر؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: لا وجَدْتَ؛ إنما بُنِيَتِ المساجد لما بُنِيَتْ له


Tema:

ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں۔

عن بُريدة -رضي الله عنه-: أن رجُلاً نَشَدَ في المسجد فقال: من دَعَا إلى الجَمَل الأحمر؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا وجَدْتَ؛ إنما بُنِيَتِ المساجد لما بُنِيَتْ له».

بُریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر بريدة -رضي الله عنه- في هذا الحديث أن النبي -صلى الله عليه وسلم- سمع رجلًا يقول : "من دَعا إلى الجمل الأحمر" ينشد جمله الأحمر وأن من عرفه فليخبر عنه.
"لا وجَدْتَ" أي: لا رده الله عليك كما في الرواية الأخرى.
"إنما بُنِيَتِ المساجد لما بُنِيَتْ له" ثم بين له سبب الدعاء عليه، وهو : أن بيوت الله تعالى لم تبن لأمور الدنيا من إنشاد الضوال والبيع والشراء، بل بنيت للصلاة وذكر الله -عز وجل- وطلب الآخرة.
576;ُریدۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے؟ یعنی وہ اپنے گمشدہ سُرخ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا کہ جو اسے جانتا ہو وہ اسے اس کے بارے میں بتلائے۔
”تجھے وہ نہ ملے“ یعنی اللہ کرے کہ تجھے تیرا اونٹ نہ ملے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔ ”کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے بدعا کی وجہ بھی بتلائی کہ اللہ تعالیٰ کے گھر دنیا کے امور یعنی گمشدہ چیزوں اور خرید و فروخت کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ یہ نماز ، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور آخرت کی طلب میں بنائے گئے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8949

 
 
Hadith   1544   الحديث
الأهمية: لا تدخل الملائكة بَيْتَا فيه كلب ولا صُورة


Tema:

فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو۔

عن أبي طلحة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «لا تدخل الملائكة بَيْتَا فيه كلب ولا صُورة».


 عن ابن عمر -رضي الله عنهما-، قال: وعد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جبريل أن يَأتِيَهُ، فَرَاثَ عليه حتى اشْتَدَّ على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فخرج فَلَقِيَهُ جبريل فَشَكَا إليه، فقال: إنا لا نَدْخُل بَيْتَا فيه كلب ولا صُورة.
عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: واعد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جبريل عليه السلام، في ساعة أن يأتيه، فجاءت تلك الساعة ولم يَأتِهِ! قالت: وكان بِيَدِه عصا، فَطَرَحَها من يَدِهِ وهو يقول: «ما يُخْلِفُ الله وَعْدَهُ ولا رُسُلُهُ» ثم التَفَتَ، فإذا جَرْوُ كلب تحت سريره. فقال: «متى دخل هذا الكلب؟» فقلت: والله ما دَرَيْتُ به، فأمر به فأخرج، فجاءه جبريل -عليه السلام- فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «وعَدْتَنِي، فَجَلَسْتُ لك ولم تَأتِني» فقال: مَنَعَنِي الكلب الذي كان في بيتك، إنا لا نَدْخُل بَيْتَا فيه كلب ولا صورة.

ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو“۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے وعدہ کیا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں گے۔ انھوں ںے آنے میں دیر کر دی، جو آپ ﷺ پر بہت گراں گزرا۔ آپ ﷺ (ایک دن) باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ سے جبریل علیہ السلام کی ملاقات ہوئی۔ آپ ﷺ نے ان سے گلہ کیا، تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا اور کوئی تصویر ہو۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے ایک متعین وقت میں آپ ﷺ کے پاس آنے کا وعدہ کیا، لیکن وہ نہیں آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک عصا تھا، جیسے آپ نے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”نہ تو اللہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور نہ اس کے پیام بر“۔ پھر آپ ﷺ ایک طرف متوجہ ہوئے، تو آپ ﷺ کو اپنی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ نظر آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا: یہ کتا کب اندر آیا؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا پتہ نہیں۔ آپ ﷺ کے حکم پر اسے باہر نکال دیا گیا۔ پھر جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، میں (آپ کے انتظار میں) بیٹھا رہا، لیکن آپ نہیں آئے؟ اس پر انھوں نے کہا: آپ کے گھر میں موجود کتے نے مجھے آنے سے روک دیا۔ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا کوئی تصویر ہو۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: أن الملائكة وهم مخلوقات طاهرة شريفة، وعباد مُكْرَمُون أصْفِياء، يمتنعون عن دخول بيت فيه كلب، أو صورة لإنسان أو حيوان مما يحرم اقتناؤه من الكلاب والصور، فأما ما ليس بحرام من كلب الصيد والزرع والماشية والصورة التي تُمتهن في البساط والوسادة وغيرهما فلا يمتنع دخول الملائكة بسببه.
581;دیث کا مفہوم: فرشتے جو کہ پاکیزہ اور معزز مخلوق اور مکرم و برگزیدہ بندے ہیں اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا پھر انسان یا کسی جانور کی تصویر ہو، جن کا رکھنا حرام ہے۔ تاہم وہ کتے اور تصویریں جن کا رکھنا حرام نہیں، جیسے شکاری کتا، کھیتی کی حفاظت کے لیے رکھا گیا کتا یا پھر مویشیوں کی حفاظت کے لیے رکھا گیا کتا اور بچھونے اور تکیہ وغیرہ میں موجود وہ تصویر، جو پامال ہوتی ہو، ان کی وجہ سے فرشتے گھرمیں آنے سے نہیں رکتے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8950

 
 
Hadith   1545   الحديث
الأهمية: لا تَصْحَبُ الملائكة رُفْقَةً فيها كلب أو جَرَسٌ


Tema:

اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹی ہو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا  تَصْحَبُ الملائكة رُفْقَةً فيها كلب أو جَرَسٌ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اُس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹی ہو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
إذا خرج جماعة في سفر، وكان في صُحبتهم كلب أو جَرَسٌ، فإن ملائكة الرَّحمة والاستغفار تمتنع من مصاحبتهم؛ لأن الكلب نجس. وأما الجرس، فلأنه مزمار الشيطان كما أخبر بذلك -صلى الله عليه وسلم-.
وقيده بعض العلماء بالجرس الذي يعلق على الدواب؛ لأنه إذا عُلِّق على الدَّواب يكون له رنَّة معينة تجلب النَّشوى والطَّرب والتمتع بصوته ولذلك سماه -صلى الله عليه وسلم-: (مزامير الشيطان) .
 وأما ما يكون في المُنَبِهات من الساعات وشبهها فلا يدخل في النهي؛ لأنه لا يُعَلَّق على البهائم وإنما هو مؤقت بوقت معين للتنبيه وكذلك ما يكون عند الأبواب يستأذن به، فإن بعض الأبواب يكون عندها جرس للاستئذان هذا أيضًا لا بأس به ولا يدخل في النهي؛ لأنه ليس معلقا على بهيمة وشبهها ولا يحصل به الطَّرب الذي يكون مما نهى عنه الرسول -صلى الله عليه وسلم-.
580;ب کوئی قافلہ کسی سفر میں نکلے اور ان کے پاس کتا یا گھنٹی ہو، تو رحمت اور استغفار کرنے والے فرشتے ان کے ساتھ نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ کتا ناپاک ہوتا ہے، اور گھنٹی شیطان کی بانسری ہے جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے دوسری حدیث میں فرمایا ہے۔
بعض علماء نے اس گھنٹی کو جانوروں کے گلے میں لٹکی گھنٹی کے ساتھ مقید کیا ہے۔ اس لیے کہ جانوروں کے گلے میں لٹکنے کی وجہ سے یہ مخصوص سُر پیدا کرتی ہے جو نشہ، لطف اور اپنی آواز سے مزہ کو جنم دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ نے اسے (شیطان کی بانسری ہے) فرمایا۔
جہاں تک الارم وغیرہ والی گھڑیوں کا تعلق ہے تو وہ اس ممانعت میں شامل نہیں۔ اس لیے کہ وہ جانوروں کے گلے میں نہیں لٹکائی جاتی، وہ مخصوص وقت پر جگانے کے لیے بجتی ہیں۔ اسی طرح دروازوں پر گھنٹیاں (
bells   ) بھی اجازت لینے کے لیے ہوتی ہیں۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ ممانعت کے حکم میں داخل ہے، اس لیے کہ یہ کسی جانور وغیرہ کے گلے میں نہیں لٹکتی اور نہ ہی اس سے کوئی ساز کی کیفیت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8951

 
 
Hadith   1546   الحديث
الأهمية: لو كُنْتُمَا من أهل البلد، لأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَان أصْوَاتَكُما في مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-


Tema:

اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارتا؛ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کر رہے ہو!

وعن السائب بن يزيد الصحابي -رضي الله عنه- قال: كنت في المسجد فَحَصَبَنِي رَجُل، فنظرت فإذا عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- فقال: اذهب فَأتِنِي بِهذَينِ، فَجِئْتُهُ بهما، فقال: من أين أنتما؟ فقالا: من أهل الطائف، فقال: لو كُنْتُمَا من أهل البلد، لأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَان أصْوَاتَكُما في مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-!

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ جو صحابی ہیں، بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ کسی نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا، تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ جا کر ان دونوں آدمیوں کو لے آو۔ میں گیا اور انھیں لے کر آ گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم طائف سے ہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارتا؛ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کر رہے ہو!

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر السائب بن يزيد -رضي الله عنهما- عن واقعة حصلت في حضرته وهي أن رجلين كانا يرفعان أصواتهما في مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في عهد عمر -رضي الله عنه- فسمع عمر أصواتهما فحصب السائب بن يزيد، وذلك لأجل أن يأتي بالرجلين إليه.
قال السائب: فأتيته بهما، فسألهما من أين أنتما؟
فقالا: من أهل الطائف.
قال: لو كُنْتُمَا من أهل البلد، أي: من أهل المدينة لأَوْجَعْتُكُمَا بالعقوبة والضرب، تَرْفَعَان أصْوَاتَكُما في مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-! ولما لم يكونا من أهل المدينة عذرهما بجهلهما؛ لأن الغالب خفاء أحكام الشرع على من كان حاله مثل حالهما.
587;ائب بن یزید رضی اللہ عنہما ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں، جو ان کی موجودگی میں پیش آیا۔ ہوا یوں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں دو آدمی مسجد نبوی ﷺ میں بلند آواز سے باتیں کر رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جب ان کی آوازیں سنیں تو سائب بن یزید کو کنکری ماری؛ تاکہ وہ ان دونوں کو ان کے پاس لے آئیں۔
سائب کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کو عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو انھوں نے ان سے پوچھا کہ تمھارا تعلق کس علاقے سے ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ طائف سے۔
اس پر انھوں نے کہا: اگر تم اس علاقے کے ہوتے یعنی مدینہ سے ہوتے تو میں تمھیں سزا کے طور پر سختی کے ساتھ مارتا۔ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں آوازیں بلند کر رہے ہو!
لیکن چوںکہ وہ مدینے کے باشندوں میں سے نہیں تھے، اس لیے ان کی عدم واقفیت کی بنا پر عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں معذور جانا؛ کیوںکہ عموما ایسے لوگوں سے احکام شریعت مخفی ہی ہوا کرتے ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8952

 
 
Hadith   1547   الحديث
الأهمية: أيها الناس تأكلون شَجَرَتين ما أَرَاهُما إلا خَبِيثَتَيْن: البَصَل، والثُّوم


Tema:

لوگو! تم دو پودے ایسے کھاتے ہو جنہیں مَیں خبیث ( بدبودار ومکروہ) سمجھتا ہوں۔ یہ پودے لہسن اور پیاز ہیں۔

عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: أنه خَطب يوم الجمعة فقال في خُطْبَته: ثم إنكم أيها الناس تأكلون شَجَرَتين ما أَرَاهُما إلا خَبِيثَتَيْن: البَصَل، والثُّوم. لقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا وجَد ريحَهُمَا من الرَّجُل في المسجد أَمَرَ به، فأُخرج إلى البَقِيع، فمن أكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم دو پودے ایسے کھاتے ہو جنہیں مَیں خبیث ( بدبودار ومکروہ) سمجھتا ہوں ۔ یہ پودے لہسن اور پیاز ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مسجد میں کسی سے ان کی بو محسوس کرتے تو آپ ﷺ کے حکم سے اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ چنانچہ جو کوئی انہیں کھائے، اسے چاہیے کہ انھیں پکا کر ان کی بو ختم کر لے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر عمر -رضي الله عنه- من حضر الخطبة بأنهم يأكلون من شجرتين خَبِيثَتَيْن: البصل والثوم والمراد بالخُبث هنا: النتانة، والعرب تطلق الخبيث على كل مذموم ومكروه من قول أو فعل أو مال أو طعام أو شخص،
ويدل لذلك حديث جابر -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (من أكل من هذه الشجرة المُنْتِنَة، فلا يَقْرَبَنَّ مسجدنا) رواه مسلم.
"البَصَل، والثُّوم" وكل ما له رائحة كريهة كالفِجْل والكُراث وغير ذلك لاسيما التتن والتَّبْغ والسيجارة، وإنما خص الثوم والبصل بالذِّكر لكثرة أكلهما، ونص على الكراث في حديث جابر بن عبد الله -رضي الله عنه- عند مسلم. 
"إذا وجَد ريحَهُمَا من الرَّجُل في المسجد أَمَرَ به، فأُخرج إلى البَقِيع" كان النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يكتفي بإخراجه من المسجد، بل يبعده عن المسجد حتى يوصله إلى البقيع، تعزيراً له؛ لأن ذلك مما يتأذى منه الناس وكذا الملائكة فإنها تتأذى منه، كما في الحديث الصحيح.
"فمن أكَلَهُمَا، فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخاً" المعنى: أن من أحب أن يأكلهما فليمتهما طبخاً؛ لأن الطبخ يذهب رائحتهما الكريهة، وإذا ذهبت الرائحة جاز دخول المسجد بعد ذلك لانتفاء العلة، وفي حديث معاوية بن قرة عن أبيه عن النبي -صلى الله عليه وسلم- مرفوعاً: "إن كنتم لا بد آكليهما فأميتوهما طبخاً"رواه أبو داود، ومحل إماتتهما طبخاً : إذا أراد دخول المسجد للصلاة أو لغير الصلاة ، أما إذا لم يكن وقت صلاة أو ليس في وقت صلاة فلا بأس من أكلهما نيئًا؛ لإباحة أكلهما وإنما جاء الأمر بالطبخ للتأذي.
593;مر رضی اللہ عنہ خطبہ کے حاضرین کو بتا رہے ہیں کہ وہ دو مکروہ پودوں یعنی پیاز اور لہسن کو کھاتے ہیں۔ یہاں "خُبث" سے مراد بدبو ہے۔ عرب لوگ "خبیث" کے لفظ کا اطلاق ہر برے اور ناپسند قول و فعل، مال، کھانے یا شخص پر کرتے ہیں۔ اس پر جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دلالت کرتی ہے جس میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ بدبودار پودا کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ (مسلم)
”البَصَل والثُّوم“ (پیاز اور لہسن) اور ہر وہ شے جو بدبودار ہو جیسے مولی، کراث وغیرہ اور خاص طور پر تمباکو اور سگریٹ۔ لہسن اور پیاز کو بطور خاص ذکر کیا گیا کیونکہ کھانے میں ان کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ مسلم شریف میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں تو کُراث کا صراحتاً ذکر کیا گیا ہے۔ ”جب آپ ﷺ کو کسی آدمی سے ان دونوں پودوں کی بو آتی تو آپ ﷺ کے حکم سے اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا“۔ نبی ﷺ اسے مسجد سے نکالنے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ بطورِ سزا اسے مسجد سے دور بقیع تک پہنچا دیتے، کیونکہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور اسی طرح فرشتوں کو بھی اس سے تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے
البتہ جو انہیں کھانا چاہتا ہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے، کیونکہ پکانے سے ان کی بدبو جاتی رہتی ہے اور بو ختم ہو جانے کے بد مسجد میں آنا جائز ہے کیونکہ ممانعت کی علت باقی نہیں رہتی۔
معاویہ بن قرۃ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کو کھانا ہی ہو تو پکا کر ان کی بو کو مار دو“۔ (ابو داؤد)
پکا کر ان کی بو مارنے کا حکم اس وقت کے لیے ہے جب اس کا نماز یا نماز کےعلاوہ کسی اور غرض سے مسجد میں آنے کا ارادہ ہو۔ تاہم اگر نماز کا وقت نہ ہو تو پھر ان کو کچا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ان کو کھانا تو مباح ہے۔ پکانے کا حکم صرف اس لیے ہے کہ (کچا کھانے سے بدبو پیدا ہوتی ہے اور آس پاس کے لوگوں کو) اس سے تکلیف ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8953

 
 
Hadith   1548   الحديث
الأهمية: مَنْ كان له ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ، فإذا أُهِلَّ هِلال ذِي الحِجَّة، فلا يَأْخُذَنَّ من شَعْرِه ولا من أظْفَارِه شيئًا حتى يُضَحِّي


Tema:

جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں سے کچھ نہ کاٹے یہاں تک کہ کی قربانی کر لے۔

عن أم سلمة -رضي الله عنها-، قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «مَنْ كان له ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ، فإذا أُهِلَّ هِلال ذِي الحِجَّة، فلا يَأْخُذَنَّ من شَعْرِه ولا من أظْفَارِه شيئا حتى يُضَحِّي».

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں سے کچھ نہ کاٹے یہاں تک کہ کی قربانی کر لے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر أم سلمة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى من أراد أن يضحي أن يأخذ من شعره أو ظفره شيئا حتى يضحي.
فإذا دخل العَشْر من ذي الحِجَّة وأنت تريد أن تضحي أضحية عن نفسك أو عن غيرك من مالك فلا تأخذ شيئًا من شعرك لا من الإبِط ولا من العَانة ولا من الشَّارب ولا من الرأس حتى تضحي، وكذلك لا تأخذن شيئًا من الظُفر -ظُفر القَدَم أو ظُفر اليد- حتى تضحي.
وفي رواية مسلم الأخرى: "فلا يَمَسَّ من شعره وبَشَرِه شيئًا" أي جلده، لا يأخذ شيئا حتى يضحي وذلك احترام للأضحية ولأجل أن ينال غير المحرمين ما ناله المحرمون من احترام الشعور؛ لأن الإنسان إذا حج أو أعتمر، فإنه لا يحلق رأسه حتى يبلغ الهدي محله، فأراد الله -عز وجل- أن يجعل لعباده الذين لم يحجوا ويعتمروا نصيبًا من شعائر النسك.
575;م سلمہ رضی اللہ عنہا بيان فرما رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والے شخص کو اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ قربانی کر لے۔ جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور آپ اپنی طرف سے یا کسی اور کی طرف سے اپنے مال سے قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو اس صورت میں اپنا كچھ بهى بال نہ کاٹیں، چاہے وہ بغل کے ہوں یا زیر ناف ہوں یا پھرمونچھوں اور سر کے بال ہوں یہاں تک کہ آپ قربانی کر لیں۔ اسی طرح آپ اپنے ناخن بهى نہ کاٹیں، چاہے وہ پاؤں کے ناخن ہوں یا ہاتھ کے یہاں تک کہ قربانی کر لیں۔ صحيح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ”وہ اپنے بالوں اور جلد کو بالکل بھی نہ چھوئے“، يعنى کچھ بھی نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔ ایسا قربانی کے احترام میں ہے اور اس لیے بھی کہ جنہوں نے احرام نہیں باندھ رکھا ہے وہ بھی احرام باندھنے والوں کی طرح بالوں کے احترام میں کچھ نہ کچھ شریک ہو سکیں۔ کیوں کہ انسان جب حج یا عمرہ کرتا ہے تو وہ اس وقت تک اپنے بالوں کو نہیں مونڈتا جب تک کہ قربانی کا جانور اپنے مقام تک نہیں پہنچ جاتا۔ چنانچہ اللہ كى مشيت ہوئى کہ وہ اپنے ان بندوں کے لیے بھی مناسک حج کے شعائر کا ایک حصہ کردے جنہوں نے حج اور عمرہ نہیں کیا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8954

 
 
Hadith   1549   الحديث
الأهمية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نَهى عن الحِبْوَةِ يوم الجمعة والإمام يخطب


Tema:

نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

عن معاذ بن أنس الجهني -رضي الله عنه-: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نَهى عن الحِبْوَةِ يوم الجمعة والإمام يخطب.

معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
هذا الحديث منسوخ كما أشار إليه أبو داود، ومعناه أن معاذ بن أنس -رضي الله عنه- يخبر عن نهي النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الحِبْوَةِ يوم الجمعة وقت الخطبة.
والحِبْوَةِ: أن يَضم الإنسان فخذيه إلى بطنه وساقيه إلى فخذيه ويربط نفسه بسير أو عمامة أو نحوها، وقد نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عنها والإمام يخطب يوم الجمعة لسببين:
الأول: أنه ربما تكون هذه الحبوة سببًا لجلب النوم إليه فينام عن سماع الخطبة.
والثاني: أنه مظنة لانكشاف العورة؛ لأن الغالب على العرب أن يكون على أحدهم الثوب الواحد، فإذا احتبى بَدَت عورته، ولهذا جاء النهي عنه كما في صحيح مسلم: "وأن يحتبي في ثوب واحد كاشفاً عن فرجه"، فهذا خاص بمن عليه ثوب واحد وعام في كل وقت.
قال النووي -رحمه الله-: "وكان هذا الاحتباء عادة للعرب في مجالسهم، فإن انكشف معه شيء من عورته فهو حرام".
وأما إذا أمن ذلك فإنه لا بأس بها؛ لأن النهي إذا كان لعلة معقولة فزالت العلة فإنه يزول النهي، كما ثبت عنه -صلى الله عليه وسلم- في الصحيحين من حديث عبَّاد بن تميم، عن عمه أنه "رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مستلقيًا في المسجد، واضعًا إحدى رجليه على الأخرى".
740;ہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ امام ابو داود نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ: معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ”حبوہ“ سے منع فرمایا ہے۔
”حبوہ“ کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی رانوں کو اپنے پیٹ سے اور پنڈلیوں کو رانوں سے ملا لے، اور خود کو تسمے یا پگڑی وغیرہ سے باندھ لے۔ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اس طرح بیٹھنے سے دو وجہوں سے منع فرمایا ہے:
اول: اس طرح بیٹھنے سے اسے نیند آ سکتی ہے اور یوں وہ سو جانے کی وجہ سے خطبہ سننے سے محروم ہو جائے گا۔
دوم: اس سے ستر کے کھل جانے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ زیادہ تر عرب لوگوں پر ایک ہی کپڑا ہوتا تھا۔ چنانچہ اگر وہ حبوہ باندھتا تو اس کا ستر کھل جاتا۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے بالکل ہی منع فرما دیا۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں اس طرح حبوہ باندھ کر بیٹھے کہ اس کی شرم گاہ ظاہرہو۔ یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے جس نے ایک کپڑا پہنا ہوا ہے اور یہ حکم ہر وقت میں لاگو ہوگا۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حبوہ باندھنا عربوں کی ان کی مجلسوں میں ایک عادت تھی، اگر اس کے ساتھ اس کی کچھ شرم گاہ ظاہر ہو جائے تو وہ حرام ہے۔
البتہ اگر شرم گاہ کے کھلنے کا خوف نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اگر ممانعت کسی معقول علت کی بنا پر ہے اور وہ علت ختم ہوگئی تو ممانعت بھی ختم ہو جائے گی۔
بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عباد بن تمیم کی حدیث سے ثابت ہے جسے وہ اپنے چچا کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔   --  [حَسَنْ]+ +[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8955

 
 
Hadith   1550   الحديث
الأهمية: اللَّهُمَّ إنِّي أسْأَلُك خَيرها وخير ما فيها وخَير ما أُرسِلت به، وأعوذ بك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلت به


Tema:

اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طلب گار ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے بھی چاہتا ہوں اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اورجو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا اس سے تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔

عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا عَصَفَت الرِّيح قال: «اللَّهُمَّ إنِّي أسْأَلُك خَيرها وخير ما فيها وخَير ما أُرسِلت به، وأعوذ بك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلت به».

اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب آندھی چلتی تو نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ إِني أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وخَيْر ما أُرسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بك مِنْ شَرِّهِا، وَشَرِّ ما فِيها، وَشَرِّ ما أُرسِلَت بِهِ“ اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا اس سے تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
تخبر عائشة -رضي الله عنها- أن من هديه -صلى الله عليه وسلم- عندما تَعْصِف الريِّح، أي عند اشتداد هُبُوِبها، قال: " اللَّهُمَّ إنِّي أسْأَلُك خَيرها وخير ما فيها.." والريح التي خلقها الله -عز وجل- وصرفها تنقسم إلى قسمين:
الأول: ريح عادية لا تخيف، فهذه لا يُسَن لها ذكر معين.
الثاني: ريح عاصفة تخيف؛ لأن عادا عَذَّبهم الله -تعالى- بالرِّيح العَقِيم والعياذ بالله، فإذا عصفت الرِّيح، فقل كما هو هديه -صلى الله عليه سلم-: "اللَّهُمَّ إنِّي أسْأَلُك خَيرها وخير ما فيها وخَير ما أُرسِلت به" أي تسال الله -عزو جل- خير هذه الريح وخير ما تحمله من منافع؛ لأنها تارة ترسل بالخير وتارة ترسل بالشَّر، فتسأل الله خير ما أُرسلت به مما ينشأ عنها.
"وأعوذ بك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلت به" أي تستعيذ من شرِّها وشرِّ ما تحمله وشرِّ ما تُرسل به؛ لأنها قد تكون عذابا على قوم فتتعوذ من شرِّها.
فإذا استعاذ الإنسان من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أرسلت به كفاه الله شرَّها، وانتفع بخيرها.
575;ُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی چلا کرتی تو آپ ﷺ یہ دعا کرتے: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں۔
اللہ تعالی نے جس ہوا کو پیدا کیا اور جسے چلایا اس کی دو اقسام ہیں:
اول: عام ہوا جو خوف کا سبب نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں کوئی معین طور پر مسنون ذکر نہیں ہے۔
دوم: تیزی سے چلنے والی ہوا۔ ایسی ہوا خوف کا باعث ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے قومِ عاد کو سخت آندھی ہی کے ذریعے مبتلائے عذاب کیا تھا۔ العیاذ باللہ۔ لہذا جب آندھی چلے تو ویسے ہی کہیں جیسے آپ ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں، یعنی اللہ تعالی سے اس ہوا اور اس میں موجود منافع کی خیر طلب کریں۔ کیونکہ کبھی تو ہوا خیر کے ساتھ بھیجی جاتی ہے اور کبھی اسے شر دے کر بھیجا جاتا ہے چنانچہ ہر وہ خیر طلب کریں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہو اور جو اس سے نکلے۔
میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا، یعنی اس کے شر اور اس میں موجود اشیاء کے شر اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہوں اس سے پناہ طلب کریں۔ کیونکہ بسا اوقات آندھی کسی قوم کے لیے عذاب ہوا کرتی ہے چنانچہ آپ کو اس کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ جب انسان اس کے شر سے اور اس میں موجود اشیاء کے شر سے اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہو اس سے پناہ مانگتا ہے تو اللہ تعالی اس سے اس کے شر کو روک دیتا ہے اور وہ اس کی خیر سے نفع اٹھاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8956

 
 
Hadith   1551   الحديث
الأهمية: الرِّيحُ من رَوْحِ الله، تأتي بالرَّحمة، وتأتي بالعَذَاب، فإذا رَأَيْتُمُوهَا فَلاَ تَسُبُّوهَا، وسَلُوا الله خَيرها، واسْتَعِيذُوا بالله من شرِّها


Tema:

ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت لے کر آتی ہے اور (بسا اوقات) عذاب لاتی ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: « الرِّيحُ من رَوْحِ الله، تأتي بالرَّحمة، وتأتي بالعَذَاب، فإذا رَأَيْتُمُوهَا فَلاَ تَسُبُّوهَا، وسَلُوا الله خَيرها، واسْتَعِيذُوا بالله من شرِّها».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت لے کر آتی ہے اور (بسا اوقات) عذاب لاتی ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
الرِّيحُ من رحمة الله -تعالى- بعباده، تأتي بالرَّحمة وتأتي بالعَذَاب، فهو -تعالى- يرسل الرَّياح رحمة بعباده، فيحصل بسببها الخير والبركة للناس، كما في قوله -تعالى-: (وأرسلنا الرياح لواقح) وقوله -تعالى-: (الله الذي يرسل الرياح فتثير سحابًا فيبسطه في السماء كيف يشاء ويجعله كسفا فترى الودق يخرج من خلاله) وقوله -تعالى-: (وهو الذي يرسل الرياح بشرًا بين يدي رحمته حتى إذا أقلت سحابًا ثقالًا سقناه لبلد ميت فأنزلنا به الماء). الآية.
وتأتي بالعَذَاب، كما في قوله -تعالى-: (فأرسلنا عليهم ريحًا صرصرًا في أيام نحسات لنذيقهم عذاب الخزي في الحياة الدنيا) وقوله -تعالى-: (إنا أرسلنا عليهم ريحًا صرصرًا في يوم نحس مستمر تنزع الناس كأنهم أعجاز نخل منقعر) وقوله -تعالى-: (قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به ريح فيها عذاب أليم).
قال -صلى الله عليه وسلم-: "فإذا رَأَيْتُمُوهَا فَلاَ تَسُبُّوهَا " فلا يجوز للمسلم أن يُسبَّ الريح؛ لأنها مخلوقة من مخلوقات الله مأمورة بأمره ولا تأثير لها في شيء، لا بنفع ولا بِضُرٍّ إلا بأمر الله -عز وجل-، فيكون شتمها شتمًا لخالقها ومُدبّرها، وهو الله -سبحانه-.  
وقال: "وسَلُوا الله خَيرها، واسْتَعِيذُوا بالله من شرِّها" بعد أن نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن سَبِّ الرِّيح أرشد أُمَّته عند هبوبها أن يسألوا الله -تعالى- من خَيرها ويستعيذوا من شرِّها
والمعنى: أن يسألوا الله -تعالى- أن يُحقق لهم ما تحمله من خَير، ويَصْرِف عنهم من تحمله من شرٍّ.
729;وا اللہ کی رحمت ہے یعنی ہوا اللہ کی اپنے بندوں کے ساتھ رحمت ہے۔
یہ رحمت اور عذاب لیکر آتی ہے یعنی اللہ تعالی ہواؤں کو اپنے بندوں کے لیے از راہِ رحمت بھیجتا ہے، چنانچہ اس کے سبب لوگوں کو خیر وبرکت حاصل ہوتی ہے جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ﴾ ”اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں“۔
اسی طرح اللہ کا یہ فرمان: ﴿اللَّـهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ﴾ ”اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں“۔
نیز اللہ کا یہ فرمان: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ...﴾ ”اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں“۔
اور کبھی یہ ہوائیں عذاب لے کر آتی ہیں جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ”بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں“۔
اور فرمایا: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ، تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ﴾ ”ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی، جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں“۔
اور فرمایا: ﴿قَالُوا هَـٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ”کہنے لگے یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہےجس کی تم جلدی کر رہے تھے“۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو“ یعنی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ ہوا کو برا بھلا کہے کیونکہ یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق اور اس کے حکم کی پابند ہے اور کسی شے میں بذات خود اس کی کوئی تاثیر نہیں۔ اللہ عز وجل کے حکم کے بغیر یہ نہ کوئی نفع دیتی ہے اور نہ کوئی نقصان۔ چنانچہ اسے برا بھلا کہنا اس کے خالق و مدبر کو برا بھلا کہنے کے مترادف ہوگا جو کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔
”اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“ ہوا کو برا بھلا کہنے سے منع کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہوا چلے تو اس وقت وہ اللہ تعالی سے اس کے خیر کو طلب کریں اور اس کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔
مراد یہ کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ انہیں اس خیر سے نوازے جو اس میں پنہاں ہے اور اس شر کو ان سے دور کردے جو اس میں مضمر ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8957

 
 
Hadith   1552   الحديث
الأهمية: إيَّاكُمْ وكَثْرَةَ الحَلِفِ في البيع، فإنه يُنَفِّقُ ثم يَمْحَقُ


Tema:

خرید وفروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہوجاتی ہے لیکن برکت جاتی رہتی ہے۔

عن أبي قتادة -رضي الله عنه-: أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: «إيَّاكُمْ وكَثْرَةَ الحَلِفِ في البيع، فإنه يُنَفِّقُ ثم يَمْحَقُ».

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”خرید وفروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے لیکن برکت جاتی رہتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث: احذروا كثرة الحلف في البيع والشراء ولو صدقًا؛ لأن كثرة الحلف مظنة الوقوع في الكذب، فمثلًا لا ينبغي للإنسان أن يقول: والله لقد اشتريتها بمائة. ولو كان صادقًا، ولو قال: والله لقد اشتريتها بمائة. ولم يشترها إلا بثمانين صار أشد؛ لأنه يكون بذلك كاذبًا حالفًا في البيع، وقد نهى النبي -صلى الله عليه وسلم- عن ذلك، وأخبر بأن الأيمان في البيع سبب في إنفاق السلع، ثم إن الله -تعالى- يمحق بركتها؛ لأن هذا الكَسب مَبْنِي على معصية رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ومعصية رسول الله -عليه الصلاة والسلام- معصية لله -تعالى-.
581;دیث کا مفہوم: خرید و فروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو اگرچہ سچی ہی ہوں کیوں کہ بہت زیادہ قسمیں کھانے سے جھوٹ میں پڑنے کا امکان ہے۔ مثلاً انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یوں کہے: اللہ کی قسم! میں نے اس چیز کو سو میں خریدا ہے اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے اسے سو میں خریدا ہے حالانکہ اس نے اسے اسّی (80) میں خریدا ہو تو یہ اور بھی شدید ظلم ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بیع میں جھوٹ بولنے والا اور جھوٹی قسم کھانے والا ہو گا جب کہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ خرید و فروخت میں قسمیں اٹھانے سے سامان تجارت تو آناً فاناً بک جاتا ہے، تاہم اللہ تعالی اس سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ کمائی رسول ﷺ کی نافرمانی سے حاصل ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی درحقیقت اللہ ہی کی نافرمانی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8958

 
 
Hadith   1553   الحديث
الأهمية: لا تحلفوا بِالطَّوَاغِي، ولا بآبَائِكُم


Tema:

نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔

عن عبد الرحمن بن سمرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تحلفوا بِالطَّوَاغِي، ولا بآبَائِكُم».

عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
في هذا الحديث ينهى النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث عن الحَلف بِالطَّوَاغِي، والطَّواغِي: هي الأصنام التي كانت تُعبد في الجاهلية، وسميت بذلك؛ لأنها سبب طغيانهم وكفرهم وكل ما جاوز الحدَّ في تعظيم أو غيره ، فقد طغى فالطغيان المجاوزة للحدِّ ومنه قوله -تعالى-: (لما طغا الماء حملناكم في الجارية) أي جاوز الحدَّ، وكانت العرب في جاهليتهم يحلفون بآلهتهم وبآبائهم فنهوا عن ذلك، كما في حديث الباب، وفي سنن أبي داود وغيره عن أبي هريرة -رضي الله  عنه- مرفوعا: (لا تحلفوا بآبائكم وأمهاتكم ولا بالأنداد) والنِّد: المثل والمراد به هنا: أصنامهم وأوثانهم التي جعلوها لله تعالى أمثالا لعبادتهم إياها وحلفهم بها نحو قولهم: "واللات والعزى"، وفي الصحيحين من حديث عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (ألا إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، من كان حالفا فليَحْلِف بالله أو ليَصْمُت).
قوله: "ولا بآبَائِكُم" يعني ولا بإخوانكم ولا بأجدادكم ولا برؤسائكم، لكن خص الآباء بالذكر؛ لأن هذا هو المعتاد عندهم : "من كان حالفا، فليَحْلِف بالله أو ليَصْمُت" والمعنى: إما ليحلف بالله أو لا يحلف، أما أن يحلف بغير الله فلا .
قال العلماء -رحمهم الله-: الحكمة في النهي عن الحلف بغير الله تعالى أن الحلف يقتضي تعظيم المحلوف به وحقيقة العظمة مختصة بالله تعالى فلا يضاهي به غيره.
575;س حدیث میں نبی ﷺ نے ”طواغی“ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے۔ 'الطواغی' سے مراد وہ بت ہیں جن کی زمانہ جاہلیت میں پوجا کی جاتی تھی۔
انہیں یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ ان لوگوں کی سرکشی و کفر کا سبب تھے۔ ہر وہ شے جو کسی کی تعظیم کرنے یا کسی اور بات میں حد سے بڑھ جائے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "قد طغی"۔
چنانچہ طغیان کا مطلب ہے حد سے آگے بڑھنا۔ اللہ تعالی کے اس قول میں بھی طغیان کا یہی معنی ہے:﴿إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ﴾ ”جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا“۔ ”طغی“ یعنی حد سے تجاوز کر گیا۔
زمانہ جاہلیت میں عرب لوگ اپنے معبودان باطلہ اور اپنے آبا واجداد کی قسم اٹھایا کرتے تھے چنانچہ انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے ۔ سنن ابی داؤد اور دیگر کتب حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ تم اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، نہ ماؤں کی اور نہ ہی بتوں کی۔
”الند“ کا معنی ہے ہم مثل۔ یہاں اس سے مراد ان کے بت وغیرہ ہیں جنہیں ان لوگوں نے عبادت میں اور قسم اٹھانے میں اللہ کا ہم مثل بنا رکھا تھا۔ مثلا وہ کہا کرتے: واللات و العزی۔ (لات کی قسم اور عزی کی قسم)۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالی تمہیں اپنے آبا و اجداد کے نام کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔ جسے قسم اٹھانی ہی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا پھر چپ رہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولا بآبَائِكُم“ یعنی نہ اپنے بھائی بندوں کی، نہ اپنے آبا و اجداد کی اور نہ ہی اپنے سرداران قوم کی قسم اٹھاؤ۔ تاہم آپ ﷺ نے بطور خاص آبا و اجداد کو ذکر کیا کیونکہ وہ عموماً انہی کی قسم اٹھایا کرتے تھے۔
جسے قسم اٹھانی ہی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا پھر چپ رہے، یعنی یا تو وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا پھر سرے سے قسم اٹھائے ہی نہیں۔ بہرحال اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا قطعا درست نہیں ہے۔
علماء رحمھم اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم اٹھانے کی ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ قسم میں اس ذات کی تعظیم ہوتی ہے جس کی قسم اٹھائی جائے جب کہ حقیقی طور پر عظمت اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے اس لیے اس کے مشابہ کسی اور کو نہیں ہونا چاہیے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8959

 
 
Hadith   1554   الحديث
الأهمية: لا تَسُبُّوا الدِّيْك فإنه يُوْقِظ للصلاة


Tema:

مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے۔

عن زيد بن خالد الجُهني -رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تَسُبُّوا الدِّيْك فإنه يُوْقِظ للصلاة».

زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر زيد بن خالد الجُهني -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى عن سَبِّ الدِّيْك وعلل لذلك؛ بأنه يُوقظ النائم بصياحه لأجل الصلاة، وفي رواية عند أحمد والنسائي : " يؤذن للصلاة "؛ ولهذا نهى -صلى الله عليه وسلم- عن سَبِّه؛ لأن في إيقاظهم مصلحة ظاهرة، وهي إعانتهم على طاعة ومن أعان على طاعة، فإنه يستحق المَدْح لا الذَّم.
ومن أعظم ما في الديك من العجائب معرفة الأوقات الليلية، والصياح عندها، ويوالي صياحه قبل الفجر وبعده، فسبحان من هداه لذلك.
586;ید بن خالد الجُہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرغے کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ سوئے ہوئے کو اپنی بانگ سے نماز کے لیے جگاتا ہے۔ اور امام احمد اور امام نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ ( مرغ) نماز کے لیے آگاہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے گالی دینے سے منع فرمایا، اس لیے کہ لوگوں کو نماز کے لیے جگانا ایک ظاہری مصلحت ہے کہ وہ نیکی کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے اور جو نیکی میں مدد کرتا ہے وہ تعریف کا حقدار ہوتا ہے مذمت کا نہیں۔
مرغے کی بہت عجیب صفت یہ ہے کہ وہ رات کے اوقات جانتا ہے اور فجر سے پہلے نیز اس کے بعد بانگ دیتا رہتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے مرغے کی اس طرف رہنمائی فرمائی۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8960

 
 
Hadith   1555   الحديث
الأهمية: لا تَسُبِّي الحُمَّى فإنها تُذهب خَطَايَا بَنِي آدم كما يذهب الكِيْرُ خَبَثَ الحديد


Tema:

بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔

عن جابر -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- دخل على أُمِّ السَّائِب، أو أُمِّ المُسَيَّب -رضي الله عنها- فقال: «ما لك يا أمَّ السَّائِب -أو يا أمَّ المُسَيَّب- تُزَفْزِفِينَ؟» قالت: الحُمَّى لا بارك الله فيها! فقال: «لا تَسُبِّي الحُمَّى فإنها تُذهب خَطَايَا بَنِي آدم كما يذهب الكِيْرُ خَبَثَ الحديد».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مُسیَّب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ام سائب (یاپھر یہ فرمایا) اے ام مُسیَّب! تمھیں کیا ہوا ہے، کیوں کانپ رہی ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ بخار کی وجہ سے۔ اللہ اس میں برکت نہ دے! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
يخبر جابر -رضي الله عنه- في هذا الحديث : أن النبي -صلى الله عليه وسلم- دخل على أم السائب -رضي الله عنها- وهي تَرْتَعِد، فسألها عن سبب ذلك، فقالت: "الحُمَّى" أي أن سبب ذلك ما أصابها من الحُمَّى. والحُمَّى: سخونة تصيب البدن، وهي نوع من الأمراض وهي أنواع متعددة.
قولها: "لا بارك الله فيها" دعاء على ما ابتليت به من مرض الحُمَّى.
فنهاها النبي -صلى الله عليه وسلم- عن سَبِّ الحُمى؛ لأنها من أفعال الله -تعالى- وكل شيء من أفعال الله فإنه لا يجوز للإنسان أن يَسُبَّه؛ لأن سبَّه سبٌّ لخالقه -جل وعلا- ولهذا قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "لا تسبوا الدهر فإن الله هو الدهر" وعلى المرء إذا أصيب أن يصبر، ويحتسب الأجر على الله -عز وجل-.
وقال: "فإنها تُذهب خَطَايَا بَنِي آدم كما يذهب الكِيْرُ خَبَثَ الحديد" والمعنى أن مرض الحُمَّى سبب في تكفير السيئات ورفع الدرجات، كما أن الحديد إذا صَهر على النار ذهب وسخه ورديئه وبقي صافيًا، كذلك تفعل الحُمَّى، فإنها تذهب صغائر  ذنوب بني آدم، حتى يعود نقيًا صافيًا منها.
580;ابر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرر ہے ہیں کہ نبی ﷺ ام السائب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جو کانپ رہی تھیں۔
آپ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا، تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ بخار کی وجہ سے کانپ رہی ہیں۔
”الحمی“ اس حرارت کو کہا جاتا ہے، جو جسم کو لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا مرض ہے، جس کے کئی انواع ہیں۔
”لا بارك الله فيها“ ام سائب جس بخار کے مرض میں مبتلا تھیں اس کے خلاف یہ بد دعا تھی۔ آپ ﷺ نے بخار کو بر بھلا کہنے سے منع فرمایا، یعنی نبی ﷺ نے بخار کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا؛ کیوںکہ یہ اللہ تعالی کے افعال میں سے ہے اور ہر وہ شے جو اللہ کے افعال میں سے ہو، اسے برا بھلا کہنا انسان کے لیے جائز نہیں ہے۔ کیوںکہ اسے برا بھلا کہنا دراصل اسے تخلیق کرنے والے کو برا بھلا کہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”زمانے کو برا بھلا مت کہو؛ کیوںکہ اللہ ہی زمانہ ہے“۔
چنانچہ انسان کو جب کوئی مصیبت لاحق ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کا امید وار رہے۔
پھر فرمایا کہ یہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو ایسے صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ بخار کا مرض برائیوں کا کفارہ اور رفع درجات کا سبب بنتا ہے۔ جیسے جب لوہے کو آگ پر تپایا جائے تو میل کچیل اور گندگیاں الگ ہوجاتی ہیں اور صاف ستھرا لوہا باقی رہ جاتا ہے۔ ایسے ہی بخار بنی آدم کے صغیرہ گناہوں کو دور کردیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان سے صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8961

 
 
Hadith   1556   الحديث
الأهمية: لا تقولوا للمُنَافق سَيِّدٌ، فإنه إن يَكُ سَيِّدًا فقد أسْخَطْتُمْ ربكم -عز وجل-


Tema:

منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے۔

عن بُريدة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لا تقولوا للمُنَافق سَيِّدٌ، فإنه إن يَكُ سَيِّدًا فقد أسْخَطْتُمْ ربكم -عز وجل-».

بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث أن المنافق إن كان سيدًا كبيرًا في قومه وأطلقتم عليه لقب: سيد، فقد أسخطتم الله؛ لأنه يكون تعظيمًا له، وهو ممن لا يستحق التعظيم، وإن لم يكن سيدًا في  قومه أو كبيرًا في قومه، فإنه يكون كذبًا ونفاقًا، ففي الحالين ينهى عن إطلاق لفظ السيد على المنافق، ومثله الكافر والفاسق والمبتدع، فهو لا يستحق وصف السِّيادة مطلقًا، وهذا النهي عام للصحابة ومن بعدهم، وقد كان المنافقون في عهدهم على قسمين، الأول: منافقون لا يعلمهم إلا النبي -صلى الله عليه وسلم- وصاحب السر وهو حذيفة -رضي الله عنه-، والثاني: منافقون عرف الصحابة نفاقهم، كعبد الله بن أبي، وهذا ينطبق عليه الحديث.
581;دیث کا مفہوم: منافق اگر کسی اعتبار سے اپنی قوم کا سردار اور سرکردہ شخص ہو اور آپ اسے سید یعنی آقا کہہ کر پکاریں تو ایسا کرنے سے آپ اللہ تعالی کی ناراضگی مول لیں گے کیوں کہ ایسا کہنے میں اس کی تعظیم ہوتی ہے حالاں کہ وہ ان افراد میں سے ہے جو تعظیم کے مستحق نہیں ہوتے۔ اور اگر وہ اپنی قوم کا سردار یا سرکردہ شخص نہ ہوا تو ایسا کہنا جھوٹ اور منافقت کے زمرے میں آئے گا۔ چنانچہ دونوں ہی صورتوں میں منافق کے لیے سید یعنی آقا کا لفظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہی حال کافر، فاسق اور بدعتی شخص کا ہے۔ ایسا شخص بالکل بھی اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کے لیے سید (سردار) کا لفظ بولا جائے۔ یہ ممانعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے تمام لوگوں کے لیے عام ہے، عہد صحابہ میں منافقوں کی دو قسمیں تھی: ایک وہ منافق جنہیں صرف اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے رازدان حذیفہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے، دوسری قسم ان منافقوں کی تھی کہ جن کے نفاق کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے جیسے عبد اللہ بن اُبی۔ اسی دوسری قسم پر یہ حدیث منطبق ہوتی ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8962

 
 
Hadith   1557   الحديث
الأهمية: لأَنْ يَلَجَّ أحدُكم في يَمِينِه في أهْلِه آثَم له عند الله -تعالى- من أن يُعْطِي كَفَّارَتَهُ التي فرض الله عليه


Tema:

(بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔

عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «لأَنْ يَلَجَّ أحدُكم في يَمِينِه في أهْلِه آثَمُ له عند الله تعالى من أن يُعْطِي كَفَّارَتَهُ التي فرض الله عليه».


Tema:

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملے میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث إذا حلف المسلم يمينًا تتعلق بأهله ويتضررون بعدم حنثه ولا يكون في رجوعه عن يمينه معصية لله -عز وجل-، ثم هو يتمادى ويُصرُّ على إمضاء يمينه في أهله أكثر إثماً وأعظم جرماً له من الرجوع والكفارة، لأنه يتعين عليه أن يُكَفِّر عن يمينه التي فرضَها الله عليه ولا يتَمادَى ولا يُصر على يمينه، ما دام أن رجوعه عن يمينه ليس فيه معصية لله -تعالى-، بل إن تماديه وإصراره على يمينه معصية وإثم عظيم؛ لما في ذلك من الإضرار بالأهل، وقد جعل الله له في الأمر سَعَة، وفي الصحيحين: (إذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيراً منها، فأت الذي هو خير، وكفر عن يمينك).
581;دیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ سے متعلق قسم اٹھا لے، حالانکہ اس کے پورا کرنے میں ان کا نقصان ہو اور اس سے رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا باعث بھی نہ ہو، پھر وہ اس قسم کو پورا کرنے پر اصرار کرے۔ وہ زیادہ گناہ گار ہوتا ہے اور اس کا جرم اس سے رجوع کر لینے اور کفارہ دینے سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے حق میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ کفارہ ادا کرے اور قسم پورا کرنے پر اصرار نہ کرے۔ بشرطیکہ قسم سے رجوع کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم نہ آتی ہو۔ بلکہ اس کا قسم پورا کرنے پر اصرار کرنا بڑا گناہ ہے، کیونکہ اس میں اس کے گھر والوں کا نقصان ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے معاملات میں گنجائش رکھی ہے۔ صحیحین میں یہ روایت ہے: ”اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو“۔   --  [صحیح]+ +[متفق علیہ]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8963

 
 
Hadith   1558   الحديث
الأهمية: من حَلَفَ بالأمَانة فليس مِنَّا


Tema:

جس نے امانت کی قسم کھائی، وہ ہم میں سے نہیں۔

عن بريدة -رضي الله عنه-: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «من حَلَفَ بالأمَانة فليس مِنَّا».

ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جس نے امانت کی قسم کھائی، وہ ہم میں سے نہیں“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
معنى الحديث التحذير من الحلف بالأمانة؛ لأن الحلف بالأمانة حَلِف بغير الله والحلف بغير الله شرك، كما في الحديث: (من حلف بغير الله فقد كَفَر أو أشرك) والمراد بالشرك هنا: الشرك الأصغر؛ والحلف بغير الله لا يخرج من الملة إلا أن يعتقد الحالف أن المحلوف به بمنزلة الله -تبارك وتعالى- في التعظيم والعبادة وما أشبه هذا فيكون شركًا أكبر.
 والمراد بالأمانة هنا: فرائض الله -تعالى- من الصلاة والصوم والحج وغير ذلك مما افترضه الله على عباده.
فلو قال: بِّحق صلاتي أو بِّحق صيامي أو حجِّي، أو أجْمَل بأن قال: وأمانة الله. فكل ذلك منهي عنه؛ لأن المسلم لا يحلف إلا بالله -تعالى- أو بصفة من صفاته، وليست الأمانة من صفاته، وإنما هي أَمْرٌ من أمْرِه، وفَرْض من فروضه.
605;فہوم حدیث:اس حدیث میں امانت کی قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے؛ کیوںکہ امانت کی قسم اٹھانا غیر اللہ کی قسم اٹھانا ہے اور غیراللہ کی قسم اٹھانا شرک ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ”جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی، اس نے کفرکیا“یا آپ ﷺنے فرمایا: ”اس نے شرک کیا“۔
یہاں شرک سے مراد شرک اصغر ہے، اور غیراللہ کی قسم اٹھانا دین اسلام سے خارج نہیں کرتا، ماسوا اس کے کہ قسم اٹھانے والا یہ اعتقاد رکھے کہ جس شے کی قسم اٹھائی جا رہی ہے، وہ تعظیم و عبادت میں اللہ کے ہم مرتبہ ہے۔ اس صورت میں یہ شرک اکبر ہوگا۔ یہاں امانت سے مراد اللہ تعالی کی فرض کردہ عبادات جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ ہیں، جنھیں اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔
اگر کسی شخص نے کہا: ”میری نماز کی قسم“، ”میرے روزے کی قسم، ”میرے حج کی قسم“ یا پھر مختصرا اس نے کہہ دیا:”اللہ کی امانت کی قسم“، تو یہ ساری صورتیں ممنوع ہیں؛ کیوںکہ مسلمان صرف اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں سے کسی صفت کی قسم اٹھاتا ہے اور یہ معلوم ہے کہ امانت اللہ کی صفت نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کے احکام میں سے ایک حکم اور اس کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8964

 
 
Hadith   1559   الحديث
الأهمية: من حَلف فقال: إنِّي بَرِيءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبا، فهو كما قال، وإن كان صَادقا، فَلَنْ يَرْجِعَ إلى الإسلام سَالِمًا


Tema:

جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا ہو تو وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہوا تو پھر بھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹے گا۔

عن بريدة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «من حَلف فقال: إنِّي بَرِيءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبا، فهو كما قال، وإن كان صَادقا، فَلَنْ يَرْجِعَ إلى الإسلام سَالِمًا».

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا نکلا تو بھی وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہوا تو پھر سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹ سکے گا“۔

 
Explicação Hadith بيان الحديث
 
من حلف فقال: هو بَرِيءٌ من الإسلام، أو قال: هو يهودي أو نصراني أو كافر أو ملحد، فأمره لا يخلو من حالين:
الحال الأولى: أن يكون كاذبًا فيما حلف عليه، كأن يحلف مثلا: هو بريء من الإسلام إن كان الأمر كذا وكذا، وهو كاذب فيما يخبر به، كما لو أخبر بأن زيدا قدم اليوم من السَّفر وحلف على البراء من الإسلام أو هو يهودي أو نصراني أو مشرك، وهو يعلم كَذب نفسه، فهو كما قال أي من البراءة من الإسلام أو يهودي أو نصراني.
الحال الثانية: أن يكون صادقا فيما قال، كما لو حلف على البراءة من الإسلام أو هو يهودي أو نصراني أن زيدًا قَدِم اليوم من سفره أو أنه لم يفعل هذا الشيء، وهو صادق فيما حلف عليه، فإنه في هذه الحال لنْ يَرْجِعَ إلى الإسلام سَالِمًا، كما قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، بل ينقص كمال إسلامه بما صَدَر منه من هذا اللفظ لشناعته وقبحه.
580;س نے قسم اٹھائی اور کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے یا پھر اس نے کہا کہ وہ یہودی، عیسائی، کافر اور ملحد ہے، تو اس کا معاملہ دو صورتوں سے خالی نہ ہو گا:
پہلی صورت: اس نے جو قسم اٹھائی اس میں وہ جھوٹا ہو۔ مثلاً وہ قسم اٹھائے کہ اگر ایسا اور ایسا ہے تو میں اسلام سے بری ہوں حالانکہ وہ جو بات بتا رہا ہے اس میں جھوٹا ہو مثلاً اگر اس نے یہ خبر دی کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے اور قسم اٹھائی کہ وہ اگر جھوٹا ہو تو وہ اسلام سے بری ہوجائے یا یہودی، عیسائی یا مشرک ہو جائے حالانکہ اسے بخوبی علم ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا یعنی اسلام سے بری ہوجائے یا پھر یہودی اور عیسائی ہو جائے گا۔
دوسری صورت: اس نے جو بات کہی وہ اس میں سچا ہو۔ مثلا اس نے کہا کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے یا یہ کہ اس نے یہ چیز نہیں کی اور اس پر وہ قسم اٹھائے کہ (اگر ایسا نہ ہو تو) وہ اسلام سے بری ہو جائے یا یہودی یا عیسائی ہو جائے اور وہ جس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اس میں وہ سچا بھی ہو تو اس صورت میں بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ ان الفاظ کی وجہ سے اس کے اسلام میں کمی واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ بہت برے اور قبیح الفاظ ہیں۔   --  [صحیح]+ +[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
 
Referência: Enciclopédia Hadith @ 8965






© EsinIslam.Com Designed & produced by The Awqaf London. Please pray for us